اپریل 5, 2025 12:50 صبح

English / Urdu

دس ہزار مربع میٹر تک آگ: روس کے تیل کے ڈپو پر یوکرین کا بڑا حملہ

روس کے کراسنودار علاقے میں ایک تیل کے ڈپو میں جمعہ کے روز ایک دھماکہ ہوا، جب فائر فائٹرز اس ہفتے کے شروع میں یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد بھڑکنے والی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ علاقائی حکام کے مطابق، آگ بجھانے کے دوران ایک جلتے ہوئے ٹینک میں دباؤ بڑھنے سے دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں تیل کے شعلے مزید پھیل گئے۔ اس دھماکے کے بعد آگ ایک اور ٹینک تک پھیل گئی، اور مجموعی طور پر آگ کا رقبہ 10,000 مربع میٹر تک پہنچ گیا، جو ابتدائی پیمانے سے دوگنا تھا۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے 450 سے زائد فائر فائٹرز اور ایمرجنسی عملہ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ اس حادثے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بینزین سمیت مضر کیمیکلز کی زیادہ مقدار کا پتہ قریبی علاقوں میں لگایا گیا ہے، جس سے ماحولیاتی اور صحت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ یہ ڈپو کاوکازسکایا گاؤں کے قریب واقع ہے اور قازقستان سے بحیرہ اسود کے ذریعے روسی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم ریل ٹرمینل ہے۔ یوکرین کے ڈرون حملے نے روس کی توانائی کی صنعت پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں، جو ماسکو کی جنگی مہمات کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ اس حملے سے کیف نے مجوزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم، یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں ہسپتالوں اور ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب کوئی باقاعدہ معاہدہ طے پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جنگ بندی سے متعلق بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک اہم حکمت عملی بن چکا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

حسن نواز کی 44 گیندوں پر سنچری: پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 9 وکٹوں شکست دیدی

تیسرے ٹی 20 میچ میں کیویز  نے پاکستانی ٹیم کو 205 رنز کا ٹارگٹ دیا ، جس کے تعاقب میں پاکستانی بلے بازوں  نے عمدہ کارکردگی کا مظاہر کرتے ہوئے یہ ٹارگٹ باآسانی 16 اوورز میں عبور کرلیا اور جیت حاصل کی۔ پاکستان کی جانب سے اوپنر حسن نواز  نے شاندار اننگز کھیلتے ہوئے 45 گیندوں پر 105 رنز بنائے اس کے علاوہ قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے نصف سینچری اسکور کی جبکہ محمد حارث 41 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے مارک چیپمین کی شاندار بیٹنگ دیکھنے کو ملی، جنہوں نے صرف 44 گیندوں پر 94 رنز کی تباہ کن اننگز کھیلی۔ پاکستانی باؤلرز میں حارث رؤف نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا، جبکہ شاہین شاہ آفریدی، عباس آفریدی اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان نے تیسرے ٹی ٹونٹی میں نیوزی لینڈ کےخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ آ کلینڈ میں کھیلے جا رہے اس میچ میں قومی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، محمد علی اور جہانداد خان کی جگہ قومی سکواڈ میں محمد ابرار اور عباس آفرید ی کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میچ سے قبل قومی ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی کنڈیشن میں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، نئے لڑکوں کا ٹیلنٹ آہستہ آہستہ ضرور سامنے آئے گا۔ عاقب جاوید کا مزید کہنا تھا کہ شاہین شاہ آفریدی نے اگر انٹرنیشنل کرکٹ میں خود کو منوانا ہے تو کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔

شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے بات چیت

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ کر سعودی قیادت کے ساتھ مختلف اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ چار روزہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ جدہ پہنچنے پر سعودی عرب کے نائب گورنر مکہ، شہزادہ سعود بن مشعال بن عبدلعزیز آل سعود نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے جس میں وزیرِ خزانہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزرا اور سینئر حکام شامل ہیں۔ یہ دورہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے ساتھ ملاقات کے ذریعے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات کو تلاش کرنے کی غرض سے کیا جا رہا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنما تجارت بڑھانے، اہم شعبوں میں شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نیا باب رقم کریں گے۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے بلکہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کو فروغ دے کر پاکستان کی معیشت کو استحکام فراہم کرنا بھی ہے۔ مزید پڑھیں: ریاست برقرار رہے گی اور ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہوگی: آصف علی زرداری دوسری جانب ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان بھر میں “2025 موسم بہار” کے درختوں کی شجرکاری مہم کا آغاز بھی کیا۔ وزیراعظم نے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے احاطے میں چیڑ کے پودے کی شجرکاری کرکے اس مہم کی ابتدا کی جس کا مقصد ملک بھر میں 41.7 ملین درخت لگانا ہے۔ وزیراعظم نے اس مہم میں عوام خصوصاً نوجوانوں اور کسانوں کو شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ ملک کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچایا جا سکے اور دیگر بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔ وزیراعظم نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید ہو گئے ہیں، خاص طور پر 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے دنیا کے 10 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے حالانکہ پاکستان کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس مہم کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں درختوں کی شجرکاری کی جائے گی۔ پنجاب میں 12.87 ملین، سندھ میں 10 ملین، خیبر پختونخوا میں 2.63 ملین، بلوچستان میں 2.06 ملین، آزاد کشمیر میں 10.14 ملین اور گلگت بلتستان میں 4 ملین درخت لگائے جائیں گے۔ اس مہم کے لیے 2047 تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں 41.7 ملین پودے لگائے جا سکیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ شجرکاری کی اس مہم کا مقصد نہ صرف ماحول کو بہتر بنانا ہے بلکہ پاکستان کے عوام کی صحت اور خوشحالی کو بھی یقینی بنانا ہے۔ اس مہم کی کامیابی سے نہ صرف درختوں کا شمار بڑھ سکے گا بلکہ یہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں بھی پاکستان کا کردار مضبوط کرے گا۔ اس دورے اور شجرکاری مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو ایک نئی سمت دینے کے لیے سنجیدہ ہے، اور یہ اقدامات نہ صرف ماحول کی بہتری کے لیے بلکہ پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی اہم ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کہاں موسم کیسا ہو گا؟ محکمہ موسمیات نے تفصیل جاری کر دی

‘ہم نے غزہ پر دوبارہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں’ اسرائیلی حکام

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس کی افواج نے وسطی اور جنوبی غزہ میں زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ مقامی طبی ذرائع کے مطابق، دو روزہ فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 48 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ تازہ حملے ایک دن بعد ہوئے ہیں جب فضائی بمباری میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے تھے، جسے جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کے مہلک ترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ جنوری سے جاری جنگ بندی بھی ان حملوں کے نتیجے میں ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، اس کی کارروائیوں کا مقصد نیٹزارم کوریڈور پر کنٹرول مضبوط کرنا تھا، تاکہ شمالی اور جنوبی غزہ کے درمیان ایک بفر زون قائم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے اس کارروائی کو دو ماہ پرانی جنگ بندی کی ایک “نئی اور سنگین خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ گروپ نے ثالثوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جنگ بندی کو بحال کریں۔ اقوام متحدہ نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ بدھ کو غزہ میں اقوام متحدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر حملے میں ایک غیر ملکی ملازم ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ غزہ کی وزارت صحت نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا، تاہم اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کا ہدف حماس کے ایک مقام پر حملے کی تیاریوں کو ناکام بنانا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Jorge Moreira da Silva نے کہا کہ اسرائیل جانتا تھا کہ یہ اقوام متحدہ کا احاطہ ہے، جہاں لوگ رہ رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کے عملے پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں کم از کم 280 اقوام متحدہ کے کارکن جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بلغاریہ کی وزارت خارجہ کے مطابق، اس حملے میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والا ایک بلغاریائی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔

ریاست برقرار رہے گی اور ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہوگی: آصف علی زرداری

صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کوئٹہ کا دورہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہر قیمت پر فیصلہ کن طور پر جیتنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ریاست برقرار رہے گی اور ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہوگی۔” یہ دورہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پس منظر میں ہوا۔ کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، صدر زرداری نے قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے دہشت گرد عناصر کے خطرے کو اجاگر کیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر صدر زرداری نے کہا کہ “صورتحال واضح ہے، ریاست مضبوط ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر رہیں گے۔” صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت انسداد دہشت گردی ونگ کو جدید ترین ہتھیاروں اور سہولیات سے لیس کرے گی۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی اور پائیدار امن کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ ان کے دل کے قریب ہے۔ مزید برآں، صدر زرداری نے حکومت کے اس ہدف پر روشنی ڈالی کہ بلوچستان کے ہر بچے کو اسکول میں داخلہ دلایا جائے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تعلیم وقت کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، قائم مقام گورنر بلوچستان کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے عسکریت پسندوں نے ایک ٹرین میں 440 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے بولان کی پہاڑیوں میں ایک روزہ آپریشن کے بعد تمام یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا۔ اسی طرح، اتوار کے روز ایک گاڑی میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم پانچ فوجی اہلکار شہید ہوگئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی، جو افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروپوں میں شامل ہے۔

نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی: روایتی سیاست کا خاتمہ یا نیا آغاز؟

نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی سیاسی رجحانات کو جنم دیتی ہیں۔ آج کےنوجوان سیاست اور ریاستی امورپر کھل کر بات بھی کرتے ہیں اور سیاست کے بارے میں باخبر بھی ہیں، متفکر بھی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں، جس سے نوجوان دلچسپی بڑھنے کی وجہ سیاست میں مزید حصہ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان میں جاگیردرانہ اور روایتی سیاست سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے نوجوان خود سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ نوجوان سیاستدان اپنی منفرد شناخت، متحرک سوچ، اور نوجوانوں کے مسائل کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے ’پاکستان میٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر اسجد ممتاز نے کہا ہے کہ نوجوانوں کا سیاست میں دلچسپی لینا اچھا رجحان ہے، یہ جمہوری نظام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، نوجوانوں کا فرسودہ نظام اور پرانے سیاستدانوں سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ نوجوانوں کی سیاست میں بڑھتی دلچسپی نے پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت پہلو کو جنم دیا ہے جس میں سٹوڈنٹ یونین کا بڑا اہم کردار سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں سٹوڈنٹ یونین پر بین ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کی قیادت میں خلا پیدا کر دیا ہے، اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر اسجد ممتاز نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ سٹوڈنٹس یوننینز بحال کرکے انتخابات کروائے جائیں تاکہ نوجوان قیادت سیاست میں مزید دلچسپی پیدا ہو۔ پاکستان کی سیاست بالخصوص انتخابات میں نوجوان ووٹرز کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق 18برس سے لے کر 35برس تک کے ووٹرز کی تعدادپانچ سے چھ کروڑ کے درمیان ہے ،جو کہ کل ووٹرز میں سے 46فیصد نوجوان 18 سے 35 سال کے ووٹرز ہیں ۔ پنجاب یونیورسٹی میں سیاسیات کی طالبہ نگزہ اکبر نے پاکستان میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے حوالے سے ’پاکستان میٹرز‘ کو بتایا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی سیاست میں بڑھتی ہوئی دلچسپی تبدیلی لا رہی ہے۔  2024 کے انتخابات میں نوجوانوں کی شمولیت نے کئی حلقوں کے نتائج پر اثر ڈالا، کیونکہ وہ پہلے سے زیادہ متحرک ہو چکے ہیں۔ اگر نوجوان اسی طرح سیاست میں شامل رہے، تو سیاستدانوں کو عوامی مسائل حل کرنے پر زیادہ توجہ دینی ہوگی اور شخصیت پرستی کی جگہ کارکردگی کی سیاست آ سکے گی۔ پاکستان میں حالیہ انتخابات میں کئی نوجوانوں نے حصہ لیا تھا جو کہ پاکستانی سیاست کے بدلتے رحجانات کے لیے بہترین مثال ہیں، اس حوالے سے نگزہ اکبر نے کئی نوجوانوں کے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ مثال 27 سالہ صابزادہ میر جمال رئیسانی نے حلقہ این اے 264 سےپاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار کے طور پربلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر مینگل کے خلاف الیکشن لڑا اور جیت کر سب سے کم عمر پاکستان قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثانیہ عاشق کو 25 سال کی عمر میں2018 کے عام انتخابات  میں خواتین کی مخصوص نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کی میدوار کے طور پر پنجاب اسمبلی کے لیے منتخب کیا گیا اور اب بھی ثانیہ عاشق پنجاب  اسمبلی کی سب سے کم عمر ممبر ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ مقرر ہیں،اس کے علاوہ 27  سالہ نوجوان معاذ محبوب ایم کیو ایم کے امیدوار کے طور پر پی ایس 127 میں منتخب ہوئے اور پاکستانی سیاست کے بدلتے رحجانات کے لیے بہترین مثال ہیں۔ کم عمر سیاستدانوں کی کامیابی صرف نوجوانوں کے لیے ایک مثال نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست میں ایک نئی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ سیاستدان روایتی سیاست کے خلاف نئی سوچ، شفافیت، اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوجوان ووٹرز کے تعاون اور جدید ذرائع کے استعمال نے انہیں قومی منظرنامے میں نمایاں مقام دیا ہے اور اس سے پاکستان میں عرصہ دراز سے چلنے والے جاگیر درانہ نظام کو شکست دے کر نوجوانوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ سیاست کی طلبہ نگزہ اکبر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاگیردارانہ سیاست کی جڑیں بہت گہری ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں نوجوان سیاستدان اس رجحان کو کمزور کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، علی زیدی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، اور زرتاج گل جیسے سیاستدان ایسے خاندانوں سے نہیں آتے جن کا سیاست میں پرانا اثر و رسوخ رہا ہو، لیکن وہ اپنی محنت سے سیاست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کئی نوجوان سیاستدان ابھرے، جو اپنے علاقوں کے مسائل پر کام کر رہے ہیں۔ اگر نوجوان قیادت کو عوام کی حمایت ملتی رہی، تو پاکستان میں خاندانی سیاست کا اثر کم ہو سکتا ہے اور میرٹ پر سیاست ممکن ہو سکتی ہے کسی بھی جمہوری حکومت میں نوجوانوں کا ٹرن آؤٹ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے لیکن پاکستان میں یہ الٹ ہے ۔ 2018 اور 2024 کے الیکشن میں نوجوانوں نے پہلے کی نسبت زیادہ ووٹ ڈالے ۔ نوجوانوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ روایتی سیاستدانوں کے بجائے نوجوان سیاست دانوں کوزیادہ ترجیع دیتے ہیں، جو کہ پاکستانی سیاست کو ایک بہتر موڑ کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ نگزہ اکبر اکبر نے نوجواں کی سیاست میں اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ووٹرز اگر سمجھداری سے ووٹ ڈالیں، تو سیاست میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ 2024 کے انتخابات میں دیکھا گیا کہ کئی حلقوں میں نوجوان ووٹرز کے رجحانات نے نتائج پر اثر ڈالا، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں نے زیادہ ووٹ کاسٹ کیے۔ اگر وہ کارکردگی پر ووٹ ڈالیں، تو سیاست میں روایتی خاندانوں اور شخصیت پرستی کا زور ٹوٹ سکتا ہےاور عوامی مفاد پر مبنی فیصلے ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر نوجوان ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیں، تو انتخابی دھاندلی کم ہو سکتی ہے، کیونکہ زیادہ ٹرن آؤٹ شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں نوجوانوں کی دلچسپی اور شمولیت ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔ جہاں ماضی میں سیاست پر روایتی اور جاگیردارانہ نظام کا غلبہ تھا، وہیں اب نوجوان ووٹرز اور سیاستدان ملکی سیاست کے رخ کو تبدیل کر رہے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں نوجوان ووٹرز کے زیادہ متحرک

’ملکی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، کوئی شخصیت نہیں‘ آرمی چیف

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، کوئی تحریک یا کوئی شخصیت نہیں۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پائیدار استحکام کے لیے قومی طاقت کے تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا، یہ ہماری اور آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کب تک ہم ایک سافٹ اسٹیٹ کے طرز پر جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے، گورننس کی خلا کو کب تک افوج پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے، علما سے درخواست ہے کہ وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں۔ عاصم منیر نے کہا کہ اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی چیز نہیں، پاکستان کے تحفظ کے لیے یک زبان ہو کر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہوگا۔ مزید پڑھیں: اسلام آباد میں جناح میڈیکل سینٹر پاکستان کا دوسرا جان ہاپکنز بنے گا، شہباز شریف آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جو سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ان دہشتگردوں کے ذریعے کمزور کرسکتے ہیں، تو ان کو یہ پیغام ہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف ان کو بلکہ ان کے تمام سہولتکاروں کو بھی ناکام کریں گے۔ عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، تحریک اور شخصیت نہیں ہے، ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے، جو کچھ بھی ہو جائے انشا اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔

پاکستان میں ای کامرس اور فری لانسنگ کا بڑھتا رجحان کیا تبدیلی لائے گا؟

پاکستان میں ای کامرس اور فری لانسنگ کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ڈیجیٹل مارکیٹ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، اور لاکھوں پاکستانی نوجوان اس شعبے سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کاروبار کے روایتی طریقوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آن لائن خرید و فروخت اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے قصبوں اور دیہات میں بھی مقبول ہو چکی ہے۔ فری لانسنگ کے میدان میں پاکستان دنیا کے چند بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جہاں نوجوان مختلف مہارتوں کے ذریعے زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ ای کامرس کی ترقی کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کی دستیابی ہے۔ آن لائن مارکیٹ پلیسز جیسے دراز، علی بابا، اور ایمیزون نے پاکستانی صارفین کو عالمی مارکیٹ سے جوڑ دیا ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد اور گھریلو سطح پر کام کرنے والے افراد کے لیے بھی آن لائن اسٹورز ایک نعمت ثابت ہو رہے ہیں۔ کئی خواتین اور طلبہ گھر بیٹھے اپنے کاروبار چلا رہے ہیں اور اس سے معقول آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، فری لانسنگ کے شعبے میں بھی بے پناہ ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستانی نوجوان مختلف پلیٹ فارمز جیسے فائیور، اپ ورک، اور پیپل پر آور کے ذریعے دنیا بھر کے کلائنٹس کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ سے زائد فری لانسرز کام کر رہے ہیں، جو سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ معروف فری لانسرز میں حشام سرور، عزیر علی، اور ضیا الرحمن جیسے نام شامل ہیں، جو نہ صرف خود کامیاب ہوئے بلکہ دیگر نوجوانوں کو بھی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ کئی نوجوان یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فری لانسنگ کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مزید لوگ اس شعبے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ تاہم، جہاں اس شعبے میں ترقی ہو رہی ہے، وہیں کئی مشکلات بھی درپیش ہیں۔ انٹرنیٹ کی سست رفتاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے کئی فری لانسرز کو بروقت کام مکمل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں کئی بار انٹرنیٹ سروسز میں رکاوٹیں دیکھی گئیں، جس کی وجہ سے کئی فری لانسرز کے پروجیکٹس متاثر ہوئے اور ان کی آمدنی میں کمی آئی۔ ایک اور بڑا مسئلہ بینکنگ سسٹم اور حکومتی پالیسیز ہیں۔ پاکستان میں فری لانسرز کو بینک اکاؤنٹ کھلوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کئی بار بیرون ملک سے آنے والی ادائیگیوں پر غیر ضروری ٹیکس عائد کر دیا جاتا ہے۔ ایف بی آر کی پیچیدہ پالیسیوں کی وجہ سے کئی فری لانسرز ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں کام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ابوزر رفیق، جو فری لانسنگ اور ایک کامرس میں تقریباً 7 سال کا تجربہ رکھتے ہیں، نے کہا کہ “فری لانسنگ اور ای کامرس پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فری لانسرز ہر سال کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ اسی طرح، ای کامرس نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ دیا ہے، جس سے روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور کاروباری افراد کو عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ اگر حکومت ان شعبوں کو مزید سہولتیں فراہم کرے، جیسے بہتر انٹرنیٹ، بینکنگ سسٹم کی بہتری اور پے منٹ گیٹ ویز، تو ان شعبوں کا معیشت پر مزید مثبت اثر پڑ سکتا ہے”۔ ای کامرس کے میدان میں بھی کئی چیلنجز ہیں۔ آن لائن کاروبار کرنے والوں کو آئے دن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مسائل، سائبر کرائم، اور غیر منظم قوانین شامل ہیں۔ کئی آن لائن اسٹورز کو غیر ضروری پالیسیوں کی وجہ سے بند کر دیا جاتا ہے، جس سے کاروباری افراد کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جدید طریقہِ روزگار کے آنے کے بعد روایتی تعلیم کی اہمیت کم یا ختم ہوگئی ہے۔ پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں شعبہِ کمپوٹر سائنس سے وابستہ پروفیسر جمیل چوہدری کا کہنا تھا کہ “روایتی تعلیم کی اہمیت اب بھی برقرار ہے، لیکن اس کا کردار بدل رہا ہے۔ اب تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ عملی مہارتیں سیکھنا بھی بن چکا ہے۔ فری لانسنگ اور ای کامرس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے روایتی تعلیمی اداروں کو بھی جدید ڈیجیٹل مہارتوں کو نصاب میں شامل کرنا ہوگا۔ اگرچہ فری لانسنگ اور ای کامرس نے نوجوانوں کو بغیر ڈگری کے بھی کمانے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن طویل مدتی کامیابی کے لیے تعلیم اب بھی ضروری ہے۔ جدید دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو روایتی تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں کو یکجا کر کے کام کریں گے”۔ بہت سے چیلنجز کے باوجود، پاکستان میں ای کامرس اور فری لانسنگ کا مستقبل روشن ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس شعبے کو سہولت فراہم کریں، انٹرنیٹ کی بہتری، آسان بینکنگ سسٹم، اور فری لانسرز کے لیے معاونت جیسے اقدامات کریں، تو یہ شعبہ ملک کی معیشت میں ایک مضبوط ستون بن سکتا ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔  

جعفر ایکسپریس حملہ، اداروں کیخلاف نفرت انگیز مہم چلانے والا ملزم بنی گالہ سے گرفتار

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم سرکل نے جعفر ایکسپریس حملے کے بعد ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والےشخص کو گرفتار کرلیا۔ نفرت انگیز چلانے والےشخص کی شناخت حیدر سعید کے نام سے ہوئی ہے، جسے بنی گالہ کے علاقے میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق سعید جعفر ایکسپریس حملے کے دوران ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والے توہین آمیز مواد شیئر کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔ مزید برآں، ملزم سوشل میڈیا پر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو فروغ دینے، ان گروپس کی حمایت میں اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے میں ملوث تھا۔ ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ملزم نہ صرف ریاست مخالف پروپیگنڈا کر رہا تھا بلکہ انتہا پسندوں کے حق میں اشتعال انگیز بیانات بھی پوسٹ کر رہا تھا۔ ایجنسی نے مزید تفتیش کے لیے اس شخص کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل شواہد کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ  جعفر ایکسپریس، نو بوگیوں میں 400 سے زائد مسافروں کو لے کر کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی کہ منگل کو بولان پاس کے علاقے ڈھادر میں اس پر حملہ ہوا۔ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب مسلح بندوق برداروں نے منگل کی سہ پہر صوبے کے ایک دور افتادہ، پہاڑی علاقے میں ٹرین کو روکنے پر مجبور کیا، اس حملے کی ذمہ داری صوبے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے پیچھے ایک دہشت گرد گروہ، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے فوراقبول کی۔۔

‘یہ غلط اور غیر انسانی بات ہے کہ افغانوں کو بغیر کسی انتظام کے ان کے ملک واپس بھیجا جائے’ وزیراعلیٰ گنڈاپور

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ، علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ان کی حکومت 31 مارچ کے بعد فیصلہ کرے گی کہ وفاقی حکومت کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری کے حکم پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صوبے کے مقامی حالات، ثقافت اور روایات کے مطابق کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی پناہ گزینوں کی واپسی کی پالیسی کو “غیر انسانی اور جابرانہ” قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ غلط اور غیر انسانی بات ہے کہ افغانوں کو بغیر کسی انتظام کے ان کے ملک واپس بھیجا جائے، جہاں نہ تو ان کے لیے کوئی سہولتیں ہیں اور نہ ہی ان کی آباد کاری کا کوئی منصوبہ ہے۔” وفاقی حکومت کی جانب سے افغان شہریوں کو 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے بعد انہیں زبردستی ملک سے نکالنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اس فیصلے کے حوالے سے خود مختار ہے اور صوبے کے عوام کے مفاد میں ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ “میں جو فیصلہ کروں گا، وہ خیبر پختونخوا کے عوام کی ثقافت اور روایات کے مطابق ہوگا۔” یہ بھی پڑھیں: پاکستان مخالف پروپیگنڈہ، پی ٹی آئی قیادت ایک بار پھر جے آئی ٹی میں طلب وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اس وقت افغانوں کی جبراً واپسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ افغانستان میں ان کے لیے مناسب سہولتیں اور تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ وزیراعلیٰ گنڈاپور نے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ حکومتی اداروں کا اپنی اصل ذمہ داریوں سے غفلت برتنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ریاست اور اس کے ادارے گزشتہ چند ماہ سے اپنی توانائیاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ختم کرنے اور اس کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے میں لگا چکے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔” گنڈا پور نے کا کہنا ہے کہ “آج میں صاف کہتا ہوں کہ دہشت گردی میں اضافے کا اصل ذمہ دار وفاقی حکومت اور اس کے ادارے ہیں، جو اپنے فرادی مفادات میں مشغول ہیں اور اصل مسئلے سے نظریں چراتے ہیں۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ “امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنا حکومت اور اس کے اداروں کا فرض ہے اور اگر یہ کام مؤثر طریقے سے نہ کیا گیا تو ملک اور صوبے میں مزید بدامنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔” لازمی پڑھیں: جنوبی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کرفیو نافذ، کب تک جاری رہے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اور صوبے کی صورتحال کا تقاضا ہے کہ ادارے اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔ “یہ وقت ہے کہ ہم اپنے فیصلے درست کریں، تاکہ امن قائم ہو سکے اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔” وزیراعلیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے اہم سوالات اور ان کے سخت بیانات نے وفاقی حکومت اور صوبے کے موجودہ حالات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے ان کے موقف نے صوبے کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ افغانوں کی واپسی کے بارے میں خیبر پختونخوا میں فیصلہ صوبے کے حالات کے مطابق ہوگا، ان کی سیاسی حکمت عملی کو واضح کرتا ہے۔ اس صورتحال میں صوبے کے عوام اور حکومت دونوں کے لیے چیلنجز اور اہم فیصلے درپیش ہیں۔ مزید پڑھیں: وفاق پر الزام تراشی کرکے گنڈاپور اپنی شرمندگی اور نالائقی کو چھپانا چاہتے ہیں، اختیار ولی خان