اپریل 3, 2025 12:40 شام

English / Urdu

اپریل فول: دنیا کے 8 ممالک جہاں مذاق کی انتہا کر دی جاتی ہے

دنیا بھر میں یکم اپریل کو اپریل فول ڈے کے نام سے پکارا جاتا ہے، جس دن لوگ ہنسی مذاق اور شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں، ایک دوسرے کو تنگ کرنا اور غلط خبر دینا عام ہوتا ہے، لیکن کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں یہ روایت ایک سنجیدہ مشن بن جاتی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے انٹرٹینمنٹ ٹائمز کے مطابق اپریل فول کی اصل تاریخ پر مورخین متفق نہیں، لیکن قدیم روم، قرونِ وسطیٰ کا یورپ اور برطانیہ کی مزاحیہ روایات اس دن کی جڑیں سمجھی جاتی ہیں۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں یہ دن منفرد انداز میں منایا جاتا ہے۔ فرانس: ‘اپریل فش’ کا منفرد مذاق فرانس میں لوگ “Poisson d’Avril” یعنی “اپریل فش” کے نعرے کے ساتھ دوسروں کی پیٹھ پر کاغذی مچھلی چپکاتے ہیں۔ اس روایت کی اصل وجوہات تو کوئی نہیں جانتا، لیکن یہ فرانس میں اپریل فول کا روایتی انداز ضرور بن چکا ہے۔ اسکاٹ لینڈ: دو دن کا اپریل فول اسکاٹ لینڈ میں یکم اپریل کو Hunt the Gowk Day منایا جاتا ہے، جس میں لوگوں کو بے کار اور عجیب و غریب کاموں پر بھیجا جاتا ہے، جب کہ اگلے دن Tailie Day منایا جاتا ہے، جس میں شرارتی نوٹس دوسروں کی پیٹھ پر چپکانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پولینڈ: “خبردار! آپ کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے” پولینڈ میں اپریل فول (Prima Aprilis) کے موقع پر ہر کسی کو محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ یہاں ایک مقبول کہاوت ہے: “Prima Aprilis, uważaj, bo się pomylisz!” (اپریل فول، ہوشیار رہو—تمہیں دھوکہ دیا جا سکتا ہے!)۔ اس دن مذاق کا شکار بننے سے بچنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ برازیل: ‘جھوٹ کا دن’ برازیل میں یکم اپریل کو Dia das Mentiras (یعنی جھوٹ کا دن) کہا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن جھوٹی خبریں، سنسنی خیز افواہیں اور حیران کن دعوے عام ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایران: اپریل فول سے پہلے کا تہوار ایران میں اپریل فول سے بھی پرانی ایک روایت موجود ہے جسے سزدہ بدر کہا جاتا ہے۔ یکم یا 2 اپریل کو منائے جانے والے اس دن میں لوگ فطرت کے قریب وقت گزارتے ہیں اور شرارتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جرمنی: خبروں میں مذاق جرمنی میں Aprilscherz کے نام سے اپریل فول کی روایت موجود ہے، جہاں لوگ انتہائی مستند نظر آنے والی جعلی خبریں تیار کرتے ہیں۔ بڑے اخبارات بھی اس کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی کہانیاں شائع کرتے ہیں جو عوام کو حیران کر دیتی ہیں۔ پرتگال: آٹے سے حملہ پرتگال میں اپریل فول کا دن نہیں منایا جاتا، لیکن اس کی جگہ وہ روزوں سے قبل کے دنوں میں شرارتیں کرتے ہیں۔ ان کا سب سے پسندیدہ مذاق دوسروں پر آٹا پھینکنا ہوتا ہے۔ اسپین اور لاطینی امریکہ: اپریل کے بجائے دسمبر میں فول ڈے اسپین اور کئی لاطینی امریکی ممالک 28 دسمبر کو Día de los Santos Inocentes کے نام سے ایک دن مناتے ہیں، جو اپریل فول سے مشابہہ ہے۔ اس دن شرارتوں کی مکمل آزادی ہوتی ہے، اور جو بھی ان چالوں کا شکار ہوتا ہے، اسے بس مسکرا کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان سب سے ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ انسانی فطرت میں مزاح کی محبت ہر جگہ پائی جاتی ہے، مگر اپریل فول کے دن کسی پر بھروسہ کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

امامہ فاطمہ نے امریکی ایوارڈ کو فلسطینیوں کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا

امامہ فاطمہ، جو بنگلہ دیش میں آمریت مخالف تحریک “حسینہ واجد” کی تنظیم ساز اور تعلیمی فرقہ پرستی کے خلاف طالب علموں کی تحریک کی ترجمان ہیں، انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اعلان کردہ ایک معتبر ایوارڈ کو ذاتی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق میڈلین البرائٹ ہونری گروپ ایوارڈ ان خواتین کو دیا جائے گا جنہوں نے جولائی-اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے پرتشدد ریاستی جبر کے خلاف احتجاجی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان خواتین نے غیرمعمولی حوصلہ دکھایا اور وہ سیکورٹی فورسز اور مرد مظاہرین کے درمیان خود کو رکھ کر اپنے احتجاجی عمل کو جاری رکھتی رہیں۔ انہوں نے اپنے مردوں کے گرفتار ہونے کے بعد بھی رابطہ قائم رکھنے اور تحریک کی قیادت کرنے کے لیے تخلیقی طریقے اپنائے، حتیٰ کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سینسرشپ جیسے مسائل کا سامنا کیا۔ ان کی ہم آہنگی اور خود کو قربان کرنے کی صلاحیت نے ان کی ہمت کی حقیقت کو ظاہر کیا۔” لیکن امامہ فاطمہ نے اس ایوارڈ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں اس کے پس پردہ امریکی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ “یہ ایوارڈ ہمارے لیے ایک اعزاز ہے مگر یہ اس ایوارڈ کو اسرائیل کی 2023 میں فلسطین پر وحشیانہ حملوں کی حمایت میں استعمال کیا گیا تھا۔” انہوں نے کہا کہ “یہ ایوارڈ اسرائیل کے حملے کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے جو فلسطینیوں کے حق خودمختاری اور آزادی کو یکسر نظرانداز کرتا ہے۔” امامہ نے مزید کہا کہ “اس ایوارڈ کو فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف استعمال کرنا ان تمام خواتین کے لیے توہین ہے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کی۔” امامہ فاطمہ نے اپنے پیغام کے اختتام پر فلسطین کے لیے یکجہتی کے ساتھ کرتے ہوئے کہا کہ “ہم فلسطین کے حق خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور میں اس ایوارڈ کو ذاتی طور پر مسترد کرتی ہوں۔” یہ الفاظ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کے لیے ایک پیغام ہیں اور عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں کی جانب سے کی جانے والی مبینہ ناانصافیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔  امامہ فاطمہ کا یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ عالمی سیاسی معاملات میں ضمیر کی قیمت پر کوئی ایوارڈ یا اعزاز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی جرات اور عزم نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے لڑنے والوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ مزید پڑھیں:عید پر بھی قیامت، امریکی سرپرستی میں غزہ پر اسرائیلی حملے فلسطینیوں کی خوشیاں چھین گئے

ترکیہ میں ایک دہائی کے دوران سب سے بڑا احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

ہفتے کے روز استنبول میں لاکھوں ترک شہری سڑکوں پر نکل آئے اور ملک کے بڑے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یہ مظاہرے میئر اکرام امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف کیے گئے، جو صدر طیب اردگان کے سب سے بڑے سیاسی حریف تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ ترکی میں ایک دہائی کے دوران ہونے والا سب سے بڑا عوامی احتجاج تھا۔ احتجاج کے دوران امام اوغلو کا ایک خط جلسے میں پڑھ کر سنایا گیا، جس پر مظاہرین نے پرجوش انداز میں نعرے لگائے۔ خط میں امام اوغلو نے کہا کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہیں کیونکہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم متحد ہے اور ظلم کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے، لیکن عوام ہر قسم کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔ گزشتہ ہفتے امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہیں۔ مختلف شہروں میں ہزاروں افراد اپوزیشن کی کال پر سڑکوں پر نکلے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ ان مظاہروں کے دوران اگرچہ زیادہ تر احتجاج پُرامن رہے، لیکن حکام نے اب تک تقریباً دو ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے پر ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی، دیگر اپوزیشن گروپس، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کچھ مغربی ممالک شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امام اوغلو کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے تاکہ انہیں انتخابات میں صدر اردگان کا مضبوط حریف بننے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات حکومت کی جانب سے اپنے ممکنہ مخالفین کو دبانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ ترک حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ آزاد ہے اور اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ امام اوغلو کے خلاف مقدمہ قانونی کارروائی کا حصہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی گئی۔

’قلات میں 6 دہشت گرد ہلاک کردیے‘ پاک فوج کا دعویٰ: بلوچستان کی بڑی شاہراہیں بند 

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالات تاحال گھمبیرہیں، آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع قلات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق قلات میں سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی۔ سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 6 دہشتگرد مارے گئے۔ دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے قلات میں 6 دہشتگرد جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔  صدر مملکت نے قلات میں کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشتگردوں کے خاتمے، ملکی دفاع کیلئے ہمارا عزم غیر متزلزل رہے گا۔ دریں اثنا بلوچستان انتظامیہ نے متعدد اضلاع میں قومی شاہراہوں پر رات میں سفر سے روک دیا گیا۔ مزید پڑھیں: مستونگ: دھرنے کے قریب خودکش دھماکا، اختر مینگل بال بال بچ گئے نوٹیفکیشن کے مطابق قومی شاہراہوں پرشام 6 سے صبح 6 بجے تک سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔ سبی شاہراہ، ژوب ڈی آئی خان شاہراہ اور کوسٹل ہائی وے پر بھی رات کو سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ کوئٹہ تفتان شاہراہ، لورالائی ڈیرہ غازی خان شاہراہ پر بھی رات کا سفر ممنوع قرار دے دیا گیا۔ واضح رہےکہ بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ پر فائرنگ اور مسافروں کو قتل کرنے کے پے درپے واقعات سامنے آئے ہیں اور حال ہی میں گوادر میں بس سے اتار کر 6 مسافروں کو قتل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کوئٹہ سے رات کے اوقات میں پبلک ٹرانسپورٹ کو سفر کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مستونگ: دھرنے کے قریب خودکش دھماکا، اختر مینگل بال بال بچ گئے

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی قیادت میں جاری دھرنے کے قریب مستونگ کے علاقے لک پاس میں مبینہ خودکش دھماکہ ہوا، خوش قسمتی سے سردار اختر مینگل اور دیگر قائدین محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق خودکش بمبار نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے احتجاج کے قریب دھماکہ کیا۔ عینی شاہدین نے کا کہنا ہے کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس نے قریبی علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔ بی این پی کے ترجمان غلام نبی مری کے مطابق خودکش حملہ آور اسٹیج کے قریب جانا چاہتا تھا، لیکن سردار اختر مینگل کے ذاتی محافظوں نے اسے مشکوک جان کر روک لیا اور دھرنے کے پنڈال سے باہر نکال دیا، جس پر حملہ آور نے خود کو وہاں دھماکے سے اڑا لیا۔ سردار اختر مینگل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ حملہ آور نے دھرنے سے تقریباً 400 گز کے فاصلے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں بی این پی کے چار کارکن زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کسی تنظیم سے کوئی خطرہ نہیں، اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ سرکار سے ہے۔ حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین کی گرفتاری کے خلاف بی این پی نے 28 مارچ کو وڈھ خضدار سے لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ یہ مارچ مختلف شہروں سے گزرتا ہوا لک پاس پہنچا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے ٹینل کے قریب کنٹینرز لگا کر راستہ بند کر دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد بی این پی نے لک پاس میں دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ ضرور جائیں گے اور جب تک گرفتار خواتین کو رہا نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ بی این پی نے کوئٹہ میں دھرنے کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث درخواست مسترد کر دی گئی۔

’ترقی ہوتی تو حالات ایسے نہ ہوتے‘ بلوچستان سونے کی چڑیا یا دہکتا انگارہ؟

2015 میں جب چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کا معاہدہ ہوا تو اسے پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دیا گیا۔ یہ منصوبہ 62 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل تھا، جس کے تحت انفراسٹرکچر، توانائی، اور تجارتی ترقی کو فروغ دینے کے دعوے کیے گئے تھے۔ گوادر کو سی پیک کا دل کہا گیا اور حکومت نے بارہا یقین دلایا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کے عوام کے لیے خوشحالی لے کر آئے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت مستحکم ہوگی۔ مگر آج ایک دہائی گزرنے کے باوجود گوادر کے مقامی ماہی گیر روزگار کے لیے پریشان ہیں، بلوچستان میں بے روزگاری اپنی انتہا کو چھو رہی ہے اور ترقی کے وعدے صرف کاغذات تک محدود نظر آتے ہیں۔ یہی صورتحال ریکوڈک منصوبے کی بھی ہے، جہاں بیرک گولڈ کارپوریشن اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ بلوچستان جو معدنیات کے بے شمار خزانوں کا مالک ہے، وہاں کے عوام ان وسائل کے ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟ بلوچستان کے مقامی صحافی ببرک کارمل جمالی اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کا فائدہ مقامی معیشت کو نہیں ہو رہا اور یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ بلوچستان کے وسائل پر قابض عناصر جن میں سردار، جاگیردار اور کچھ بین الاقوامی کمپنیاں شامل ہیں، ان وسائل کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ نتیجتاً بلوچستان کی معیشت ترقی کے بجائے مزید زوال کا شکار ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے اہم منصوبوں میں ریکوڈک اور سینڈک شامل ہیں، جہاں تانبہ، سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں نکالی جا رہی ہیں۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں سے نکلنے والے اربوں ڈالر کے معدنی ذخائر کے باوجود بلوچستان کے عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کے مطابق اگر بلوچستان میں واقعی ترقی ہو رہی ہوتی تو مقامی آبادی کے حالات بہتر ہوتے، صحت اور تعلیم کے شعبے مستحکم ہوتے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے۔ مگر یہاں حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان سے نکلنے والے وسائل کا فائدہ زیادہ تر غیر ملکی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کو ہو رہا ہے، جب کہ مقامی افراد کو ان کا جائز حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ ریکوڈک جہاں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تانبے اور سونے کا ذخیرہ موجود ہے، ایک بار پھر خبروں کی زینت بنا جب 2022 میں بیرک گولڈ کارپوریشن اور حکومتِ پاکستان کے درمیان نیا معاہدہ طے پایا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ بلوچستان کو اس منصوبے سے 25 فیصد حصہ ملے گا، مگر بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں اس معاہدے پر سخت اعتراض کر رہی ہیں۔ ببرک کارمل جمالی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ 25 فیصد حصہ ایک دکھاوا ہے۔ اصل منافع تو بیرونی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کی تجوری میں جائے گا۔ اگر واقعی بلوچستان کو اس کا جائز حصہ دیا گیا ہے، تو اس کا اثر مقامی ترقی پر کیوں نظر نہیں آتا؟ ریکوڈک سے نکلنے والے وسائل مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیوں نہیں ہو رہے؟” اس حوالے سے ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کیے جانے والے معاہدے شفاف نہیں ہوتے۔ اگر ریکوڈک میں بلوچستان کا 25 فیصد حصہ تسلیم کر بھی لیا جائے، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ رقم کس طرح خرچ کی جا رہی ہے۔ کیا یہ مقامی لوگوں کی فلاح پر خرچ ہو رہی ہے؟ کیا بلوچستان کے اسکولوں، اسپتالوں اور انفراسٹرکچر پر کوئی فرق پڑا ہے؟ اگر نہیں، تو یہ صرف ایک سیاسی بیان ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بلوچستان کے وسائل کا استحصال صرف معدنیات کی حد تک محدود نہیں، بلکہ یہاں کے مقامی افراد کو اعلیٰ ملازمتوں سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ ببرک کارمل جمالی کے مطابق بلوچوں کو اعلیٰ ملازمتیں نہ دینے کا سوال ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ ماضی میں ترقیاتی منصوبوں میں بلوچوں کو ترجیح دی جاتی تھی، مگر آج ایسا نہیں ہے۔ سرداری نظام اور جاگیردارانہ سوچ کی وجہ سے مقامی لوگ خود بھی مزدوری کو حقیر سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف حکومتی پالیسیوں اور ادارہ جاتی ناانصافی کی وجہ سے بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں برابری کے مواقع نہیں دیے جاتے۔ ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالتے ہیں کہ بلوچ نوجوانوں کے لیے اعلیٰ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے، انہیں صرف نچلے درجے کی ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر زیادہ تر افراد دوسرے صوبوں سے آتے ہیں۔ اگر بلوچستان کی ترقی کا خواب حقیقت بنانا ہے، تو مقامی افراد کو ان کے وسائل پر خود مختاری دینی ہوگی اور انہیں ان منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دینا ہوگا۔ بلوچستان میں تعلیمی شعبہ بھی شدید زوال کا شکار ہے۔ تعلیمی ادارے جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے زیر اثر ہیں، جس کی وجہ سے عام بلوچ طالب علموں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ ببرک کارمل جمالی کہتے ہیں کہ بلوچستان میں اسکالرشپ حاصل کرنا بھی ایک مشکل کام بن چکا ہے۔ زیادہ تر تعلیمی وظائف (اسکالرشپ) سرداروں، جاگیرداروں اور بااثر خاندانوں کے افراد کو دیے جاتے ہیں، جب کہ عام بلوچ طلبہ کو محروم رکھا جاتا ہے۔ اس سفارش کلچر نے بلوچستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے جو آمدنی حاصل ہو رہی ہے، اسے تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ بلوچستان کے نوجوان اگر تعلیم یافتہ ہوں گے، تو وہ خود ان وسائل سے استفادہ کر سکیں گے اور پھر باہر سے کمپنیوں کو بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بلوچستان کے معدنی وسائل، سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے اس وقت تک مقامی لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتے، جب تک کہ ان میں شفافیت، مقامی افراد کی شرکت اور وسائل کی منصفانہ

سیفٹی انڈیکس: پاکستان نے امریکا، برطانیہ اور انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا

پاکستان نے 2025 کی عالمی سیفٹی انڈیکس رپورٹ میں نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور بھارت جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ رپورٹ عالمی سطح پر سیکیورٹی اور جرائم کی شرح کا جائزہ لینے والے کراؤڈ سورسڈ پلیٹ فارم نمبو نے جاری کی ہے، جس میں مختلف ممالک کی سیکیورٹی صورتحال کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 65ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، اور اس کا سیفٹی اسکور 56.3 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس درجہ بندی میں بھارت 66ویں نمبر پر 55.7 اسکور کے ساتھ، برطانیہ 87ویں نمبر پر، امریکہ 89ویں نمبر پر، آسٹریلیا 82ویں نمبر پر اور نیوزی لینڈ 86ویں نمبر پر رہا۔ پاکستان کی اس درجہ بندی میں بہتری کو ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نمبو کے مطابق، دنیا کا سب سے محفوظ ملک اندورا قرار پایا ہے، جس کا سیفٹی اسکور 84.7 ہے۔ یہ یورپی ملک اپنی کم جرائم کی شرح اور پرسکون ماحول کے باعث سیاحوں کے لیے ایک محفوظ ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ دیگر محفوظ ممالک میں متحدہ عرب امارات (84.5)، قطر (84.2)، تائیوان (82.9)، عمان (81.7)، سعودی عرب (76.1) اور چین (76.0) شامل ہیں۔ مزید پڑھیں: ’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی درجہ بندی متاثر ہوئی ہے۔آسٹریلیا 82ویں نمبر پر 52.7 اسکور کے ساتھ، نیوزی لینڈ 86ویں نمبر پر 51.8 اسکور کے ساتھ، برطانیہ 87ویں نمبر پر اور امریکہ 89ویں نمبر پر 50.8 اسکور کے ساتھ رہا۔ فرانس 110ویں نمبر پر 44.6 اسکور کے ساتھ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں وینزویلا پہلے نمبر پر آیا ہے، جس کا سیفٹی اسکور 19.3 ہے۔ دیگر غیر محفوظ ممالک میں پاپوا نیو گنی (19.7)، ہیٹی (21.1)، افغانستان (24.9) اور جنوبی افریقہ (25.3) شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی وجوہات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اور شہروں میں جرائم کی شرح میں کمی شامل ہیں۔ نمبو کی سیفٹی انڈیکس رپورٹ مسافروں اور مقامی شہریوں کے سرویز اور تجربات پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں جرائم کی شرح، چوری، ڈکیتی، ہراسانی اور پرتشدد واقعات کے ڈیٹا کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ مسافروں کو مختلف ممالک کی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ تاہم، نمبو کی ٹیم کے مطابق، یہ انڈیکس عوامی آراء اور صارفین کے فراہم کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے، جو بعض اوقات سرکاری سطح پر جاری کردہ اعداد و شمار سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

سائفر: وہ سازش جس کے تاحال کوئی ثبوت نہیں ملے

27 مارچ 2022 کو اس وقت کے وزیرِاعظم عمران خان نے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کے دوران ایک خط لہرا کر یہ دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف ایک غیر ملکی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول یہ دستاویز اس بات کا ثبوت تھی کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔ ماہر امور سیاسیات پروفیسر رعیت علی نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بیانیہ ایک سیاسی حکمت عملی زیادہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ کسی عدالتی یا بین الاقوامی تحقیقات میں سازش کے ثبوت نہیں ملے۔ تاہم عمران خان کے حامیوں میں اس بیانیے کی مقبولیت نے ان کے ووٹ بینک کو کافی مضبوط کیا۔” سابق وزیراعظم عمران کا دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لا چکی تھیں اور سیاسی منظرنامہ شدید کشیدگی کا شکار تھا۔ اس دعوے کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مزید بڑھ گئی اور بحث چھڑ گئی کہ آیا واقعی بیرونی طاقتیں حکومت گرانے میں ملوث تھیں یا نہیں۔ ماہر امور سیاسیات پروفیسر محمد بلال نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان جیسے ممالک میں بیرونی قوتوں کا اثر و رسوخ تاریخی طور پر موجود رہا ہے۔ مگر حکومتوں کی تبدیلی میں براہ راست سازش کے ثبوت شاذ و نادر ہی سامنے آئے ہیں۔” عمران خان نے جلسے میں اس خط کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ بعد ازاں، حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ “سائفر” ایک سفارتی مراسلہ تھا جو پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نے بھیجا تھا اور جس میں امریکی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی بات کی گئی تھی۔ سائفر اور بیرونی سازش کا معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب نیشنل سکیورٹی کمیٹی (NSC) نے اس سائفر کا جائزہ لیا اور تسلیم کیا کہ غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی تھی، تاہم کسی باقاعدہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔ اس اجلاس کے بعد پاکستان نے امریکہ کو باضابطہ طور پر ڈیمارچ یعنی سفارتی احتجاج بھی ریکارڈ کرایا، مگر امریکی حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ اس حوالے سے پروفیسر رعیت علی کا کہنا ہے کہ “ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا،سابق وزیراعظم پاکستان محمد علی بوگرا اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومتوں کا خاتمہ ایسے واقعات ہیں جن پر بیرونی اثرات کے الزامات لگے مگر تاریخی شواہد ابہام کا شکار ہیں۔” چند روز بعد اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور وہ وزارتِ عظمیٰ سے برطرف ہو گئے۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت کو بیرونی طاقتوں کے اشارے پر گرایا گیا۔ جبکہ حزبِ اختلاف اور فوجی قیادت نے اس بیانیے کی سختی سے تردید کی۔ پروفیسر محمد بلال کے مطابق “سازش کے شواہد کمزور تھے مگر سفارتی دباؤ ہمیشہ رہتا ہے۔ عمران خان کے بیانیے نے عوام میں پذیرائی حاصل کی لیکن عالمی سطح پر اسے قبولیت نہ ملی۔” سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی متحدہ کوششوں، ان کے بعض پالیسی فیصلوں اور فوج سے کشیدہ تعلقات نے بھی ان کے اقتدار کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔ عمران خان کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد، ان کے خلاف مختلف نوعیت کے درجنوں مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں بدعنوانی، توشہ خانہ کیس، سائفر کیس اور احتجاج میں تشدد بھڑکانے جیسے الزامات شامل ہیں۔ پروفیسر رعیت علی کے نزدیک ” سیاسی بنیادوں پر مقدمات جمہوریت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر حکومت اپنے مخالفین کے خلاف ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے جس سے سیاسی نظام کمزور ہوا ہے۔” مئی 2023 میں عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا گیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں شدید احتجاج اور مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اس دوران کئی مقامات پر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جسے ریاست نے بغاوت کے مترادف قرار دیا۔ اس کے بعد 5 اگست کو عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں زمان پارک لاہور ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا اور انہیں اٹک جیل منتقل کیا اس کے اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تھا اور تاحال وہ اڈیالہ جیل میں ہی ہیں۔ پروفیسر محمد بلال کا کہنا ہے کہ ” ایسی صورتحال پاکستان میں سیاسی پولرائزیشن کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اگر تحریک انصاف کو مزید دبایا گیا تو اس کے ردعمل میں عوامی احتجاج شدید ہو سکتا ہے۔” اب تک سامنے آنے والی تحقیقات میں یہ تو واضح ہوا کہ سفارتی سائفر میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی، مگر کسی منظم غیر ملکی سازش کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ امریکہ نے بھی کئی بار ایسے الزامات کو مسترد کر دیا، جب کہ پاکستان کے ریاستی ادارے بھی باضابطہ طور پر کسی “سازش” کے تاثر کو رد کر چکے ہیں۔ پروفیسر رعیت علی کا کہنا ہے کہ ” سائفر جیسے معاملات عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی ساکھ پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی خط و کتابت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔” عمران خان کے حامی اب بھی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہیں ایک باقاعدہ سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا جب کہ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ سب ایک سیاسی بیانیہ ہے جسے اقتدار میں واپسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر محمد بلال کا کہنا ہے کہ “عمران خان کے بیانیے نے نوجوان ووٹرز کو متحرک کیا ہے جو انہیں انتخابات میں فائدہ دے سکتا ہے۔ تاہم قانونی پیچیدگیاں ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔” عمران خان اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی پارٹی PTI کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ مگر اس کے باوجود حالیہ انتخابات میں ان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد میں کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اب بھی ایک مقبول رہنما ہیں۔ پروفیسر رعیت علی

چینی اے آئی انڈسٹری سے خوفزدہ امریکا نے پاکستان سمیت مختلف ممالک کی 70 کمپنیوں پر پابندی لگادی

ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے خلاف کام کررہی ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، جن کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں 19 پاکستانی، 42 چینی، اور4 متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران، تائیوان، فرانس، سینیگال، اور برطانیہ کی کچھ کمپنیاں بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکا نے پاکستان کی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سے پہلے اپریل 2024 میں بھی امریکا نے کچھ چینی اور بیلاروسی کمپنیوں پر پاکستان کے میزائل پروگرام میں تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی پاکستانی کمپنیوں میں الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ، گلوبل ٹریڈرز، انڈنٹیک انٹرنیشنل، لنکرز آٹومیشن پرائیویٹ لمیٹڈ، اوٹو مینوفیکچرنگ، پوٹھوہار انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ کنسرن، پراک ماسٹر، اور رسٹیک ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں یہ کمپنیاں امریکی کمپنیوں سے کاروبار نہیں کر سکیں گی اور ان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی جن پر پابندی عائد کی گئی ۔ مزید پڑھیں: امریکا کے روس اور یوکرین کے ساتھ ‘الگ الگ’ معاہدے: کب اور کیسے نافذ ہوں گے؟ دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے برآمدی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے، اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کو عام کرنے سے باز رہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے سینئر لیکچرار اور مصنف ایلکس کیپری کا کہنا ہے کہ بلیک لسٹ تازہ ترین اضافہ تیسرے ممالک، ٹرانزٹ پوائنٹس اور ثالثوں کے لیے بڑھتا ہوا جال ہے۔ انہوں نے پابندیوں کے باوجود چینی کمپنیوں کو امریکی ٹیکنالوجیز تک رسائی کی اجازت دینے والی خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنیاں بعض تیسرے فریقوں کے ذریعے امریکی اسٹریٹجک دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ امریکی حکام این ویڈیا کے ذریعہ تیار کردہ جدید سیمی کنڈکٹر کی اسمگلنگ کے مقصد سے ٹریکنگ اور ٹریسنگ آپریشنز کو تیز کرنا جاری رکھیں گے۔ برآمدات پر عائد پابندیاں ایک ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین کے خلاف محصولات میں اضافے کی وجہ سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی اے آئی اسٹارٹ اپ ’ڈیپ سیک‘ کے تیزی سے عروج نے چین میں اوپن سورس کم لاگت والے اے آئی ماڈلز کو اپنانے میں اضافہ کیا ہے، جس سے اعلی لاگت، ملکیتی ماڈلز کے ساتھ معروف امریکی حریفوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے چین کے خلاف بڑے پیمانے پر برآمدی کنٹرول نافذ کیے تھے، جس میں سیمی کنڈکٹر سے لیکر سپر کمپیوٹرز تک ہر چیز کو نام نہاد ’اسمال یارڈ، ہائی فینس‘ پالیسی کے تحت شامل کیا گیا، اس نقطہ نظر کا مقصد دیگر علاقوں میں معمول کے معاشی تبادلے کو برقرار رکھتے ہوئے اہم فوجی صلاحیت کے ساتھ چھوٹی تعداد میں ٹیکنالوجیز پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔ کامرس فار انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی کے انڈر سیکریٹری جیفری آئی کیسلر نے کہا کہ امریکی ایجنسی ایک واضح اور شاندار پیغام بھیج رہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی ٹیکنالوجی کو اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ، ہائپرسونک میزائلوں، فوجی طیاروں کی تربیت، اور یو اے وی (بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑی) کے لیے غلط استعمال سے روکے گی جو ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کی فہرست ہمارے پاس موجود بہت سے طاقتور ذرائع میں سے ایک ہے، جو غیر ملکی مخالفین کی نشاندہی کرنے اور انہیں کاٹنے کے لیے ہے، جو نقصان دہ مقاصد کے لیے امریکی ٹکنالوجی کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

آئی ایم ایف اور حکومتی پالیسیاں، عوام کو ریلیف کب ملے گا؟

حکومت نے عوام کو بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی امید دلائی تھی، لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کے باعث یہ وعدہ تاحال ادھورا ہے۔ پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت پہلے دو سالہ جائزے کے عمل میں ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے (SLA) پر جاری مذاکرات حکومتی ریلیف پیکیج کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ توقع کی جارہی تھی کہ وزیراعظم 23 مارچ کو قوم سے خطاب میں بجلی کے نرخوں میں 8 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کریں گے۔ تاہم یومِ پاکستان کی تقریر میں اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا، جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔ وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں توانائی کے شعبے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی توقیر شاہ، وزیر توانائی اویس لغاری، احد چیمہ، اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔ واضح رہے کہ حکومت نے 15 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا، حالانکہ پیٹرولیم ڈویژن اور آئل ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے فی لیٹر کمی کی تجویز دی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس ممکنہ مالیاتی مارجن کو بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جا رہی تھی، جس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کا ارادہ تھا۔ تاہم اس پیکیج کو حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے اس پر اعتراضات اٹھائے۔ حکومت نے 4 سے 14 مارچ کے دوران ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف کے ساتھ ایک منصوبہ شیئر کیا، جس کے تحت انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے معاہدوں پر نظرثانی کے ذریعے ٹیرف میں تقریباً 2 روپے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ بعد ازاں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 10 روپے اضافے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں فنانس ایکٹ 2025 کے تحت زیادہ سے زیادہ 70 روپے فی لیٹر لیوی مقرر کی گئی۔ اس اقدام سے توقع کی جا رہی تھی کہ بجلی کے نرخوں میں مزید 2 سے 2.5 روپے فی یونٹ کمی کی جا سکے گی۔ حکومتی حکام کے مطابق چونکہ یہ ایک ‘ریونیو نیوٹرل’ حکمت عملی تھی (یعنی اس میں اضافی سبسڈی شامل نہیں تھی) اس لیے آئی ایم ایف کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم آئی ایم ایف نے پاکستان کی مجموعی مالی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس پیکیج کی افادیت پر سوالات اٹھائے، جس کے باعث حکومت کو اس پر مزید غور کرنا پڑا۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کے راستے میں ایک اور بڑی رکاوٹ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے قواعد و ضوابط ہیں۔ نیپرا کو ملک کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی جانب سے سالانہ بیس ٹیرف پر نظرثانی کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ حکومت نے سول-ملٹری ٹاسک فورس کے ساتھ مشاورت کے بعد 6 سے 7 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی کوشش کی، مگر نیپرا کی منظوری کے بغیر اس عمل کو مکمل کرنا ممکن نہیں تھا۔ مزید برآں سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں متوقع تبدیلیاں بھی نیپرا کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جو مستقبل میں گھریلو اور صنعتی صارفین کے بجلی کے نرخوں میں کمی یا اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ پاکستان میں خطے کی مہنگی ترین بجلی معیشت کے لیے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اضافی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے آئندہ چند ہفتوں میں بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اضافی رقم اکٹھی کر رہی ہے، تاکہ بجلی کے نرخوں میں کمی ممکن بنائی جا سکے۔ ‘یہ اسی سمت ایک چھوٹا سا قدم ہے، لیکن جو بھی اضافی وسائل حاصل کیے جائیں گے، وہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال ہوں گے۔ حکومت اپنے وسائل سے بھی اس میں تعاون کرے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔’ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، جنوبی افریقہ اور کینیا جیسے ممالک میں بجلی پاکستان کے مقابلے میں سستی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری ان ممالک میں جا رہی ہے اور پاکستان پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا بھر میں بجلی کے نرخ کم ہیں، تو پاکستان میں بجلی اتنی مہنگی کیوں ہے؟ آپ کی گیس اور بجلی میں ایسی کیا خاصیت ہے کہ آپ انہیں عالمی معیار سے مہنگے داموں بیچ رہے ہیں؟ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہماری پالیسیاں ناکام، یوٹرن سے بھرپور اور لالچ پر مبنی ہیں۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان و پاکستان بزنس فورم کے صدر محمد کاشف چوہدری نے بجلی کی بنیادی قیمت میں کمی اور بلوں پر لگائے گئے 13 قسم کے ٹیکسوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکمرانوں نے فوری طور پر بجلی کی قیمتیں کم نہ کیں تو عید الفطر کے بعد دوبارہ ملک گیرسطح پر عوامی تحریک شروع کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے میں کمی کرنے کے لیے ہم نے 28 اگست کو تاریخ ساز ہڑتال کی اور بعد میں تاجروں اور عوام کے مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں حکمرانوں کو آئی پی پیز سے بات چیت کرنے پر مجبور کیا، اس سے پہلے حکومت آئی پی پیز سے بات کرنے کو شجر ممنوعہ قرار دیتی تھی۔ کاشف چوہدری نے کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی سے اربوں روپے کی بچت شروع ھو چکی ہے، لیکن اربوں روپے کی بچت عوام تک ریلیف کی شکل