ایجنسیوں کا کام سیاست میں مداخلت نہیں ہے، سابق وزیراعظم عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا ٹیم اور وکلا سے ملاقات کے دوران ایک ایسا بیان دیا جس نے سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی وجوہات کا ذکر میں نے اپنے حالیہ خط میں کیا تھا۔ عمران خان نے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، ورنہ یہ خلیج پاکستان کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ادارے اپنے سیاسی انتقام کی بجائے اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ مرکوز کریں تو عوام میں ان کا وقار خود بخود بڑھے گا۔ سابق وزیراعظم نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ایجنسیوں کا کام سیاست میں مداخلت نہیں ہے۔” عمران خاں نے اپنے خط میں نادیدہ قوتوں کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا ذکر بھی کیا۔ وہ اپنی اہلیہ، بشریٰ بیگم سے ملاقات کی اجازت نہ دیے جانے کو ایک سازش سمجھتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے پیچھے وہ قوتیں ہیں جو قانون کو پامال کر رہی ہیں۔ عمران خان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے کہا کہ “کل بھی میں نے اس بارے میں بتایا تھا اور آج بھی میری اہلیہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔” یہ بھی پڑھیں: پڑھنے میں دلچسپی نہیں‘ سکیورٹی ذرائع نے ’خط بھیجنے‘ کا دعویٰ مسترد کردیا عمران خان نے اس بات پر بھی شدید غصہ ظاہر کیا کہ بشریٰ بیگم کو بے گناہ جیل میں قید رکھا گیا ہے اور اب بھی ان کی ملاقات روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “خواتین کے ساتھ سیاسی انتقام کے لیے ایسا سلوک کرنا، پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا عذاب ہے۔” انہوں نے ایک بار پھر اپنے الفاظ میں شدت پیدا کی اور اس بات کو اجاگر کیا کہ خواتین کے تقدس کی پامالی معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ “ہمارے معاشرے میں خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا انتہائی بے شرمی کی بات ہے۔” انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے معاشرتی روایات کے مطابق خواتین کا عزت و وقار انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور ایسی حرکات معاشرتی سطح پر تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ عمران خان نے خواتین کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کی سخت مذمت کی اور اس کو ایک نیا ظلم قرار دیا۔ عمران خان کا یہ بیان پاکستانی سیاست میں ایک سنگین اشارہ ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔ مزید پڑھیں: یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری کو ہی کیوں منایا جاتا ہے؟
“ممتاز تارکین وطن کو سرکاری نیلا پاسپورٹ ملے گا”،وزیر اعظم شہباز شریف

ممتاز تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر سفیر کے طور پر نامزد کیا جائے گا اور انہیں سرکاری نیلے پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے اور اس کے ساتھ سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کے لیے گرین چینل کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت تارکین وطن کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیزپاکستانیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں، اوورسیز کا ملک میں خیرمقدم کرتے ہیں جو اپنی محنت سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں اور اپنی محنت کے ذریعے ملک کے لیے تعریفیں کما رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ممتاز تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر سفیر کے طور پر نامزد کیا جائے گا اور انہیں سرکاری نیلے پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے عزم اور تعاون کی وجہ سے ترسیلات زر میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی قیادت میں اوورسیز کا ادارہ صوبے میں بہترین کام کر رہا ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ وزیر خزانہ بیرون ملک پاکستانیوں کے گرین چینل کے معاملے کا جائزہ لیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ انشااللہ ہم گرین چینل کو دوبارہ بحال کریں گے، بیرون ملک پاکستانیوں کے یوتھ فیسیٹول سے متعلق تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن کے چیئرمین ظاہر اختر نے پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے عزم پر زور دیتے ہوئے حکومت اور مسلح افواج کے لیے تارکین وطن کی مکمل حمایت کا اظہار کیااور ظاہر اختر نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی سلامتی کے لیے مسلح افواج کے پیچھے کھڑے ہیں۔ پاکستان کے تحفظ میں مسلح افواج کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے معروف گلوکار رفاقت علی کا ایک نغمہ پیش کیا گیا۔ تقریب کا اختتام تارکین وطن کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس میں دعوت دینے اور ان کے تحفظات دور کرنے پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کے ساتھ ہوا۔
سویڈن کے ایک سکول میں خونریز فائرنگ، 10 افراد ہلاک ہوگئے

سویڈن کے شہر اویبرو کے ‘رسبرگسکا’ سکول میں آج ایک خوفناک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں تقریباً 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس المناک واقعہ کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ابھی تک جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کا ممکنہ طور پر خود بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔ آج دوپہر بعد ‘رسبرگسکا’ سکول کے کیمپس میں اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ جیسے ہی آواز آئی سکول کے اساتذہ اور طلبہ نے فوراً ہنگامی طور پر اسکول سے باہر بھاگنے کی کوشش کی۔ سکول کے ایک ‘ماریا پیگادو’ نامی استاد نے بتایا کہ وہ اور ان کے 15 طلبہ جب کلاس روم سے باہر نکلے تو انہیں دو فائر کی آوازیں سنائی دیں۔ انھوں نے فوراً اپنے طلبہ کو اسکول کی عمارت سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ تاہم، وہ زخمی افراد کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ معاملہ سنگین ہے۔ اوہریبرو کے مقامی پولیس چیف ‘رابرٹو ایڈ فورسٹ’ نے اس واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ “تقریباً 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں”۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس فائرنگ کے واقعے کا ملزم پولیس کے لیے غیر معروف تھا اور ان کی تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ فورسٹ کے مطابق یہ ممکنہ طور پر ایک اکیلا حملہ آور تھا اور ابھی تک کسی دہشت گردی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی مگر یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ خود بھی ہلاک ہو چکا ہو گا۔ رابرٹو ایڈ فورسٹ نے مزید کہا کہ حملہ آور کے بارے میں جو بھی تفصیلات سامنے آئیں گی وہ فوراً عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ ضرور پرھیں: شمالی کوریا کے فوجی روس-یوکرین محاذ سے واپسی پر مجبور، بھاری نقصان کی اطلاعات فائرنگ کا واقعہ اتنا بھیانک تھا کہ پولیس نے بتایا کہ وہ واقعے کے بعد سے پورے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔ اس فائرنگ میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں مقامی ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ اوہریبرو یونیورسٹی ہسپتال کے حکام کے مطابق زخمیوں کی تعداد 6 ہے جن میں سے پانچ افراد کو گولیوں کے زخم آئے ہیں، جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے اور وہ سرجری سے گزر چکے ہیں۔ اسکول کیمپس میں اس وقت سراسیمگی کا عالم تھا جب چھ اسکولوں اور ایک ریسٹورنٹ کو فوراً لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ اس بات کی تصدیق بھی کی گئی ہے کہ اس واقعے میں کوئی بچہ زخمی نہیں ہوا جس پر لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ دوسری جانب پولیس نے علاقے کے تمام اسکولوں کو محفوظ قرار دیا اور اعلان کیا کہ مزید حملوں کا خدشہ نہیں ہے۔ سویڈن کے وزیرِ اعظم ‘اُلف کرسٹر سون’ نے اس خونریز واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “آج سویڈن کے لیے بہت تکلیف دہ دن ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ “میری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اس سانحے کا سامنا کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بھی میری دعائیں ہیں۔” اس واقعے نے پورے سویڈن کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اسکول کے طلبہ اور اساتذہ نے اس واقعے کو دہشت کے طور پر بیان کیا ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد نے اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے بھاری دن قرار دیا ہے۔ پولیس نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور حملہ آور کے مقاصد کا پتہ چلایا جائے گا۔ پولیس کے مطابق وہ اس وقت اپنے تمام وسائل کو اس تحقیق میں لگا چکے ہیں اور جلد ہی مزید معلومات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ سویڈن جیسے امن پسند ملک میں ایک بڑی دہشت کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھر میں اس سانحے پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ پولیس کی تحقیقات کے نتیجے میں اس بھیانک واقعے کے تمام پہلوؤں کا کھل کر پتا چلے گا اور سوئیڈن کی عوام کو انصاف ملے گا۔ یہ واقعہ نہ صرف سویڈن بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید پڑیں: غزہ کی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر حماس کا ماسکو میں اہم اجلاس
غزہ کی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر حماس کا ماسکو میں اہم اجلاس

غزہ اسرائیل جنگ بندی کے بعد حماس کے وفد نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف سے اہم ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی پیچیدہ صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں شدید مشکلات آ رہی تھیں اور اسرائیل پر الزام تھا کہ اس نے امدادی سامان کی ترسیل میں بڑی رکاوٹیں ڈال رکھی ہیں۔ حماس کے وفد کی قیادت کرنے والے موسا ابو مرزوق نے اس ملاقات میں واضح طور پر کہا کہ “اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال کر انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں خیموں، ایندھن اور ضروری طبی سامان کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے اسپتالوں، پانی کے کنوؤں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کی ضرورت انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے اور ان منصوبوں کو فوری طور پر عملی جامہ پہنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے غزہ کی موجودہ حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے طے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر امدادی سامان کی فراہمی شروع کی جائے۔ موسا ابو مرزوق نے روس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ “غزہ کی عوام کو انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کے لیے روس کا کردار انتہائی اہم ہے۔” اس موقع پر روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے کہا کہ “ہم فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ جنگ بندی معاہدہ ایک اہم قدم ہے اور ہم اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کی اجازت نہیں دیں گے۔” یہ بھی پڑھیں:چین کا امریکا کو جواب: کب اور کتنا ٹیکس لگے گا؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ روس غزہ میں جاری انسانی بحران کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ، جس کی بنیاد پر جنگ بندی کا آغاز 19 جنوری 2025 کو ہوا تھا، تین اہم مراحل میں تقسیم ہے: پہلا مرحلہ اسرائیلی شہریوں کی رہائی، دوسرا مرحلہ اسرائیلی فوجیوں کی رہائی اور تیسرا مرحلہ اسرائیلی باقیات کی واپسی شامل ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں عدم استحکام اور مذاکراتی پیچیدگیاں اب تک اہم رکاوٹیں ثابت ہو رہی ہیں، جس کے باعث عالمی برادری اس معاہدے کے کامیاب نفاذ کی امیدوں میں ملے جلے جذبات رکھتی ہے۔ غزہ میں خونریزی کا سلسلہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری تھا جس کے نتیجے میں 47,500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 111,600 سے تجاوز کر چکی ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں کارروائیاں بھی جاری ہیں جن میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری شامل ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حماس اور روس کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں کامیابی کا سبب بنیں گے یا یہ پیچیدگیاں مزید سنگین ہو جائیں گی؟ اس وقت غزہ کے عوام کے لیے ہر لمحہ ایک نیا بحران لے کر آ رہا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس معاہدے پر جمی ہوئی ہیں جو غزہ کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید پرھیں: شمالی کوریا کے فوجی روس-یوکرین محاذ سے واپسی پر مجبور، بھاری نقصان کی اطلاعات
“پاکستان دنیا میں سب سے سستا حج کرا رہا ہے”، قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان

پاکستان نے مختصر اور طویل حج پیکج میں قیمتیں مزید کم کر دی،مختصر حج پیکج کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت 50 ہزار اور طویل حج کی قیمت میں 25 ہزار کمی کر دی گئیں۔ وزیر مذہبی امور چوہدری سالک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 40 دنوں پر محیط طویل دورانیے کے حج پیکج میں مزید 25 ہزار کم کر دیا گیا اور مختصر 25 دنوں پر مشتمل حج پیکج میں 50 ہزار کم کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ طویل اور مختصر حج پیکج میں کمی کرنے سے پہلے طویل حج پیکج کی قیمت 10 لاکھ 75 ہزار تھی جو کہ کم ہو کر 10 لاکھ 50 ہو گئی ہے، جبکہ مختصر حج پیکج کی قیمت 11 لاکھ 50 ہزار طے تھی جو کہ اب قیمت کرنے کے بعد 11 لاکھ رہے گئی ہے۔ وزیر مذہبی امور نے کہا ہے کہ میں قوم کو خوشخبری دینا چاہتا ہوں، ہم ان تمام عازمین کو رقم واپس کر رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ سال حج کیا، ریفنڈز 20 ہزارسے ایک لاکھ 40 ہزار روپے تک ہوں گے، اور ہم جاری رکھیں گے۔ اس سال حج کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس سال حج کے اخراجات میں اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی طرف سے پیش کیا جانے والا حج پیکج دنیا میں سب سے زیادہ سستا ہے۔ مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری نے رقم کی واپسی کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کیں، انہوں نے کہا کہ کچھ حجاج کرام کو ایک لاکھ 40 ہزارروپے تک ملیں گے جبکہ دیگر کو 20 ہزارروپے تک کم رقم ملے گی۔ تین فیصد عازمین کو ایک لاکھ 40 ہزارروپے، 23 فیصد کو 75 ہزارروپے اور 3 ہزارعازمین کو 50 ہزارروپے ملیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس سال حج کے عمل میں بھی بچت کی گئی تو یہ حجاج کو واپس کر دی جائے گی۔ سالک حسین نے یہ بھی بتایا کہ اس سال حج کے لیے درخواستوں کی تعداد تقریباً پچھلے سال کی تعداد کے برابر ہے۔ جبکہ مختصر حج پیکج کی قیمت گزشتہ سال 10 لاکک ملین روپے تھی، اس سال یہ 1.05 ملین روپے ہو جائے گی، جو عالمی نرخوں اور موجودہ ڈالر کی شرح تبادلہ کے مقابلے میں یہ دنیا کا سب سے سستا حج پیکج بن جائے گا۔ وزیر مذہبی امورنے مزید کہا کہ حکومت کا حج کوٹہ پُر ہو چکا ہے، اور کوئی اضافی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ تاہم، ہارڈ شپ کوٹہ کے تحت سہولیات دستیاب ہیں۔ چوہدری سالک حسین نے سعودی عرب کے وزیر حج ڈاکٹر توفیق الربیعہ کے تعاون کی بھی تعریف کی اور کہا کہ کسی اور ملک کو حج انتظامات کے لیے اتنی وسیع حمایت نہیں ملی ہے
’پڑھنے میں دلچسپی نہیں‘ سکیورٹی ذرائع نے ’خط بھیجنے‘ کا دعویٰ مسترد کردیا

سکیورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے کسی بھی خط سے لاعلمی کا اظہار کردیا، سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’آرمی چیف کو لکھا گیا خط اب تک انہیں موصول نہیں ہوا‘۔ نجی ٹی وی ’جیو نیوز‘ کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھا گیا خط موصول نہیں ہوا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ میڈیا پر خبر سامنے آئی کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی خط لکھا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ اگر کسی بھی معاملے پربات کرنی ہے تو سیاستدانوں سےکی جائے، ایسے کسی بھی خط کو پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے گزشتہ روز تصدیق کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی نے آرمی چیف کو 6 نکات پر مشتمل خط لکھا ہے جس میں پہلا نقطہ فراڈ الیکشن اور منی لانڈرز کو جتوانے سے متعلق ہے۔ یہ بھی پڑھیں: “فوج بھی میری اور ملک بھی میرا” عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو لکھے گئے خط کا متن بھی سامنے آگیا دوسرا نقطہ 26 ویں آئینی ترمیم، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ متاثرہونے پر ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے۔ فیصل چوہدری نے کہا تھا کہ خط میں چوتھا نقطہ پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کے پرچے، چھاپے اورگولیاں چلانے پر ہے جب کہ پانچواں نقطہ انٹیلی جنس اداروں کے کام سے متعلق ہے۔ فیصل چوہدری نے مزید کہا تھا کہ عمران خان نے خط میں آرمی چیف سے پالیسیاں تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔ عمران خان کے آرمی چیف کو خط پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں نے اب تک بانی پی ٹی آئی کا یہ خط پڑھا یا دیکھا نہیں لیکن اگر ان کی طرف سے خط پر رسپانس آتا ہے تو ہم خیرمقدم کریں گے۔
حکومت کا کرپشن فری رمضان پیکج، یوٹیلیٹی اسٹورز کے بغیر فراہمی کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کو شامل کیے بغیر رمضان ریلیف پیکج متعارف کرایا جائے، جس کا مقصد بدعنوانی کو روکنا اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کو روکنا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے رمضان المبارک کے لیے شفاف اور موثر ریلیف میکنزم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر بدانتظامی کی وجہ سے پچھلے سال کے پیکج کو متعدد شکایات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مہینوں پہلے کہا تھا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کا موجودہ نظام غیر پائیدار ہے۔ گزشتہ رمضان میں یوٹیلیٹی سٹورز کے حوالے سے بہت زیادہ شکایات آئی تھیں، اس لیے ہم نے ان کے بغیر پیکج متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملاقات کے دوران شہباز شریف نے گرتی ہوئی مہنگائی کی شرح پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنوری 2024 میں 28.73 فیصد سے کم ہو کر دسمبر 2024 میں 4.1 فیصد رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں بتدریج کمی ایک مثبت پیشرفت ہے۔ ہماری توجہ اب اقتصادی ترقی پر ہے، اور تمام متعلقہ وزارتوں کو اس ہدف پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ وزیراعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پائیدار اقتصادی ترقی کا حصول ایک اہم چیلنج ہے اور اقتصادی استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے وزارتوں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ شہباز شریف نے تقریب میں اعلان کیا کہ سعودی عرب نے 1.2 بلین ڈالر کی ایک سال کے لیے موخر تیل کی ادائیگی کی سہولت کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ گزشتہ موخر ادائیگی کا معاہدہ دسمبر 2023 میں ختم ہوا تھا، لیکن سعودی وفد نے توسیع کو حتمی شکل دینے کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت پاکستان کو انتہائی ضروری مالی ریلیف فراہم کرے گی کیونکہ ہم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے شہر جمرود میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم پر حملے پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مقتول سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے دعا کی اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
‘پارلیمان کو اختیار نہیں کہ بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی کر سکے’پیکا ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج

پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ پیکا میں حالیہ ترامیم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں آزادی اظہار اور انسانی حقوق پر ان کے اثرات کے خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ شہری محمد قیوم خان کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ پیکا ایکٹ میں ترامیم بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، پارلیمان کو اختیار نہیں کہ بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی کر سکے ۔ پٹیشن میں حالیہ تبدیلیوں اور اصل پیکا قانون دونوں کا مکمل عدالتی جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ قانون بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ امن اور استحکام کے قومی مفاد میں، عاجزی کے ساتھ درخواست کی جاتی ہے کہ ایک فل کورٹ بنچ ترمیم اور موجودہ قانون پر نظرثانی کرے اور معاشرے میں رائے کے اظہار اور معلومات کو شیئر کرنے کے ہمارے بنیادی حق پر نظر ثانی کی جائے۔ درخواست میں متنبہ کیا گیا کہ پیکا کی توسیع ریاستی سنسرشپ کا باعث بن سکتی ہے اور سیاسی مخالفین، صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائی کا نشانہ بن سکتی ہے۔ واضح رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں، میڈیا تنظیموں اور شہری حقوق کے گروپوں نے اس قانون کی بڑے پیمانے پر مذمت کی ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ آزادی اظہار کو روکتا ہے اور ڈیجیٹل حقوق کو محدود کرتا ہے۔ یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری کی منظوری سےترمیم شدہ پیکا قانون اب نافذ العمل ہو گیا ہے۔ نظرثانی شدہ دفعات میں “جھوٹی” معلومات آن لائن پھیلانے پر سخت سزائیں، غلط معلومات کی سزا کو کم کرکے تین سال قید، اور 20 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ان ترامیم میں سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی(ایس ایم پی آر اے) ، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی( این سی سی آئی اے) اور سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹریبونل سمیت کئی نئے ریگولیٹری اداروں کو بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ تازہ درخواست پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں اظہار رائے کی آزادی اور صحافتی آزادیوں پر اس کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ پہلے بھی ایک رٹ پٹیشن میں پیکا ترمیمی بل 2025 کو چیلنج کیا جا چکا ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس کی کئی دفعات کو آئین پاکستان 1973 کے مختلف آرٹیکلز سے متصادم ہونے کی وجہ سے غیر آئینی قرار دیا جائے۔
’ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں‘ آرمی چیف کا کورکمانڈرز کانفرنس سے خطاب

جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 267ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہو ئی جس دوران شرکاء نے مادرِ وطن کے امن و استحکام کے لئے شہدائے افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ فورم نے درپیش خطرات کا مفصل جائزہ لیتے ہوئے علاقائی اور داخلی سلامتی کے منظر نامے پر روشنی ڈالی، شرکاء کانفرنس نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جبکہ یوم یکجہتی کشمیر (5 فروری 2025) کے موقع پر کشمیر کے پُرعزم لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔ فورم نے بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور انہیں خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ یہ بھی پڑھیں: سعودی ترقیاتی فنڈ کے سی ای او کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات شرکاء کانفرنس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے ان کی جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ شرکاء نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ فورم نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ عاقبت نا اندیش اور اشتعال انگیز بیانات کا بھی سخت نوٹس لیا اور انہیں غیر ذمہ دارانہ اور علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ فورم سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ’پاکستان آرمی ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے، بھارتی فوج کے کھوکھلے بیانات ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں‘۔” انہوں نے مزید کہا کہ “اس قسم کے بیانات،اپنے عوام اور عالمی برادری کی توجہ بھارت کی اندرونی خلفشار اور اُسکی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں، ہم کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا انشاء اللہ۔‘‘ فورم نے فتنتہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کے عبوری افغان حکومت فتنہ الخوارج کی موجودگی سے انکار کی بجائے اسکے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات کرے۔ فورم نے واضح کیا کہ افغانستان اور فتنہ الخوارج کے ضمن میں جاری شدہ تمام ضروری اقدامات اور حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا جو پاکستان اور اُسکے عوام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ فورم نے بلوچستان میں عوام پر مرکوز سماجی و اقتصادی ترقی کے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ احساس محرومی کے من گھڑت بیانیے کی نفی کی جا سکے۔ فورم نے اس بات کا اعادہ کیاکہ ”کسی کو بھی بلوچستان میں امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، غیر ملکی پشت پناہی کرنے والی پراکسیز کی بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انتہا پسندی پر مائل کرنے کے مذموم عزائم کو بلوچستان کے عوام کی غیر متزلزل حمایت سے ناکام بنایا جائے گا، انشاء اللہ‘‘۔ یہ بھی پڑھیں: ’حکمران کشمیر پر سودے بازی سے باز رہیں ‘ کراچی کشمیر کانفرنس کے شرکا کا مطالبہ تمام فارمیشنوں کی آپریشنل تیاریوں کی تعریف کرتے ہوئے آرمی چیف نے مشن پر مبنی تربیت، بہتر فوجی تعاون، روایتی اور انسداد دہشت گردی کی مد میں مشترکہ مشقوں کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔ کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ”عسکری قیادت قوم کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ ہے، عسکری قیادت پاکستان کی قابلِ فخر عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔ مزید پڑھیں: صدر پاکستان کا دورہ چین، ’امریکی دباؤ بے اثر کرنے کی کوشش‘ ؟
چیمپئنز ٹرافی کا بخار سر چڑھ کر بولنے لگا، چند ہی لمحوں میں تمام ٹکٹیں فروخت

پاکستان میں کرکٹ کے دیوانوں کا جوش عروج پر ہے چیمپئن ٹرافی 2025 کا بخار اب شائقین کے سر چڑھ کر بولنے لگا ہے اور خاص طور پر کراچی میں یہ بخار ایک نئی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ 19 فروری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان چیمپئن ٹرافی 2025 کا پہلا میچ کھیلا جائے گا جس کے لیے ٹکٹوں کی طلب بے پناہ بڑھ چکی ہے۔ چیمپئن ٹرافی کا ایونٹ پاکستان میں ہونے کے بعد شائقین کا جوش کسی حد تک بے قابو ہو چکا ہے۔ کراچی میں ہونے والے اس میچ کے ٹکٹوں کی فروخت نے اس شہر کو مچل کر رکھ دیا ہے۔ سب سے پہلے آن لائن ٹکٹوں کی فروخت شروع ہوئی تھی اور چند ہی گھنٹوں میں 40 فیصد ٹکٹ فروخت ہو گئے تھے۔ خصوصاً پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے مہنگے ترین ٹکٹ سب سے پہلے ہاتھوں ہاتھ بک گئے، جس سے لوگوں میں شدید بے چینی اور افراتفری دیکھنے کو ملی۔ اس کے بعد کل شام 4 بجے سے فزیکل ٹکٹوں کی فروخت شروع ہوئی۔ صرف 2 گھنٹوں کے اندر اندر، بیشتر ٹکٹ فروخت ہو گئے۔ ایک طرف شائقین ٹکٹوں کے حصول کے لیے لائینوں میں کھڑے ہوئے تو دوسری طرف کرکٹ بورڈ نے کمپنیز کو یہ ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ٹکٹوں کی ترسیل کریں۔ جیسے ہی ٹکٹوں کی ترسیل شروع ہوئی، شائقین کی بے تابی اور بڑھ گئی۔ ذرائع کے مطابق نجی کورئیر کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ 10 سے 15 منٹ کے اندر ٹکٹیں پہنچا دیں گے، جس سے شائقین کی امیدوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آخرکار فیصلہ کیا کہ وہ 1500 اضافی ٹکٹس فینز کے لیے مختص کریں گے جوکہ کچھ ہی دیر میں فروخت ہو جائیں گے۔ ایسے میں میچ کی دلچسپی اور اس کے حوالے سے آنے والی خبریں شائقین میں مزید جوش پیدا کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ 2025 کی چیمپئن ٹرافی کی میزبانی پاکستان کو حاصل ہوئی ہے اور یہ ایونٹ پاکستان کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ اس سے پہلے چیمپئن ٹرافی کی میزبانی انگلینڈ نے کی تھی، جب پاکستان نے ہندوستان کو شکست دے کر چیمپئن ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ اب 19 فروری کو کراچی میں ایک نیا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملے گا، جس میں شائقین کا جوش و جذبہ کسی سے بھی کم نہیں۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والا یہ میچ کرکٹ کے مداحوں کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوگا۔ مزید پڑھیں: سہ ملکی کرکٹ سیریز کے لیے سخت سکیورٹی: محکمہ داخلہ نے منظوری دے دی