اپریل 3, 2025 12:49 شام

English / Urdu

اسپائیڈر مین فرنچائز کی چوتھی فلم ‘برانڈ نیو ڈے’، پیٹر پارکر کے ساتھ کیا ہوگا؟

ہالی وڈ کے مشہور فلم ساز ڈیسٹن ڈینیئل کریٹن نے سنیما کان میں اپنی پہلی نمائش کے دوران ایک بڑا اعلان کر دیا، اسپائیڈر مین فرنچائز کی نئی فلم ‘اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے’ 31 جولائی 2026 کو ریلیز کی جائے گی۔ کریٹن، جو ‘شینگ چی’ کے ہدایتکار بھی رہ چکے ہیں، نے تقریب کے دوران اپنی ذاتی زندگی کے دلچسپ لمحات شیئر کیے، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بچے کے پہلے الفاظ ‘اسپائیڈر مین’ تھے۔ تاہم، وہ یہاں اسپائیڈر مین فرنچائز کے مستقبل پر بات کرنے کے لیے موجود تھے۔ تقریب کے دوران فلم کے نئے عنوان کو ایک دلچسپ موڑ کے ساتھ متعارف کرایا گیا۔ ٹام ہالینڈ، جو پیٹر پارکر کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے اسکرین پر آکر مداحوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے آپ کو ایک بڑے ہنگامے میں چھوڑ دیا تھا اور پھر اچانک فلم کے نئے نام ‘اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے’ کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان 2021 میں ریلیز ہونے والی ‘اسپائیڈر مین: نو وے ہوم’ کی زبردست کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے، جو عالمی سطح پر 1.95 بلین ڈالر کی کمائی کے ساتھ اب تک کی ساتویں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی۔ فلم کے اختتام نے اسپائیڈی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جب ٹام ہالینڈ کے پیٹر پارکر نے دنیا کو بچانے کے لیے اپنی شناخت ترک کر دی تھی اور اس سفر میں اینڈریو گارفیلڈ اور ٹوبی میگوائر کے اسپائیڈر مین کرداروں کی مدد لی تھی۔ اسپائیڈر مین کی چوتھی فلم کے لیے ایمی پاسکل اور مارول اسٹوڈیوز کے صدر کیون فیج بطور پروڈیوسر واپس آئے ہیں، جب کہ زندایا بھی اپنے کردار میں نظر آئیں گی۔ دوسری جانب ایک بڑی خبر یہ ہے کہ اینڈریو گارفیلڈ اس بار فرنچائز کا حصہ نہیں ہوں گے، حالانکہ پچھلی فلم میں ان کی واپسی کو ایک بڑا سرپرائز قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مداح بے چینی سے 2026 کا انتظار کر رہے ہیں، جب اسپائیڈر مین کی یہ نئی قسط سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔ کیا یہ فلم بھی اپنے پچھلے حصے کی طرح کامیابی کے جھنڈے گاڑے گی؟

جیف بیزوس کی شادی، امبانی خاندان کی شادی سے 3 گنا زیادہ خرچ ہوگا؟

آپ میں سے اکثر لوگ سمجھتے ہوں گے کہ انڈیا میں امبانی خاندان کی شادی دنیا کی سب سے مہنگی شادی تھی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سے تین گنا مہنگی شادی اسی سال اٹلی کے شہر وینس میں ہونے جا رہی ہے۔ مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی شادی میں 200 ایمازون کے بانی اور دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص، جیف بیزوس، اس موسم گرما میں اپنی منگیتر لورین سانچیز سے اٹلی کے شہر وینس میں شادی کرنے جا رہے ہیں۔ یہ شادی ان کی مئی 2023 کی منگنی کے تقریباً دو سال بعد منعقد ہو رہی ہے۔ 61 سالہ بیزوس اور 55 سالہ سانچیز نے اپنی سابقہ شادیوں کا اختتام بالترتیب 2019 اور 2023 میں کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، جوڑے نے شادی کے دعوت نامے بھیجنے کا عمل شروع کر دیا ہے، اگرچہ حتمی تاریخ ابھی ظاہر نہیں کی گئی، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تقریب ممکنہ طور پر جون میں منعقد ہو سکتی ہے۔ افواہوں کے مطابق، جوڑا اپنی شادی جیف بیزوس کے لگژری 500 ملین ڈالر کے سپر یاٹ “کورو” پر کرے گا، جو اٹلی کے ساحل کے قریب موجود ہو گا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں بیزوس نے سانچیز کو پرپوز کیا تھا اور بعد میں اپنی منگنی کی تقریب بھی یہیں منائی تھی۔ اس ہائی پروفائل شادی کی مہمانوں کی فہرست میں ٹیکنالوجی اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی کئی نامور شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ ان کی منگنی کی تقریب میں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور ان کی ساتھی پاؤل ہرد سمیت کئی مشہور شخصیات نے شرکت کی تھی۔ تاہم، یہ بات قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2024 میں ایسی خبریں سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیزوس اور سانچیز کی شادی پر 600 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ جیف بیزوس نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں “مکمل طور پر غلط” قرار دیا تھا۔ لورین سانچیز 1969 میں امریکی شہر البوکرکی میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک سابق براڈکاسٹ جرنلسٹ ہیں، جنہوں نے بطور انٹرٹینمنٹ رپورٹر اور نیوز اینکر کام کیا۔ 2016 میں سانچیز نے “بلیک اوپس ایوی ایشن” کے نام سے اپنی کمپنی قائم کی، جو اپنی نوعیت کی پہلی خاتون کی ملکیت والی فضائی فلم اور پروڈکشن کمپنی ہے۔  

امانت میں خیانت کا الزام، اداکارہ نازش جہانگیر کے گرفتاری وارنٹ جاری

امانت میں خیانت کے الزام میں اداکارہ نازش جہانگیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے۔ نجی نشریاتی ادارے 24 نیوز کے مطابق کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے اداکارہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ ڈیفنس سی پولیس کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اداکارہ کے خلاف ڈیفنس کے اسود ہارون نامی شخص نے مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔ مقدمہ امانت میں خیانت، فراڈ اور دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج ہے۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد نازش جہانگیر ،سکندر خان اور دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ مدعی مقدمہ نے وارنٹ گرفتاری ڈیفنس سی پولیس میں جمع کروا دیے ہیں۔ عدالت نے اداکارہ اور ملزمان کو 22 مارچ کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ مزید پڑھیں: 540 ملین روپے کی خرد برد، اداکارہ نادیہ حسین مشکل میں پھنس گئیں واضح رہے کہ گزشتہ سال ابھرتے ہوئے اداکار اذان اسود ہارون نے دعویٰ کیا کہ معروف اداکارہ نازش جہانگیر نے انہیں شوبز انڈسٹری میں متعارف کرانے کا جھانسہ دے کر ان سے رقم بٹوری، گاڑی لی اور پھر تشدد کروایا۔ ایک نجی شو میں اسود ہارون نے دعویٰ کیا کہ نازش جہانگیر نے پہلے ان سے 15 لاکھ اور پھر مزید رقم کا مطالبہ کیا، بہانے سے گاڑی مانگی اور انہوں نے اداکارہ کو 55 لاکھ روپے مالیت کی ہونڈا کار دے دی، مزید یہ کہ ان سے ایئرٹکٹس بھی منگواتی رہی تھیں۔ اسود ہارون نے دعویٰ کیا کہ پیسوں کے واپسی کے مطالبے پر اداکارہ نے انھیں ایک فارم ہاؤس میں بلایا، جہاں متعدد اسلحہ بردار افراد نے انہیں یرغمال بنا کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اس نے نازش کے خلاف ڈیفینس سی تھانےمیں فراڈ کا مقدمہ درج کروایا، جس میں پیسوں اور گاڑی کا بھی ذکر کیا گیا۔

540 ملین روپے کی خرد برد، اداکارہ نادیہ حسین نے ایف آئی اے سے معافی مانگ لی

بینک الفلاح سیکیورٹیز میں 540 ملین روپے کی خرد برد معاملے میں بنا تصدیق کیے ایف آئی اے آفیسر پر رشوت کا الزام لگانے والی اداکارہ نادیہ حسین نے کہا ہے کہ میرے وڈیو بیان کا مطلب کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا، میری کوشش تھی فراڈ کرنے والوں کو بے نقاب کروں۔ نجی نشریاتی ادارے سماء نیوز کے مطابق نادیہ حسین نے کہا ہے کہ اعلی حکام سے التماس ہے کہ جعلسازوں سے لوگوں کو بچایا جائے، لوگوں کی پریشانیاں ان جعلساز کالرز کی وجہ سے دوہری ہو جاتی ہیں۔ عوام کے حق میں جعلساز کو بے نقاب کرنا چاہتی ہوں، ایف آئی اے جعلساز کے خلاف میری شکایت پر کام کرے۔ اداکارہ نادیہ حسین کا کہنا تھا کہ لوگ جعلی کالز سے پریشان ہو جاتے ہیں، جعلساز کے خلاف ایف آئی اے پورٹل پر درخواست دی ہے، میری کوشش تھی فراڈ کرنے والوں کو بے نقاب کروں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے واٹس ایپ پر پیغام بھیجا گیا تھا، ایف آئی اے میں بیان ریکارڈ کرا دیا ہے، ایف آئی اے سائبر کرائم میرے موبائل فون کی فرانزک کر رہا ہے، میرے وڈیو بیان کا مطلب کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ اداکارہ نادیہ حسین کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ میرے بیان سے ایف آئی اے افسر کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہوں، ایف آئی اے حکام کو جعلساز کے حوالے سے معلومات فراہم کر دی ہیں۔ مزید پڑھیں: 540 ملین روپے کی خرد برد، اداکارہ نادیہ حسین مشکل میں پھنس گئیں واضح رہے کہ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے بینک الفلاح سیکیورٹیز میں 540 ملین روپے کی مبینہ خرد برد کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے سابق سی ای او عاطف محمد خان کو گرفتار کیا، ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم عاطف محمد خان نے بطور سی ای او اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور مالیاتی دھوکہ دہی میں ملوث پایا گیا۔ ملزم کو 8 مارچ 2025 کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کی اہلیہ اداکارہ نادیہ حسین کو ایک نامعلوم جعلساز کی جانب سے واٹس ایپ پر کال موصول ہوئی، جس میں ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر کی تصویر بطور ڈی پی استعمال کی گئی۔ جعلساز نے مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔ نادیہ حسین نے فوری طور پر ایف آئی اے کراچی سے رابطہ کیا، جس پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ یہ ایک جعلی کال ہے اور انہیں سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں باضابطہ شکایت درج کروانے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم، نادیہ حسین نے شکایت درج کروانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ایف آئی اے کے خلاف الزامات لگانا شروع کر دیے۔ ایف آئی اے حکام نے نادیہ حسین کے سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا اور واضح کیا کہ بغیر ثبوت کسی ادارے پر الزامات لگانا قانونی جرم ہے۔ سائبر کرائم ونگ کراچی اداکارہ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔

540 ملین روپے کی خرد برد، اداکارہ نادیہ حسین مشکل میں پھنس گئیں

بینک الفلاح سیکیورٹیز میں 540 ملین روپے کی خرد برد معاملے میں بنا تصدیق کیے ایف آئی اے آفیسر پر رشوت کا الزام لگانا اداکارہ نادیہ حسین کو مہنگا پڑ گیا۔ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے بینک الفلاح سیکیورٹیز میں 540 ملین روپے کی مبینہ خرد برد کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے سابق سی ای او عاطف محمد خان کو گرفتار کیا، ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم عاطف محمد خان نے بطور سی ای او اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور مالیاتی دھوکہ دہی میں ملوث پایا گیا۔ ملزم کو 8 مارچ 2025 کو کراچی سے گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کی اہلیہ اداکارہ نادیہ حسین کو ایک نامعلوم جعلساز کی جانب سے واٹس ایپ پر کال موصول ہوئی، جس میں ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر کی تصویر بطور ڈی پی استعمال کی گئی۔ جعلساز نے مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔ نادیہ حسین نے فوری طور پر ایف آئی اے کراچی سے رابطہ کیا، جس پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ یہ ایک جعلی کال ہے اور انہیں سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں باضابطہ شکایت درج کروانے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم، نادیہ حسین نے شکایت درج کروانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ایف آئی اے کے خلاف الزامات لگانا شروع کر دیے۔ ایف آئی اے حکام نے نادیہ حسین کے سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا اور واضح کیا کہ بغیر ثبوت کسی ادارے پر الزامات لگانا قانونی جرم ہے۔ سائبر کرائم ونگ کراچی نے نادیہ حسین کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی مشکوک کال یا دھوکہ دہی کی کوشش کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ ادارے سے رجوع کریں اور سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے الزامات لگانے سے گریز کریں، کیونکہ ایسا کرنا ملکی قوانین کے تحت سنگین جرم ہے۔ دوسری جانب جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نادیہ حسین نے کہا کہ ایف آئی اے کی ٹیم آج صبح آئی تھی، جس نے انہیں موصول ہونے والی فون کال اور ان کے بیان سے متعلق معلومات لیں۔ نادیہ حسین نے کہا کہ انہوں نے ایف آئی اے حکام کو ساری معلومات فراہم کیں، سوشل میڈیا پوسٹ کی ڈسکرپشن پر واضح کیا تھا کہ یہ فراڈکال ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ پوسٹ کرنے سے قبل فراڈ کال سے متعلق ایف آئی اے کو آگاہ بھی کیا تھا۔ نادیہ حسین نے کہا کہ انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور اگلے ہفتے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اداکارہ نادیہ حسین نے سوشل میڈيا پر ایک آڈیو میسج شيئر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان سے ایف آئی اے حکام نے شوہر کے کیس میں 50 لاکھ روپے رشوت طلب کی ہے۔

کولڈ پلے کا بھارت میں عالمی ریکارڈ: 1 کروڑ 3 لاکھ افراد نے کنسرٹس میں شرکت کر کے تاریخ رقم کر دی

دنیا بھر میں پاپ میوزک کے مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والا برطانوی راک بینڈ ‘کولڈ پلے’ نے بھارت میں اپنے شاندار کنسرٹس کے ذریعے تاریخ رقم کر دی ہے۔ بینڈ نے اپنے کنسرٹس میں ایک کروڑ تین لاکھ سے زائد شائقین کو اپنی موسیقی کے جادو میں محصور کر لیا جس کے نتیجے میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کولڈ پلے نے 18 جنوری سے 26 جنوری تک ممبئی اور احمد آباد کے بڑے اسٹیڈیموں میں شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ ان شوز میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد نے ہر شو میں شرکت کی جس نے ٹیلر سوئفٹ کے کنسرٹس کا ریکارڈ توڑ دیا۔ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق اس سے پہلے یہ اعزاز مارچ 2022 میں کوسٹاریکا کے کنسرٹ کے پاس تھا جہاں سب سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی۔ مگر اب بھارت میں کولڈ پلے کے کنسرٹس نے یہ ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔ کولڈ پلے نے اس شاندار کامیابی کے بعد اپنے بھارتی مداحوں کا دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا “شکریہ احمد آباد، شکریہ بھارت! ہم ان دو ہفتوں کو کبھی نہیں بھولیں گے, آپ کی محبت اور مہربانی ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہے گی۔” کولڈ پلے نے اپنے کامیاب دورے کا اختتام بھارت میں کیا اور اب اگلا کنسرٹ اپریل میں ہانگ کانگ میں شیڈول ہے۔ اس کے بعد وہ سیئول اور امریکا میں بھی اپنے مداحوں سے ملاقات کریں گے۔ یہ شو نہ صرف کولڈ پلے کی کامیابی کا عکاس ہے بلکہ یہ بھارت میں موسیقی کے شوقین افراد کے لیے ایک ناقابل فراموش لمحہ بھی بن گیا ہے۔

پاکستان انڈیا کرکٹ جنگ، نیٹ فلکس نے ٹریلر جاری کر دیا

نیٹ فلکس کی جانب سے کرکٹ اور سینیماکے شائقین کے لیے ” دی گریٹیسٹ رائولری: انڈیا ورسس پاکستان” کے نام سے سیریز لانے کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ سیریز 7 فروری کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہوگی۔ نیٹ فلکس نے اپنی ویب سائٹ پر سیریز کا ٹریلر جاری کرتے ہوئے لکھا ۔  “پاکستان اور انڈیا کے درمیان سب سے بڑی جنگ کو کھوجتے ہوئے، یہ ڈاکیومینٹری کرکٹ پیچ کے پیچیدہ ماضی اور غیریقینی حال کی عکاسی کرے گی”۔ ٹریلر میں پاکستان اور انڈیا کے بڑے کھلاڑیوں کو دکھایا گیا ہے جن میں شعیب اختر، رمیز راجہ، وقار یونس، وریندر سہواگ، سارؤ گنگولی، سنیل گواسکر اور شیکر دھون شامل ہیں۔ سیریز کا ٹریلر دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کی جنگ، تاریخی، ثقافتی اور جذباتی پس منظر کے ساتھ دکھاتا ہے۔ لیجنڈ کرکٹرز ٹریلر میں انڈیا بمقابلہ پاکستان کے میچ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔     View this post on Instagram   A post shared by Netflix India (@netflix_in) ٹریلر میں سارؤ گنگولی کہتے ہیں کہ “کہنے کو تو اسے دوستانہ دورے کا نام دیا جاتا تھا لیکن شعیب اختر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینک رہا ہے، اس میں دوستی کہاں ہے؟” یہ سیریز گرے میٹر میڈیا کی جانب سے بنائی جائے گی جس میں چاندرادیو، اور سٹیورٹ سوگ ہدایت کاری کریں گے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے کرکٹ کے مقابلے سنسنی اور دلچسبی سے بھرپور ہوتا ہے۔  شائقین امید کر رہے ہیں کہ یہ سیریز پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی کرکٹ جنگ کو مزید دلچسب بنائے گی اور ہم محظوظ ہو سکیں گے۔

فلمی نغموں سے حمدونعت کا سفر، روحانی سکینت بخشتی شاعری نے مظفر وارثی کو امر کر دیا

آج اُردو ادب اور اسلامی شاعری کے عظیم شاعر، نغمہ نگار اور نعت خواں مظفر وارثی کی چودہویں برسی منائی جارہی ہے۔ 28 جنوری 2011 کو لاہور میں وفات پانے والے مظفر وارثی کا نام صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری کی گونج آج بھی دلوں میں زندہ ہے اور ان کا کلام اردو ادب اور اسلامی شاعری کے خزانے کا ایک انمول حصہ ہے۔ مظفر وارثی 1933 میں بھارت کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا ادبی سفر ابتدا میں فلمی نغمہ نگاری کے ذریعے شروع ہوا، جہاں انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تاہم، بہت جلد ان کی طبیعت میں ایک گہری روحانیت اور دینی لگاؤ پیدا ہوا، جس کے باعث انہوں نے نعت و حمد کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کی شاعری کا رنگ اور اثر الگ تھا، اور یہی وہ وقت تھا جب مظفر وارثی نے اپنا نام عالمی سطح پر روشن کیا۔ مظفر وارثی کی شاعری نے انہیں ایک خاص مقام دلایا۔ ان کی نعتیں اور حمدیہ اشعار ایمان کی گہرائیوں تک پہنچتے ہیں اور ان کی زبان میں ایک ایسی تاثیر تھی کہ ان کا کلام سنتے ہی دل میں سکون اور محبت کا ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔ ان کی ایک مشہور نعت “یہ روشنی جہاں سے آئی ہے” آج بھی لوگوں کے دلوں میں گونج رہی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں حضرت محمد ﷺ سے محبت کی ایک لہر پیدا کی اور ان کی حمد اور نعتوں میں اللہ کی عظمت کو بے مثال انداز میں بیان کیا۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے سادگی کے ساتھ گہری روحانیت کو پیش کیا، جو ہر کسی کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ مظفر وارثی کی شاعری کی کامیابیاں اور پذیرائیاں صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے عالمی سطح پر بھی شہرت حاصل کی۔ ان کی نعتوں اور حمد کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اور ان کے کلام نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں دلوں کو چھوا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں “پرائیڈ آف پرفارمنس” ایوارڈ سے نوازا، جو ملک کے اعلیٰ ترین ادبی اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔ 28 جنوری 2011 کو مظفر وارثی کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کی شاعری کا اثر آج بھی زندہ ہے۔ ان کے کلام کی محبت میں کمی نہیں آئی، بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ان کی شاعری کی اہمیت اور گہرائی کو مزید سراہا گیا ہے۔ آج بھی مختلف محافل اور محافلِ نعت میں ان کے کلام کو پیش کیا جاتا ہے، اور ان کی آواز کا اثر آج بھی لوگوں کے دلوں میں محسوس ہوتا ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف اُردو ادب کا خزانہ ہے بلکہ اسلامی شاعری کے لیے بھی ایک نیا سنگ میل ثابت ہوئی۔ ان کا کلام انسانیت کی خدمت اور محبت کا پیغام ہے، جو کسی بھی زبان یا سرحد سے آزاد ہے۔ آج، مظفر وارثی کی چودہویں برسی کے موقع پر ادبی حلقوں، شاعروں اور علمی تنظیموں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مختلف شہروں میں ان کی شاعری کی محافل منعقد کی گئیں اور ان کی نعتوں کو سن کر لوگوں نے اپنے دلوں کو سکون بخشا۔ اس دن کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ یہ ہمیں  یاد دلاتا ہے کہ شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زبان ہے جو دلوں کی گہرائیوں میں اثر ڈالتی ہے۔ مظفر وارثی کی چودہویں برسی پر ان کی شاعری اور نعتوں کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ ان کا کلام آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے۔ ان کی شاعری نے نہ صرف اردو ادب کو مالا مال کیا بلکہ اسلامی شاعری کے دائرے میں بھی ایک نیا باب رقم کیا۔ مظفر وارثی کی تخلیقات کی گونج ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی، اور ان کا کلام آنے والی نسلوں کو محبت، عقیدت اور روحانیت کا پیغام دیتا رہے گا۔

سیف علی خان کے 15 ہزار کروڑ داؤ پر لگ گئے

معروف بالی وڈ اداکار سیف علی خان اس وقت ایک قانونی تنازعے میں گھِرے ہوئے ہیں جس کی جڑیں پاکستان سے جڑتی ہیں،بالی ووڈ کے اس اسٹار پر چاقو سےحملے کی خبریں تو میڈیا کی سرخیوں میں رہ چکی ہیں لیکن اب ان کی جائیداد اور پاکستان سے تعلق کا تنازعہ زیادہ زور پکڑ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کی حکومت سیف علی خان کی 15 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کرنے جا رہی ہے؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہو گی؟ بھوپال کا شاہی خاندان اور پاکستان کا تعلق یہ تمام تنازعہ اس جائیداد کے حوالے سے ہے جو بھوپال کے نواب خاندان کی موروثی ملکیت تھی۔ ہندوستان کی آزادی سے پہلے بھوپال ایک شاہی ریاست تھی اور اس کے نواب حمید اللہ خان کی سب سے بڑی بیٹی عابدہ سلطان 1948 میں پاکستان چلی گئیں۔ اس کے بعد 2015 میں حکومتِ ہند نے اس زمین کو “دشمن کی جائیداد” قرار دے دیا، اس ایک فیصلے نے پورے تنازعے کو جنم دیا، اور سوالات اٹھنے لگے کہ اس جائیداد کا کیا ہوگا؟ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1965 کی جنگ کے بعد “اینیمی پراپرٹی ایکٹ” منظور کیا گیا تھا جس کے تحت وہ افراد جنہوں نے انڈیا چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا ان کی جائیدادوں اور کاروباروں کا کنٹرول حکومتِ انڈیا نے سنبھال لیا۔ اس قانون کے مطابق پاکستان یا چین کی شہریت اختیار کرنے والے افراد کی جائیداد “دشمن کی جائیداد” قرار پاتی ہے اور ان کا انتظام حکومت کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ دوسری جانب سیف علی خان کی جائیداد میں کئی اہم جائیدادیں شامل ہیں جن میں بھوپال کی موروثی جائیداد “فلیگ سٹاف ہاؤس”، “نور الصباح پیلس”، “دارالسلام”، “حبیبی بنگلہ”، “احمد آباد پیلس”، اور “کوہِ فضا” کی پراپرٹیز شامل ہیں۔ قبل ازیں جب حکومتِ ہند نے 2015 میں ان جائیدادوں کو “دشمن کی جائیداد” قرار دیا تو سیف علی خان کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا ہو گیا۔ ان کی والدہ شرمیلا ٹیگور اور خود سیف علی خان نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس فیصلے کے خلاف قانونی جنگ شروع کر دی۔ سیف علی خان کا اس جائیداد سے تعلق اس وقت بنتا ہے جب ہم عابدہ سلطان کی کہانی پر نظر ڈالیں۔ عابدہ سلطان جو بھوپال کے نواب حمید اللہ خان کی بیٹی تھیں،انہوں نے 1948 میں پاکستان جانے کا فیصلہ کیااور اس فیصلے کے بعد ان کی جائیداد پر حکومت انڈیا نے اپنا قبضہ جمانا شروع کیا۔ 2015 میں جب حکومتِ انڈیا نے ان جائیدادوں کو “دشمن کی جائیداد” قرار دیا، تو یہ بات مزید پیچیدہ ہو گئی کہ آیا سیف علی خان ان جائیدادوں کے قانونی وارث ہیں یا نہیں؟ بی بی سی اردو کے مطابق سیف علی خان اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ جائیدادیں دراصل ان کی دادی ساجدہ سلطان کی ہیں اور اس پر ان کا قانونی حق ہے۔ ساجدہ کی شادی پٹودی کے نواب افتخار علی خان سے ہوئی تھی جو انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان منصور علی خان پٹودی کے والد تھے اور سیف علی خان کے دادا تھے۔ اس بنیاد پر سیف علی خان کے وکلا کا موقف ہے کہ یہ جائیدادیں “دشمن کی جائیداد” قرار نہیں دی جا سکتیں کیونکہ یہ انڈیا میں واقع ہیں اور اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دسمبر 2024 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس تنازعے پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ سیف علی خان اور ان کے خاندان کو اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت اپیل دائر کرنی ہو گی۔ اس فیصلے کے بعد یہ سوالات مزید گمبھیر ہو گئے کہ آیا سیف علی خان کی 15 ہزار کروڑ کی جائیداد حکومتِ انڈیا کے قبضے میں چلی جائے گی یا وہ اس قانونی جنگ میں کامیاب ہو پائیں گے۔ اس وقت تمام نظریں اس قانونی جنگ پر مرکوز ہیں اور کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ سیف علی خان کی جائیداد پر حکومت کا قبضہ ایک پیچیدہ قانونی مسئلہ بن چکا ہے جس میں ان کے خاندان کا حق تسلیم کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔ یہ تنازعہ صرف قانونی نہیں بلکہ انڈیا اور پاکستان کے سیاسی اور تاریخی تعلقات سے بھی جڑا ہے جس کی قیمت مالی سے بڑھ کر ایک گہرا سیاسی پہلو اختیار کر چکی ہے۔

رجب بٹ کو شیر کے بچے کو غیر قانونی طور پر رکھنے پر سزا

معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ کو شیر کے بچے کو غیر قانونی طور پر رکھنے کے الزام میں عدالت نے سزا سنادی۔ اس کیس میں جیوڈیشل مجسٹریٹ نے رجب بٹ کو ایک سال کی کمیونٹی سروس کرنے کا حکم دیا، لیکن اس سزا کی نوعیت اور رجب بٹ کا اعتراف جرم اس کیس کو ایک منفرد اور دلچسپ موڑ دیتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وائلڈ لائف آفیسر نے رجب بٹ کے خلاف ایک درخواست جمع کروائی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ رجب بٹ نے شیر کا بچہ اپنے پاس رکھا تھا۔ رجب بٹ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے بوجھتے نہیں تھے کہ جنگلی جانوروں کو غیر قانونی طور پر رکھنا جرم ہے۔ رجب بٹ نے عدالت میں بیان دیا، کہ”میں نے اس عمل سے ایک غلط مثال قائم کی اور اب مجھے احساس ہو گیا ہے کہ جنگلی جانوروں کو اس طرح رکھنا غیر مناسب ہے۔” اس کے بعد انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ “مجھے یہ علم نہیں تھا کہ جنگلی جانور تحفے کے طور پر وصول نہیں کیے جا سکتے تھے۔” اس بیان کے بعد عدالت نے رجب بٹ کو ایک سال کی کمیونٹی سروس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں وہ پروبیشن آفیسر کے ماتحت کام کرے گا۔ اس کمیونٹی سروس کا حصہ یہ تھا کہ رجب بٹ ہر ماہ اپنے سوشل میڈیا پر وی لاگ کے ذریعے جانوروں کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں آگاہی فراہم کرے گا۔ ان وی لاگ میں وہ اس بارے میں گفتگو کرے گا کہ جنگلی جانوروں کے تحفظ اور ان کے حقوق کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ رجب بٹ کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ یہ وی لاگ اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کرے گا۔ یہ فیصلہ نہ صرف رجب بٹ کے لیے ایک سبق ہے بلکہ ایک بڑا پیغام بھی دیتا ہے کہ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو اپنے اثر و رسوخ کا درست استعمال کرنا چاہیے۔ عدالت نے وائلڈ لائف محکمہ کو ہدایت کی کہ وہ رجب بٹ کو جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے تمام ضروری مواد فراہم کرے تاکہ وہ آگاہی مہم میں بھرپور حصہ لے سکے۔ رجب بٹ نے اپنے عمل پر پچھتاوا ظاہر کیا اور کہا کہ اب وہ جنگلی جانوروں کے حقوق کے بارے میں مثبت پیغام رسانی کرے گا۔ اس فیصلے کے بعد رجب بٹ نے عدالت سے درخواست کی کہ اسے اپنی غلطی کو سدھارنے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے اس درخواست پر غور کرتے ہوئے اسے ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ رجب بٹ کے اس معاملے نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے ملک میں جنگلی جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹک ٹکر اس ایک سال کی کمیونٹی سروس کے دوران کس حد تک لوگوں کو آگاہی دے پاتا ہے اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔