ٹرمپ کی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بھی تجارتی جنگ، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد

ڈونلڈ ٹرمپ نےامریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی 29 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کرکے تجارتی جنگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکا کو درآمد کی جانے والی زیادہ تر اشیا پر 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ ساتھ حریفوں سے لے کر اتحادیوں تک درجنوں ممالک پر زیادہ ڈیوٹی لگانے کے ٹرمپ کے فیصلے نے عالمی تجارتی جنگ کو تیز کر دیا ہے جس سے افراط زر کو روکنے خدشہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد اور غیرملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ یورپی یونین پر 20 فیصد، چین پر 34 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بھارت پر 26 فیصد اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ امریکی صدر کا کہنا تھاکہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بنگلا دیش پر 37 فیصد ٹیرف عائدہوگا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ باہمی محصولات امریکی اشیا پر عائد ڈیوٹیوں اور دیگر نان ٹیرف رکاوٹوں کا جواب ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ نئے لیویز سے گھر پر مینوفیکچرنگ کی ملازمتوں کو فروغ ملے گا۔ بیرونی ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ محصولات عالمی معیشت کو سست کر سکتے ہیں، کساد بازاری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں اور اوسط امریکی خاندان کے لیے زندگی کے اخراجات ہزاروں ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں۔ کینیڈا اور میکسیکو، امریکہ کے دو سب سے بڑے تجارتی شراکت دار، پہلے ہی بہت سے سامان پر 25فیصد محصولات کا سامنا کر رہے ہیں اور گزشتہ روز کے اعلان سے انہیں اضافی محصولات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،حتیٰ کہ کچھ ساتھی ریپبلکنز نے بھی ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کا احتجاجی تحریک کو نئے مرحلےِ میں داخل کرنے کا اعلان

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا اعلان کریں گے، کیونکہ ان کے احتجاج کو چھ دن مکمل ہو چکے ہیں اور حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی۔ بی این پی (مینگل) نے گزشتہ جمعہ کو بلوچستان یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں، بشمول ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ کی گرفتاریوں اور کوئٹہ میں ان کے دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ یہ دھرنا اس وقت لکپاس میں جاری ہے، جہاں صوبائی حکومت کے وفد نے مذاکرات کے لیے سردار اختر مینگل سے ملاقات کی، تاہم وہ انہیں احتجاج ختم کرنے پر قائل نہ کر سکے۔ مذاکراتی وفد میں ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور سردار نور احمد بنگلزئی شامل تھے۔ بدھ کے روز سردار اختر مینگل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اعلان کیا کہ وہ 3 اپریل کو شام 5 بجے احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے بھیجے گئے وفد کو آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا، بلکہ وہ محض پیغام رساں تھے، جبکہ اصل طاقت ان کے پاس ہے جو حقیقت میں بلوچستان کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مینگل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں بے اختیار مذاکرات کے ذریعے گمراہ کر سکتے ہیں، تو انہیں اپنی غلط فہمی کا جلد احساس ہو جائے گا۔ ایک اور بیان میں انہوں نے بلوچستان میں انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے پورے بلوچستان میں موبائل نیٹ ورکس اور گھریلو وائی فائی سروسز بند کر دی گئی ہیں، جس کا واحد مقصد مظلوموں کی آواز کو دبانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کو، جو دھرنے میں شرکت کے لیے آرہے تھے، راستے میں ہی روک لیا گیا۔ مینگل کے مطابق حکومت کی جانب سے دھرنے کو محدود کرنے کے لیے مزید خندقیں کھودی گئی ہیں، اضافی کنٹینر لگا دیے گئے ہیں اور مزید سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت جتنا دباؤ بڑھائے گی، اتنا ہی وہ مزید بدنام ہو گی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور قافلے جمعہ کی صبح 9 بجے وڈھ سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ 26 مارچ کو، جب بی این پی (مینگل) نے دعویٰ کیا کہ مستونگ کے قریب پولیس کارروائی میں اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تو اسی دن سردار اختر مینگل اور ان کے ساتھی ایک خودکش حملے میں بال بال بچ گئے۔
صدر آصف علی زرداری کورونا میں مبتلا ،ڈاکٹرز کی اکیلے رہنے کی ہدایت

صدر آصف علی زرداری کا کووڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔ بدھ کے روز صدر ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ بیان میں تصدیق کی گئی کہ صدر زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں کووڈ-19 کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹر حسین نے بتایا کہ صدر زرداری کو آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر حسین کے مطابق “طبی ٹیم صدر زرداری کی حالت کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے لیے 24 گھنٹے نگرانی کر رہی ہے۔” صدر زرداری کو صحت کی شکایات کے بعد نوابشاہ سے کراچی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری 4 اپریل کو ہونے والے جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔ڈاکٹرز کی جانب سے صدر زرداری کو صحت کی وجوہات کی بنا پر مسلسل آرام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے اس خبر کی تردید کی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر زرداری کو علاج کے لیے دبئی منتقل کیا جا رہا ہے۔ میمن نے کہا کہ صدر کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور وہ جلد مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فون کے ذریعے صدر زرداری سے بات کی، ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں دیں۔ سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے بھی ڈاکٹر حسین سے رابطہ کیا، اپنی تشویش کا اظہار کیا اور صدر کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
افغان شہریوں کے انخلا کا عمل تیز، خفیہ اطلاعات پر 60 افغانی گرفتار

ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں کی واپسی کے حکومتی منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس مرحلے میں افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے تحویل میں لینے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران مجموعی طور پر 60 افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والے افغان شہریوں کو جلد ہی افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔ دوسری جانب حکومت نے پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کو 30 جون تک ملک میں قیام کی مہلت دی ہے، جس کے بعد ان کے مستقبل کے حوالے سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جن میں ترنول، بھارہ کہو، غوری ٹاؤن اور میرا آبادی شامل ہیں۔ ان علاقوں سے مجموعی طور پر 22 افغان شہریوں کو تحویل میں لیا گیا۔ اسی طرح راولپنڈی میں بھی فوجی کالونی اور ملحقہ علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جہاں سے 38 افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو گرفتار کیا گیا۔ ان تمام افراد کو ابتدائی طور پر پرانے حاجی کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں خیبرپختونخوا کے لنڈی کوتل کیمپ منتقل کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا یہ مرحلہ مزید وسیع کیا جائے گا اور مختلف شہروں میں بھی مشتبہ افراد کی شناخت اور گرفتاری کا عمل جاری رہے گا۔ فارن ایکٹ کے تحت مختلف جیلوں میں قید افغان شہریوں کو بھی آج لنڈی کوتل منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جہاں بائیومیٹرک تصدیق کے بعد انہیں واپس ان کے ملک روانہ کر دیا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ افغان باشندے خیبرپختونخوا میں مقیم ہیں، جہاں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف مہم مزید تیز کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی شناخت اور ان کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ ملکی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کارروائی کے دوران مختلف ایجنسیوں کی جانب سے افغان مہاجرین کے کوائف کی تصدیق کا عمل بھی جاری رکھا جا رہا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی مستحق مہاجر کو نقصان نہ پہنچے اور صرف وہ افراد واپس بھیجے جائیں جو غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید علاقوں میں آپریشنز کیے جائیں گے اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تمام غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کا عمل جاری رہے گا۔
کیریئر کی پہلی سیڑھی، انٹرنشپ اب چند کلکس کی دوری پر

پاکستان میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ دس سالوں کی نسبت ڈیڑھ فیصد سے بڑھ کر سات فیصد پر پہنچ گئی ہے جو بھارت اور بنگلہ دیشن سے بھی زیادہ ہے ۔بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے سالانہ 15 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہے لیکن ملک کی آبادی میں سالانہ 50 لاکھ افراد کا اضافہ اس میں رکاوٹ ہے جس پر قابو پائے بغیر تعلیم،روزگار اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو رواں سال پلانگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں شامل ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اب روزگار کے حوالے سے بہتر مواقع فراہم کرنا جو کہ حکومت کی اولین ذمے داریوں میں شامل ہے کیا وہ اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟ اس بات کا جواب کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ ترقی پاتی ہوئی صنعت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ہے جس کا حال اور مستقبل دونوں ہی تابناک ہے۔ پاکستان میں بھی آئی ٹی سیکٹر میں ہنر مند افراد کےلیے روزگار کے بہت سے مواقع موجود ہیں کیونکہ گذشتہ سال آئی ٹی سیکٹر میں پاکستان نےتین ارب ڈالرسے زائد کی ایکسپورٹ کی تھی جو کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں وسیع کاروبار کے فروغ اور ہنرمند نوجوانو کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے کراچی کے دو گریجویٹ نوجوان ریان اور حمادنہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں چند سال قبل ہی ایک نجی جامعہ سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن مکمل کرنے کےبعد ان دونوں نے انٹرنی ڈاٹ پی کےکی بنیاد رکھی۔ یہ انٹرنشپ حاصل کرنے کے لیے تیار کیاگیا ایک آن لائن پورٹل ہے جس میں آئی ٹی سیکٹر کی تعلیم حاصل کر نے والا کوئی بھی فرد اپنے تعلیمی سفر کے دوران باآسانی کسی بھی کمپنی میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے انٹرنشپ حاصل کرسکتا ہے اور اس ضمن میں مکمل طور پر یہ پورٹل ان کی معانت کرتا ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےفاؤنڈر انٹرنی ڈاٹ پی کے حماد شیخ کا کہنا تھا مارکیٹ میں بہترین انداز کے ساتھ سوفٹ ویئر ڈیلوپمنٹ ،کوڈنگ اور سوفٹ ویئر کے مسائل کو تکنیکی طور پر بہتر جاننے والے افراد کی کمی ہے جبکہ کہ ہر سال تقریباً 25 ہزار آئی ٹی گریجوٹس نوکریوں کا خواب سجائے مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں مگر نوکری حاصل نہیں کرپاتے یہی اس کی بنیادی وجہ ہے ۔ ہمیں بھی یونیورسٹی میں دوران تعلیم اس بات کا خوف تھا کہ کیا ہمیں نوکری مل پائے گی؟ اور کیا ہم انڈسٹری کے جدید تقاضوں کے مطابق کام کر پائیں گے؟ یہی وہ سوالات تھے جو بعد میں انٹرنی ڈاٹ پی کو بنانے کی وجہ بنے ۔ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر میں نوکریاں تو موجود ہیں مگرکسی بھی پوزیشن پر ہائر ہونے والے افراد کمپنی کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتےمثلاً عام طور پرایک ڈیولپر کو 40 ہزارکی تنخواہ میں نوکری پر رکھا جاتا ہے اور ادارے کی توقعات یہ ہوتی ہیں کہ وہ انہیں کم از کم دولاکھ روپے کما کر دے مگر اکثر ایسا نہیں ہوپاتا۔ اس کی بنیادی وجہ معیاری اسکلز کا نا ہونا ہے۔ ہم نے اسی لیے انڈسٹری اور یونیورسٹی کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پروجیکٹ میں شریک ریان کا کہنا ہے کہ اس پورٹل کو ہم نےصرف انٹرنشپ تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اس کو ہم لرنگ مینجمنٹ سسٹم کے طور پر بھی چلارہے ہیں ۔ ہم نے مصنوعی ذہانت آے آئی کے کئی ٹولز کواس میں شامل کیا ہے جن کی مدد سے انٹرنشپ کے لیے انٹرویو کی تیاری بھی کی جاسکتی ہے۔ ہم نے ویب ڈولپمنٹ اور سوفٹ ویئر مینجمنٹ کے کئی کورسز کو بھی اس کاحصہ بنایا ہے کہ سیکھنے اور تجربے کے بعد کسی کو اچھی نوکری مل سکے اور اس کی اسکلز میں بھی اضافہ ہو۔ فی الحال تو یہ پورٹل صرف پاکستان تک محدور ہے مگر مستقبل میں ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں آئی ٹی سیکٹر کی کئی کمپنیز سے ہمارا رابطہ موجود ہے۔پاکستان میں نوکری حاصل کرنے کے کئی پلیٹ فارمز موجود ہیں جو بہتر کام بھی کر رہے ہیں مگر ہمارا کام اور انداز سب سے مختلف ہے ہم اس کو ایک مکمل کرئیر پلٹ فارم کہتے ہیں جس میں سیکھنے کے بعد انٹرنشپ اور پھر جاب کا مرحلہ طے کیا جاتا ہے۔ ہم خود سب سے پہلے کسی بھی جاب آفر کے لیے جاری ہونے والے اشتہار اور کمپنی کے معیار کا جائزہ لیتے ہیں پھراسے اپنے پورٹل پر اپلوڈ کرتے ہیں ،ہمارے پاس اس وقت لنکڈن پر صرف50 ہزار سے زائد فالورز موجود ہیں۔ ہم فری لانسنگ کو بھی اپنے مختلف سوشل پلیٹ فارمز سے فروغ دیتے ہیں کیونکہ کہ لوگ اب نوکری کے علاوہ فری لانسنگ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جوکہ خوش آئند پیش رفت ہے ۔ حماد شیخ نے اس اقدام کے بارے میں مزید بتایا کہ کام شروع کرنے سے پہلے یہی خدشات ہوتے ہیں کہ یہ کامیاب ہوگا یا نہیں ؟ کام کے دوران اکثر مورال ڈاؤن بھی ہوجاتا ہے مگر جب ہمیں نوجوان اپنی کالز اور میسجز کے ذریعے بتاتے ہیں کہ آپ کی وجہ سے ہم کسی کمپنی میں انٹرنشپ کر رہے ہیں اور اس کے بعد ہمیں ملازمت کی آفر ہے تو یہ سب سن کر ہمارا دل مزیدچاہتا ہے کہ ہم بہتر انداز میں کام کریں۔ ہمارے پاس کامیابی انٹرنشپ پروگرام کی کئی داستانیں ہیں سسٹمز جیسی بڑی آئی کمپنی میں بھی ہمارے توسط سے لوگوں نے انٹرنشپ مکمل کی اور اب وہ باقاعدہ وہاں مختلف پوزیشن پر ملازمت کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں حکومت کی کوئی خاطر خواہ سرپرستی تو حاصل نہیں ہے مگر ہم پھر بھی ہم قومی سطح پر ہونے والے بہت سے مقابلوں میں تین بار نیشنل چیمپئن رہے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے کہ یہ بزنس ماڈل کام کس طرح کرتا ہے؟ تو ہم نے اس پورٹل کی سبسکرپشن فیس رکھی ہے جبکہ پورٹل پر آن لائن ٹیچر بھی موجود ہیں اس کے ذریعے سے
فیصل چودھری عمران خان بیانیے کی جنگ جیت رہے تھے، پیغام باہر نہ آنے دینے کا منصوبہ بنایا گیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی لیگل ٹیم کے سابق رکن فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان بیانیے کی جنگ جیت رہے تھے، اسی لیے ان کا پیغام باہر نہ آنے دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ نجی نشریاتی ادارے سماء نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں فیصل چوہدری نے واضح کیا کہ ان کا پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں اور جب وہ کہیں گے، وکالت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں ہونا یا نہ ہونا ایک معمول کی بات ہے، لیکن آج بھی جن افراد نے ملاقاتیں کی ہیں، ان کے ذریعے عمران خان کا پیغام باہر نہیں آیا۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ ضلعی جنرل سیکریٹری کی عمران خان سے بات کرنا ان کے لیول کی بات نہیں، ان سے تو قومی یا بین الاقوامی امور پر گفتگو ہونی چاہیے۔ فیصل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ یا علیمہ بی بی عمران خان سے بات کرتے تھے تو ان کا پیغام باہر آتا تھا، جس کے بعد تیزی سے سیاسی صورتحال میں تبدیلی آتی تھی، لیکن حالیہ ملاقاتوں میں عمران خان کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ لوگوں کی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات ہوئی ہے، مگر ان ملاقاتوں میں عمران خان کا مؤقف کیوں سامنے نہیں آیا، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ اس بار دوبارہ اے پی سی بلائی جا رہی ہے، لیکن اس میں عمران خان کا مؤقف سامنے نہ لایا جانا باعثِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کے باہر عام شہری ہم سے پوچھتے ہیں کہ عمران خان کب رہا ہوں گے، لیکن ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ “گرینڈ پوزیشن الائنس” کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل چوہدری نے کہا کہ اس میں اب تک کامیابی نہیں مل سکی۔ ان کے بقول اگر مولانا فضل الرحمان اتحاد کا حصہ نہیں بنتے تو یہ سب “چوں چوں کا مربہ” ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو انقلاب لانا چاہتے ہیں، وہ پنجاب میں ایک مضبوط تنظیم کے بغیر ممکن نہیں۔ عالیہ حمزہ اور اعظم سواتی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کا راستہ روکا جا رہا ہے، حالانکہ وہ پی ٹی آئی کے بہادر کارکنان ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پرانی تنظیم تو ختم ہو چکی ہے، اب ایک نئی تنظیم سازی کی ضرورت ہے جو پارٹی کو آگے لے کر جائے، کیونکہ عمران خان تو جیل میں ہیں۔ تاہم، عمران خان اندر صحت مند اور مضبوط ہیں، وہ لڑ رہے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں رہا نہیں ہونا چاہیے۔ فیصل چوہدری نے خبردار کیا کہ عمران خان کی رہائی میں جتنی تاخیر ہوگی، اتنا ہی زیادہ نقصان ہوگا۔
لاہور سے جدہ جانے والی پرواز کی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ، انتظامی نااہلی یا تکنیکی خرابی؟

لاہور سے جدہ جانے والی سیرین ایئر کی پرواز ER-821 بڑے حادثے سے بچ گئی، طیارے کے انجن میں خرابی کے باعث ٹیک آف کے فوراً بعد ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ ذرائع کے مطابق طیارہ آٹھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد لاہور ایئرپورٹ سے روانہ ہوا، لیکن جیسے ہی پرواز نے اڑان بھری، کاک پٹ کریو نے انجن میں شدید وائبریشن محسوس کی۔ پائلٹ نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) سے رابطہ کیا اور ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔ ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے فوری اجازت دی گئی، جس کے بعد طیارے کو بحفاظت لاہور ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ طیارے میں موجود 200 سے زائد مسافروں کو بحفاظت اتار کر ویٹنگ ایریا منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رن وے پر طیارے کا ابتدائی معائنہ کیا گیا، جس میں انجن میں خرابی کی تصدیق ہوئی۔ انجینئرز کی ٹیم نے طیارے کے انجن کا تفصیلی معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ خرابی کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔ واضح رہے کہ ائیرلائن انتظامیہ نے مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے جدہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریسکیو 1122 ماہانہ رپورٹ: پنجاب میں 42 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات، 422 افراد جاں بحق

پنجاب ایمرجنسی سروس نے ماہِ مارچ کے دوران صوبے بھر میں 1 لاکھ 84 ہزار 837 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس کرتے ہوئے 1 لاکھ 90 ہزار 104 متاثرین کو ریسکیو سروسز فراہم کیں۔ ترجمان ریسکیو پنجاب کے مطابق گزشتہ ماہ صوبے میں 42,549 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں 422 افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں پیش آنے والے 42,549 ٹریفک حادثات میں سے سب سے زیادہ 8,289 حادثات لاہور میں رپورٹ ہوئے، جن میں 41 افراد جاں بحق ہوئے۔ دیگر شہروں میں فیصل آباد میں 2,982، ملتان میں 2,528، گوجرانوالہ میں 2,363، شیخوپورہ میں 1,551 اور راولپنڈی میں 1,363 حادثات پیش آئے، جب کہ باقی 23,453 حادثات دیگر اضلاع میں ہوئے۔ پنجاب ایمرجنسی سروس نے گزشتہ ماہ مجموعی طور پر 1,48,837 ایمرجنسیز پر فوری رسپانس دیا، جن میں 1,19,312 میڈیکل ایمرجنسیز، 4,893 گرنے/سلپ ہونے کے واقعات، 4,356 ڈلیوری کیسز، 3,635 جرائم سے متعلقہ واقعات، 2,146 آتشزدگی کے واقعات، 1,864 پیشہ ورانہ حادثات، 762 جانوروں کو ریسکیو کرنے، 543 کرنٹ لگنے، 389 جھلسنے، 56 ڈوبنے، 36 عمارتیں گرنے اور 4,296 متفرق ریسکیو کیسز شامل تھے۔ پنجاب بھر میں آتشزدگی کے 2,146 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ 382 واقعات لاہور میں پیش آئے۔ دیگر شہروں میں فیصل آباد میں 180، راولپنڈی میں 145، ملتان میں 100، گوجرانوالہ میں 79 اور سیالکوٹ میں 79 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں حادثات کی بڑی وجوہات میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، تیز رفتاری اور لاپرواہی شامل ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دورانِ ڈرائیونگ احتیاط برتیں اور حادثات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اپنائیں۔
کون، کیوں اور کیسے؟ پاکستانی صحافیوں کے اسرائیلی دورے پر سوالات اٹھ گئے

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بعض پاکستانی صحافیوں کے حالیہ اسرائیل کے مبینہ دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی اخلاقیات اور ملکی خارجہ پالیسی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ نجی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے ایک بیان میں اس دورے کو انسانی حقوق کی عالمی جدوجہد کے خلاف قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں۔ صحافیوں کی نمائندہ تنظیم نے تشویش کا اظہار کیا کہ جب پاکستان کی پالیسی واضح طور پر اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ہے اور وہاں سفر پر پابندی ہے، تو یہ صحافی کیسے وہاں پہنچے؟ پی ایف یو جے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سفر کی تفصیلات سامنے لائے اور اس کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب اسرائیل اب تک 150 سے زائد صحافیوں کو قتل کر چکا ہے اور عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کے لیے ایک خطرناک مقام تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں کا وہاں جانا اُن بے شمار صحافیوں کی قربانیوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جو جنگ زدہ علاقوں میں سچ اور انصاف کے لیے اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ دوسری جانب کراچی پریس کلب کی مشترکہ ایکشن کمیٹی نے بھی اس دورے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ واضح طور پر اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں اور اگر کوئی پاکستانی اسرائیل گیا ہے تو ممکنہ طور پر اس نے دوسری شہریت کا استعمال کیا ہوگا۔” اسرائیلی میڈیا کے مطابق مارچ کے وسط میں 10 رکنی پاکستانی وفد نے تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کیا، جس میں صحافیوں، محققین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ پی ایف یو جے نے پاکستانی میڈیا برادری پر زور دیا کہ وہ آزادیٔ صحافت اور اصولی صحافت کے عزم پر قائم رہیں اور سچ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
صدر آصف زرداری ناساز طبیعت کے سبب اسپتال منتقل کردیے گئے

صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبعیت ناساز ہوگئی اور وہ کراچی میں کلفٹن کے نجی اسپتال ایڈمٹ کردیے گئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق صدر پاکستان کو رات4 بجے اچانک صحت خراب ہونے پر اسپتال لایا گیا۔ صدرزرداری اسپتال کے چھٹے فلور پر ایگزیکٹو وارڈ میں زیرعلاج ہیں۔ اسپتال کے باہر سیکیورٹی، ایس آئی یو اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہیں، پیپلز پارٹی کے کئی رہنما بھی نجی اسپتال میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ صدر مملکت اسلام آباد سے اپنے آبائی علاقے نواب شاہ عید منانے آئے تھے، آصف زرداری کو انفیکشن اور بخار کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ کیے جائیں گے۔