اپریل 5, 2025 12:55 صبح

English / Urdu

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا

وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 257 روپے 13 پیسے فی لیٹر مقررہوگئی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت  267 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ خیال رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری کو رات 12 بجے سے ہوگا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت نے مسلسل دوسری بار 15 دسمبر کو پیٹرول 3 روپے 47 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 63 پیسے مہنگا کر دیا تھا، جس کی بعد پیٹرول کی نئی قیمت 256 روپے 13 پیسے فی لیٹر، جب کہ ڈیزل کی قیمت 260 روپے فی پیسے ہوگئی تھی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یکم جنوری کو ایک بار پھر پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر، جب کہ ڈیزل 2 روپے 96 پیسے  مہنگا کردیا گیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 256 روپے 66 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی نئی قیمت 258 روپے 34 پیسے ہوگئی۔ نجی خبر رساں ادارے ڈان کی 30 جنوری کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ہائی اسپیڈ ڈیزل، پیٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 6 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ عالمی منڈی میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اوسط قیمت میں 2.50 پیسے کا اضافہ ہوا، جب کہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 50 سینٹ فی بیرل سے زائد تک کا اضافہ ہوا ہے۔  سرکاری دستاویزات کے مطابق اس وقت حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 76 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جارہاہے۔ حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 16 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی  وصول کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کی جانب سے دونوں مصنوعات پر تقریباً 17 روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ سیل مارجن وصول کیا جاتا ہے۔ اس کےساتھ لائٹ ڈیزل اور ہائی آکٹین بلینڈنگ اجزا پر 50 روپے فی لیٹر چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔

ٹرمپ کا کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ وہ یکم فروری سے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد سرحدی ٹیکس (ٹیرف) لگا رہے ہیں، لیکن ابھی اس بارے میں یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان ممالک کے تیل پر ٹیرف لگایا جائے گا یا نہیں۔ مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئےکہا کہ یکم فروری سے کنیڈا اور  میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد  ٹیرف  کی دی گئی دھمکی پر عمل کیا جائے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد غیر دستاویزی تارکین وطن کی بڑی تعداد اور امریکی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسیوں کے ساتھ تجارتی خسارے میں آنے والے معاملے کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ چین پر بھی نئے محصولات لگانے کا منصوبہ بنا یا جا رہا ہے، تاہم  انہوں نے اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چین پر ٹیرف لگانے کا سوچ رہے ہیں، کیونکہ چین امریکہ میں فینٹینائل بھیج رہا ہے، جو ہماری لاکھوں اموات کا سبب بن رہے ہیں۔اسی لیے چین کو بھی ٹیرف ادا کرنے ہوں گے اور اس کے لیے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ واضح رہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے چینی ساختہ مصنوعات پر 60 فیصد تک ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی، لیکن وائٹ ہاؤس میں حلف لینے کے بعد فوری طور پر انہوں نے کوئی کاروائی نہ کی۔ اس کے علاوہ  منصبِ صدارت سنبھالنے کے موقع پر اپنے افتتاحی خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امریکی کارکنوں اور خاندانوں کے تحفظ کے لیے تجارتی نظام کی حالت دُرست کرنے کا کام فوری طور پر شروع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کو مالا مال کرنے کے لیے اپنے شہریوں پر ٹیکس لگانے کے بجائے، وہ اپنے شہریوں کو مالا مال کرنے کے لیےبیرون ممالک پر محصول اور ٹیکس لگائیں گے۔ مزید یہ کہ ٹرمپ  انتظامیہ غیر ممالک سے تمام محصولات، ٹیکسز اور آمدنی جمع کرنے کیلیے ایکسٹرنل ریونیو سروس بھی قائم کرے گی۔ دوسری جانب 2018 کے بعد سے ہی چین سے امریکی اشیا کی درآمدات قدرے کم ہو گئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات نے  اسے جزوی طور پر بڑھتے ہوئے محصولات کی ایک سیریز سے منسوب کیا ہے جسے ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران لگایا تھا۔  سوئٹزرلینڈ ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے چین کے نائب وزیر اعظم ڈنگ زیوشیانگ نے کہا کہ چین اپنی درآمدات کو بڑھانا چاہتا ہے، جس کے لیے تجارتی تناؤ کا حل تلاش کیا جارہا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان کے جواب میں کینیڈا اور میکسیکو انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکی محصولات کا جواب خود اپنے اقدامات سے دیں گے، جب کہ دوسری طرف وائٹ ہاؤس  کو یہ یقین دلانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ وہ اپنی امریکی سرحدوں سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اگر کینیڈا اور میکسیکو سے امریکی تیل کی درآمد پر محصول عائد ہوتا ہے تو اس سے زندگی کی لاگت کو کم کرنے کے ٹرمپ کے وعدے کمزور ہوجائیں گے۔محصولات دراصل بیرون ملک تیار کردہ سامان پر درآمدی ٹیکس ہیں۔ مزید یہ کہ امریکی آئل ریفائنریوں سے گزرنے والا تقریباً 40 فیصد خام تیل درآمد کیا جاتا ہے ، جس کی اکثر مقدار کینیڈا سے آتی ہے۔

فخر زمان کے ساتھی اوپنر کا فیصلہ میچ سے قبل ہو گا، پی سی بی کی وضاحت

نیشنل سلیکشن کمیٹی ممبر اسد شفیق نے بتا دیا کہ چیمپئنز ٹرافی 2025 کے 15 رکنی اسکواڈ کو کیوں سلیکٹ کیا گیا ہے؟ پاکستان نیشنل سلیکشن کمیٹی کے ممبراسد شفیق نے اپنے بیان میں بتایا  ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب کے وقت کون کون سی باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے قومی ٹیم کے15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا گیاہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ویڈیو بیان میں پاکستان نیشنل کمیٹی کے ممبراسد شفیق نے  کہا ہےکہ جب چیمپیئنز ٹرافی کے لیے حتمی ٹیم کا انتخاب کیا جارہا تھا تو چند باتوں کو مدِنظر رکھا گیا۔ جاری کردہ ویڈیو بیان انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیاکہ کونسے حالات کے لیے کونسا کھلاڑی موزوں ہوگااور پھر اس کا انتخاب کیا۔ 🗣️ National selection committee member Asad Shafiq explains the strategy behind the Pakistan squad for ICC #ChampionsTrophy 2025 🏆 More details 👉 https://t.co/hrr0n2bx5P#WeHaveWeWill pic.twitter.com/lsRrwZgxGt — Pakistan Cricket (@TheRealPCB) January 31, 2025 دوسری جانب یہ بات بھی ہمارے ذہن میں تھی کہ چونکہ یہ آئی سی سی کا بڑا ایونٹ ہے تو تجربہ کار کھلاڑیوں کا ٹیم میں ہونا ضروری ہے اور پھر تجربے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو ترجیح دی گئی۔ تیسرا  بڑا اور اہم ایک  روزہ کرکٹ میں آل راؤنڈر کا کردار ہوتا ہے، وہ کپتان کو ہمت ہوتے ہیں، وہ میچ میں بیلنس لاتے ہیں اور پھر یہ دیکھ کر آل راؤنڈرز کا انتخاب کیا گیا۔ ممبر نیشنل کمیٹی نے کہا کہ جہاں تک بات فخر زمان کے انتخاب کی ہے تو فخر نے ماضی میں بڑے میچوں میں پاکستان کو جیت سے ہمکنار کیا ہے ۔  فخر کی صحت اب بہتر ہوگئی ہے،  ہماری اس سے بات چیت ہوئی ہے ۔ اس کے انتخاب کی ایک اہم وجہ یہ تھی۔ اس کے علاوہ فخر زمان کے ساتھ اوپننگ کون کرے گا، اس کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی میچ سے قبل حالات کو دیکھتے ہوئے کرے گی۔ اگر صائم ایوب کی بات کی جائے تواس وقت وہ تندرست نہیں ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ سے صائم اچھی فارم میں تھا مگر بدقسمتی سے اسے ٹیم سے باہر رہنا پڑےگا۔ صائم پاکستان کا مستقبل ہے اسی لیے کمیٹی چاہتی ہے کہ وہ تندرست ہوکر واپس آکر کھیلے۔ سعود شکیل کے انتخاب میں دیکھا گیا کہ سعود کی ٹیسٹ اور لسٹ اے کی کارکردگی بہت اچھی ہے، جیساکہ یہ آئی سی سی کا ایک بڑا ایونٹ ہے تو ضروری تھا ایک ایسے کھلاڑی کا انتخاب کرنا جو پریشر برداشت کرنے میں اچھا ہواور پھر سعود کا انتخاب کیا گیا۔مزید یہ کہ سعود اوپننگ بھی کر سکتا ہے اور مڈل آرڈر میں بھی کھیل سکتا ہے۔ جاری کردہ ویڈیو بیان کے اختتام میں اسد شفیق نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک عرصےسے پاکستان میں کوئی بڑا ایونٹ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے کھلاڑی اور فینز دونوں ایک دوسرے کی کمی محسوس کررہے تھے ۔ میں امید کرتا ہوں کے آپ سب اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے آئیں گے اور ٹیم اور اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو اسپورٹ کریں گے۔ واضح رہے سہ فریقی سیریز اور چیمپیئنز ٹرافی 2025  کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حتمی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ محمد رضوان چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کریں گے، جب کہ سلمان علی آغا نائب کپتان ہوں گے۔ اسکواڈ میں کئی بڑے تجربہ کار کھلاڑیوں کی واپسی ہوئی ہے، جن میں فخرزمان، فہیم اشرف، خوشدل شاہ اور سعود شکیل شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ ، کامران غلام ،محمد حسنین، طیب طاہر، عثمان خان، حارث راؤف  اور ابرار احمد  بھی 15 رکنی ٹیم کا حصہ ہیں۔

بلاول کا 300 اور مریم کا 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کہاں گیا؟ منعم ظفر

جماعت اسلامی کے رہنما منعم ظفر خان کا کہنا ہے کہ تمام جماعتیں آئی پی پیز کے کھیل میں برابر کی شریک ہیں، وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار میں آنے سے قبل 200 اور بلاول بھٹو زرداری نے 300 یونٹ بجلی مفت دینے کا کہا تھا، مگر اقتدار میں آکر سب بھول گئے۔ کراچی میں شاہین کمپلیکس پر جماعتِ اسلامی کی جانب سے مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز سے معاہدے ختم اور ان کے نتیجے میں بجلی فوری سستی کی جائے۔ جماعتِ اسلامی  نے مطالبہ کیا کہ عوام کو بجلی کے بلوں کی قیمتوں میں فوری ریلیف دیا جائے۔ جمعہ کو امیر جماعت اسلامی پاکستان حاظ نعیم الرحمن کی اپیل پر آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی کے باوجود بجلی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت شاہین کمپلیکس آئی آئی چندریگر روڈ پر احتجاج کیا گیا تھا۔ امیر جماعتِ اسلامی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج بجلی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے خلاف کیا جا رہا ہے، آئی پی پیز کے اس کھیل میں پیپلز پارٹی، ایم۔کیوایم، مسلم لیگ ن سمیت تمام بڑی جماعتیں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ  آپ نےجو دعوے اور وعدے کیےتھے اسے پورا کریں، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری  نے کہا تھا کہ 300 یونٹ بجلی فری کردیں گے۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سے قبل اعلان کیا تھا کہ 200 یوننٹ بجلی فری دی جائے گی، اس کا کیا بنا؟  اقتدارمیں آکر سب اپنے وعدے بھول گئے۔ امیر جماعتِ اسلامی کراچی نےکہا کہ کراچی شہرمیں بجلی نہیں مل رہی، لیکن بل پورا وصول کیا جارہا ہے۔ انھوں نے ماضی میں جماعتِ اسلامی سے کیا گیا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے26 جولائی کو احتجاج کیا تو حکومت نے کہا کہ آئی پی پیز پربات نہیں ہوگی، لیکن پھر معلومات ملیں کہ زیادہ ترآئی پی پیز یہاں موجودہ لوگوں کی ملکیت ہے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ2 ہزار ارب روپے اس قوم نے کیپیسٹی چارجزکی مد میں ادا کیے ہیں، 10 ارب روپےماہانہ ان آئی پی پیز کو دیے گئے، جس نے ایک یونٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی۔ حکومت مسلسل جھوٹ بول رہی ہے، ہمیں بتایا جائے کہ 11 ارب روپے جو آئی پی پیز سے بچےہیں اسکا فائدہ عوام کو کب اور کون دےگا؟ انہوں نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم ہرحکومت کےساتھ مفادات کے لیے جڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی  جدوجہد ہےکہ کے الیکڑک کو لگام دی جائے، جس علاقےمیں ایک فیصد بل ادا نہیں کرتے وہاں اضافی بل بھیجے جاتے ہیں، جماعت اسلامی اس ظلم کے خلاف ہر چوک، چوراہے پر بات کررہی ہے۔ دوسری طرف بجلی کے صارفین 18لاکھ سے38 لاکھ ہوگئے،لیکن جنریشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا واضح مطالبہ ہےکہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے اور اگر نیشنل گرڈ سےبجلی حاصل کرلی جاتی ہےتو کے الیکڑک کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ لوگ کراچی سے اپنے کارخانے بند کرکے پنجاب منتقل کر رہےہیں، احتجاج کے نتیجے میں ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے، یہ فارم 47 والے لوگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہ آج سندھ اسمبلی میں جامعات کا بل اس وقت منظور کرلیا، اساتذہ باہر احتجاج کرتے رہے لیکن کسی نے نہیں سنی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کا ایک ہی وژن ہے اور وہ یہ کہ جہالت سب کے لیے ہے۔

تجربہ کار کھلاڑیوں کی واپسی، پاکستان نے سہ فریقی سیریز اور چیمپیئنز ٹرافی کے لیے حتمی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

سہ فریقی سیریز اور چیمپیئنز ٹرافی 2025  کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حتمی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ پی سی بی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق محمد رضوان چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ سلمان علی آغا نائب کپتان ہوں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے  چیمپئنز ٹرافی 2025 کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، اسکواڈ میں کئی بڑے تجربہ کار کھلاڑیوں کی واپسی ہوئی ہے، جن میں فخرزمان، فہیم اشرف، خوشدل شاہ اور سعود شکیل شامل ہیں۔ واضح رہے کہ جارح مزاج اوپنر بلے باز فخر زمان ورلڈ کپ 2023 کے بعد قومی ٹیم میں دوبارہ شامل ہوئے ہیں، ان کے علاوہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور کامران غلام سکواڈ کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ محمد حسنین، طیب طاہر، عثمان خان، حارث راؤف  اور ابرار احمد ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ دوسری جانب اوپننگ بلے باز صائم ایوب انجری کی وجہ سے جاری کردہ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں اور وہ چیمپئنز ٹرافی میں شمولیت نہیں کر سکیں گے۔ ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئےسلیکٹرز نے کہا ہے کہ فخر زمان کے اوپننگ پارٹنر سعود شکیل یا بابر اعظم ہوسکتے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ابھی اوپننگ پارٹنر کے حوالے سے تبادلہ خیال کرنا باقی ہے۔ سلیکٹر اسد شفیق نے صائم ایوب سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ  اندازہ ہے کہ صائم ایوب کے لیے چیمپئنز ٹرافی نہ کھیلنا کتنا تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی کی جانب سے چند روز قبل آئی سی سی کو ابتدائی اسکواڈ کے نام بھیجے تھے، پی سی بی کی جانب سے جمع کروائے گئے ابتدائی اسکواڈ میں کپتان محمد رضوان، بابر اعظم، طیب طاہر، عرفان خان نیازی، سفیان مقیم، محمد حسنین، عبداللہ شفیق، نسیم شاہ، عثمان خان، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، ابرار احمد، کامران غلام سمیت سلمان علی آغا، امام الحق، فخر زمان، حسیب اللہ اور عباس آفریدی کا نام شامل تھے۔ خیال رہے کہ  چیمپیئنز ٹرافی 2025 کی مہمان نوازی پاکستان کو سونپی گئی ہے، جس کے لیے مقررہ اسٹیڈیمز کو عالمی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔ چیمپیئنز ٹرافی 19 فروری سے 9 مارچ تک پاکستان میں کھیلی جائے گی، تاہم اس کے چند میچز دبئی میں کھیلے جائیں گے، کیونکہ انڈیا نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں میچز کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔ انڈیا کے انکار کے بعد یہ طے پایا ہے کہ انڈیا کے تمام میچز نیوٹرل وینیو میں کھیلے جائیں گے، جس کے لیے دبئی کا انتخاب کیا گیا ہے، جب کہ دوسری تمام ٹیمیں پاکستان میں میچز کھیلیں گے۔ یاد رہے کہ یہ میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی، قذافی اسٹیڈیم لاہور اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ قومی ٹیم 19 فروری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل کر ایونٹ کا آغاز کرے گی۔

امریکا میں سات دن میں دوسرا حادثہ ، کیا امریکی فضائی حدود غیر محفوظ ہوگئیں؟

Washington air incident

امریکا ہوائی حادثات کی زد میں ہے ایک ہفتے میں دو حادثات ہوچکے ہیں ۔ان حادثات میں 73 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہوا بازی کی دنیا یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ واشنگٹن میں مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان فضا میں ہونے والا مہلک تصادم کیسے ہوا۔ ایک ماہر کے مطابق یہ حادثہ ’دنیا کی سب سے زیادہ کنٹرول شدہ فضائی حدود‘ میں ہوا ہے، یعنی یہاں پرواز کرنے پر کڑی سختیاں ہیں۔ امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر اترنے سے چند سیکنڈ قبل امریکن ایئر لائنز کے طیارے سے ٹکرا گیا جس میں 64 افراد سوار تھے۔ دونوں جہاز بدھ کی رات یخ بستہ پوٹومیک دریا میں جا گرے۔ اگرچہ ہیلی کاپٹر کا بلیک بوکس برآمد کر لیا گیا ہے تاہم حادثے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ فروری 2009 کے بعد سے امریکی مسافر بردار ہوائی جہاز کا کوئی جان لیوا حادثہ نہیں ہوا، لیکن حالیہ برسوں میں ہونے والے واقعات کی ایک سیریز نے حفاظت کے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ این بی سی نے اطلاع دی ہے کہ “چار افراد کو دریائے پوٹومیک سے زندہ نکالا گیا ہے”۔ یو ایس فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ “پی ایس اے ایئر لائنز کا علاقائی جیٹ ریگن کے قریب پہنچتے ہوئے ہیلی کاپٹر سے درمیانی ہوا میں ٹکرا گیا”۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ متعدد ایجنسیاں ہوائی اڈے سے متصل دریائے پوٹومیک میں تلاش اور بچاؤ کے آپریشن میں شامل تھیں۔ ہوائی اڈے کے حکام نے بدھ کے روز کہا کہ “تمام ٹیک آف اور لینڈنگ روک دی گئی ہیں کیونکہ ہنگامی عملے نے ہوائی جہاز کے واقعے پر ردعمل ظاہر کیا”۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے کہا کہ” وہ اس واقعے کے بارے میں مزید معلومات اکٹھا کر رہیں”۔ امریکی ائیر لائن کی جانب سے سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ”وہ ان اطلاعات سے آگاہ ہے کہ ای ایس اے 5342 پروازایک حادثے کا شکار ہوئی ہے۔     View this post on Instagram   A post shared by NBC4 Washington (@nbcwashington) امریکن ایئر لائنز نے کہا کہ “وہ مزید معلومات فراہم کرے گی جیسے ہی یہ کمپنی کو ملتی ہیں ۔ پچھلے دو سالوں کے دوران، واقعات کی ایک سیریز نے امریکی ایوی ایشن کی حفاظت اور فضائی ٹریفک کنٹرول آپریشنز پر دباؤ کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایف اے اے ایڈمنسٹریٹر مائیک وائٹیکر نے 20 جنوری کو استعفیٰ دے دیا تھا اور ٹرمپ انتظامیہ نے کسی متبادل کا نام نہیں لیا ہے – یہ بھی ظاہر نہیں کیا ہے کہ کون عبوری بنیادوں پر ایجنسی چلا رہا ہے۔ امریکہ میں کمرشل ہوائی جہاز کے ساتھ آخری مہلک بڑا حادثہ 2009 میں ہوا تھا، جب کولگن ایئر کی پرواز میں سوار 49 افراد ریاست نیویارک میں گر کر تباہ ہو گئے تھے۔ ایک شخص کی موت بھی ہوئی۔  وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف نے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ایکس پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’اس مشکل میں ہماری ہمدردیاں اور دعائیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی عوام کے ساتھ ہیں۔‘

“اسٹیڈیم کی بروقت تعمیر سے کئی لوگوں کے خواب ٹوٹے ہیں” محسن نقوی کی پریس کانفرنس

پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نےقذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیکھا جاسکتاہے کہ اسٹیڈیم کا تمام کام مکمل ہوچکا ہے، اسٹیڈیم کی بروقت تعمیر سے کئی لوگوں کے خواب ٹوٹے ہیں۔ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے قذافی اسٹیڈیم لاہور کا دورہ کیا  اور تمام معاملات کا جائزہ لیا ہے۔ اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیمپئن  ٹرافی کے ا سکواڈ کا اعلان آج تھوڑی دیر بعد کیا جائے گا۔ قذافی اسٹیڈیم کے کام کے حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ اسٹیڈیم کا تمام کام مکمل ہوچکا ہے۔ وہ تمام لوگ جو ایونٹ کو باہر لے کر جانا چاہتے تھے، اسٹیڈیم کے بروقت کام مکمل ہونے سے ان کے خواب ٹوٹے ہیں۔ اسٹیڈیم میں کی گئی نصب کرسیوں پر بات کرتے ہوئے پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ اسٹیڈیم میں نصب کی گئی تمام کرسیاں چین سے منگوائی گئی ہیں، جو پرانی کرسیوں سے 5 گنا سستی ہیں۔ اسٹیڈیم میں نصب کی گئی تمام کرسیاں معیاری ہیں اور ان کی بیس سال کی وارنٹی ہے۔ اس کے علاوہ سیٹوں کے معیار پر کسی طرح کا کمپرومائز نہیں کیا گیا اور سرحد پار بھی بات کی گئی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم کی تعمیر میں خرچ ہونے والے پیسوں کے حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ جو بجٹ مقرر کیا گیا تھا، اسی کے اندر رہتے ہوئے تمام کام مکمل کیا گیا ہے اور مقررہ بجٹ میں مین بلڈنگ شامل نہیں تھی۔ مزید یہ کہ کرکٹ بورڈ ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے، حکومت سے نہ ہی پیسے لیتے ہیں اور نہ ہی گرانٹ لیتے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کا اپنا پیسہ ہے اور خود خرچ کرسکتے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور کے نام کی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے پی سی بی چیئرمین نے کہا ہے کہ ابھی اسٹیڈیم کا نام یہی رہے گا اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف 7 فروری کو اسٹیڈیم کا افتتاح کریں گے اور افتتاح سے قبل اسٹیڈیم کی تعمیر کا تمام چھوٹا بڑا کام مکمل ہوجائے گا۔اسٹیڈیم کی تعمیر کا کام اکتوبر سے جاری ہے۔ میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ اتنے چکر میرے یہاں اسٹیڈیم میں نہیں لگے جتنے آپ لوگوں کے لگے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم کی تعمیر مکمل کرنے کا وعدہ 31 جنوری کا کیا تھا اور وعدہ پورا ہوگیا ہے۔ دوسری جانب نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے افتتاح کے حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری  11 فروری کو نیشنل اسٹیڈیم کا افتتاح کریں گے۔ انھوں نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعمیری تنقید پر سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ محسن نقوی نے کہا ہےکہ چیمپئن ٹرافی کی تقریب کا انعقاد 16 فروری کو آئی سی سی کے ساتھ مل کر کریں گے۔ ہم آئی سی سی سے مسلسل رابطے میں ہیں اور آئی سی سی سے صاف کہا ہے کہ پاسز نہیں ٹکٹس لیں گے۔ چیمپئن ٹرافی کے لیے پاکستان تشریف لانے والی تمام ٹیموں کا ویلکم کریں گے۔ ٹیم سلیکشن پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیمپئن ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا اعلان تھوڑی دیر میں کردیا جائے گا، ٹیم کا انتخاب سلیکشن کمیٹی کرے گی، کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ پاکستانی اوپننگ بلے باز صائم ایوب کےحوالے سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا ہے کہ صائم کے ڈاکٹر سے مسلسل رابطے میں ہوں، صائم کی طبیعت اب کافی بہتر ہے پلستر بھی اتر گیا ہے، جلد وہ ٹیم میں شامل ہوں گے۔ یاد رہے کہ  چیمپئن ٹرافی 2025 کی مہمان نوازی پاکستان کو سونپی گئی ہے، جس کے لیے مقررہ اسٹیڈیمز کی تعمیر اوربحالی کا کام کیا جارہا ہے۔چیمپئن ٹرافی 19 فروری سے 9 مارچ تک پاکستان میں کھیلی جائے گی، تاہم اس کے چند میچز دبئی میں کھیلے جائیں گے، کیونکہ انڈیا نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں میچز کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔

شام کی نئی حکومت کی پالیسی: ایک تہائی ملازمین برطرف کر دیے

شام کے نئے اسلام پسند رہنما ملک کی ٹوٹی پھوٹی معیشت کی بنیاد پر نظر ثانی کر رہے ہیں، جس میں سرکاری شعبے کے ایک تہائی ملازمین کو برطرف کرنے اور اسد خاندان کے اقتدار کے دوران بننے والی  سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کے منصوبے شامل ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف اعلان کردہ کریک ڈاؤن کی رفتارنے حکومتی کارکنوں کے احتجاج کو جنم دیا ہے ۔ جنہوں نے 8 دسمبر کو باغیوں کی جانب سے اسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے چند ہفتوں بعد ہی پہلی برطرفی دیکھی ہے ، جس میں فرقہ وارانہ ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات بھی شامل ہیں۔ اسد اور اس کے والد کے دور میں، شام کو ایک عسکری، ریاستی قیادت والی معیشت کے طور پر منظم کیا گیا تھا جو اتحادیوں اور خاندان کے ارکان کے ایک اندرونی حلقے کی حمایت کرتا تھا، جس میں خاندان کے علوی فرقے کے افراد کی عوامی شعبے میں بہت زیادہ نمائندگی تھی۔ شام کے نئے وزیر اقتصادیات، 40 سالہ سابق توانائی کے انجینئر باسل عبدل حنان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اب ایک مسابقتی آزاد منڈی کی معیشت کی طرف ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ عبوری صدر احمد الشارع کی پالیسی کے مطابق، حکومت سرکاری صنعتی کمپنیوں کی نجکاری پر کام کرے گی، کل 107 کمپنیاں ہیں اور زیادہ تر خسارے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اثاثوں کو عوامی ہاتھوں میں رکھنے کا عزم کیا۔ انہوں نے فروخت کی جانے والی کمپنیوں کے نام نہیں بتائے۔ شام کی اہم صنعتوں میں تیل، سیمنٹ اور سٹیل شامل ہیں۔ وزیر خزانہ محمد ابزید نے ایک انٹرویو میں کہا کہ “کچھ ریاستی کمپنیاں صرف وسائل کا غبن کرنے کے لیے وجود میں آتی ہیں اور انہیں بند کر دیا جائے گا”۔ ابازید نے کہا، “ہمیں بدعنوانی کی توقع تھی، لیکن اس حد تک نہیں”۔ ابزید نے ایک ابتدائی جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “سرکاری تنخواہ پر 1.3 ملین افراد میں سے صرف 900,000 اصل میں کام پر آتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ 400,000 لوگ کام پر نہیں آتے ہیں۔ ،ان کو ہٹانے سے اہم وسائل کی بچت ہوگی۔”۔ محمد السکاف، انتظامی ترقی کے وزیر، جو پبلک سیکٹر  کی نگرانی کرتے ہیں، مزید آگے بڑھے، خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ریاست کو 550,000 سے 600,000 کے درمیان ملازمین کی ضرورت ہوگی- جو موجودہ تعداد کی نصف سے بھی کم ہے۔ ابزید نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد، جس کا مقصد ٹیکس کے نظام کو جرمانے پر معافی کے ساتھ آسان بنانا بھی ہے، رکاوٹوں کو دور کرنا اور سرمایہ کاروں کو شام واپس جانے کی ترغیب دینا تھا۔

سٹریس اور انزائٹی: خاموش قاتل جو زندگی کو متاثر کرتے ہیں

نئے سال کی پہلی صبح، ایک معمولی دن میں کچھ ایسا ہوا جس نے ہر انسان کی زندگی میں خوف اور دباؤ کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔ یہ صرف ایک رپورٹ نہیں بلکہ حقیقت ہے جو ہمارے سامنے روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے ذہن کی بے چینیاں، آپ کی زندگی کو کیسے تہس نہس کر سکتی ہیں؟ اسٹریس اور انزائٹی! یہ دونوں لفظ شاید آپ نے کئی بار سنے ہوں گے، لیکن کیا آپ ان کے درمیان فرق کو سمجھ پاتے ہیں؟ آج کی دنیا میں ہر انسان کہیں نہ کہیں اسٹریس کا شکار ہے۔ یہ وہ تناؤ ہوتا ہے جو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ کسی امتحان کی تیاری، یا دفتر کے کام کا دباؤ، گھر میں مسائل یا پھر زندگی کے بڑے فیصلوں کا خوف۔ یہ سب اسٹریس کے مختلف پہلو ہیں جو مختلف حالات میں ہمیں گھیر لیتے ہیں اور پھر ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ کیفیت وقتی ہوگی جیسے ہی وہ پریشانی ختم ہوگی اسٹریس بھی ختم ہو جائے گا۔ اسٹریس کا ردعمل جب جڑ پکڑ لیتا ہے تو وہ اس سے آگے بڑھ کر انزائٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انزائٹی! یہ وہ خوف ہے جو ہماری زندگی کے ہر حصے میں سرایت کر جاتا ہے اور ہم یہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہمارے دماغ میں یہ کیا ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس اور انزائٹی کے درمیان ایک باریک سا فرق ہے لیکن حقیقت میں یہ دونوں ہمارے دماغ پر اتنی گہری چھاپ چھوڑتے ہیں کہ ہم ان سے نجات پانے کے لیے اکثر ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسٹریس وہ مشکل لمحات ہیں جو وقتی طور پر آ کر ہمیں پریشان کر دیتے ہیں۔ آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کسی امتحان کے قریب آ کر شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ یا پھر کسی اہم کام کی تکمیل سے پہلے آپ کا دل دھڑکنے لگتا ہے؟ یہ وہ لمحے ہیں جب اسٹریس آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے لیکن جوں ہی وہ امتحان یا کام ختم ہو جاتا ہے اسٹریس بھی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن انزائٹی کا معاملہ مختلف ہے۔ انزائٹی اُس خوف کا نام ہے جو مسلسل آپ کے اندر بڑھتا رہتا ہے چاہے آپ کے ارد گرد کوئی خطرہ نہ ہو۔ یہ خوف آپ کے دماغ میں ایک عذاب بن کر بیٹھا رہتا ہے، اور یہ وقت کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی سکون نہیں ملتا، اور آپ کی زندگی جیسے ایک مسلسل غمگینی کے سائے تلے ڈوب جاتی ہے۔ انزائٹی آپ کے دماغ کے اس پیچیدہ عمل کا نتیجہ ہوتی ہے جو اسٹریس کی شدت کو دلی خوف میں بدل دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں کے اثرات سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ اس پر قابو پانے کے لیے سادہ لیکن اہم باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ ایکسرسائز، یوگا، نیند کا مکمل دورانیہ، اور صحت مند غذا ان مسائل کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ کو اسٹریس اور انزائٹی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ذہنی سکون کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اپنے خیالات کو لکھنا بھی ایک بہترین طریقہ ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب تدابیر تب تک مفید رہیں گی جب تک آپ کی زندگی میں اسٹریس یا انزائٹی کی شدت نہ بڑھے۔ اگر آپ ان عوامل پر قابو پانے میں ناکام رہتے ہیں تو ماہرِ نفسیات کی مدد ضرور حاصل کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ انزائٹی اور اسٹریس جیسے مسائل جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مسلسل پریشانی، سر میں درد، جسمانی تھکاوٹ، ہائی بلڈ پریشر، اور نیند کی کمی جیسے مسائل ان کا حصہ بنتے ہیں۔ اور جب یہ مسائل ایک دن یا ایک ہفتے تک نہ رکیں، تو انسان کی زندگی مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ انزائٹی اور اسٹریس کو اپنی زندگی کی کمزوری سمجھ کر ان سے فرار اختیار کریں گے؟ یا پھر ان کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دیں گے؟ فیصلہ آپ کا ہے لیکن اسٹریس اور انزائٹی کو شکست دینے کے لیے خود کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے اور اس کے بعد ایک ایسا راستہ تلاش کرنا ضروری ہے جو آپ کو سکون کی طرف لے جائے۔ یاد رکھیں اسٹریس اور انزائٹی کا مقابلہ ایک جنگ ہے لیکن اگر آپ اپنی زندگی میں کچھ اہم تبدیلیاں کریں تو یہ جنگ جیتنا ممکن ہے۔

روسی فوج کا یوکرین کے شہر پوکروسک پر حملہ: جو مستقبل کے لیے اہم ہوگا

روسی افواج آہستہ آہستہ یوکرین کے مشرقی شہر پوکروسک کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہیں، جو ایک اہم دفاعی مرکز ہے جس کی مرکزی سپلائی لائنیں ماسکو کے اپنے پڑوسی پر حملہ کرنے کے تقریباً تین سال بعد خطرے میں ہیں۔ جب کہ یوکرین ضد کے ساتھ شہر کا دفاع کر رہا ہے، اس کا محاصرہ یا قبضہ روس کو مشرق میں کئی سمتوں سے حملے کرنے اور جنگ کے ایک اہم مرکزکیف پر دباؤ بڑھانے کی پوزیشن میں جا سکتا ہے۔ پوکروسک کے اندرلوگ مشکلات سے دو چار ہیں۔  علاقائی گورنر کے مطابق جنگ سے پہلے کی 60,000 آبادی میں سےابھی صرف 7000 رہائشی باقی ہیں۔ پوکروسک میں موجود آخری پوسٹ آفس حال ہی میں بند ہوا ۔ میل اب ٹرک کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے ۔ شہر کے دونوں طرف، روسی فوجی ایک اہم سڑک کے توپ خانے اور ڈرون رینج کے اندر ہیں جو پورے یوکرین کے ساتھ مشرق سے مغرب تک جاتی ہے، اور اب زیادہ تر کاریں اپنی حفاظت کے لیے پوکروسک کی طرف پیچھے کے راستے سے گزرتی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں میں، ماسکو کی افواج مشرقی یوکرین کے سب سے اہم دفاعی مرکز، دنیپرو شہر سے مرکزی ریل لائن تک پہنچ چکی ہیں۔ پوکروسک کے محاذ پر لڑنے والی یوکرین کی 59 ویں حملہ بریگیڈ کے ڈپٹی کمانڈر نے کہا “صورت حال عام طور پر مشکل ہے، دشمن مسلسل پیدل حملہ کر رہا ہے”۔ افسر نے کہا کہ دشمن کے پاس پیدل فوج کی بہت زیادہ تعداد تھی۔ انہوں نے چھوٹے گروپوں میں حملہ کیا جو انتہائی زیادہ جانی نقصان اٹھانے کے لیے تیار تھے اور ڈرون سے چھپانے کے لیے زمین  اورموسمی حالات کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا ” دن رات وہ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ پوکروسک کے سڑک اور ریل رابطوں نے اسے یوکرین کے فرنٹ لائن کے ایک بڑے حصے کے لیے ایک اہم سپلائی سینٹر بنا دیا ہے، حالانکہ حالیہ مہینوں میں روسی توپ خانے اور ڈرون کے خطرے نے اس کام کو محدود کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ایک سینئر فیلو مائیکل کوفمین نے کہا کہ “پوکروسک کے راستوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قبضے میں آتا ہے تو روسی افواج اسے شمال یا مغرب کی طرف دھکیلنے کے لیے میدان کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں”۔ یہ روسی افواج کو دنیپروپیٹروسک کے علاقے میں ممکنہ پیش قدمی کرنا آسان بناتا ہے۔ اسی لیے روسی افواج ریل لائنوں کی تعمیر اور مرمت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی حملہ آوری کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور یہ انہیں مزید مغرب کی طرف لے کر جائے گا۔