مارک زکر برگ کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو 2025 میں نئی انتہاؤں تک لے جانے کا اعلان

مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ 2025 میں میٹا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) منصوبے پر 60 سے 65 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ سال مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ مجھے توقع ہے کہ 2025 میں میٹا اے آئی میں ایک ایسا نمایاں اسسٹنٹ ہوگا جو ایک ارب سے زائد افراد کو خدمات فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ Llama 4 دنیا کا سب سے جدید ماڈل بن جائے گا۔ ہم ایک ایسا AI انجینئر تیار کریں گے جو ہمارے تحقیقی اور ترقیاتی کاموں میں تیزی سے زیادہ کوڈ لکھ کر تعاون کرے گا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے میٹا ایک 2 گیگا واٹ سے زیادہ کا ڈیٹا سینٹر بنا رہا ہے جو اتنا بڑا ہے کہ مین ہٹن کے ایک بڑے حصے کو کور کر سکے۔ مارک زکر برگ نے کہا کہ 2025 میں تقریباً 1 گیگا واٹ کمپیوٹ پاور کو فعال کریں گے اور سال کے اختتام تک ہمارے پاس 13 لاکھ سے زائد جی پی یوز ہوں گے۔ ہم اس سال سرمایہ کاری کے طور پر 60-65 بلین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنے AI ٹیموں میں بھی نمایاں اضافہ کریں گے۔ ہمارے پاس آئندہ سالوں میں بھی سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل موجود ہیں۔ مارک زکر برگ نے مزید کہا کہ یہ ایک وسیع منصوبہ ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ ہماری بنیادی مصنوعات اور کاروبار کو تقویت دے گا، تاریخی جدتوں کا دروازہ کھولے گا، اور امریکی ٹیکنالوجی کی برتری کو مزید آگے بڑھائے گا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آئیں! مل کر یہ خواب حقیقت بنائیں۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کا زوال: حکومتی پالیسیوں کی ناکامی یا غیر سنجیدگی؟

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، جو کبھی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، آج زوال کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ یہ صنعت نہ صرف ملک کی سب سے بڑی برآمدی قوت تھی بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی۔ مگر حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، ملک کی 568 ٹیکسٹائل ملز میں سے 187 بند ہو چکی ہیں۔ یہ صرف کاروباری بحران نہیں بلکہ معیشت کے لیے ایک خطرناک الارم ہے۔ ماضی کی شان اور آج کی حقیقت پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر ماضی میں اپنی صلاحیت اور معیار کے باعث دنیا بھر میں مشہور تھا۔ فیصل آباد، جو کبھی ‘پاکستان کا مانچسٹر’ کہلاتا تھا، عالمی سطح پر برآمدات کا مرکز تھا۔ مگر آج، وہی صنعتی زون خاموش ہے۔ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 147 ملز بند ہو چکی ہیں۔ فیصل آباد میں 31، ملتان میں 33، اور قصور میں 47 ملز کی بندش اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان بندشوں کے پیچھے صرف مشینیں خاموش نہیں ہوئیں، بلکہ لاکھوں خاندان بھی بے روزگاری کا شکار ہوئے ہیں۔ حکومتی ناکامی: مسائل اور وجوہات ٹیکسٹائل انڈسٹری کی زبوحالی کے پیچھے مہنگی بجلی اور گیس، تاقص منصوبہ بندی، حکومتی بے بسی، روپے کی گرتی قدر، امپورٹ پالیسیاں اور سیاسی عدم استحکام جیسے بہت سے مسائل ہیں۔ پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ بجلی کی قیمت 50 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے جس سے پیداواری لاگت ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے صنعت کو سہارا دینے کے لیے کوئی واضح پالیسی یا حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ برآمدات کا 60 فیصد فراہم کرنے والے اس شعبے کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے دباؤ کا شکار کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈالر کی قلت اور خام مال کی درآمد پر پابندیاں صنعت کو مزید بحران میں دھکیل رہی ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف کاروبار کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ برآمدی ہدف کو بھی ناممکن بنا رہے ہیں۔ مسلسل سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ کاری کے مواقع کو محدود کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار لمبی مدت کی منصوبہ بندی سے گریز کر رہے ہیں۔ ان تمام مسائل نے اس انڈسٹری کے زوال میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حکومتی دعوے اور تلخ حقیقت حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صنعت کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، لیکن زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں۔ ‘ایکسپورٹ ریوائیول پیکج’ اور سبسڈی کے اعلانات محض کاغذی ثابت ہوئے ہیں۔ عملی اقدامات کی کمی نے صنعت کاروں کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ بنگلہ دیش اور ویتنام نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو حکومتی تعاون کے ذریعے عالمی سطح پر مستحکم کیا۔ بنگلہ دیش نے سستی بجلی، مزدوروں کو مراعات اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ذریعے اپنی برآمدات کو مستحکم رکھا۔ دوسری طرف پاکستان حکومتی نااہلی کے باعث اپنی موجودہ پوزیشن بھی کھو رہا ہے۔ ماہرین کی تجاویز سابق صدر لاہور چیمبر آف کامرس کاشف انور نے ‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری جو کبھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، آج شدید بحران کا شکار ہے۔ مہنگی بجلی اور گیس، غیر مستحکم معاشی پالیسیاں، بلند شرح سود اور خام مال کی قلت اس صنعت کی بندش کی اہم وجوہات ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی کمی اور حکومت کی غیر سنجیدہ حکمت عملی نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے جس سے برآمدات کم ہو رہی ہیں اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر بجلی اور گیس پر سبسڈی فراہم کرنی ہوگی، کاروبار دوست اور طویل مدتی پالیسیاں بنانی ہوں گی، اور خام مال کی بروقت اور سستی فراہمی یقینی بنانی ہوگی۔ اس کے ساتھ برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی مراعات اور عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے رعایتی قرضے دینا ناگزیر ہے۔ مضبوط حکومتی پالیسی اور عملی اقدامات ہی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کا واحد راستہ ہیں”۔ دوسری جانب ٹیکسٹائل ایکسپرٹ غلام رسول چوہدری نے ‘پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ٹیکسٹائل کی بحالی کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لائی جائے، برآمدات کے لیے سبسڈی اور خام مال کی دستیابی کو یقینی بنانا جائے، ڈالر کی دستیابی اور امپورٹ پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے، طویل المدتی صنعتی پالیسی کا نفاذ کیا جائے، اور سیاسی استحکام کو یقینی بنا کر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جائے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا زوال حکومتی بے حسی، ناقص منصوبہ بندی، اور نظرانداز رویے کا نتیجہ ہے۔ یہ بحران صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدی پوزیشن کھو دے گا بلکہ معیشت کو سنبھالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ اب وقت ہے کہ حکمران خواب غفلت سے نکل کر حقیقت کا سامنا کریں اور اس اہم صنعت کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں، ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔
“ہماری رشوت ستانی سے جان چھڑائیں نہیں تو ہم لاہور شفٹ ہو جاتے ہیں” چینی باشندے سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے

پولیس کی جانب سے ہراسمنٹ پر چینی باشندوں نے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کردی چینی باشندوں کے وکیل پیر محمد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ کراچی اور سندھ میں چینی باشندوں نے بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، ان کے یہاں کاروبار موجود ہیں کراچی ایئرپورٹ پر انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور حکام سیکورٹی وسائل نہ ہونا اس کی وجہ بتاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ شہر میں ان کی آمد و رفت بھی آسانی سے نہیں ہوتی سیکورٹی خدشات کو وجہ بنا کر اس میں تاخیر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ پولیس چینی باشندوں کی رہائش گاہ اور کمروں میں آزادانہ داخل ہو جاتی ہے جس سے ان کے نجی معاملات متاثر ہورہے ہیں۔ ایڈوکیٹ پیر محمد نے مزید بتایا کہ چینی باشندوں کے ساتھ انتظامیہ کا ناروا سلوک بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کے سبب ملک کا تاثر بھی خراب ہوا ہے، عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرکے ان سے جواب طلب کرلیا ہے۔ چینی باشندوں کی سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سندھ پولیس ان کے ساتھ غیر قانونی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، درخواستوں گزاروں نے مؤقف اپنایا کہ ہم قانون کی پاسداری کرنے والے چینی شہری ہیں اور ہم اپنے درج شدہ پتوں پر ہی مقیم ہیں۔ پاکستان اور چین کے تاریخی و مضبوط دوطرفہ تعلقات اور معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ہماری گذارش ہے کہ اس درخواست پر سماعت ان کیمرا کی جائے۔ درخواست گزاروں کا مزید کہنا ہے کہ ہم پاکستانی حکومت کی دعوت اور یقین دہانی پر ہی یہاں آئے ہیں، چیف آف آرمی سٹاف اور سابق وزیراعظم نے مکمل تحفظ اور معاون ماحول مہیا کرنے کے وعدے بھی کیے تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دورے کے دوران بھی ان تمام چیزوں کا ذکر کیا تھا۔ ہم نے اور ہزاروں دیگر چینی باشندے ان یقین دہانیوں پر ہی پاکستان آئے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مختلف منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ درخواست کا مؤقف ہے کہ عالمی اصولوں اور حکومت پاکستان کے وعدوں کے مطابق اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرے، پاکستانی معیشت میں اہم حصہ ڈالنے والے چینی باشندوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تا کہ وہ آزادانہ رہ سکیں اور کام کر سکیں۔ گزشتہ 6 سے 7 ماہ کے دوران سندھ پولیس نے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، سندھ اور خاص کر کراچی میں نقل و حمل کو بلاجواز روکا جا رہا ہے، سیکیورٹی مسائل کا بحانہ بنا کر گھروں میں غیر ضروری قید کر رکھا ہے اور رشوت کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف ہمیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ اس سے ہماری کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ ہراسگی، غیر قانونی حراست، نقل و حمل پر پابندیاں عالمی تسلیم شدہ حقوق کی خلاف ورزی ہے، آئین پاکستان بھی ہمیں عزت نفس، آزادانہ نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیاں انجام دینے کا حق دیتا ہے، درخواست گزاروں سمیت دیگر چینی باشندے تحفظ اور منصفانہ سلوک کے حقدار ہیں۔ اگر غیرملکی باشندوں کے لیے کسی قسم کا سیکیورٹی خدشہ ہے تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مناسب اقدامات کرے، چینی باشندوں کی نقل و حرکت اور گھروں تک محدود رکھنے کی بجائے ضروری سیکیورٹی فراہم کی جائے تا کہ وہ آزادانہ نقل و حمل جاری رکھتے ہوئے کاروباری سرگرمیاں سر انجام دے سکیں۔ درخواست گزاروں کا مزید کہنا ہے کہ سندھ پولیس نے ان کو نقل و حمل کی آزادی سے محروم کردیا ہے، اب وہ نہ سفر کر سکتے ہیں، نہ عوامی مقامات پر جا سکتے ہیں اور نہ ہی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ان پابندیوں نے ان کے کاروبار، سرمایہ کاری اور معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، اس سے پاکستان میں ان کی سرمایہ کاری کا مقصد ختم ہو کر ایک ایسا ماحول بن چکا ہے جو حکومتی وعدوں کے برعکس ہے۔ ہم کرائے کے گھروں میں مقیم ہیں، گاڑیوں کے کرائے، ملازمین کی تنخواہیں، یوٹیلیٹی بلز سمیت روزمرہ زندگی کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ اوپر سے گزشتہ ایک ماہ سے سندھ پولیس غیر قانونی طور پر انہیں نظر بند کیے ہوئے ہے۔ اگر پولیس کو 30 سے 50 ہزار روپے رشوت دے دی جائے تو وہ ہمیں نقل و حمل کی اجازت دیتی ہے۔ حال ہی میں پولیس نے سیکیورٹی مسائل کی آڑ میں 7 چینی صنعتی یونٹس کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے سیل کیا ہے۔ اب چینی شہری لاہور میں سرمایہ کاری یا پھر ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے، ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، اور چینی شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایسے اقدامات پاکستان کی عالمی ساکھ اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان سے پاک-چین دوطرفہ تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں خشک سالی کا خطرہ، بارشوں کی کمی کا آنے والے وقت پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں موسم کے غیر معمولی رجحانات تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں، جس سے ملک بھر میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق، یکم ستمبر سے 15 جنوری 2024 تک ملک میں معمول سے 40 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بارشوں کی کمی نے زراعت اور پانی کے ذخائر پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پوٹھوہار اور جنوبی پنجاب کے کئی علاقے ہلکی خشک سالی کا شکار ہو گئے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کی کمی نہ صرف زراعت بلکہ پانی کی روزمرہ ضروریات پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے، جس سے کسانوں کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ چیف میٹرولوجسٹ علیم الحسن نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر بارشیں نہ ہوئیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی کوئی بڑی پیشگوئی نہیں کی ہے جس سے خشک سالی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
! دوا کی ایکسپائری جاننا ہوا آسان فارمیسی طالبات کا رنگین حل

کراچی یونیورسٹی کی طالبات نے ایک نیا اور منفرد پراجیکٹ تیار کیا ہے جس میں رنگوں کی مدد سے دوا کی ایکسپائری کا پتہ چلایا جا سکے گا۔ اس پراجیکٹ کا مقصد دوا کی حفاظت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ لوگ استعمال کی مدت ختم ہونے پر دوا کے خطرات سے بچ سکیں۔ اس پروجیکٹ میں طالبات نے مختلف رنگوں کو دوا کی مادی خصوصیات سے جوڑا ہے۔ جب دوا کی ایکسپائری کی تاریخ قریب آتی ہے، تو دوا کی رنگت تبدیل ہو جاتی ہے، جو صارف کو یہ بتاتی ہے کہ دوا استعمال کرنے کے لیے محفوظ نہیں رہی۔ یہ ایک سادہ لیکن مؤثر طریقہ ہے جس سے صارفین کو دوا کے استعمال سے پہلے اس کی تازگی اور حفاظت کی یقین دہانی ہوتی ہے۔ یہ انوکھا آئیڈیا نہ صرف سائنسی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ طالبات نے کس طرح تخلیقی سوچ اور جدید ٹیکنالوجی کو ملا کر ایک عملی حل پیش کیا ہے جو عوام کی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ !
کراچی کے تاجر پنجاب میں کاروبار کرنے کے خواہاں! آخر وجہ کیا ہے؟

کراچی کے تاجر اس وقت شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ بڑھتے ہوئے بلز اور مہنگائی نے ان کے کاروباری حالات کو سنگین بنا دیا ہے۔ شہر میں کاروباری ماحول میں کمی آ رہی ہے اور تاجر اس بات سے پریشان ہیں کہ ان کی آمدنی ان بڑھتے ہوئے اخراجات کا مقابلہ نہیں کر پا رہی۔ بجلی، گیس، اور دیگر ضروری خدمات کے بلوں میں اضافہ نے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے، جس سے کاروباری فیصلے متاثر ہو رہے ہیں اور کئی تاجرانِ کراچی کو اپنی روزمرہ کی کارروائیاں چلانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ پنجاب کو ایک نسبتاً بہتر کاروباری ماحول کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ کاروباری افراد پنجاب کو کاروبار کے لیے ایک زیادہ سازگار اور محفوظ جگہ سمجھتے ہیں، جہاں بہتر ماحول اور اقتصادی استحکام کے باعث ترقی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ کراچی اور پنجاب کے درمیان اس فرق کی وجہ سے تاجر دونوں علاقوں میں کاروباری حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہے ہیں، اور بعض تو اپنے کاروبار کو پنجاب منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی مشکلات کے باوجود شہر کی معاشی اہمیت اور عالمی تجارت میں اس کی پوزیشن کے پیش نظر تاجر اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ حکومت اس بحران پر قابو پانے کے لیے جلد اقدامات کرے گی۔
“خواتین کی زندگی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی مردوں کی” موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھنے والے کے لیے بھی ہیلمٹ پہننا لازم

لاہور ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل پر سوار تمام افراد کے لیے ہیلمٹ پہننا لازم کر دیا ہے، ایک ہفتہ تک آگاہی دی جائے اس کے بعد چالان کیے جائیں گے۔ سی ٹی او لاھور ڈاکٹر اطہر وحید نے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا، موٹر سائیکل پر اب دوسرا سوار بھی ہیلمٹ پہنے گا اور گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ والا بھی سیٹ بیلٹ لگائے گا۔ سی ٹی او لاھور ڈاکٹر اطہر وحید کا کہنا ہے کہ فیصلہ لوگوں کو ہیڈ انجریز سے محفوظ رکھنے کے لئےکیا گیا، اس کا مقصد انسانی زندگی بچانا ھے۔ ہمارا ہدف یہ ھے کہ سڑک پر ھونے والے حادثات کو بڑھنے سے روکا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کو پہلے ایک ہفتے آگاہی اور وارننگ دی جا رہی ھے اس کے بعد کارروائی کریں گے۔ خواتین کی زندگی بھی اتنی ہی اہم ھے جتنی مردوں کی، ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ھوگا۔ ہمیں ایک قدم آگے چلنا ھوگا، آئندہ 5 سال میں ہم لاھور اور پنجاب کو کیسا دیکھنا چاھتے ہیں یہ فیصلہ ہمیں آج کرنا ھوگا۔ سی ٹی او لاھور نے یہ بھی کہا کہ دن کے وقت ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ھے، آئل ٹینکرز بھی رات 11 بجے شہر میں داخل ھوں گے۔ میرا اولین مقصد شہریوں کے لئے کلین لاھور دیناھے شہریوں کو واضح تبدلی نظر آئے گی۔ ٹریفک ایجوکیشن یونٹ، فیلڈ افسران اور ٹریفک ایف ایم 6۔88 کے ذریعہ سے اگاہی مہم دے رھے ہیں۔ ٹریفک پولیس حکام کے مطابق لاہور شہر میں رجسٹرڈ 80 لاکھ وہیکلز میں سے 53 فیصد موٹر سائیکل ہیں، ہیلمٹ پہننے سے اموات کی شرح میں 26 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ حادثات میں ہیڈ انجری کے باعث اموات کی شرح میں 50 فیصد کمی لانا ہمارا ہدف ہے جس کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔ خیال رہے کہ جولائی 2023 میں لاہور ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانے کی رقم کو بڑھا کر 2000 روپے کر دیا تھا اور ابتدائی 2 ہفتوں میں لاہور ٹریفک پولیس نے 2 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد کے چالان کاٹے تھے۔ شہر بھر کی سڑکوں پر ہیلمٹ نہ پہننے والے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا جو آج تک جاری ہے۔ اب موٹرسائیکل پر سوار دوسرے فرد پر بھی ہیلمٹ پہننا لازم قرار دیا گیا ہے جس کے بعد ٹریفک پولیس کے کریک ڈاؤن میں مزید اضافہ ہو گا، موٹرسائیکل سواروں کے ساتھ ساتھ اب گاڑی میں سوار افراد کو بھی سیٹ بیلٹ نہ لگانے پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ موٹر سائیکل سوار خاص طور پر آن لائن بائیک رائیڈرز دوسرا ہیلمٹ خریدنے کو جیب پر بوجھ قرار دیتے ہیں۔ لیکن اب تمام موٹر سائیکل سوارو کو ہیلمٹ خریدنا پڑے گا نہیں تو بھاری چالان ہوں گے۔
آلودہ فضا میں سانس لینا کتنا خطرناک ہے؟ماہرین کے انکشافات

کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ یہاں کی فضا میں موجود آلودگی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ فضا میں آلودگی کا تناسب 201 پی ایم تک پہنچ چکا ہے، جو انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق، آلودہ ہوا انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس سے سانس کی بیماریوں، الرجی، اور دل کے امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق، ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ایسا پیمانہ ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ہوا کس حد تک مضر ہے۔ فضا کو بہتر بنانے کے لیے قوانین کا مؤثر نفاذ ناگزیر ہے۔ اگر ان قوانین کو صحیح طریقے سے لاگو کیا جائے تو آلودگی کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، عوام کو بھی چاہیے کہ وہ فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
کراچی کے صنعتکاروں نے پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کر دیا

سائٹ صنعتی ایریا کراچی کے صنعتکاروں نے پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کر دیا، صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری احمد عظیم علوی کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک افراط زر میں مسلسل کمی کے پیش نظر پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لائے، 13 فیصد کی شرح اب بھی زیادہ ہے جس میں نمایاں کمی کی اب بھی بہت گنجائش ہے۔ سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے افراط زر میں کمی کے پیش نظر پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لانے مطالبہ کیا ہے اور بین لاقوامی مارکیٹوں میں قدم جمانے کے لیے صنعتوں کو کم شرح پر قرضوں کی فراہمی کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ملک کے بہتر معاشی مفاد میں ہمارے اس مطالبے پر ضرور غور کرنا چاہیے تاکہ صنعتکار برادری زائد پیداواری لاگت سمیت دیگر اخراجاتی مسائل سے بخوبی نمٹ سکے۔ جمعہ کو جاری ایک بیان میں سائٹ ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پچھلی بار پالیسی ریٹ میں 2 فیصد کمی کی جو کہ ناکافی تھی اور13 فیصد کی شرح اب بھی زیادہ ہے جس میں نمایاں کمی کی اب بھی بہت گنجائش ہے۔ کیونکہ افراط زر میں مسلسل کمی آرہی ہے اس کے باوجود اسٹیٹ بینک کی جانب سے سنگل ڈیجٹ پر پالیسی ریٹ کو نہ لانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ احمد عظیم علوی کا کہنا تھا ہمارا مطالبہ تو پالیسی ریٹ میں 5 فیصد کمی کا ہے کیونکہ بتدریج کہ پالیسی ریٹ نیچے لانے سے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور بینکوں سے قرضے لینے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگا۔ جبکہ سرمائے کی قلت کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق بحال کرنے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزنس کمیونٹی بینکوں سے اسی صورت میں رجوع کرے گی جب انہیں کم شرح پر قرضوں کی سہولت میسر آئے گی۔ کیونکہ بزنس کمیونٹی سنگین معاشی بحران اور پیدواری لاگت میں مسلسل اضافے کے پیش نظر زائد شرح پر قرضوں لینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ تجویز بھی دی کہ افراط زر میں ماہانہ بنیادوں پر بتدریج کمی آرہی ہے لہٰذا مرکزی بینک ہر 15 دن میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس بلائے اور مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کے اقدامات کرے جس کا تاجر برادری تہہ دل سے خیرمقدم کرے گی۔
آسٹریلیا کی سوشل میڈیا پر پابندیاں: پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟

سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے ایک حساس اور اہم موضوع بن چکا ہے۔ یہ پلیٹ فارمز کم عمر بچوں پر گہرا ذہنی اور جسمانی اثر ڈال سکتے ہیں۔ والدین، اساتذہ، اور ماہرین مسلسل اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ بچوں کو ان پلیٹ فارمز کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے قوانین بنائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت قوانین متعارف کروائے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ کے نقصان دہ اثرات سے بچانا اور ان کی ذہنی و جسمانی صحت کو محفوظ بنانا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان جیسے ملک میں ایسے قوانین مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں؟ ہم نے والدین، بچوں، اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے یہ سوال کیا، جس کے نتیجے میں ایک دلچسپ بحث نے جنم لیا۔ بچوں کے مطابق سوشل میڈیا ان کے لیے نہ صرف ایک تفریحی ذریعہ ہے بلکہ یہ انہیں نئی چیزیں سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود مختلف کورسز، جیسے گرافک ڈیزائننگ، ایس ای او، کوڈنگ، اور دیگر موضوعات، بچوں کی تعلیم و تربیت میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ والدین اس بات پر فکر مند ہیں کہ بچوں کا زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزرنے کی وجہ سے ان کی نیند، تعلیم، اور حقیقی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر حقیقی دنیا میں وقت گزارنے سے بچوں کے اندر احساس کمتری اور مقابلے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔ ماہرین اور انفلوئنسرز کا کہنا ہے کہ بچوں میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے والدین کو تربیت دینا ضروری ہے۔ انہیں نہ صرف بچوں کے لیے حدود کا تعین کرنا چاہیے بلکہ یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ بچے سوشل میڈیا کو مثبت اور تعمیری طریقے سے استعمال کریں۔ یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ممکن نہیں ہے، خاص طور پر جب روزمرہ کے کاموں میں ٹیکنالوجی کا استعمال لازم ہو چکا ہے۔ اس کے بجائے بچوں کو رہنمائی فراہم کرنا اور انہیں سکھانا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے تاکہ وہ خود سمجھ سکیں کہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیسے کیا جائے۔ پاکستان کے مستقبل کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہے کہ آیا بچوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے یا انہیں۔