تونسہ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز پر مریم نواز کا سخت نوٹس، فوری اقدامات کا حکم

تونسہ میں ایڈز کے مبینہ پھیلاؤ پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے پر غور کیا گیا۔ مریم نواز نے محکمہ صحت پنجاب کو ایڈز کے سدباب کے لیے آپریشنل پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے یونیسف، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور محکمہ صحت پنجاب پر مشتمل جوائنٹ مشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 7 سے 14 اپریل تک متاثرہ بچوں کی ہسٹری ٹریسنگ کرے گا اور ایڈز کنٹرول کے لیے وزیراعلیٰ کو تجاویز پیش کرے گا۔ متاثرہ علاقوں میں ہاؤس ہولڈ اسکریننگ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جب کہ تونسہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور دیگر طبی مراکز میں ایڈز کے علاج کے لیے خصوصی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔ مزید پڑھیں: سول و عسکری قیادت کی بیٹھک، ملک دشمن مہم کا مؤثر جواب دینے کا فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں کے علاج میں کوئی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام مریضوں کو مکمل فری علاج فراہم کیا جائے گا۔
یورپ میں ٹی بی کا بڑھتا ہوا خطرہ، بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

دنیا بھر میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجی ہے جب ٹی بی جیسی بیماری جو دنیا کی سب سے بڑی مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے اور اس بیماری نے یورپ میں ایک نئے خطرے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2023 میں یورپ کے 53 ممالک کے بچوں میں ٹی بی کیسز میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے 7,500 سے زائد بچے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ WHO کی یورپی ریجن کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں 15 سال سے کم عمر کے بچوں میں ٹی بی کے کیسز میں 650 سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ WHO کے یورپی ریجن کے ڈائریکٹر ‘ہانس ہنری کلوگے’ نے اس خطرے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ٹی بی کے خلاف کی جانے والی پیشرفت اب بھی کمزور ہے۔” ٹی بی جو ایک خطرناک بیکٹیریل بیماری ہے اور عام طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور بچوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ میں اضافے نے عالمی ادارہ صحت کو ایک نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔ WHO کے ایڈوائزر ‘اسکار یڈلبایف’ نے اس معاملے کو مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ ایک طرف تشخیص کے بڑھتے ہوئے امکانات کو ظاہر کرتا ہے لیکن دوسری طرف یہ ممکنہ طور پر یوکرین اور روس کی جنگ کے سبب سرحدوں کے پار لوگوں کی نقل و حرکت میں اضافے کا بھی نتیجہ ہو سکتا ہے جہاں اس بیماری کی شرح پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ یہ بھی پڑھیں: آگمینٹڈ ریئلٹی انقلاب: یہ صحت، تعلیم اور کھیلوں کو کس طرح تبدیل کر رہا ہے؟ یہ رپورٹ ایک اور اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بچوں میں ٹی بی کے کیسز میں مسلسل اضافے کا تیسرا سال ہے۔ WHO نے اس صورتحال کو ‘تشویش ناک’ قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی دوران WHO نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر ٹی بی کی روک تھام کے لیے فنڈنگ میں کمی آ رہی ہے۔ یہ کمی خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جہاں ٹی بی کی روک تھام کے پروگرامز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس فنڈنگ میں کمی کے سبب بیماری کی روک تھام کے لیے درکار ٹیسٹ، علاج اور ضروری وسائل کی فراہمی میں مشکلات آ رہی ہیں جو بالآخر ٹی بی کے مہلک اور مشکل سے علاج ہونے والے اقسام کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپی یونین میں بچوں کے یہ کیسز تمام ٹی بی کے کیسز کا 4.3 فیصد ہیں جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ٹی بی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس خطرناک بیماری کے پھیلاؤ کو روک کر لاکھوں جانوں کو بچایا جا سکے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی یہ رپورٹ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی بی جیسے پھیلنے والے بیماریوں کا مقابلہ عالمی سطح پر تعاون سے ہی ممکن ہے۔ مزید پڑھیں: صدقہ فطر کن لوگوں پر لازم ہے، یہ کب اور کیسے دیا جاتا ہے؟
بچے اپنے والدین اور اساتذہ کرام کے نام پر درخت لگائیں، مریم نواز کا عالمی یوم جنگلا ت کے دن پر پیغام

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے اور آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا ماحولیاتی نظام دینے کے لیے پرعزم ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ درخت ضرور لگائیں، چاہے اس کے سائے میں بیٹھنے کی توقع ہو نہ ہو۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے جنگلات کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ بچے اپنے والدین اور اساتذہ کرام کے نام پر درخت لگائیں۔ جنگلات کا وجود ماحول، معیشت اور شہریوں کے لیے لائف لائن ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے شجرکاری ناگزیر ہیں، درخت لگائیں اور سموگ کے اندھیرے مٹائیں۔ مریم نوازشریف نے کہا کہ عالمی یوم جنگلا ت پر صوبے بھر میں 15 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ موسم بہار شجرکاری مہم کے دوران مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ پودے لگانے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ”پلانٹ فار پاکستان“ مہم کے تحت 44 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ ”گرین پاکستان“ پروگرام کے تحت 34 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے زرعی جنگلات میں 14 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔ ہیلتھ، ایجوکیشن اور دیگر اداروں کو شجرکاری کے لیے 55 لاکھ پودے فراہم کیے گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ بے آباد سرکاری اراضی پر بھی درخت لگائے جائیں گے۔ راجن پور، مظفرگڑھ اور سرگودھا میں دریائے سندھ سے متصل 3700 ایکڑ پر شجرکاری کی جائے گی۔ ان کے علاوہ غازی گھاٹ اور مظفر گڑھ میں 1500 ایکڑ رقبے پر شجرکاری ہوگی۔ شیخوپورہ اور لاہور راوی کنارے پر 444 ایکڑ رقبے پر درخت لگائے جائیں گے۔ گجرات میں دریائے چناب سے متصل علاقوں میں بھی شجرکاری ہوگی۔ گوجرانوالہ، چھانگا مانگا، چیچہ وطنی، اٹک، جھنگ اور ڈی جی خان میں خالی اراضی پر شجرکاری کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں 161 سال سے قائم محکمہ جنگلات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لیس کیا جارہا ہے۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ میں جی آئی ایس ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن میپنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی ہے۔ سیٹلائٹ اور ڈورن ٹیکنالوجی سے جنگلات میں وقوع پذیر تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔ مری اور جھانگا مانگا کے جنگلات کی ہائی ریزولوشن اورتھری ڈی میپنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ مریم نوازشریف نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی سے جنگلات میں تجاوزات کی مانیٹرنگ اور فارسٹ ہیلتھ مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔ جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے تھرمل سینسرکی مدد لی جائے گی۔ جنگلات کی حدود کے تعین کے لیے کمپارٹمنٹ لیول فارسٹ میپنگ کی جارہی ہے۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے فیلڈ سٹاف کی مانیٹرنگ اور انسپیکشن کے لیے موبائل ایپ لانچ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلا ت میں لگنے والی آگ کے بروقت سدباب اور ڈی ٹیکشن انٹیلی جنس سسٹم کوجلد فعال کر دیا جائے گا۔ جنگلات سے متعلق ہنگامی صورتحال کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1084 بھی قائم کر دی گئی ہے۔
چین نے جگر کے کینسر کی پیش گوئی کرنے والا اے آئی ٹول تیار کرلیا

چینی سائنسدانوں نے جگر کے کینسر کی دوبارہ ظاہری کی پیش گوئی کرنے والا جدید ترین اے آئی ٹول تیار کر لیا ہے جس کی درستگی کا تناسب 82.2 فیصد ہے۔ یہ انکشاف حال ہی میں ‘نیچر’ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کیا گیا ہے۔ جگر کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کا تیسرا بڑا سبب ہے اور اس کی آپریشن کے بعد دوبارہ ظاہری کی شرح 70 فیصد تک پہنچتی ہے جو کہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ چینی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کی ٹیم نے ‘ٹائمز’ نامی اسکورنگ سسٹم تیار کیا ہے جو ٹیومر مائیکرو اینوائرنمنٹ میں مدافعتی خلیوں کی تقسیم کے نمونوں کو ماپ کر دوبارہ ظاہری کے امکانات کا اندازہ لگاتا ہے۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا ٹول ہے جو مدافعتی خلیوں کی اسپیشل آرگنائزیشن کو مدنظر رکھتا ہے۔ اس جدید طریقہ کار میں اسپیشل ٹرانسکرپٹومکس، پروٹومکس، ملٹی اسپیکٹرل امونہسٹسٹوکیمسٹری اور اے آئی کی مدد سے اسپیشل تجزیہ شامل کیا گیا ہے۔ اس سسٹم کو 61 مریضوں کے جگر کے کینسر کے ٹشو نمونوں پر تربیت دی گئی ہے۔ محققین نے TIMES کا مفت آن لائن ورژن بھی متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کے مریض اپنے پیتھولوجیکل اسٹریننگ امیجز اپ لوڈ کرکے فوری طور پر دوبارہ ظاہری کا خطرہ معلوم کر سکتے ہیں۔ یہ انقلابی ٹول ڈاکٹروں کو ذاتی نوعیت کے علاج کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گا، خصوصاً جن علاقوں میں جہاں وسائل کی کمی ہے۔ مزید پڑھیں: صارفین کے لیے خوشخبری: فیس بک نے پیسے کمانے کا آسان طریقہ بتا دیا
موت کے آثار: دو خوفناک نشانیاں جو اکثر اہل خانہ کو پریشان کر دیتی ہیں

ایک تجربہ کار امریکی نرس نے انکشاف کیا ہے کہ موت کے قریب مریضوں میں دو انتہائی عام لیکن پریشان کن جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن کے بارے میں اکثر اہل خانہ پہلے سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی جولی میک فڈن پچھلے 15 سالوں سے انتہائی نگہداشت (ICU) اور ہاسپیس کیئر میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ زندگی کے آخری مراحل میں موجود مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ اب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو موت اور مرنے کے عمل کے بارے میں آگاہی فراہم کر رہی ہیں تاکہ اس موضوع کو درپیش معاشرتی بدگمانیوں کو ختم کیا جا سکے۔ اپنے ایک وائرل ویڈیو کلپ میں، جسے 75 ہزار سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جولی میک فڈن نے وضاحت کی کہ مریضوں میں پائی جانے والی ایک اہم مگر پریشان کن تبدیلی کو “Cheyne–Stokes Respiration” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی سانس لینے کا طریقہ ہے، جس میں مریض تیزی سے سانس لینے کے بعد اچانک طویل وقفہ کر لیتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، یہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس کی وجہ سے سانس لینے کا معمول کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ جولی میک فڈن کا کہنا تھا کہ یہ کیفیت بظاہر خوفناک لگتی ہے، مگر حقیقت میں مریض کو کسی قسم کی تکلیف یا گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتی کیونکہ اس وقت وہ مکمل بے ہوشی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ دیکھنے میں بے چینی کا سبب بن سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مریض کو کسی بھی قسم کا درد محسوس نہیں ہوتا۔” اگر مریض کا سانس لینے کا انداز بہت زیادہ دشوار نظر آئے یا وہ بے چینی محسوس کر رہا ہو تو طبی ماہرین دوائیوں کی مدد سے انہیں مزید آرام دہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم، جولی کے مطابق، زیادہ تر مریضوں کے لیے کسی اضافی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ کیفیت مرنے کے عمل کا ایک قدرتی حصہ ہے۔ موت کی کھڑکھڑاہٹ میک فڈن نے موت کے قریب مریضوں میں پائی جانے والی دوسری عام مگر چونکا دینے والی تبدیلی کو “Death Rattle” یعنی “موت کی کھڑکھڑاہٹ” قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ وہ آواز ہوتی ہے جو کسی مرنے والے شخص کے سانس لینے کے دوران سنائی دیتی ہے، جو عام طور پر ‘گیلی، غرغراہٹ جیسی’ ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ آواز سننے والوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ مریض کے لیے کسی قسم کی تکلیف یا گھبراہٹ کا سبب نہیں بنتی۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مرنے والے فرد کا دماغ لعاب نگلنے کے سگنلز دینا بند کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے لعاب دہن (Saliva) منہ میں جمع ہو جاتا ہے اور سانس لینے کے دوران اس سے مخصوص آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔ جولی میک فڈن نے مزید کہا، “یہ موت کا ایک عام اور فطری عمل ہے، لیکن جو لوگ پہلی بار اسے سنتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک خوفناک تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔” سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے جولی میک فڈن کی اس آگاہی مہم کو سراہا اور کہا کہ کاش انہیں پہلے سے اس بارے میں معلوم ہوتا تو ان کے لیے اپنے پیاروں کی موت کے لمحات کو سمجھنا اور برداشت کرنا آسان ہوتا۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، “میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، کاش میں پہلے ہی ان ویڈیوز کو دیکھ لیتا۔ یہ جاننا ضروری ہے تاکہ ہم جذباتی طور پر بہتر طریقے سے سنبھل سکیں۔” دوسری جانب ایک خاتون نے لکھا، “میرے شوہر کا انتقال حال ہی میں ہوا، میں کاش پہلے ہی یہ سب جان چکی ہوتی۔” ایک اور صارف نے کہا، “میرا بھائی حال ہی میں اس مرحلے سے گزرا، یہ ویڈیو دیکھ کر وہ لمحے یاد آ گئے۔ لیکن اب کم از کم میں یہ سمجھ پایا ہوں کہ یہ ایک فطری عمل تھا۔”
ذہنی معذور اور بیمار افراد کی دیکھ بھال کے لیے الخدمت رازی ہسپتال کا منفرد تربیتی کورس

الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مستقل بیمار اور ذہنی معذور افراد کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی تربیتی کورس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کی رجسٹریشن 14 مارچ تک جاری رہے گی، جب کہ اس کا دورانیہ چھ ماہ ہوگا۔ الخدمت رازی اسپتال راولپنڈی میں منعقد ہونے والا یہ تربیتی کورس آن لائن اور آن سائٹ دونوں طریقوں سے کروایا جائے گا، جس کی کلاسز پیر سے جمعہ صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہوں گی۔ کامیابی سے کورس مکمل کرنے والے شرکاء کو ‘ایلڈرلی ہیلتھ کیئر اسسٹنٹ ٹریننگ’ (ای ایچ سی اے ٹی) سرٹیفیکیٹ بھی دیا جائے گا۔ کورس میں داخلے کے لیے امیدوار کا انٹرمیڈیٹ پاس ہونا اور قومی شناختی کارڈ کا حامل ہونا لازمی ہے، جب کہ فیس صرف 5 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ منتظمین کے مطابق کورس میں دلچسپی رکھنے والے افراد 0514906775، 03345808914 پر یا [email protected] پر رابطہ کر کے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ مزید پڑھیں: حافظ نعیم کا’بنو قابل‘ کارواں گوجرانوالا پہنچ گیا، نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کا اعلان الخدمت رازی ہسپتال کے مطابق اس تربیتی کورس کے اب تک 10 ادوار کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ اپنی نوعیت کے منفرد تربیتی کورس کے منتظمین کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد ایسے افراد کی تربیت کرنا ہے، جو معاشرے میں بیمار اور معذور افراد کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں۔
امریکا کی پالیسی تبدیلی سے پولیو کی خاتمے کی کوششوں کو خطرہ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا انتباہ

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لئے مالی معاونت میں کمی سے عالمی سطح پر اس مرض کے مکمل خاتمے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ WHO، یونیسف اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں پولیو کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، مگر امریکا کی امدادی پالیسی میں تبدیلیاں اور فنڈنگ کی کمی نے ان کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ امریکا کی “امریکا فرسٹ” پالیسی کے تحت گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ نے یو ایس ایڈ کے تمام عالمی امدادی پروگرامز میں سے 90 فیصد کی کمی کر دی۔ اس فیصلے کے بعد یونیسف کا پولیو کے لیے مخصوص فنڈنگ گرانٹ بھی منسوخ کر دی گئی، جس سے اس سال 133 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ حمید جعفری، WHO کے مشرقی مدیترانہ علاقے میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اگر یہ مالی کمی جاری رہی تو پولیو کی عالمی سطح پر eradication (مکمل خاتمہ) میں تاخیر ہو سکتی ہے، اور مزید بچے معذور ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہم اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دیگر وسائل تلاش کر رہے ہیں، اور کچھ ترجیحی عملے اور سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لئے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔” تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا ایک بار پھر پولیو کے خلاف اس جنگ میں اپنی مالی معاونت بحال کرے گا۔ افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک میں جہاں پولیو کی وحشی نوعیت ابھی بھی موجود ہے، وہاں کی ویکسینیشن مہمات کو متاثر ہونے سے بچانے کے لئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے 500 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، مگر عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی امداد کا خلا کوئی بھی دوسرا ادارہ نہیں پُر کر سکتا۔ یہ صورتحال ایک اہم چیلنج کا سامنا کر رہی ہے جہاں عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی محنت کو شدید دھچکا پہنچا ہے، اور پوری دنیا کے لیے ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے کہ آیا امریکہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے گا یا نہیں۔ مزید پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فائرنگ سے دو فلسطینی ہلاک، جنگ بندی کے حوالے سے بے چینی بڑھ گئی
ویکسین کے بعد صحت کے مسائل: کیا کووڈ ویکسین سنڈروم واقعی ایک سنگین خطرہ ہے؟

کووڈ ویکسین لگوانے والے متاثرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد ان کی زندگیوں میں شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ ایک نئی ممکنہ حالت جسے ویکسین سنڈروم (پی وی ایس) کے شکار افراد نے کہا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد وہ بے روزگار، بے گھر اور یہاں تک کہ اینٹی ڈپریسنٹس پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ برطانوی ویب سائٹ میل آن لائن کے مطابق مشتبہ متاثرین نے بتایا ہے کہ کووڈ ویکسین لینے کے بعد انہیں دماغی دھند، بے خوابی، ٹنیٹس (کانوں میں مستقل شور سنائی دینا)، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور دیگر پیچیدہ علامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ افراد نے کا کہنا ہے کہ انہیں ویکسین کے فوراً بعد علامات محسوس ہوئیں، جب کہ کچھ کے مطابق یہ اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوئے ہیں۔ ساؤتھ ویلز سے تعلق رکھنے والے ایک متاثرہ شخص نے میل آن لائن کو بتایا کہ وہ اپنی نوکری اور گھر سے محروم ہوگیا ہےاور اسے روزانہ ٹنیٹس اور دورے پڑتے ہیں، چکر آتے ہیں، دماغی دھند کی کیفیت ہوتی ہے اور وہ چلنے یا بولنے میں دشواری محسوس کرتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ یہ سب پی وی ایس سے جڑا ہوا ہے۔ ایک اور متاثرہ شخص نے دعویٰ کیا کہ ویکسین لگوانے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر اس نے ٹنیٹس کی علامات محسوس کرنا شروع کر دیں، جو آج تک برقرار ہیں۔ اس نے مزید کہاکہ اس کے کانوں میں مسلسل ایک نبض جیسی آواز سنائی دیتی ہے، جس نے اس کی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔ متاثرہ شخص کے مطابق اس نے ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے اینٹی ڈپریسنٹس کا استعمال شروع کر دیا، لیکن نیند کی کمی اور بے چینی آج بھی اس کی زندگی کا حصہ ہیں۔ ییل یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ فائزر اور موڈرنا ویکسین کے بعد پیدا ہونے والی علامات کئی سالوں تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سنڈروم کے شواہد ابھی محدود ہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر اکیکو ایواساکی نے کہا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ اس حوالے سے مزید شفافیت ہو، تاکہ متاثرہ افراد کے مسائل کو سمجھا جا سکے۔ دوسری جانب ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ماہر مطابق ویکسین کے ممکنہ ضمنی اثرات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے، لیکن ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ پی وی ایس واقعی ویکسین کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اگر بغیر مکمل ثبوت کے کوئی نتیجہ اخذ کر لیا گیا، تو اس سے عوام کے ویکسین پر اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ برطانوی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ویکسین سے مبینہ طور پر زخمی یا جاں بحق ہونے والوں کے معاوضے کے دعوے 18,500 کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، سخت شرائط کے باعث ان میں سے صرف 200 سے زائد افراد کو معاوضہ دیا گیا ہے۔ ویکسین ڈیمیج پے منٹ اسکیم کے تحت متاثرہ افراد کو 120,000 پاؤنڈ تک کی ادائیگی کی جا سکتی ہے، لیکن صرف ان کیسز میں جہاں فرد کو کم از کم 60 فیصد معذوری ہو چکی ہو۔ اس پیمانے پر نہ آنے والے ہزاروں دعوے مسترد کیے جا چکے ہیں۔ مزید پڑھیں: چین میں کورونا جیسا نیا وائرس دریافت: سائنسدان کیا کہتے ہیں؟ ویکسین بنانے والی کمپنی فائزر کے ترجمان نے کہا ہے کہ مریضوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اوروہ کسی بھی منفی اثرات کی رپورٹس کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ ویکسین کے بعد پیش آنے والے ہر واقعے کو ویکسین سے جوڑنے کے بجائے سائنسی بنیادوں پر پرکھا جائے۔ واضح رہے کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سنڈروم کے شواہد مضبوط نہ ہوئے، تو یہ ویکسین کے خلاف غیر ضروری خوف پیدا کر سکتا ہے، جو مستقبل میں ویکسینیشن مہمات کی کامیابی کو متاثر کرے گا۔
کراچی سمیت صوبے بھر میں 13 مختلف جعلی ادویات فروخت کی جا رہی ہیں، سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا انکشاف

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں 13 مختلف جعلی ادویات مارکیٹ میں کمپنیوں کے ناموں سے فروخت کی جارہی ہیں۔ نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر عدنان رضوی نے بتایا ہےکہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران مختلف ادویات کے 300 سے زائد سمپل ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں، جس میں 13 مختلف ادویات کے سمپل جعلی پائے گئے ہیں، یہ جعلی ادویات اصل کمپنیوں کے ناموں سے مارکیٹ میں فروخت کی جارہی تھیں۔ واضح رہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ جو جعلی ادویات مختلف کمپنیوں کے نام سے مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہیں ان کمپنیوں کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ عدنان رضوی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مارکیٹ میں 7 فارما کمپینوں کے نام سے جعلی ادویات فروخت کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو کراچی سمیت اندرون سندھ میں جعلی ادویات کی سینکڑوں شکایت موصول ہوئی تھی، جس ڈرگ انسپکٹروں نے ڈرگ ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مختلف ادویات کے سپمل حاصل کیے، ان ادویات میں جسم میں درد، مرگی اور ہڈی و پٹھوں کے درد میں استعمال کی جانے والی آئیوڈیکس کے نمونے جب لیبارٹری میں ٹیسٹ کیے تو انکشاف ہوا کہ ان ادویات میں وہ اجزاء شامل نہیں جو درد میں استعمال کی جاتی ہے۔ مزید پڑھیں: ڈیجیٹل ہیلتھ کئیر سنٹرز: اب آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانےکی ضرورت نہیں! ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے متعلقہ ڈرگ انسپکٹروں کو ہدایت کی کہ ادویات پر درج کمپنیوں کے پتوں پر رابطہ کیا جائے، ڈرگ انسپکٹروں کی کاروائی پر انکشاف ہوا کہ یہ کمپنیاں وہاں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ دوسری جانب جب آئیوڈیکس بنانے والی کمپنی سےرابطہ کیا گیا تو کمپنی کے حکام نے بتایا کہ آئیوڈیکس کی مینوفیکچرنگ 2017 کے بعد سے بند ہے، آئیوڈیکس پر مینیوفیکچرنگ کی تاریخ 2024 درج تھی۔ اسی طرح دیگر 13 مختلف ادویات پر درج بیج نمبر، لائنس نمبر اور کمینی کی پتے بھی غلط تھے، جس کے بعد سندھ کے تمام ڈرگ انسپکٹروں کو جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاون کی ہدایت کردی۔ عدنان رضوی نے کہا کہ سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی جانب سے تمام ڈرگ انسپکٹروں کو جعلی ادویات کے خلاف الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی ادویات کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔
مٹی میں پائے جانے والے بیکٹیریا نے آسٹریلیا میں 14 افراد کی جانیں لے لیں

آسٹریلیا میں مٹی میں پائے جانے والے خطرناک بیکٹیریا سے 14 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ بیکٹریا سانس یا خون کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور بیماری پھیلاتا ہے۔ ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر کے مطابق کہ ملیئوڈوسس نامی بیماری مٹی یا کیچڑ میں پائے جانے والے بیکٹیریا سے پھیلتی ہے، عام طور پریہ بیکٹیریا شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ کوئنز لینڈ کے کچھ حصوں میں رواں ماہ 59 انچ سے زائد بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ کوئینز لینڈ ہیلتھ ڈیٹا کے مطابق رواں سال اب تک 94 افراد اس بیکٹیریا سے متاثر ہوچکے ہیں، یہ بیماری سانس کے ذریعے یا خون میں شامل ہو کر پھیلتی ہے۔