اپریل 4, 2025 7:26 صبح

English / Urdu

بنگلہ دیش سے بڑھتے پاک-چین تعلقات سے انڈیا خوفزدہ

بنگلہ دیش کے چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں گزشتہ کچھ برسوں سے جو نیا موڑ آیا ہے وہ نہ صرف جنوبی ایشیا کی سیاست میں اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ انڈیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر اُبھرا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان روابط میں اعتماد اور تعاون کے امکانات دیکھے جا رہے ہیں جس کا اثر انڈین سیاسی اور سفارتی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ رکھتے ہیں۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش کے قیام نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات پیدا کر دیے تھے۔ اس کے بعد پاکستان نے طویل عرصے تک بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی تھی، تاہم 1974 میں اس نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا۔ 2024 میں شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں نئی قیادت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے قدم اٹھایا تھا۔ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری آئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی، اور فوجی تعلقات کی نئی بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اقتصادی تعاون، فوجی تربیت اور مشترکہ مشقوں کا آغاز ہو رہا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج بنگلہ دیشی فوج کو تربیت فراہم کریں گی اور 2025 میں دونوں افواج مشترکہ مشقوں میں حصہ لیں گی۔ یہ فوجی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرے گا جبکہ یہ قربت انڈیا کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر سلیم منصور خالد کا پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ “موجودہ حالات سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا نے بنگلہ دیش میں اپنے اثرات کو گہرائی تک پھیلایا ہوا ہے جیسا کہ سماجی، تعلیمی، اور فوجی شعبوں میں بھی انڈیا کے افراد کی موجودگی ہے۔” انکا کہنا تھا کہ “بنگلہ دیش اپنی آزادی حاصل کرنے کے باوجود انڈیا کی براہ راست مداخلت کا شکار ہے۔ اسی لیے دنیا کو چاہیے کہ وہ بنگلہ دیش کا ساتھ دے، خاص طور پر چین، پاکستان، اور عرب ممالک کو بنگلہ دیش کا ساتھ دینا چاہیے جو کہ انکا فطری مطالبہ ہے۔” دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر کی نظریں چین اور بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات پر جمی ہوئی ہیں جس کا براہ راست اثر جنوبی ایشیا کی سیاسی حرکیات پر پڑنے والا ہے۔ حالیہ دنوں میں تینوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جو انڈیا کے لیے بہت سے محاظ پر مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سب کے چلتے بنگلہ دیش کی نئی خارجہ پالیسی نے انڈیا کے ساتھ ٹیلی کام کے معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے اور پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھا دی ہے۔ یہ بھی پڑھیں:“انڈین روپیہ ایشیا کی بہترین کرنسی بن گیا” اسی طرح پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کے لیے ویزہ فیس بھی ختم کر دی ہے جبکہ چٹاگانگ اور کراچی کے مابین فاصلے سمٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب چین نے بنگلہ دیش میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے متعدد منصوبوں کا آغاز کیا ہے، جن میں سڑکیں، پل، اور بندرگاہیں شامل ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف بنگلہ دیش کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کے تحت انڈیا کے ہمسایہ ممالک میں بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت بھی ہیں۔ چین کا بنگلہ دیش میں اثرو رسوخ انڈیا کی سیکیورٹی اور اقتصادی مفادات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ منصور خالد کا کہنا تھا کہ “چین کی سرمایہ کاری یقینی طور پر انڈیا کی معاشی گرفت کو کسی حد تک کمزور کرے گی”۔ اس کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش میں قائد اعظم محمد علی جناح کی سالگرہ منائی گئی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجے جس سے دونوں ممالک کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو انڈین سیاست دانوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ بنگلہ دیشی انتظامیہ کے سربراہ محمد یونس نے بھی پاکستان کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے 1971 کے جنگی جرائم کے مسئلے پر شیخ حسینہ واجد کی طرح سخت موقف اپنانے سے بھی گریز کیا ہے۔ منصور خالد نے مزید کہا کہ “جہاں تک پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان رقابت کا سوال ہے، یہ بات واضح ہے کہ انڈیا نے مشرقی پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا اور 54 سال بعد بھی وہ نہیں چاہے گا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے۔” پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فوجی تعاون میں اضافہ انڈیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے انڈیا کی پریشانیوں کو بڑھا دیا ہے کیونکہ فوجی تربیت اور افسران کے تبادلے کے دوران نہ صرف خیالات کا اشتراک ہوتا ہے بلکہ غلط فہمیوں کا بھی ازالہ ممکن ہوتا ہے جو مستقبل میں تعلقات کی مضبوطی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سب کے علاوہ بنگلہ دیش نے اپنے نصاب میں تبدیلیاں کی ہیں اور اپنے قومی ہیروز کو نئے سرے سے متعارف کرایا، جس سے انڈیا کے اثرات بھی کم ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کے بڑھتے تعلقات انڈیا کے لیے سٹریٹیجک چیلنج بن سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں چین کی موجودگی انڈیا کے مغربی اور مشرقی سرحدوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات انڈیا کی سلامتی اور اقتصادی مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں خاص طور پر خطے میں چین کا اثر بڑھتا ہے۔ بین لااقوامی امور کے ماہر منصور خالد نے پاکستان میٹرز سے مزید کہا کہ ” چین بہت عرصہ پہلے بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور یاد رہے کہ 2024 میں جب بنگلہ دیش میں سیاسی ہنگامے شروع ہوئے تھے تو اس وقت کی وزیراعظم حسینہ واجد چین کا دورے پر ہی تھیں لیکن

حماس کو ‘دہشت گرد’ کہنے پر پاکستانی اینکر شاہ زیب خانزادہ کی ٹرولنگ

نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے معروف اینکر شاہ زیب خانزادہ ایک نئےتنازع کا شکار ہوگئے، حماس کو ‘دہشتگرد’ کہنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اینکر شاہزیب خانزادہ کو ٹرول کیا جارہا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اینکر نے اپنے پروگرام میں حماس کی 7 اکتوبر 2023 کی کارروائیوں کو ‘دہشتگرد حملہ’ قرار دیا۔ ان کے اس بیان پر مختلف سیاسی، مذہبی اور صحافتی حلقوں سے سخت ردعمل سامنے آیا اور سوشل میڈیا پر ان کی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ 22 مارچ 2025 کو نشر ہونے والے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام تر صورت حال پر ایک چیز واضح ہوتی نظر آ رہی ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گرد حملوں کے بعد جو خطے کا نیا منظر نامہ بن رہا ہے، اس میں ایران جو کچھ عرصہ پہلے تک خطے میں مضبوط پوزیشن رکھتا تھا، اب انتہائی کمزور نظر آ رہا ہے۔ In his show, @shazbkhanzdaGEO called Hamas’ resistance against Israel as “terrorist attacks”. What is he really trying to portray here? First, we hear about Pakistan’s secret delegation to Israel, and now this?! pic.twitter.com/5Gj78oSbsz — Ahmed (@ThisahmedR) March 22, 2025 انہوں نے مزید کہا کہ ایران کچھ ایسی تنظیموں کی حمایت کرتا رہا ہے،  جو خطے میں ایرانی مفادات کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی نشانہ بناتی رہی ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ کے اس بیان پر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سمیت مختلف صحافیوں نے  کڑی تنقید کرتے ہوئے  اس  مؤقف کو ‘جانبدارانہ’ اور ‘صحافتی بددیانتی’ قرار دیا۔ سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ جیو نیوزکے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹی وی پر حماس کو دہشتگرد کہنا قابل مذمت ہے۔ میں اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میر شکیل الرحمان جواب دیں۔ عوام خاموش نہیں رہیں گے۔جیو نیوز انتظامیہ کے خلاف احتجاج کریں گے۔ جیو نیوزکے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹی وی پر حماس کو دہشتگرد کہنا قابل مذمت ہے۔ میں اس اقدام کی… pic.twitter.com/tDN6gZ6mJA — Dr.Sabir Abu Maryam (@DrSabirplf) March 23, 2025 ممبر جمیعت علمائے اسلام ڈاکٹر احمد مصطفیٰ نے کہا کہ جیو نیوز کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹی وی پر حماس کو دہشتگرد کہنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ پاکستان 🇵🇰 جیو نیوز کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں tvپر حماس کو دہشتگرد کہنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے pic.twitter.com/0qeV8Szjek — Dr-Ahmad Mustafa (@DrAhmad_Mustafa) March 24, 2025 سچ نیوز کے صحافی ہرمیت سنگھ نے کہا کہ جیو ٹی وی اور اینکر شاہزیب خانزادہ کی جانب سے حماس کے عالمی طور پر تسلیم شدہ حق دفاع اور اپنی سرزمین کے لیے جائز جدوجہد و مقاومت کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے پر شدید مذمت کرتا ہوں۔ جیو نیوز اس پر پاکستانی اور فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے معافی مانگے۔ جیو ٹی وی اور اینکر شاہزیب خانزادہ کی جانب سے حماس کے عالمی طور پر تسلیم شدہ حق دفاع اور اپنی سرزمین کیلئے جائز جدوجہد و مقاومت کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے پر شدید مذمت کرتا ہوں۔ جیو نیوز اس پر پاکستانی اور فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے معافی مانگے۔@shazbkhanzdaGEO… pic.twitter.com/WWOrYHiZCF — Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk) March 23, 2025 مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایکس پر لکھا کہ میں جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے 7 اکتوبر کے آپریشن “طوفان الاقصیٰ” کو دہشتگردی قرار دینے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ مؤقف نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی کے خلاف کھلی جانبداری بھی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حماس اہلِ فلسطین کی سب سے مضبوط اور منظم تحریک ہے، جو اپنے مظلوم عوام، سرزمینِ فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ ان کی جدوجہد حق، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اور تاریخ میں ان قربانیوں کو ہمیشہ عزت سے یاد رکھا جائے گا۔ جیو نیوز کی انتظامیہ اس مؤقف پر قوم سے معافی مانگے اور حقائق کو درست انداز میں پیش کرے۔ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو دہشتگردی کہنا سراسر ظلم اور سچائی سے انحراف ہے۔ میں جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے 7 اکتوبر کے آپریشن “طوفان الاقصیٰ” کو دہشتگردی قرار دینے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ مؤقف نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی کے خلاف کھلی جانبداری بھی ہے۔ حماس اہلِ… — Senator Allama Raja Nasir (@AllamaRajaNasir) March 23, 2025 معروف نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ‘آسان سی بات ہے کہ شاہ زیب خان زادہ کو چاہیے کہ اپنی اس غلطی پر معذرت کرلے یا سوشل میڈیا پر وضاحت کردے کہ ایسا دانستہ نہیں بلکل سہواً ہوا ہے۔ ورنہ تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ وہ حماس کے بارے میں میں یہی خیالات رکھتا ہے اور جو بھی یہ خیالات رکھتا ہے تو اس کے متعلق ہمارے اندر غصے و نفرت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔’ واضح رہے کہ شاہ زیب خانزادہ اور جیو نیوز کی جانب سے تاحال اس تنقید پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

غزہ میں اسرائیلی حملہ، حماس کے رہنما سمیت 5 افراد شہید

اتوار کے روز اسرائیل نے غزہ کے ایک اسپتال پر فضائی حملہ کیا، جس میں حماس کے ایک سیاسی رہنما سمیت 5 افراد ہلاک ہو گئے۔ فلسطینی حکام اور حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یہ حملہ ایک اہم شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے کیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اس حملے سے خان یونس کے ناصر اسپتال کے سرجری وارڈ کو نقصان پہنچا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ حملہ مکمل تحقیق کے بعد کیا گیا اور اس میں ایسا گولہ بارود استعمال ہوا جو نقصان کو کم کرے۔ حماس کے مطابق، مارے جانے والا رہنما اسماعیل برہوم تھا، جو حماس کے سیاسی دفتر کا رکن تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی اس کی تصدیق کی۔ حماس کا کہنا ہے کہ برہوم پہلے سے ہی اسپتال میں زیر علاج تھا، کیونکہ وہ ایک پچھلے حملے میں زخمی ہو چکا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس جان بوجھ کر اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں میں چھپتی ہے، لیکن حماس اس بات سے انکار کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ اسپتال کی تیسری منزل پر آگ لگی ہوئی تھی، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دو ماہ کی جنگ کے بعد، اسرائیل نے حماس کے خلاف ایک نئی فضائی اور زمینی مہم شروع کر دی ہے، جس سے غزہ کے شہری ایک بار پھر جان بچا کر بھاگ رہے ہیں۔ حماس کے ایک اور رہنما، صلاح البرداویل بھی خان یونس میں ایک الگ حملے میں مارے گئے۔ اسرائیل نے ہفتے کے روز اس کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اطلاعات کے مطابق، برہوم اور برداویل، حماس کی 19 رکنی فیصلہ ساز کونسل کے رکن تھے، جن میں سے 11 جنگ شروع ہونے کے بعد مارے جا چکے ہیں۔ اتوار کو غزہ کے شمالی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جب اسرائیل نے ان مقامات پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں مزید آپریشن کے لیے تیاریاں کر رہی ہے، اور اس نے جنگی ٹینکوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ غزہ میں اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 فلسطینی ہلاک ہوئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق، اب تک جاری جنگ میں مرنے والوں کی تعداد 50,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن وہ فلسطینی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار پر سوال اٹھاتی ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق، مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان میں تقریباً 20,000 حماس کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ حماس نے اپنی ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ حملے حماس کو یرغمالیوں کو چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم سے بات کر کے امریکہ کی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے غزہ میں جاری کارروائیوں، یرغمالیوں کی رہائی، اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1,200 افراد مارے گئے اور 250 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کر دیے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں بے گناہ جانیں ضائع ہو رہی ہیں، اور جنگ جاری رہی تو دونوں فریقوں کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے اور غزہ کے کچھ علاقوں کو ضم کرنے کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔

’شمالی وزیرستان میں 16 عسکریت پسند ہلاک کردیے‘ آئی ایس پی آر کا دعویٰ

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی 22 اور23 مارچ کی درمیانی شب کی گئی۔ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب کی گئی۔ آئی ایس پی آر  نے اپنے بیان میں بتایا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلے میں 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے ایک گروہ کی مشکوک نقل و حرکت کا سراغ لگایا، جو پاکستان-افغانستان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کر رہا تھا۔ بیان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تمام 16 عسکریت پسندوں کو مار دیا۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلسل افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی جانب سرحدی نگرانی کو مؤثر بنائے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ مزید پڑھیں: ’ففتھ جنریشن وارفیئر ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے’ صدر پاکستان آئی ایس پی آر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔‘ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حملے کرنے والوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے صادق خان دو روزہ سرکاری دورے پر کابل میں موجود ہیں۔  کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے ایک بیان میں بتایا کہ اس دورے میں وہ دوطرفہ تعلقات اور معاشی امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔

’ففتھ جنریشن وارفیئر ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے’ صدر پاکستان

اسلام آباد میں یوم پاکستان کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ملک کو اس وقت بڑے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور بہادر مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع میں عظیم قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہیں گے، اور ہر پاکستانی کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ یوم پاکستان پریڈ کی مرکزی تقریب سے خطاب میں صدر مملکت نے ایک ترقی یافتہ اور مضبوط پاکستان کی ضرورت پر زور دیا اور شاندار پریڈ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے فتنہ الخوارج اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیابی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ صدر زرداری نے ففتھ جنریشن وارفیئر کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم باہمت ہے اور ہر مشکل پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بھارت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمارا سفر آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں، اور تمام پاکستانیوں کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر ملکی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا، افراط زر میں مسلسل کمی آئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معاشی بہتری کو تسلیم کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ درست پالیسیوں، نیک نیتی اور قومی اتحاد کے ذریعے ہی معاشی خوشحالی حاصل کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے مادرِ وطن کے تحفظ میں جانیں قربان کرنے والے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ یوم پاکستان پر اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی قوم کو یوم پاکستان کی مبارک باد پیش کی اور اس دن کو غربت کے خاتمے، مساوات اور کمزور طبقات کے تحفظ کے عہد کے طور پر منانے پر زور دیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کا دن اس عزم کا متقاضی ہے کہ ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا اور پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ مربوط پالیسی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو ایک مضبوط معیشت بنایا جائے گا اور ملک میں خوشحالی کے نئے دور کا جلد آغاز ہوگا۔

ملزم ارمغان: مصطفیٰ کا قتل میں نے نہیں کیا، اس کے نصیب میں مرنا لکھا تھا

مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان نے کہا ہے کہ اس نے مصطفیٰ کا براہِ راست قتل نہیں کیا، بلکہ مصطفیٰ کے نصیب میں مرنا لکھا تھا، وہ بس تھوڑا بہت اس میں شریک ہے، یہودی لابی اسے اس کیس میں پھنسا رہی ہے، اس پر پولیس کی جانب سے جادو کیا گیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی سٹی کورٹ میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کی سماعت کی گئی، جہاں ملزم ارمغان کو اعتراف جرم کے لیے پیش کیا گیا، مگر وہ مکر گیا، جس پر جج عاصم اسلم نے ملزم کے 164 کے بیان کی درخواست خارج کردی۔ ملزم ارمغان کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کو قتل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، اس کا قتل ذاتی تنازعے پر کیا گیا تھا۔ ارمغان نے کہا کہ پولیس کی جانب سے اس پر کالا جادو کیا گیا ہے، کالے جادو کی وجہ سے اس کے جسم میں درد ہوتا ہے، اس نے مصطفی عامر کا قتل نہیں کیا۔ مزید پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل، کب کیا ہوا؟ ملزم نے کہا کہ اس نے گاڑی کے اگلے حصے پر آگ لگا کر مصطفیٰ کو گاڑی میں چھوڑا، مصطفیٰ کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا، اللہ تعالی چاہتے تو مصطفی کو بچا لیتے۔ مصطفیٰ کے نصیب میں مرنا لکھا تھا، وہ تو بس تھوڑا بہت اس میں شریک ہے۔ کمرہ عدالت میں ملزم کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتیں یہودی لابی کا حصہ ہیں، یہودی لابی اس کے پیچھے ہے، کیونکہ وہ ان کے خلاف بات کرتا ہے۔ دوسری جانب عدالت کا کہنا تھا کہ اعترافِ جرم کرنے یا نا کرنے کی صورت میں بھی جیل بھیجے جاؤ گے، جس پر ملزم نے کہا کہ وہ یہودی لابی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کی جانب سے پھنسایا جارہا ہے، موساد کافی عرصے سے اس کے پیچھے پڑی ہے، مصطفیٰ کی والدہ بھی یہودی لابی کا حصہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کی ذہنی حالت ایسی نہیں ہے کہ 164 کا بیان ریکارڈ کیا جاسکے، ملزم نے پہلے اعترافِ جرم کی حامی بھری اور پھر منحرف ہوگیا۔ یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس کیوں اہم ہے: جانیے کرائم رپورٹر ثاقب صغیر کی زبانی یاد رہے کہ 23 سالہ مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو لاپتہ ہوا اور 7 جنوری کو گمشدگی کا مقدمہ درج ہوا۔ مصطفیٰ ملزم ارمغان کے گھر پر گیا تھا، جہاں اسے جھگڑے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ مصطفیٰ کی لاش گاڑی میں ڈال کر ملزمان نے اسے ضلع حب میں دراجی اسٹیشن کے قریب جلایا، ریسکیو سروس نے مصطفیٰ کی لاش کو لاوارث سمجھ کر دفنا دیا تھا۔ ارمغان اور شیرازی بخاری دوست ہیں اور مصطفیٰ بھی ان کا دوست تھا، ارمغان نے مصطفیٰ کو اپنے گھر فون کر کے بلایا تھا، نیو ائیر پر دوستوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

‘لاکھوں افراد کے ملک گیر مظاہرے’ کیا ترکیہ تبدیل ہونے جا رہا ہے؟

استنبول کے میئر کی نظربندی کے خلاف مظاہرے جمعہ کے روز شدت اختیار کر گئے اور تناؤ میں بدل گئے۔ صدر طیب اردگان نے خبردار کیا کہ سول نافرمانی برداشت نہیں کی جائے گی، جو ترکی میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بدھ کے روز میئر اکریم امام اوغلو کی حراست اور فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ہزاروں ترک زیادہ تر پرامن مظاہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ اردگان کے اہم سیاسی حریف تصور کیے جاتے ہیں اور بعض رائے عامہ کے جائزوں میں ان سے آگے ہیں۔ ریپبلکن پیپلز پارٹی، جو کہ مرکزی اپوزیشن جماعت ہے، نے اس نظربندی کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور حامیوں پر زور دیا کہ وہ قانونی طور پر احتجاج کریں۔ اردگان نے استنبول میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ حکومت عوامی امن و امان میں خلل برداشت نہیں کرے گی اور توڑ پھوڑ کے سامنے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگرچہ مظاہروں پر چار دن کی پابندی عائد کر دی گئی تھی، مگر احتجاجی مظاہرے یونیورسٹی کیمپس سمیت مختلف مقامات پر جاری رہے۔ استنبول سمیت کئی شہروں میں سی ایچ پی کی کال پر بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔ سراچانے ضلع میں میونسپلٹی کی عمارت کی طرف جانے والی تمام سڑکیں گورنر کے حکم سے بند کر دی گئیں، مگر پابندی کے باوجود ہزاروں افراد وہاں جمع ہوئے۔ سی ایچ پی رہنما اوزگور اوزیل کے مطابق، تقریباً تین لاکھ افراد نے اجتماع میں شرکت کی۔ جیسے ہی وہ خطاب کر رہے تھے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کالی مرچ کے اسپرے اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ بعض مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹوں پر دھاوا بول دیا۔ انقرہ، ازمیر اور دیگر شہروں میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق، ملک بھر میں 97 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ عدالت میئر کی باضابطہ گرفتاری پر فیصلہ سنا سکتی ہے۔ اس طرح کے اقدام سے ترکی کی معیشت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے مرکزی بینک کو کرنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔ امام اوغلو پر بدعنوانی اور دہشت گرد گروپ کی مدد کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، ان سے میونسپل ٹینڈرز کے بارے میں کم از کم 40 سوالات کیے گئے۔ یورپی رہنماؤں نے اس نظربندی کو ترکی میں جمہوریت کی پسپائی کی علامت قرار دیا ہے۔ اردگان نے کہا کہ احتجاج کے ذریعے مسائل حل کرنا بے سود ہے اور قانون کو نظرانداز کر کے سڑکوں پر آنا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

’اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش ہوئی تومزاحمت کریں گے‘ حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر امریکی پشت پناہی سے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، سینکڑوں فلسطینیوں کی شہادت کے خلاف آج کراچی میں بھی شام 3بجے امریکی قونصلیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے نجی خبررساں ادارے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ بندی کے باوجود امریکی ایما پر اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ حملے شروع کر دیے جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اس کی دنیا بھر کے مسلمان مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت سمیت تمام مسلم ممالک کی حکومتوں کو متحد ہو کر اس حوالے سے آواز بلند کرنا ہوگی۔‘ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ کچھ پاکستانی صحافی اسرائیل گئے ہیں تو حکومت اس حوالے سے مؤقف ظاہر کرے۔ امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ’اگر کوئی بیک ڈور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش ہوئی تو شدید مزاحمت کی جائے گی۔ آرمی چیف کو حکومت اجازت دے وہ مسلم ممالک کے سربراہان کے ساتھ اسلام آباد میں مشاورت سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔‘ امیر جماعت اسلامی ضلع غربی مولانا مدثر انصاری نے مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے نوجوان امت مسلمہ کا فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے امریکی قونصلیٹ کی جانب مارچ کررہے ہیں۔ ایک غزہ و فلسطین کے مسلمان بیت المقدس سے صیہونیوں کا صفایا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے امریکہ و اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ امریکہ خود کو کیسے سپر پاور کہتا ہے، جو بیٹھ پیچھے معصوم بچوں پر بمباری کرتے ہو۔57 اسلامی ممالک اور 80 لاکھ سے زائد اسلامی فوج بھی موجود ہیں۔ امت مسلمہ کے حکمران کے اندر غیرت موجود نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی حافظ ابش صدیقی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمعیت کے کارکنان خراج تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے بھرپور شرکت کرکے ایک غزہ سے اظہار یکجہتی کیا۔ اہلیان کراچی ہمیشہ سے امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ایک بار جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور سحری کے وقت بمباری کی گئی۔ 414 فلسطینی شہید اور 500 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔ اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں کے جذبے بلند ہیں اور وہ استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسرائیل شکست کھا چکا ہے اور اب وہ صرف امریکہ کی پشت پناہی پر کررہا ہے۔ امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں بوٹ بیسن تا امریکی قونصلیٹ مارچ کیا جائے گا، کراچی کے شہری تمام اضلاع سے قافلوں اور جلوسوں کی صورت میں بوٹ بیسن پہنچیں گے۔ دوسری جانب مظاہرے میں شہری وقت سے قبل ہی پہنچنا شروع ہوگئے، مظاہرے کے شرکاء میں زبردست جوش و خروش پایا جارہا ہے۔ شرکاء اسرائیلی جارحیت اور امریکی سرپرستی کے خلاف زبردست نعرے لگا رہے ہیں۔ امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان امریکن قونصلیٹ کے باہر کلیدی خطاب کریں گے۔ پولیس نے مارچ کے شرکاء کو امریکن قونصلیٹ جانے سے روک دیا ہے۔ کارکنان اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، کارکنان امریکن قونصلیٹ جانے کے لیے پر عزم ہیں۔

دس ہزار مربع میٹر تک آگ: روس کے تیل کے ڈپو پر یوکرین کا بڑا حملہ

روس کے کراسنودار علاقے میں ایک تیل کے ڈپو میں جمعہ کے روز ایک دھماکہ ہوا، جب فائر فائٹرز اس ہفتے کے شروع میں یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد بھڑکنے والی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ علاقائی حکام کے مطابق، آگ بجھانے کے دوران ایک جلتے ہوئے ٹینک میں دباؤ بڑھنے سے دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں تیل کے شعلے مزید پھیل گئے۔ اس دھماکے کے بعد آگ ایک اور ٹینک تک پھیل گئی، اور مجموعی طور پر آگ کا رقبہ 10,000 مربع میٹر تک پہنچ گیا، جو ابتدائی پیمانے سے دوگنا تھا۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے 450 سے زائد فائر فائٹرز اور ایمرجنسی عملہ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ اس حادثے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بینزین سمیت مضر کیمیکلز کی زیادہ مقدار کا پتہ قریبی علاقوں میں لگایا گیا ہے، جس سے ماحولیاتی اور صحت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ یہ ڈپو کاوکازسکایا گاؤں کے قریب واقع ہے اور قازقستان سے بحیرہ اسود کے ذریعے روسی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم ریل ٹرمینل ہے۔ یوکرین کے ڈرون حملے نے روس کی توانائی کی صنعت پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں، جو ماسکو کی جنگی مہمات کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ اس حملے سے کیف نے مجوزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم، یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں ہسپتالوں اور ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب کوئی باقاعدہ معاہدہ طے پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جنگ بندی سے متعلق بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک اہم حکمت عملی بن چکا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

حسن نواز کی 44 گیندوں پر سنچری: پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 9 وکٹوں شکست دیدی

تیسرے ٹی 20 میچ میں کیویز  نے پاکستانی ٹیم کو 205 رنز کا ٹارگٹ دیا ، جس کے تعاقب میں پاکستانی بلے بازوں  نے عمدہ کارکردگی کا مظاہر کرتے ہوئے یہ ٹارگٹ باآسانی 16 اوورز میں عبور کرلیا اور جیت حاصل کی۔ پاکستان کی جانب سے اوپنر حسن نواز  نے شاندار اننگز کھیلتے ہوئے 45 گیندوں پر 105 رنز بنائے اس کے علاوہ قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے نصف سینچری اسکور کی جبکہ محمد حارث 41 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے مارک چیپمین کی شاندار بیٹنگ دیکھنے کو ملی، جنہوں نے صرف 44 گیندوں پر 94 رنز کی تباہ کن اننگز کھیلی۔ پاکستانی باؤلرز میں حارث رؤف نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا، جبکہ شاہین شاہ آفریدی، عباس آفریدی اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان نے تیسرے ٹی ٹونٹی میں نیوزی لینڈ کےخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ آ کلینڈ میں کھیلے جا رہے اس میچ میں قومی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، محمد علی اور جہانداد خان کی جگہ قومی سکواڈ میں محمد ابرار اور عباس آفرید ی کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میچ سے قبل قومی ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی کنڈیشن میں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، نئے لڑکوں کا ٹیلنٹ آہستہ آہستہ ضرور سامنے آئے گا۔ عاقب جاوید کا مزید کہنا تھا کہ شاہین شاہ آفریدی نے اگر انٹرنیشنل کرکٹ میں خود کو منوانا ہے تو کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔