اپریل 5, 2025 12:51 صبح

English / Urdu

“بائیڈن کے دورہ لاس اینجلس نے فائر فائٹنگ آپریشنز کو متاثر نہیں کیا”، امریکی حکام نے جھوٹے دعوے مسترد کر دیے

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے 6 جنوری 2025 کو لاس اینجلس کے دورے کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کی آمد کی وجہ سے فائر فائٹنگ طیاروں کی پرواز میں رکاوٹ پیدا ہوئی، جس سے آگ بجھانے کے عمل میں خلل آیا۔ تاہم، حکام نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والے طیارے صدارتی ایئر اسپیس پابندیوں سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ یہ دعوے 8 جنوری 2025 کو الیکس جونز کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کیے گئے۔ جونز نے کہا کہ “بائیڈن انتظامیہ نے لاس اینجلس کی فضائی حدود کو بند کر کے فائر فائٹنگ آپریشنز کو روک دیا، جس کی وجہ سے تاریخی آگ مزید پھیل گئی۔” ان کے دعوے پر مبنی پوسٹ کو 73,000 سے زائد لائکس ملے اور یہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گئی۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ترجمان نے کہا کہ فائر فائٹنگ طیاروں کو صدارتی ایئر اسپیس پابندیوں کے دوران پرواز کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے پیشگی رابطہ کریں۔ مزید یہ کہ فلائٹ ڈیٹا سے یہ ظاہر ہوا کہ بائیڈن کے دورے کے دوران کسی فائر فائٹنگ طیارے کو روکا نہیں گیا۔ لاس اینجلس فائر چیف کرسٹن کراؤلی نے بتایا کہ 8 جنوری کی صبح 3:30 بجے تیز ہواؤں کی وجہ سے تمام فائر فائٹنگ آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے تھے۔ یہ پروازیں دوپہر 3:00 بجے کے قریب دوبارہ شروع ہوئیں۔ صدر بائیڈن نے لاس اینجلس میں جاری آگ سے نمٹنے کے لیے وفاقی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا، جس میں 400 فائر فائٹرز اور 30 ہوائی جہاز شامل تھے۔ انہوں نے کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کی درخواست پر 180 دنوں تک آگ بجھانے کے اخراجات کو وفاقی حکومت کے ذریعے برداشت کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ لاس اینجلس شہر میں اس وقت پانچ مختلف مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے، جن میں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے Palisades اور Pasadena ہیں۔ تیز ہواؤں اور غیر مستحکم موسم کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ لاس اینجلس شہر اور کاؤنٹی میں فائر فائٹنگ کے لیے مقامی، ریاستی اور بین الاقوامی ٹیمیں کام کر رہی ہیں، جن میں کینیڈا کے صوبے کیوبیک کی دو واٹر بمبار طیارے بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک طیارہ ایک ڈرون کے حادثے کی وجہ سے ناکارہ ہو گیا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ صدر بائیڈن کے دورے کی وجہ سے فائر فائٹنگ آپریشنز میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ بلکہ صدارتی پابندیاں ہنگامی پروازوں کو متاثر نہیں کرتیں۔ اس کے برعکس، تیز ہواؤں اور موسم کی خرابی نے امدادی کارروائیوں کو محدود کیا۔ یہ دعویٰ کہ صدر کی آمد نے آگ بجھانے کے عمل میں رکاوٹ ڈالی، حقیقت کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ اس سارے معاملے سے یہ ثابت ہوا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے الزامات جھوٹے اور حقائق کے منافی بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ایسے دعوے شیئر کرنے سے پہلے معتبر ذرائع سے ان کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔

ہر سال اعلٰی تعلیم یافتہ اورہنرمند نوجوانوں کاپاکستان چھوڑنامستقل رجحان یاصورتحال بدل سکتی ہے؟

“میرا بیٹا باہر جا رہا ہے” یار! میں تو بس ویزہ کے انتظار میں ہوں جیسے ہی بات بنی نکل جاؤں گا”، “اچھا ایجنٹ مل گیا، اب رکنا نہیں ہے بھئی۔” کا تذکرہ ہو یا ” جینا ہے تو پاکستان سے زندہ بھاگ۔” “پانچ برس میں 33 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے،” “برین ڈرین،” “ہر تیسرا پاکستانی ملک چھوڑنا چاہتا ہے” ہم میں سے ہر ایک روزانہ نہیں تو وقتاً فوقتاً اپنے دائیں، بائیں کچھ ایسا سننا  پڑتا ہے۔ گھر اور اپنوں کو چھوڑ کر پردیس جانے کا یہ سلسلہ ایسا ہے کہ بظاہر رکنے کا نام نہیں لیتا، لگتا یوں ہے کہ پورا ملک ہی “باہر” نکل جانے کے چکر میں ہے۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق مہنگائی، بے روز گاری اور معاشی بحران سے تنگ آکر ہر عمر کا پاکستانی، باالخصوص نوجوان بہتر مستقبل کی امید میں وطن چھوڑنا چاہتے ہیں۔ کسی کی منزل خلیجی ملک ہوتے ہیں تو کوئی یورپ، امریکا یا کینیڈا کا ارادہ بنا لیتا ہے۔ یہ رجحان نیا نہیں بلکہ گزشتہ 50 برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ کبھی کم، کبھی زیادہ کر کے اب تک ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف حصوں کا رخ کر چکے ہیں۔ ان میں سے کئی واپس آتے ہیں جب کہ کئی وہیں مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ پاکستان  بیورو آف ایمیگریشن کے مطابق 1970 سے لے کر اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد پاکستان سے دوسرےممالک میں ہجرت کر چکے ہیں۔ 2024میں سات لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے بہتر مستقبل کی امید میں بیرون ملک خصوصاً یورپین اور خلیجی ممالک کا رخ کیا۔ سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2015 میں سب سے زیادہ افراد نے ملک چھوڑا، اس سال تقریباًساڑھے 9 لاکھ کے قریب لوگوں نے بیرونی دنیا کا رخ کیا۔   وفاقی ادارہ برائے شماریات کے مطابق پاکستان میں 30 برس سے کم عمر افراد کل ملکی آبادی کا تقریباً70فیصد ہیں۔ 24 کروڑ میں سے تقریبا 17 کروڑ کی یہ آبادی جہاں امکانات کی دنیا رکھتی ہے وہیں خدشات کے سائے میں پل بڑھ رہی ہے۔ سرکاری سطح پر دستیاب ڈیٹا کےمطابق پاکستان میں ہر سال 220 جامعات سے 445,000 سے زائد اسٹوڈنتس فارغ التحصیل ہوتے ہیں، ان میں سے 31 فیصد سے زائد بے روزگار رہ جاتے ہیں۔ پاکستانی گریجوایٹس سے متعلق رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان کی نصف سے زائد تعداد متعلقہ انڈسٹری کو مطلوب مہارتیں نہیں رکھتی، کبھی یہ صلاحیت کی کمی اور کبھی مواقع نہ ہونا ہر سال یونیورسٹیز سے فارغ ہونے والے 31 فیصد یعنی تقریباً ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو بیروزگاررکھتا ہے۔ باقی یا تو کچی پکی ملازمتیں کرتے ہیں یا بہتر زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑ جاتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف امیگریشن کے مطابق 2023 میں آٹھ لاکھ 60 ہزارافراد بیرون ملک گئے۔ان میں ہنرمند نوجوانوں میں سے 5534 انجینئر، 18000 الیکٹریکل ایسوسی ایٹ انجینئر، 2600 زراعت کے ماہر، 1600 نرسزاور 21 ہزار سے زائد دیگر ہنرمند نوجوانوں نے پاکستان کو خیرباد کہا۔ ہنرمند افراد کے پاکستان چھوڑنے کا تناسب گزشتہ 14 برس میں دو فیصد ہوتا تھا، جو 2022 سے 2024 کے دوران بڑھ کر پانچ فیصد ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بیروزگاری کے سوا، امن وامان کی صورتحال، ناکافی آمدن، مہنگائی، کرپشن وناانصافی اور بیڈگورننس بھی ایسے مسائل ہیں جو پڑھے لکھے یا ان پڑھ، ہر دو قسم کے پاکستانیوں کو بیرون ملک جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ امریکی ادارے بلومبرگ کے مطابق حالیہ برسوں میں ہونے والی مہنگائی کی وجہ سے ملک کے “ٹاپ ٹیلنٹ نے ریکارڈ تعداد میں ملک چھوڑا” ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پڑھے لکھے اور ہنرمند ہوں یا ان پڑھ اور بغیر ہنر کے پاکستانی، کیا سبھی یا بڑی تعداد ملک چھوڑنے کا پکا فیصلہ کر چکی ہے؟ دستیاب اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ صورتحال اس نوبت کو نہیں پہنچی ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ملک چھوڑنے کی وجہ بننے والے مسائل کو حل کر لیا جائےیا ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات شروع ہو جائیں تو پاکستانیوں کی بڑی تعداد ملک میں ٹھہرنا چاہتی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے متعلق ادارے گیلپ پاکستان کی جولائی 2024 میں شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق “حالات کتنے ہی بدتر کیوں نہ ہوں، اگر مواقع میسر ہوں تو ہر 10 میں سے سات پاکستانی چاہتے ہیں کہ وہ ملک میں ہی رہیں۔”

‘ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے’، خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر انوکھا چیلنج

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی مسلسل تیسری حکومت ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ملک کے تیسرے بڑے صوبے میں پارٹی نے تین مختلف وزرائے اعلیٰ کے ساتھ حکومت کی ہے۔ 2013 میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی اور پرویز حٹک وزیراعلٰی بنے۔اس کے بعد  2018 میں محمود خان اور 2024 میں علی امین گنڈا پورنے وزیر اعلٰی کا عہدہ سنبھالا۔ ‘ پاکستان تحریک انصاف کی صوبے میں 12 سالہ حکومت کو ‘بیڈ گورننس اور بدانتظامی’ کے ساتھ ایسے مسائل بھی درپیش ہیں جو ملک کے دیگر حصوں میں پارٹی کی سیاسی مہم کو بریک لگا دیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت جب ان شکایات کا ابلاغی محاذ پر جواب نہیں دیتی تو پارٹی ورکرز یہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی وہ پارٹی حکومت کو غیرمعمولی بتاتے ہیں تو کبھی اس کے کاموں کو موضوع بناتے ہیں۔ حتی الامکان یہ کوشش کی جاتی ہے کہ صوبائی حکومت کی کمزور سائیڈز کے بجائے نسبتا بہتر سائیڈ پر زیادہ بات ہو سکے۔ ایسی ہی ایک کاوش میں دعوی کیا گیا کہ ‘خیبرپختونخوا میں جِس طرح کام ہو رہے ہیں ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے۔ ابوذر فرقان نامی ہینڈل نے ‘چیلنج’ کیا کہ “خیبرپختون خوا میں کسی بھی مسئلہ پر علی امین کی ٹیم خاص طور پر فیصل امین کا رسپانس 1122 سے بھی زیادہ تیز ہوتا ہے۔ ہسپتالوں کا نظام چیک کر لیں، تعلیم کا نظام چیک کر لیں، پولیس کا نظام چیک کر لیں، پٹوار خانے کا نظام چیک کر لیں”۔ صاحب پوسٹ نے اپنے دعوے پر عمل کا  لائیو ڈیمو دیکھنے کی دعوت دی تو خیبرپختونخوا کے بہت سے مکینوں نے خود کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ خود وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور کے حلقے کے ووٹر بھی شکایت کرتے دکھائی دیے۔ 👀👀عمران خان کی رہائی کے طریقہ کار پر علی امین سے ہم سب کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن خیبرپختون خواہ میں جِس طرح کام ہو رہے ہیں ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے میں آپ کو چیلنج کر کے کہتا ہوں پنجاب میں ن لیگ کے کونسلر کے اُمیدوار سے آپ رابطہ نہیں کر سکتے لیکن خیبرپختون خواہ… pic.twitter.com/zbrK7eFETg — Abuzar Furqan (@AbuzarFurqan) January 14, 2025   اس ٹویٹ کے جواب میں خاصی تعداد میں لوگوں نے خود کو درپیش مسائل کا ذکر کیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ یہ صرف باتوں کی حد تک ہے اصل میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہمارے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں اور کوئی سننے والا نہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ میرے گاؤں میں نہ لڑکوں کا سکول ہے اور نہ لڑکیوں کا۔ بجلی تک نہیں ہے اور سڑکوں کا حال تو بتانے لائق نہیں۔ انہوں نے ساتھ سڑکوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔ غلام علی نامی ایک صارف نے لکھا کہ “میں اس دن مریض کے ساتھ شیرپاؤ ہسپتال گیا تھا (خیبر ٹیچنگ ہسپتال) ۔ رات کو درد سے نجات کے لیے دو گولیاں لینی پڑیں۔ اتنی پریشانی ہوئی کہ مریض رونے لگ گیا۔ صحت کے نظام کا بیڑا غرق جتنا اس حکومت نے کیا ہے آنے والے کئی برسوں میں اس کا مداوا نہیں ہوسکتا”۔ نور محمد نامی صارف نےمہمند روڈ کی تصویر اپلوڈ  کی ، جس میں سڑک انتہائی بدحالی کا شکار تھی، اور لکھا کہ “یہ سات سال کے بعد مہمند روڈ کی صورتحال ہے جو صرف چودہ کلومیٹر ہے ۔ ہسپتال میں انجکشن تک نہیں ملتا اور تعلیم کا تو پوچھنا بھی نہیں۔ ہمارا ایم این اے ساجد اور ایم پی ایز اسرار اور محبوب شیر ہیں، آپ نے ٹوئٹر پر لوگوں کو باغات دکھا دیے ہیں۔”   حکومتی بیڈگورننس کا ذکر پارٹی یا ورکرز کے دعوؤں کے ردعمل تک ہی محدود نہیں، خیبرپختونخوا میں شعبہ تعلیم کی پریشان کن صورتحال مسلسل سوشل ٹائم لائنز پر نمایاں رہتی ہے۔ وزیراعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع یونیورسٹی ملازمین کو گزشتہ ماہ کی تنخواہ نہ ملنا اس سلسلے کی تازہ شکایت ہے۔ گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ملازمین ماہ دسمبر کی تنخواہوں سے محروم — Muhammad Faheem (@MeFaheem) January 15, 2025 تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے قوم کو شعور دیا ہے تاہم صوبے میں تعلیم خصوصاًاعلٰی تعلیم کی بگڑتی صورتحال اس دعویٰ کو سپورٹ نہیں کرتی اور روز بروز نئے مسائل سامنے آتے ہیں۔