اپریل 3, 2025 12:52 شام

English / Urdu

برطانیہ میں یورپی مسافروں کے لیے ای ٹی اے لازمی قرار، یہ کیا ہے اور پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟

برطانوی حکومت نے یورپی شہریوں کے لیے ای ٹی اے کے حصول کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام 2023 میں متعارف کرائی گئی سکیم کی توسیع کا حصہ ہے، جس کا مقصد امیگریشن سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور ویزا فری سفر کرنے والے افراد کے لیے انٹری کا طریقہ کار آسان بنانا ہے۔ ای ٹی اے ایک ڈیجیٹل سفری اجازت نامہ ہے جو برطانیہ میں مختصر قیام کے لیے ضروری ہوگا۔ یہ ویزا نہیں بلکہ مسافر کے پاسپورٹ سے ڈیجیٹل طور پر منسلک ہوگا، جس کے بعد انہیں برطانیہ جانے والی پرواز یا دیگر سفری ذرائع میں سوار ہونے کی اجازت ملے گی۔ تاہم، برطانیہ میں داخلے کی حتمی منظوری بارڈر کنٹرول حکام دیں گے۔ یہ قانون ان تمام مسافروں پر لاگو ہوگا جو قلیل مدتی قیام کے لیے ویزا کے بغیر برطانیہ جا سکتے ہیں اور جن کے پاس پہلے سے کوئی برطانوی امیگریشن اسٹیٹس نہیں ہے۔ اس سے قبل یہ نظام امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، لیکن اب یورپی شہریوں کو بھی اس کی پابندی کرنی ہوگی۔ وہ افراد جن کے پاس پہلے سے برطانیہ کا مستقل ویزا ہے، جو برطانیہ میں رہائش، ملازمت یا تعلیم کی اجازت رکھتے ہیں، برطانوی یا آئرش شہری ہیں یا برٹش اوورسیز ٹیریٹریز کے پاسپورٹ کے حامل ہیں، انہیں ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ، جو مسافر برطانوی ہوائی اڈے پر صرف ٹرانزٹ میں ہیں اور بارڈر کنٹرول سے نہیں گزرتے، انہیں بھی اس اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ای ٹی اے کے لیے درخواست دینے کی فیس فی الحال دس پاؤنڈ ہے، تاہم برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نو اپریل سے یہ فیس سولہ پاؤنڈ ہو جائے گی۔ درخواست یو کے ای ٹی اے موبائل ایپ یا برطانوی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر دی جا سکتی ہے۔ زیادہ تر درخواستیں چند منٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں، لیکن حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم از کم تین ورکنگ دن پہلے درخواست جمع کرائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانچ کے لیے وقت میسر ہو۔ درخواست گزاروں کو فیس کی ادائیگی، پاسپورٹ اور رابطے کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک درست تصویر اپ لوڈ کرنا ہوگی اور مختصر سوالنامے کے جوابات دینے ہوں گے۔ یہ ضروری ہے کہ مسافر وہی پاسپورٹ استعمال کریں جو ای ٹی اے کی درخواست میں درج کیا گیا ہو۔ اگر کسی کی ای ٹی اے درخواست مسترد ہو جاتی ہے، تو درخواست گزار کو انکار کی وجہ بتائی جائے گی اور وہ دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے خلاف اپیل کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ای ٹی اے حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اسے برطانیہ کے لیے ویزا لینا ہوگا۔ ای ٹی اے کی معیاد دو سال یا پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، برقرار رہے گی۔ اس کے تحت مسافر متعدد بار برطانیہ جا سکیں گے، لیکن ہر بار قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ ہوگی۔ برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یہ نظام بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنائے گا، کیونکہ درخواست گزاروں کو بایومیٹرک اور ذاتی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی، جن میں پس منظر کی جانچ اور مجرمانہ ریکارڈ سے متعلق سوالات شامل ہوں گے۔ ان تفصیلات کا مقصد پیشگی اسکریننگ کو بہتر بنانا اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات رکھنے والے افراد کو برطانیہ میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد ای ٹی اے کے زمرے میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ برطانیہ میں داخلے کے لیے انہیں پہلے سے ویزا درکار ہوتا ہے۔ تاہم، وہ پاکستانی شہری جو برطانوی یا آئرش پاسپورٹ رکھتے ہیں، انہیں ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یورپ میں رہنے والے پاکستانی نژاد افراد، خاص طور پر وہ جو کاروباری مقاصد یا خاندانی روابط کے سبب برطانیہ کا سفر کرتے ہیں، اس نئی پالیسی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کی حکومت کا یہ فیصلہ اس کے سخت امیگریشن اقدامات کا حصہ ہے، جو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سفری سیکیورٹی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔

برطانیہ کے شہزادے ہیری پر ہراسانی کے الزامات کیوں لگائے جا رہے ہیں؟

پرنس ہیری پر بڑے پیمانے پر ہراسانی اور دھمکیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ الزامات سینٹیبال کی چیئر صوفیہ چاندوکا نے لگائے، جو 2006 میں پرنس ہیری اور لیسوتھو کے پرنس سیسو نے قائم کی تھی تاکہ لیسوتھو اور بوٹسوانا میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ نوجوانوں کی مدد کی جا سکے۔ ہیری، پرنس سیسو اور بورڈ آف ٹرسٹیز نے اس ہفتے کے آغاز میں اس تنظیم سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد چاندوکا نے یہ دعوے کیے۔ چاندوکا نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ ہیری نے جس طریقے سے تنظیم چھوڑی، وہ غیر مناسب تھا۔ نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پرنس ہیری نے منگل کے روز تنظیم سے علیحدگی کی خبر کو عوامی طور پر جاری کرنے کی اجازت دی، لیکن اس بارے میں انہیں، ملک کے ڈائریکٹرز یا ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو پہلے سے مطلع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم نقصان دہ ثابت ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ خود، تنظیم کے 540 ملازمین اور ان کے خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو بڑے پیمانے پر ہراسانی اور دباؤ ڈالنے کا عمل قرار دیا۔ پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن کے نمائندوں نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ اسکائی نیوز کا کہنا ہے کہ دونوں نے انٹرویو پر کوئی باضابطہ جواب دینے سے انکار کر دیا ہے۔ چیریٹی کے ٹرسٹیز اور سرپرستوں کے قریبی ذرائع نے کہا کہ انہیں پہلے ہی اس معاملے کو ایک “تشہیری حربہ” قرار دیے جانے کی توقع تھی اور اسی بنیاد پر انہوں نے اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق، وہ اپنے اس فیصلے پر قائم ہیں۔ پرنس ہیری اور پرنس سیسو نے بدھ کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ چیریٹی کے ٹرسٹیز اور چاندوکا کے درمیان تعلقات ناقابل اصلاح حد تک خراب ہو گئے ہیں۔ چاندوکا نے اس سے قبل سینٹیبال میں “کمزور گورننس، غیر موثر ایگزیکٹو مینجمنٹ، اختیارات کا غلط استعمال، ہراسانی، دھمکیاں، عورتوں سے نفرت اور نسل پرستی” جیسے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ ہفتے کے روز فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، چاندوکا نے یہ بھی کہا کہ پرنس ہیری کی ٹیم نے ان سے میگھن مارکل کے خلاف منفی میڈیا رپورٹنگ کے بعد ان کا دفاع کرنے کے لیے کہا تھا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینٹیبال کو جس طریقے سے چلایا جا رہا تھا، وہ 2023 میں بلیک لائیوز میٹر تحریک کے بعد کے دور میں مناسب نہیں تھا کیونکہ فنڈنگ فراہم کرنے والے ادارے مقامی طور پر چلنے والے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے۔ ہیری اور سیسو نے بدھ کے روز یہ بھی کہا کہ ٹرسٹیز نے چیریٹی کے بہترین مفاد میں چاندوکا کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے جواب میں چاندوکا نے سینٹیبال پر مقدمہ دائر کر دیا تاکہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہ سکیں۔

برطانیہ میں یورپ کے ‘مصروف ترین’ ائیر پورٹ پر آگ بھڑک اٹھی

برطانیہ کے ہیتھرو ہوائی اڈے کو ایک قریبی الیکٹریکل سب سٹیشن میں شدید آگ لگنے کے بعد بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے باعث عالمی سطح پر پروازوں کے شیڈول میں شدید خلل پڑا۔ لندن فائر بریگیڈ کے مطابق، تقریباً 70 فائر فائٹرز مغربی لندن میں بھڑکنے والی آگ پر قابو پانے میں مصروف رہے، جس کے نتیجے میں یورپ کے سب سے مصروف اور دنیا کے پانچویں بڑے ہوائی اڈے پر بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش واقع ہوئی۔ آگ کے شعلے اور دھوئیں کے گہرے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے، جب کہ حفاظتی اقدامات کے تحت 150 سے زائد افراد کو قریبی عمارتوں سے نکال لیا گیا۔ ہزاروں گھروں اور عمارتوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کے پیش نظر ہوائی اڈہ 21 مارچ کو رات 11:59 بجے تک مکمل طور پر بند رہے گا۔ انتظامیہ نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ ہوائی اڈے کا رخ نہ کریں، کیونکہ وہاں تمام آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں۔ پروازوں کے مانیٹرنگ پلیٹ فارم فلائیٹ ریڈار 24 کے مطابق، ہیتھرو کے لیے کم از کم 120 پروازوں کا رخ دیگر ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا، جب کہ جمعہ کے روز ہیتھرو پر 1,351 پروازوں کی آمدورفت متوقع تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے عالمی سطح پر سیاحت، فضائی سفر اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی، کیونکہ طیارے اپنی مقررہ پوزیشنوں سے ہٹ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں مزید پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں۔ برٹش ایئرویز، جس کی جمعہ کو ہیتھرو پر 341 پروازیں شیڈول تھیں، نے کہا کہ اس واقعے کے ان کے فضائی آپریشن اور صارفین پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایئر لائن کے مطابق، وہ مسافروں کو متبادل سفری انتظامات کے حوالے سے جلد از جلد آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہیتھرو کی بندش کے باعث کئی پروازوں کو راستہ بدلنا پڑا۔ قنطاس ایئرویز نے اپنی پرتھ سے لندن جانے والی پرواز کو پیرس بھیج دیا، یونائیٹڈ ایئرلائنز کی نیویارک سے ہیتھرو جانے والی پرواز کو شینن، آئرلینڈ کی طرف موڑ دیا گیا، جب کہ سان فرانسسکو سے ہیتھرو آنے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز کو واشنگٹن، ڈی سی میں اتارا گیا۔ کچھ امریکی پروازیں دوران پرواز ہی واپس اپنے روانگی کے مقامات پر لوٹ گئیں۔ فلائیٹ ریڈار 24 کے ترجمان ایان پیٹچینک نے کہا کہ ہیتھرو دنیا کے سب سے بڑے فضائی مراکز میں سے ایک ہے، اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں ایئر لائنز کے آپریشن متاثر ہوں گے۔ یہ واقعہ عالمی فضائی نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

پی آئی اے پر عائد پانچ سالہ پابندی کا خاتمہ؟ برطانیہ کا فیصلہ آج متوقع

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور دیگر پاکستانی فضائی کمپنیوں پر عائد پانچ سالہ پابندی کے خاتمے کا فیصلہ آج برطانیہ کے ایئر سیفٹی کمیٹی کی اہم میٹنگ میں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی فضائی صنعت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جو جولائی 2020 میں جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل کے بعد سے برطانیہ اور یورپ میں اپنی پروازوں کے لیے بند ہے۔ یورپی اور برطانوی ریگولیٹرز نے اس اسکینڈل کے بعد پی آئی اے اور دیگر پاکستانی ایئرلائنز کی آپریشنز معطل کر دی تھیں جس کی وجہ سے پاکستان اور یورپ کے درمیان براہ راست پروازوں میں کمی آئی اور پاکستانی شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ کی ایئر سیفٹی کمیٹی آج اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا پاکستانی ایئرلائنز کو دوبارہ برطانوی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے حکام اس فیصلے کے بارے میں پُرامید ہیں۔ ایک سی اے اے عہدیدار نے بتایا کہ “یورپ میں پروازوں کی بحالی کے بعد ہم امید کرتے ہیں کہ برطانیہ بھی پاکستانی ایئرلائنز کی پروازوں کی اجازت دے گا۔” اگر ایئر سیفٹی کمیٹی نے پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ پاکستان کی فضائی صنعت کے لیے ایک اہم کامیابی ہو گی جو براہ راست پروازوں کی بحالی کے ذریعے نہ صرف معیشت کو سہارا دے گی بلکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو بھی فروغ دے گی۔ آج کا فیصلہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتا ہے جس سے نہ صرف پی آئی اے بلکہ دیگر پاکستانی ایئرلائنز کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ مزید پڑھیں: ‘ہم نے غزہ پر دوبارہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں’ اسرائیلی حکام

افراط زر کے بعد برطانوی تنخواہوں میں کمی: ادارے محتاط کیوں ہو گئے؟

برطانوی اداروں کی طرف سے دی جانے والی تنخواہوں میں پہلی بار اکتوبر 2023 کے بعد افراط زر کے حساب سے کمی ہوئی ہے، جسے بینک آف انگلینڈ مثبت علامت کے طور پر دیکھے گا۔ ڈیٹا فرم “برائٹ مائن” کے مطابق، ادارے اپریل میں ٹیکس کے اضافے سے پہلے محتاط ہو گئے ہیں، اور فروری کے آخر تک پچھلے تین مہینوں میں اوسط تنخواہ میں 3 فیصد اضافہ برقرار رہا، جو دسمبر 2021 کے بعد سب سے کم شرح ہے۔ برطانیہ میں مہنگائی (کنزیومر پرائس انڈیکس) میں جنوری تک پچھلے 12 مہینوں میں 3 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ برائٹ مائن کی ماہر شیلا اٹوڈ کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں استحکام ظاہر کرتا ہے کہ ادارے زیادہ محتاط رویہ اپنا رہے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور تنخواہوں کے اضافے میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ تقریباً 25 فیصد کمپنیوں نے سوشل سیکیورٹی ٹیکس میں اضافے کے ردعمل میں ملازمتوں کو منجمد کرنے یا اپنی ٹیموں کی تشکیلِ نو کی منصوبہ بندی کی ہے۔ کچھ کمپنیاں تنخواہوں میں اضافے میں تاخیر پر بھی غور کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں کم از کم اجرت اپریل میں تقریباً 7 فیصد بڑھنے والی ہے، اور 75 فیصد اداروں کو توقع ہے کہ اس سے ان کی کم اور زیادہ تنخواہوں کے درمیان فرق کم ہو جائے گا۔ بینک آف انگلینڈ دیکھ رہا ہے کہ آیا ملازمتوں کے شعبے میں مہنگائی کا دباؤ کم ہو رہا ہے تاکہ شرح سود میں کمی کا فیصلہ کیا جا سکے۔ امکان ہے کہ مارچ کی میٹنگ کے بعد، جمعرات کو قرض لینے کی شرح برقرار رکھی جائے گی۔ برائٹ مائن نے 28 فروری تک تین مہینوں میں 102 تنخواہ کے معاہدوں کا جائزہ لیا، جن میں 135,000 ملازمین شامل تھے۔

پی آئی اے کے لیے دروازہ کھل گیا: عید کے بعد برطانیہ کی پروازیں شروع

برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر، ڈاکٹر محمد فیصل، نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) عید الفطر کے بعد برطانیہ کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اعلان لندن میں ایک افطار ڈنر کے دوران کیا گیا، جس میں صحافیوں، سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے افراد اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پی آئی اے ابتدائی طور پر لندن اور مانچسٹر سے پاکستان کے لیے پروازیں بحال کرے گی، جبکہ مستقبل قریب میں برمنگھم سے بھی پروازوں کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پروازوں کی بحالی کے موقع پر ایک افتتاحی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں میڈیا کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ اس تاریخی موقع کو نمایاں کیا جا سکے۔ ہائی کمشنر نے یہ بھی واضح کیا کہ پروازوں کی بحالی کسی بھی آپریشنل خدشات سے آزاد ہے۔ یہ اقدام پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایوی ایشن تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، خاص طور پر براہ راست پروازوں کی طویل معطلی کے بعد۔ پی آئی اے نے 10 جنوری 2025 کو یورپی یونین کی طرف سے عائد ساڑھے چار سالہ پابندی کے بعد پیرس کے لیے اپنی پہلی پرواز کے ساتھ یورپی آپریشن دوبارہ شروع کیا تھا۔ یہ پابندی جون 2020 میں کراچی میں ہونے والے طیارہ حادثے کے بعد عائد کی گئی تھی، جب اس وقت کے وزیر ہوا بازی نے انکشاف کیا تھا کہ متعدد پائلٹس جعلی لائسنس کے ساتھ کام کر رہے تھے، جس سے شدید حفاظتی خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ کئی ریگولیٹری اصلاحات اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کے بعد، یورپی یونین نے پی آئی اے پر عائد پابندی ہٹا دی، جس سے اسے یورپی ممالک کے لیے پروازیں بحال کرنے کی اجازت مل گئی۔ دوسری جانب، پاکستان حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جولائی 2025 تک پی آئی اے کی نجکاری مکمل کرے گی۔ تاہم، نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل کا فیصلہ اب بھی زیر غور ہے، کیونکہ امریکہ نے 228 ملین ڈالر کی لیز ڈیل کو قبل از وقت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزارت نجکاری نے آئی ایم ایف کو پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا ہے اور خسارے میں چلنے والے اس ادارے کو فروخت کرنے کے لیے جولائی 2025 کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ اس سے قبل، حکومت پی آئی اے کی نجکاری کی ایک کوشش کر چکی تھی، جو ناکام ثابت ہوئی تھی۔ اس وقت، جانچ کے کمزور عمل کے باعث صرف ایک ریئل اسٹیٹ ڈویلپر واحد بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا تھا، جس نے 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی، جو کہ حکومت کی مقرر کردہ 85 ارب روپے کی کم از کم قیمت سے کئی گنا کم تھی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت رواں ماہ کے آخر تک پی آئی اے کی نجکاری کے لیے سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے قبل، حکومت مارکیٹ کے رجحانات اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے جذبات کا جائزہ لینے کے عمل میں مصروف ہے تاکہ اس بار نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔

پیوٹن کو یوکرین میں امن کے لیے مذاکرات کے میز پر آنا ہوگا: برطانوی وزیراعظم کا روس کو دو ٹوک پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کو 30 روز کے لیے بند کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کے جواب میں یوکرین نے اس تجویزکو قبول کر لیا اور روس نے اس تجویز کو نہ مکمل معاہدہ قرار دے دیا ، برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ پیوٹن کو یوکرین میں امن کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ عالمی نشریاتی ادارہ سی این این کے مطابق رضاکاروں کے اتحاد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یوکرین امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے غیر مشروط 30 روزہ جنگ بندی کو تسلیم کر لیا ہے،جبکہ پیوٹن اسے طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں. اسٹارمر نے واضح کیا کہ اگر پیوٹن واقعی امن کے خواہاں ہیں تو انہیں یوکرین پر اپنے حملے بند کرنا ہوں گے اور جنگ بندی پر متفق ہونا ہوگا،میرا خیال ہے کہ جلد یا بدیر انہیں مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہوگا اور سنجیدہ بات چیت میں شامل ہونا ہوگا ۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب یوکرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی، جبکہ روس کا ردعمل مبہم رہا۔ پیوٹن نے کہا کہ “ہم تجویز سے اتفاق کرتے ہیں،” لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ معاہدہ مکمل نہیں ہے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق، اسٹارمر نے یورپی اور نیٹو اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ روس پر اقتصادی دباؤ بڑھائیں تاکہ پیوٹن کو مذاکرات کے لیے مجبور کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیوٹن کو جنگ بندی کی تجویز کے ساتھ “چالاکی نہیں کرنے دی جا سکتی۔” اجلاس میں تقریباً 25 ممالک شامل تھے، جن میں یورپی اقوام، یورپی یونین کمیشن، نیٹو، کینیڈا، یوکرین، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل تھے۔ برطانوی وزیراعظم نے اس موقع پر اتحادیوں کو یوکرین میں ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے طویل مدتی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز  کہا تھا کہ انہیں روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے کافی اچھی خبریں ملی ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے دونوں ممالک کے ساتھ بہت اچھی بات چیت کی ہے اور پیر تک مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔ جمعرات کو پیوٹن نے ماسکو میں امریکی خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی، جسے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے محتاط امید قرار دیا۔ تاہم، مبصرین کا خیال ہے کہ پیوٹن جنگ بندی پر مذاکرات میں تاخیر کر رہے ہیں تاکہ مغربی روسی علاقے کورسک پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں، جو کیف کے پاس واحد علاقائی سودے بازی کا ہتھیار ہے۔ ادھر، جنگ کے دوران فضائی حملے بھی جاری رہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، روس نے رات بھر یوکرین پر 178 ڈرونز اور دو بیلسٹک میزائل داغے، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 44 زخمی ہو گئے۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رات بھر 126 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، تاہم یہ نہیں بتایا کہ کتنے ڈرونز دفاعی نظام سے بچ کر اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ یوکرین میں جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان عالمی سفارت کاری تیز ہو رہی ہے، لیکن پیوٹن کے غیر واضح ردعمل نے مذاکرات کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر اور ان کے اتحادی روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ پیر تک مزید پیش رفت کی توقع کر رہی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اور جاری حملے اس تنازع کے فوری حل کے امکانات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔  

کیئر اسٹارمر کے مسئلہِ یوکرین کے حل کے لیے اتحادیوں سے رابطے

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر ہفتے کے روز تقریباً 25 عالمی رہنماؤں پر زور دیں گے کہ وہ یوکرین کی حمایت کے لیے ٹھوس وعدے کریں اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر جنگ بندی کو قبول کرنے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔ اسٹارمر کو امید ہے کہ اس ویڈیو کال میں مغربی ممالک، بشمول یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ، یوکرین کے لیے اپنی حمایت کا مضبوط اظہار کریں گے۔ وہ کیف کو مذاکرات کے لیے ایک مستحکم پوزیشن دلوانے کے لیے فوجی، مالی اور لاجسٹک مدد کی پیشکش پر زور دیں گے۔ یہ میٹنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس کے ساتھ امن مذاکرات کی حمایت کے بعد ہونے والی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد یوکرین کے لیے امداد کے نئے طریقے تلاش کرنا ہے۔ اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ جنگ بندی کے بعد یوکرین میں امن دستے تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے واشنگٹن کو سکیورٹی “بیک اسٹاپ” فراہم کرنا ہوگا تاکہ پوٹن دوبارہ حملے سے باز رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روس جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہوتا تو مغربی ممالک کو اس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کریملن پر جنگ بندی میں تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ روسی قیادت غیر ضروری شرائط عائد کر رہی ہے تاکہ وقت حاصل کیا جا سکے۔ دوسری جانب، پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس اصولی طور پر جنگ بندی کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے یوکرین کو نیٹو میں شمولیت کے اپنے عزائم ترک کرنا ہوں گے، روس کے زیر قبضہ چار علاقوں کو اس کا حصہ تسلیم کرنا ہوگا اور اپنی فوج کا حجم کم کرنا ہوگا۔ کیف نے ان شرائط کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں مغربی ممالک یوکرین کی حمایت کے لیے مزید اقدامات پر غور کر رہے ہیں اور یہ کانفرنس اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں سابق فوجی کی سفاکانہ واردات، تین خواتین کو جنسی درندگی کے بعد قتل کر دیا

برطانیہ کی ایک عدالت نے منگل کے روز ایک سابق فوجی کو تین خواتین کے سفاکانہ قتل اور جنسی زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی۔  26 سالہ ‘کائل کلفرڈ’ نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ سمیت تین خواتین کو بے دردی سے قتل کیا تھا جس پر اسے بغیر کسی پیرول کے پوری زندگی جیل میں گزارنے کا حکم دیا گیا۔ یہ خوفناک واردات جولائی 2024 میں لندن کے شمال مغربی علاقے بشی میں پیش آئی جہاں کلفرڈ نے 61 سالہ کیرول ہنٹ، ان کی 25 سالہ بیٹی لوئس اور 28 سالہ بیٹی ہنا کو بے دردی سے قتل کیا۔ کیرول ہنٹ معروف بی بی سی اسپورٹس کمنٹیٹر جان ہنٹ کی اہلیہ تھیں اور یہ قتل ایک منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا تھا۔ عدالتی سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ کلفرڈ اپنی سابق گرل فرینڈ لوئس ہنٹ سے شدید ناراض تھا کیونکہ اس نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ اسی وجہ سے انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے اس نے کئی دنوں تک جان ہنٹ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور واردات کی مکمل منصوبہ بندی کی۔ جج جوئل بیناتھن کے مطابق کلفرڈ نے پہلے کیرول ہنٹ کو چاقو کے وار سے قتل کیا اور پھر ایک گھنٹے تک گھر میں چھپا رہا۔ جب لوئس گھر آئی تو اس نے اسے قیدی بنا کر جنسی زیادتی کی اور پھر کراس بو سے قتل کر دیا۔ یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں اسرائیلی سیاح سمیت دو خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی، ایک شخص کو قتل کردیا گیا اس سب کے بعد جب ہنا گھر پہنچی تو اسے بھی اسی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کیمرج کراؤن کورٹ میں ہونے والی سماعت میں جج جوئل بیناتھن نے کلفرڈ کو “خود ترس میں ڈوبا ہوا ایک بے رحم اور بزدل قاتل” قرار دیا ہے جو خواتین کے لیے انتہائی تحقیر آمیز خیالات رکھتا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ جرم ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ تھا جس میں سفاکیت کی کوئی حد باقی نہیں چھوڑی گئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کلفرڈ نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اسے غیر حاضری میں سزا سنائی گئی۔ عدالت میں جان ہنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ “میں چاہتا تھا کہ میں کائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا دکھ بیان کروں۔ جب میں سوچتا ہوں کہ وہ ہمیں دھوکہ دینے میں کیسے کامیاب ہوا تو مجھے بس اتنا کہنا ہے کہ وہ ایک بے حس سائیکوپیتھ ہے، جس نے اپنی حقیقت کو چھپا رکھا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “میری بیٹی لوئس نے بہادری کا مظاہرہ کیا۔ میں امید کرتا ہوں کہ دنیا بھر کی خواتین اس کی ہمت سے سبق سیکھیں گی اور اپنی زندگی میں ایسے خطرناک افراد سے محتاط رہیں گی۔” عدالت نے کلفرڈ کو تین بار عمر قید کی سزا سنائی جس کا مطلب ہے کہ وہ باقی زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے گا اور اسے کبھی رہائی کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ کیس برطانیہ میں خواتین کے تحفظ اور گھریلو تشدد کے خلاف مزید سخت قوانین کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالتا ہے تاکہ ایسے مجرموں کو پہلے ہی روکا جا سکے جو خطرناک ذہنیت رکھتے ہیں۔ مزید پڑھیں: لندن کی عدالت نے چینی طالبعلم کو 10 خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے پر مجرم قرار دے دیا

سارہ شریف کا قتل کیس: والدین کی عمر بھر کی سزا کے خلاف اپیل

برطانیہ کی عدالت میں آج سارہ شریف کے والد اور سوتیلی ماں کی جانب سے ان کی عمر بھر کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہو رہی ہے۔ سارہ شریف، جو ایک روشن اور خوش مزاج بچی تھی، وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک ظلم کا شکار رہی تھی۔ اس بچی کو قتل کرنے کے بعد اس کے والد اور سوتیلی ماں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی مگر اب وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ سارہ کا کیس نہ صرف اس کی بیچینی اور اذیت ناک موت کی وجہ سے بلکہ برطانیہ کے سوشل سروسز کی ناکامی کے باعث بھی ایک اہم بحث کا موضوع بنا۔ لندن کے اولڈ بیلی کورٹ میں سارہ کے قتل کا مقدمہ چلا جس میں یہ وحشت ناک حقیقت سامنے آئی کہ سارہ شریف کو اس کی سوتیلی ماں، بینش بتول اور والد عرفان شریف نے کئی سالوں تک جسمانی اذیتیں دیں۔ سارہ کی لاش اگست 2023 میں اس کے بستر پر پائی گئی۔ اس کے جسم پر شدید زخموں بریکن ہڈیوں اور جلے ہوئے نشان تھے۔ مزید پڑھیں: محمود خلیل گرفتار، آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی پریشان: ٹرمپ کی ضد برقرار پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سارہ کو لوہے کی چھڑی کرکٹ کے بیٹ اور درندہ صفت طریقوں سے مارا گیا تھا۔ اس کے جسم کو پلاسٹک بیگ، رسی، اور پیکیج ٹیپ سے باندھ دیا گیا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکے اور اس کے سانس لینے کے لیے بیگ میں ایک سوراخ کیا گیا تھا۔ سارہ کو اس کی ضرورت کے مطابق باتھروم جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے گندے ڈائپرز میں مبتلا کر دیا گیا۔ سارہ کے والد 43 سالہ عرفان شریف کو 40 سال کی سزا سنائی گئی جب کہ اس کی سوتیلی ماں 30 سالہ بینش بتول کو کم از کم 33 سال جیل میں گزارنے کی سزا دی گئی۔ ان دونوں نے عدالت میں کوئی پچھتاوا یا ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ جج ‘جان کاواناگھ’ نے کہا کہ سارہ کے ساتھ کیے جانے والے ظلم اتنے سنگین تھے کہ ان کے دل میں انسانیت کا کوئی اثر باقی نہیں رہا تھا۔ جج نے یہ بھی کہا کہ سارہ کو محض اس لیے اذیتیں دی گئیں کیونکہ وہ لڑکی تھی اور اس کی سوتیلی ماں نے اس کی حفاظت کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہ بھی پڑھیں: کیا ترکیہ یورپ کو درپیش مسائل سے نکال سکتا ہے؟ اس کے علاوہ سارہ کے چچا، فیصل ملک جنہیں 16 سال کی سزا سنائی گئی ہے انھوں نے بھی سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ اس ظلم میں شریک تھے یا اس سے واقف تھے مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ سارہ کی موت کے بعد برطانیہ میں سوشل سروسز پر شدید تنقید کی گئی کیونکہ اس کے والد نے بچی کو سکول سے نکال لیا تھا اور اس کے بعد سارہ کو گھریلو تعلیم دی جا رہی تھی۔ سارہ کے سکول نے تین بار سوشل سروسز کو اطلاع دی تھی کہ بچی پر ظلم ہو رہا ہے۔ 2019 میں ایک جج نے سارہ اور اس کے بڑے بھائی کو عرفان شریف کے حوالے کر دیا تھا حالانکہ اس کے خلاف بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے تھے۔ ضرور پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا محکمہ تعلیم میں ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ یہ کیس برطانیہ کے سوشل سروسز اور دیگر حکام کی غفلت کی ایک واضح مثال تھا جس میں سارہ کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی اور اس کی مدد کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا گیا۔ سارہ کا جسم اس کے والدہ کے وطن پولینڈ لے جایا گیا جہاں اس کی تدفین کی تقریب منعقد کی گئی۔ سارہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی اور یہ کیس نہ صرف ان کے لیے بلکہ ہر اس بچے کے لیے ایک یاد دہانی ہے جو اپنے گھر میں تحفظ کے بجائے اذیت کا شکار ہوتا ہے۔ سارہ کے والدین اور چچا کی اپیلیں روبرو ہیں اور حکومت بھی ان کی سزا میں مزید شدت لانے کے لیے ایک درخواست پر غور کر رہی ہے۔ یہ کیس ایک عبرت ہے نہ صرف ان افراد کے لیے جو بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں بلکہ ان اداروں کے لیے بھی جو بچوں کے تحفظ کے لیے ذمے دار ہیں۔ سارہ کی موت کے بعد کی جانے والی تمام اپیلیں، جیل کی سزا میں تبدیلی یا اس سے بچاؤ کے اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان جیسے معصوم بچوں کا خون رائیگاں نہ جائے۔ مزید پڑھیں: ایران کے سپریم لیڈر خامنائی نےامریکا سے جوہری مذاکرات کو مسترد کردیا