زرعی مصنوعات پر ٹیرف: امریکا نے انڈیا پر دھوکادہی کا الزام لگا دیا

امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے انڈیا کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے تجارتی اصولوں کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق انڈیا نے امریکی زرعی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر کے امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا ہے اور 100 فیصد ٹیرف عائد کر کے امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قدر زیادہ محصولات امریکی برآمدات کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں اور اس سے امریکی کسانوں اور کاروباری برادری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کیرولائن لیوٹ کا کہنا تھا کہ اگرچہ انڈیا نے امریکی زرعی مصنوعات پر غیر معمولی طور پر زیادہ ٹیرف عائد کیا ہے، لیکن یہ مسئلہ صرف انڈیا تک محدود نہیں۔ دیگر بڑے تجارتی شراکت دار بھی امریکی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یورپی یونین نے امریکی دودھ کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کر رکھا ہے، جاپان نے امریکی چاول پر 700 فیصد جبکہ کینیڈا نے امریکی مکھن اور پنیر پر 300 فیصد ٹیرف عائد کیا ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکی حکومت ان غیر منصفانہ تجارتی اقدامات پر خاموش نہیں بیٹھے گی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر سخت موقف اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ دو اپریل سے نافذ کیے جانے والے نئے تجارتی محصولات بڑے پیمانے پر ہوں گے اور ان سے امریکی معیشت میں ایک نیا موڑ آئے گا۔ صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ امریکا کسی بھی ایسے تجارتی معاہدے یا نظام کو تسلیم نہیں کرے گا جو امریکی معیشت کو نقصان پہنچائے۔ ان کے مطابق امریکا اپنے کسانوں، تاجروں اور برآمد کنندگان کے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور کسی ملک کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے فیصلے کرے۔ انڈیا کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ امریکی حکومت پہلے ہی اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے اور امکان ہے کہ جلد ہی بھارت کے خلاف جوابی تجارتی اقدامات کیے جائیں گے۔ عالمی تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازعہ مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ دونوں ممالک بڑے تجارتی شراکت دار ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا کی جانب سے انڈیا کے خلاف مزید سخت تجارتی اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
میانمار میں زلزلہ فوجی حکومت کے لیے سود مند، عالمی شراکت داریوں کے دروازے کھل گئے

میانمار کی حالیہ تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز قدرتی آفت نے حکمران جنرل مِن آنگ ہلائنگ کی پوزیشن کو مضبوط کر دیا ہے۔ اس تباہی نے سفارتی دروازے کھول دیے ہیں جو چار سال قبل اس وقت بند ہو گئے تھے جب ان کی فوجی حکومت نے ایک منتخب حکومت کو برطرف کر کے خانہ جنگی کو ہوا دی تھی۔ جمعہ کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 2,900 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے چند دن قبل ہی جنرل مِن آنگ ہلائنگ تھائی لینڈ میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نایاب غیر ملکی دورے کی تیاری کر رہے تھے، جبکہ ان کے معاونین دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں کا انتظام کرنے میں مصروف تھے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ اس ہفتے بینکاک میں ہونے والے “بمسٹیک” اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں، لیکن یہ قدرتی آفت انہیں عالمی تنہائی سے نکالنے کا سبب بنی ہے۔ بیشتر عالمی رہنماؤں نے 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار کی حکومت سے تعلقات محدود کر رکھے تھے، کیونکہ اس بغاوت نے 35 لاکھ افراد کو بے گھر کر دیا اور ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔ سنگاپور میں مقیم تجزیہ کار انگشومن چودھری کا کہنا ہے کہ “جنتا (فوجی حکومت) جانتی ہے کہ بھارت، چین اور روس جیسے خطے کے بااثر ممالک میانمار میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اس موقعے کا فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔” انہوں نے کہا کہ “علاقائی دارالحکومتوں سے براہ راست اور عوامی سطح پر روابط قائم کر کے فوجی حکومت خود کو میانمار کے مرکزی حکومتی ادارے کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔” جنتا کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے کی گئی فون کالز کا جواب نہیں دیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران، مِن آنگ ہلائنگ نے چینی صدر شی جن پنگ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے بات چیت کی، جس کے نتیجے میں عالمی امداد کی ایک نئی لہر میانمار پہنچی۔ چند ہفتے قبل، فوجی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ دسمبر میں عام انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن اب اس شدید زلزلے نے ان کے لیے ایک نیا موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں۔ 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں فوجی حکومت کو کئی محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے مِن آنگ ہلائنگ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ چین جیسے اہم اتحادیوں نے ان کی حکومت کی حمایت جاری رکھی، حتیٰ کہ بیجنگ نے مخالف مسلح گروہوں پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔ تاہم، چین نے انہیں مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ نومبر میں جب وہ بغاوت کے بعد پہلی بار چین کے دورے پر گئے، تو انہیں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا موقع نہیں ملا۔ اس کے برعکس، پچھلے ماہ روس کے سرکاری دورے کے دوران، انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے تفصیلی ملاقات کی، جو 2021 کی بغاوت کے بعد ان کے اولین عالمی حامیوں میں شامل تھے۔ ینگون میں تعینات ایک سفارتی ذرائع نے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ وہ اس وقت اپنی خواہش سے بھی زیادہ کچھ حاصل کر چکے ہیں۔” ذرائع کے مطابق “وہ دوبارہ سفارتی دائرے میں واپس آ گئے ہیں اور انہیں ایک نشست مل گئی ہے۔” تاہم، ایک دوسرے سفارتی ذرائع نے کہا کہ فوجی حکومت اس بحران سے جتنا ہو سکے فائدہ اٹھا رہی ہے اور عام شہریوں اور حزب اختلاف کے گروہوں کو امداد سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی سینیٹر نے دنیا کی طویل ترین تقریر کا ریکارڈ بنا دیا، کوری بُوکر 24 گھنٹے سے زائد بولتے رہے

امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر اور صدارتی امیدوار بننے کے سابق خواہش مند کوری بُوکر کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف جارحانہ میراتھون تقریر سینیٹ میں 24 گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے 4 بجے اس تقریر کو 24 گھنٹے سے زائد وقت ہوچکا ہے، کوری بوکر نے امریکا کے ایسٹرن وقت کے مطابق 31 مارچ کی شام 7 بجے اپنی تقریر شروع کی تھی جو وہ پوری توانائی کے ساتھ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل امریکی سینیٹ میں طویل ترین تقریر کا ریکارڈ جنوبی کیرولائنا کے سینیٹر اسٹرام تھرمنڈ نے قائم کیا تھا۔ سینیٹر اسٹرام تھرمنڈ نے 1957 میں سول رائٹس ایکٹ پر 24 گھنٹے 18 منٹ تقریر کی تھی۔ ریاست نیوجرسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کوری بُوکر نے تقریر کے آغاز پر کہا کہ وہ جب تک جسمانی طورپر قابل ہیں، یہ تقریر جاری رکھیں گے۔ کوری بوکر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کوایک ایک کرکے نشانہ بنارہےہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ ہماری قوم کے لیے عام حالات نہیں، امریکی عوام اورامریکی جمہوریت کوسنگین اورفوری خطرات لاحق ہیں، جمہوریت کےتحفظ کے لیے ہم سب کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ سینیٹر کوری بُوکر کے پاس صفحات کا پلندہ ہے جو سینیٹر کے مطابق ان کے حلقے کے عوام کے خطوط ہیں جنہیں وہ پڑھ کر عوام کے تحفظات اور خدشات سے امریکا کو آگاہ کررہے ہیں۔ سینیٹر کوری بُوکر میراتھون تقریر کے دوران سینیٹرز کے سوالات کے جوابات بھی دے رہےہیں، کئی ڈیموکریٹک سینیٹرز نے طویل سوالات کرکے سینیٹر کوری بُوکر کو سانس لینے کا موقع دیا تاہم سوالات کا موقع دیتے ہوئے سینیٹر کوری بُوکر واضح کرتے رہے کہ وہ فلور نہیں چھوڑیں گے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شُومر نے ساتھی سینیٹر بُوکر سے سوال پوچھنے سے پہلے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قوت، استقامت اور وضاحت حیران کن ہے، پورا امریکا آپ کو توجہ سے سن رہا ہے۔ کوری بُوکر نے سوشل سکیورٹی دفاتر کے بجٹ میں کٹوتیوں پر کڑی تنقید کی، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ فنڈز میں مزید کٹوتیاں کرے گی۔ سینیٹر کوری بُوکر نے اپنی تقریر کے دوران کئی بار اس بات کا ذکر کیا کہ ان کی تقریر کتنی دیر سے جاری ہے اور یہ بھی کہ وہ کن معاملات کا احاطہ کرچکے ہیں جن میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، ملازمتوں، غربت، زراعت اور خارجہ پالیسی کے امور بھی شامل تھے۔ وہ چشمہ اتار کر بولتے اور چشمہ پہن کر صفحات پڑھتے رہے، تقریر کےدوران وہ مختصر چہل قدمی بھی کرتے رہے، کئی بار ان کی آواز بھرا گئی، نزلے کے بھی آثار واضح ہوئے مگر ان کی پرجوش تقریر کا مومینٹم نہ ٹوٹا۔ سینیٹر کوری بُوکر نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں اسٹرام تھرمنڈ کی وجہ سے ہمیں سول رائٹس ایک روز میں ملے؟ آپ سمجھتے ہیں ہمیں سول رائٹس اس لیے ملےکہ تھرمنڈ نےفلور پر24 گھنٹے تقریرکی؟ آپ سمجھتے ہیں ہمیں سول رائٹس اس لیےملے کہ تھرمنڈ نے کہا میں نےروشنی دیکھ لی؟ سینیٹر کوری بُوکر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ نہیں، ہمیں سول رائٹس اس لیے ملے کہ لوگوں نےمارچ کیا، پسینہ بہایا، ہمیں شہری حقوق اس لیے بھی ملے کیونکہ جان لوئز نے اس کے لیےاپنے خون کانذرانہ دیا۔ سینیٹر کوری بُکر کون ہیں؟ سینیٹر کوری بوکر دوسری بار سینیٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ 2020 میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار نامزد ہونے میں ناکام رہے تھے تاہم سینیٹر کوری بُوکر کی طویل تقریر نے انہیں ایک بارپھر صدارتی امیدوار بننےکے لیے نمایاں کردیا ہے۔ کوری بُوکر نیوجرسی کے سب سے بڑے شہر نیوارک کے 2006 سے 2013 تک مئیر رہ چکے ہیں، وہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ییل لا اسکول کے گریجویٹ ہیں اور اٹارنی بھی رہے ہیں۔
‘آبادی کو نکالا جائے’ اسرائیل کا غزہ میں مزید کارروائیاں کرنے کا اعلان

اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں سیکیورٹی زون میں شامل کیا جائے گا، جس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں آبادی کو وہاں سے نکالا جائے گا۔ اسرائیلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کے خلاف عوامی احتجاج کی خبریں ان کے لیے حوصلہ افزا ہیں، اور اس فوجی آپریشن کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مقامی آبادی کی طرف سے حماس پر دباؤ بڑھایا جائے۔ اسرائیلی وزیر یسرائیل کاٹز نے کہا کہ وہ اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتے کہ اسرائیل کتنی زمین پر قبضہ کرے گا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج پہلے ہی غزہ میں ایک بڑی بفر زون قائم کر چکی ہے، جو جنگ سے پہلے غزہ کے کناروں پر موجود تھی، اور اب اسے مزید وسعت دے کر نیٹزاریم کوریڈور کے نام سے ایک نیا سیکیورٹی علاقہ بھی بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے رضاکارانہ ہجرت کو آسان بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کو مستقل طور پر خالی کروا کر ایک ساحلی تفریحی مقام میں تبدیل کیا جائے اور اسے امریکی کنٹرول میں دیا جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ایک بار پھر حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فوجی دباؤ ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے باقی ماندہ 59 یرغمالیوں کی بازیابی ممکن ہو سکتی ہے۔ کاٹز نے کہا کہ وہ غزہ کے رہائشیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ابھی قدم اٹھائیں، حماس کا خاتمہ کریں اور تمام یرغمالیوں کو واپس کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی جنگجوؤں اور ان کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اور یہی جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔ “ہاسٹیج فیمیلیز فورم” نامی تنظیم، جو غزہ میں قید افراد کے خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے کہا کہ وہ وزیر دفاع کے اس اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت پر لازم ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور مذاکراتی راستہ اختیار کرے۔
فرانس: عدالتی فیصلہ یا سیاسی انتقام؟ اپوزیشن رہنما میرین لی پین غبن کیس میں نااہل قرار

فرانس کی عدالت نے معروف اپوزیشن سیاست دان اور ‘ریسمبلمنٹ نیشنل’ پارٹی کی سابق رہنما میرین لی پین کو یورپی عوامی فنڈز کے غبن کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں چار سال قید، ایک لاکھ یورو جرمانہ اور پانچ سال کے لیے انتخابی نااہلی کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے مطابق 2004 سے 2016 کے دوران ‘ریسمبلمنٹ نیشنل پارٹی’ نے یورپی پارلیمنٹ کے تقریباً 2.9 ملین یورو کے فنڈز کو غلط طریقے سے قومی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ عدالت کے صدر بینیڈیکٹ ڈی پرتھوئس نے کہا کہ لی پین 2009 سے اس “نظام” کا مرکز رہی ہیں اور پارٹی کے معاونین نے یورپی پارلیمنٹ کے بجائے قومی سطح پر پارٹی کے لیے کام کیا۔ عدالتی فیصلے پر لی پین کی پارٹی کے صدر اردن بارڈیلا نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف میرین لی پین کی نہیں، بلکہ فرانسیسی جمہوریت کی بھی سزا ہے۔ ان کے مطابق یہ سیاسی انتقام ہے، جس کے ذریعے لی پین کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس فیصلے پر عالمی سطح پر بھی ردعمل آیا ہے۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے سوشل میڈیا پر “Je suis Marine” (میں میرین ہوں) کا نعرہ بلند کیا، جب کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیکوکوف نے بھی اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یورپی سیاست میں جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اردن بارڈیلا کو ریسمبلمنٹ نیشنل پارٹی کے آئندہ صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوں تو لی پین کو 34% سے 37% ووٹ ملنے کی توقع تھی، لیکن نااہلی کے باعث وہ انتخابی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں۔ واضح رہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد لی پین 2027 کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی، جسے ان کے سیاسی کیریئر کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
سویڈن نے یوکرین کو 1.6 بلین ڈالر کی فوجی امدادی دینے کا اعلان کردیا

سویڈن نے یوکرین کے لیے 16 ارب کراؤن (1.6 بلین ڈالر) کا فوجی امدادی پیکج دینے کا اعلان کیا ہے جو اس ناردک ملک کا اب تک کا سب سے بڑا امدادی پیکج ہے۔ سویڈش وزیر دفاع ‘پال جانسن’ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس پیکج کا مقصد یوکرین کو جنگ کے مذاکرات میں ایک مضبوط پوزیشن میں لانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ جانسن کے مطابق اس پیکج کا سب سے بڑا حصہ نو ارب کراؤن کا ہے جو نئی فوجی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ خریداری سویڈن کے دفاعی سامان کی انتظامیہ کے ذریعے کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پانچ ارب کراؤن مالی امداد کی صورت میں یوکرین کی دفاعی صنعت کو دیے جائیں گے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ “ہم اب جنگ کے نازک مرحلے میں ہیں اور ہمارا مقصد یوکرین کی مکمل حمایت کرنا ہے تاکہ وہ جنگ کے مذاکرات میں مضبوط پوزیشن حاصل کر سکے۔” یہ بھی پڑھیں: میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیکس عائد کر دوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ جانسن نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام یورپی ممالک اپنی مدد میں اضافہ کریں کیونکہ “تمام ممالک کو مزید مدد فراہم کرنی چاہیے۔” ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت امریکا کی حمایت میں کمی کی صورت میں یورپ کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا اور اس کے لیے یورپ کے پاس وسائل موجود ہیں۔ جانسن نے خبردار کیا کہ “میرے خیال میں یورپ کی دفاعی پیداوار میں اضافہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے نہ کہ مالی وسائل کی کمی۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین کی معیشت روس سے آٹھ گنا بڑی ہے اس لیے اگر ارادہ مضبوط ہو تو بھرپور مدد فراہم کرنا ممکن ہے۔ یہ امدادی پیکج یوکرین کے لیے سویڈن کی مسلسل حمایت کی علامت ہے اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 2025 کے بجٹ میں یوکرین کی مدد کے لیے 40 ارب کراؤن مختص کیے جائیں گے جو پہلے طے شدہ 25 ارب کراؤن سے زیادہ ہیں۔ سویڈن کی طرف سے یہ امدادی پیکج یوکرین کے لیے نہ صرف مالی بلکہ دفاعی لحاظ سے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور اس کا مقصد جنگ میں یوکرین کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت جب دنیا بھر کی نظریں یوکرین پر مرکوز ہیں سویڈن کا یہ اقدام ایک پیغام دیتا ہے کہ عالمی برادری یوکرین کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کی حمایت میں اضافہ کرتی جا رہی ہے۔ مزید پڑھیں: ‘امریکا اگر حملہ کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے’ آیت اللہ علی خامنہ ای
میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیکس عائد کر دوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ماسکو یوکرین کے ساتھ امن معاہدے میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو وہ روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد سے 50 فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کریں گے۔ ٹرمپ نے اتوار کو این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں پوتن کے حالیہ بیان پر غصہ آیا ہے جس میں روسی صدر نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی قیادت کو مشکوک قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے وہ نہایت ناراض ہیں اور اس کا اثر ان کے روس کے ساتھ مذاکرات پر پڑ رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “اگر روس اور میں یوکرین میں خون ریزی روکنے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں کر پاتے اور مجھے لگتا ہے کہ روس اس میں رکاوٹ ڈال رہا ہے تو میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیکس عائد کر دوں گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “اگر کوئی ملک روس سے تیل خریدے گا تو وہ امریکا میں کاروبار نہیں کر سکے گا۔ یہ ٹیکس 25 فیصد تک یا 50 فیصد تک ہو سکتا ہے۔” ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ اس تجارتی اقدام کو ایک ماہ کے اندر نافذ کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے ان بیانات پر روس کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ روس نے پہلے بھی مغربی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور انہیں مغربی ممالک کے ساتھ اقتصادی کشمکش کا حصہ سمجھا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ہفتے پوتن سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ کا جلد خاتمہ ہو۔ تاہم، ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پوتن کو اس بات کا علم ہے کہ وہ ان سے ناراض ہیں لیکن وہ اپنے تعلقات کو ایک اچھے انداز میں برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ یہ بھی پڑھیں:امامہ فاطمہ نے امریکی ایوارڈ کو فلسطینیوں کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا جب دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں ایک نیا دباؤ بن رہی ہیں اور روسی تیل کی خریداری کا مسئلہ عالمی سطح پر زیر بحث ہے، وہیں انڈیا نے 2024 میں روس سے تیل خریدنے میں چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور روسی خام تیل اب انڈیا کی کل تیل کی درآمدات کا تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ یوکرین کے مسئلے کو “فضول جنگ” قرار دے کر اس کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، روسی تیل پر اضافی پابندیاں چین اور انڈیا جیسے ممالک کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں جو روس کے بڑے تیل خریدار ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر معاہدہ نہیں کیا تو ان پر بھی اضافی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر مزید اقتصادی کشیدگی کو جنم دیا ہے اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کی یہ دھمکیاں عالمی تجارت اور جغرافیائی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔ مزید پڑھیں: ‘امریکا اگر حملہ کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے’ آیت اللہ علی خامنہ ای
‘امریکا اگر حملہ کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے’ آیت اللہ علی خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کے دوران اپنی دھمکی پر عمل کرتا ہے تو اسے جوابی وار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک بار پھر اپنی اس دھمکی کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران اُس کی جانب سے مارچ میں بھیجے گئے خط میں دی گئی پیشکش کو تسلیم نہیں کرتا، تو ایران پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو دو ماہ کا وقت دیا ہے تاکہ وہ امریکا کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ طے کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرے۔ اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے خامنہ ای نے کہا ہے کہ “امریکا اور اسرائیل سے دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے اور وہ ہمیں حملے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا حملہ بہت کم ممکن ہے۔ تاہم، اگر انہوں نے کوئی بھی ہنر یا چالاکی دکھائی تو انہیں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا ایران میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے، پھر جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، تو ایرانی عوام خود اس کا مقابلہ کریں گے۔ یہ بھی پڑھیں:امامہ فاطمہ نے امریکی ایوارڈ کو فلسطینیوں کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا خامنہ ای کے ان بیانات نے عالمی سطح پر ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب 2022-2023 میں ایران میں مہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں اور 2019 میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر ہونے والی عوامی بغاوتوں کا الزام مغرب پر عائد کیا جا رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقعی نے پیر کے روز ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ “ایک ریاست کے سربراہ کی جانب سے ایران کو بمباری کی دھمکی دینا بین الاقوامی امن و سلامتی کی اصل بنیادوں کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ تشدد، تشدد کو جنم دیتا ہے اور امن، امن کو جنم دیتا ہے۔ امریکا کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اس کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔” ٹرمپ کی 2017-2021 کی پہلی مدت کے دوران امریکا نے 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی جس کے بدلے میں ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے ایران نے جوہری سرگرمیوں میں اضافے کا آغاز کیا اور یورینیم کی افزودگی کی حدوں کو تجاوز کر لیا۔ اس کے علاوہ مغربی طاقتیں ایران پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے ذریعے چھپ کر جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر شہری توانائی کے مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔ اس تناظر میں، خامنہ ای کا پیغام ایک واضح اشارہ ہے کہ ایران اپنے دفاع کے لیے تیار ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو برداشت نہیں کرے گا۔ مزید پڑھیں: عید پر بھی قیامت، امریکی سرپرستی میں غزہ پر اسرائیلی حملے فلسطینیوں کی خوشیاں چھین گئے
امامہ فاطمہ نے امریکی ایوارڈ کو فلسطینیوں کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا

امامہ فاطمہ، جو بنگلہ دیش میں آمریت مخالف تحریک “حسینہ واجد” کی تنظیم ساز اور تعلیمی فرقہ پرستی کے خلاف طالب علموں کی تحریک کی ترجمان ہیں، انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اعلان کردہ ایک معتبر ایوارڈ کو ذاتی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق میڈلین البرائٹ ہونری گروپ ایوارڈ ان خواتین کو دیا جائے گا جنہوں نے جولائی-اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے پرتشدد ریاستی جبر کے خلاف احتجاجی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان خواتین نے غیرمعمولی حوصلہ دکھایا اور وہ سیکورٹی فورسز اور مرد مظاہرین کے درمیان خود کو رکھ کر اپنے احتجاجی عمل کو جاری رکھتی رہیں۔ انہوں نے اپنے مردوں کے گرفتار ہونے کے بعد بھی رابطہ قائم رکھنے اور تحریک کی قیادت کرنے کے لیے تخلیقی طریقے اپنائے، حتیٰ کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سینسرشپ جیسے مسائل کا سامنا کیا۔ ان کی ہم آہنگی اور خود کو قربان کرنے کی صلاحیت نے ان کی ہمت کی حقیقت کو ظاہر کیا۔” لیکن امامہ فاطمہ نے اس ایوارڈ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں اس کے پس پردہ امریکی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ “یہ ایوارڈ ہمارے لیے ایک اعزاز ہے مگر یہ اس ایوارڈ کو اسرائیل کی 2023 میں فلسطین پر وحشیانہ حملوں کی حمایت میں استعمال کیا گیا تھا۔” انہوں نے کہا کہ “یہ ایوارڈ اسرائیل کے حملے کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے جو فلسطینیوں کے حق خودمختاری اور آزادی کو یکسر نظرانداز کرتا ہے۔” امامہ نے مزید کہا کہ “اس ایوارڈ کو فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف استعمال کرنا ان تمام خواتین کے لیے توہین ہے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کی۔” امامہ فاطمہ نے اپنے پیغام کے اختتام پر فلسطین کے لیے یکجہتی کے ساتھ کرتے ہوئے کہا کہ “ہم فلسطین کے حق خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور میں اس ایوارڈ کو ذاتی طور پر مسترد کرتی ہوں۔” یہ الفاظ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کے لیے ایک پیغام ہیں اور عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں کی جانب سے کی جانے والی مبینہ ناانصافیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امامہ فاطمہ کا یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ عالمی سیاسی معاملات میں ضمیر کی قیمت پر کوئی ایوارڈ یا اعزاز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی جرات اور عزم نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے لڑنے والوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ مزید پڑھیں:عید پر بھی قیامت، امریکی سرپرستی میں غزہ پر اسرائیلی حملے فلسطینیوں کی خوشیاں چھین گئے
عید پر بھی قیامت، امریکی سرپرستی میں غزہ پر اسرائیلی حملے فلسطینیوں کی خوشیاں چھین گئے

جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے نے عید کی خوشیاں سوگ میں بدل دیں، اسرائیلی بمباری میں ایک خیمہ اور ایک گھر نشانہ بنے، جس میں 10 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ خان یونس کے سول ڈیفنس ڈائریکٹر یامن ابو سلیمان نے عالمی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حملے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز دل دہلا دینے والی ہیں، کچھ بچے عید کے نئے کپڑوں میں خون میں لت پت نظر آئے۔ ایک شخص نے اسپتال کے باہر تڑپتے بچے کو اٹھاتے ہوئے آہ و زاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا؟ یہ تو صرف عید منانا چاہتے تھے۔’ غزہ میں اس بار عید خوشیوں کے بجائے غم اور تکلیف کا استعارہ بن گئی ہے۔ ایک اور بے گھر فلسطینی خاتون آمنہ شقلا نے عالمی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ہر سال میں اپنے بچوں کے لیے عید کی مٹھائی بناتی تھی، لیکن اس بار بمباری اور مہنگائی کے باعث صرف ایک کلو ہی بنا سکی، تاکہ بچوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کی خوشیاں بھی جنگ کی نذر ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب بازاروں میں بھی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ دکاندار عبد الفتاح خلیل کرناوی کا کہنا تھا کہ عید کے کپڑوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور بیشتر والدین اپنے بچوں کو نئے کپڑے نہیں دلا سکے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے دو ہفتے قبل غزہ میں دوبارہ اپنی فوجی کارروائیاں شروع کیں، جس سے دو ماہ سے جاری جنگ بندی ختم ہو گئی۔ اسرائیلی فوج نے نہ صرف غزہ کے مختلف علاقوں پر بمباری بڑھا دی بلکہ انسانی امداد کی ترسیل پر بھی مکمل پابندی لگا دی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج غزہ میں ‘مستقل موجودگی’ برقرار رکھے گی، جب تک کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہو جاتی۔ الماوسی، جو رفح کے مغرب میں واقع ایک ساحلی علاقہ ہے، بار بار اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے، حالانکہ اسرائیل نے خود اسے ‘محفوظ انسانی زون’ قرار دیا تھا۔ یہاں ہزاروں فلسطینی کئی ماہ سے پناہ لیے ہوئے ہیں، جو کپڑے اور پلاسٹک کے عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں، مگر اسرائیلی حملوں نے یہاں بھی لوگوں کو سکون کا سانس لینے نہیں دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی حکومت کے اجلاس میں بیان دیا کہ ان کی فوجی مہم کامیاب ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم ایک ساتھ دو کام کر رہے ہیں، حماس کی فوجی اور حکومتی طاقت کو کچل رہے ہیں اور اپنے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حالات پیدا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ٹرمپ پلان – رضاکارانہ ہجرت کے منصوبے پر عمل درآمد کرے گی، جس کے تحت فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دوسری طرف حماس نے مصر کے ذریعے ایک نئی جنگ بندی تجویز پر رضامندی ظاہر کی ہے، اس معاہدے کے تحت پانچ یرغمالیوں کی رہائی پر اتفاق کیا گیا ہے، جن میں ایک امریکی-اسرائیلی شہری ایڈان الیگزینڈر بھی شامل ہیں۔ اس معاہدے کے بدلے حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد بحال کی جائے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے اسرائیل مذاکرات کرے۔