اپریل 4, 2025 3:55 شام

English / Urdu

کیا جدید ٹیکنالوجی کی قیمت ملازمین کی نوکریاں ہیں؟

جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی بات ہوتی ہے تو اکثر ذہن میں ایک خوفناک منظرنامہ آتا ہے جہاں مشینیں انسانوں کی جگہ لے رہی ہیں اور بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے؟ یا پھر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متوازن ہے؟ یہ سوال آج کل ہر اس شخص کے ذہن میں ہے جو ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کوئی نیا رجحان نہیں۔ صنعتی انقلاب کے دوران بھی مشینوں نے ہاتھوں سے کی جانے والی کئی ملازمتوں کو ختم کر دیا تھا، لیکن ساتھ ہی نئے مواقع بھی پیدا ہوئے تھے۔ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسی طرز پر آگے بڑھ رہی ہے۔ مختلف صنعتی اور سروس سیکٹرز میں خودکار نظاموں کے متعارف ہونے سے بے شمار کام جو پہلے انسانوں کے ذریعے کیے جاتے تھے، اب مشینوں کے سپرد ہو رہے ہیں۔ کئی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، اے آئی کی ترقی سے کچھ ملازمتیں ختم ہوں گی، لیکن اس کے ساتھ ہی نئی نوکریوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔ پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے ماہر معاشیات ڈاکٹر ساجد حسین کہتے ہیں، ”یہ درست ہے کہ اے آئی کچھ روایتی نوکریوں کو ختم کر سکتی ہے، خاص طور پر وہ کام جو دہرائے جانے والے اور مخصوص اصولوں کے تحت کیے جاتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ نئی صنعتوں کو بھی جنم دے گی، جن میں زیادہ تخلیقی اور تجزیاتی مہارتوں کی ضرورت ہو گی۔” سب سے زیادہ خطرہ ان شعبوں کو ہے جہاں دفتری کام زیادہ ہے، جیسے ڈیٹا انٹری، اکاؤنٹنگ، کسٹمر سروس، اور مینوفیکچرنگ۔ کئی بڑی کمپنیاں اب خودکار چیٹ بوٹس کا استعمال کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے کسٹمر سپورٹ کے روایتی نمائندوں کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔ لندن میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے کے مطابق، آئندہ 10 سالوں میں اے آئی کے باعث تقریباً 30 فیصد ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے۔ لیکن ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔ پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے اے آئی کے ماہر، فہد قریشی، جو ایک عالمی ٹیکنالوجی فرم سے وابستہ ہیں، اس پر ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”یہ کہنا غلط ہوگا کہ اے آئی صرف نوکریاں ختم کر رہی ہے۔ اصل میں یہ ملازمتوں کی نوعیت کو تبدیل کر رہی ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز کے ماہرین، ڈیٹا سائنسدانوں، مشین لرننگ انجینئرز، اور اے آئی ایثکس کے ماہرین کی طلب میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔” جہاں ایک طرف اے آئی مزدور طبقے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس نے مختلف فیلڈز میں نئی راہیں بھی کھولی ہیں۔ صحت کے شعبے میں، اے آئی پر مبنی تشخیصی نظام ڈاکٹروں کی مدد کر رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے اے آئی کے ذریعے ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں بھی، اے آئی سے چلنے والے الگورتھمز خبروں کی ترسیل اور تجزیہ کو بہتر بنا رہے ہیں۔ پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی سارہ نذیر، جو ٹیکنالوجی اور معاشرتی اثرات پر تحقیق کر رہی ہیں، کہتی ہیں، ”اے آئی نے میڈیا انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے۔ آج کئی نیوز ایجنسیز اے آئی کی مدد سے رپورٹس تیار کر رہی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحافیوں کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا صحافی خود کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھال سکیں گے یا نہیں۔” نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ خود کو بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق تیار کریں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن طلبہ کے پاس تخلیقی صلاحیتیں، جذباتی ذہانت، اور تکنیکی مہارتیں ہوں گی، وہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود ملازمتیں حاصل کر سکیں گے۔ اس کے برعکس، جو افراد پرانے انداز میں ہی نوکریوں کو تلاش کریں گے، انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کچھ ممالک میں حکومتیں پہلے ہی اس تبدیلی کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ جرمنی، جاپان، اور امریکہ میں نئے تعلیمی پروگرام متعارف کروائے جا رہے ہیں جو طلبہ کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے پر مرکوز ہیں۔ پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائیں تاکہ نئی نسل اس بدلتی دنیا میں اپنی جگہ بنا سکے۔ کیا اے آئی واقعی نوکریاں ختم کر دے گی؟ شاید یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ آنے والے سالوں میں ملازمتوں کی نوعیت ضرور تبدیل ہو گی۔ انسانوں کو ان تبدیلیوں سے گھبرانے کے بجائے خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جو زمانے کے ساتھ نہیں بدلتا، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

کیریئر کی پہلی سیڑھی، انٹرنشپ اب چند کلکس کی دوری پر

پاکستان  میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ دس سالوں کی نسبت ڈیڑھ فیصد سے بڑھ کر سات فیصد پر پہنچ گئی ہے جو بھارت اور بنگلہ دیشن سے بھی زیادہ  ہے ۔بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے سالانہ  15 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہے لیکن ملک کی آبادی میں سالانہ 50 لاکھ افراد کا اضافہ اس میں رکاوٹ ہے جس پر قابو پائے بغیر تعلیم،روزگار اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا  ممکن نہیں ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو رواں سال پلانگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں شامل ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اب  روزگار کے حوالے سے  بہتر مواقع فراہم کرنا جو کہ حکومت کی اولین ذمے داریوں میں شامل ہے کیا وہ  اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟ اس بات کا جواب کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ ترقی پاتی ہوئی صنعت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ہے جس کا حال اور مستقبل دونوں ہی تابناک ہے۔ پاکستان میں بھی آئی ٹی سیکٹر میں ہنر مند  افراد کےلیے روزگار کے بہت سے مواقع موجود ہیں کیونکہ گذشتہ سال آئی  ٹی سیکٹر میں پاکستان نےتین ارب ڈالرسے زائد کی ایکسپورٹ کی تھی جو کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں وسیع کاروبار کے فروغ  اور ہنرمند نوجوانو کو روزگار کے بہتر مواقع  فراہم کرنے کے لیے کراچی کے دو گریجویٹ نوجوان ریان اور حمادنہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں چند سال قبل ہی ایک نجی جامعہ سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن مکمل  کرنے کےبعد ان دونوں نے  انٹرنی ڈاٹ پی کےکی بنیاد رکھی۔ یہ انٹرنشپ   حاصل کرنے کے لیے تیار کیاگیا ایک آن لائن پورٹل ہے جس میں آئی ٹی سیکٹر کی تعلیم حاصل کر نے والا کوئی بھی فرد اپنے تعلیمی  سفر کے دوران باآسانی کسی بھی  کمپنی میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے  انٹرنشپ حاصل کرسکتا ہے اور اس ضمن میں مکمل طور پر یہ پورٹل ان کی معانت کرتا ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےفاؤنڈر  انٹرنی ڈاٹ پی کے حماد شیخ  کا کہنا تھا  مارکیٹ میں  بہترین انداز کے ساتھ سوفٹ ویئر ڈیلوپمنٹ ،کوڈنگ اور سوفٹ ویئر کے مسائل کو تکنیکی طور پر بہتر جاننے  والے افراد کی کمی ہے جبکہ کہ ہر سال تقریباً 25 ہزار آئی ٹی گریجوٹس نوکریوں کا خواب سجائے مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں مگر نوکری حاصل نہیں کرپاتے    یہی  اس کی بنیادی وجہ ہے ۔ ہمیں بھی یونیورسٹی میں دوران تعلیم اس بات کا خوف تھا کہ کیا ہمیں نوکری مل پائے گی؟ اور کیا ہم انڈسٹری کے جدید تقاضوں کے مطابق کام کر پائیں گے؟ یہی وہ سوالات تھے جو بعد میں انٹرنی ڈاٹ پی کو بنانے کی وجہ بنے ۔ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر میں نوکریاں تو موجود ہیں مگرکسی بھی پوزیشن پر ہائر ہونے والے افراد کمپنی کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتےمثلاً عام طور پرایک ڈیولپر کو 40 ہزارکی تنخواہ  میں نوکری پر رکھا جاتا ہے اور ادارے کی توقعات یہ ہوتی ہیں کہ وہ انہیں کم از کم دولاکھ روپے کما کر دے مگر اکثر ایسا نہیں ہوپاتا۔ اس کی بنیادی وجہ معیاری اسکلز کا نا  ہونا ہے۔ ہم نے اسی لیے انڈسٹری اور یونیورسٹی کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پروجیکٹ میں شریک ریان کا کہنا ہے کہ اس پورٹل کو ہم نےصرف انٹرنشپ تک محدود نہیں رکھا  ہے بلکہ اس کو ہم لرنگ مینجمنٹ سسٹم کے طور پر بھی چلارہے ہیں ۔ ہم نے مصنوعی ذہانت آے آئی کے کئی ٹولز کواس میں شامل کیا ہے جن کی مدد سے انٹرنشپ کے لیے انٹرویو کی تیاری بھی کی جاسکتی ہے۔ ہم نے ویب ڈولپمنٹ اور سوفٹ ویئر مینجمنٹ کے کئی کورسز کو بھی اس کاحصہ بنایا ہے کہ سیکھنے اور تجربے کے بعد کسی کو اچھی نوکری مل سکے اور اس کی اسکلز میں بھی اضافہ ہو۔ فی الحال تو یہ پورٹل صرف پاکستان تک محدور ہے مگر مستقبل میں ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں آئی ٹی سیکٹر کی کئی کمپنیز سے ہمارا رابطہ موجود ہے۔پاکستان میں نوکری حاصل کرنے کے کئی پلیٹ فارمز موجود ہیں  جو بہتر کام بھی کر رہے ہیں مگر ہمارا کام اور انداز سب سے مختلف ہے ہم اس کو ایک مکمل کرئیر پلٹ فارم کہتے ہیں جس میں سیکھنے  کے بعد انٹرنشپ اور پھر جاب  کا مرحلہ طے کیا جاتا ہے۔ ہم خود سب سے پہلے کسی بھی جاب آفر کے لیے جاری ہونے والے اشتہار اور کمپنی کے معیار کا جائزہ لیتے ہیں    پھراسے اپنے پورٹل پر اپلوڈ کرتے ہیں ،ہمارے پاس اس وقت لنکڈن پر صرف50 ہزار سے زائد فالورز موجود ہیں۔ ہم فری لانسنگ  کو بھی اپنے مختلف سوشل پلیٹ فارمز سے فروغ دیتے ہیں  کیونکہ کہ لوگ اب نوکری کے علاوہ فری  لانسنگ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جوکہ خوش آئند پیش رفت ہے ۔ حماد  شیخ نے اس اقدام کے بارے میں مزید بتایا کہ کام شروع کرنے سے پہلے یہی خدشات ہوتے ہیں کہ یہ کامیاب ہوگا یا نہیں ؟ کام کے دوران اکثر مورال ڈاؤن بھی ہوجاتا ہے مگر جب ہمیں نوجوان اپنی کالز اور میسجز کے ذریعے بتاتے ہیں کہ آپ کی وجہ سے ہم کسی کمپنی میں انٹرنشپ کر رہے ہیں  اور اس کے بعد ہمیں ملازمت کی آفر ہے تو یہ سب سن کر ہمارا دل مزیدچاہتا ہے کہ ہم بہتر انداز میں کام کریں۔ ہمارے پاس کامیابی انٹرنشپ پروگرام کی کئی  داستانیں ہیں سسٹمز جیسی بڑی آئی کمپنی میں بھی ہمارے توسط سے لوگوں نے انٹرنشپ مکمل کی اور اب وہ باقاعدہ وہاں مختلف پوزیشن پر ملازمت کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں حکومت کی کوئی خاطر خواہ سرپرستی تو حاصل نہیں ہے مگر ہم پھر بھی  ہم قومی سطح پر ہونے والے بہت سے مقابلوں میں تین بار نیشنل چیمپئن رہے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے کہ یہ بزنس ماڈل کام کس طرح کرتا  ہے؟ تو ہم نے اس پورٹل کی سبسکرپشن فیس رکھی ہے جبکہ پورٹل پر آن لائن ٹیچر بھی موجود ہیں اس کے ذریعے سے

مہنگائی کے کاغذی اعدادوشمار اور زمینی حقیقت میں تضاد کیوں؟

پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں حالیہ کمی کے سرکاری دعوے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، مگر عام شہریوں کو اب بھی بنیادی ضروریات کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کے مطابق معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن عوامی سطح پر اس کا اثر کم ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق جنوری 2025 میں صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ (CPI) 2.41 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 2024 میں 24 فیصد تھا۔ فروری 2025 میں یہ شرح مزید کم ہوکر 1.5 فیصد تک آ گئی، جو گزشتہ کئی سالوں کی کم ترین سطح ہے۔ مہنگائی کی کمی کے بنیادی عوامل میں عالمی منڈی میں پیٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی، اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی، جس نے افراط زر کو کم کرنے میں مدد دی، حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات اور اخراجات میں کمی اور درآمدی اشیاء پر پابندیوں کے باعث روپے کی قدر میں استحکام ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پالیسی ریٹ 12 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے تاکہ مہنگائی کو مزید قابو میں رکھا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔ اگرچہ سرکاری اعدادوشمار مہنگائی میں کمی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن بازاروں میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عوام کو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہو رہی۔ لاہور کی ایک گھریلو خاتون نے شکایت کی ہے کہ اگر مہنگائی کم ہوگئی ہے تو چینی، آٹا اور دالیں کیوں مہنگی مل رہی ہیں؟ گزشتہ سال جو 150 روپے کا تھا، وہ اب 250 روپے میں مل رہا ہے۔ کراچی کے ایک دکاندار نے کہا کہ حکومت کہتی ہے مہنگائی کم ہو گئی، مگر لوگ پہلے کی طرح خریداری نہیں کر رہے۔ عام آدمی کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک سرکاری ملازم نے کہا ہے کہ تنخواہ تو وہی ہے، مگر بجلی، گیس، بچوں کی اسکول فیس اور دیگر اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ جب آمدنی نہیں بڑھے گی تو عام آدمی کیسے محسوس کرے گا کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے؟” بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟ گزشتہ چھ ماہ میں بجلی کے نرخوں میں کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا، جس سے عام گھریلو صارفین کے ماہانہ بل بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا، مگر عوام کے لیے یہ ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ جنوری 2025 میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا۔ تجارتی اور صنعتی صارفین کو بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر اس کا فائدہ عام شہریوں تک نہیں پہنچا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی کے باوجود، ٹیکسز اور دیگر عوامل کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن نہیں۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز سستی ہو گئی ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے۔ نجی اور سرکاری شعبے میں تنخواہیں کئی سالوں سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ کاروباری طبقہ بھی معاشی سست روی کی وجہ سے زیادہ ملازمتیں پیدا نہیں کر رہا۔ افراط زر میں کمی اور مہنگائی میں کمی الگ چیزیں ہیں۔ حکومت جو مہنگائی میں کمی کی بات کر رہی ہے، وہ افراط زر (Inflation Rate) کی شرح میں کمی ہے، جب کہ عوام جو مہنگائی محسوس کرتے ہیں، وہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف تب مل سکتا ہے، جب حکومت اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر سخت کنٹرول، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ تنخواہوں اور آمدنی میں اضافہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرے، بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخ کم کر کے عوام کو ریلیف دے۔ حکومت مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔ عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ حکومت جو مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، وہ صرف کاغذی اور سرکاری رپورٹس تک محدود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام آج بھی آٹے، چینی، گھی اور دیگر روزمرہ اشیاء کے لیے پریشان ہیں۔ جب عام آدمی کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہو، بجلی اور گیس کے بل آسمان کو چھو رہے ہوں اور تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہ ہو تو ایسی ‘مہنگائی میں کمی’ کا کیا فائدہ؟ حکومت چاہے جتنے بھی دعوے کرے، زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران بھی مہنگائی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔ ایثار رانا نے کہا ہے کہ حکومت کاغذی دعوے کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ افراطِ زر میں کمی صرف اعدادوشمار کا کھیل ہے، جب کہ بازار میں اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور پیٹرول بدستور مہنگے ہیں۔ ایثار رانا کا کہنا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ کچھ ادارے حکومتی بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جب کہ کچھ صحافی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مہنگائی پر میڈیا کا دباؤ وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔ ایثار رانا نے تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو سب سے پہلے بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر سخت کنٹرول کرنا ہوگا، بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی لانی ہوگی اور روپے کی قدر مستحکم کرنی

‘مسلم حکمرانوں کے پاس ہر چیز ہے مگر غیرت اور ہمت نہیں’ امیر جماعت اسلا می

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ادارہ ‘نور حق’ میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔  انہوں نے امت مسلمہ اور پاکستانی عوام کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن اللہ کی طرف سے انعام اور رمضان المبارک کے روزوں کا نعم البدل ہے۔ تاہم، خوشیوں کے اس موقع پر فلسطین میں جاری ظلم و ستم ہر مسلمان کو غمزدہ کر رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اسرائیل کی جانب سے عید کے پہلے اور دوسرے روز فلسطین پر کی گئی وحشیانہ بمباری کی شدید مذمت کی۔  انہوں نے کہا کہ قابض صیہونی فوج نے کھیلتے ہوئے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جبکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے فلسطینی عوام ملبے کے ڈھیر پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔  حافظ نعیم الرحمٰن نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ان تمام ممالک پر بھی لعنت بھیجی جو اسرائیلی مظالم کی حمایت کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اسرائیل پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا اور جو ممالک اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں وہ بھی اس انجام سے نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے حکمران بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر نے مسلم حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ہر چیز ہے مگر غیرت اور ہمت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کو بارود فراہم کرنے میں امریکا کا براہ راست ہاتھ ہے مگر افسوس کہ ہماری حکومت اور اپوزیشن دونوں امریکا کے خلاف مذمتی بیانات دینے کے بجائے اس کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔  انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی حامی کمپنیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یکجہتی پیدا کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ یہ بھی پڑھیں:عیدالفطر کی پرمسرت گھڑیاں، پاکستان بھر میں جوش و عقیدت کے ساتھ منائی جا رہی ہیں انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ اگر کوئی غیر ملکی ایجنسی پاکستان میں متحرک ہے تو ہماری ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں؟ انہوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اغواہ کیا جا رہا ہے ان پر بمباری کی جا رہی ہے جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے انکشاف کیا کہ بلوچستان میں بمباری کے ذریعے معصوم چرواہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔  انہوں نے وزیر اعظم کے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا کہ دہشت گردوں کو مارا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ اس ظلم کے ذمہ داروں کو قوم کے سامنے لانا ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں استحکام لانے کے لیے وسیع پیمانے پر مذاکرات ضروری ہیں جن میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ اور انہوں نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عید کے بعد ملک بھر میں ایک بڑی تحریک شروع کرے گی جس میں امن و امان کی خراب صورتحال، بجلی کے بلوں میں اضافے، چینی اور آٹے کی قلت جیسے عوامی مسائل کو اجاگر کیا جائے گا اور کہا کہ جماعت اسلامی تمام صوبوں میں احتجاجی ریلیاں نکالے گی تاکہ عوام کے مسائل کو ایوان اقتدار تک پہنچایا جا سکے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے فارم 47 کے ذریعے عوام پر زبردستی حکومتیں مسلط کرنے کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام کی مرضی کے بغیر فیصلے کیے جائیں گے تو فوج اور عوام کے درمیان دوریاں ختم نہیں ہوں گی۔  اگر فوج چاہتی ہے کہ عوام اور فوج کے درمیان اعتماد بحال ہو تو تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ پریس کانفرنس کے آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرے اور پاکستان کو موجودہ مشکلات سے نکالے۔ مزید پڑھیں:عید الفطر: ‘ہمیں کشمیر اور فلسطین کے مظلوم بھائیوں کو آج کے دن یاد رکھنا ہوگا’ شہباز شریف

افغانستان: پاکستان اور ایران کے متصادم مفادات یا مشترکہ چیلنج؟

افغانستان کی سرزمین، جو تاریخ کی پیچیده اور متنازعہ سرحدوں کی گواہ ہے، یہ دھرتی ایک مرتبہ پھر عالمی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کا مرکز بن چکی ہے۔ اس سرزمین پر اثر و رسوخ قائم کرنے کی دوڑ میں جہاں عالمی طاقتیں مداخلت کر رہی ہیں، وہیں پاکستان اور ایران جیسے برادر اسلامی ممالک بھی اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ دونوں ممالک کی افغانستان کے حوالے سے پوزیشن مختلف ہونے کے باوجود ان کے مفادات کا انحصار ایک دوسرے پر بھی ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں کی افغانستان کے حوالے سے اپنی الگ الگ ترجیحات اور مفادات ہیں۔ پاکستان کے لیے افغانستان کا استحکام نہ صرف اس کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کے لیے افغانستان میں ایک ایسی حکومت کا قیام بھی ضروری ہے جس میں تمام لسانی، سیاسی اور اقلیتی گروہوں کی نمائندگی ہو تاکہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشن کے پروفیسر ڈاکٹر حسن فاروق مشوانی نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے جغرافیہ کو دیکھا جائے تو یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے بیچ میں واقع ہے، جو عالمی طاقتوں کے مفادات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ ملک روس، چین، ایران اور پاکستان کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک علاقے کے طور پر موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی جغرافیائی اہمیت نے اسے عالمی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج اور موقع بنا دیا ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ دہائیوں سے جنگ کی نظر ہے۔ پاکستان کی سرحد (ڈیورنڈ لائن) افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر سے زائد طویل ہے اور اس کا افغانستان میں مضبوط کردار پاکستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایران بھی افغانستان میں خاص طور پر طالبان حکومت کے قیام کے بعد اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ایران نے افغانستان میں بیرونی مداخلت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس خطے میں بیرونی مداخلت کے نتائج ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلتے ہیں۔ اس سب کا اشارہ بالواسطہ طور پر پاکستان کی جانب تھا، جو کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ روابط رکھتا ہے۔ ایران نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مل کر پاکستان کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر حسن فاروق نے مزید کہا کہ افغانستان کے سیاسی عدم استحکام نے پاکستان اور ایران پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں عدم استحکام نے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا ہے، جب کہ ایران نے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی ہے جیسے کہ وہاں کی سیاسی جماعتوں کو مدد فراہم کی، تجارتی تعلقات بڑھایا اور مختلف عسکری گروپوں کو سپورٹ بھی کیا، جب کہ دونوں ممالک نے اپنی داخلی سیاست میں افغانستان کی صورتحال کو اہمیت دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ 1979 کی دہائی میں سرد جنگ کے دوران افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تلخی آئی اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی بھرپور حمایت کی۔ اس کے نتیجے میں سوویت یونین کی پسپائی ہوئی اور طالبان کی حکومت قائم ہوئی لیکن طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد بھی پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔ اسی دوران افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے پاکستان میں سماجی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل بھی پیدا کیے، جو آج بھی حل طلب ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں پیچیدگیاں وقتاً فوقتاً بڑھتی رہی ہیں، خاص طور پر جب انڈیا نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ بڑھایا۔ انڈیا نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور مختلف دہشت گرد گروپوں کو سپورٹ بھی کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام تر حالات میں ایران کا کردار اور اس کی پوزیشن پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ایران بھی افغانستان کے حوالے سے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں تاریخی بنیادیں بھی بہت مضبوط ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 805 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے اور دونوں کے تعلقات ثقافتی، مذہبی اور تجارتی سطح پر گہرے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ تاہم، ایران اور پاکستان کے درمیان کئی مسائل ایسے بھی ہیں، جو ان کے تعلقات میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بلوچ قومیت کے مسائل اور ایران کے ساتھ انڈیا کے اکانومک اور ثقافتی تعلقات کبھی کبھار ایران اور پاکستان کے درمیان دوریاں پیدا کرتے ہیں۔ ایران نے اپنے اقتصادی مفادات کے لیے انڈیا کے ساتھ تعلقات استوار کیے، لیکن پاکستان کی ناپسندیدہ پالیسیوں کے سبب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی رہی۔ اگرچہ ایران اور پاکستان دونوں افغانستان میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے مفادات کبھی کبھار ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت اس کے مفادات کے لیے ضروری ہے، جب کہ ایران افغانستان میں اپنی جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح ایران نے پاکستان کو یاد دلایا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کے نتائج ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ اس سب کے چلتے افغانستان کا مستقبل واضح نہیں ہے کیونکہ طالبان کے زیر اثر افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے افغان عوام، عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کی نوعیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک کس طرح اپنے مفادات کو افغانستان میں ایک دوسرے کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ پاکستان اور ایران دونوں کے لیے افغانستان میں قیام امن ایک چیلنج تو ہے، لیکن اگر دونوں ممالک اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر افغانستان میں استحکام کی کوشش کریں تو نہ صرف ان کے تعلقات میں بہتری آ سکتی

پاکستان اور امریکا کا کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ پر اتفاق

امریکا کی قائم مقام سفیر نٹالی بیکر نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ کے انعقاد پر اتفاق کیا، ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق اس ملاقات میں دونوں نے رواں سال جون میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ کے انعقاد پر اتفاق کیا۔ نٹالی بیکر نے جعفر ایکسپریس اور دیگر دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کو امریکا کا سٹریٹجک پارٹنر قرار دیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ مزید پڑھیں: ’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہا ہے اور اس کے لیے ہمہ جہتی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی ملک واپسی میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً بلوچستان میں جہاں جنگجوؤں نے کئی حملے کیے ہیں جن میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

“حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی جڑیں افغان سرزمین سےجڑی ہوئی ہیں”وزیر دفاع

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مستحکم تعلقات چاہتا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی جڑیں افغان سرزمین میں موجود عناصر سے جڑی ہیں۔ نجی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں خواجہ آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباً پونے دو سال قبل کابل گئے تھے، جہاں مثبت ماحول میں بات چیت ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد سے حالات میں تنزلی آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف کارروائیوں میں متعدد دہشتگرد مارے گئے ہیں، جن میں زیادہ تعداد افغان شہریوں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو حالات بہتر بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے، کیونکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بڑی تعداد افغانستان میں موجود ہے۔ خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل صوبے کی روایتی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، دنیا میں مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوتے ہیں، اور یہی راستہ بلوچستان میں بھی اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاریاں قانون کے مطابق ہونی چاہئیں اور معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بلوچستان کے مسائل کئی دہائیوں پرانے ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ  سرفراز بگٹی کو مذاکراتی عمل کی قیادت کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے رائے دی کہ نواز شریف کو بھی بلوچستان کے معاملے پر متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم، ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے، اور وہ عید کے بعد اس معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی فلسطین سے وابستگی 1967 سے ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی فلسطین کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر فلسطینی عوام کے حقوق کی آواز بلند کی ہے۔ خواجہ آصف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملک کی سالمیت سے متعلق اہم معاملات پر گفتگو کی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کے طرزِ عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بانی کے بغیر کسی بھی چیز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، یہ ایک غیر جمہوری سوچ ہے، اور سیاست کو شخصیات سے نکال کر نظریات کی بنیاد پر استوار کرنا ضروری ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب، 2 ارب ڈالر قرض کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2 ارب ڈالر کے قرض کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے جس سے ملک کی معیشت کو استحکام میں مدد ملے گی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو 37 ماہ میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو مختلف نوعیت کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کی ٹیم کی قیادت ‘نیتھن پورٹر’ نے کی۔ معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے بورڈ سے ملے گی جس کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ فیسیلیٹی (EFF) کے تحت 1 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 28 ماہ کی ارینجمنٹ کے تحت پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو کل 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہوگی جو 37 ماہ کی مدت میں فراہم کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کا اعتراف کیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے مطابق پاکستان میں افراط زر 2015 کے بعد کم ترین سطح پر آچکا ہے اور 18 ماہ کے دوران ملک نے چیلنجز کے باوجود میکرو اقتصادی استحکام کی بحالی میں اہم پیشرفت کی ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بڑھنے کا امکان ہے تاہم پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے خطرات کا سامنا باقی ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی مدد کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور قدرتی آفات کے خلاف اقدامات کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھی حمایت کی جائے گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اس کامیاب معاہدے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیداواری اور برآمدی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیکس، توانائی، اور سرکاری اداروں سے متعلق اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو پاکستان کے اقتصادی استحکام کے لیے سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف ملکی معیشت کی بحالی کی راہیں ہموار ہوں گی بلکہ پاکستان عالمی سطح پر بھی اپنی مالی ساکھ کو مستحکم کرے گا۔ مزید پڑھیں: سندھ میں گیس وتیل کی نئی دریافت، کب کیا ہوا؟

‘بیٹیوں کی گرفتاری اور ہماری ماؤں بہنوں کی بے حرمتی’ اختر مینگل کا بلوچستان میں لانگ مارچ کا اعلان

سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر مینگل نے ‘بیٹیوں کی گرفتاری اور ماؤں بہنوں کی بےحرمتی’ کے خلاف بلوچستان میں وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب مائکروبلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ‘وڈھ سے کوئٹہ تک ہمارا مارچ صرف قدموں کا نہیں، ضمیر کا سفر ہے۔’ گزشتہ برس ستمبر میں اپنی قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے والے اخترمینگل کا کہنا ہے کہ ‘میں اس مارچ کی قیادت خود کروں گا، اور تمام بلوچ بھائیوں اور بہنوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مارچ میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ‘جو خاموش ہے، وہ بھی قصوروار ہے۔’ مزید تفصیل جلد شیئر کرنے کا کہتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا کہ ‘ہماری یہ تحریک پر امن ہے۔’ اختر مینگل کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ صرف ہماری بیٹیوں کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، یہ ہمارے قومی وقار، ہماری غیرت، اور ہمارے وجود کا سوال ہے۔ جب تک ہماری ماہیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں، ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ظلم، جبر، اور ناانصافی کے خلاف نکلے ہیں، اور جب تک انصاف نہیں ملتا، ہم رکیں گے نہیں۔ اختر مینگل کی جانب سے یہ اعلان حالیہ گرفتاریوں کے بعد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی نے بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ‘میں ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری پر پریشان اور فکرمند ہوں۔’ ماہ رنگ بلوچ کو ‘لاکھوں بے آوازوں کی نمائندہ’ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ‘بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر’ رہے ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہوں نے گرفتار خاتون رہنما کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ قبل ازیں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ کی ‘غیرقانونی گرفتاری کو 38 گھنٹے سے زائد گزر چکے ہیں، ابھی تک ان کے وکلا اور اہل خانہ کو ان تک رسائی نہیں دی گئی۔’ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دعوی کیا کہ کہ ‘بلوچستان صوبہ سے غیرقانونی گرفتاریوں اور حراست کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔’ انسانی حقوق سے متعلق ادارے نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ماہ رنگ سمیت دیگر پرامن احتجاج کا حق استعمال کرنے والوں کو رہا کیا جائے۔  

فیکٹ چیک: نیٹ میٹرنگ پالیسی سے متعلق شہباز شریف کا دعویٰ درست ہے یا غلط؟

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سولر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، پاور ڈویژن اعداد و شمار کے ساتھ حقائق بتائے، لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ حکومت نے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ متعارف کرا دی ہے، جس سے سولر صارفین کو بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ شمسی توانائی کے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف عام صارفین بلکہ شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص ایچ موسیٰ کا کہنا ہے کہ ” حکومت کوئی بھی پالیسی بنانے سے قبل اس شعبے سے وابستہ افراد کو اعتماد میں لے۔ اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری ہو چکی ہے اور ہم حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کریں گے۔” نیٹ میٹرنگ میں سولر صارفین کو ان کی اضافی بجلی کے بدلے اتنی ہی قیمت دی جاتی تھی، جتنی عام صارفین سے وصول کی جاتی تھی، یہ نظام صارفین کے لیے فائدہ مند تھا اور لوگوں کو سولر انرجی کی طرف مائل کرتا تھا۔ اب نیٹ بلنگ میں صارفین سے ان کی اضافی بجلی کم قیمت پر خریدی جاتی ہے، جب کہ اگر انہیں بجلی واپس خریدنی ہو تو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، یہ نظام نیٹ بلنگ بجلی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن صارفین کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لاکھوں صارفین نے سولر انرجی پر سرمایہ کاری کی، تاکہ اپنے بجلی کے بل کم کر سکیں۔ لیکن جیسے ہی نیٹ میٹرنگ سے بجلی کمپنیاں مالی نقصان میں جانے لگیں، حکومت نے نیٹ بلنگ متعارف کرا دی، جس میں بجلی کمپنیاں سستی بجلی خرید کر مہنگی بیچتی ہیں۔ توانائی کے ماہر عبید اللہ خان کا کہنا ہے کہ” پاکستان کے پاور سیکٹر نے قابل تجدید توانائی کو اپنانے میں ڈرامائی تبدیلی دیکھائی۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک بھر میں شمسی تنصیبات صرف 740 میگاواٹ تک پہنچی ہیں۔” یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں اب بھی سولر انرجی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، لیکن نیٹ بلنگ جیسے اقدامات سے اس کی ترقی رک سکتی ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث لاکھوں صارفین نے سولر پینلز پر سرمایہ کاری کی تھی، لیکن نیٹ بلنگ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لاہور کے رہائشی محمد علی کا کہنا ہے کہ ہم نے 8 لاکھ روپے لگا کر سولر پینلز لگائے، تاکہ بجلی کا بل کم ہو اور اضافی بجلی بیچ کر فائدہ ہو، لیکن اب جب نیٹ بلنگ آ گئی ہے، تو ہمیں کم قیمت پر بجلی بیچنی پڑ رہی ہے، جب کہ خریدنی مہنگی پڑتی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین گرڈ بجلی استعمال کرنے والوں پر اضافی 159 ارب کا بوجھ بن گئے وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ سولر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیٹ بلنگ متعارف کرا دی گئی ہے، نیٹ میٹرنگ کے ریٹس کم کر دیے گئے ہیں، صارفین کو کم قیمت پر بجلی بیچنی پڑ رہی ہے اور مہنگی خریدنی پڑ رہی ہے۔ حقیقت میں سولر صارفین کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے اور اس پالیسی کا اصل فائدہ بجلی کمپنیوں کو ہو رہا ہے، جو سستی بجلی خرید کر مہنگی بیچ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے فائدہ صرف بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہوگا، جو سستی بجلی خرید کر مہنگی بیچیں گی۔ سولر صارفین کو جو امید تھی کہ وہ سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھائیں گے، وہ دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ حکومت کی نئی پالیسی سولر صارفین کے حق میں نہیں ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے تحت جو لوگ سرمایہ کاری کر چکے تھے، وہ اب نیٹ بلنگ کے باعث نقصان میں جا رہے ہیں، اگر حکومت واقعی گرین انرجی کو فروغ دینا چاہتی ہے، تو پھر ایسی پالیسیاں کیوں بنا رہی ہے جو سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کریں۔