اپریل 4, 2025 4:05 شام

English / Urdu

کینسر سے لڑنے والا کم عمر اویس ‘چائلڈ اسٹار رپورٹر’ کیسے بنا؟

owais shahzad, pakistanmatters,interview, young journalist

ننھے صحافی اویس شہزاد کے تابڑ توڑ سوالات سے بڑے بڑے سیاستدان، کھلاڑی، اداکار، اور کاروباری شخصیات مشکلات کا شکار کھائی دیتے ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ اور حامد میر سے متاثر چائلڈ سٹار رپورٹر کا حقیقت میں آئیڈیل کون؟ والد بھی اپنے بیٹے کی خداداد صلاحیتوں کے معترف ہیں، کیا اویس بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح کرکٹ کا دیوانہ ہے؟، اویس کا پسندیدہ کھلاڑی کون؟ انٹرویو دوران شاہد آفریدی کو مقابلے کے لیے کھلا چیلنج دے دیا۔ ننھے صحافی کے کینسر جیسے خطرناک مرض سے لڑنے کے لیے حوصلے بلند ہیں۔ اویس روزانہ کی بنیاد پر کینسر کا مقابلہ کرنے والے بچوں اور ان کے والدین کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ اویس کی کہانی عزم، امید اور ناقابل تسخیر حوصلے کی مثال ہیں۔

تارکین وطن کی ایک اور کشتی حادثے کا شکار، 44 پاکستانی بہتر مستقبل کا خواب لیے لقمہ اجل بن گئے

Boat insident

بھائی میں تو باہر جا رہا ہوں، میرا بیٹا، میرا دوست، میرا رشتہ دار بیرونِ ملک جا رہا ہے، ارے بھائی کچھ بننا چاہتے ہو تو یہاں سے نکل جاؤ، اس طرح کے ناجانے کتنے جملے ہر روز ہمارے کانوں میں گونجتے ہیں، ہر کوئی یہ ہی نصیحت کرتا دکھائی دیتا ہے کہ جو بھی ہو جیسے بھی ہو بس پاکستان سے نکل جاؤ۔ ایسے جملوں اور نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے لوگ بیرون ملک جانے کی ٹھان لیتے ہیں خاص کر نوجوان نسل تو آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب سجائے بیرون ملک جانے کے غیرقانونی طریقے بھی اختیار کر رہی ہے۔ آئے دن غیر قانونی طور پر یورپ اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں جانے والے افراد مختلف قسم کے حادثات کا شکار ہوتے ہیں، اب تک غیر قانونی طور پر بیرونِ ممالک جانے والے سینکڑوں افراد منزل مقصود تک پہنچنے سے قبل ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ماضی کی طرح آج پھر افریقی ملک موریطانیہ سے اسپین جانے والی تارکین وطن سے بھری کشتی حادثے کا شکار ہوئی جس کے نتیجے میں 50 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں بہتر مستقبل کا خواب سجائے 44 پاکستانی بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق میڈرڈ اور ناوارا میں قائم گروپ نے بتایا کہ مراکشی حکام نے ایک کشتی سے 36 افراد کو بچایا جو موریطانیہ سے 2 جنوری کو سپین کے لیے روانہ ہوئی تھی، اس کشتی میں 66 پاکستانیوں سمیت 86 تارکین وطن سوار تھے۔ واکنگ بارڈرز کی سی ای او ہیلینا مالینو نے ایکس پر لکھا کہ تازہ ترین واقعے میں ڈوبنے والوں میں سے 44 کا تعلق پاکستان سے تھا۔ مراکو میں قائم مقائم پاکستانی سفیر رابعہ قصوری نے نجی ٹی وی چینل ‘دنیا نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشتی میں 86 افراد میں سے36 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور انھیں کیمپ میں رکھا گیا ہے جس میں سے پاکستانی بھی موجود ہیں، ہم ان سے رابطہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں سمیت کئی زندہ بچ جانے والے دکھلا کے قریب ایک کیمپ میں موجود ہیں، رباط میں ہمارا سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے، پاکستانی شہریوں کی سہولت اور ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے سفارت خانے کی ایک ٹیم کو دخیلہ روانہ کر دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ (CMU) کو فعال کر دیا گیا ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ سرکاری اداروں کو متاثرہ پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق کشتی حادثے میں جاں بحق 44 پاکستانیوں میں سے 12 نوجوان گجرات کے رہائشی تھے۔ اس کے علاوہ سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کے افراد بھی کشتی میں موجود تھے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ 4 ماہ قبل غربت سے تنگ آ کر اپنے بچوں کو یورپ کے لیے روانہ کیا تھا، سمندری سفر کے دوران انسانی اسمگلروں نے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا تھا، پیسے نہ ملنے کی وجہ سے کشتی کو سمندر کے درمیان 8 روز تک کھڑا رکھا گیا۔ شدید سردی کے باعث کئی لوگ بیمار بھی ہوئے۔ اہلخانہ نے مزید بتایا کہ انسانی اسمگلرز تمام افراد کو موریطانیہ کے ویزوں پر لےکرگئے تھے، موریطانیہ میں ان افراد کو ایک سیف ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔ عرب خبررساں ادارے اردو نیوز کے مطابق کشتی اسپین حادثے میں بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ اموات کشتی حادثے کے باعث نہیں ہوئیں بلکہ انسانی سمگلرز نے تارکین وطن کے سروں میں ہتھوڑے مارے، آنکھیں نکالیں، ظالموں نے مرنے والوں کے ساتھ ساتھ زندہ انسانوں کو بھی سمندر میں پھینکا، اسلحے سے لیس افراد کو جو بھی صحت مند انسان نظر آتا وہ اسے مارنا شروع کر دیتے۔ واضح رہ کہ یہ سانحہ پہلی بار پیش نہیں آیا اس سے پہلے بھی اس طرح کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ گزشتہ مہینے (دسمبر 2024ء) یونان میں کشتی حادثے کا شکار ہوئی جس کے نتینے میں پاکستانیوں سمیت متعدد افراد لقمہ اجل بنے، وفاقی تحقیاتی ادارے ایف آئی اے کے مطابق یونان کشتی حادثے میں 44 پاکستانیوں کو ریسکیو کیا گیا تھا اور 9 پاکستانیوں کی لاشیں تک نہیں ملی تھیں۔ موجودہ دور میں نوجوان بہتر مستقبل کے لیے غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوشش میں خود موت کو دعوت دیتے ہیں۔ اس بات کا کچھ علم نہیں ہوتا کہ بیرون ملک جا کر ان کا مستقبل روشن ہوگا، بعض اوقات ایسے افراد کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود بھی خالی ہاتھ وطن لوٹنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے حادچات سے بچنے کے لیے ضروری ہے انسانی اسمگلروں کے خلاف سخٹ کارروائیاں کی جائیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز کے لئے تمام نظریں پاکستانی سپن جوڑی پر جم گئیں

Sajid Khan and Noman ali

پاکستانی سرزمین پر پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ دلچسپ مقابلوں سے بھری ہوئی ہے۔ دونوں ٹیموں نے پاکستانی سرزمین پر متعدد ٹیسٹ سیریز کھیلی جن میں سے آخری سیریز نومبر 2006 میں منعقد ہوئی تھی۔ 2006ء سے لے کر اب تک پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹی 20 اور ون ڈے میچز تو ہو چکے ہیں لیکن کوئی بھی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا۔ اب 19 سال بعد اب پھر پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچ ہی ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائے گے۔ ویسٹ انڈیز نے پہلی بار 1959ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں 3 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے تھے، یہ سیریز میزبان پاکستان نے 2-1 سے اپنے نام کی تھی۔ اس سیریز میں پاکستان نے پہلا میچ 10 وکٹوں سے اور دوسرا میچ 41 رنز سے جیتا تھا جبکہ تیسرا میچ ویسٹ انڈیز نے 156 رنز سے جیتا تھا۔ ویسٹ انڈیز نے آخری بار نومبر 2006ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں 3 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے تھے۔ یہ میچز لاہور، کراچی اور ملتان میں کھیلے گئے اور پاکستان نے 2-0 سے کامیابی سمیٹی تھی۔ کھیلوں کی ویب سائیٹ ‘ون کرکٹ’ کے مطابق ویسٹ انڈیز نے اب تک پاکستان کے 7 دورے کیے ہیں جن میں 21 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے ہیں۔ ان 21 مقابلوں میں سے ویسٹ انڈیز نے 4 اور پاکستان نے 9 میچز میں کامیابی سمیٹی جبکہ 8 میچز بغیر کسی نتیجہ کہ اختتام پذیر ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم 19 سال بعد پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہے، غور طلب بات تو یہ ہے کہ دونوں ہی ٹیمیں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمیئن شپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں۔ سیریز کے دونوں میچز ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے،سیریز کا پہلا میچ صبح (17 جنوری) سے شروع ہوگا جبکہ دوسرا میچ 25 جنوری سے 29 جنوری تک کھیلا جائے گا۔ واضح رہ کہ اس ٹیسٹ سیریز سے پہلے ویسٹ انڈیز نے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کھیلی جو کہ 1-1 سے برابر رہی اور پاکستان کو ساؤتھ افریقہ کے ہاتھوں 2-0 سے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے میچ سے قبل ہی شائقین کرکٹ کی نظریں پاکستانی سپن جوڑی یعنی نعمان علی اور ساجد خان پر جم گئی ہیں، اس جوڑی نے گزشتہ برس انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں عمدہ گیند بازی کا مظاہرہ کیا، اس جوڑی کی گھومتی گیندوں کے سامنے انگلش بلے باز بے بس نظر آئے، پہلے میچ میں یک طرفہ مقابلے کے بعد پاکستان کو شکست دینے والے انگلش ٹیم کو سیریز کے اگلے دونوں ہی میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ساجد خان اور نعمان علی نے 2 میچز میں مجموعی طور پر 39 وکٹیں حاصل کیں، ساجد خان نے 19 جبکہ نعمان علی نے 20 وکٹیں اڑائیں، اپنی بہترین گیند بازی کے باعث ساجد خان سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ نعمان علی اکتوبر کے مہینے کے لیے آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار پائے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز کے لئے پاکستان سکواڈ میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جنوبی افریقہ کا دورہ کرنے والی ٹیم میں 7 تبدیلیاں کی گئی ہیں، شان مسعود اور سعود شکیل بدستور پاکستانی ٹیم کے کپتان اور نائب کپتان ہوں گے، جنوبی افریقہ کے خلاف ناقص کارگردگی دکھانے والے عبداللہ شفیق، انجری کا شکار ہونے والے صائم ایوب سکواڈ کا حصہ نہیں ہیں ان کی جگہ پر امام الحق اور محمد حریرا 15 رکنی سکواڈ کا حصہ ہوں گے۔ پی سی بی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق فاسٹ باؤلر محمد عباس، نسیم شاہ، میر حمزہ اور عامر جمال کو آرام دیا گیا ہے۔ فاسٹ باؤلرز میں خرم شہزاد کو برقرار رکھتے ہوئے محمد علی اور کاشف علی کو شامل کیا گیا ہے، پاکستانی سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں میں کپتان شان مسعود، نائب کپتان سعود شکیل، امام الحق، بابراعظم، محمد رضوان، کامران غلام، نعمان علی، ساجد خان، ابرار احمد، محمد علی، خرم شہزاد سمیت محمد حریرا، سلمان علی آغا، خرم شہزاد، روحیل نذیر اور کاشف علی شامل ہیں۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے سکواڈ میں الیک اتھنزے، کیاسی کارٹی، کریگ بریتھویٹ، میکائل لوئس، جسٹن گریوز، کیوام ہوج، کیون سنکلئر، عامر جانگو، جوشوا ڈی سلوا، ٹیون املاچ، انڈرسن فیلپ، گوڈاکیش موتی، جیڈن سیلز، جومل وارکین اور تجربہ کار فاسٹ باؤلر کیمار روچ شامل ہیں۔

پاکستان میں تیزی سےمقبول ہوتا “پکل بال”، کیا آپ کھیلنے کا طریقہ جانتے ہیں؟

pickle ball, tennis court, pakistan

پکل بال ایک منفرد کھیل ہے جسے 1965 میں بین بریج آئی لینڈ، واشنگٹن میں تین افراد نے تخلیق کیا۔ یہ کھیل ٹینس، پنگ پانگ، اور بیڈ منٹن کا دلچسپ امتزاج ہے۔ پکل بال کھیلنے کے لیے ایک چھوٹا کورٹ، ایک چپٹا ریکٹ، اور سوراخوں والی پلاسٹک کی گیند استعمال کی جاتی ہے۔ اس کھیل میں نہ صرف تیز رفتاری کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ حکمت عملی بھی اہمیت رکھتی ہے، جو اسے ہر عمر اور مہارت کے کھلاڑیوں کے لیے چیلنجنگ اور دلچسپ بناتی ہے۔ یہ کھیل بیڈ منٹن کے سائز کے کورٹ پر کھیلا جاتا ہے، جس میں ٹینس کے نیٹ سے تھوڑا چھوٹا نیٹ ہوتا ہے۔ کھلاڑی پنگ پانگ کے پیڈل سے تھوڑا بڑا پیڈل استعمال کرتے ہیں، اور گیند پنگ پانگ کی بال سے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔ پکل بال سنگل اور ڈبل کھیلوں میں کھیلا جا سکتا ہے اور اس کے ٹورنامنٹس بھی عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ اس کی سادگی اور دلچسپی کی بدولت یہ کھیل ہر نسل میں بڑھتی ہوئی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات، کیا مذاکرات میں نیا موڑ آنے والا ہے؟

Barrister Gohar meet Army chief

10 اپریل 2022 کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جماعتوں نے حکومت حکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی۔ اس دن سے آج تک پی ٹی آئی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ آج اڈیالہ جیل کے کمرہ عدالت میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی، صحافیوں نے بانی پی ٹی آئی سے بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے حوالے سے سوال کیا جس پر انہوں نے ردِعمل دیتے ہوئے اس ملاقات کی تردید کی، عمران خان نے کہا کہ مجھے اس ملاقات کے بارے میں تفصیلات کا علم نہیں ہے۔ بعد ازاں بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر گوہر اور آرمی چیف کی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے، ہم چاہ رہے تھے کہ ہمارے مذاکرات ہوں، اگر بات چیت شروع ہوئی ہے تو ملکی استحکام کے لیے اچھا ہو گا۔ بانی پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو بات کرنی چاہیے۔ ہماری طرف سے ہمیشہ سے مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں لیکن دوسری طرف سے بند تھے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری اور علی امین گنڈا پور کی آرمی چیف سے ملاقات علیحدگی میں ہوئی، آرمی چیف کے سامنے پی ٹی آئی کے تمام معاملات اور مطالبات رکھے ہیں۔ ہم کسی بھی طرح کے مذاکرات بانی پی ٹی آئی کی اجازت سے کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے اس ملاقات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کے ساتھ مذاکرات کرنا بہت خوش آئند بات ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں ملکی استحکام کے حوالے سے تمام امور پر بات چیت ہوئی، ملاقات میں دوسری طرف سے بھی مثبت جواب ملا ہے، اسٹیبشلمنٹ سے براہ راست مذاکرات خوش آئند ہیں، امید ہے اب صورت حال بہتر ہوجائے گی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے جب آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے سوال ہوا تو انہوں نے بھی تصدیق کی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آرمی چیف کے ساتھ میری سکیورٹی کو لے کر ملاقات ہوئی تھی اور وہاں پر میرے ساتھ بیرسٹر گوہر بھی موجود تھے۔ صحافیوں کی جانب سے مزید سوالات کیے جانے پر علی امین گنڈا پور نے واضح کیا کہ آرمی چیف جیل میں بند عمران خان کی رہائی کی ضمانت نہیں دے سکتے، پارٹی کسی سے ایسی مہربانیاں نہیں مانگ رہی۔ ہمارے خلاف ایف آئی آر درج ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ عدالتوں سے ہی ہمیں انصاف ملے گا۔ دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے دوران علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر بھی ہمارے ساتھ تھے، تاہم بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف کے ساتھ الگ سے ملاقات کا مجھے معلوم نہیں۔ آئے روز دھرنے اور حکومت مخالف بیانات خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں، یہ سیاسی کشیدگی 9 مئی اور 24 نومبر جیسے واقعات کی وجہ بنی، 9 مئی کے پر تشدد واقعات، القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ سمیت متعدد مقدمات بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج ہیں، اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی رہائی کے لئے ملک گیر تحریکیں چلائی گئیں جنہوں نے حکومتی مشکلات میں اضافہ کیا۔ متعدد بار حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کی دعوت بھی دی گئی لیکن کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی۔ دریں اثناں گزشتہ چند ہفتوں سے حکومت اور پی ٹی آئی مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں، اب تک حکومتی اور پی ٹی آئی کے وفود کے مابین مذاکرات کے 2 دور گزر چکے ہیں۔ آج ہونے والے تیسرے دور میں پی ٹی آئی نے حکومت کو اپنے مطالبات تحریری شکل میں جمع کروا دیئے ہیں۔ جس میں 9 مئی اور 24 نومبر کے واقعات کی صاف و شفاف تحقیق کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان حکومت سے تنازعات کی شروعات سے ہی یہ بیانات دیتے آئے ہیں کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے، اگر وہ مذاکرات کریں گے تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہی کریں گے۔ اب چیئرمین بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے پیش نظر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں مثبت موڑ آسکتا ہے۔

سیزفائر کے باوجود غزہ پر بمباری، حماس نے اسرائیلی حملے مغویوں کے لیے خطرناک قرار دے دیے

مسلسل 15 ماہ سے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تل ابیب کو خبردار کیا ہے کہ سیزفائر معاہدے کے بعد کیے جانے والے حملے اسرائیلی مغویوں کی زندگی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ غزہ کی فوج کے طور پر کام کرنے والے القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سیزفائر کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جن مقامات پر حملے کیے، ان میں سے ایک جگہ پر ایک اسرائیلی خاتون مغوی بھی موجود تھی۔ ابو عبیدہ نے واضح کیا کہ اس خاتون کا نام جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والوں کی فہرست میں شامل تھا۔ انہوں نے اسرائیلی خاتون مغوی کی حالت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم یہ ضرور کہا کہ اس مرحلے میں کوئی بھی اسرائیلی حملہ مغویوں کی آزادی کو کسی سانحے میں بدل سکتا ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں طے پایا ہے کہ فریقین اپنے ہاں قید افراد کو رہا کریں گے۔ فلسطین میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ پٹی پر حملے جاری رکھے ہیں۔ اس سلسلے کے تازہ حملوں میں 80 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق بدھ کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلی حملوں میں 21 بچوں اور 25 خواتین سمیت 81 فلسطینی شہید ہوئے۔ ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہے، اور 81 فلسطینی صرف غزہ پٹی میں شہید ہوئے۔ بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ قطر، مصر اور امریکا کی کوششوں سے معاہدہ کامیاب ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیزفائر 19 جنوری سے نافذ العمل ہوگی۔ قطری وزیراعظم کے مطابق حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مختلف مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔ اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ حماس معاہدے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔ تاہم حماس نے اس بیان کو الزام تراشی قرار دیا ہے۔ حماس کے سیاسی ونگ کے رکن عزت الرشق نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کو الزام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘حماس ثالثوں کے اعلان کردہ جنگی معاہدے پر کاربند اور اس سے مخلص ہے۔’

الیکٹرک وہیکلز چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے حکومتی مہم کا آغاز

charging station for electric vehicle

حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں روایتی ایندھن کی جگہ الیکٹرک گاڑیوں کا چلن عام کرنے کی غرض سے الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کے قیمتوں میں 44 فیصد کمی کا اعلان کر دیا، جس سے فی یونٹ قیمت کم ہو کر 39.70 روپے ہو گئی۔ قوانین کے تحت اب چارجنگ اسٹیشنز کے اجازت نامے صرف 15 دنوں میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف سفری اخراجات میں کمی لائے گا بلکہ نئے کاروباری مواقع پیدا کرے گا، آلودگی کم کرے گا، اور اربوں کا زرمبادلہ بچائے گا۔ منگل کے روز وزیر توانائی اویس لغاری نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نہ پاور شٹیشنز ہیں نہ ہی بیٹری ہے۔ بجلی مہنگی ہے، حکومتی اصلاحات کے ثمرات مل رہے ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں بھی کمی آ رہی ہے، گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کیلئے ٹیرف 45 فیصد کم کردیا ہے، چارجنگ اسٹیشنز کا ٹیرف 71 روپے 10 پیسے سے کم کر کے 39 روپے 70 پیسے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ای چارجنگ اسٹیشنز کے قواعد و ضوابط بنا رہے ہیں، صنعتی اور اقتصادی زونز کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے، الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، چند ماہ میں خطے کی سستی ترین بجلی فراہم کریں گے۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کی پریس کانفرنس: EV چارجنگ اسٹیشنز کے لیے 44% رعایتی بجلی کی قیمت، 15 دن میں تیز رجسٹریشن، اور بیٹری سواپنگ پوائنٹس کے قیام کے مواقع کا اعلان۔ کم سفری اخراجات، ماحولیاتی بہتری، اور نئے کاروباری مواقع کی جانب ایک اہم قدم! pic.twitter.com/aV2vvBRwif — Ministry of Energy-Power Division, Government of P (@MoWP15) January 15, 2025 ای چارجنگ سٹیشنز کے قیام پر بات کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ اب محلے کی سطح پر کھوکھے جیسی دکان میں بھی چارجنگ سٹیشنز قائم کیے جائیں گے، ای وہیکلز کے لیے چارجنگ سٹیشننز کے لیے قواعد و ضوابط بھی تیار کر لیے ہیں، اب ای پورٹل کے ذریعے صرف 15 دنوں میں چارجنگ سٹیشن کھولنے کی اجازت مل جائے گی، سبھی اقدامات سے صارفین کو اربوں روپے کا فائدہ ملے گا۔ گزشتہ روز وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کو فی یونٹ 71 روپے کی بجائے اب 39.70 روپے کا ملے گا۔ اس کمی کی وجہ سے پیٹرول اور دوسرے ایندھن کے مقابلے سفری اخراجات میں تین گُنا تک بچت ممکن ہوسکے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “پاور ڈویژن کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی 44 فیصد کم رعائیتی ٹیرف ایک تاریخ ساز پیکج ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے پٹرول اور ڈیزل کی درآمد کی مد میں زر مبادلہ کی بچت ہو گی، اس کے ساتھ عوام کو ماحول دوست سفری سہولیات دستیاب ہوں گی۔” وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے حوالے سے اہم اجلاس اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کو موجودہ فی یونٹ 71روپے اب 39.70روپے فی یونٹ ملے گا۔ اس کمی کی وجہ سے اب پیٹرول اور دوسرے ایندھن کے مقابلے سفری اخراجات میں تین گُناتک بچت… pic.twitter.com/B5EYDTwWpz — Government of Pakistan (@GovtofPakistan) January 15, 2025 مزید براں حکومت کے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹس سے کی گئی ٹویٹ میں کاروباری طبقے کو متوجہ کیا گیا کہ وہ الیکٹرک وہیکلز چارچنگ اسٹیشنز کے کاروبار کی جانب آئیں۔ وزارتِ توانائی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر جاری کردہ پیغام میں دو مختلف پوسٹرز شیئر کرتے ہوئے معاملے کی تفصیل بھی بیان کی۔ وزارت توانائی نے پوسٹرز کی کپیشن میں لکھا کہ “کاروباری مواقع کی نئی راہ! ای وی چارجنگ اور بیٹری سوئپنگ اسٹیشن کے ذریعے اپنے کاروبار کو بڑھائیں۔” وزارت توانائی کی جانب سے شیئر کردہ پوسٹرز میں کاروباری افراد کو حکومت کی جانب سے دی گئی سہولیات اور اس کاروبار سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا گیا، سرمایہ کاروں کے لئے مارکیٹ ڈریون ٹیرف اور سروس چارجز پر کوئی اضافی چارج نہیں ہوگا۔ حکومت نے اپیل کی کہ چارجنگ اسٹیشنز اور بیٹری سوئپنگ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر کے پائیدار مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ حکومت پاکستان نے صاف، سستی اور جدید ٹرانسپورٹ کی جانب پہلا قدم اٹھایا ہے، حکومتِ پاکستان کی الیکٹرک وہیکل پالیسی نہ صرف ایندھن کے اخراجات کم کرے گی بلکہ صاف ہوا، روزگار کے مواقع اور ایک بہتر مستقبل کی ضمانت بھی دے گی۔ آئیں الیکٹرک وہیکلز کے ذریعے آلودگی میں کمی لاکر ‘گرین پاکستان’ کے سفر کا آغاز کریں اور ایک پائیدار پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں: ماحولیاتی آلودگی کا حل تو ہیں مگر عمل کیسے ہو؟

charging station, electric cars, pakistan, electric vehicles

حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں روایتی ایندھن کی جگہ الیکٹرک گاڑیوں کا چلن عام کرنے کی غرض سے الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ عوام کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ الیکٹرک وہیکلز پر منتقل ہو کر اپنے سفری اخراجات میں حیران کن کمی لا سکتے ہیں، ای وی سیکٹر ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔   حکومت پاکستان نے صاف، سستی اور جدید ٹرانسپورٹ کی جانب پہلا قدم اٹھاتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی نہ صرف ایندھن کے اخراجات کم کرے گی بلکہ صاف ہوا، روزگار کے مواقع اور ایک بہتر مستقبل کی ضمانت بھی دے گی۔ ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے لیے حکومت کیا مراعات دے رہی ہے، کون سی گاڑیاں چارج ہو سکیں گی؟ اور دیگر موضوعات کی تفصیل دیکھیں پاکستان میٹرز کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں۔

ایسی جگہ جہاں لوگ پیسے دے کر تھپڑ کھاتے ہیں

گاہک کھانے کے ساتھ ہوٹل سٹاف سے تھپڑ کھاکر بل ادا کرتے ہیں۔

اگر میں آپ کو یہ پتا چلے کہ دنیا میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں لوگ خود پیسےدے کر تھپڑ کھاتے ہیں تو آپ یقیناً حیران ہوں گے۔ عام  طور پر ریستوران کھانا اور پرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں مگر دنیا میں ایسے ریستوران بھی موجود  ہیں جوکھانوں کے ساتھ تھپڑ بھی مہیاکرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات  یہ ہے کہ  یہاں پر آنے والے گاہک کھانے کے ساتھ ہوٹل سٹاف سے تھپڑ کھاکر بل ادا کرتے ہیں۔ اس طرح کے زیادہ تر ہوٹل جاپان میں پائے جاتے ہیں۔ جاپان کے جنوبی ساحل پر واقع  ناگویا کے ایک ریستوران میں خواتین پر مشتمل عملہ گاہکوں کے چہرے پر تھپڑ رسید کرتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے  کہ گاہک جانتے ہیں کہ اس ہوٹل میں تھپڑ رسید کیے جائیں گے، اس کے باوجود وہ آتے ہیں اوراپنی  مرضی سے سخت سے سخت تھپڑ کھاتے ہیں۔ خبر رساں ادارے العربیہ اردو کے مطابق  کیمونو پہنے فی میل ویٹرز باربار صارفین کے چہرے پر تھپڑ مارتی ہیں۔ پہلے ویٹرس صارفین کے چہرے پر تھپڑ مارتی ہیں جس کے بعد پورے رستوران میں لوگ تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے بعد ویٹرس  اور صارفین دونوں جھک کر ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔  تھپڑوں کے عوض انھیں 300  ین دیے جاتے ہیں ۔ 1 جاپانی ین  1.83 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ ہوٹل عملے میں سے من  پسند ویٹرس  سے گال لال کروانے پر 500 ین کی فیس دینی پڑتی ہے۔ ازاکیا اور جاپان کےاکثر شراب خانوں میں تھپڑ رسید کیے جاتے ہیں جوکہ اتنے زوردار ہوتے ہیں  کہ گاہک کبھی کبھار اپنی نشستوں سے دور جاگرتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں سوشل میڈیا پر کئی  ویڈیو وائرل ہوئیں جس میں ویٹرس کو گاہکوں کو نہایت بےدردی سے تھپڑ مار تے ہوئے دیکھا گیا۔ جنوبی ساحل پر واقع ناگویا کے اس ریستوران کا نام شاچیہوکویا ہے۔ہوٹل کی مالکن  بتاتی ہیں  ابتدامیں  یہ ہوٹل خسارے میں رہا اور بند ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا، ہم نے ہوٹل بچانے کی بہت کوششیں کیں مگر کوئی فائدہ نہ ہو سکا۔ آخر میں ہم نے  یہ عجیب  و غریب چال چلی، یہ منفرد طریقہ اتنا کامیاب ثابت ہوا کہ ہمیں  مزید ویٹریس کو ہائر کرنا پڑا۔ ہوٹل کے گاہک کہتے ہیں کہ یہ ایک دلچسب تجربہ ہے۔ ہمیں خوبصورت لڑکی تھپڑ مارتی ہے جس سے ہم محظوظ ہوتے ہیں اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ذہن کو بھی اچھا لگتا ہےجس سے ہم اپنے کاموں پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔  ہوٹل عملہ اپنے منفرد ملبوسات کی وجہ سے پہچان رکھتا ہے،  میل عملہ  نےسونے سےبنےباڈی سوٹ اورمچھلی کے سائز کے ہیڈڈریس   جبکہ فی میل عملہ نے کیمونیا پہنا ہوتا ہے۔ جاپان میں مارکیٹنگ کے نت نئےمنفرد طریقے دیکھنے کو ملتے ہیں جوکہ عوام کو اپنی جانب راغب کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔ کھانے کے حوالے سے بڑے پیمانے پرآئے روز نئے عجیب وغریب تجربات کیے جاتے ہیں۔ جاپان کےایک ہوٹل میں گاہکوں کو سیل میں ہتھکڑیاں لگا کر بند کیا جاتا ہے جہاں انھیں ویٹرس کھانا مہیا کرتی ہیں ۔ ٹوکیو میں موجودایک ریستوران   کو ایلیمنٹری سکول کے کلاس روم کی طرح سجاکرگاہکوں کو بٹھایا جاتا ہےاور عملہ انھیں اساتذہ کے لباس میں کھانا مہیا کرتا ہے۔  

ویپنگ کا بڑھتا رجحان، کیا یہ واقعی محفوظ ہے؟

“بھائی میں تو سموکنگ نہیں کرتا میں تو ویپنگ کرتا ہوں۔ میرا بھائی، میرا بیٹا ویپنگ کرتا ہے۔ سموکنگ چھوڑنی ہے تو ویپنگ شروع کر دو۔ نہیں نہیں ویپنگ صحت کے لیے خطرناک نہیں ہے۔” یہ وہ تمام جملے ہیں جو ہمیں عام سننے کو ملتے ہیں۔ کیا آپ کو بھی ویپنگ کرنے کا شوق ہے؟ منہ سے دھواں نکالتے ہوئے ویڈیوز بنانا اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا آج کل فیشن بن چکا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کو صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔  لاکھوں لوگ اس لت کے باعث زندگیاں گنوا رہے ہیں اورکروڑوں مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں سگریٹ نوشی زیادہ خطرناک ہے یا پھر ویپنگ؟ ویپنگ انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ کیا ویپنگ یا ای سگریٹ تمباکو نوشی چھوڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا پھر تمباکو نوشی کی لت کا باعث بنتی ہے؟ حکومت پا کستان نے 2015 میں سگریٹ کے پیکٹس پر خوفناک تصاویر شائع کرنا لازم قرار دیا تھا تاکہ تمباکو نوشی کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں یومیہ 460 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے عادی ہیں، جن میں سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد سگریٹ کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ باقی افراد دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ حقہ اور بیڑی تو تمباکو نوشی کے پرانے یا روایتی طریقے ہیں جن سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ویپنگ ایک ایسا طریقہ ہے جو نوجوانوں خصوصا شہری علاقوں میں تیزی سے عام ہوا ہے۔ ویپنگ ایک ایسا فعل ہے جس میں نکوٹین کو دھویں کی شکل میں ای سگریٹ یا الیکڑانک سگریٹ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔  برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک ماہ تک تحقیق کی گئی جس میں 114 سگریٹ نوشوں نے حصہ لیا۔  تحقیق کے نتائج کے مطابق ویپنگ سے دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مکمل طور پر صحت کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سگریٹ نوشی کے تمام طریقوں کو ترک کرنا ہی صحت کے لئے محفوظ ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں موجود کیمیائی مادے خون میں شامل ہو کر شریانوں سے گزرتے وقت چربی کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔  شریانوں کی پھیلنے کی صلاحیت سے ہی ان کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ برٹش جنرل آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق شریانوں کے پھیلنے اور ہارٹ اٹیک کے طویل مدتی خطرات کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا ہے، صحت مند اور سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کا سکور 7.7 فیصد، سگریٹ نوشی کرنے والوں کا سکور 5.5 فیصد جبکہ ویپنگ کرنے والوں کا سکور 6.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ طبی ماہرین کے مطابق ای سگریٹ میں موجود نکوٹین دماغی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو کہ عادی بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔  اس کے محلول میں موجود کیمیائی مادے پھیپھڑوں اور دل کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان میٹرز نے منصورہ ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر عمیر احمد صدیقی  سے اس معاملے پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ”ویپنگ معاشرے میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔  نوجوان اسے فیشن  سمجھ کر چھوٹی عمر سے ہی اپنا رہے ہیں۔ ویپنگ سیگریٹ نوشی سے کم نقصان پہنچاتی ہے لیکن پھر بھی  انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ دل اور پھیپھڑوں پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ پھیپھڑوں پر اس کے اثرات سے دمہ اور  پیرینچیمل جیسی مہلک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ  ویپنگ انسان کی شریانوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے”۔ انہوں نے مزید  کہا کہ “نوجوان نسل  میں ویپنگ اس لیے  بڑھ رہی ہے کیوں کہ اس کو فیشن کے طور پر  اپنایا جا رہا ہے۔  اس  کے علاوہ ویپنگ مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور نوجوانوں تک آسان رسائی  اس کے استعمال کو بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو ویپنگ پہ بھی قانون سازی کرنی چاہیے تا کہ اس کے استعمال کو محفوظ  بنایا جا سکے۔ جس طرح سگریٹ پہ پابندیاں لگائی گئی ہیں اسی طرح ویپنگ پہ بھی لگائی جانی چاہیے”۔   ماہرین کی رائے اور دنیا بھر میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق ویپنگ تمباکو نوشی سے کم مگر نقصان دہ اور انسانی صحت کے لیے مہلک ہے۔ فیشن کے طور پر ویپنگ کرنے والے افراد کی بڑی تعداد تمباکو نوشی کی عادی ہو جاتی ہے جو مزید طبی نقصانات کا باعث ہوتا ہے۔