ایم کیو ایم متحدہ قومی موومنٹ سے ‘محلہ قومی موومنٹ’ میں ڈھل چکی ہے، ترجمان سندھ حکومت

سندھ حکومت کی ترجمان سیدہ تحسین عابدی نے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر نہ ڈالے۔ ایم کیو ایم متحدہ قومی موومنٹ سے “محلہ قومی موومنٹ” میں ڈھل کر چند گلیوں تک محدود ہو چکی ہے۔ ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی نے کہا ہے کہ سعید غنی اور بلدیاتی ادارے عوامی خدمت میں مصروف ہیں، الزامات لگانے والے اپنی کارکردگی پر نظر ڈالیں۔ سیدہ تحسین عابدی نے ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانے بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعید غنی کی ہر پریس کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم والے ایسے حواس باختہ ہوتے ہیں جیسے ان کی دُم پر کسی نے پاؤں رکھ دیا ہو۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم صرف زبانی جمع خرچ میں ماہر ہے، عوام کو جھوٹے بیانیے سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ایم کیو ایم صرف پریس کانفرنسوں تک محدود ہو چکی ہے۔ سیدہ تحسین عابدی نے علی خورشیدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی خورشیدی پہلے اپنی پارٹی کے بکھرتے دھڑوں کو سنبھالیں، پھر دوسروں پر تنقید کریں۔ ایم کیو ایم متحدہ قومی موومنٹ سے “محلہ قومی موومنٹ” میں ڈھل کر چند گلیوں تک محدود ہو چکی ہے۔ ترجمان سندھ حکومت نے علی خورشید کی طرف سے کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو اپنی سیاسی موت کو قبول کرنا چاہیے، حکومت پر الزام تراشی سے ایم کیو ایم کو کوئی نئی زندگی نہیں ملنے والی۔ سندھ کے عوام باشعور ہیں، ایم کیو ایم کی منافقت مزید نہیں چل سکتی۔ جو لوگ اپنے ہی پیدا کردہ مسائل سے باہر نہیں نکل سکتے، وہ سندھ حکومت پر تنقید کا حق نہیں رکھتے۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی حقیقت عوام کے سامنے کھل چکی ہے، ان کی سیاست اب زوال کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 28 فیصد اضافے سے 1.86 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں

ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو تبدیل کرنے کا عہد،جس کی بدولت پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 28 فیصد اضافہ ہوا اور 1.86 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 28 فیصد بڑھ کر 1.86 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، آنے والے مہینوں میں مزید نمو متوقع ہے۔ پاکستان اورسعودی بزنس فورم کے دوران لیڈر شپ ایکژوشن اینڈ پلیننگ ( ایل ای اے پی)2025 میں خطاب کرتے ہوئے، شزا فاطمہ خواجہ نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 کو ایک تبدیلی کی پہل کے طور پر بیان کیا جس کا مقصد ملک کے ٹیک اور اختراعی منظر نامے کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو تبدیل کرنے کا عہد ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنی ڈیجیٹل اور اقتصادی شراکت داری کو بڑھا رہے ہیں۔ شزا نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان جلد ہی اسلام آباد میں ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ( ایف ڈی ای) فورم کی میزبانی کرے گا، جو عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے ٹیک سیکٹر میں مواقع تلاش کرنے کے لیے اکٹھا کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان سعودی وژن 2030 کے تحت دونوں ممالک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنائی ہے۔ واضح رہے کہ آئی ٹی کی برآمدات میں اضافہ اور غیر ملکی تعاون میں اضافہ پاکستان کے اپنے آپ کو ایک علاقائی ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر پوزیشن دینے کے عزائم کا اشارہ دیتا ہے، ڈیجیٹل سیکٹر میں ترقی کو تیز کرنے کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
” عمران خان کی رہائی” امریکی رکن کانگرس جو ولسن کا پاکستان کو خط

امریکی رکن کانگرس کی طرف سے پاکستان حکومت اور عسکری ادارے کو خط لکھا گیا کہ عمران خان کو رہا کریں جس سے جمہوریت پروان چڑھے گی اور اس سے پاک امریکہ تعلقات میں مضبوطی آئے گی۔ امریکی رکن کانگریس جو ولسن نے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی آزادی سے پاک امریکہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ جو ولسن نے پاکستان کو لکھے گئے خط کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ( سابقہ ٹویٹر ) پر 7 فروری کو شئیر کیا ،اس خط میں امریکی رکن نے کہا کہ عمران خان کو رہا کرنا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔ ولسن نے لکھا، “عمران خان کو رہا کرنے کے لیے پاکستان کے سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو آج یہ خط بھیجنے کے لیے شکرگزار ہوں۔” ولسن، جو چین، ایران اور روس کے سخت ناقد ہیں، نے پاکستان میں جمہوریت کی حالت کو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی مضبوطی سے جوڑا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب پاکستان جمہوری نظریات، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کو اپناتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سب سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالتے ہوئے ولسن نے پی ٹی آئی رہنما کے ساتھ اپنے بہت سے اختلافات کو تسلیم کیا، خاص طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے لیے ان کی حمایت۔ تاہم، انہوں نے زور دے کر کہا، “جمہوریت کام نہیں کر سکتی اگر سیاسی مخالفین کو بیلٹ باکس میں شکست دینے کے بجائے سیاسی الزامات کے تحت بلاجواز حراست میں لیا جائے۔” اپنا خط جاری کرنے کے چند گھنٹے بعد، ولسن اس معاملے کو امریکی ایوان نمائندگان کے فلور پر لے گئے، ایک تقریر میں “عمران خان کو آزاد” کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی فوج پر جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا اور کہا: “صدر ٹرمپ ایک کرپٹ عدالتی نظام سے بچ گئے ہیں اور وہ ظلم و ستم کے خطرے کو جانتے ہیں۔ پاکستان جمہوریت کو بحال کرتے ہوئے عمران خان کو رہا کرے۔ ان کی تقریر کے دوران، شمالی کوریا، ایرانی، روسی، اور چینی رہنماؤں کی تصاویر ان کے ساتھ ایک پوسٹر پر آویزاں کی گئی تھیں، جس سے ان کے موقف کو تقویت ملتی ہے کہ وہ آمرانہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہیں۔ نجی نشریاتی ادارہ ایکسپریس کے مطابق ولسن کے بیان کو سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے اراکین اور خان کے پیروکاروں کی جانب سے وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، ناقدین اور حقائق کی جانچ کرنے والوں نے ان کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات جمہوریت کے تحت پروان چڑھتے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ تاریخی طور پر پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات اکثر فوجی حکومتوں کے دوران مضبوط ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب ولسن نے خان کی رہائی کی وکالت کی ہو۔ 23 جنوری کو بھی ولسن نے ایکس پر “فری عمران خان” پوسٹ کیا تھا، جو پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ان کی مسلسل دلچسپی کا اشارہ تھا۔ واضح رہے کہ امریکی رکن کانگریس جو ولسن سے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دورہ امریکا میں ملاقات بھی کی تھی
اسرائیلی وزیراعظم کا بیان اشتعال انگیز، غیر سنجیدہ اور ناقابل قبول ہے،وزارت خارجہ کا بیان

پاکستان نے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنانے کی تجویز پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا، بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے پر زور مذمت کر دی۔ پاکستان وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا بیان اشتعال انگیز، غیر سنجیدہ اور ناقابل قبول ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے جائز حق کی حمایت کرتا ہے۔ فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کے لیے سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت کو پاکستان سراہتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ فلسطینی عوام کا 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد ریاست کا حق مسلمہ ہے، القدس الشریف فلسطین کا دارالحکومت ہے اور رہے گا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینیوں کی بےدخلی کی کوئی بھی تجویز عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، پاکستان اسرائیلی وزیراعظم کے اشتعال انگیز بیان کی مذمت کرتا ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اسرائیل کو امن عمل کو نقصان پہنچانے کی مسلسل کوششوں پر جواب دے۔ ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان غزہ کی صورتحال اور انسانی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا،نائب وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے مسئلہ فلسطین پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطین کے عوام کے حق میں اور مصرکے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکرتا ہے، پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس کے انعقاد کی بھی حمایت کرتا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2 ریاستی حل کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنانے کی تجویز دی تھی،دورہ امریکا کے دوران اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ سعودی فلسطینی ریاست اپنے ملک میں بناسکتے ہیں، سعودیوں کے پاس بہت زیادہ زمین ہے۔ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان پرسعودی وزارت خارجہ نے اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہوکے ان بیانات کا مقصد غزہ میں فلسطینی بھائیوں کے خلاف اسرائیلی قبضے کے مسلسل جرائم سے توجہ ہٹانا ہے، جس میں ان کی نسلی صفائی بھی شامل ہے۔ سعودی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینی “گھسنے والے یا تارکین وطن” نہیں ہیں جنہیں اسرائیل کی مرضی سے بے دخل کیا جائے،فلسطینیوں کے حقوق مضبوطی سے قائم ہیں اور انہیں مٹایا نہیں جا سکتا۔
آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان، عدالتی سالمیت اور آزادی کے لیے 19 ریاستی اداروں سے ملاقات متوقع

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( ایم آئی ایف ) نے جامع گورننس اور بدعنوانی کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان میں ایک مشن بھیجا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ یہ وفد 19 ریاستی اداروں کے ساتھ ملاقات کرے گا، جس میں ججوں کی تقرری کے عمل، عدالتی سالمیت اور اس کی آزادی کا جائزہ بھی شامل ہے۔ نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے بھیجا گیا یہ مشن پاکستان میں 14 فروری تک قیام کرے گا، جو 19 حکومتی وزارتوں، محکموں اور ریاستی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا، جس میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان بھی شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی طرف سے بھیجے گئے اس مشن کا فوکس قانون کی حکمرانی، انسداد بدعنوانی، مالیاتی نگرانی، ریاست کے نظم و نسق کے ڈھانچے میں اچھے مفادات کو ختم کرنا اور منی لانڈرنگ کا مقابلہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ اس مشن کی منصوبہ بندی گزشتہ سال ستمبر میں کی گئی تھی، لیکن یہ مشن پاکستان میں ایسے وقت میں آیا ہے، جب اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججوں نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم ججوں کی تقرری کے عمل میں بنیادی تبدیلیاں لائی ہے، جس سے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ سپریم کورٹ کے جج کی تقرری کے وقت نا انصافی ہو سکتی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مشن اگلے ہفتے جوڈیشل کمیشن کے ساتھ میٹنگ کرے گا اور ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر بات کرے گا، یہ عدالتی سالمیت اور آزادی کے بارے میں جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے ملاقات کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ مشن اپنے جائزے کو حتمی شکل دے گا اور اس کی رپورٹ جولائی 2025 تک شائع کی جائے گی۔ 7 بلین ڈالر کے معاہدے کے تحت پاکستان جولائی تک گورننس اور کرپشن کی تشخیص کی مکمل رپورٹ شائع کرنے کا پابند ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ بھی عہد کیا ہے کہ عالمی قرض دہندہ کی صلاحیت کی ترقی کی حمایت کے ساتھ، وہ “انتظامی نظم و نسق اور بدعنوانی کے خطرات کا تجزیہ کرنے اور آگے بڑھنے والی ترجیحی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی نشاندہی کرنے کے لیے گورننس اور بدعنوانی کی تشخیص کا جائزہ لے گا”۔ آئی ایم ایف قومی احتساب بیورو کے ساتھ مل کر انسداد بدعنوانی کی قومی حکمت عملی، بدعنوانی کی نوعیت اور شدت، انسداد بدعنوانی کے قانون کے نفاذ سمیت منی لانڈرنگ کی تحقیقات اور پراسیکیوشن پر بھی تبادلہ خیال کرے گا۔ وزارت اقتصادی امور کے ساتھ ایک میٹنگ کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے، جس میں بیرونی قرضوں، وزارت خزانہ کے ساتھ قرض کے انتظام کے تعاون بشمول قرضوں کے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اشاعت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کراچی میٹرو پولیٹن کو 4 سے 5 کروڑ کی ضرورت نہیں، پارکنگ سائٹس مفت کرنے کا فیصلہ

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی تمام پارکنگ سائٹس مفت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، کے ایم سی کی پارکنگ سائٹس سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کے ایم سی کی تمام پارکنگ سائٹس کو شہر میں مفت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کی پارکنگ سائٹس سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی اور اس کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی اب اپنے پیروں پر کھڑی ہے، کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے سے زائد موجود ہیں اور کے ایم سی کو اب 4 سے 5 کروڑ روپے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ نوٹیفکیشن جاری کر کے پارکنگ فیس کا بوجھ ہٹا دیا جائے گا۔ کے ایم سی کے نام پر غیر قانونی پیسے لینے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔کراچی کی 106 مرکزی سڑکوں پر 46 پارکنگ سائٹس سے فیس نہیں لی جائے گی۔ کے ایم سی کے مالی حالات مستحکم ہو گئے ہیں اور عوام کو سہولت فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
پنجاب کی ثقافت اور تمدن کا فروغ، فورٹریس اسٹیڈیم لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو کی افتتاحی تقریب جاری

لاہور فورٹریس اسٹیڈیم میں ہارس اینڈ کیٹل شو کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب جاری ہے، یہ شو 14 روز تک جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق لاہور فورٹریس اسٹیڈیم میں ہارس اینڈ کیٹل شو کی افتتاحی تقریب جاری ہے، جس میں وزیرِاعظم شہباز شریف، وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر غیر ملکی وفود نے مہمانِ خصوصی کے طور پر تقریب میں شرکت کی ہے۔ افتتاحی تقریب میں دیگر ممالک کی ٹیموں کی پریڈ بھی کی گئی ہے۔ پاکستان کی مختلف ثقافتوں کو تقریب میں فلوٹس مارچ کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مال مویشیوں کی نمائش، کھیلوں کے مقابلے، موسیقی اور دیگر تقریبات میلے کا حصہ ہیں۔ تقریبات کا مقصد پنجاب کی ثقافت اور تمدن کو اجاگر کرنا ہے۔ تقریب میں اونٹوں کی شاندار پرفارمنس کے ساتھ اعلیٰ نسل کے مختلف جانوروں کی نمائش بھی کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ تقریب میں لیزر لائٹ شو کے ساتھ ڈھول کی خصوصی پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔ تقریب میں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے ہیں، ملک کے نامور سٹارز نے شرکت کی اور تماشائیوں کو لطف اندوز کیا، عمران اشرف اور عائشہ عمر سمیت بڑے بڑے فنکاروں نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ پاکستان کے نامور گلوکاروں نے تقریب میں اپنی آواز کا جادو جگایا، دنیا بھر میں معروف گلوکار عاطف اسلم جب اسٹیج پر آئے تو تماشائی خوشی سے جھوم اٹھے، انھوں نے اپنی آواز اور گانوں سے تقریب میں موجود ہر شخص کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس کے علاوہ میلے میں پھولوں کی نمائش اور کھانوں کے سٹالز بھی لگائے جائیں گے۔ ہارس اینڈ کیٹل شو میں 70 عالمی ٹیمیں نے شرکت کی ہے۔ وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خصوصی شرکت کی ہے۔ اس کے علاوہ کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے غیر ملکی وفود نے بھی شرکت کی ہے۔ دوسری جانب پاہانگ اسمبلی کے اسپیکر حاجی محمد شرکاربن حاجی شمس الدین نے شرکت کی ہے، ملائیشیا کے پیرک اسمبلی کے اسپیکر محمد ظاہر بن عبدالخالد نے شرکت کی ہے۔ غیر ملکی وفد میں چیئرپرسن سی پی اے ایگزیکٹو کمیٹی ڈاکٹر کرسٹوفر کالیلا، سلانگور اسمبلی ملائیشیا کے اسپیکر لاددینگ سان اور مالدیوز کے ڈپٹی اسپیکر احمد ناظم نے بھی تقریب میں شریک ہیں۔ غیر ملکی وفد میں چیئرپرسن سی پی اے ایگزیکٹو کمیٹی ڈاکٹر کرسٹوفر کالیلا، سلانگور اسمبلی ملائیشیا کے اسپیکر لاددینگ سان اور مالدیوز کے ڈپٹی اسپیکر احمد ناظم نے بھی تقریب میں شریک ہیں۔
“ایم کیو ایم گورنر ہاؤس سے نہیں چل رہی، کل کا واقعہ افسوسناک ہے”:خالد مقبود صدیقی

ایم کیو ایم میں تنظیمی ردو بدل کے باعث پارٹی میں اندرونی انتشار نے جنم لیا جس کے باعث کارکنان نے مظاہرے کر کے رہنماؤں کے خلاف نعرے بازی کی اور گورنر سندھ کے خلاف قیاس آرائیاں کی گئی۔ چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم گورنر ہاؤس سے نہیں چل رہی، کل کا واقعہ افسوسناک ہے، ایم کیوایم ڈسپلن والی پارٹی ہے ، ایسے عناصر کی پارٹی میں کوئی گنجائش نہیں۔ چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ کامران ٹیسوری ایم کیو ایم کے گورنر ہیں، وہ گورنر رہیں گے وہ کہیں نہیں جارہے،مجھ سمیت پوری پارٹی کو گورنر سندھ کامران ٹیسوری پر اعتماد ہے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو تنظیمی ردوبدل کے بعد اندرونی انتشار کا سامنا ہے جس نے پارٹی کارکنوں میں احتجاج کو جنم دیا ہے اور قیادت کے اندر اختلافات کو نمایاں کیا ۔ گزشتہ روز اعلان کردہ تنظیم نو میں انیس قائم خانی، امین الحق، اور ڈاکٹر فاروق ستار سمیت سینئر شخصیات کو مرکزی تنظیمی کمیٹی میں کلیدی عہدوں پر رکھا گیا،تاہم اس اقدام کو پارٹی صفوں کے اندر سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے باعث ایم کیو ایم کے کارکنان بہادر آباد ہیڈ کوارٹر میں جمع ہوئے، اور قیادت کے فیصلوں میں مزید شفافیت اور مشاورت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرے کے دوران کارکنان نے پارٹی کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی حمایت میں نعرے لگائے جبکہ کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال کے خلاف آواز اٹھائی،اس گروپ نے سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کی صوبائی پارلیمانی کمیٹی کے انچارج کے طور پر کام کرنے کے خلاف بھی احتجاج کیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دونوں گروپوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے،کچھ ممبران نے قیادت پر الزام لگایا کہ وہ بغیر کسی پیشگی بات چیت کے اہم شخصیات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ کشیدگی میں اضافے کے باعث ان مظاہروں میں کامران ٹیسوری کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے کردار کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئی۔ مطاہروں کی مزاہمت کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے پارٹی نظم وضبط کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف پارٹی ایکٹ کے تحت فیصلے کریں گے،اس معاملے کو تنظیمی نظم و ضبط کے مطابق دیکھیں گے۔ط
‘محافظ ہی لٹیرے بن گئے’ گھر پر چھاپہ، بیٹی کا جہیز اور لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے

پولیس کا کام عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے ہی قانون شکنی پر اتر آئیں تو انصاف کی امید کہاں جائے؟ لاہور میں پنجاب پولیس کے ایک اسپیشل یونٹ، آرگنائزڈ کرائم یونٹ کے اہلکاروں پر ایک خاندان نے گھر میں گھس کر لوٹ مار کا الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ شخص اکرم کا کہنا ہے کہ 7 فروری کو شام 6 بجے کے قریب 15 کے قریب اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوئے، جن میں سے کچھ نے سول کپڑے پہن رکھے تھے۔ یہ چھاپہ اکرم کے بھائی اشرف کی گرفتاری کے لیے مارا گیا تھا، تاہم ساتھ ہی میرے کمرے کا تالا بھی توڑا گیا۔ اکرم کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران پولیس اہلکاروں نے زبردستی کمرے کا تالا توڑا اور وہاں سے اس کی بیٹی کی شادی کے لیے جوڑا گیا جہیز اور نقدی لے گئے۔ لوٹی گئی اشیاء میں 3 تولے سونا، جس میں 4بچوں کی انگوٹھیاں، 2 مردانہ انگوٹھیاں اور بالیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شادی ہال کے اخراجات کے لیے رکھی گئی 5 لاکھ 20 ہزار روپے نقدی بھی لوٹی گئی۔ اکرم نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم نے درخواست کی کہ ”اگر میرا بھائی مجرم ہے، تو قانون کے مطابق کارروائی کریں، میں اپنے بھائی سے کئی سال قبل ہی اعلانِ لاتعلقی کر چکا ہوں، مگر میری بیٹی یا میرا اس میں کیا قصور ہے؟ ہماری زندگی کی جمع پونجی محافظوں کے ہاتھوں لوٹ لی گئی۔ ہم کہاں جائیں؟ یاد رہے کہ 3 ستمبر 2015 کو اکرم نے نجی خبررساں ادارے روزنامہ دنیا میں اپنے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اکرم نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا کہ ابھی تک پنجاب پولیس یا سی آئی اے کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ پولیس اہلکاروں پر شہریوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی چھاپے مارنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں، لیکن بیشتر مقدمات میں شفاف تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ افراد کو انصاف نہیں ملتا۔ اکرم نے آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کروائیں اور ان کی بیٹی کے جہیز کا سامان اور دیگر لوٹی گئی رقم واپس دلوانے میں مدد کریں۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم نے کہا کہ ” یہ کیس صرف میرے گھر کا نہیں، بلکہ ہر عام پاکستانی کا ہے جو پولیس سے انصاف کی امید رکھتا ہے۔ اگر اہلکار ہی لوٹ مار میں ملوث ہوں گے، تو عام آدمی کا کیا بنے گا؟” اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا متعلقہ حکام اس معاملے میں شفاف تحقیقات کریں گے؟ یا یہ واقعہ بھی دیگر کیسز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟ پاکستان میں پولیس کے خلاف شکایات اور انکوائریاں کوئی نئی بات نہیں، لیکن کتنے مقدمات میں متاثرہ افراد کو انصاف مل سکا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر شہری کے ذہن میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ مورخہ 7 فروری شام 6 بجے کے قریب 15 کے قریب سول کپڑوں میں ملبوس سی آئی اے این آئی یو کے اہلکاروں نے اشرف نامی شخص کو گرفتار کرنے کے لیے ریڈ کیا، اس دوران اس گھر میں مقیم اس کے بھائی اکرم کے کمرے کا تالا توڑ کر گھر میں موجود اس کی بیٹی کی شادی کے لیے رکھا گیا سونا اور نقدی لوٹ لی گئی۔
وزیر اعظم کا دورہ متحدہ عرب امارات: شہباز شریف ورلڈ گورنمٹس سمٹ میں خطاب کریں گے

حکومتی وفد وزیر اعظم سمیت دیگر احکام متحدہ عرب عمارات (یواے ای) میں ورلڈ گورنمٹس میں شرکت کریں گے، اس دورے میں پاکستان اور دبئی کےدرمیان معیشت، تجارت، اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے معاہدے کیے جائیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف 11 اور 12 فروری کو دو روز کے لیے دبئی کا دورہ کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا،پاکستان اور یواے ای کے درمیان معیشت، تجارت، مختلف شعبوں میں قریبی تعاون ہے، پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں،پاکستانی برادری متحدہ عرب امارات کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شرکت کریں گے، سربراہ اجلاس میں ریاستوں،حکومتوں کے سربراہان، عالمی پالیسی ساز اور نجی شعبے کی سرکردہ شخصیات کی ایک بڑی تعداد شرکت کرے گی اور وزیراعظم شہباز شریف سمٹ میں کلیدی خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم متحدہ عرب امارات کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جبکہ دیگر ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سرکردہ سربراہان سے بھی ملاقات کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا مارچ 2024 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا دوسرا دورہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور کابینہ کے دیگر اہم ارکان سمیت ایک اعلیٰ سطح وفد بھی ہوگا۔ وفد متحدہ عرب امارات و دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے استحکام کے پاکستان کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے