اپریل 5, 2025 12:58 صبح

English / Urdu

برطانیہ میں شرح اموات ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گئیں:رپورٹ

برطانیہ میں شرح اموات ریکارڈ نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، ماہرین کے مطابق 2024 میں شرح اموات 2019 کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ نئے اعدادو شمار کے مطابق برطانیہ کو کورونا وائرس آنے کے بعد سے دوبارہ معاشرتی طور پر مستحکم قرار دیا  جا رہا ہے۔ شرح اموات پر تحقیق برطانوی ادارے سی ایم آئی کی جانب سے عمل میں لائی گئی ہے، سی ایم آئی کے عہدیدار سٹورٹ میکڈونلڈ نے بتایا کہ شرح اموات میں کمی کے حوالے سے گزشتہ پانچ سالوں میں بہتری آئی ہے لیکن نوجونواں میں شرح اموات پہلے کی نسبت بڑی ہے جوکہ غور طلب بات ہے۔ سی ایم آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1974 کے دوران برطانیہ میں اموات کی شرح دوہزار چودہ فی ایک لاکھ افراد تھی جوکہ 2011 میں ایک ہزار 85 افراد فی ایک لاکھ افراد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں فی ایک لاکھ افراد میں اموات کی اوسط کم ہو کر 989 افراد کی سطح پر آ گئی ہے۔ تھنک ٹینک ” دی کنگز فنڈ” کی عہدیدار ڈاکٹر وینا نے بتایا کہ شرح اموات میں کمی بہت حوصلہ افزا بات ہے، مریضوں اور بزرگ افراد کے معمولات زندگی میں کافی بہتری آئی ہے۔ برٹش ہارٹ فاونڈیشن میں میڈیکل آفیسر اور چیف سائنٹسٹ پروفیسر برائن ولیمز نے کہا کہ برطانیہ میں دل کی بیماریاں اموات کی بڑی وجہ بن رہی ہیں اور دل کی بیماریوں سے اموات زیادہ تر 70 برس کی عمر میں ہوتی ہیں۔

سوشل میڈیا ایپس بچوں کے لیے کتنی محفوظ: برطانیہ نے تحقیقات جاری کر دیں

برطانیہ کے پرائیویسی کے نگران ادارے، انفارمیشن کمشنر آفس نے تحقیقات شروع کی ہیں کہ ٹک ٹاک، ریڈٹ اور امیگر بچوں کی پرائیویسی کی حفاظت کیسے کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیاں ایسے خاص طریقے استعمال کرتی ہیں جو صارفین کو زیادہ دیر تک مصروف رکھتے ہیں اور ان کی دلچسپی کے مطابق مواد دکھاتے ہیں۔ لیکن یہ عمل بچوں کے لیے نقصان دہ مواد کو بڑھا سکتا ہے، جس سے وہ منفی اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ واچ ڈاگ اس بات کی جانچ کر رہا ہے کہ چینی کمپنی بائٹ ڈانس کا ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک، 13 سے 17 سال کے بچوں کی ذاتی معلومات کا استعمال کیسے کرتا ہے تاکہ انہیں مخصوص مواد دکھایا جا سکے۔ اسی طرح، ریڈٹ اور امیگر کے بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ پلیٹ فارمز بچوں کی عمر کا اندازہ کیسے لگاتے ہیں۔ انفارمیشن کمشنر آفس نے کہا کہ اگر یہ کمپنیاں قانون کی خلاف ورزی کرتی پائی گئیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ گزشتہ سال برطانوی حکام نے ٹک ٹاک پر 12.7 ملین پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ اس نے والدین کی اجازت کے بغیر 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا استعمال کیا تھا۔ ریڈٹ کے ترجمان نے کہا کہ وہ برطانوی قوانین کے مطابق کام کرنے کے لیے تبدیلیاں لا رہے ہیں، لیکن بائٹ ڈانس، ٹک ٹاک اور امیگر نے اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا۔ برطانیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے سخت قوانین بنائے ہیں تاکہ وہ بچوں کو نامناسب اور نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھ سکیں۔ ان قوانین کے تحت فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کو اپنے نظام میں ایسے اقدامات شامل کرنے ہوں گے جو نقصان دہ مواد کو کم یا فلٹر کر سکیں تاکہ بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔  

وائٹ ہاؤس میں جھڑپ کے بعد زیلنسکی کا لندن میں گرم جوشی سے استقبال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی جھڑپ کے بعد، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی جب لندن پہنچے تو برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے انہیں گرمجوشی سے گلے لگا کر خوش آمدید کہا۔ جمعہ کے روز اوول آفس میں ہونے والی ایک غیر معمولی ملاقات میں، ٹرمپ نے یوکرین کی حمایت واپس لینے کی دھمکی دی، جبکہ روس کے اس کے چھوٹے ہمسایہ ملک پر حملے کو تین سال ہو چکے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ہفتے کے روز زیلنسکی اور ٹرمپ دونوں سے بات کی اور وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سخت جملوں کے تبادلے کے بعد ایک انٹرویو میں سب کو پرسکون رہنے کا مشورہ دیا۔ لندن میں، لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا جب زیلنسکی، اسٹارمر کے ساتھ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ان کے دفتر پہنچے۔ وہ یورپی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس سے پہلے ملاقات کر رہے تھے، جہاں زیلنسکی اتوار کو یوکرین کے لیے امن منصوبے پر بات چیت کے لیے شرکت کریں گے۔ اسٹارمر نے زیلنسکی سے کہا، “مجھے امید ہے کہ آپ نے گلی میں لوگوں کی خوشی کی آواز سنی ہو گی۔ یہ برطانیہ کے عوام ہیں جو یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ آپ کی کتنی حمایت کرتے ہیں اور ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “آپ کو برطانیہ میں مکمل حمایت حاصل ہے۔ ہم یوکرین کے ساتھ ہیں، چاہے جتنا بھی وقت لگے۔” زیلنسکی نے ہفتے کے روز کہا کہ ان کی اسٹارمر کے ساتھ “اہم اور دوستانہ” بات چیت ہوئی ہے، جس میں یوکرین کی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور قابل اعتماد سیکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنے پر گفتگو ہوئی۔ ٹیلی گرام پر زیلنسکی نے لکھا، “ہم نے یوکرین اور یورپ کو درپیش چیلنجز، اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون، یوکرین کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے عملی اقدامات، اور جنگ کے منصفانہ اختتام کے لیے قابل اعتماد سیکیورٹی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا۔” دیگر یورپی رہنماؤں نے بھی زیلنسکی اور یوکرین کی حمایت کے پیغامات دیے، جس سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد، امریکا اور یورپ کے درمیان جنگ سے متعلق روایتی اتحاد میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ادھر، روسی سیاستدانوں نے زیلنسکی کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بےعزتی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین کے صدر کو وہی ملا جس کے وہ مستحق تھے، اور اب کیف کے لیے امریکی فوجی امداد میں کمی ہونی چاہیے۔ فرانسیسی ایوان صدر کے مطابق، میکرون نے لندن میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور نیٹو کے سربراہ مارک روٹے سے بھی بات کی۔ اتوار کے روز مختلف اخبارات کو دیے گئے انٹرویو میں میکرون نے کہا، “میرا خیال ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھنے، احترام اور شکرگزاری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مؤثر طریقے سے آگے بڑھ سکیں، کیونکہ یہاں داؤ پر لگی چیز بہت اہم ہے۔” میکرون نے کہا کہ زیلنسکی نے انہیں بتایا کہ وہ امریکا کے ساتھ “بات چیت کی بحالی” کے لیے تیار ہیں، جس میں یوکرین کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے محصولات میں امریکی رسائی کا معاہدہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ٹرمپ نے ان سے کیا کہا۔  

برطانیہ: اب ایپل صارفین کی رازداری نہیں رہ سکے گی، مگر کیوں؟

ایپل نے برطانیہ کے صارفین کے لیے اپنی ایک اہم سیکیورٹی خصوصیت ایڈوانسڈ ڈیٹا پروٹیکشن کو بند کر دیا ہے۔ یہ فیچر مکمل رازداری فراہم کرتا تھا، جو صارفین کے ذاتی ڈیٹا، جیسے کہ تصاویر، نوٹس اور پیغامات کو زیادہ محفوظ بناتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صرف صارف ہی اپنے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتا تھا، یہاں تک کہ ایپل بھی اسے نہیں پڑھ سکتا تھا۔ ایپل کے اس اقدام کو برطانیہ کی حکومت کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے “بیک ڈور” بنانے کے دباؤ سے بچنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ بیک ڈور کا مطلب ایسا راستہ ہوتا ہے جس سے حکومت یا دیگر ادارے کسی صارف کے ذاتی ڈیٹا تک پہنچ سکیں۔ پرائیویسی ماہرین نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ پرائیویسی انٹرنیشنل کی وکیل کیرولین ولسن کے مطابق، برطانوی حکومت کی یہ پالیسی دنیا بھر میں ڈیٹا پرائیویسی کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے، جسے دوسری حکومتیں بھی اپنا سکتی ہیں۔ ایپل نے کہا ہے کہ وہ شدید مایوس ہے کہ اسے یہ فیچر برطانیہ میں ختم کرنا پڑا، خاص طور پر اس وقت جب ڈیٹا چوری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور صارفین کی پرائیویسی کو مزید خطرات لاحق ہیں۔ تاہم، کمپنی کے پاس اس فیصلے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھا۔   ایپل کی آئی کلاؤڈ اسٹوریج سروس پہلے سے ہی کچھ ڈیٹا جیسے پاس ورڈز اور ہیلتھ ڈیٹا کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے محفوظ کرتی تھی۔ ایڈوانسڈ ڈیٹا پروٹیکشن اس سیکیورٹی کو مزید بہتر بناتا تھا اور اضافی ڈیٹا جیسے کہ فوٹوز، نوٹس، وائس میمو اور آئی کلاؤڈ بیک اپ کو بھی اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹ کر دیتا تھا۔ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا مطلب یہ ہے کہ جب ڈیٹا ایپل کے سرورز پر محفوظ ہوتا ہے تو وہ اس طرح کوڈ میں بدل دیا جاتا ہے کہ کوئی دوسرا اسے پڑھ نہ سکے، حتیٰ کہ ایپل بھی نہیں۔ اس سے ہیکرز یا حکومتیں بھی ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کر سکتیں۔ برطانیہ کے صارفین کے لیے اب ایڈوانسڈ ڈیٹا پروٹیکشن مزید دستیاب نہیں ہوگا۔ جن لوگوں نے پہلے سے یہ فیچر فعال نہیں کیا تھا، وہ اب اسے فعال نہیں کر سکیں گے۔ ایپل جلد ہی ان صارفین کو بھی یہ سیکیورٹی غیر فعال کرنے کا کہے گا جنہوں نے پہلے ایڈوانسڈ ڈیٹا پروٹیکشن فعال کر رکھا ہے۔ تاہم، ایپل کے کچھ دیگر فیچرز جیسے آئی میسج اور فیس ٹائم اب بھی اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ رہیں گے۔ کچھ تھرڈ پارٹی کلاؤڈ سروسز جیسے نورڈ لاکر اور پروٹون ڈرائیو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتی ہیں، لیکن انہیں استعمال کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرنے پڑتے ہیں، جبکہ ایپل کا آئی کلاؤڈ خودکار بیک اپ فراہم کرتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے برطانیہ کے صارفین کی سیکیورٹی کمزور ہوگی۔ فیوچر آف پرائیویسی فورم کے جان ورڈی نے کہا کہ یہ فیصلہ برطانوی شہریوں کو کم محفوظ بنا دے گا، کیونکہ اب ان کے ڈیٹا کی حفاظت کم ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ نہ صرف برطانوی صارفین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ دنیا بھر میں پرائیویسی کے اصولوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر ایک ملک صارفین کے ڈیٹا پر حکومتی کنٹرول بڑھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو دیگر حکومتیں بھی ایسا کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ پرائیویسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں رازداری کا تحفظ ضروری ہے، اور اس کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن بہترین طریقہ ہے۔ تاہم، ایپل کو برطانوی حکومت کے قوانین کی وجہ سے اپنی سیکیورٹی میں کمی کرنا پڑی، جو صارفین کے لیے مایوس کن خبر ہے۔  

برطانیہ میں بینک ایپلیکیشنز کے نہ چلنے سے صارفین کو سخت پریشانی

جمعہ کے روز برطانیہ میں کئی بینکوں کی ایپس کام کرنا بند ہو گئیں، جس سے ہزاروں صارفین اپنے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ متاثر ہونے والے بینکوں میں لائیڈز، ہیلی فیکس، بینک آف اسکاٹ لینڈ اور ٹی ایس بی شامل ہیں۔ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کی رپورٹ کے مطابق، صارفین نے جمعے کی صبح کو شکایات درج کرانا شروع کیں۔  سب سے زیادہ شکایات ہیلی فیکس کے صارفین کو آئیں۔ ہیلی فیکس کے صارفین نے 3600 شکایات درج کرائیں۔ اس کے علاوہ بینک آف سکاٹ لینڈکی 900 اور ٹی ایس بی کی 400 شکایات آئیں۔ لائیڈز کے 54 فیصد صارفین کو آن لائن بینکنگ، اور 18% کو لاگ ان میں مسئلہ پیش آیا۔ ٹی ایس بی کے 65 فیصد کو لاگ ان، 31% کو آن لائن بینکنگ، اور 4% کو فنڈز کی منتقلی میں مشکل ہوئی۔ ہیلی فیکس کے 95 فیصد صارفین کو موبائل بینکنگ میں مسئلہ پیش آیا جبکہ بینک آف سکاٹ لینڈ کے 51 فیصد صارفین کو آن لائن بینکنگ، 33% موبائل بینکنگ، اور 16% کو لاگ ان کے مسائل کا سامنا رہا۔ صارفین نے سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ “میں نے دو ہفتے محنت کی اور اب اپنی تنخواہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا”۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ “کم از کم پہلے سے بتا دیتے کہ سسٹم بند ہونے والا ہے”۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس خرابی کی اصل وجہ کیا تھی۔

ہم برطانیہ کے ساتھ ایک زبردست تجارتی معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور برطانیہ ایک نئے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معاہدہ امریکی محصولات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “ہم ایک زبردست تجارتی معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، اور اس پر کام جاری ہے۔” اسٹارمر نے بھی تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے اقتصادی معاہدے پر کام شروع ہو چکا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کا ابتدائی خاکہ بہت جلد تیار ہو جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ان کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، نائب صدر جے ڈی وینس، کامرس سیکرٹری ہاورڈ لوٹنک، اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کام کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اسٹارمر نے انہیں امریکی برآمدات پر لگائے گئے محصولات ختم کرنے پر قائل کیا ہے، تو ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا، “اس نے پوری کوشش کی،” اور اسٹارمر کی گفت و شنید کی مہارت کی تعریف کی۔ برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی محصولات کی دھمکیوں کے باوجود امریکا اور برطانیہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب ٹرمپ پہلی بار صدر تھے، تب بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا تھا، اور انہیں امید ہے کہ ایسا دوبارہ ہوگا۔ 2023 میں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تجارت کا حجم 317 بلین ڈالر رہا، جس سے برطانیہ، امریکا کا پانچواں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ امریکا، برطانیہ کے لیے سب سے بڑا قومی تجارتی پارٹنر ہے، حالانکہ برطانیہ مجموعی طور پر یورپی یونین کے ساتھ زیادہ تجارت کرتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ محصولات کے معاملے پر بات چیت کی جا سکتی ہے، لیکن وہ یورپی یونین کے ممالک پر زیادہ تجارتی محصولات لگانے کے لیے زیادہ سنجیدہ ہیں۔  

رمضان المبارک کی آمد: سینٹرل لندن برقی قمقموں سے سج گیا

رمضان المبارک کی آمد پر لندن کی انتظامیہ نے شہر کو برقی قمقموں سے سجا دیا۔ میئر لندن صادق خان نے رمضان المبارک کی آمد سے قبل سینٹرل لندن میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق میئر لندن صادق خان کا کہنا تھا کہ فخر کی بات ہے ہم نے مسلسل تیسرے سال رمضان لائٹس لگائیں، لندن مغربی دنیا کا پہلا شہر ہے جہاں رمضان لائٹس لگائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مسلمانوں کے بارے میں غلط باتیں پھیلاتے ہیں۔  اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے مقامی کمیونٹیز کو اسلام کے بارے میں بتانا ہوگا۔ صادق خان کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ چیمپئنز ٹرافی سے میری دونوں ٹیمیں انگلینڈ اور پاکستان آؤٹ ہوگئیں۔آسٹریلیا اور بھارت کی ٹیمیں اچھی فارم میں نظر آرہی ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے شہریوں سے جمعے کو رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کی ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہری 28 فروری بروز جمعہ کو 29 شعبان 1446 ہجری کی شام مملکت میں چاند دیکھیں۔ سپریم کورٹ نے اعلامیے میں کہا ہے کہ شہری رمضان کا چاند دوربین یا اس کے بغیر نظر آنے کی صورت میں شہادت کے لیے عدالت یا چاند دیکھنے کے لیے آبزرویٹی سے رابطہ کریں۔  

برطانوی وزیراعظم اہم مشن پر امریکا روانہ: ٹرمپ سے ملاقات ہوگی

کئیر اسٹارمر امریکی صدر کے ساتھ برطانوی وزیراعظم کے مشکل ترین دوروں میں سے ایک کو انجام دے رہے ہیں۔ آج برطانوی وزیر اعظم اوول آفس کا دورہ کریں گے جہاں ان میں دوسری جنگ عظیم کے عظیم رہنما ونسٹن چرچل کی جھلک نظر آئے گی۔ سٹارمر کا اوول آفس میں ایک اہم مشن ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے دور کرنا، ایک حتمی امن معاہدے کے بعد یوکرین کے لیے حفاظتی ضمانتیں نکالنا اور بحر اوقیانوس کے اتحاد کو بچانا۔ ان کی کامیابی کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو اسی طرح واشنگٹن کا دورہ کیا اور ٹرمپ کے ساتھ اپنے بھائی چارے کو دوبارہ زندہ کرنے کے باوجود، کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی۔ ٹرمپ نے اپنی نئی مدت کے پہلے کابینہ اجلاس میں، یوکرین کے لیے مضبوط امریکی سیکورٹی ضمانتوں کے خیال کو مسترد کر دیا جسے سٹارمر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی امن معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ” میں بہت زیادہ حفاظتی ضمانتیں نہیں دینے جا رہا ہوں۔ یہ کام یورپ کو کرنا چاہیے ۔یورپ ان کا اگلا پڑوسی ہے”۔ لیکن اپنے ہوائی جہاز میں، سٹارمر نے دلیل دی کہ امن معاہدہ ایسے امریکی وعدے کے بغیر قابل عمل نہیں ہو گا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اسٹارمر نے صحافیوں کو بتایا، ’’مجھے پوری طرح یقین ہے کہ ہمیں جنگ بندی کی نہیں، پائیدار امن کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے کے لیے ہمیں حفاظتی ضمانتوں کی ضرورت ہے”۔

برطانیہ کا دفاعی بجٹ بڑھانے اور امدادی فنڈز میں کمی کا فیصلہ

برطانوی وزیراعظم ‘کیئر اسٹارمر’ نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ 2027 تک اپنے دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کا 2.5 فیصد تک بڑھا دے گا۔ اس فیصلے کا مقصد یورپ کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنا اور یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات کو کم کرنا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات بھی متوقع ہے۔ کیئر اسٹارمر نے پارلیمنٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب وہ امریکا کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات صدر ٹرمپ سے ہوگی۔ اسٹارمر نے وضاحت کی کہ یہ اضافی دفاعی فنڈنگ یوکرین اور یورپ کی مدد کے لیے کی جا رہی ہے تاکہ روس کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکا کا ساتھ دیا جا سکے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے اسٹارمر نے یہ بھی بتایا کہ برطانیہ 2027 تک اپنے سالانہ دفاعی اخراجات میں 13.4 ارب پاؤنڈ (تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر) کا اضافہ کرے گا، جس سے برطانیہ کے دفاعی بجٹ کا کل حجم 53.9 ارب پاؤنڈ سے بڑھ کر 68.3 ارب پاؤنڈ تک پہنچ جائے گا۔ یہ اضافی فنڈز یوکرین کی حمایت اور یورپ کی سیکیورٹی کے لیے مخصوص کیے جائیں گے۔ اسٹارمر نے کہا کہ “ہمیں اس سے بھی زیادہ کرنا ہوگا۔ میں ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہوں کہ تمام یورپی اتحادیوں کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہیے۔” ان کے مطابق یہ فیصلے کا وقت تھا کیونکہ یورپ کے کئی ممالک دفاعی اخراجات میں امریکا کی پیروی نہیں کر رہے تھے اور یورپ کو اپنی سیکیورٹی کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت تھی۔ برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے ملک کی بین الاقوامی امدادی بجٹ میں 40 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے امدادی بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد سے کم ہو کر 0.3 فیصد تک رہ جائے گا۔ اسٹارمر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امدادی بجٹ میں یہ کمی ایک ناپسندیدہ فیصلہ تھا، لیکن انہوں نے کہا کہ یہ قدم یوکرین اور یورپ کی مدد کے لیے ضروری تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب برطانیہ نے اپنے امدادی بجٹ میں کمی کی ہو۔ 2020 میں کووڈ-19 کے دوران بھی امدادی بجٹ کو 0.7 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس بار برطانوی وزیراعظم نے یہ فیصلہ ایک نیا “عہد” دکھانے کے لیے کیا ہے جس کے مطابق برطانیہ یوکرین اور یورپ کے تحفظ میں امریکا کا ہمسایہ بن کر فعال کردار ادا کرے گا۔ مزید پڑھیں: جنوبی کوریا میں تعمیراتی سڑک پر عمارت گرنے سے چار افراد ہلاک، چھ زخمی اسٹارمر کی ٹرمپ سے ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ امریکی صدر نے بار بار یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں اور نیٹو کی مدد کے لیے زیادہ اخراجات کریں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک لے جانا چاہیے۔ اسی دوران، فرانسیسی صدر ‘ایمنوئل میکرون’ نے بھی امریکا کا دورہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یورپ دفاعی اور سیکیورٹی کے امور میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔ میکرون نے کہا کہ “یورپ کو اپنے دفاعی شعبے میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کی سیکیورٹی کے لیے ذمہ داری اٹھائے گا۔” یہ سب اقدامات اس وقت اٹھائے جا رہے ہیں جب روس کے ساتھ جنگ کے دوران یورپ کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔  یوکرین کی جنگ نے پورے یورپ کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے، اور اب برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک امریکا کے ساتھ مل کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے حوالے سے کہا کہ “یورپ کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے اور امریکا کا کردار کم ہونا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ “یورپ کو اپنی جنگی ذمہ داریوں کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا اور یہ بات وہی سمجھ رہے ہیں۔” یہ تمام فیصلے اور ملاقاتیں عالمی سیکیورٹی کے نئے دور کا اشارہ ہیں، جس میں یورپ اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون میں تیزی آئے گی اور اس کے ساتھ ہی یوکرین کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ مزید پڑھیں: غزہ میں سردی کی لہر: چھ بچوں کی ہلاکت نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

آرمی چیف کا برطانیہ میں وارمنسٹر اور لارک ہل گیریژن کا دورہ

پاک فوج کے سپہ سالار جو ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں نے وارمنسٹر اور لارک ہل گیریژن کا دورہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنر ل سید عاصم منیر نے برطانوی آرمی چیف جنرل رولینڈ واکر کی دعوت پر وار منسٹر اور لاک ہل گیریژن کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران آرمی چیف کو برٹش آرمی اور ڈیپ ریک اسٹرائیک بریگیڈ کی جدید کاری کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ سپہ سالار نے مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ کیا، آرمی چیف کو برطانوی فوج کے جدیدیت کے منصوبے، ڈیپ ریکی اسٹرائیک بریگیڈ پر بریفنگ بھی دی گئی۔     واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر 2 روز قبل برطانیہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں 7 ویں علاقائی استحکام کانفرنس میں شرکت کرنی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کانفرنس میں ’ابھرتا ہوا عالمی نظام اور پاکستان کا مستقبل‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کریں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کانفرنس پاک برطانیہ عسکری سطح پر مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے،کانفرنس ہر سال تعاون کو فروغ دینےکے لیےمنعقد کی جاتی ہے۔ کانفرنس میں دونوں ممالک کے پالیسی ساز، سول و عسکری قیادت اور تھنک ٹینکس کے نمائندگان شرکت کرتے ہیں۔