فیصل آباد: ‘سفر کے دوران’ ڈاکوؤں کی خاتون سے اجتماعی زیادتی

مسلح ڈاکوؤں نے موٹر وے کے قریب چنن پل پر میاں بیوی کو روکا، ان سے نقدی اور قیمتی اشیاء چھین لیں اور پھر انہیں اسلحے کے زور پر قریبی کھیتوں میں لے گئے۔ ملزمان نے شوہر کو باندھ کر خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایااور واردات کے بعد وہ ان کے موبائل فون اور نقدی لے کر فرار ہو گئے۔ بعد ازاں شوہر نے پولیس کو اس المناک واقعے کی اطلاع دی اور تفصیلات فراہم کیں۔ جسے تھانہ ساندل بار میں پولیس نے متاثرہ شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق دو ڈاکوؤں نے موٹروے کے قریب میاں بیوی کو روک پر انہیں لوٹا اورپھر شوہر کو باندھ کر خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد ڈاکوفرار ہو گے،پولیس نے شق کی بنیاد پر چھ افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ مزید کارروائی جا رہی ہے۔
’کمرشل کمپنیوں پرامریکی پابندیاں یکطرفہ اور بِلاجواز ہیں‘ پاکستان

پاکستان نے کمرشل کمپنیوں پر لگائی گئی امریکی پابندیوں پر سخت ردِ عمل دیتے ہُوئے انہیں یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیا، ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر لگائی گئی تمام پابندیاں یکطرفہ ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے عائد کی گئی ہیں۔ عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق امریکی محکمہ تجارت نے پاکستان، چین، متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس فہرست میں 19 پاکستانی، 42 چینی اور 4 متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ ایران، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کچھ کمپنیاں بھی اس پابندی کی زد میں آئی ہیں۔ امریکہ نے ان کمپنیوں کو اپنی “اینٹیٹی لسٹ” میں شامل کیا ہے، جو ایسے اداروں اور کمپنیوں پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں امریکی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں امریکہ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کر رہی ہیں۔ مزید پڑھیں: ’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا پاکستان نے ان پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے عائد کی گئی ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ امریکہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر پابندیاں عائد کی ہوں۔ اپریل 2024 میں بھی امریکہ نے چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام لگا کر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی اینٹیٹی لسٹ میں شامل پاکستانی کمپنیوں میں الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ، اریسٹن ٹریڈ لنکس، بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی، گلوبل ٹریڈرز، انڈنٹیک انٹرنیشنل، انٹرا لنک انکارپوریٹڈ، لنکرز آٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ اور این اے انٹرپرائزز شامل ہیں۔
‘اسرائیل نے طاقت استعمال کی تو قیدی تابوت میں واپس آئیں گے’ حماس

حماس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں اپنے قیدیوں کی بازیابی کے لیے طاقت کا استعمال کیا تو تمام قیدیوں کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ حماس کے بیان کے مطابق وہ اسرائیلی قیدیوں کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہے لیکن اسرائیلی بمباری قیدیوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ایک بیان میں کہا کہ “اگر اسرائیل نے طاقت کے ذریعے اپنے قیدیوں کو بازیاب کرانے کی کوشش کی تو انہیں تابوت میں واپس بھیجا جائے گا”۔ حماس نے مزید کہا کہ وہ ان قیدیوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے تاہم اسرائیلی بمباری ان کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم ‘بینجمن نیتن یاہو’ نے بدھ کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر حماس نے قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو اسرائیل غزہ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لے گا۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی پارلیمنٹ کو بتایا کہ “حماس جتنا زیادہ ہمارے قیدیوں کی رہائی سے انکار کرے گا، اتنا ہی ہم ان پر دباؤ بڑھائیں گے، اور ان کے علاقوں پر قبضہ بھی گے”۔ یہ بھی پڑھیں: امریکی کمیشن نے انڈیا کو ‘علیحدگی پسند سکھوں’ کے قتل میں ملوث قرار دے دیا اسرائیلی وزیر دفاع ‘یواف کاٹز’ نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ “حماس جتنا زیادہ مزاحمت کرے گا، ہم اتنے زیادہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں اسرائیل میں ضم کرتے چلے جائیں گے”۔ جنوری میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر ہی غزہ پر حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ باقی قیدیوں کو رہا کرے۔ اسی دوران اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے دو میزائل داغے جانے کا بھی ذکر کیا جن میں سے ایک کو روک لیا گیا جبکہ دوسرا سرحد کے قریب گرا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ میں شدید فضائی حملے شروع کیے اور زمینی کارروائیاں شروع کیں جس سے جنگ بندی کے دوران قائم ہونے والے پرسکون ماحول کو ختم کردیا گیا۔ دوسری جانب حماس نے بھی ان حملوں کے جواب میں راکٹ حملے شروع کر دیے ہیں جس سے دونوں جانب کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان اس تنازعے میں دونوں طرف سے سخت بیانات اور فوجی کارروائیاں کی جاری ہیں اور مستقبل میں مزید کشیدگی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ مزید پڑھیں: یوکرینی صدر آج اپنے اتحادیوں سے ملاقات کریں گے، ‘مزید امداد’ کی یقین دہانی
’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ اقوام متحدہ کا بیان افسوسناک قرار

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے بلوچستان میں ہونے والے احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرین پرامن نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے بیان کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ یہ بیان انتہاپسندوں کو مزید طاقت دینے کے مترادف ہے۔ شفقت علی خان نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بلوچستان کے احتجاجی مظاہرین دہشتگردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور انہوں نے کوئٹہ کے ایک ہسپتال پر حملہ کرکے دہشتگردوں کی لاشیں قبضے میں لے لی تھیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کو حقائق سے لاعلمی قرار دیا اور کہا کہ عالمی ادارے کو متشدد گروہوں کی حمایت کرنے کے بجائے آزاد ریاستوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان پر لگائی جانے والی پابندیوں پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے انہیں جانبدارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پاکستان پر پابندیوں کے حوالے سے پیش کیا گیا بل کسی ایک فرد کا ذاتی اقدام ہے، نہ کہ امریکی حکومت کی پالیسی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات باہمی احترام اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر قائم ہیں۔ مزید پڑھیں: ‘اسرائیل نے غزہ میں طاقت استعمال کی تو قیدی تابوت میں واپس آئیں گے’ حماس کی وارننگ افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ہدایت پر پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق نے افغانستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے افغان حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے میں دونوں ممالک نے سیکیورٹی، تجارت اور عوامی روابط کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈلائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انڈیا کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے انڈین حکومت کے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے سے متعلق ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کروا دیے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کی بھی مذمت کی۔ اسرائیل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے واضح کیا کہ کوئی بھی پاکستانی اپنے پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر نہیں کر سکتا، البتہ اگر کوئی دوسرا ملک خود سفر کا بندوبست کرے تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ روس اور یوکرین جنگ پر پاکستان کے مؤقف کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان محدود جنگ بندی کے معاہدے کو خوش آمدید کہتا ہے۔ شام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں دیرپا امن صرف سیکیورٹی فورسز کو غیر مسلح کرنے سے نہیں آئے گا بلکہ اس کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
امریکی کمیشن نے انڈیا کو ‘علیحدگی پسند سکھوں’ کے قتل میں ملوث قرار دے دیا

امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی حالیہ رپورٹ میں انڈین حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی “را” کو بیرون ملک سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل میں براہ راست ملوث قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین انٹیلی جنس نہ صرف دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے بلکہ بیرون ملک سرگرم علیحدگی پسندوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں بھی کر رہی ہے۔ کمیشن نے انڈین انٹیلی جنس ایجنسی را پر عالمی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کا سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل کی سازشوں میں ملوث ہونا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ را کے سابق انٹیلی جنس افسر وکاش یادیو براہ راست ان حملوں میں شریک تھے اور انہیں متعدد کارروائیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے دیکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں انڈیامیں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نہ صرف انڈین انٹیلی جنس ایجنسی بلکہ اس میں ملوث افراد، خصوصاً وکاش یادیو پر بھی خصوصی پابندیاں عائد کرے تاکہ انڈیاکو یہ پیغام دیا جا سکے کہ اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ انڈیا میں مذہبی اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ صورتحال 2024 میں مزید خراب ہو گئی۔ انتخابات کے دوران انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ، انڈیا میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، اقلیتوں کے خلاف بنائے جانے والے امتیازی قوانین، زبردستی مذہب کی تبدیلی کے خلاف سخت قوانین، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی، اور مسلمانوں کی املاک کی مسماری کو اقلیتوں کے حقوق پر کھلا حملہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کی ابتر صورتحال کے پیش نظر انڈیا کو خصوصی تشویش کے حامل ملک قرار دیا جائے۔ اس اقدام سے انڈیا پر عالمی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ وہ اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر انڈیا کی خفیہ کارروائیوں اور دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انڈیا نہ صرف اپنے ملک میں اقلیتوں پر ظلم ڈھا رہا ہے بلکہ بیرون ملک بھی سیاسی مخالفین اور علیحدگی پسندوں کے خلاف خفیہ آپریشن کر رہا ہے، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکا سمیت مختلف ممالک انڈیا کی ان سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور مستقبل میں اس حوالے سے سخت اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کی صورت میں انڈیا کو سفارتی اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی فورسز کی غزہ میں بمباری، مزید 23 معصوم افراد شہید

غزہ کی سرزمین پر اسرائیلی بمباری نے ایک بار پھر علاقے میں خوف ہراس پھیلا دیا ہے، جہاں منگل کے روز کم از کم 23 فلسطینی شہید ہو گئے۔ مقامی صحت حکام کے مطابق اسرائیلی فوج کی ان کارروائیوں نے ایک ہفتے قبل شروع ہونے والی جنگ کو مزید شدت دی ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک ہفتے میں 700 سے زائد بے گناہ افراد کی جانیں گئیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ غزہ کی 2.3 ملین کی آبادی پہلے ہی 18 مہینوں سے جاری جنگ میں بار بار بے گھر ہو چکی ہے اور اب یہ بے بس لوگ کھانے کی کمی اور پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے اس مہینے کے اوائل میں امدادی سامان کی ترسیل روک دی تھی، جس سے وہاں کے حالات مزید بدتر ہو گئے ہیں۔ منگل کے روز اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے تمام سرحدی قصبوں کے رہائشیوں کو فوراً جنوب کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا یہ شہر جن میں جبالیہ، بیت لہیہ، بیت حانون اور الشجاعیہ شامل ہیں ان علاقوں میں ہزاروں افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے مگر اسرائیلی فوج نے ان کو بے گھر ہونے کے لیے فوری طور پر نقل مکانی کرنے کا حکم دے دیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ سب فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، فلسطینی اور اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اسیر 59 افراد کو رہا کرے جن میں سے 24 زندہ ہیں۔ اسرائیل نے حماس کو 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا، جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور تقریبا 250 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ اس کے بعد سے اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں جنہوں نے اب تک 50,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے جن میں بچے اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ حماس نے اس خون ریزی کے آغاز کے بعد سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں مگر ابھی تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جبکہ غزہ کی حالت زار بدتر ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری کی خاموشی اس المیے میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ اس تمام صورتحال میں اسرائیلی حملے نہ صرف انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ مزید پڑھیں: پب جی مزید دوبھائیوں کی زندگیاں نگل گئی
‘آخری حد تک کوشش کروں گا کہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلاؤں’ شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے آج پرائم منسٹر یوتھ ہب کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ترقی میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے اور اس میں پاکستان کے نوجوانوں کا قیمتی سرمایہ قدرتی وسائل سے بھی بڑھ کر ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ دنیا کے مختلف ممالک تیل، گیس اور معدنیات سے مالا مال ہیں لیکن پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے نوجوان ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی سابقہ خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے 4 لاکھ لیپ ٹاپز ضرورت مند طلبا میں مفت تقسیم کیے تھے تاکہ تعلیمی معیار میں بہتری لائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دن پاکستان کے نوجوانوں کے لیے خوشی کا دن ہے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ تعلیم، صحت اور نوجوانوں کے لیے ترجیحی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نوجوانوں کو آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور ووکیشنل ٹریننگ فراہم کی جائے تو وہ ملک کے لیے قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں اور پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: لوچستان سے اندرونِ ملک ٹرین سروس آج سے بحال: مزید کیا تبدیلیاں ہوں گی؟ وزیراعظم نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پاکستان کے قرضوں میں 77 سالوں میں اضافہ ہوا ہے مگر ان کی حکومت نے اس قرضے کی زندگی کو وقار کی زندگی میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگراموں سے معیشت میں استحکام آیا ہے اور دعا کی کہ یہ آخری پروگرام ثابت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور اب ہمیں کسانوں، صنعت کاروں اور نوجوانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ رانا مشہود کو پروڈکٹیو ایمپلائمنٹ کا ٹاسک دیا گیا ہے جبکہ ملک کے ٹریننگ سینٹرز میں بہترین تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ ہنر مند نوجوانوں کی بدولت پاکستان کا مستقبل شاندار بنے۔ وزیرِ اعظم نے عزم ظاہر کیا کہ وہ آخری دم تک عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے اور پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے۔ مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشت گردوں کا بس پر حملہ، پنجاب کا شناختی کارڈ ہونے پر مسافروں کو گولی مار دی
’بلوچستان میں شناخت کے بعد 6 افراد قتل‘ بڑا فوجی آپریشن ہوسکتا ہے، وزیراعلیٰ

بلوچستان کے علاقے کلماٹ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں مسلح افراد نے کراچی جانے والی مسافر بس کے چار مسافروں کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق پنجاب سے تھا اور تین دیگر کو اغوا کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں بدھ کی رات ایک المناک واقعہ پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ کو بلاک کرکے پانچ افراد کو قتل کر دیا اور متعدد مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے تین طویل باڈی ٹریلرز کو بھی جلا دیا جو گوادر بندرگاہ سے افغانستان جا رہے تھے اور ان میں یوریا کھاد بھری ہوئی تھی۔ ہائی وے پولیس کے ایس ایس پی حفیظ بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آوروں نے تاجابان علاقے میں تین ٹریلرز کو آگ لگا دی اور پانچ افراد کو قتل کر دیا۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ اس حملے کے دوران توربت، پنجگور اور پسنی کے علاقوں میں بھی سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔ جب کہ لیویز حکام نے اطلاع دی ہے کہ بولان، کولپور اور مستونگ کے علاقوں میں بھی سڑکیں بند ہوئیں اور ایک لیویز کی گاڑی کو مستونگ میں نذر آتش کر دیا گیا۔ دوسری جانب دوسری جانب تربت کے علاقے میں بھی ایک سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر بھی حملہ کیا گیا ہے جس میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تاہم ابھی تک اس واقعے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری ان علاقوں کی طرف روانہ ہو چکی ہے جہاں مسلح افراد نے سڑکیں بلاک کیں اور آپریشنز جاری ہیں تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ خونریز حملے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی تشویش کا نشان ہیں جہاں امن و امان کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ مزید پڑھیں: سائفر کیس، عمران خان اور پاکستانی عوام کی سیاسی تقسیم میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں حالیہ سیکیورٹی کی بگڑتی صورت حال کے تناظر میں کہا ہے کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر ایسا آپریشن ہو سکتا ہے۔ عالمی میڈیا کے ساتھ ایک نشست کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بات ’انڈپینڈنٹ اردو‘ کے سوال کے جواب میں کہی۔ صحافی نے سوال کیا کہ ’آیا صوبے کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بطور وزیراعلیٰ آپ سمجھتے ہیں کہ ملٹری آپریشن کی ضرورت ہے؟‘ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’ہمیں خطرے سے نمٹنا ہے۔ صوبے میں سمارٹ کائنیٹک آپریشن کی ضرورت ہے جبکہ انٹیلی جنس آپریشن پہلے ہی سے صوبے میں جاری ہیں۔‘
بلوچستان سے اندرونِ ملک ٹرین سروس آج سے بحال: مزید کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اعلان کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد معطل ہونے والی بلوچستان کی ٹرین سروس 27 مارچ سے بحال ہو جائے گی۔ حملے میں ٹرین کو روکنے کے لیے دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا اور فائرنگ سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جبکہ دیگر نقصان بھی ہوا۔ ریلوے انجینئرز تباہ شدہ ٹریک کی مرمت کر رہے ہیں، اور حملے میں متاثرہ مسافر کوچز اور انجنوں کو لاہور میں مرمت کے لیے بھیجا جائے گا۔ جعفر ایکسپریس آج پشاور سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوگی اور اگلے دن واپسی کرے گی۔ عید کے دوران مسافروں کی سہولت کے لیے 29 مارچ کو خصوصی ٹرین چلائی جائے گی، اور عید کے دنوں میں ٹکٹوں پر 20 فیصد رعایت دی جائے گی۔ بولان ایکسپریس، جو پہلے ہفتے میں دو بار چلتی تھی، اب روزانہ چلے گی، جبکہ بلوچستان میں ٹرینوں کی تعداد تین سے بڑھا کر نو کر دی جائے گی۔ ریلوے سٹیشنوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے 500 نئے پولیس اہلکار بھرتی کیے جا رہے ہیں، جن میں 70 فیصد بلوچستان سے ہوں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 1,000 اہلکاروں کی بھرتی ہوگی۔ ریلوے کی قائمہ کمیٹی نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ ریلوے بورڈ نے کمیٹی کو دو بڑے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ پہلے منصوبے میں 820 اعلیٰ صلاحیت والی مال بردار ویگنوں اور 230 مسافر بردار کوچز کی تیاری شامل ہے۔ ان مال بردار ویگنوں کی لاگت 9.48 ارب روپے سے بڑھ کر 17.57 ارب روپے ہو گئی ہے، اور باقی ویگنیں دسمبر 2025 تک مکمل ہوں گی۔ مسافر کوچز کی لاگت 21.71 ارب روپے سے بڑھ کر 53.39 ارب روپے ہو چکی ہے، اور 184 کوچز جون 2027 تک مکمل ہوں گی۔ دوسرا منصوبہ تھر ریل کنیکٹیویٹی سے متعلق ہے، جس کی کل لاگت 53.72 ارب روپے ہے اور اسے دو سال میں مکمل کیا جائے گا۔ یہ اقدامات بلوچستان میں ریل سروس کی بحالی، مسافروں کی سہولت، اور ریلوے کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
’جرم کے بغیر صحافیوں کو اٹھائے جانے کی حمایت نہیں کرسکتے‘ صحافی تنظیمیں

کراچی پریس کلب اور پی ایف یو جے نے صحافی وحید مراد کی پیکاایکٹ کے تحت گرفتاری اور فرحان ملک کو مقدمے میں ملوث کرنے کی شدید مذمت کی ہے، صحافی برادری کا کہنا ہے کہ ملک میں صحافت کو جرم بنا دیا گیا ہے،حکومت صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کرے۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ،سیکرٹری سہیل افضل خان اور مجلس عاملہ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ملک میں صحافت کو جرم بنادیا گیا ہے۔ تواتر کے ساتھ صحافیوں کی گرفتاریاں پیکاایکٹ کا شاخسانہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ دنیا بھرمیں حکومت اور ریاست کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ حکومت صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کرے ۔ صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی یوجے ایف) کے صدر افضل بٹ اور سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پی ایف یو جے وحید مراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور اغوا کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ مزید پڑھیں: صحافی وحید مراد کے خلاف درج ایف آئی آر منظرعام پر، ’جرم‘ کیا ہے؟ پی ایف یوجے نے پیکا ایکٹ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس(ورکرز) کے صدر فرخ شہبازوڑائچ نے کہا ہے بغیر کسی نوٹس کے گرفتاریاں ناقابل قبول ہیں، ادارے اغوا کار نہ بنیں، آئین اور قانون کے دائرے میں کام کریں۔ اے پی این ایس کے عہدیدار نوید چوہدری نے کہا ہے کہ حلال روزی کمانے والے صحافی فیک نیوز کے سب سے بڑے مخالف ہیں، فیک نیوز صحافت کا قتل ہے، دوسرا بیرون ملک بیٹھے کسی شخص کے ذریعے کوئی چیزریاستی اداروں اور قومی مفادات کے خلاف چلائی جائے شرانگیزی ہے۔ ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں جن کے خلاف کارروائی ہورہی ہے یہ ’مشکوک رابطے‘ تھے۔ خبر کی وجہ سے گرفتاری ہے تو یہ غلط ہے، خبر کے نام پر ٹرولنگ بھی غلط ہے۔ غلط خبر کے نام ’ٹرولنگ‘ کی جارہی ہے تو یہ صحافت نہیں ہے۔ لاہور پریس کلب کے ممبر گورننگ باڈی مدثرشیخ نے کہا ہے جرم کے بغیر صحافیوں کو اٹھائے جانے کی حمایت نہیں کرسکتے۔ ریاستی اداروں کے خلاف کوئی بات کی جاتی ہے تو اس کی روک تھام قانون کے دائرے میں ہونی چاہئے۔ خبر سامنے لائی جائے مگر ملک دشمنی پر نہیں اترنا چاہئے۔ بلوچستان کے معاملے پر ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پاکستان میٹرز سے گفتگو میں گرفتار اور لاپتہ صحافیوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے غیرقانونی طورپرلاپتہ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ (پی ایف یو سی) کے صدر ساجد خان نے کہا ہے کہ صحافیوں کو جبری طور اٹھانا ایک قابل مذمت ہے، ریاستی ادارے قانون کا غلط استعمال کررہے ہیں جو نہیں ہونا چاہئے۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف اور جنرل سیکرٹری قمرزمان بھٹی نے بھی صحافیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی گرفتاری بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔