اپریل 3, 2025 12:40 شام

English / Urdu

قلعہ دراوڑ: وقت کے نشیب و فراز سے گزرتا ہوا عظمت کا منبع

قلعہ دراوڑ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے صحرائی علاقے چولستان میں واقع ایک تاریخی قلعہ ہے، جو بہاولپور سے تقریباً 130 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قلعہ اپنی مضبوط فصیلوں، شاندار تعمیرات اور وسیع رقبے کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مشہور قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ قلعہ دراوڑ کی بنیاد راجپوت بھٹی حکمران رائے ججہ نے نویں صدی میں رکھی تھی، لیکن بعد میں یہ قلعہ عباسی حکمرانوں کے قبضے میں آگیا۔ 1733 میں نواب محمد مبارک خان عباسی نے اسے فتح کرکے اپنے خاندان کی حکمرانی کا حصہ بنا لیا۔ عباسی خاندان نے اسے اپنی ریاست بہاولپور کے دفاع کے لیے ایک مضبوط قلعے کے طور پر استعمال کیا۔ یہ قلعہ 40 بلند میناروں اور تقریباً 1500 میٹر طویل دیواروں پر مشتمل ہے، جن کی بلندی 30 میٹر تک ہے۔ یہ قلعہ نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے بلکہ چولستان کے ثقافتی ورثے کی علامت بھی ہے۔ ہر سال یہاں چولستان جیپ ریلی سمیت مختلف ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، جو ملک بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ قلعہ دراوڑ کی حالت خستہ ہو چکی ہے، لیکن یہ آج بھی بہاولپور کے تاریخی ورثے کا ایک شاندار نشان ہے، جو ماضی کی عظمت کی عکاسی کرتا ہے۔

عید پر ادھوری خوشیاں: اولڈ ایج ہوم میں اپنوں کے انتظار میں آبدیدہ آنکھیں

عیدالفطر کی خوشیاں ہر کسی کے لیے مسرت اور محبت کا پیغام لاتی ہیں، لیکن بعض افراد کے لیے یہ دن تنہائی اور ماضی کی یادوں میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے اولڈ ایج ہوم میں مقیم بزرگ شہریوں کی عید بھی کچھ ایسی ہی تھی، جہاں انہوں نے اپنے جذبات اور تجربات کا اظہار کیا۔ اس ادارے میں مقیم ایک 68 سالہ بزرگ کا کہنا تھا کہ وہ یہاں تقریباً ڈیڑھ سال سے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے کراچی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے شہر کی آبادی کم تھی، ہر جگہ محبت اور اپنائیت کا ماحول تھا، لیکن وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باپے بڑے ہو گئے تو ناکارہ ہو گئے، ماں بڑی ہو گئی تو اُس کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو گئیں۔ ایک اور بزرگ شہری نے کہا کہ وہ تیرہ سال کی عمر میں ہی نوکری کرنے لگے تھے اور اب اپنے نواسوں اور پوتوں کو بڑا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ والدین سرمایہ ہوتے ہیں اور بچوں کو چاہیے کہ ان کا خیال رکھیں۔ ماں باپ نے آپ کو بچپن میں نہیں پھینکا تو آپ بھی ان کو بڑھاپے میں تنہا نہ چھوڑیں۔ ادارے کی انتظامیہ کے مطابق یہاں رہنے والے بزرگ شہریوں کو عید کے موقع پر خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہیں عید کے روز نئے کپڑے دیے گئے، خصوصی کھانے کا انتظام کیا گیا اور ان کے اہل خانہ کو ملنے کی اجازت دی گئی۔ ایک بزرگ نے بتایا کہ ان کی اہلیہ اور بیٹے ہر عید پر ان سے ملنے آتے ہیں، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے پیارے یاد تک نہیں کرتے۔ ادارے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہاں بزرگ شہریوں کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ انہیں میڈیکل فیسلیٹیز، موسمی ضروریات کے مطابق اشیاء اور روزانہ چیک اپ فراہم کیا جاتا ہے۔ “اگر کسی کو شگر یا بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو تو ان کے ٹیسٹ باقاعدگی سے کیے جاتے ہیں۔” المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے اولڈ ایج ہوم میں مقیم بزرگوں کا کہنا ہے کہ عید کا دن یہاں بھی خوشیوں سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اپنے گھر کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا پیغام تھا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم کو مضبوط کیا جائے اور والدین کو ان کے بڑھاپے میں اکیلا نہ چھوڑا جائے۔

ثوبت: خیبر پختونخوا کا روایتی کھانا، جنوبی پنجاب کی ثقافتی شناخت کیسے بن گیا؟

صوبت، جو خیبر پختونخوا کا ایک روایتی پکوان ہے مگر اب پنجاب میں بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور کھانے کے شوقین افراد کو اپنی منفرد لذت اور ثقافتی اہمیت سے محظوظ کر رہا ہے۔ پشتون cuisine سے تعلق رکھنے والا یہ پکوان ایک اجتماعی طور پر پیش کیا جانے والا کھانا ہے جس میں نرم گوشت اور بھیگے ہوئے روٹی شامل ہوتی ہے، جو مہمان نوازی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جیسے جیسے لوگ اس کی منفرد ذائقہ سے آشنا ہو رہے ہیں، پنجاب میں ریسٹورنٹس اور کھانے کے شوقین افراد اسے اپنی ڈشوں میں شامل کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں علاقوں کے درمیان کھانے کی ایک حسین امتزاج دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مانگ سے پاکستان کی متنوع غذائی ثقافت اور مختلف علاقوں کے پکوانوں کے ذریعے کمیونٹیز کے مابین تعلقات مضبوط ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

علاقائی زبانیں اور قومی اتحاد: عید ہمیں کیسے یکجہتی اور محبت سکھاتی ہے؟

پاکستان میں عید ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب تمام مسلمان اپنے دکھ درد بھلا کر سنت نبوی (ﷺ) کے مطابق عید کے دن خوشی مناتے ہیں۔ پاکستان مختلف علاقوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک ہی ایک ہی دن عید مناتے ہیں جو کہ قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی علامت ہے۔  ہر خطہ اپنے خاص انداز میں عید کی تیاری کرتا ہے اور مختلف روایات کے مطابق خوشیوں کا اظہار کرتا ہے۔ عید کی نماز، تہوار کی رونق یہ سب پاکستانی معاشرت کا حصہ ہیں۔ یہ دن ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

عید کی چھٹیاں: پاکستان میٹرز کا رپورٹر کیسے گھر پہنچا؟ مشکل سفر، یادگار لمحے ہمیشہ کے لیے رہ گئے!

جیسے ہی عید کی آمد آمد ہوتی ہے، ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، لیکن وہ افراد جو اپنے گھروں کو لوٹنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج سفری مشکلات بن جاتی ہیں۔ ٹکٹوں کی عدم دستیابی اور کرایوں میں بے تحاشہ اضافے نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ‘پاکستان میٹرز’ کے رپورٹر عاصم ارشاد کو عید کے لیے لاہور سے بہاولپور کا سفر کرنا پڑا، جہاں انہیں بہت سے مشکلات پیش آئیں۔ سب سے پہلے انہیں ٹکٹ لینے میں دشواری آئی اور پھر ٹکٹ نہ ملی۔ پاکستان میٹرز کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف سیٹ کے حصول میں دشواری ہو رہی ہے بلکہ کرایے بھی دگنے سے زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں۔ چند روز قبل کرایہ 1700 روپے تھا، جو اب 2200 روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح راوی ٹول پلازہ پر بھی کرایوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں معمولی فاصلوں کے لیے بھی اضافی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔ سفر کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ ایک کپ چائے 150 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، جو عام دنوں کے مقابلے میں دگنی قیمت ہے۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور رش کے باعث کرایوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ تاہم، شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور سفری سہولیات کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کے لیے اقدامات کرے۔

الوداع رمضان، کیا عبادتوں کا سلسلہ برقرار رہے گا؟

رمضان رخصت ہو چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقتاً الوداع ہے؟ وہی مہینہ جس میں ہم نے اللہ سے قربت کا سفر طے کیا، وہی راتیں جب آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے گناہوں کی معافی مانگی، وہی دن جب کسی بھوکے کا پیٹ بھرا۔ مگر اب کیا سب ختم ہو گیا؟ رمضان کا نور، وہ عبادات کی روشنی، وہ اللہ سے جڑنے کا احساس… کیا سب عید کی چمک دمک میں کھو جائے گا؟ وہ آنسو جو شب قدر میں بہائے، وہ لمحات جو سجدوں میں گزارے، کیا وہ سب ماضی بن جائے گا؟ ہم نے اس مقدس مہینے میں بھوکوں کی تکلیف کو محسوس کیا، ناداروں کی مدد کی، اللہ کی قربت کو پایا، مگر کیا اب سب بھلا دیا جائے گا؟ کیا اب وہی غفلت، وہی دوری، وہی بے حسی لوٹ آئے گی؟ یہ رمضان محض ایک مہینہ نہیں تھا، بلکہ ایک امتحان تھا، ایک پیغام تھا، ایک دعوت تھی کہ ہم بدل جائیں، کہ ہم بہتر ہو جائیں۔ یہ وقت ہے فیصلہ کرنے کا کہ رمضان کو اپنی زندگی سے جدا مت کریں، بلکہ اسے اپنے دلوں میں زندہ رکھیں۔

زیروویسٹ ڈے: ”ایک دن ہم ہوں گے، وساٸل نہ ہوں گے“

فرض کریں آپ جو کھانا کھاتے ہیں وہ ختم ہوجائے، جس پیٹرول کی مدد سے آپ کی گاڑی چلتی ہے، وہ پیٹرول ختم ہوجائے اور سب سے بڑھ کر دنیا کی سب سے عظیم ترین نعمت پانی بھی آپ کی رسائی میں نہ رہے تو آپ کیا کریں گے۔ ہماری زمین ماحولیاتی تبدیلی کا شدت سے سامنا کر رہی ہے۔ اس اثنا میں ہمارے قدرتی وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔زیرو ویسٹ ڈے ان محدود وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے اور وسائل کا تحفظ کرنا سیکھاتا ہے۔ زیرو ویسٹ ڈے ہر سال 30 مارچ کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد فضلہ کم کرنے، ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ اور پائیدار طرز زندگی کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ زمین کے قدرتی وسائل محدود ہیں اور ہمیں انہیں دانشمندی سے استعمال کرنا چاہیے۔ زیرو ویسٹ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کے معمولات میں ایسی تبدیلیاں کریں جن سے کچرا کم سے کم پیدا ہو۔ اس میں دوبارہ قابل استعمال اشیاء کو اپنانا، ری سائیکلنگ کو فروغ دینا، خوراک کے ضیاع سے بچنا اور پلاسٹک جیسے نقصان دہ مواد کا استعمال کم کرنا شامل ہے۔ اس دن کو منانے کے لیے مختلف ممالک میں آگاہی مہم چلائی جاتی ہیں، جس میں تعلیمی سیمینار، صفائی مہم اور پلاسٹک فری اقدامات شامل ہوتے ہیں۔ ہر فرد اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے اس مہم کا حصہ بن سکتا ہے، جیسے کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری اشیاء کی خریداری سے گریز کرنا اور گھریلو فضلہ کو کم سے کم کرنا۔ زیرو ویسٹ ڈے کا مقصد صرف ایک دن کی مہم نہیں بلکہ ایک ایسے طرز زندگی کو فروغ دینا ہے جو ماحول کے لیے محفوظ اور مستقبل کی نسلوں کے لیے بہتر ہو۔

مہنگائی نے عید کی خوشیاں چھین لیں

عید قریب آتے ہی ملک بھر کے بازاروں میں خریداری کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، تاہم اس بار مہنگائی اور آن لائن شاپنگ کے رجحان نے روایتی بازاروں کی رونق کو متاثر کیا ہے۔ لاہور کے اچھرہ بازار میں دکانداروں اور خریداروں نے مہنگائی کے اثرات اور بدلتے خریداری کے رجحانات پر ‘پاکستان میٹرز’ بتایا کہ آن لائن شاپنگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹوں میں وہ پہلے جیسا رش نظر نہیں آ رہا۔ ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ پہلے 70 فیصد خریدار مارکیٹ میں آتے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 60 فیصد رہ گئی ہے۔ ایک اور دکاندار نے بتایا کہ آن لائن خریداری میں سہولت زیادہ ہے، لوگ گھر بیٹھے چیزیں منگوا لیتے ہیں، لیکن بازار آ کر چیزوں کو خود دیکھنے اور پسند کرنے کا مزہ الگ ہی ہوتا ہے۔ دوسری جانب خریداروں کا کہنا تھا کہ اس سال عید کی خریداری پر مہنگائی کے سائے گہرے ہیں، کئی افراد محدود بجٹ میں خریداری کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک خاتون خریدار نے شکایت کی کہ ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے، پہلے جو شاپنگ آسانی سے ہو جاتی تھی، اب اسے مکمل کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ تاجر برادری بھی مہنگائی کے اثرات سے پریشان ہے اور آن لائن کاروبار کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ ہم انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پر اپنے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہک ہم تک پہنچ سکیں۔” اگرچہ آن لائن خریداری بڑھ رہی ہے، مگر بازاروں میں اب بھی ایسے افراد موجود ہیں جو چوڑیوں، جیولری، مالا، پونی، ہیئر بینڈ، بریڈل سیٹ اور دیگر عید کی اشیاء خریدنے کے لیے مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ پاکستان میٹرز کے مطابق بدلتے ہوئے رجحانات کے باوجود بازاروں میں عید کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔ آن لائن خریداری کے فوائد اپنی جگہ مگر بازاروں میں خریداری کی روایت اب بھی زندہ ہے۔

عید پر سفر: مشکلات کی منزل یا خوشیوں کا راستہ؟

عید مسلمانوں کے لیے خوشیوں، محبتوں اور خاندانی ملاپ کا تہوار ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کے لیے بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ عید کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفر کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بسوں، ٹرینوں اور دیگر سفری ذرائع پر بے پناہ رش، ٹکٹوں کی عدم دستیابی اور کرایوں میں بے تحاشا اضافہ عام شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس سال بھی عید پر یہی صورت حال دیکھنے میں آئی اور عوام کو سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ عید کے موقع پر ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہری سخت پریشان ہیں۔ مسافروں نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا کہ بس ٹکٹوں کے نرخوں میں 500 سے 1000 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے، جو عوام پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ ایک مسافر کا کہنا تھا کہ اگر سروس بہتر ہو تو ٹھیک ہے، لیکن اچانک کرایے بڑھا دینا عوام پر ظلم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کرے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مسافروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے بسوں اور ٹرینوں کی ٹکٹیں جلدی فروخت ہو گئیں۔ جو لوگ پہلے سے بکنگ کروا چکے تھے، انہیں تو ٹکٹ مل گئے، لیکن جو آخری دنوں میں آئے، انہیں بلیک میں مہنگی ٹکٹیں خریدنی پڑیں۔ کچھ شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار چکر لگائے، لیکن ٹکٹ نہیں ملی۔ آخرکار ایک جاننے والے نے اپنی پہلے سے خریدی گئی ٹکٹ مہنگے داموں ہمیں دے دی۔” عید کے سفر میں بدنظمی، مہنگائی اور رش نے عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے پہلے سے منصوبہ بندی کریں تو عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

لاہور سے آبائی گھر واپسی: ’دن میں تارے نظر آگئے‘

عید پر لاہور سے آبائی گھروں کو جانے والے پردیسی ٹرانسپورٹرز کے ہاتھوں لوٹے جارہے ہیں، اچانک سے کئی گنا کرایہ بڑھا دیا گیا ہے۔ ایک مسافر نے بتایا کہ اچانک سے 500 روپے تک کرایہ بڑھادیاگیا جو ظلم ہے، قیمتوں میں اضافے کو تب روکا جاسکتا ہے جب حکومت اپنی ٹرانسپورٹ ہوگی۔ انڈیا ہم سے اس لیے بہتر ہے کہ ان کی اپنی کمپنیاں ہیں۔ لاہور سے میلسی جانے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ مجھے پورے پیسوں میں ٹکٹ ملا ہے، بہت دشواری ہوئی ہے، پہلے ٹکٹ ہوجاتی تو اچھا ہوتا۔ یہاں بلیک میں ٹکٹس مل رہے ہیں ۔ ایک اور مسافر نے بتایا کہ ٹکٹ لینا انتہائی مشکل مرحلہ تھا۔ دن میں تارے نظر آگئے ہیں ۔