اپریل 5, 2025 12:50 صبح

English / Urdu

سائبر سیکیورٹی:کیا آپ کی نجی زندگی محفوظ ہے؟

ڈیجیٹل دور میں ڈیجیٹل زندگی کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟

اپ اگر واٹس ایپ ، فیس بک اور انسٹاگرام جیسی ایپس استعمال کرتے ہیں تو آپ ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں ۔ موجودہ دور ڈیجیٹل دورہے۔ جب آپ کی ہر چیزدوسرے انسان کی دسترس میں ہو تو ایسے میں رازداری (پرائیویسی) یقیناً خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ حال ہی شوبز شخصیات سے لے کر بڑے بڑے سیاستدانوں اور عام افراد تک کی نجی ویڈیوز لیک ہوئی ہیں، کیا یہ محض اتفاق تھا یا پھر کوئی سیکیورٹی مسئلہ تھا؟ آج کے جدید دور میں زندگی کے ہر پہلو کا تعلق کسی نا کسی طرح آپ کے موبائل فون سے ہوتا ہے۔   جیسے سمارٹ ہوم ڈیوائسز، صحت کے مانیٹرز اور آن لائن بینکنگ  وغیرہ،ان جدید ٹولز نے انسانی زندگیوں کو آسان اور بہتر بنایا ہے مگر ان کے ساتھ ہرفرد کےبارے میں معلومات کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ جہاں ایک عام فرد روزانہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جڑا ہے وہیں پرمعلومات کے چوری ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اسی لیےسیکیورٹی کے جدید طریقوں کو اپنانا ہماری  پہلی ترجیح ہونی چاہیے جس میں مضبوط پاس ورڈز، اینٹی وائرس سافٹ ویئراور آن لائن احتیاط ضروری ہے۔ اس کے ذریعے ہم اپنی ڈیجیٹل زندگی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں افراد  کا انٹرنیٹ پر موجودگی کو محفوظ بنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے کیونکہ سائبر حملوں میں دن با دن اضافہ ہو رہا ہے۔  جب آپ ڈیجیٹل اپڈیٹس کے ساتھ دن کا آغاز کرتے ہیں اور اسٹریمنگ سروسز کے ذریعے جب تفریح کرتے ہیں تو آپ کی آن لائن سرگرمیاں آپ کو کچھ خطرات میں ڈال سکتی ہیں کیونکہ آپ  کا شیئر کردہ ڈیٹا وسیع نیٹ ورکس سے گزرتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ایک ایسا میدان ہے جو ڈیجیٹل سسٹمز، نیٹ ورک اور ڈیٹا کو غیر متعلقہ سسٹمز کی رسائی یا نقصان سے بچانے کے لئے کام کرتا ہے ۔ یہ صرف ورچوئل رکاوٹیں قائم کرنے والا ایک پیچیدہ نظام ہے جس میں تشخیصی ،دفاعی  اور جوابی اقدامات شامل ہیں۔  سائبر سیکیورٹی کا بنیادی مقصد ڈیٹا کی رازداری اور سالمیت کو محفوظ رکھنا ہے۔  اس  ڈیجیٹل دنیا کے فائدوں کے ساتھ ساتھ اس میں ہیکرز، مالویئر اور فشنگ حملے وغیرہ جیسے کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ سائبر سیکیورٹی مختلف ٹیکنالوجیز اور طریقوں کا استعمال کرتی ہے تاکہ ان خطرات سے بچا جا سکے اور ممکنہ کمزوریوں کو دور کیا جا سکے تاکہ اس  میدان میں  ہمیشہ سائبر مجرموں سے ایک قدم آگے رہاجائے۔ سائبر سیکیورٹی کے خطرات مسلسل ترقی بڑھتے جا رہے ہیں جن میں خاص طور پر فشنگ، میلویئر، رینسم ویئر، اور مین ان دی مڈل حملے بڑھ رہے ہیں۔ دیگر خطرات میں SQL انجیکشن، DNS ٹنلنگ، زیرو ڈے ایکسپلائٹس، کرپٹوجیکنگ، اندرونی خطرات اور پاس ورڈ کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کی حفاظت کے لئے جو اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں ان میں سب سے ضروری بات سائبر سیکیورٹی کے اصولوں پر عمل کرنا ہے ۔ خاص طور پر مضبوط پاس ورڈز کا استعمال کرنا ہے یہ سوشل میڈیا صارفین کے آن لائن معلومات کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ  دوہری تصدیق (Two-step verification) کا عمل بھی صارفین کے اکاؤنٹس کو مزید محفوظ بناتا ہے یعنی جب فرد لاگ ان کرتے ہیں تو ایک اضافی چیک ہوتا ہے جس سے اس کے اکاؤنٹ  کی سیکیورٹی بہتر ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اینٹی وائرس سافٹ ویئر کمپیوٹر اور موبائل کو وائرس اور نقصان سے بچاتا ہے، سوشل میڈیا صارفین اپنی ذاتی معلومات کو غیر مجاز افراد سے محفوظ رکھنے اور ڈیٹا انکرپشن کے ذریعے سیکیورٹی کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔  سوشل میڈیا پر پرائیویسی سیٹنگز مضبوط کریں تاکہ ذاتی معلومات غیر ارادی طور پر شیئر نہ ہوں ان اصولوں پر عمل کر کے صارفین انٹرنیٹ پرمحفوظ رہ سکتے ہیں۔ حکومت کا کردار دوسری جانب ہماری حکومت اور اداروں کی بھی  سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے اہم ذمہ داریاں ہیں جن میں سب سے پہلی ذمہ داری سائبر سیکیورٹی کے قوانین اور پالیسیوں کا مؤثر نفاذ ہے تاکہ ملک بھر میں سائبر حملوں اور دیگر سائبر جرائم سے بچا جا سکے۔  اس کے ساتھ ہی اداروں میں سائبر سیکیورٹی کیلئے مکمل تربیت کا انتظام بھی ضروری ہے تاکہ ملازمین جدید خطرات سے آگاہ ہو سکیں اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں اور قومی سطح پر سائبر سیکیورٹی کی ایک جامع حکمت عملی وضع کی جائے۔ مزید برآں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس حکمت عملی کے تحت مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، معلومات کا تبادلہ کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے سائبر سیکیورٹی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا شامل ہے  یہ تمام اقدامات ملک کی ڈیجیٹل معیشت اور شہریوں کی حفاظت کے لئے ناگزیر ہیں۔  سائبر سیکیورٹی سوشل میڈیا صارفین کے ڈیجیٹل دنیا کا ایک نہایت اہم حصہ ہے جو ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔ یہ آپ  کی آن لائن حفاظت اور اعتماد کو یقینی بناتی ہے۔  سادہ عادات جیسے مضبوط پاس ورڈ کا استعمال اور آن لائن احتیاط برتنا ہر فرد لیے بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔  اس کے علاوہ ذاتی ڈیٹا محفوظ رکھنا سوشل میڈیا صارفین کی مشترکہ ذمہ داری ہے اس میں چاہے آپ ویب براؤز کر رہے ہوں، خریداری کر رہے ہوں یا کوئی حساس کام کر رہے ہوں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ  سائبر سیکیورٹی صارفین کی ڈیجیٹل زندگی کے ہر پہلو میں اہمیت رکھتی ہے اور اس کا خیال رکھنا ان سب کی ذمہ داری ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے ماہر سعود افضل نے پاکستان میٹرز سےخصوصی گفتگو میں  کہا کہ” صارفین کو اپنی آن لائن حفاظت یقینی بنانی چاہیے۔ اس کے لیے انہیں سب سے پہلے اپنے اکاونٹس کے پاسورڈز مضبوط بنانےچاہیے۔ ہمیشہ دو مرحلہ تصدیق فعال کریں تاکہ حفاظتی پرت فراہم کی جا سکے۔ مشکوک لنکس سے اجتناب اور وی پی این کا استعمال بھی انہیں محفوظ رہنے میں مدد دیتا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “حکومت کو سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے جامع پالیسیز بنانی چاہیے۔ عوام کے لیے آگاہی پروگرامز  تشکیل دیے جائیں۔تعلیمی مہمات، کمیونٹی پروگرامز  اور شراکت داری سے لوگوںمیںسائبر سیکیورٹی کے بارے میں شعور لایا جا سکتا