اپریل 5, 2025 12:29 صبح

English / Urdu

چین کے عالمی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے میں امریکا کی مداخلت: پاناما نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو چھوڑ دیا

چین نے پاناما کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (BRI) سے دستبرداری کے بعد امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے لَیٹن امریکا میں سرد جنگ کی ذہنیت رکھنے والا قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ لیا ہے جس میں چین کے عالمی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے لئے امریکا کی مداخلت کا سنگین پہلو سامنے آیا ہے۔ پاناما، جو 2017 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کا حصہ بننے والا پہلا لیٹن امریکی ملک تھا اب اس عالمی انفراسٹرکچر منصوبے سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ‘لن جیان’ نے ایک بیان میں امریکا کی شدید مذمت کی اور کہا کہ “امریکہ بیلٹ اینڈ روڈ کے تعاون کو سبوتاژ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے اور اس کے حملے ایک بار پھر اس کے غاصبانہ رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔” چین نے کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ ‘مارکو روبیو’ کی حالیہ دورے کے دوران دیے گئے بیانات نے چین کے ساتھ لیٹن امریکی ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ روبیو نے پاناما کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔ پاناما کے صدر ‘جوس راؤل مولی’ نوں نے 5 فروری کو اعلان کیا کہ ان کا ملک باضابطہ طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو سے دستبردار ہو رہا ہے۔ مزید پڑھیں: پاناما نے امریکی دعوے کو مسترد کردیا: کینال پر فیس کی لڑائی میں جرات مندانہ چیلنج یہ اعلان امریکی وزیرِ خارجہ کی پاناما کی دورے کے بعد آیا جہاں انہوں نے پاناما کینیال کے اسٹریٹجک کنٹرول پر چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔ تاہم، پاناما کے صدر نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ امریکا کی طرف سے کوئی دباؤ آیا تھا۔ دوسری طرف چین نے دوبارہ واضح کیا کہ وہ پاناما کی سوورینٹی کے حق میں ہے خاص طور پر پاناما کینیال کے حوالے سے۔ چین کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ “ہمیں امید ہے کہ پاناما اپنے طویل المدتی مفادات اور دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں صحیح فیصلہ کرے گا اور بیرونی مداخلت کو مسترد کرے گا۔” یہ واقعہ چین کی عالمی حکمت عملی اور امریکا کی عالمی اثر و رسوخ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ اس کے باوجود چین کا موقف یہ ہے کہ وہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں میں مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکی دباؤ کے باوجود اس کا عزم مضبوط ہے۔ پاناما کا یہ قدم نہ صرف چین کے عالمی پروجیکٹ کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ لیٹن امریکا میں بڑھتے ہوئے چینی اثرات اور امریکا کے بڑھتے ہوئے خوف کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا دیگر لیٹن امریکی ممالک بھی اس مثال پر عمل کرتے ہیں، یا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔ یہ بھی پڑھیں: آغا کریم خان کے بعد اسماعیلی شیعہ قیادت کا نیا امام کون ہوگا؟

ٹرمپ کے غزہ پر تبصرے: عرب امریکی اور مسلم رہنماؤں کی شدید مخالفت

عرب امریکی اور مسلم رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر کیے گئے حالیہ تبصروں کی شدید مذمت کی ہے جن میں انہوں نے غزہ کی زمین پر امریکہ کا قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کو دوسری جگہوں پر آباد کرنے کی تجویز دی تھی۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے خیالات پر تنقید کی جا رہی ہے وہ پھر بھی ٹرمپ کو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے بہترین آپشن سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ کے تبصروں کے بعد جنہوں نے غزہ میں امریکی قبضے کی بات کی تھی اور فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی عرب اور مسلم رہنماؤں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ بعض رہنماؤں نے اسے غیر حقیقت پسندانہ اور بدستور ایک سیاسی چال قرار دیا، جبکہ ایک رہنما نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس نوعیت کے بیانات ٹرمپ اور ان کی جماعت کو عرب اور مسلم کمیونٹی کے درمیان اپنی حمایت کھونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بشیرہ بہبہ جو “عرب امریکیوں کے لیے ٹرمپ” کے بانی ہیں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا غزہ کے حوالے سے موقف تمام فلسطینیوں کے لیے تکلیف دہ ہے خاص طور پر ان کی سرزمین سے زبردستی نکالنے کا خیال۔ انہوں نے کہا “ہم کسی بھی صورت فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کے مخالف ہیں، چاہے وہ رضاکارانہ طور پر ہو یا جبراً۔ لیکن بہبہ نے یہ بھی کہا کہ وہ پھر بھی ٹرمپ کو مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل کے لیے بہترین امیدوار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا “اگرچہ ان کے خیالات پر سوالات اٹھتے ہیں، لیکن ہم ٹرمپ کو اس خطے میں امن کے قیام کے لیے سب سے بہتر موقع سمجھتے ہیں۔” مزید پڑھیں: پاناما نے امریکی دعوے کو مسترد کردیا: کینال پر فیس کی لڑائی میں جرات مندانہ چیلنج ٹرمپ نے اپنی تجویز میں غزہ کو ایک “مڈل ایسٹ ریویرہ” میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس میں امریکی فوج کی موجودگی کو بھی مسترد نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق امریکا کو غزہ میں چند عرصے کے لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ وہاں کے حالات بہتر کیے جا سکیں۔ یہ تبصرے امریکا میں عرب اور مسلم کمیونٹی کے لیے ایک نیا سرپرائز تھے۔ بہت سے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ موقف ان کی جماعت کی جانب سے 2024 کے انتخابات میں عرب اور مسلم ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوششوں کے برعکس ہے۔ فائے نیمر جو “مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقن چیمبر آف کامرس” کی بانی ہیں،انہوں نے کہا کہ “ٹرمپ کے یہ بیانات اس کی مہم کے بنیادی پیغام سے متضاد ہیں جو عرب اور مسلم امریکیوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اگر ریپبلکن پارٹی ان ووٹروں کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔” رابیول چوہدری جو “مسلمانوں کے لیے ٹرمپ” کے شریک بانی ہیں،انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے غزہ کے بارے میں تبصرے ان کے سیاسی حریف جو بائیڈن اور کاملا ہیریس کی پالیسیوں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا “اگر ہم بائیڈن اور ٹرمپ کے اقدامات کو موازنہ کریں تو فرق واضح ہو گا، ٹرمپ بہتر آپشن ہیں۔” چوہدری نے بائیڈن انتظامیہ کی غزہ پر اسرائیل کی حمایت اور اس کی بمباری پر تنقید کی اور کہا کہ ٹرمپ نے جب تک اقتدار میں نہیں آئے تھے اس وقت بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے قیام کے لیے اپنے اقدامات کیے تھے۔ یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا غزہ پر قبضے کا منصوبہ: نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی یا ترقی کا دعویٰ؟ یحییٰ بشہ، جو “مسلمانوں کے لیے امریکی ترقی” کے بانی ہیں، انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات کو ہمیشہ اشتعال انگیز سمجھا گیا ہے اور ان کی پالیسیاں کبھی بھی عملی طور پر عمل درآمد کے قابل نہیں رہیں۔ انکا کہنا تھا کہ “مجھے اس بات پر حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ ان کے داماد جارڈ کشنر نے پہلے بھی غزہ کو تفریحی مقام بنانے کی بات کی تھی۔” اس کے علاوہ سمرا لقمان، جو ڈیموکریٹ ہیں اور 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والوں میں شامل تھیں انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی تجویز کے مخالف ہیں لیکن وہ پھر بھی بائیڈن کی پالیسیوں سے زیادہ ٹرمپ کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “میں فلسطینیوں کے اپنے وطن سے بے دخل ہونے کے خیالات سے خوش نہیں ہوں، لیکن کم از کم وہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں نہیں مارے جا رہے جیسے بائیڈن کے دور میں ہو رہا ہے،” لوکمن نے کہا۔ ٹرمپ کے غزہ کے حوالے سے کیے گئے بیانات نے ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی پالیسی اور عرب و مسلم کمیونٹی کے تعلقات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگرچہ بہت سے رہنماؤں نے ان کے خیالات کو مسترد کیا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے حوالے سے عرب اور مسلم کمیونٹی میں شدید اختلافات موجود ہیں جو آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضرور پڑھیں: آغا کریم خان کے بعد اسماعیلی شیعہ قیادت کا نیا امام کون ہوگا؟

جماعت اسلامی، پی ٹی آئی کا احتجاج، دفعہ 144 نافذ ، آج کے دن کیا ہوا تھا؟

جماعت اسلامی پاکستان اور پاکستان تحریکِ انصاف نے آج ملک بھر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ہر قسم کے سیاسی احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پرپابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، آج کسی بھی  جماعت یا گروہ کو  جلسہ، جلوس اور ریلی نکالنے کی اجازت نہیں۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد میں عدالتی سماعت کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی کی ریلی صوابی تک محدود رہے گی، تشدد کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے زور دے کر کہا کہ احتجاج یونین کونسل اور تحصیل کی سطح پر ہو گا، حامیوں کو دعوت دی جائے گی کہ وہ جہاں تک ہو سکے اس تحریک میں شامل ہوں، جس کا کوئی انتشار یا تصادم کا ارادہ نہیں ہے،ہمیں کوئی پریشانی پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں ہے،ہمارا احتجاج پرامن ہے اور ہم حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید اس یقین کا بھی اعادہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اس جلسہ میں شرکت کریں گے،عوام اس حکومت کے فاشزم کی مخالفت کرتے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ ایک تجربہ کار سیاست دان مولانا فضل الرحمان عوام کے ساتھ ہوں گے۔  یاد رہے کہ ایک حالیہ پیشرفت میں پی ٹی آئی نے مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی، لیکن ڈسٹرکٹ کمشنر (ڈی سی) نے دیگر تقریبات جیسے کہ ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس اور ایک ہی دن ہونے والے کرکٹ میچ کا حوالہ دیتے ہوئے اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ آٹھ فروری کے احتجاج سے قبل پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور کئی افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ بلوچستان میں بھی 15 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی اور بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان نے اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق ‘اسلحے کی نمائش اور استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی اور دھرنوں، جلوسوں اور 5 سے زائد افراد کے اجتماعات پر 15 دن کے لیے پابندی عائد کردی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ ناگزیر تھا ضرور پڑھیں: انتخابات اور دھاندلی کا کھیل: کیا پاکستانی جمہوریت خطرے میں ہے؟ ادھر وفاقی  حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں بھی ہر قسم کے سیاسی احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پرپابندی عائد کر دی گئی ہے۔اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں ہر قسم کے اجتماع اور سیاسی سرگرمی پر پابندی ہے جس لیے قانون کی خلاف ورزی پر سخت کاروائی کی جائے گی۔ جمعے کو انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کی زیر قیادت اعلی سطحی اجلاس میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آج کے دن ہی احتجاج کیوں جارہا ہے؟ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ‘آٹھ فروری کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہی ہے کیونکہ اس دن ہمارے لیڈر عمران خان کو جو ووٹ پڑا اس کی چوری کی گئی، ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا۔’ ان کا کہنا ہے اب ہر سال یومِ سیاہ منایا جائے گا اور اس سال آٹھ فروری کو صوابی میں ریلی نکالی جائے گی۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے حامی و کارکنان کو پاکستان میں اور پاکستان سے باہر ہر شہر میں احتجاج کی کال دی ہے اور کہا ہے ‘جہاں جہاں آپ ہیں وہاں اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔’ پنجاب میں پارٹی کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق شمالی پنجاب کے 10 اضلاع سے کارکنان کی بڑی تعداد صوابی جلسے میں شرکت کرے گی۔ جبکہ باقی علاقوں میں مقامی سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔ لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے ری الیکشن کے مطالبہ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2024 کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی پر جو ڈیشل کمیشن بنایا جائے۔  کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ 8  فروری کا دن ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اس دن جعلی نمائندوں کو عوام پر مسلط کیا گیااور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، فارم 12 کی جگہ فارم 13 دیئے گئے۔

پاناما نے امریکی دعوے کو مسترد کردیا: کینال پر فیس کی لڑائی میں جرات مندانہ چیلنج

پاناما نے حالیہ دنوں میں امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کینال کے ذریعے امریکی حکومت کے جہازوں کو بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ ایسا معاہدہ ہو چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ “اب امریکی حکومت کے جہاز پاناما کینال سے بغیر کسی فیس کے گزر سکتے ہیں، جس سے لاکھوں ڈالر کی بچت ہو رہی ہے۔” دوسری جانب پاناما کینال کے حکام (ACP) نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں کینال کی فیس کو طے کرنے کا اختیار حاصل ہے” اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔” یہ تنازعہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پانامہ کینال پر مکمل کنٹرول واپس لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پاناما کینال، جو کہ 82 کلومیٹر طویل ہے ایک اہم تجارتی راستہ ہے اور بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان رابطہ فراہم کرتی ہے۔ ٹرمپ کی یہ خواہش ایک بار پھر عالمی سطح پر ہلچل مچانے والی بات بن گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جو اس وقت لاطینی امریکا کے دورے پر ہیں انہوں نے پاناما سے مطالبہ کیا کہ وہ چین کے اثر و رسوخ کو نہر پر فوری طور پر ختم کرے۔ روبیو نے کہا کہ اگر پاناما نے اقدامات نہ کیے تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے گا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدے کے تحت ہیں۔ مزید پڑھیں: انڈین تارکینِ وطن کے ساتھ امریکا کا امتیازی سلوک: ہاتھ پاؤں باندھ دیے پاناما کی حکومت نے اس تنازعے میں کہا ہے کہ وہ ہمیشہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ کینال کے حکام نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ امریکی بحری جہازوں کی ترسیل کو ترجیح دینے کے لیے کام کیا جائے گا۔ سال 2024 میں پاناما نہر سے گزرنے والے جہازوں  میں 52 فیصد وہ تھے جن کی منزل یا آغاز امریکہ میں تھا۔ ہر سال تقریباً 14,000 جہاز اس نہر کا استعمال کرتے ہیں تاکہ جنوبی امریکہ کے گرد گھومنے کی طویل اور مہنگی سفر سے بچ سکیں۔ پاناما کے صدر، جوس راؤل مولینو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہر پاناما اب بھی اور ہمیشہ کے لیے پاناما کے ہاتھوں میں رہے گی۔ انہوں نے چین کے اثر و رسوخ کے بارے میں بھی ٹرمپ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ “دنیا کے کسی بھی ملک کا ہمارے انتظامیہ میں کوئی مداخلت نہیں ہے۔” ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ پاناما نہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، پاناما نے واضح کیا کہ وہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا اور اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرے گا۔ پاناما نہر پر کنٹرول کی یہ لڑائی اب عالمی سطح پر ایک دلچسپ کشمکش بن چکی ہے، اور دنیا بھر کے سیاسی و تجارتی حلقے اس تناؤ کے مزید اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: فلپائن میں امریکی جاسوس طیارہ گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک

ٹرمپ کا غزہ پر قبضے کا منصوبہ: نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی یا ترقی کا دعویٰ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ کے علاقے سے فلسطینیوں کو بے دخل کر کے اسے ‘مشرق وسطی کا ریویرہ’ بنانے کے منصوبے کا اعلان دنیا بھر میں غم و غصے اور مذمت کا باعث بنا ہے۔ دنیا بھر میں اس پر بیان کی شدید تنقید کی گئی ہے اور حکومتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی شہریوں کی طرف سے اس بات کی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں جینیوا کنونشنز کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جو کسی بھی شہری آبادی کو جبری طور پر بے دخل کرنے کو منع کرتی ہیں۔ نسلی صفائی کا یہ تصور جس کا ٹرمپ کے منصوبے میں عکس نظر آتا ہے جدید دنیا میں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے، اور اس کے پیچھے ایک صدیوں پرانی نوآبادیاتی ذہنیت کا عمل دخل ہے۔ صدر ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کے منصوبے کی تاریخی جڑیں کئی سو سال پیچھے جا کر ملتی ہیں جب یورپی طاقتوں نے دنیا کے مختلف حصوں پر اپنا قبضہ جمانا شروع کیا تھا۔ اس دور میں مقامی لوگوں کے حقوق اور خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے غیر ملکی طاقتوں کے لئے زمین اور وسائل کا استحصال کرنا ایک معمول بن گیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا پانچ سال بعد شرح سود میں کمی کا تاریخی فیصلہ یہ ذہنیت 1479 میں ہونے والے ‘معاہدۂ الکاسووس، معاہدۂ ٹورڈسیلس’ اور بعد ازاں 1884 کے برلن کانفرنس تک پھیل گئی۔ برلن کانفرنس اس وقت ایک اہم موقع تھا جب یورپی طاقتوں نے افریقہ کے وسیع حصے کو آپس میں تقسیم کیا اور اسے اپنے مفادات کے لیے قابو کر لیا۔ اسی دوران مؤثر قبضے کے تصور کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا جس کے مطابق اگر کسی غیر ملکی طاقت کو کسی علاقے پر حکمرانی کرنے کی صلاحیت ہو تو اسے وہ علاقہ قابض ملک کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے، ٹرمپ کا غزہ کے بارے میں منصوبہ اسی نوآبادیاتی فکر کا عکاس ہے۔ امریکی صدر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ غزہ پر امریکی حکمرانی نافذ کر کے فلسطینیوں کو بے دخل کر کے اور علاقے کی معیشت کو دوبارہ تعمیر کر کے ترقی اور خوشحالی لائے گا۔ یہ دعویٰ درحقیقت ایک ایسا نوآبادیاتی بیانیہ ہے جس میں مقامی لوگوں کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے غیر ملکی طاقتوں کو ترقی کا علمبردار بنا دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ غزہ کو ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز بنا کر اکانومک ترقی لائے گا جو کہ ایک ایسا تصور ہے جس کا مقصد علاقے کے قدرتی وسائل کا استحصال کرنا اور مقامی فلسطینیوں کی خودمختاری کو ختم کرنا ہے۔ مزید پڑھیں: لاہور سے زیادہ بڑے رقبے کو تباہ کر سکنے والا سیارچہ زمین کی جانب بڑھ رہا ہے، کیا پریشان ہوا جائے؟ یہ خیال کہ غزہ کو ‘مشرق وسطی کا سنگاپور’ بنایا جائے گا جو اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی طرف سے 2018 میں پیش کیا گیا تھا اس نوآبادیاتی سوچ کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق غزہ کو ایک صنعتی بندرگاہ اور آزاد تجارتی زون میں تبدیل کرنے کی بات کی گئی تھی جہاں اسرائیل کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ اس کے باوجود یہ منصوبہ فلسطینی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوشش ہے اور اس میں مقامی لوگوں کے حقوق کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ جیسا کہ افریقی ممالک اچھی طرح جانتے ہیں عالمی آزاد تجارت کے نظریات اکثر مقامی خودمختاری اور حقوق کی قربانی کے بدلے میں نافذ کیے جاتے ہیں۔ برلن کانفرنس کے نتیجے میں افریقہ میں جو تباہی آئی اس کی گونج آج بھی افریقی قوموں کے دلوں میں ہے۔ اس کے علاوہ کانگو فری اسٹیٹ کی مثال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نوآبادیاتی طاقتیں مقامی آبادیوں کے استحصال کے لیے ترقی اور خوشحالی کے دعوے کرتی تھیں، لیکن اس کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت اور بدترین استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ تاریخ کو واپس نہیں پلٹایا جا سکتا لیکن اس سے سبق ضرور سیکھا جا سکتا ہے۔ افریقہ اس بات کا شاہد ہے کہ نوآبادیات کا سچ یہ نہیں تھا کہ ان ممالک میں خوشحالی آئی بلکہ یہ استحصال، ظلم اور موت کا دور تھا۔ ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف عالمی سطح پر جو ردعمل آیا ہے وہ صرف ایک شخص کی پالیسی کی مذمت نہیں ہے بلکہ یہ ایک بڑے نوآبادیاتی ذہنیت کے خلاف ایک آواز ہے، جو آج بھی عالمی سیاست میں موجود ہے۔ افریقی ممالک کو اس تاریخ سے سبق لے کر ایک آواز میں کہنا ہوگا کہ ‘کبھی نہیں دوبارہ’ اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ یا کسی بھی علاقے پر غیر ملکی قبضہ چاہے وہ کسی بھی نام یا جواز کے تحت ہو کبھی بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے فلسطینیوں کا حق ہے کہ وہ اپنے علاقے میں خود حکمرانی کریں اور ان کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ ضرور پڑھیں: انڈین تارکینِ وطن کے ساتھ امریکا کا امتیازی سلوک: ہاتھ پاؤں باندھ دیے

آغا کریم خان کے بعد اسماعیلی شیعہ قیادت کا نیا امام کون ہوگا؟

دنیا بھر کے لاکھوں اسماعیلی شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ، پرنس رحیم الحسنینی کو اپنے والد آغا خان چہارم کی وفات کے بعد پانچویں آغا خان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔  53 سالہ رحیم اب نِزارہ اسماعیلی شیعہ مسلک کے پچاسویں امام کے طور پر خدمات انجام دیں گے اور اس مقدس عہدے پر فائز ہو کر اس خطے میں ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔ ان کا یہ منصب نہ صرف اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی رہنما کا ہے بلکہ ان کے زیر نگرانی ایک عالمی فلاحی نیٹ ورک بھی ہے جس میں اسپتال، تعلیمی ادارے اور فلاحی منصوبے شامل ہیں۔ یہ اعلان بدھ کے روز اس وصیت کے بعد کیا گیا جس میں آغا خان چہارم نے اپنے بیٹے کو اپنے جانشین کے طور پر منتخب کیا۔ اسماعیلی کمیونٹی جو دنیا بھر میں 12 سے 15 ملین افراد پر مشتمل ہے، وہ آغا خان کو نہ صرف روحانی رہنما بلکہ اجتماعی ترقی اور فلاحی کاموں کا رہنما بھی مانتی ہے۔ ان کی قیادت میں اس کمیونٹی نے تعلیمی ادارے، ہسپتال اور دیگر فلاحی منصوبے قائم کیے ہیں جو نہ صرف اسماعیلی افراد کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ ایبو پیٹیل، ‘انٹرفیت امریکا’ کے بانی کا کہنا تھا “میری توقع یہ ہے کہ اس وراثت کا تسلسل رہے گا کیونکہ یہ اسلام کی بنیادوں میں ہے اور ان اداروں میں اس کی تصدیق ہوتی ہے۔” یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے عالمی عدالت پر پابندیوں میں اضافہ کردیا رحیم کے لیے یہ ایک اہم ورثہ ہے کیونکہ ان کے والد آغا خان نے عالمی سطح پر بے شمار فلاحی منصوبے شروع کیے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک وسیع کاروباری ایمپائر بھی بنائی۔ آغا خان کے کاروباری اثاثے ایک اندازے کے مطابق 1 ارب سے 13 ارب ڈالر کے درمیان ہیں اور ان میں ہوائی کمپنیاں، جائیداد، اور میڈیا گروپ شامل ہیں۔ ان تمام اثاثوں اور اسماعیلی کمیونٹی کے زکوٰۃ کے نظام کے ذریعے وہ فلاحی کاموں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرتے رہے ہیں۔ آغا خان کی وفات، جو منگل کو 88 برس کی عمر میں ہوئی، اس کمیونٹی کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے کیونکہ کئی اسماعیلی افراد کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی دوسرے امام کو دیکھیں گے۔ ان کی قیادت میں آغا خان نے دنیا کے مختلف حصوں میں مثلاً افریقہ اور ایشیا میں انسانی فلاح کے کاموں کو تیز کیا جن میں سے خاص طور پر کینیا کی صحافتی تاریخ میں ان کا کردار نمایاں ہے۔ ضرور پڑھیں: روس-یوکرین جنگ کی شدت میں اضافہ: عالمی سطح پر کشیدگیاں، سیاسی چالیں اور نئی سفارتی کوششیں جاری  1960 کی دہائی میں آغا خان نے وہاں پریس کی ترقی میں مدد فراہم کی اور ‘نیشن میڈیا گروپ’ قائم کیا جو اب مشرقی اور وسطی افریقہ کا ایک بڑا میڈیا ادارہ ہے۔ اسماعیلی عقیدہ آٹھویں صدی میں شروع ہوا تھا اور اس کی بنیاد امام علی کی نسل سے ہے۔ نزارہ اسماعیلیوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا ایمان ان کے اندر انسانیت کی خدمت اور مذہبی رواداری کو اہمیت دیتا ہے۔ ان کی تاریخ نے ہمیشہ مسلمانوں کے دیگر فرقوں سے خود کو دور رکھا ہے اور اس میں ہمیشہ عالمی سطح پر امن اور ہم آہنگی کا پیغام دیا گیا ہے۔ رحیم الحسنینی نے اپنی تعلیم فلپس اکیڈمی اور براؤن یونیورسٹی سے حاصل کی اور اس کے بعد عالمی فورمز میں بھی شرکت کی ہے، جیسے کہ COP28، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں۔ ان کا ایک انٹلیکچوئل اور سفارتی پس منظر انہیں ایک مضبوط اور بصیرت رکھنے والا رہنما بناتا ہے۔ آغا خان چہارم کی آخری خواہش کے مطابق رحیم الحسنینی کا انتخاب خاندان کے روایات کے مطابق کیا گیا ہے۔ آغا خان سوم نے بھی 1957 میں اپنے نواسے کو اپنے جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا کیونکہ ان کے مطابق ایک نوجوان فرد کی ذہنیت عالمی تبدیلیوں کا بہتر جواب دے سکتی تھی۔ اب رحیم الحسنینی بھی اس سنت کو اپنانے جا رہے ہیں۔ اب رحیم کو اپنے والد کے اس وسیع فلاحی نیٹ ورک کو چلانے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دینا ہے۔ اس کی قیادت میں اسماعیلی کمیونٹی کا مستقبل مزید روشن نظر آتا ہے، کیونکہ ان کی توانائی، وژن، اور فلاحی کاموں کے ذریعے دنیا بھر میں ایک نیا انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ مزید  پڑھیں: انڈیا کا پانچ سال بعد شرح سود میں کمی کا تاریخی فیصلہ

چیمپئنز ٹرافی 2025 سے قبل کھلاڑیوں کی انجریز نے ٹیموں کی مشکلات بڑھا دیں

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کا سنسنی خیز ایڈیشن پاکستان میں 19 فروری سے شروع ہونے والا ہے، لیکن ٹورنامنٹ سے پہلے ہی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو ایک کے بعد ایک دھچکے کا سامنا ہے، جس نے اس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آسٹریلیش آل راؤنڈر مارکس اسٹوئنس نے اچانک ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے، جو ایک بڑی غیر متوقع تبدیلی ہے۔ اسٹوئنس کی ریٹائرمنٹ کے بعد کرکٹ آسٹریلیا کو ان کی جگہ نئے کھلاڑی کی تلاش کرنا ہوگی، جو چیمپئنز ٹرافی میں آسٹریلوی ٹیم کی حمایت کر سکے۔ لیکن اسٹوئنس کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب کپتان پیٹ کمنز اور فاسٹ بولر جوش ہیزل ووڈ بھی چیمپئنز ٹرافی کے اسکواڈ سے باہر ہو گئے۔ اس کے علاوہ آل راؤنڈر مچل مارش بھی فٹنس مسائل کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہیں بن سکیں گے اور ان تین اہم کھلاڑیوں کا چیمپئنز ٹرافی میں نہ ہونا آسٹریلیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آسٹریلوی کرکٹ کے چیف سلیکٹر ‘جارج بیلے ‘نے اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیٹ کمنز ٹخنے کی انجری سے صحتیاب نہیں ہو سکے اور جوش ہیزل ووڈ کولہے میں تکلیف کا شکار ہیں،اس کے علاوہ مچل مارش فٹنس مسائل کی وجہ سے اسکواڈ سے باہر ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی چوٹوں کے باعث آسٹریلیا کو چیمپئنز ٹرافی کے ابتدائی اسکواڈ میں چار تبدیلیاں کرنی پڑیں۔ یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کی جانب سے ماہ کے بہترین کھلاڑی نامزد اس صورتحال کے پیش نظر، کرکٹ آسٹریلیا چیمپئنز ٹرافی سے قبل کسی نئے کھلاڑی کا اعلان کرے گی تاکہ ٹیم کو متوازن بنایا جا سکے اور کمزوریوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ آسٹریلیا کے علاوہ چیمپئنز ٹرافی میں شامل دیگر ٹیمیں بھی اپنے اہم کھلاڑیوں کی چوٹوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری جانب پاکستان ٹیم کے نوجوان اہم کھلاڑی ‘صائم ایوب’ بھی زخمی ہونے کی وجہ سے اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ مزید برآں، ہمسایہ ملک بھارت کے تیز گیند باز جسپریت بمراہ اور انگلینڈ کے وکٹ کیپر جیمی اسمتھ بھی زخمی ہونے کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی میں اپنی شرکت کو مشکوک قرار دے چکے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی غیر موجودگی ٹورنامنٹ میں کھیل کا منظر بدل سکتی ہے جس سے ان کی ٹیموں کو ایک بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ سب تبدیلیاں اور زخمی کھلاڑیوں کا مسئلہ چیمپئنز ٹرافی 2025 کی پیچیدگیاں بڑھا رہا ہےاور اب تک کی صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس ایونٹ میں ہر ٹیم کو اپنی حکمت عملی کو دوبارہ سے ترتیب دینا پڑے گا۔ مزید پڑھیں: “محسن نقوی اسٹیڈیم کی تعمیر کرنے والے 2500 افراد کو لندن کی سیر کروائیں اور حوصلہ افزائی کریں”: وزیر اعظم پاکستان اس  سب کے باوجود چیمپئنز ٹرافی کے منتظر شائقین کے لیے یہ ٹورنامنٹ بھرپور دلچسپی کا باعث بنے گا، کیونکہ پاکستانی کرکٹ کا میدان، جو 1996 کے بعد پہلی بار آئی سی سی کے کسی بڑے ایونٹ کی میزبانی کر رہا ہے، کرکٹ کے شائقین کی نظریں اپنی طرف مرکوز کیے ہوئے ہے۔ 19فروری سے 9 مارچ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابتدائی میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ اس ایونٹ میں پاکستان اپنے 2017 کے ٹائٹل کا دفاع کرے گا، جس کی جیت نے قوم کو ایک نئی کرکٹ فخر کی شان بخشی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ اس چیمپئنز ٹرافی میں ہمیں عالمی کرکٹ کی کچھ نئی کہانیاں دیکھنے کو ملیں گی، کیونکہ ٹیموں کے اسکواڈز میں بدلاؤ اور کھلاڑیوں کی چوٹوں کے بعد، ہر ٹیم کے لیے یہ ٹورنامنٹ جیتنا اور اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔ لازمی پڑھیں: ’آؤ قذافی میں کھلیو‘ نئے اسٹیڈیم میں’ دل دل پاکستان‘ کی گونج

آئی سی سی کی جانب سے ماہ کے بہترین کھلاڑی نامزد

جنوری 2025 کے آئی سی سی مین پلیئر آف دی منتھ ایوارڈ کے لیے نامزد کھلاڑیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے جس میں تین شاندار کھلاڑیوں کی نامزدگی نے کرکٹ کی دنیا میں نیا جوش و جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ پلیئر آف دی منتھ ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والے کھلاڑیوں میں پاکستان کے نعمان علی، بھارت کے ورون چکرورتی اور ویسٹ انڈیز کے جومیل واریکن نے اپنی شاندار کارکردگی سے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ یہ بھی پڑھیئں: “محسن نقوی اسٹیڈیم کی تعمیر کرنے والے 2500 افراد کو لندن کی سیر کروائیں اور حوصلہ افزائی کریں”: وزیر اعظم پاکستان پاکستانی کرکٹر نعمان علی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تاریخی سیریز میں شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ ملتان میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچز میں انہوں نے 16 وکٹیں حاصل کیں، جن میں ایک شاندار ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔ یہ کارنامہ پاکستانی اسپنرز کے لیے تاریخ رقم کرنے والا تھا اور ان کی کوششیں اب دوسرے آئی سی سی مین پلیئر آف دی منتھ ایوارڈ کو جیتنے کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے ورون چکرورتی نے انگلینڈ کے خلاف ٹی20 سیریز میں شاندار باؤلنگ کی۔ 12 وکٹوں کی مدد سے انہوں نے نہ صرف اپنی فٹنس کا لوہا منوایا بلکہ راجکوٹ میں پانچ وکٹوں کا ایک بہترین اسپیل بھی پیش کیا، جس سے ان کی کارکردگی عالمی سطح پر سراہی گئی۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے جومیل واریکن نے پاکستان کے خلاف واپس آ کر سیریز میں 19 وکٹیں حاصل کیں اور سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیتا۔ جومیل وارکین کی شاندار باؤلنگ نے ویسٹ انڈیز کو پاکستان کے خلاف اہم کامیابی دلائی اور ان کا نام بھی ایوارڈ کی دوڑ میں شامل ہو گیا۔ ان کی محنت اور مہارت نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے اور ایوارڈ کے لیے مضبوط امیدوار بنایا۔ مزید پڑھیں: ’آؤ قذافی میں کھلیو‘ نئے اسٹیڈیم میں’ دل دل پاکستان‘ کی گونج

“محسن نقوی اسٹیڈیم کی تعمیر کرنے والے 2500 افراد کو لندن کی سیر کروائیں اور حوصلہ افزائی کریں”: وزیر اعظم پاکستان

قذافی اسٹیڈیم لاہور کی 117 دن میں تعمیر نو کرنے کے بعد افتتاح کر دیا گیا، افتتاح کرنے والے 2500 ملازمین نے تین، تین ماہ گھر گئے بغیر نا ممکن کو ممکن بنا دیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہونے والی رنگا رنگ تقریب میں اعلیٰ حکام اور ہزاروں کی تعداد میں شائقین نے شرکت کی ،اس تقریب میں وزیرِاعظم پاکستان، پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی  اوراسپیکر ایاز صادق نے شرکا سے خطاب کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب کے لیے خوشی کا دن ہے،قذافی اسٹیڈیم کی تعمیر نو شاندار طریقے سے مکمل ہوئی، محسن نقوی نے 117 دنوں میں ناممکن کو ممکن کر کےدکھایا۔ وزیراعظم نے تعمیر میں کردار ادا کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، انجینئرز اور ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، شہباز اسپیڈ ماضی کی بات ہے، اب میں محسن اسپیڈ کی بات کرتا ہوں۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کی اچھی عادت ہے جو اچھے کام کرتے ہیں انکو لندن کی سیر کراتے ہیں ، محسن نقوی ان کام کرنے والے 2500 افراد کو لندن کی سیر کروائیں اور حوصلہ افزائی کریں ۔ انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی پاکستانی ٹیم کی جیت کی منتظر ہے، چیمپئنز ٹرافی بھارت کیخلاف کامیابی کی منتظر ہے، یہ ٹرافی اللہ تعالی پاکستان کی جھولی میں ڈالے گا ، شہباز شریف نے شاہین شاہ افریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاہین آفریدی آپ اپنے سسر کی پیروی کریں اور وکٹوں کے انبار لگا دیں، آپ چمپئن ٹرافی جیت کر پورے قوم کے ہیروز ہوں گے ، آپ ہمسایہ ملک کو شکست دے کر 24 کروڑ عوام کے دل جتیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام آیا ہے ،29سال بعد بہت بڑا ایونٹ ہورہا ہے ، وزیراعلی پنجاب بہترین سیکیورٹی فراہم کریں گی ، شایقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا ، پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم تزئین و آرائش کےلیے مزدوروں نے دن رات کام کیا، پاک فوج کی مدد کے بغیر ریکارڈ مدت میں اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن ممکن نہیں تھی،مشکل وقت میں پاک فوج ایک بار پھر ہمارے کام آئی ۔ محسن نقوی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اسٹیڈیم کی تعمیر نو میں بھر پور تعاون کیا، چمپئن ٹرافی سے قبل اسٹیڈیم کی تعمیر نو کا ہدف پورا کیا گیا ، منصوبے کی تکمیل میں پنجاب حکومت کا تعاون نہ ہوتا تو اطراف میں کھنڈر نظر آتا ، 2500مزدورں نے منصوبے پر کام کیا،بہت سے مزدور ایسے تھے جو تین ، تین ماہ سے گھر نہیں گئے تھے۔   اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم کی مکمل ٹرانسفارمیشن ہوئی ہے، نئے قذافی اسٹیڈیم کے بہت چرچے ہیں، اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔   انہوں نے مزید کہا کہ انشااللہ پاکستان کرکٹ ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، میچ ہارنے پر ٹیم پر تنقید کے بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا بڑا قدم: غیر رجسٹرڈ موبائل فونز بلاک، صارفین کیلئے اہم ہدایات دے دیا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کے زیراستعمال بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کو بلاک کر دیا ہے جس سے ملک بھر میں موبائل فونز کے استعمال پر ایک نیا سرپرائز حملہ ہوا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام صارفین کو فوری طور پر اپنے موبائل فونز کی رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے بصورت دیگر ان کے موبائل فونز بلاک کر دیے جائیں گے۔ پی ٹی اے نے موبائل ڈیوائس خریداری کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ جب بھی موبائل فون خریدیں تو یہ یقینی بنائیں کہ اس پر تمام ٹیکسز ادا کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون کا رجسٹریشن ضروری ہے اور یہ صرف ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن بیس سسٹم (DIRBS) کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کے مالکان کو 60 دنوں کے اندر تمام لاگو ٹیکس اور ڈیوٹیز ادا کرنا ضروری ہے۔ اس عرصے کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کے نتیجے میں موبائل فون بلاک کر دیا جائے گا۔ یہ بھی پڑھیں؛“پی ٹی آئی کا صوابی میں جلسہ” مری میں تین روز 144 نافذ پی ٹی اے نے صارفین کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے صرف مستند ذرائع کو ترجیح دیں اور کسی بھی غیر مجاز فرد کے جھانسے میں نہ آئیں جو ٹیکس کی ادائیگی میں معاونت کا دعویٰ کرے۔ مزید برآں، پی ٹی اے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ موبائل فونز پر ٹیکس کی ادائیگی ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کے ذریعے کی جاتی ہے اور پی ٹی اے کا کردار صرف موبائل فونز کی رجسٹریشن تک محدود ہے۔ یہ اقدامات پی ٹی اے کی جانب سے موبائل فونز کی رجسٹریشن اور ٹیکس کی ادائیگی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ موبائل فونز کی غیر قانونی درآمد اور استعمال کو بھی روکا جا سکے گا۔ شائقین اور صارفین کی آگاہی کے لیے پی ٹی اے نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ اپنے موبائل فونز کی رجسٹریشن میں تاخیر کرتے ہیں تو ان کے فونز کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور بلاک ہونے کے بعد ان کا دوبارہ استعمال ممکن نہیں ہوگا۔ مزید پڑھیں: نیا چیف الیکشن کمشنر کون؟ حکومت کی اتحادی جماعت نے ’قاضی فائز عیسیٰ‘ کا نام دے دیا