لیڈی پولیس بائیک سکواڈ، پہیوں پر جرائم کے خلاف جنگ

پنجاب حکومت نے عیدالفطر کے دوران بازاروں میں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے خواتین پر مشتمل بائیک اور سائیکل اسکواڈ تشکیل دے دیا ہے۔ اس اسکواڈ کا مقصد شہریوں، خصوصاً خواتین کو جرائم پیشہ عناصر سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکواڈ بازاروں اور عوامی مقامات پر تعینات ہوگا اور چوری، جیب تراشی، ہراسمنٹ اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے کارروائی کرے گا۔ پولیس کے مطابق، اسکواڈ کو فوری رسپانس، پیٹرولنگ اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ عید کے دنوں میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن پر دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے
پاکستان میٹرز اسپیشل: ترکیہ میں احتجاج کیوں، قصوروار کون، اصل معاملہ کیا ہے؟

استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی ہفتہ بھر قبل گرفتاری کے بعد سے ترکیہ میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ کوئی ان مظاہروں کو بڑا تو کوئی بہت بڑا قرار دیتا ہے۔ اردوان مخالفین، اپوزیشن رہنما کے خلاف کارروائی کو سیاسی انتقام جب کہ حکومت اسے کرپشن کے خلاف عدلیہ کا اقدام کہتی ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں کے نتیجے میں جہاں تاریخی مسجد کی بےحرمتی کی گئی، تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے وہیں 1100 سے زائد افراد گرفتار ہیں۔ ترک اداروں نے احتجاج سے امریکی اور دیگر غیرملکی شہریوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج سے ربط رکھنے والے ایک امریکی شہری کو ترکیہ بدر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ترکیہ میں احتجاج کی اصل وجہ کیا، اپوزیشن رہنما کا قصور کتنا، ترک صدر اردوان کس مشکل میں ہیں اور دیگر موضوعات پر ’پاکستان میٹرز‘ کے خصوصی نشریہ میں سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ انقرہ سے ترک صحافی مہمت اوزترک، پاکستان سے ترک امور کے ماہر اور ترکیہ اردو کے ایڈیٹر حافظ محمد احسان، ایڈیٹرپاکستان میٹرز شاہد عباسی نے شرکت کی ۔ مہمت اوز ترک نے کہا کہ ترکیہ ایک جمہوری ملک ہے اور پر امن احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے، لیکن اس وقت ترکیہ میں جو بھی ہو رہا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ مہمت اوزترک کے مطابق استبول کے میئر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کے دعوی کے برعکس اصل معاملہ کچھ اور ہے، حقیقت میں اس معاملے کا آغاز صدر اردوان نے نہیں بلکہ خود اکرم امام اوغلو کی جماعت کے لوگوں کی شکایت پر ہوئی تفتیش سے ہوا ہے۔ ترکیہ میں احتجاج کے مختلف پہلو ‘پاکستان میٹرز’ کی حالیہ ایپیسوڈ میں دیکھیں اور اس موضوع پر اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں ہم سے شیئر کریں۔
ٹرمپ کا ٹیرف کیا ہے؟

ٹیرف ایک قسم کا درآمدی ٹیکس ہوتا ہے جو کسی ملک میں بیرون ملک سے آنے والی اشیاء پر لگایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مقامی صنعتوں کو تحفظ دینا، تجارتی خسارہ کم کرنا یا بعض ممالک پر اقتصادی دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی اس پالیسی کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ جب وہ 2016 میں صدر بنے تو انہوں نے چین، یورپی یونین، میکسیکو اور کینیڈا جیسے ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے۔ اس وقت بھی ان کا مؤقف یہی تھا کہ زیادہ ٹیرف لگانے سے امریکی معیشت کو فائدہ ہوگا کیونکہ لوگ مقامی مصنوعات خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ 2025 میں دوبارہ امریکی صدر بننے کے بعد وہ پھر سے اسی پالیسی پر زور دے رہے ہیں۔ اس کا ایک مقصدیہ بھی ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو کم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی معیشت کو فائدہ ہوگا اور ملازمتوں کو تحفظ ملے گا۔ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں انہوں نے تمام ممالک پراسٹیل اور ایلومینیم درآمد کرنے پر 25 فیصد ٹیرف لگایا ہے۔ اس کے علاوہ میکسیکواور کینیڈا پر سوائے توانائی کی مصنوعات کے تمام اشیا پر25 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔ امریکا نے نے چین کی مصنوعات پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد چین سے آنے والی منشیات، خاص طور پر فینٹینائل، کی روک تھام تھا۔ امریکا کے اس اقدام کے بعد کچھ ممالک نے امریکا پر جوابی ٹیرف لگایا ہے۔ جس میں چین، میکسیکو، کینیڈا اور یورپین یونین شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ٹیرف بڑھانے سے درآمد شدہ اشیاء مہنگی ہو جائیں گی، جس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا۔ بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی تجارتی پالیسیاں عالمی معیشت پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں اور دیگر ممالک سخت جوابی اقدامات کر سکتے ہیں۔
بس فون اٹھائیں، کال ملائیں اور انصاف پائیں

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ‘اینٹی کرپشن ہاٹ لائن’ کا قیام کیا گیا ہے اپنے حق کے لیے اینٹی کرپشن کے( 03264442444) اس نمبر پر کال کریں اور اپنا انصاف حاصل کریں۔ یہ نمبر یاد رکھیں اور ہر لمحہ اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ سے کوئی بھی رشوت مانگے، کوئی بھی انصاف میں رکاوٹ ڈالے، یا پھر کوئی بھی آپ کا حق دبانے کی کوشش کرے تو فوراً فون اٹھائیں اور اس نمبر پر اطلاع دیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ “نظام عدل میں تیز ترین انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے”۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ پچھلے پانچ ماہ میں سات ہزار 633 نئے کیس دائر ہوئے لیکن حیرت انگیز طور پر 11 ہزار 779 کیسز کے فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ انصاف کی مشینری اب پہلے سے کہیں زیادہ برق رفتاری سے کام کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ نئے ججوں کی تقرری کے بعد یہ رفتار مزید تیز ہو جائے گی۔ یہ ہاٹ لائن صرف ایک نمبر نہیں، یہ انصاف کی آواز ہے۔ یہ عدلیہ میں احتساب کا نیا معیار ہے۔ یہ عوام کے حقوق کی جیت ہے۔
ماہ رنگ بلوچ کے آنسو سچ یا میڈیا اسٹنٹ؟

آنسوؤں اور آہوں میں ڈوبی ایک ویڈیو وائرل ہے، یہ ویڈیو ماہ رنگ بلوچ کی ہے، ماہ رنگ جو کہہ رہی ہے کیا وہ سچ ہے یا محض سوشل میڈیا سٹنٹ؟ کیا ہارڈ سٹیٹ ایسے بیانات اور ویڈیوز کا ردعمل ہے یا کہانی کچھ اور ہے؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں ناظرین۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تاریخ دہائیوں سے موجود ہے۔ بلوچستان میں کئی رہنماؤں نے اس پر آواز بلند کرنے کی کوشش کی۔ لیکن کچھ کے ہونٹ سی دیے گئے جب کہ کچھ لاپتہ ہوگئے۔ ماہ رنگ بلوچ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک انسانی حقوق کی کارکن ہیں جو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کے والد، عبد الغفار لانگو، کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے رکن تھے، جو 2009 میں لاپتہ ہوئے اور 2011 میں ایک کارروائی میں مارے گئے۔ ماہ رنگ بلوچ نے 2023 میں بلوچستان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا، اس مارچ کے شرکا نے شہر اقتدار میں دھرنا دیا۔ مارچ کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا بتایا گیا۔ پچھلے دنوں ماہ رنگ بلوچ اپنے ساتھیوں کے ساتھ احتجاج کر رہی تھی کہ پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 3 افراد جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے ماہ رنگ بلوچ کو گرفتار کر لیا اور کوئٹہ جیل منتقل کر دیا۔ اس واقعہ کا ہونا تھا کہ بلوچستان میں مظاہرے پھوٹ پڑے، انتظامیہ کو شہر بند کرنے پڑے اور مظاہرین کو بزورطاقت روکنا پڑا۔ یہ مظاہرین تو نہتے ہیں پھر اتنی سختی کیوں؟ کیا ان کا تعلق بھی پہاڑوں پر آباد شرپسندوں سے ہے؟ بلوچستان میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ان واقعات میں پنجابی مزدوروں کا قتل کیاجاتا ہے۔لیکن ماہ رنگ بلوچ سے کیے جانے والے سوال میں انہوں نےاس کی مذمت تک نہ کی۔ ایک طرف تو ماہ رنگ اپنے لاپتہ افراد کے لیے جدوجہد کرتی نظرآتی ہیں تو دوسری جانب وہ دہشت گرد حملوں میں مارے جانے والے معصوم پنجابیوں اور فورسز کے جوانوں کی موت پر خاموش۔ یہ خاموشی، پراسرار خاموشی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی وہ بلوچستان کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جن کے خلاف وہ جدوجہد کر رہی ہیں اصل میں یہ خود بھی انہی کی کارندہ ہیں۔ اور بلوچ عوام کے سامنے ایک ہیروئن کے طور پر نظر آرہی ہیں۔ ماہ رنگ کو وہاں سے پذیرائی مل رہی ہے جن کو پاکستانیوں کی اکثریت دشمن سمجھتی ہے۔ بظاہر ماہ رنگ بلوچ کا مقصد بلوچ قوم میں شعور بیدار کرنا اور انہیں متحد کرنا ہے، مگر ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں اور ان کے سرٹیفکیٹس سے لگتا ہے کہ یہ آنسومگر مچھ کے آنسو ہیں۔ کیا آپ کا بھی یہی خیال ہے؟
ایدھی ایمبولینس: رمضان اور عید کے گمنام ہیروز

ایدھی ایمبولینس سروس ضرورت مندوں کے لیے ایک لائف لائن ہے، جو رمضان، عید اور اس کے بعد انتھک کام کرتی ہے۔ ان کے سرشار ملازمین اس بات کو یقینی بناتے ہوئے چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں کہ وقت یا موقع سے قطع نظر ہنگامی طبی امداد لوگوں تک پہنچ جائے۔ چاہے حادثات کا جواب دینا ہو، مریضوں کو منتقل کرنا ہو یا پھر انسانی امداد فراہم کرنا ہو، ان کی بے لوث خدمت ہمدردی کے حقیقی جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ تہوار کے اوقات میں انسانیت کے لیے ان کی وابستگی غیر متزلزل رہتی ہے،جو یہ ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کی خدمت احسان کا سب سے بڑا عمل ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے اپنے مشن کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔کوئی ایمرجنسی ہو یا پھر بم دھماکا ہو، سب سے پہلے جائے وقوعہ پر ایدھی ہی پہنچتی ہے۔ اس کے ملازمین کو انسانیت کی خدمت کرنے سے خوشی ملتی ہے اور وہ بے لوث ہوکر خدمت کرتے ہیں، اس بات سے بالاتر ہوکر کہ فلاں کون ہے اور فلاں کون ہے۔ ان کا مقصد ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔
انڈین سفیر کا اقوام متحدہ میں پاکستان پر الزام: جھوٹا دعویٰ یا حقیقت؟

انڈیا نے ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر پاکستانی دعووں کو ‘غیر ضروری اور غیر قانونی’ قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب پروتھانینی ہریش نے پاکستانی مندوب کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے دیے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انڈین سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مندوب کا بار بار کشمیر کا حوالہ دینا نہ تو اس کے ‘غیر قانونی دعووں’ کو درست ثابت کرتا ہے اور نہ ہی ‘ریاستی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی’ کا کوئی جواز پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے اسلام آباد کو دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول پیدا کرنا ہوگا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات ممکن ہو سکیں۔ مزید پرھیں: بنگلہ دیش سے بڑھتے پاک-چین تعلقات سے انڈیا خوفزدہ دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اقوام متحدہ میں ‘بین الاقوامی امن اور سلامتی کی بحالی’ کے موضوع پر بحث کے دوران طارق فاطمی نے کہا کہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور حتمی حل کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ اس کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو یقینی بنائے اور جموں و کشمیر تنازعے کے منصفانہ اور دیرپا حل کو فروغ دے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کیا جائے۔
کراچی کے ’آدم خور‘ ڈمپرز ڈراؤنا خواب بن گئے

سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ دو لاشیں، بکھرے ہوئے انسانی اعضاء اور شہری کے ہاتھ میں دم توڑتا نومولود، یہ مناظر کسی جنگ زدہ علاقے کے نہیں تھے، بلکہ عروس البلاد کراچی کی مصروف شاہراہ ملیر ہالٹ پر پیش آنے والے اندوہناک ٹریفک حادثے کے تھے ، جس میں عبدالقیوم اس کی اہلیہ اور نومولود کو آدم خور واٹر ٹینکر نے تیز رفتاری کے باعث کچل دیا تھا۔ موٹر سائیکل سوار شاہ فیصل کالونی کے علاقے ناتھا خان کا 26 سالہ رہائشی عبدالقیوم اپنی حاملہ اہلیہ کے ہمراہ ہسپتال سے واپس گھر جارہا تھا، جہاں ملیر ہالٹ بریج کے سامنے انہیں رانگ سائڈ سے آتے ہوئے تیز رفتار واٹر ٹینکر نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ 24 سالہ زینب نے زخمی حالت میں بچے کو جنم دیا، جس کے بعد شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نومولود کو قریبی ہسپتال میں فوری طبی امداد کے لیے بھیجا۔ زخمی والدین کو فوری طور پر جناح ہسپتال روانہ کیا گیا، مگر بدقسمتی کے ساتھ وہ دونوں دم توڑ گئے۔ پولیس نے موقع پر ہی ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کو ڈرائیور کے پاس سے لائسنس نہیں مل سکا، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ لوگوں کو ڈمپر اور ٹینکر کی تیز رفتاری کے باعث موت کے گھاٹ اتارنے والے ڈرائیوروں کے پاس گاڑی چلانے کا لائسنس بھی موجود نہیں ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے لواحقین کا کہنا ہے کہ ’ڈرائیور اور ٹینکر مالکان کو سخت سزا دی جائے، یہ ہماری خوشیوں کے قاتل ہیں، عید سے قبل گھر میں صف ماتم بچھ گئی ہے‘۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ویڈیو نے دل دہلا دیے ہیں، سوشل میڈیا پر ہیوی ٹریفک اور ڈمپر مافیا کے خلاف منظم مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پولیس اور صوبائی انتظامیہ کو ان حادثات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس دلخراش حادثے کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا تھا کہ ’ڈمپر موت بانٹ رہے ہیں اور حکومت سو رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اس حوالے سے سارے دروازے کھٹکھٹائے ہیں، ہم نے اس پر سفارشات بھی پیش کی ہیں، مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ناردرن بائی پاس پر ہیوی ٹریفک کیوں نہیں جاتی؟ حکومت بے حس ہے ان میں حس موجود نہیں ہے، حکومت زخمیوں کے علاج کے لیے کوئی میکینزم بنائے۔ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس ٹینکرز و ڈمپرز کے ڈرائیوروں کو لگام دینے اور شہریوں کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑے گی، منگل کی شام ملیر ہالٹ پر ڈمپر مافیا کے خلاف احتجاج کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی شارق جمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹریفک قوانین کے حوالے سے ترمیم بھی جمع کروائی ہے، مگر صوبائی حکومت صرف دلاسے دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ڈمپر اور ٹینکر کی وجہ سے انسانی جانوں کی ہلاکت لسانی نہیں انسانی مسئلہ ہے، جسے کچھ لوگ تعصب کی ہوا دے رہے ہیں جو کہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ شارق جمال نے کہا ہے کہ اصل ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، وہ قانون پر عمل کروائے، شہر میں واٹر ٹینکر دن دیہاڑے دندناتے پھر رہے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ پولیس رشوت لے کر ہیوی ٹریفک کو سڑکوں پر چھوڑ دیتی ہے اور یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شارق جمال نے مزید کہا کہ عوام میں ان حادثات کو لے کر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جو کہ جائز بھی ہے۔ شہر میں ہونے والے ہر پر امن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں انتشار نہ ہو کیونکہ پولیس قانون توڑنے والوں کے خلاف توکارروائی نہیں کرتی مگر احتجاج کرنے والوں کو فوری گرفتار کرلیتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اس حوالے سے اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر راجہ اظہر نے اس المناک حادثے کا ذمہ دار ڈی آئی جی ٹریفک اور صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے ان قاتل ٹینکروں اور ڈمپروں کو بھاری بھتوں کے عوض کراچی جیسے ہیوی ٹریفک والے شہر میں دن دہاڑے آزاد گھومنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کے پاس اس ہیوی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی پلان نہیں، ٹریفک پولیس کا کام صرف رشوت لینا رہ گیا ہے۔ دن کے اوقات میں ڈمپرز، ٹینکرز اور بڑی گاڑیوں کا شہر میں داخلہ بند کیا جائے، ورنہ پھر عوام کو لے کر سڑکوں پر آئیں گے۔ سندھ حکومت نے عوام کو مرنے کے لیے چھوڑدیا ہے، ٹیکس کے پیسوں سے آپ عیاشیاں کرتے ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ ٹریفک قوانین اور بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر سزاؤں کے حوالے سے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹریفک قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کروانا ضروری ہے۔ ایڈووکیٹ عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے مختلف سیکشن کے تحت گاڑیوں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ اگر ڈرائیور کے پاس لائسنس موجود ہے اور کسی بداحتیاطی کے سبب کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو آرٹیکل 320 قتل خطا کے تحت دس سال قید اور دیت کی سزا دی جائے گی، جب کہ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں 322 قتل بالسبب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا، جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے متعین کردہ دیت کی رقم دینا لازم ہوگی۔ رواں سال میں ہیوی ٹریفک کی وجہ ہلاک ہونے کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی ملینیم مال گلستان جوہر کے علاقے میں تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے میاں اور بیوی سمیت دو افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے تھے، جب کہ ملیر ہالٹ کے مقام پر تیز رفتار ڈمپر
ظلمت سے ضیاء تک، حبیب جالب ایک شاعر یا تحریک؟

“آج 24 مارچ ہے، وہ دن جب عوامی شاعر، انقلابی سپاہی اور بغاوت کا استعارہ حبیب جالب پیدا ہوا۔ وہ شاعر جس نے نہ صرف الفاظ سے انقلاب برپا کیا, بلکہ ہر آمر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا۔ آج بھی جب کوئی ناانصافی کے خلاف بولتا ہے، تو جالب کی آواز خود بخود گونجنے لگتی ہے کہ ‘تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا۔۔۔۔اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا!”۔ حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جب پاکستان بنا، تو وہ بھی لاکھوں مہاجروں کے ساتھ لاہور پہنچے۔ ایک چھاپہ خانے میں کام شروع کیا، مگر دل ہمیشہ لفظوں کی بغاوت میں دھڑکتا رہا۔ یہاں سے ایک عوامی شاعر کی پیدائش ہوئی، وہ شاعر جس نے اقتدار کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ ایوب خان کے مارشل لا کے دوران جب انہوں نے یہ نظم کہی، ‘ایسے دستور کو، صبح بے نور کو۔۔۔۔میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔’ تو ہر زبان پر یہی الفاظ تھے۔ حبیب جالب نے ہر آمر کے خلاف قلم اٹھایا۔ ایوب خان کے خلاف بولے، یحییٰ خان کو للکارا، بھٹو کے عدالتی قتل پر خاموش نہ رہے اور ضیاء الحق کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے، ظلمت کو ضیاء، صر صر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا۔’ ہر بار انہیں جیل میں ڈالا گیا، مگر ہر بار وہ پہلے سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ نکلے۔ ان کے لیے شاعری صرف لفظوں کا کھیل نہ تھا، بلکہ یہ ایک تحریک تھی، ایک جنگ تھی، جو آج بھی جاری ہے۔ حبیب جالب نے عوام کے لیے سب کچھ دیا، مگر ان کے اپنے آخری دن بیماری اور غربت میں گزرے۔ 12 مارچ 1993 کو وہ دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر کیا وہ واقعی چلے گئے؟ جب بھی کوئی حکمران عوام کے حق پر ڈاکا ڈالتا ہے، جب بھی کوئی جابر قانون بنتا ہے، تو جالب کی نظمیں زندہ ہو جاتی ہیں۔ وہ شاعر جو مرنے کے بعد بھی حکمرانوں کے لیے ایک خوف کی علامت ہے۔’یہ جو دس کروڑ ہیں۔۔۔جہل کا نچوڑ ہیں۔’
انکرپشن اور ڈِکرپشن: ڈیٹا کو محفوظ بنانے کا جدید طریقہ

انکرپشن اور ڈِکرپشن جدید دنیا میں معلومات کے تحفظ کے بنیادی طریقے ہیں جو ڈیجیٹل کمیونیکیشن، بینکنگ، آن لائن ٹرانزیکشنز اور حساس ڈیٹا کو غیر مجاز رسائی سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انکرپشن ایک ایسا عمل ہے، جس میں کسی بھی قسم کے ڈیٹا (جیسے پیغامات، فائلز، پاسورڈز یا دیگر معلومات) کو ایک خاص الگورتھم کی مدد سے خفیہ کوڈ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس کوڈ کو صرف وہی شخص یا سسٹم پڑھ سکتا ہے، جس کے پاس مخصوص ڈِکرپشن کی (Key) موجود ہو۔ اس کا مقصد حساس معلومات کو غیر متعلقہ افراد، ہیکرز اور سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ ڈِکرپشن انکرپشن کا الٹا عمل ہے، جس میں خفیہ کوڈ شدہ ڈیٹا کو دوبارہ اصل شکل میں بدلا جاتا ہے تاکہ اسے قابلِ فہم اور استعمال کے قابل بنایا جا سکے۔ یہ عمل اس وقت ضروری ہوتا ہے، جب کسی محفوظ شدہ معلومات کو دوبارہ قابلِ مطالعہ بنایا جائے۔ انکرپشن حساس معلومات کو غیر مجاز رسائی اور ہیکرز سے محفوظ رکھتا ہے، صارفین کی ذاتی معلومات کو غیر متعلقہ افراد سے بچاتا ہے۔ انٹرنیٹ بینکنگ، کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز اور دیگر مالی لین دین کو محفوظ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ہیکرز، ڈیٹا لیکس اور میلویئر حملوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے، ای میلز، پیغامات اور دیگر آن لائن کمیونیکیشن چینلز کو غیر مجاز رسائی سے بچاتا ہے۔ انکرپشن جدید دنیا میں سیکیورٹی کے لیے ایک ناگزیر ٹیکنالوجی بن چکی ہے، جو نہ صرف عام صارفین بلکہ کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔