“بے بنیاد بیانات سیاسی مقاصد کے تحت دیے گئے” بھارتی آرمی چیف کے بیان پر پاکستانی فوج کا ردِعمل

(نیوز ڈیسک) بھارتی آرمی چیف کے بیان پر آئی ایس پی آر نے ردِعمل دیتے ہوئےکہا کہ بھارتی آرمی چیف کے بیانات سیاسی مقاصد کے تحت دیئے گئے ہیں، بھارتی آرمی چیف کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو حقیقت سے بالکل برعکس ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف کے پاکستان کے متعلق بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت کے بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینا بھارتی آرمی چیف کا بے بنیاد اور بھونڈا الزام ہے آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دبانے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوں گی اور بھارت میں اقلیتوں پر ظلم اور نفرت انگیز بیانیے عالمی برادری سمیت سب پر عیاں ہیں ۔بھارت کا پراپیگنڈہ کشمیریوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فوج کے اقدامات انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔بھارتی فوجی افسر پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے اوربھارت میں مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے منصوبے عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے بھارتی وزیر دفاع اور آرمی چیف کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان 13 اور 14 جنوری کو بھارتی آرمی چیف اور وزیر دفاع کی جانب سے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہونا ہے۔ اس تناظر میں بھارت کو قانونی اور اخلاقی طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں پر دعوے داری کا کوئی حق نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کے جانب سے اس طرح کے بیانات مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آمرانہ ہتھکنڈوں پر سے بین الاقوامی توجہ نہیں ہٹا سکتے۔ بھارت یہ غاصبانہ ہتھکنڈے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات علاقائی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ دوسرے ملکوں پر بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے بھارت کو دوسرے ملکوں میں ریاستی پشت پناہی کے تحت ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی کے لیے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ بھارتی آرمی چیف اُوپندرا دیویدی نے پیر کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوٰی کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 فیصد مبینہ عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آزاد کشمیر کے بھارت کا حصہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ دفتر خارجہ کی طرف سے بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے اس طرح کی بیان بازی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے بھارت کو دیگر ممالک پر الزام تراشی کی بجائے اپنا احتساب کرنا چاہیے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر غور کرنا چاہیے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے بھارت اپنے غیر قانونی اقدامات سے عالمی برادری کی توجہ نہیں ہٹایا سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لئے اس طرح کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
الخدمت بنو قابل پروگرام سیشن 2024 کے بیسٹ پرفارمرز میں مفت لیپ ٹاپ تقسیم

الخدمت فاؤنڈیشن بنو قابل پروگرام کے سیشن 2024 کی گریجویشن تقریب کا انعقاد آج ایکسپو سینٹر لاہور میں ہوا۔ تقریب میں گزشتہ برس کے دوران 28 مختلف آئی ٹی کورسز کے ذریعے فری لانسنگ اسکلز حاصل کرنے والے ہزاروں طلباء شریک ہوئے، کامیاب طلبا و طالبات کو بنو قابل گریجویشن سرٹیفیکیٹ بھی دیئے گئے۔ بنو قابل پروگرام کے پیٹرن انچیف اور سربراہ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنو قابل گریجویٹس اب اپنے طور پر یا بنو قابل جاب پورٹل کے ذریعے ملازمت حاصل کر کے باعزت روزگار کما سکیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کا 65 فیصد سے زائد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ملک میں قدرتی وسائل کی فراوانی ہے، ملکی آئین ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں، پونے 3 کروڑ کے لگ بھگ بچے سکولوں سے محروم ہیں جنھیں تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میں بے روزگار نوجوانوں کیلئے بہت زیادہ مواقع ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے بنوقابل پروگرام کا آغاز 2022 میں کراچی سے ہوا، یہ اب پورے پاکستان میں پھیلایاجا رہا ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب کے پسماندہ اضلاع ہمارا ٹارگٹ ہیں، وہاں کیمپس قائم کرکے نوجوانوں کو آئی ٹی سمیت دیگر جدید کورسز کروائیں گے، جن کی بدولت یہ نوجوان اپنے سمیت دیگر نوجوانوں کے روزگار کی فراہمی کا بھی ذریعہ بنیں گے۔ سربراہ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ 16 کروڑ نوجوان پاکستانی قوم کا سرمایہ ہیں۔ الخدمت کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو انتہائی محنت سے اس سرمائے کو محفوظ اور قابل بنانے کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے۔ 50ہزار طلباء بنوقابل پروگرام کے ذریعے کورسز کے بعد عملی زندگی کا آغاز کر چکے ہیں، وہ نہ صرف اپنا روزگار کما رہے ہیں بلکہ دیگر نوجوانوں کے روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ دو برس میں 10لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی سمیت دیگر کورسز کروانے کے بعد روزگارمیں معاونت ہمارا ہدف ہے۔ تقریب میں موجود الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نے کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ، ای کامرس،آئی ٹی سمیت 28 فری کورسز کروائے جارہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ڈویژنل ہیڈ کواٹرز اور پسماندہ اضلاع میں بنوقابل پروگرام کے سنٹرز کا قیام جاری ہے،جن کی بدولت نوجوان جدید اسکلز سے آراستہ ہو کر اپنے خاندانوں کی کفالت کے قابل بن سکیں گے۔ الخدمت بنو قابل آئی ٹی اور روزگار پروگرام ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے، جس کے تحت ناصرف مفت کورسز کروائے جارہے ہیں بلکہ اس کے بعد ملازمت کی تلاش کے لیے جاب پورٹل بھی فعال رکھا گیا ہے۔ گریجویٹ ہونے والے طلبہ وطالبات فوری طور پر اس پورٹل کے ذریعے اپنے لیے معاش کا انتظام کر سکتے ہیں جب کہ انڈسٹری کو اگر مطلوبہ صلاحیتوں کے افراد درکار ہوں تو وہ بھی یہاں ایسے لوگ منتخب کر سکتے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان

پاکستان میں حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے نافذ العمل قیمتوں میں تبدیلی کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وزارتِ خزانہ کو سمری بھیجی جسے منظور کر لیا گیا۔ اوگرا کی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں 3.50 روپے، ڈیزل میں 3.70 روپے، لائٹ ڈیزل میں پانچ روپے، اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں چھ روپے سے زائد اضافہ کی استدعا کی گئی۔ وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تین روپے 47 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 256 روپے 13 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے 61 پیسے کا اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 260 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل اور توانائی کی برآمدات پر سخت پابندیوں کی دھمکیوں کے بعد عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں ایک سے دو ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 15 روز کے دوران عالمی منڈی میں ایچ ایس ڈی اور پیٹرول کی اوسط قیمتوں میں معمولی اضافے کے ساتھ مٹی کے تیل کی ایکس ریفائنری قیمت میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل پر درآمدی پریمیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے قبل ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 252 روپے 66 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 258 روپے 34 پیسے فی لیٹر تھی، مٹی کے تیل کی سرکاری قیمت 162 روپے 95 پیسے تھی ۔ قبل ازیں 31 دسمبر کو حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 56 پیسے اور دو روپے 96 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس وقت حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 76 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جارہاہے۔ حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 16 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کی جانب سے دونوں مصنوعات پر تقریباً 17 روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ سیل مارجن وصول کیا جاتا ہے۔ اس کےساتھ لائٹ ڈیزل اور ہائی آکٹین بلینڈنگ اجزا پر 50 روپے فی لیٹر چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔
سندھ میں وائس چانسلرز کی تقرری کا نیا طریقہ، ‘جامعات کی خودمختاری پر حملہ’ کیسے؟

سندھ حکومت جامعات ایکٹ میں ترمیم کر رہی ہے جس کے تحت اب کوئی بھی 20 یا 21 گریڈ کا آفیسر یونیورسٹی کا وائس چانسلر بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جامعات کی خودمختاری اور تعلیمی معیار پر ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ سندھ حکومت کا جامعات کے ایکٹ میں ترمیم پر فیصلہ ایک بڑا تنازعہ بن چکا ہے، یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے خلاف اساتذہ اور ماہرین تعلیم سراپا احتجاج ہیں۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے بھی اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے احتجاج کی حمایت کر دی ہے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جامعات کا وقار مجروح ہوگا اور تعلیمی معیار متاثر ہوگا۔ اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ وائس چانسلر کا انتخاب صرف ماہرین تعلیم میں سے ہی کیا جائے، اس کے لیے شفاف اور غیر جانبدار نظام بھی متعارف کروایا جائے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے عہدیدران کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ میں ترامیم تعلیمی آزادی کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بیوروکریٹس کے پاس تدریسی یا تحقیقی تجربہ نہیں ہوتا جو یونیورسٹی کی قیادت کے لیے لازمی ہے۔ اس ترمیم سے تعلیمی معیار اور تحقیقی سرگرمیاں متاثر ہوں گی کیونکہ تعلیمی ادارے بیوروکریسی کے زیرِ اثر آجائیں گے۔ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے خودمختاری کی بنیاد پر کامیاب ہیں، یہ اقدام اس اصول کی خلاف ورزی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر معروف بن رؤف نے اس ایکٹ میں ترمیم کو جامعات کی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بیوروکریٹ کی بطور وائس چانسلر تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں، ہم اس ترمیم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، ہم سندھ کی جامعات میں کلاسز کا بائکاٹ کر رہے ہیں، پیر کے روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ سندھ کی 6 جامعات بشمول بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور، لاڑکانہ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں وائس چانسلر مقرر نہیں ہیں، ان میں سے بعض جامعہ میں وائس چانسلر کی مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود کوئی نیا وائس چانسلر تعینات نہیں کیا گیا، بعض میں تو عرصہ دراز سے وائس چانسلر کی نشست خالی ہونے کے باوجود ابھی تک تعیناتی نہیں ہوئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے فیصلے پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم خان کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹس کو وائس چانسلر مقرر کرنا جامعات کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ یہ تعلیم دشمن فیصلہ ناقابل قبول ہے، اس ظالمانہ فیصلے کو فوری واپس لیا جانا چاہیے، وائس چانسلر کا عہدہ تعلیمی میدان کے ماہرین کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔ امیرجماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ وائس چانسلر کا انتخاب تعلیمی ماہرین میں سے ہونا چاہیے۔ جامعات کی خودمختاری اور تعلیمی معیار کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے شفاف نظام بھی واضع کیا جائے۔ یہ فیصلہ تعلیم دشمن اور ناقابل قبول ہے۔
‘ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے’، خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر انوکھا چیلنج

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی مسلسل تیسری حکومت ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ملک کے تیسرے بڑے صوبے میں پارٹی نے تین مختلف وزرائے اعلیٰ کے ساتھ حکومت کی ہے۔ 2013 میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی اور پرویز حٹک وزیراعلٰی بنے۔اس کے بعد 2018 میں محمود خان اور 2024 میں علی امین گنڈا پورنے وزیر اعلٰی کا عہدہ سنبھالا۔ ‘ پاکستان تحریک انصاف کی صوبے میں 12 سالہ حکومت کو ‘بیڈ گورننس اور بدانتظامی’ کے ساتھ ایسے مسائل بھی درپیش ہیں جو ملک کے دیگر حصوں میں پارٹی کی سیاسی مہم کو بریک لگا دیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت جب ان شکایات کا ابلاغی محاذ پر جواب نہیں دیتی تو پارٹی ورکرز یہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی وہ پارٹی حکومت کو غیرمعمولی بتاتے ہیں تو کبھی اس کے کاموں کو موضوع بناتے ہیں۔ حتی الامکان یہ کوشش کی جاتی ہے کہ صوبائی حکومت کی کمزور سائیڈز کے بجائے نسبتا بہتر سائیڈ پر زیادہ بات ہو سکے۔ ایسی ہی ایک کاوش میں دعوی کیا گیا کہ ‘خیبرپختونخوا میں جِس طرح کام ہو رہے ہیں ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے۔ ابوذر فرقان نامی ہینڈل نے ‘چیلنج’ کیا کہ “خیبرپختون خوا میں کسی بھی مسئلہ پر علی امین کی ٹیم خاص طور پر فیصل امین کا رسپانس 1122 سے بھی زیادہ تیز ہوتا ہے۔ ہسپتالوں کا نظام چیک کر لیں، تعلیم کا نظام چیک کر لیں، پولیس کا نظام چیک کر لیں، پٹوار خانے کا نظام چیک کر لیں”۔ صاحب پوسٹ نے اپنے دعوے پر عمل کا لائیو ڈیمو دیکھنے کی دعوت دی تو خیبرپختونخوا کے بہت سے مکینوں نے خود کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ خود وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور کے حلقے کے ووٹر بھی شکایت کرتے دکھائی دیے۔ 👀👀عمران خان کی رہائی کے طریقہ کار پر علی امین سے ہم سب کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن خیبرپختون خواہ میں جِس طرح کام ہو رہے ہیں ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے میں آپ کو چیلنج کر کے کہتا ہوں پنجاب میں ن لیگ کے کونسلر کے اُمیدوار سے آپ رابطہ نہیں کر سکتے لیکن خیبرپختون خواہ… pic.twitter.com/zbrK7eFETg — Abuzar Furqan (@AbuzarFurqan) January 14, 2025 اس ٹویٹ کے جواب میں خاصی تعداد میں لوگوں نے خود کو درپیش مسائل کا ذکر کیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ یہ صرف باتوں کی حد تک ہے اصل میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہمارے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں اور کوئی سننے والا نہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ میرے گاؤں میں نہ لڑکوں کا سکول ہے اور نہ لڑکیوں کا۔ بجلی تک نہیں ہے اور سڑکوں کا حال تو بتانے لائق نہیں۔ انہوں نے ساتھ سڑکوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔ غلام علی نامی ایک صارف نے لکھا کہ “میں اس دن مریض کے ساتھ شیرپاؤ ہسپتال گیا تھا (خیبر ٹیچنگ ہسپتال) ۔ رات کو درد سے نجات کے لیے دو گولیاں لینی پڑیں۔ اتنی پریشانی ہوئی کہ مریض رونے لگ گیا۔ صحت کے نظام کا بیڑا غرق جتنا اس حکومت نے کیا ہے آنے والے کئی برسوں میں اس کا مداوا نہیں ہوسکتا”۔ نور محمد نامی صارف نےمہمند روڈ کی تصویر اپلوڈ کی ، جس میں سڑک انتہائی بدحالی کا شکار تھی، اور لکھا کہ “یہ سات سال کے بعد مہمند روڈ کی صورتحال ہے جو صرف چودہ کلومیٹر ہے ۔ ہسپتال میں انجکشن تک نہیں ملتا اور تعلیم کا تو پوچھنا بھی نہیں۔ ہمارا ایم این اے ساجد اور ایم پی ایز اسرار اور محبوب شیر ہیں، آپ نے ٹوئٹر پر لوگوں کو باغات دکھا دیے ہیں۔” حکومتی بیڈگورننس کا ذکر پارٹی یا ورکرز کے دعوؤں کے ردعمل تک ہی محدود نہیں، خیبرپختونخوا میں شعبہ تعلیم کی پریشان کن صورتحال مسلسل سوشل ٹائم لائنز پر نمایاں رہتی ہے۔ وزیراعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع یونیورسٹی ملازمین کو گزشتہ ماہ کی تنخواہ نہ ملنا اس سلسلے کی تازہ شکایت ہے۔ گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ملازمین ماہ دسمبر کی تنخواہوں سے محروم — Muhammad Faheem (@MeFaheem) January 15, 2025 تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے قوم کو شعور دیا ہے تاہم صوبے میں تعلیم خصوصاًاعلٰی تعلیم کی بگڑتی صورتحال اس دعویٰ کو سپورٹ نہیں کرتی اور روز بروز نئے مسائل سامنے آتے ہیں۔
ایسی جگہ جہاں لوگ پیسے دے کر تھپڑ کھاتے ہیں

اگر آپ کو یہ پتا چلے کہ دنیا میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں لوگ خود پیسےدے کر تھپڑ کھاتے ہیں تو آپ یقیناً حیران ہوں گے۔ عام طور پر ریستوران کھانا اور پرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں مگر دنیا میں ایسے ریستوران بھی موجود ہیں جوکھانوں کے ساتھ تھپڑ بھی مہیاکرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں پر آنے والے گاہک کھانے کے ساتھ ہوٹل سٹاف سے تھپڑ کھاکر بل ادا کرتے ہیں۔ اس طرح کے زیادہ تر ہوٹل جاپان میں پائے جاتے ہیں۔ جاپان کے جنوبی ساحل پر واقع ناگویا کے ایک ریستوران میں خواتین پر مشتمل عملہ گاہکوں کے چہرے پر تھپڑ رسید کرتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ گاہک جانتے ہیں کہ اس ہوٹل میں تھپڑ رسید کیے جائیں گے، اس کے باوجود وہ آتے ہیں اوراپنی مرضی سے سخت سے سخت تھپڑ کھاتے ہیں۔ خبر رساں ادارے العربیہ اردو کے مطابق کیمونو پہنے فی میل ویٹرز باربار صارفین کے چہرے پر تھپڑ مارتی ہیں۔ پہلے ویٹرس صارفین کے چہرے پر تھپڑ مارتی ہیں جس کے بعد پورے رستوران میں لوگ تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے بعد ویٹرس اور صارفین دونوں جھک کر ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ تھپڑوں کے عوض انھیں 300 ین دیے جاتے ہیں ۔ 1 جاپانی ین 1.83 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ ہوٹل عملے میں سے من پسند ویٹرس سے گال لال کروانے پر 500 ین کی فیس دینی پڑتی ہے۔ ازاکیا اور جاپان کےاکثر شراب خانوں میں تھپڑ رسید کیے جاتے ہیں جوکہ اتنے زوردار ہوتے ہیں کہ گاہک کبھی کبھار اپنی نشستوں سے دور جاگرتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں سوشل میڈیا پر کئی ویڈیو وائرل ہوئیں جس میں ویٹرس کو گاہکوں کو نہایت بےدردی سے تھپڑ مار تے ہوئے دیکھا گیا۔ جنوبی ساحل پر واقع ناگویا کے اس ریستوران کا نام شاچیہوکویا ہے۔ہوٹل کی مالکن بتاتی ہیں ابتدامیں یہ ہوٹل خسارے میں رہا اور بند ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا، ہم نے ہوٹل بچانے کی بہت کوششیں کیں مگر کوئی فائدہ نہ ہو سکا۔ آخر میں ہم نے یہ عجیب و غریب چال چلی، یہ منفرد طریقہ اتنا کامیاب ثابت ہوا کہ ہمیں مزید ویٹریس کو ہائر کرنا پڑا۔ ہوٹل کے گاہک کہتے ہیں کہ یہ ایک دلچسب تجربہ ہے۔ ہمیں خوبصورت لڑکی تھپڑ مارتی ہے جس سے ہم محظوظ ہوتے ہیں اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ذہن کو بھی اچھا لگتا ہےجس سے ہم اپنے کاموں پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔ ہوٹل عملہ اپنے منفرد ملبوسات کی وجہ سے پہچان رکھتا ہے، میل عملہ نےسونے سےبنےباڈی سوٹ اورمچھلی کے سائز کے ہیڈڈریس جبکہ فی میل عملہ نے کیمونیا پہنا ہوتا ہے۔ جاپان میں مارکیٹنگ کے نت نئےمنفرد طریقے دیکھنے کو ملتے ہیں جوکہ عوام کو اپنی جانب راغب کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔ کھانے کے حوالے سے بڑے پیمانے پرآئے روز نئے عجیب وغریب تجربات کیے جاتے ہیں۔ جاپان کےایک ہوٹل میں گاہکوں کو سیل میں ہتھکڑیاں لگا کر بند کیا جاتا ہے جہاں انھیں ویٹرس کھانا مہیا کرتی ہیں ۔ ٹوکیو میں موجودایک ریستوران کو ایلیمنٹری سکول کے کلاس روم کی طرح سجاکرگاہکوں کو بٹھایا جاتا ہےاور عملہ انھیں اساتذہ کے لباس میں کھانا مہیا کرتا ہے۔
ویپنگ کا بڑھتا رجحان، کیا یہ واقعی محفوظ ہے؟

بھائی میں تو سموکنگ نہیں کرتا میں تو ویپنگ کرتا ہوں۔ میرا بھائی، میرا بیٹا ویپنگ کرتا ہے۔ سموکنگ چھوڑنی ہے تو ویپنگ شروع کر دو۔ نہیں نہیں ویپنگ صحت کے لئے خطرناک نہیں ہے۔ یہ وہ تمام جملے ہیں جو ہمیں عام سننے کو ملتے ہیں۔ کیا آپ کو بھی ویپنگ کرنے کا شوق ہے؟ منہ سے دھواں نکالتے ہوئے ویڈیوز بنانا اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا آج کل فیشن بن چکا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کو صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ اس لت کے باعث زندگیاں گنوا رہے ہیں اورکروڑوں مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔لیکن کیا جانتے ہیں سگریٹ نوشی زیادہ خطرناک ہے یا پھر ویپنگ؟ ویپنگ انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ کیا ویپنگ یا ای سگریٹ تمباکو نوشی چھوڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا پھر تمباکو نوشی کی لت کا باعث بنتی ہے؟ حکومت پا کستان نے 2015 میں سگریٹ کے پیکٹس پر خوفناک تصاویر شائع کرنا بھی لازم قرار دیا تھا تاکہ تمباکونوشی کے نقصانات آگاہ کیا جا سکے۔ خبر رساں ادارے ‘آزاد اردو’ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یومیہ 460 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے عادی ہیں، جن میں سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد سیگریٹ کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ باقی افراد تمباکو نوشی کے لئے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ حقہ اور بیڑی تو تمباکو نوشی کے پرانے طریقے ہیں جن سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ویپنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس کا استعمال آج کل کی نوجوان نسل اور خاص کر شہری علاقوں میں بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔ ویپنگ ایک ایسا فعل ہے جس میں نکوٹین یا دیگر محلولات کو بخارات کی شکل میں ای سگریٹ یا الیکڑانک سگریٹ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ اب سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا یہ جدید طریقہ روایتی طریقوں کی طرح ہی خطرناک ہے یااس کا کوئی خطرہ نہیں؟ کیا ویپنگ کو سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور ویپنگ انسانی صحت پر کس طرح کے اثرات مرتب کرتی ہے؟ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک ماہ تک تحقیق کی گئی جس میں 114 سگریٹ نوشوں نے حصہ لیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق ویپنگ سے دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پر صحت کے لئے محفوظ نہیں ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ سگریٹ نوشی کے تمام طریقوں کوہی ترک کرنا صحت کے لئے محفوظ ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں موجود کیمیائی مادے خون میں شامل ہو کر شریانوں سے گزرتے وقت چربی کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ شریانوں کی پھیلنے کی صلاحیت سے ہی ان کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ برٹش جنرل آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق شریانوں کے پھیلنے اور ہارٹ اٹیک کے طویل مدتی خطرات کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا ہے، صحت مند اور سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کا سکور 7.7 فیصد، سگریٹ نوشی کرنے والوں کا سکور 5.5 فیصد جبکہ ویپنگ کرنے والوں کا سکور 6.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ نوائے وقت کی رپورٹ کے مطابق ویپنگ کے بہت سے نقصانات ہیں، ای سگریٹ میں موجود نکوٹین دماغی نشو و نما پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو کہ عادی بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے محلول میں موجود کیمیائی مادے پھیپھڑوں اور دل کی صحت کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ منصورہ ہسپتال لاہور میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر عمیر احمد صدیقی نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ”ویپنگ معاشرے میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نوجوان نسل اس کو فیشن سمجھ کرچھوٹی عمر سے ہی تیزی سے اپنا رہی ہے۔ گو کہ ویپنگ سیگریٹ نوشی سے کم نقصان پہنچاتی ہے لیکن پھر بھی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ دل اور پھیپھڑوں پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ پھیپھڑوں پر اس کے اثرات سے دمہ اور پیرینچیمل جیسی مہلک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ویپنگ انسان کی شریانوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “نوجوان نسل میں ویپنگ اس لیے بڑھ رہی ہے کیوں کہ اس کو فیشن کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ویپنگ مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور نوجوانوں تک آسان رسائی اس کے استعمال کو بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو ویپنگ پہ بھی قانون سازی کرنی چاہیے تا کہ اس کےاستعمال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ جس طرح سیگریٹ پہ پابندیاں لگائی گئی ہیں اسی طرح ویپنگ پہ بھی لگائی جانی چاہیے”۔ ماہرین کی رائے اور دنیا بھر میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق ویپنگ تمباکو نوشی سے کم نقصان دہ ہے تاہم انسانی صحت کے لئے مہلک ہے۔ فیشن کے طور پر ویپنگ کرنے والے افراد آہستہ آہستہ تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔
پاکستانی معیشت کا ‘انجن’ کہلانے والا پراپرٹی کا کاروبار زبوں حالی کا شکار کیوں ہے؟

ایک وقت تھا جب رئیل اسٹیٹ کاروبار پاکستان میں بہت منافع بخش ہوا کرتا تھا مگر گزشتہ چند برس میں سیاسی عدم استحکام اور گرتی ہوئی معیشت کے سبب رئیل اسٹیٹ نے بھی بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ ماضی میں ہونے والے شرح سود کے اضافے کے باعث رئیل اسٹیٹ کاروبار کافی متاثر ہوا۔ جہاں سال 2024 میں مہنگائی کے سبب تمام بزنسز شدید نقصان میں رہے وہیں دوسرے کاروباروں کی نسبت رئیل اسٹیٹ نسبتاً کم نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران رئیل اسٹیٹ بزنس میں نمایاں تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں۔ مئی 2023 میں ورلڈ بینک کے لگائے گئے تخمینے میں ملکی دولت کا 60 سے 70 فیصد حصہ پاکستانی رئیل اسٹیٹ اکانومی کا تھا جو تقریبا 700 بلین ڈالر بنتا تھا۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ جی ڈی پی کے تقریبا 2.8 فیصد پر مشتمل تھی۔رئیل اسٹیٹ کی ابتدا پاکستان کی آزادی سے پہلے کی ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل بند روڈ کے قریب پرانےکراچی میں رئیل اسٹیٹ ایجنسیاں موجود تھیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد شہروں کی جانب نقل مکانی سے رئیل اسٹیٹ کاروبار بڑھا اورضلع جنوبی کراچی رئیل اسٹیٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنا۔ ڈی ایچ اے کراچی 50 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔ رئیل اسٹیٹ میں بڑا منافع 1973 میں بھٹو حکومت میں ایمنسٹی اسکیم کے آغاز کے بعددیکھنے کو ملا مگر 1977 میں انتخابات اور ڈی ایچ اے میں تباہ کن سیلاب کے بعد رئیل اسٹیٹ بری طرح ناکام ہوئے۔ موجودہ رئیل اسٹیٹ کی بنیاد 90 کی دہائی میں رکھی گئی۔ 1992 میں مارکیٹ میں رئیل اسٹیٹ نے کامیابی سمیٹی مگر 1997 میں زوال کا شکار ہوگئی۔ 2013 میں ایک بار پھر رئیل اسٹیٹ نے اپنے قدم جمالیے۔ 2015 میں رہائشی پلاٹوں میں 5 سے 7 فیصد جبکہ کمرشل پراپرٹی میں 15 سے 20 فیصد تک حیران کن منافع ہوا۔ کورونا، سیاسی عدم استحکام اور ڈگمگاتی ملکی معیشت کے سبب 2019 کے بعد ایک بارپھررئیل اسٹیٹ کی کمر ٹوٹ گئی۔ چھوٹے رئیل اسٹیٹ تاجروں کو گزشتہ برسوں میں بہت زیادہ نقصان پہنچاہے ۔ نجی خبر رساں ادارے اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان رئیل اسٹیٹ کے ماہر حسام علی کا کہنا ہے کہ 2024 کےپہلے 6 مہینے میں مہنگائی کی شرح اوسط 2.30فیصد تھی۔ باقی کاروبار کی نسبت رئیل اسٹیٹ میں خاصی لچک رہی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں معاشی بدحالی کے باوجود رئیل اسٹیٹ کی قدر برقرار رہی۔ رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں افراطِ زر کے ساتھ بڑھتی ہیں۔ ملک میں پراپرٹی قلیل مدتی وطویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے بہت سے مواقع پیش کرتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ پلیٹ فارم زمین ڈاٹ کام کے مطابق گزشتہ دہائی میں لاہور،اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں رہائشی املاک کی قیمتوں میں 10 سے 15 مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جرمن شماریاتی پورٹل سٹیٹسٹا کے مطابق 2025 میں پاکستانی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا 2.03ٹریلین ڈالر پر پہنچنے کا امکان ہے۔ سالانہ شرح نمو 3.75فیصد ہونے کی توقع کی گئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ2029 میں 2.41ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ رئیل اسٹیٹ کے مثبت و منفی دونوں اثرات پائے جاتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے فوائد یہ ہیں کہ ایک تو اس سے روزگار پیدا ہوتا ہے اوردوسرا منافع سرمایہ کاروں کو راغب کرتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں۔ انفراسٹرکچرکی بہتری اور پلاٹوں کے لین دین سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کم آمدنی والے طبقے پر گہرے اثر چھوڑتا ہے۔ قیمتوں کے بڑھ جانے سے نچلاطبقہ اپنے خود کے گھر نہیں بنا سکتا۔غیر قانونی قبضے اور رشوت خوری جیسی سماجی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ کارخانے لگانے سے پیسہ بڑھتا ہے۔ پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے مگررئیل سٹیٹ کے کاروبار میں پیسہ منجمد ہوجاتا ہےجو کہ ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ سینئرصحافی اور ڈائریکٹررائٹ پلیس مارکیٹنگ لاہور مناظرعلی نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ” ،یہاں اربوں روپے کا سرمایہ کاری کا عمل دخل ہوتا ہے اور لاکھوں افراد کا چولہا رئیل اسٹیٹ سے ہونے والی آمدن سے چلتاہے۔ سرمایہ کاروں کے علاوہ اس سے وابستہ دفاتر اور کنسٹرکشن کمپینوں کے ملازمین بھی اسی روزگار کے چلنے سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ مگر پچھلے کچھ عرصے سے اس مارکیٹ میں خاصی مندی دیکھی جارہی ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ ٹیکسز کی بھرمار ہے جس وجہ سے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری سے منہ پھیر لیا ہے اور نتیجتا مارکیٹ میں مندی ہے”۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ “2025 کو رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں پھر بہتری کا سال قرار دیاجارہاہے۔ ٹیکسز میں کسی حد تک کمی آرہی ہے اور کچھ نئے پروجیکٹس شروع ہونے سے بھی مارکیٹ میں ہلچل کی صورتحال نظر آرہی ہے،ان دنوں الغنی ڈویلپرز نے اپنا فیز سیون لانچ کیا ہے،اسی طرح آنے والے دنوں میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی دبئی میں ایک بڑا پروجیکٹ لانچ کرنے جارہے ہیں،کہاجارہاہے کہ پاکستان کے بڑے سرمایہ کار بھی دبئی میں بھاری سرمایہ کیلئے تیاری کررہے ہیں،یہ پروجیکٹ بھی پاکستانی رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں تیزی کا باعث بن سکتاہے”۔ مناظر علی نے کہا کہ “مجموعی طورپر اگر بات کی جائے تو اب پراپرٹی خریدنے کا وقت ہے،بیچنے کا نہیں۔ 2025 کے آغاز میں جن لوگوں نے پراپرٹی خریدنے کافیصلہ کرلیا ہے وہ سال کے آخر میں یا پھر دوہزار چھبیس میں کئی گنا منافع کماسکتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں وہی لوگ زیادہ منافع کماتے ہیں جنہیں سرمایہ کاری کرنے کے وقت کا اندازہ ہوتاہے اور کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے یہ بھی معلوم ہوتاہے۔ لہذا عام آدمی کو بھی یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر کچھ خریدنا ہے تو ابھی وقت ہے خرید لیں”۔
ڈیجیٹل ہیلتھ کئیر سنٹرز: اب آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانےکی ضرورت نہیں!

ڈاکٹر یا ہسپتال جانے کا جھنجھٹ ختم ،ایک کال پر ڈاکٹر خود آپ کے پاس حاضر ہوگا،کیا ایسا ممکن ہے؟جی ہاں ،سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایسا انقلاب برپا کیا ہے کہ اب اس کے بغیر رہنا ناممکن ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر صحت کی فراہمی اور دیکھ بھال کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ دنیا کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان نے قابلِ قدر کوشش کی ہے کہ صحت کے مراکز میں بہتری لائی جائے۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والی جگہوں کوہیلتھ کئیر سنٹرز کہا جاتا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی مدد سے صحتِ عامہ کی خدمات کو مؤثر بنانا ڈیجیٹل ہیلتھ کئیر سسٹم کہلاتا ہے۔ ڈیجیٹل ہیلتھ کئیرسسٹم صحت عامہ کے مسائل پر بروقت مدد فراہم کرتا ہے۔ ڈیجیٹل سائٹ ہیلتھ وائرکےاعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 2022 سے 2023 تک آن لائن ریکارڈ مریضوں کی تعداد میں 40 سے 55 لاکھ تک کا اضافہ ہوا ہے۔ 195 ممالک کی فہرست میں صحت کے اعتبار سے پاکستان کا122واں نمبر ہے ۔کورونا کے بعد حکومتِ پاکستان کی جانب سے صحت کو لے کر بہت سے اقدامات کیےگئے۔صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ٹیلی میڈیسن جیسی ڈیجیٹل سہولتیں متعارف کرائی گئیں، ٹیلی میڈیسن گھر بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے علاج کا نام ہے۔ فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی میں ٹیلی میڈیسن مرکز قائم ہے جو ویڈیو کال کے ذریعے مفید مشورے دیتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارمز اور الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ سسٹمز جیسے ڈیجیٹل سلوشنز تیار کرنےپرکام کیا جارہا ہے۔ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی آیشن (پیما) کی ہیلتھ لائن پروجیکٹ کی سربراہ ڈاکٹر حوریہ نے مئی 2020 میں نجی چینل ڈان نیوز کو بتایا تھا کہ پیما ٹیلی کلینک سروس کا اجراء اس لیے کیا گیا ہےکہ لوگ کورونا کے دوران گھروں سے کم سے کم نکلیں اور اگر انھیں صحت کا کوئی مسئلہ درپیش ہو یا فوری طبی مدد چاہئے ہو تو وہ آسانی سے کال کر کے مشورہ لے سکیں۔ ہیلتھ لائن کی سروس ملک بھر میں بالکل مفت ہے اورصبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ امن ٹیلی ہیلتھ سروس کے انچارج شیخ نادر نےڈان نیوز کو بتایا کہ یہ سروس گزشتہ 10 سال سے فعال ہے اور ہیلپ لائن نمبر 9123 ہے۔ 2020 میں نفسیاتی پریشانیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے امن ٹیلی اور پاکستان برائے ایکسیلینس ان سائیکالوجی کی جانب سے مل کر ایک فون کال سروس کا آغاز کیا گیا جس کے اوقات کار دوپہر 2 سے شام 4 بجے تک مختص کیے گئے۔ ڈان نیوز کے مطابق خواتین مریضوں کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سارہ سعید اور ڈاکٹر عفت ظفر کی جانب سے 2019 میں صحت کہانی ٹیلی میڈیسن ایپ سروس کا آغاز کیا گیا ۔ ایپ کا مقصد تھا کہ خواتین بنا کسی جھنجھٹ اور پریشانی کے خواتین ڈاکٹروں کو اپنے مسائل بتاسکیں۔ منصورہ ہسپتال لاہور سے ڈاکٹر عمیراحمد صدیقی نے پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “جو بھی سسٹم شروع کیا جاتا ہے اس کی فائدے و نقصان ہوتے ہیں۔ جب تک مریض آپ کے سامنے نہیں ہے آپ مکمل طور پر اس کا معائنہ نہیں کرسکتے۔ ہمارے دوستوں میں بھی جب کوئی بیمار ہوتا ہےتو ایک حد تک ہم ان کو موبائل پہ ٹریٹ کرتےہیں لیکن اس کے بعد ہم اس کو ہمارے پاس آنے کا کہتے ہیں تا کہ بہتر طریقے سے معائنہ کیا جائے۔ جب مریض آپ کے پاس ہوگا تو آپ اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتے ہوئے بہتر معائنہ کر سکتے ہیں”۔ پاکستان کا 195 مین سے 122ویں نمبر پہ ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ “پاکستان میں آگاہی کی بہت کمی ہے۔ لوگوں کو اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے بارے میں آگاہی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں لوگوں کو بیماریوں کی علامات کے بارے میں مکمل علم ہوتا ہے جب کہ پاکستان میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ ہماری گھریلو تربیت میں شامل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمارے اسپتالوں میں بھی بہتری کی بہت گنجائش باقی ہے”۔
حکومت کے خلاف عوامی غیظ و غضب، کیا پاکستان میں یہ ’بنگلا دیش جیسی‘ بغاوت بن سکتا ہے؟

اگر صبح جاگتے ہی خبر سننے کو ملے کہ آپ کے ملک کی حکومت تبدیل ہو گئی ہے تو آپ کیا سوچیں گے۔ بالکل ایسا ہی ماضی میں مشرقی پاکستان کہلائے جانے والے بنگلا دیش میں ہوا جب ایک دن 15 سال تک وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ واجد نے اچانک استعفیٰ دیا اور انہیں جان بچا کر ملک سے فرار ہونا پڑا۔ پاکستان کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ہی بحث چھڑ چکی ہے۔ پاکستان کے حالات کو بدتر کہنے والےکہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ایسا ہوسکتا ہے مگر حکومت کے حامیوں کا نقطہ نظراس کے بالکل برعکس ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں ایسا ممکن ہے؟ بنگلا دیش میں تبدیلی کے محرک طلباوعوام کازبردست احتجاج اور کامیاب حکمتِ عملی تھے۔ عوام میں یہ غصہ تب پروان چڑھا جب حکومت کی طرف سے کوٹہ سسٹم میں ترمیم کرنے کے بارے میں بات ہوئی۔ یہ عوامی غیظ و غضب بنگلا دیشی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ حکومت گرانے کے بعد عوام نے بنگلادیش کے بانی سمجھے جانے والے شیخ مجیب الرحمان کے مجسمے تک کو مسمار کر دیا، مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامیوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا اور حکومتی اراکین کے خلاف زبردست عوامی احتجاج نے جنم لیا۔ عوامی غیظ و غضب بنگلا دیش میں عبوری حکومت کے قیام سے تھما اور ملک گیر احتجاج کا سلسلہ بھی تمام ہوا۔ اب بہت سے لوگ یہ قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ شاید پاکستان میں بھی ایسے حالات رونما ہو سکتے ہیں۔ اگر ان قیاس آرائیوں پر غور کیا جائے تو سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہےکہ کیا پاکستانی عوام اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے سامنے اس طرح کی بغاوت کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟کیا یہ قیاس آرائیاں کبھی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہیں یا پھر لفظی گولہ باری ہے؟ گزشتہ2 سال سے پاکستان شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے کردار اور سیاسی جماعتوں کی غیر منظم سیاسی حکمتِ عملی اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے، اپریل 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے بے دخل کیا گیا۔ جس کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کو مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جیل بھی کاٹ رہے ہیں۔ مزید براں تحریک انصاف کے رہنماؤں پہ مسلسل پابندیاں اور مبینہ گمشدگیاں سیاسی بحران کو مزید بڑھاوا دے رہی ہیں۔ معاشی بحران توایک طرف یہاں تو سماجی مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہے۔ حکومت کی جانب سے لگاتار توانائی سمیت روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی تمام تراشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں گمشدہ افراد کو لے کر مختلف تحریکیں جنم لے رہی ہیں اور عوام سڑکوں پر آنے لگے ہیں۔ اس مسئلے پہ بلوچستا ن کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوامیں کرم اور پارا چنار کے مسائل بھی عوام میں حکومت کے خلاف نفرت کی چنگاری کو ہوا دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی مد میں بھی عوام پہ بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر مہنگائی کی شدت میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں کے لیے نوکریوں کی عدم دستیابی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا ختم ہونا ملک کو مزید مشکلات میں ڈال رہا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے ملک گیر احتجاج اور جلسے کرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ جس پر کئی بار حکومت کو سخت ردعمل دینا پڑا ہے۔ 24 نومبر 2024 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کیا گیا جس میں کارکنان اور پولیس کے مابین شدید کشیدگی دیکھنے کو ملی، کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں درجنوں اہلکار اور کارکنان زخمی ہوئے۔ ان جھڑپوں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد گرفتاریاں بھی دیکھنے کو ملیں۔ حکومت کی جانب سے تمام بڑے شہروں کی سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا جس سے عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حوالے سے گروپ ایڈیٹر سٹی نیوز نیٹ ورک (چینل 24) نوید چوہدری نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستانی نوجوانوں میں جو غم و غصہ پایا جاتا ہے یہ تب تک کسی نتیجے پہ نہیں پہنچ سکتا جب تک یہ کسی تحریک کی شکل نہ اختیار کر لے، اس وقت ہمارے ہاں تمام سیاسی قائدین تقسیم ہیں۔ اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس قدر مقبول ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں اور اب تک کچھ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی جو سب سے بڑی نوجوانوں کی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے خان صاحب کی رہائی کے لئے کیا کر پائی ہے”۔ نوید چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ “یہ ضرور ہے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن بنگلادیش جیسی صورتحال یہاں پیدا ہونا ممکن نہیں۔ بنگلادیش میں حالات کچھ اور نوعیت کے تھے وہاں صرف بنگالی قوم رہتی ہےجب کہ پاکستان میں مختلف اقوام ہیں۔ شیخ حسینہ واجد نے جبر کا نظام رکھا لیکن ترقی بھی دی، یہاں پاکستان میں زیادہ مسائل ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر موجودہ احتجاج اور عوامی رویے کو قابو نہ کیا گیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔” پاکستان میں عوام یکسو ہوکراپنے مطالبات کے حق میں نکلے،پہلے اسٹوڈنٹس باہر آئے بعد میں عام افراد بھی شامل ہوگئے،مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے؟ گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ لاہور کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ڈاکٹر شفاعت علی ملک نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان اور بنگلہ دیشں کے سیاسی اور سماجی حالات میں کسی بھی مماثلت کی بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان میں بنگلہ دیش جسے حالات یا بغاوت کا کوئی خدشہ ہے۔ بنگلہ دیش کے برعکس پاکستان ایک ملٹی کلچر