اپریل 4, 2025 4:21 شام

English / Urdu

کیا جدید ٹیکنالوجی کی قیمت ملازمین کی نوکریاں ہیں؟

جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی بات ہوتی ہے تو اکثر ذہن میں ایک خوفناک منظرنامہ آتا ہے جہاں مشینیں انسانوں کی جگہ لے رہی ہیں اور بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے؟ یا پھر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متوازن ہے؟ یہ سوال آج کل ہر اس شخص کے ذہن میں ہے جو ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کوئی نیا رجحان نہیں۔ صنعتی انقلاب کے دوران بھی مشینوں نے ہاتھوں سے کی جانے والی کئی ملازمتوں کو ختم کر دیا تھا، لیکن ساتھ ہی نئے مواقع بھی پیدا ہوئے تھے۔ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسی طرز پر آگے بڑھ رہی ہے۔ مختلف صنعتی اور سروس سیکٹرز میں خودکار نظاموں کے متعارف ہونے سے بے شمار کام جو پہلے انسانوں کے ذریعے کیے جاتے تھے، اب مشینوں کے سپرد ہو رہے ہیں۔ کئی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، اے آئی کی ترقی سے کچھ ملازمتیں ختم ہوں گی، لیکن اس کے ساتھ ہی نئی نوکریوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔ پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے ماہر معاشیات ڈاکٹر ساجد حسین کہتے ہیں، ”یہ درست ہے کہ اے آئی کچھ روایتی نوکریوں کو ختم کر سکتی ہے، خاص طور پر وہ کام جو دہرائے جانے والے اور مخصوص اصولوں کے تحت کیے جاتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ نئی صنعتوں کو بھی جنم دے گی، جن میں زیادہ تخلیقی اور تجزیاتی مہارتوں کی ضرورت ہو گی۔” سب سے زیادہ خطرہ ان شعبوں کو ہے جہاں دفتری کام زیادہ ہے، جیسے ڈیٹا انٹری، اکاؤنٹنگ، کسٹمر سروس، اور مینوفیکچرنگ۔ کئی بڑی کمپنیاں اب خودکار چیٹ بوٹس کا استعمال کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے کسٹمر سپورٹ کے روایتی نمائندوں کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔ لندن میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے کے مطابق، آئندہ 10 سالوں میں اے آئی کے باعث تقریباً 30 فیصد ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے۔ لیکن ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔ پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے اے آئی کے ماہر، فہد قریشی، جو ایک عالمی ٹیکنالوجی فرم سے وابستہ ہیں، اس پر ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”یہ کہنا غلط ہوگا کہ اے آئی صرف نوکریاں ختم کر رہی ہے۔ اصل میں یہ ملازمتوں کی نوعیت کو تبدیل کر رہی ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز کے ماہرین، ڈیٹا سائنسدانوں، مشین لرننگ انجینئرز، اور اے آئی ایثکس کے ماہرین کی طلب میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔” جہاں ایک طرف اے آئی مزدور طبقے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس نے مختلف فیلڈز میں نئی راہیں بھی کھولی ہیں۔ صحت کے شعبے میں، اے آئی پر مبنی تشخیصی نظام ڈاکٹروں کی مدد کر رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے اے آئی کے ذریعے ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں بھی، اے آئی سے چلنے والے الگورتھمز خبروں کی ترسیل اور تجزیہ کو بہتر بنا رہے ہیں۔ پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی سارہ نذیر، جو ٹیکنالوجی اور معاشرتی اثرات پر تحقیق کر رہی ہیں، کہتی ہیں، ”اے آئی نے میڈیا انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے۔ آج کئی نیوز ایجنسیز اے آئی کی مدد سے رپورٹس تیار کر رہی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحافیوں کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا صحافی خود کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھال سکیں گے یا نہیں۔” نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ خود کو بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق تیار کریں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن طلبہ کے پاس تخلیقی صلاحیتیں، جذباتی ذہانت، اور تکنیکی مہارتیں ہوں گی، وہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود ملازمتیں حاصل کر سکیں گے۔ اس کے برعکس، جو افراد پرانے انداز میں ہی نوکریوں کو تلاش کریں گے، انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کچھ ممالک میں حکومتیں پہلے ہی اس تبدیلی کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ جرمنی، جاپان، اور امریکہ میں نئے تعلیمی پروگرام متعارف کروائے جا رہے ہیں جو طلبہ کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے پر مرکوز ہیں۔ پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائیں تاکہ نئی نسل اس بدلتی دنیا میں اپنی جگہ بنا سکے۔ کیا اے آئی واقعی نوکریاں ختم کر دے گی؟ شاید یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ آنے والے سالوں میں ملازمتوں کی نوعیت ضرور تبدیل ہو گی۔ انسانوں کو ان تبدیلیوں سے گھبرانے کے بجائے خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جو زمانے کے ساتھ نہیں بدلتا، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

اپریل فول: دنیا کے 8 ممالک جہاں مذاق کی انتہا کر دی جاتی ہے

دنیا بھر میں یکم اپریل کو اپریل فول ڈے کے نام سے پکارا جاتا ہے، جس دن لوگ ہنسی مذاق اور شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں، ایک دوسرے کو تنگ کرنا اور غلط خبر دینا عام ہوتا ہے، لیکن کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں یہ روایت ایک سنجیدہ مشن بن جاتی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے انٹرٹینمنٹ ٹائمز کے مطابق اپریل فول کی اصل تاریخ پر مورخین متفق نہیں، لیکن قدیم روم، قرونِ وسطیٰ کا یورپ اور برطانیہ کی مزاحیہ روایات اس دن کی جڑیں سمجھی جاتی ہیں۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں یہ دن منفرد انداز میں منایا جاتا ہے۔ فرانس: ‘اپریل فش’ کا منفرد مذاق فرانس میں لوگ “Poisson d’Avril” یعنی “اپریل فش” کے نعرے کے ساتھ دوسروں کی پیٹھ پر کاغذی مچھلی چپکاتے ہیں۔ اس روایت کی اصل وجوہات تو کوئی نہیں جانتا، لیکن یہ فرانس میں اپریل فول کا روایتی انداز ضرور بن چکا ہے۔ اسکاٹ لینڈ: دو دن کا اپریل فول اسکاٹ لینڈ میں یکم اپریل کو Hunt the Gowk Day منایا جاتا ہے، جس میں لوگوں کو بے کار اور عجیب و غریب کاموں پر بھیجا جاتا ہے، جب کہ اگلے دن Tailie Day منایا جاتا ہے، جس میں شرارتی نوٹس دوسروں کی پیٹھ پر چپکانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پولینڈ: “خبردار! آپ کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے” پولینڈ میں اپریل فول (Prima Aprilis) کے موقع پر ہر کسی کو محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ یہاں ایک مقبول کہاوت ہے: “Prima Aprilis, uważaj, bo się pomylisz!” (اپریل فول، ہوشیار رہو—تمہیں دھوکہ دیا جا سکتا ہے!)۔ اس دن مذاق کا شکار بننے سے بچنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ برازیل: ‘جھوٹ کا دن’ برازیل میں یکم اپریل کو Dia das Mentiras (یعنی جھوٹ کا دن) کہا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن جھوٹی خبریں، سنسنی خیز افواہیں اور حیران کن دعوے عام ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایران: اپریل فول سے پہلے کا تہوار ایران میں اپریل فول سے بھی پرانی ایک روایت موجود ہے جسے سزدہ بدر کہا جاتا ہے۔ یکم یا 2 اپریل کو منائے جانے والے اس دن میں لوگ فطرت کے قریب وقت گزارتے ہیں اور شرارتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جرمنی: خبروں میں مذاق جرمنی میں Aprilscherz کے نام سے اپریل فول کی روایت موجود ہے، جہاں لوگ انتہائی مستند نظر آنے والی جعلی خبریں تیار کرتے ہیں۔ بڑے اخبارات بھی اس کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی کہانیاں شائع کرتے ہیں جو عوام کو حیران کر دیتی ہیں۔ پرتگال: آٹے سے حملہ پرتگال میں اپریل فول کا دن نہیں منایا جاتا، لیکن اس کی جگہ وہ روزوں سے قبل کے دنوں میں شرارتیں کرتے ہیں۔ ان کا سب سے پسندیدہ مذاق دوسروں پر آٹا پھینکنا ہوتا ہے۔ اسپین اور لاطینی امریکہ: اپریل کے بجائے دسمبر میں فول ڈے اسپین اور کئی لاطینی امریکی ممالک 28 دسمبر کو Día de los Santos Inocentes کے نام سے ایک دن مناتے ہیں، جو اپریل فول سے مشابہہ ہے۔ اس دن شرارتوں کی مکمل آزادی ہوتی ہے، اور جو بھی ان چالوں کا شکار ہوتا ہے، اسے بس مسکرا کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان سب سے ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ انسانی فطرت میں مزاح کی محبت ہر جگہ پائی جاتی ہے، مگر اپریل فول کے دن کسی پر بھروسہ کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اسپائیڈر مین فرنچائز کی چوتھی فلم ‘برانڈ نیو ڈے’، پیٹر پارکر کے ساتھ کیا ہوگا؟

ہالی وڈ کے مشہور فلم ساز ڈیسٹن ڈینیئل کریٹن نے سنیما کان میں اپنی پہلی نمائش کے دوران ایک بڑا اعلان کر دیا، اسپائیڈر مین فرنچائز کی نئی فلم ‘اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے’ 31 جولائی 2026 کو ریلیز کی جائے گی۔ کریٹن، جو ‘شینگ چی’ کے ہدایتکار بھی رہ چکے ہیں، نے تقریب کے دوران اپنی ذاتی زندگی کے دلچسپ لمحات شیئر کیے، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بچے کے پہلے الفاظ ‘اسپائیڈر مین’ تھے۔ تاہم، وہ یہاں اسپائیڈر مین فرنچائز کے مستقبل پر بات کرنے کے لیے موجود تھے۔ تقریب کے دوران فلم کے نئے عنوان کو ایک دلچسپ موڑ کے ساتھ متعارف کرایا گیا۔ ٹام ہالینڈ، جو پیٹر پارکر کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے اسکرین پر آکر مداحوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے آپ کو ایک بڑے ہنگامے میں چھوڑ دیا تھا اور پھر اچانک فلم کے نئے نام ‘اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے’ کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان 2021 میں ریلیز ہونے والی ‘اسپائیڈر مین: نو وے ہوم’ کی زبردست کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے، جو عالمی سطح پر 1.95 بلین ڈالر کی کمائی کے ساتھ اب تک کی ساتویں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی۔ فلم کے اختتام نے اسپائیڈی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جب ٹام ہالینڈ کے پیٹر پارکر نے دنیا کو بچانے کے لیے اپنی شناخت ترک کر دی تھی اور اس سفر میں اینڈریو گارفیلڈ اور ٹوبی میگوائر کے اسپائیڈر مین کرداروں کی مدد لی تھی۔ اسپائیڈر مین کی چوتھی فلم کے لیے ایمی پاسکل اور مارول اسٹوڈیوز کے صدر کیون فیج بطور پروڈیوسر واپس آئے ہیں، جب کہ زندایا بھی اپنے کردار میں نظر آئیں گی۔ دوسری جانب ایک بڑی خبر یہ ہے کہ اینڈریو گارفیلڈ اس بار فرنچائز کا حصہ نہیں ہوں گے، حالانکہ پچھلی فلم میں ان کی واپسی کو ایک بڑا سرپرائز قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مداح بے چینی سے 2026 کا انتظار کر رہے ہیں، جب اسپائیڈر مین کی یہ نئی قسط سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔ کیا یہ فلم بھی اپنے پچھلے حصے کی طرح کامیابی کے جھنڈے گاڑے گی؟

‘نوکری نہیں شوہر چھوڑو’ خاتون نے 45 کلو وزن کم کرلیا

رہوڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ امریکی خاتون کونی سٹورز نے اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا اور شوہر کے ساتھ ساتھ نوکری کو بھی خیرباد کہہ دیا۔ نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق کونی سٹورز 2020 میں ایک خوشگوار زندگی گزار رہی تھیں۔ وہ شادی شدہ تھیں، ایک بیٹی کی ماں تھیں اور ایک اچھی ملازمت بھی کر رہی تھیں، لیکن عالمی وبا کورونا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئیں۔ اس دوران شراب اور ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت نے ان کا وزن 136 کلوگرام تک پہنچا دیا۔ مزید پڑھیں: تونسہ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز پر مریم نواز کا سخت نوٹس، فوری اقدامات کا حکم کونی سٹورز نے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا اور شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی، نوکری کو خیرباد کہہ دیا اور اپنا مکمل فوکس خود کو فٹ بنانے پر رکھا۔ انہوں نے رولر اسکیٹنگ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا اور حیران کن طور پر 45 کلو وزن کم کرلیا۔ کونی سٹورز نہ صرف اب ایک ماہر رولر اسکیٹر بن چکی ہیں بلکہ وہ ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ بزنس بھی چلا رہی ہیں، جس سے وہ اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن ہیں۔

ڈیجیٹل دور کا نیا ‘ڈبل شاہ،’ ٹریثر این ایف ٹی کیا چیز ہے؟

پاکستان میں ایک نئی ڈیجیٹل اسکیم Treasure NFT تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جسے ماہرین ایک جدید پونزی اسکیم قرار دے رہے ہیں، اس اسکیم میں لوگ رقم جمع کرواتے ہیں اور مزید افراد کو شامل کرنے پر کمیشن حاصل کرتے ہیں۔ جوں جوں نیٹ ورک بڑھتا جاتا ہے، ابتدائی سرمایہ کاروں کو منافع ملتا رہتا ہے، ایپ مالک کو لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں روپے ملتے جائیں گے، وہ ان میں سے تھوڑا تھوڑا کمیشن دیتا جاتا ہے تاکہ مزید لالچی لوگ شامل ہوتے جائیں ، جب اس کا ہدف پورا ہو جائے گا تب وہ کھربوں روپے لے کر اڑن چھو ہو جائے گا اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ دینِ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ پیسہ اس طریقے سے کمائے جائیں؟ آج کل لوگ پیسہ کمانے کے لیے اندھا دھند دوڑ رہے ہیں، اس میں مفتی مولوی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ ایپ بنانے والا بھی ایک پڑھا لکھا ڈاکٹر اور بزنس مین ہے، اسی کو آپ اربوں کا فائدہ دے رہے ہیں لگے رہو مسلمانو لگے رہو۔ اصل افسوس اس بات کا ہے کہ اب پیسے کو ایمان بنا لیا گیا ہے، یعنی لوگوں کو پرواہ ہی نہیں کہ کمائی کا ذریعہ حلال ہے یا حرام؟ جن لوگوں کو وقتی فائدہ ہو رہا ہے، وہ خوش ہو رہے کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہی فلاح ہے؟ اسے کامیابی کہتے ہیں؟ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک عالم دین Treasure NFT کی کمائی کو “جائز” قرار دے رہے ہیں۔ اس بیان پر عوامی ردِعمل سامنے آیا اور کئی لوگوں نے اسے اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ اب تک حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس اسکیم پر کوئی واضح ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس معاملے پر بروقت کارروائی نہ کی گئی، تو ہزاروں افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ایسی اسکیمیں پاکستان میں مقبول ہوئی ہوں، ماضی میں ڈبل شاہ اسکینڈل سمیت کئی پونزی اسکیموں نے عوام کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا، لیکن اس کے باوجود لوگ بغیر تحقیق کے ایسی اسکیموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام ایک بار پھر لالچ کے جال میں پھنس رہی ہے؟ اور کیا حکومت اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، کوئی عملی قدم اٹھائے گی؟

تونسہ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز پر مریم نواز کا سخت نوٹس، فوری اقدامات کا حکم

تونسہ میں ایڈز کے مبینہ پھیلاؤ پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے پر غور کیا گیا۔ مریم نواز نے محکمہ صحت پنجاب کو ایڈز کے سدباب کے لیے آپریشنل پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے یونیسف، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور محکمہ صحت پنجاب پر مشتمل جوائنٹ مشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 7 سے 14 اپریل تک متاثرہ بچوں کی ہسٹری ٹریسنگ کرے گا اور ایڈز کنٹرول کے لیے وزیراعلیٰ کو تجاویز پیش کرے گا۔ متاثرہ علاقوں میں ہاؤس ہولڈ اسکریننگ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جب کہ تونسہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور دیگر طبی مراکز میں ایڈز کے علاج کے لیے خصوصی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔ مزید پڑھیں: سول و عسکری قیادت کی بیٹھک، ملک دشمن مہم کا مؤثر جواب دینے کا فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں کے علاج میں کوئی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام مریضوں کو مکمل فری علاج فراہم کیا جائے گا۔

جیف بیزوس کی شادی، امبانی خاندان کی شادی سے 3 گنا زیادہ خرچ ہوگا؟

آپ میں سے اکثر لوگ سمجھتے ہوں گے کہ انڈیا میں امبانی خاندان کی شادی دنیا کی سب سے مہنگی شادی تھی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سے تین گنا مہنگی شادی اسی سال اٹلی کے شہر وینس میں ہونے جا رہی ہے۔ مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی شادی میں 200 ایمازون کے بانی اور دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص، جیف بیزوس، اس موسم گرما میں اپنی منگیتر لورین سانچیز سے اٹلی کے شہر وینس میں شادی کرنے جا رہے ہیں۔ یہ شادی ان کی مئی 2023 کی منگنی کے تقریباً دو سال بعد منعقد ہو رہی ہے۔ 61 سالہ بیزوس اور 55 سالہ سانچیز نے اپنی سابقہ شادیوں کا اختتام بالترتیب 2019 اور 2023 میں کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، جوڑے نے شادی کے دعوت نامے بھیجنے کا عمل شروع کر دیا ہے، اگرچہ حتمی تاریخ ابھی ظاہر نہیں کی گئی، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تقریب ممکنہ طور پر جون میں منعقد ہو سکتی ہے۔ افواہوں کے مطابق، جوڑا اپنی شادی جیف بیزوس کے لگژری 500 ملین ڈالر کے سپر یاٹ “کورو” پر کرے گا، جو اٹلی کے ساحل کے قریب موجود ہو گا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں بیزوس نے سانچیز کو پرپوز کیا تھا اور بعد میں اپنی منگنی کی تقریب بھی یہیں منائی تھی۔ اس ہائی پروفائل شادی کی مہمانوں کی فہرست میں ٹیکنالوجی اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی کئی نامور شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ ان کی منگنی کی تقریب میں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور ان کی ساتھی پاؤل ہرد سمیت کئی مشہور شخصیات نے شرکت کی تھی۔ تاہم، یہ بات قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2024 میں ایسی خبریں سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیزوس اور سانچیز کی شادی پر 600 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ جیف بیزوس نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں “مکمل طور پر غلط” قرار دیا تھا۔ لورین سانچیز 1969 میں امریکی شہر البوکرکی میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک سابق براڈکاسٹ جرنلسٹ ہیں، جنہوں نے بطور انٹرٹینمنٹ رپورٹر اور نیوز اینکر کام کیا۔ 2016 میں سانچیز نے “بلیک اوپس ایوی ایشن” کے نام سے اپنی کمپنی قائم کی، جو اپنی نوعیت کی پہلی خاتون کی ملکیت والی فضائی فلم اور پروڈکشن کمپنی ہے۔  

یورپ میں ٹی بی کا بڑھتا ہوا خطرہ، بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

دنیا بھر میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجی ہے جب ٹی بی جیسی بیماری جو دنیا کی سب سے بڑی مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے اور اس بیماری نے یورپ میں ایک نئے خطرے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2023 میں یورپ کے 53 ممالک کے بچوں میں ٹی بی کیسز میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے 7,500 سے زائد بچے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ WHO کی یورپی ریجن کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں 15 سال سے کم عمر کے بچوں میں ٹی بی کے کیسز میں 650 سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔  WHO کے یورپی ریجن کے ڈائریکٹر ‘ہانس ہنری کلوگے’ نے اس خطرے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ٹی بی کے خلاف کی جانے والی پیشرفت اب بھی کمزور ہے۔” ٹی بی جو ایک خطرناک بیکٹیریل بیماری ہے اور عام طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور بچوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ میں اضافے نے عالمی ادارہ صحت کو ایک نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔  WHO کے ایڈوائزر ‘اسکار یڈلبایف’ نے اس معاملے کو مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ ایک طرف تشخیص کے بڑھتے ہوئے امکانات کو ظاہر کرتا ہے لیکن دوسری طرف یہ ممکنہ طور پر یوکرین اور روس کی جنگ کے سبب سرحدوں کے پار لوگوں کی نقل و حرکت میں اضافے کا بھی نتیجہ ہو سکتا ہے جہاں اس بیماری کی شرح پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ یہ بھی پڑھیں: آگمینٹڈ ریئلٹی انقلاب: یہ صحت، تعلیم اور کھیلوں کو کس طرح تبدیل کر رہا ہے؟ یہ رپورٹ ایک اور اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بچوں میں ٹی بی کے کیسز میں مسلسل اضافے کا تیسرا سال ہے۔  WHO نے اس صورتحال کو ‘تشویش ناک’ قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی دوران WHO نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر ٹی بی کی روک تھام کے لیے فنڈنگ میں کمی آ رہی ہے۔ یہ کمی خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جہاں ٹی بی کی روک تھام کے پروگرامز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس فنڈنگ میں کمی کے سبب بیماری کی روک تھام کے لیے درکار ٹیسٹ، علاج اور ضروری وسائل کی فراہمی میں مشکلات آ رہی ہیں جو بالآخر ٹی بی کے مہلک اور مشکل سے علاج ہونے والے اقسام کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپی یونین میں بچوں کے یہ کیسز تمام ٹی بی کے کیسز کا 4.3 فیصد ہیں جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ٹی بی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس خطرناک بیماری کے پھیلاؤ کو روک کر لاکھوں جانوں کو بچایا جا سکے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی یہ رپورٹ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی بی جیسے پھیلنے والے بیماریوں کا مقابلہ عالمی سطح پر تعاون سے ہی ممکن ہے۔ مزید پڑھیں: صدقہ فطر کن لوگوں پر لازم ہے، یہ کب اور کیسے دیا جاتا ہے؟

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی آوازیں کیوں خاموش ہورہی ہیں؟

انسانی حقوق کی پامالی آج کے جدید دور میں بھی جاری ہے، فلسطین سے شام تک نسل کشی ہورہی ہے، طاقت کے نام پر انسان انسان کو کاٹ رہا ہے، مگر انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے بھی ہرجگہ موجود ہیں۔ 24 مارچ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور متاثرین کے وقار کے حق کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ دن ہمیں ان لوگوں کی یاد دلاتا ہے جو ناانصافی، جبر اور ظلم کا شکار ہوئے۔ دنیا کے ہر کونے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جنہیں انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات وہ انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی صرف ایک فرد یا ایک قوم کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کا چہرہ داغدار کرتی ہے۔ تاریخ میں کئی ہولناک واقعات گزرے ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں اور دیگر اقلیتوں کا قتل عام، روانڈا میں محض سو دن میں آٹھ لاکھ افراد کی بے رحمانہ نسل کشی، بوسنیا کے سربرینیکا میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کا قتل عام، شام میں خانہ جنگی کے دوران بے شمار بے گناہوں کا خون، اور سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ظلم کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں، مگر یہ ختم نہیں ہوتا۔ جب کسی انسان کے بنیادی حقوق چھین لیے جاتے ہیں تو یہ نہ صرف اس کی زندگی کو برباد کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ متاثرین کے وقار کا تحفظ محض ہمدردی کا تقاضا نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا بھی ہے۔ ان کی بحالی، ان کے زخموں پر مرہم رکھنا اور انہیں وہ عزت دینا جس کے وہ مستحق ہیں، یہ سب انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ دنیا میں ایسے قوانین اور معاہدے موجود ہیں جو انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسے کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور جنیوا کنونشن۔ لیکن اگر قوانین بنانے سے ہی سب کچھ ٹھیک ہو جاتا تو آج ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہ کر رہے ہوتے۔ اصل مسئلہ ان قوانین پر عملدرآمد کا ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں شعبہِ سیاسیات سے منسلک پروفیسر اکرام اللہ کا کہنا تھا کہ”متاثرین کے وقار کے حق کا تحفظ ریاستوں، عالمی اداروں اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور معاہدے جیسے کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، جنیوا کنونشن، اور دیگر بین الاقوامی معاہدے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے، ان کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں، اور متاثرین کو انصاف فراہم کریں”۔ متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کہیں عدالتی نظام کمزور ہے، کہیں سیاست انصاف پر بھاری ہے، اور کہیں مظلوموں کی آواز دبانے کے لیے انہیں دھمکایا جاتا ہے۔ ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، میڈیا اور عام شہری ایک امید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوموں کی کہانی دنیا کے سامنے لائے، تاکہ طاقتور ظالموں کو بے نقاب کیا جا سکے۔ معاشرے میں شعور اجاگر کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا انصاف کی فراہمی۔ اگر ہر فرد انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سطح پر کردار ادا کرے، چاہے وہ کسی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہو، کسی مظلوم کی مدد کرنا ہو، یا اپنے ارد گرد لوگوں کو آگاہ کرنا ہو، تو دنیا کو ایک بہتر جگہ بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیئر ٹیکر تنظیم کے سربراہ اسفندیار کا کہنا تھا کہ “متاثرین کے وقار کو بحال کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ سب سے پہلے، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ مجرموں کو سزا دینا نہ صرف متاثرین کے لیے تسلی بخش ہوتا ہے بلکہ یہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بنتی ہے تاکہ وہ ایسے جرائم سے باز رہیں۔ دوسرا اہم پہلو متاثرین کی نفسیاتی اور جسمانی بحالی ہے۔ تشدد، جنگ یا جبر کا” شکار ہونے والے افراد کے لیے طبی سہولیات، ذہنی صحت کی خدمات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ بہتر انداز میں گزار سکیں”۔ یہ دن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں جہاں ظلم کے خلاف خاموشی کو ہی بہتر سمجھا جائے؟ یا ہم اس سوچ کو بدلنے کے لیے کچھ عملی اقدامات اٹھا سکتے ہیں؟ انصاف، برابری اور انسانی وقار کے لیے کی جانے والی ہر چھوٹی کوشش دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ اور پرامن دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ خاموشی اکثر ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے۔

ہر بوند قیمتی ہے: وزیرِاعلیٰ پنجاب کا عالمی یومِ آب کے موقع پر پیغام

پانی کے عالمی دن پر وزیرِاعلیٰ پنجاب مرین نواز نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی ہر بوند قیمتی ہے، روزمرہ زندگی میں پانی کا ضیاع روکنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی زندگی کی علامت اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ بنی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانی کے ضیاع سے منع فرمایا، پانی نعمت ہے جس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہر بوند قیمتی ہے، روزمرہ زندگی میں پانی کا ضیاع روکنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ بڑھتی ہوئی آبادی،موسمیاتی تبدیلیوں اور بے احتیاطی کے باعث آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ مزید پڑھیں: مریم نواز کی اسپیشل بچوں کے لیے اسپیشل عیدی انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کے تحفظ کے لے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں قلت کا شکار ہو سکتی ہیں۔ پانی کے مناسب استعمال اور تحفظ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، بارشی پانی کے ذخائر اور زیر زمین ٹینک بنا کر آبپاشی کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ پانی بچائیں یہ عمل کرنے کا وقت ہے۔ آئندہ نسل کی بقا کے لیے پانی ذمہ داری سے استعمال کریں۔