غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار, لاکھوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی جانب سے بڑی کاروائی کی گئی، جس میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار کر لیا گیا اور لاکھوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی ضبط کر لی گئی ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، گرفتار ملزم کی شناخت آفتاب کے نام سے کی گئی ہے اور ملزم کو شارجہ سینٹر صدر کراچی کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہا تھا، چھاپہ مار کاروائی میں ملزم سے 10000 امریکی ڈالر اور 16,000 یو اے ای درہم برآمد ہوئے ہیں۔ ملزم سے موبائل فون اور غیر ملکی کرنسی ایکسچینج سے متعلق ریکارڈ بھی برآمد ہوا ہے، چھاپہ مار کارروائی ڈائریکٹر کراچی زون کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی، ملزم برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہیں کر سکا۔ ترجمان ایف آئی کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار کاروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی اور ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
رات کو جنک فوڈ کی شدید خواہش: ایک دلچسپ سائنسی حقیقت جو آپ کو حیران کر دے گی!

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ دن کے ابتدائی حصے میں آپ جنک فوڈ کی طرف اتنی توجہ کیوں نہیں دیتے؟ اور رات کو اچانک ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کچھ کھانے کا دل کر رہا ہو خاص طور پر وہ کھانے جو چکنائی اور مٹھاس سے بھرپور ہوں؟ یہ معمول کی سی بات ہے لیکن اس کے پیچھے پیچیدہ سائنسی راز چھپے ہیں جو ہماری جسمانی اور ذہنی حالتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہ سوال اس وقت ذہن میں آتا ہے جب ہم اپنی رات کی خواہشات کو روک نہیں پاتے اور جنک فوڈ کی طرف بے قابو ہو جاتے ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ رات کو ہمیں جنک فوڈ کی شدید خواہش ہوتی ہے؟ آئیے اس راز کو کھولتے ہیں۔ صبح کے وقت جنک فوڈ کی خواہش کیوں نہیں ہوتی؟ سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صبح کے وقت ہمارا جسم نیند سے بیدار ہونے کے بعد خود کو بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب ہم سو کر اٹھتے ہیں تو ہمارے خون میں شکر کی سطح کم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسم ایسی غذا کا خواہش کرتا ہے جو پروٹین، فائبر اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہو تاکہ توانائی بحال کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہارمونی نظام میں بھی توازن آتا ہے اور لیپٹین (جو بھوک کو کم کرتا ہے) کی سطح زیادہ ہوتی ہے جبکہ گھریلن (جو بھوک بڑھاتا ہے) کی سطح کم ہوتی ہے جس کے باعث ہم صبح کے وقت زیادہ صحت مند غذاؤں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لیکن جب رات آتی ہے تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد ہمارے جسم کی توانائی کی سطح کم ہو جاتی ہے اور بلڈ شوگر لیول گرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارا جسم فوراً توانائی کے لیے جنک فوڈ کی طرف مائل ہو جاتا ہے جو چینی اور چکنائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگر نیند کی کمی ہو تو یہ ایک اور عنصر بن جاتی ہے جو جنک فوڈ کی خواہش کو بڑھا دیتی ہے۔ جب ہم پوری نیند نہیں لیتے تو گھریلن (جو بھوک بڑھاتا ہے) کی سطح بڑھ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کورٹیسول (اسٹریس ہارمون) بھی زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ یہ دونوں عوامل مل کر جنک فوڈ کے لیے ہمارا رجحان بڑھا دیتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر آپ کی خوراک میں میگنیشیم، پروٹین یا فائبر کی کمی ہو، تو جسم ان اجزاء کی کمی کو پورا کرنے کے لیے غیر صحت بخش کھانوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر رات کے کھانے میں اگر پروٹین، فائبر اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کا توازن نہ ہو، تو خون میں گلوکوز کی سطح میں اچانک اضافہ اور پھر کمی آتی ہے، جس کے نتیجے میں جنک فوڈ کی شدید خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ صرف جسمانی عوامل ہی نہیں بلکہ ہمارے جذباتی عوامل بھی اس خواہش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کئی افراد جنک فوڈ کو ایک طرح کا انعام سمجھ کر کھاتے ہیں جو دماغ میں خوشی کے ہارمون، یعنی ڈوپامائن کو خارج کرتا ہے۔ دن بھر کی تھکن اور دباؤ کے بعد ہم اپنی ذہنی حالت کو بہتر بنانے کے لیے جنک فوڈ کا سہارا لیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ رات کو جنک فوڈ کی خواہش کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے چند سادہ مگر مؤثر تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے: متوازن رات کا کھانا: رات کے کھانے میں پروٹین، فائبر اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کو شامل کریں تاکہ بلڈ شوگر لیول مستحکم رہے اور جنک فوڈ کی خواہش کم ہو۔ نیند کا خیال رکھیں: کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لیں تاکہ آپ کا ہارمونی نظام متوازن رہے اور آپ کا جسم زیادہ توانائی کے لیے جنک فوڈ کی طرف نہ جائے۔ ورزش کی عادت ڈالیں: دن بھر کی تھکن کو دور کرنے کے لیے جسمانی سرگرمیاں ضروری ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف شوگر لیول کو مستحکم رکھتی ہیں بلکہ ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتی ہیں۔ پانی کی مقدار بڑھائیں: پانی پینے کی عادت ڈالیں کیونکہ کبھی کبھی پانی کی کمی کو ہم بھوک سمجھ بیٹھتے ہیں، جس سے غیر صحت بخش کھانے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ ذہنی دباؤ سے بچیں: ذہنی دباؤ اور اسٹریس کو کم کرنے کے لیے چہل قدمی یا میڈیٹیشن جیسے طریقے اپنائیں تاکہ آپ غیر ضروری کھانے سے بچ سکیں۔ رات کے وقت جنک فوڈ کی خواہش صرف ایک عادت نہیں ہے بلکہ یہ جسمانی اور ذہنی عوامل کی پیچیدہ آمیزش کا نتیجہ ہے۔ اس خواہش کو روکنے کے لیے ہمیں اپنے خوراک کے انتخاب، نیند کی مقدار، اور روزمرہ کی روٹین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان عوامل پر قابو پا کر ہم جنک فوڈ کی خواہش کو کم کر سکتے ہیں اور ایک صحت مند طرز زندگی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ رات کو جنک فوڈ سے بچنا چاہتے ہیں تو ان سادہ مگر مؤثر تجاویز کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ یہ بھی پڑھیں:انسانی آنکھ کی حیرت انگیز ریزولوشن: کیا ہماری نظر جدید کیمروں سے زیادہ طاقتور ہے؟
چین کا ‘میڈ اِن چائنہ 2025’ منصوبہ: عالمی مارکیٹ میں مغربی غلبے کو چیلنج کرتی ہوئی چینی ٹیکنالوجی کی اجارہ داری

چین کا ’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبہ صرف ایک خواب نہیں رہا، بلکہ اس نے دنیا کے اقتصادی منظرنامے کو جتھوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کی مصنوعات کو ناتجربہ کار اور غیر معیاری سمجھا جاتا تھا مگر اب چین نے دنیا کے سامنے ایسی ٹیکنالوجیز پیش کی ہیں جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ مانگ میں ہیں۔ 2015 میں چین نے اپنا ’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبہ متعارف کرایا تھا جس کا مقصد عالمی مارکیٹ میں چین کی مصنوعات کا معیار اتنا بلند کرنا تھا کہ وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل ہو جائے۔ اس منصوبے نے چین کو مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور ڈرون ٹیکنالوجی میں شاندار کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے۔ چین کی حکومت نے اس کے لئے سرمایہ کاری کی تو وہ بھی ناقابل یقین حد تک اور اس منصوبے کے ذریعے چین نے عالمی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانا شروع کر دیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آج چین دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی مارکیٹ بن چکا ہے اور اس کی بیٹری ٹیکنالوجی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چین کا سولر پینلز کے میدان میں تقریباً 80 سے 95 فیصد عالمی سپلائی پر کنٹرول ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین اب دنیا کے ہر کونے میں توانائی کے متبادل ذرائع میں سب سے بڑا سپلائر بن چکا ہے۔ چین کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں اس کا شاندار پھیلاؤ ہے جس کی نمایاں مثال ’ڈیپ سیک‘ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کا یہ چیٹ بوٹ دنیا بھر میں تہلکہ مچا چکا ہے اور امریکا کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوا ہے۔ اگرچہ امریکا دنیا میں مصنوعی ذہانت میں آگے ہے مگر چین نے اپنے کم قیمت اور طاقتور ٹیکنالوجیز کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی دنیا کے ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔ چین کے ’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبے کی کامیابی نے مغرب کے کئی ممالک کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ امریکا اور دیگر مغربی ممالک چین کی ترقی کو روکنے کے لئے مختلف پابندیاں عائد کر چکے ہیں مگر ان پابندیوں کے باوجود چین نے اپنے ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید ترقی کی ہے۔ لازمی پڑھیں: پاکستان کا آئی ایم ایف سے تعلق، عارضی استحکام یا پھر معاشی خودکشی؟ دوسری جانب چین کی حکومت نے خود انحصاری کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چینی حکومت نے اس منصوبے کے تحت 250 سے زائد چھوٹے اہداف طے کیے تھے جن میں سے 86 فیصد اب تک مکمل ہو چکے ہیں۔ ان اہداف کی کامیابی کا راز چین کے ریاستی حمایت یافتہ سرمایہ داری ماڈل میں پوشیدہ ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے اندرونی وسائل کو بروئے کار لایا، بلکہ عالمی سطح پر غیر ملکی کمپنیوں اور ہنر مندان کو اپنی جانب راغب کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اب تک چین نے صرف 1.5 ٹریلین ڈالر سے زائد رقم تحقیق و ترقی اور غیر ملکی کمپنیوں کو خریدنے میں خرچ کی ہے جس کے نتائج دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ مگر اس کامیابی کے باوجود چین نے اپنے ’میڈ اِن چائنہ‘ منصوبے کی اصطلاح کو بند کر دیا ہے کیونکہ اس سے مغربی ممالک میں چڑھائی کی صورت پیدا ہو رہی تھی۔ چین کا یہ منصوبہ اتنا کامیاب ثابت ہوا کہ مغرب نے ٹیکنالوجی کی ترسیل کو روکنے کی کوشش کی خاص طور پر مائیکروچپ اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں۔ تاہم، ان پابندیوں نے چین کو مزید آگے بڑھنے کی تحریک دی، اور اب چین نے ڈیپ سیک کی شکل میں ایسا چیٹ بوٹ تیار کیا ہے جو امریکا کی بہترین مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے لیے ایک ویک اپ کال بن چکا ہے۔ چین کا یہ پلان اتنی تیزی سے کامیابی کے مراحل طے کر رہا ہے کہ مغربی دنیا کو ابھی تک یہ سمجھنے کا موقع نہیں ملا کہ چین نے کس طرح سے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی پاور بننے کا سفر طے کیا ہے۔ اگرچہ امریکا ابھی بھی مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں سب سے آگے ہے مگر چین نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی میدان میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی حیثیت قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ آج کے دور میں چین نہ صرف اپنے اندرونی وسائل پر اعتماد کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی ٹیکنالوجی کی بالادستی ثابت کر چکا ہے۔ ’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبہ دراصل چین کی عالمی سطح پر قیادت کا آغاز تھا اور یہ سفر ابھی تک جاری ہے۔ اب چین کے لیے صرف ایک ہی سوال باقی ہے کیا دنیا اس نئی چینی بالادستی کو تسلیم کرے گی؟ مزید پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان باسمتی چاول کی تاریخی کشمکش: ایک ورثہ، جو عالمی مانگ کے ساتھ بقاء کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے
مرغی کے گوشت اور پانی سے پھیلتا وائرس جو انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے

پچھلے ماہ انڈیا کے شہر پونے میں ایک سکول ٹیچر کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ان کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ جب ان کے چھ سالہ بیٹے نے ہوم ورک کرنے کے دوران پینسل درست طریقے سے پکڑنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے سوچا کہ شاید بچہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے، لیکن یہ حقیقت کچھ اور تھی۔ ان کے بیٹے کا پینسل نہ پکڑ پانا دراصل ایک نایاب اور جان لیوا بیماری ‘گلین برے سنڈروم’ (GBS) کی علامات میں سے تھا جو انسان کے جسم کے ٹشوز اور پٹھوں پر حملہ آور ہو کر انسان کو مفلوج کر دیتی ہے۔ چند دنوں میں یہ چھ سالہ بچہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل تھا جہاں اس کی حالت بگڑ چکی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کو ہلا نہیں پا رہا تھا اور اس کے سانس لینے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ بعد ازاں اسے وینٹیلیٹر پر منتقل کر دیا گیا لیکن خوش قسمتی سے اس کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پونے شہر میں جنوری سے لے کر اب تک ایسے 160 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اب تک پانچ افراد کی جان جا چکی ہے۔ اس وقت 48 افراد انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں جبکہ 21 مریضوں کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 38 افراد صحتیاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ گلین برے سنڈروم (GBS) ایک نایاب بیماری ہے جو جسم کے پٹھوں اور اعصابی نظام پر حملہ کرتی ہے اور انسان کو کمزور یا مفلوج کر دیتی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: سمندر کی گہرائی میں انسانیت کا نیا سفر: سائنسدانوں نے منصوبہ تیار کر لیا اس کی ابتدائی علامات میں ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا یا ان میں سنسناہٹ کا احساس شامل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیماری شدت اختیار کرتی ہے اور مریض کو اپنے جسم کے حصے حرکت دینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اگر یہ بیماری مزید بڑھ جائے تو مریض کو سانس لینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پونے میں جی بی ایس کے پھیلاؤ کی وجہ “کیمپیلوبیکٹر جیجونی” نامی جرثومہ ہے جو دنیا بھر میں کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ جرثومہ مرغی کے گوشت اور پانی سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اس جرثومے سے متعلق کیسز دنیا کے مختلف حصوں میں سامنے آ چکے ہیں اور اب انڈیا کے شہر پونے میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ کیمپیلوبیکٹر جیجونی ایک خطرناک جرثومہ ہے جو مرغی کے گوشت اور پانی کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ 1990 کی دہائی میں چین کے دیہی علاقوں میں اس جرثومے کا پھیلاؤ دیکھا گیا تھا جہاں بارش کے موسم میں بطخیں، مرغیاں اور بچے ایک ہی پانی میں کھیلتے تھے اور یہ جرثومہ اس پانی کے ذریعے منتقل ہوتا تھا۔ لازمی پڑھیں: پاکستانی خاندان کی منفرد صلاحیت سے واقف محقیقین کی دوا ایف ڈی اے نے منظور کر لی اس جرثومے سے جی بی ایس کا تعلق 1990 کی دہائی میں پہلی بار سامنے آیا تھا اور اب یہ جرثومہ انڈیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پونے شہر میں حالیہ دنوں میں کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے سبب جی بی ایس کے کیسز بڑھ رہے ہیں اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس جرثومے کی قسم اس وقت پونے میں گردش کر رہی ہے جس کے سبب اتنی بڑی تعداد میں جی بی ایس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ جی بی ایس کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں ہے، مریضوں کے جسم میں کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے خلاف اینٹی باڈیز بنتی ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ‘پلازما ایکسچینج’ جیسے طریقوں سے بیماری کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ طریقہ بھی ہر مریض پر موثر نہیں ہوتا۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ جی بی ایس کی تشخیص کسی ایک ٹیسٹ سے نہیں کی جا سکتی۔ اس بیماری کی تشخیص مختلف مراحل میں ہوتی ہے اور اکثر اس کی غلط تشخیص یا تاخیر سے بیماری مزید بڑھ سکتی ہے۔ انڈیا کے دیہی علاقوں میں اس بیماری کی درست تشخیص کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جس کے سبب بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہو رہا ہے۔ پونے میں جی بی ایس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں۔ حکام نے 60 ہزار گھروں کا معائنہ کیا اور پانی کے نمونے جمع کیے۔ لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے جیسے کہ پانی کو اُبال کر پینا، تازہ کھانا کھانا اور باسی یا ادھ پکے گوشت سے پرہیز کرنا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے جرثومے کا پھیلاؤ پوری دنیا میں جاری ہے اور انڈیا میں اس کا تیزی سے پھیلنا ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ان کی یہ بھی رائے ہے کہ اگر مناسب احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو یہ بیماری اور زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ پونے میں جی بی ایس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے خطرے نے انڈیا سمیت پوری دنیا میں ایک سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ کے باعث نہ صرف لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے حکومت اور ماہرین صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی پیدا ہو چکا ہے۔ ان اقدامات کے باوجود اس بیماری کی روک تھام اور علاج میں مشکلات سامنے آ رہی ہیں جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ مزید پڑھیں: انسانی آنکھ کی حیرت انگیز ریزولوشن: کیا ہماری نظر جدید کیمروں سے زیادہ طاقتور ہے؟
غزہ کی تازہ صورتحال، مصر نے عرب ممالک کا ہنگامی اجلاس بلا لیا

مصر کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ” مصر 27 فروری کو عرب ممالک کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں فلسطینی علاقوں کے متعلق تازہ ترین سنگین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا”۔ ہنگامی عرب سربراہی اجلاس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کرنے کے منصوبے کے خلاف علاقائی حمایت حاصل کر رہا ہے جبکہ ساحلی علاقے پر امریکی کنٹرول قائم کر رہا ہے۔ آج وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “یہ اجلاس مصر کی جانب سے حالیہ دنوں میں عرب ممالک کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر وسیع مشاورت کے بعد بلایا گیا ہے۔ جس میں غزہ سمیت فلسطین کی تازہ صورتحال پر بات کی جائے گی”۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میں بحرین کے ساتھ رابطہ کاری بھی شامل ہے، جو اس وقت عرب لیگ کی سربراہ ہے۔ جمعہ کے روز، مصری وزیر خارجہ بدر عبدلطی نے اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت علاقائی شراکت داروں سے بات کی تاکہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے گھر کیے جانے کی مخالفت کی جائے۔ یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی: اسرائیلی فورسز کا غزہ سے انخلاء شروع ہو گیا پچھلے ہفتےٹرمپ نے غزہ پر امریکی انتظامیہ کا خیال پیش کیا، جس میں فلسطینیوں کو دوسری جگہوں، یعنی مصر اور اردن میں آباد کرنے کے بعد تباہ شدہ علاقے کو امریکی سربراہی میں دوبارہ تعمیر کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔ ان بیانات نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے ساتھ دو ریاستی حل پر اصرار کرتے ہوئے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
غزہ جنگ بندی: اسرائیلی فورسز کا غزہ سے انخلاء شروع ہو گیا

اسرائیلی فورسز نے غزہ کے ایک اہم حصے سے انخلاء شروع کر دیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ”فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کے ساتھ ایک سخت جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل آگے بڑھ رہا ہے لیکن دوسری جانب یہ معلوم نہیں کہ کیا اس بارے میں مزید بات چیت کی جا سکتی ہے”۔ اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت نیٹزارم کوریڈور سے اپنی افواج کو ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ وہ حصہ ہے جو شمالی غزہ کو جنوب سے الگ کرتی ہے جسے اسرائیل جنگ کے دوران ایک فوجی زون کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی: حماس نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا پچھلے مہینے جنگ بندی کے آغاز پر، اسرائیل نے فلسطینیوں کو جنگ زدہ شمال میں اپنے گھروں کو جانے کے لیے نیٹزارم کو عبور کرنے کی اجازت دینا شروع کی، جس سے سیکڑوں ہزاروں افراد کو پیدل اور کار کے ذریعے غزہ کے اس پار بھیج دیا گیا۔ علاقے سے افواج کا انخلا اس معاہدے کا ایک اور مرحلہ پورا کرے گا، جس نے 15 ماہ کی جنگ کو روک دیا تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے فریقین نے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت میں بہت کم پیش رفت کی ہے، جس کا مقصد جنگ بندی کو بڑھانا اور فلسطینی حکمران جماعت حماس کے زیر حراست مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا باعث ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایک وفد قطر بھیج رہے تھے، جو فریقین کے درمیان بات چیت میں ایک اہم ثالث تھا، لیکن اس مشن میں نچلے درجے کے اہلکار شامل تھے، جس سے یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ اس سے جنگ بندی کی توسیع میں کوئی پیش رفت نہیں ہو گی۔ اس معاہدے کے دوسرے مرحلے پر نیتن یاہو کی جانب سے رواں ہفتے کابینہ کے اہم وزراء کا اجلاس بلانے کی بھی توقع ہے۔
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے لیے مشکلات: کھلاڑیوں کی چوٹیں اور حیران کن تبدیلیاں کرکٹ ٹیموں کے لیے چیلنج بن گئیں

پاکستان کرکٹ کے میدان میں 2025 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور یہ ایونٹ کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک نئی کرکٹ کہانی لے کر آنے والا ہے۔ لیکن اس سے پہلے، کچھ شاکنگ خبریں سامنے آئی ہیں جنہوں نے کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچادی ہے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ کے دوران کیوی آل راؤنڈر راچن رویندرا ماتھے پر گیند لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔ اس حادثے کے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے ترجمان نے بتایا کہ راچن کے ماتھے پر کٹ آیا تھا اور انہیں فوری طور پر گراؤنڈ میں ٹریٹمنٹ فراہم کی گئی تھی۔ تاہم، خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ اس وقت بہتر محسوس کر رہے ہیں اور ان کی پہلی ہیڈ انجری اسسمنٹ مثبت آئی ہے باوجود اس کے ان کا مزید معائنہ جاری رکھا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم بھی اس سیریز کے دوسرے میچ کے لیے لاہور سے کراچی روانہ ہوچکی ہے۔ 12 فروری کو ان کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے ہوگا اور اس دوران ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف کی فٹنس پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حارث رؤف کی فٹنس میں بہتری تو آئی ہے لیکن ٹیم منیجمنٹ انہیں رسک نہیں لینا چاہتی اور جنوبی افریقہ کے خلاف انہیں آرام دینے کا امکان ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ’آؤ قذافی میں کھلیو‘ نئے اسٹیڈیم میں’ دل دل پاکستان‘ کی گونج حارث رؤف کی فٹنس سے متعلق حتمی فیصلہ ایم آر آئی کی رپورٹس کے بعد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم بھی چیمپئنز ٹرافی سے پہلے سخت پریشانیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ آل راؤنڈر مارکس اسٹوئنس نے اچانک ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے جس سے آسٹریلوی اسکواڈ کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اسٹوئنس کی غیر موجودگی کے بعد کرکٹ آسٹریلیا کو ان کی جگہ نئے کھلاڑی کی تلاش ہوگی۔ مزید برآں کپتان پیٹ کمنز اور فاسٹ بولر جوش ہیزل ووڈ بھی چیمپئنز ٹرافی کے اسکواڈ سے باہر ہوگئے ہیں جس سے ٹیم کی پوزیشن مزید کمزور ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ آل راؤنڈر مچل مارش بھی فٹنس مسائل کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ ان کھلاڑیوں کی غیر موجودگی آسٹریلیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے بھی چیلنجز کم نہیں ہیں۔ نوجوان کھلاڑی صائم ایوب زخمی ہونے کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی میں شرکت نہیں کر پائیں گے، جو پاکستان کے لیے ایک دھچکہ ہے۔ ان کی غیر موجودگی پاکستان کی ٹیم کے لیے ایک کمی محسوس کی جائے گی کیونکہ صائم ایوب نے حالیہ سالوں میں بہت شاندار پرفارمنس دی ہے۔ پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کے تیز گیند باز جسپریت بمراہ بھی زخمی ہیں اور ان کی شرکت بھی چیمپئنز ٹرافی میں مشکوک ہے۔ اسی طرح انگلینڈ کے وکٹ کیپر جیمی اسمتھ بھی چوٹ کی وجہ سے ایونٹ میں اپنی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی غیر موجودگی ٹورنامنٹ میں کرکٹ کے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ یہ تمام تبدیلیاں اور کھلاڑیوں کی چوٹیں چیمپئنز ٹرافی 2025 کے منظر کو اور زیادہ دلچسپ اور تھرلنگ بنا رہی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ، جو 19 فروری سے شروع ہو رہا ہے، پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع ہے کیونکہ اس بار یہ ایونٹ پاکستان کی سرزمین پر ہو رہا ہے جو کہ 1996 کے بعد پہلی بار ہوگا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم 2017 کے چیمپئنز ٹرافی کے اپنے کامیاب سفر کو دوبارہ دہرانا چاہے گی لیکن اس بار ان کے سامنے ایک مضبوط چیلنج ہے کیونکہ ٹیموں کے اسکواڈز میں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ ہر ٹیم کو اپنے اسٹرٹیجی کو دوبارہ ترتیب دینا پڑے گا تاکہ وہ اس ایونٹ میں کامیاب ہو سکے۔ جہاں پر بڑے کھلاڑیوں کی غیر موجودگی اور زخمی کھلاڑیوں کا مسئلہ ٹورنامنٹ کے نتائج پر گہرے اثرات ڈالے گا۔ کرکٹ شائقین کو یقیناً اس ایونٹ سے کچھ حیرت انگیز لمحے ملیں گے، اور یہ ایک ایسا ایونٹ ہوگا جو ہر طرف توجہ کا مرکز بن جائے گا۔ مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ نے پاکستان کو سہ ملکی سیریز کے پہلے میچ میں 78 رنز سے شکست دی
ایف آئی اے کا بڑا آپریشن: شہریوں کو دھوکہ دینے والے 3 انسانی اسمگلرز گرفتار

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اپنی تازہ ترین کارروائی میں گوجر انوالا، لاہور اور قصور میں انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایف آئی اے حکام نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 3 بڑے انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک طویل تحقیقات کے نتیجے میں ہوئیں جن میں ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے کے جھوٹے وعدوں سے دھوکہ دینے کی کوششیں بھی بے نقاب ہوئیں۔ گوجر انوالا سے گرفتار ہونے والے ملزم آصف نے ایف آئی اے کے حکام کو بتایا کہ اُس نے ایک شہری کو جرمنی بھجوانے کے لئے 15 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ جبکہ لاہور کے علاقے میں ملزم فیضان نے ایک شہری کو ملائیشیا بھیجنے کے عوض 6 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ ان کارروائیوں کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ ملزم طیب سہیل نے برطانیہ بھیجنے کے وعدے کے بدلے ایک شہری سے 45 لاکھ روپے بٹورے۔ لازمی پڑھیں:پنجاب دھی رانی پروگرام: دوسرے مرحلے میں 1500 شادیوں کے لیے درخواستوں کا آغاز ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جس میں پہلے بھی انسانی اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف ایف آئی اے تھانہ میں مقدمات درج ہیں، اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ شہریوں کو ان دھوکہ دہی کے معاملات سے بچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل 5 فروری کو ایف آئی اے لاہور زون نے انسانی سمگلنگ اور ویزا فراڈ کے خلاف بھی بڑی کارروائیاں کی تھیں۔ لاہور اور قصور میں کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشنز میں دو اہم ملزمان، زاہد مصطفیٰ اور امجد بھٹی کو گرفتار کیا گیا۔ زاہد مصطفیٰ کو کینیڈا کی جعلی نوکری کے جھانسے میں 3.99 ملین روپے کا غبن کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ وہ 2024 سے مفرور تھا اور ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل میں اس کے خلاف مقدمہ درج تھا۔ دوسری جانب امجد بھٹی نے ایک جعلی روزگار سکیم شروع کی تھی اور متعدد شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کے جھوٹے وعدوں سے دھوکہ دیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: صرف دو دنوں میں 100 سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ کر دیے گئے تفتیش کے دوران دونوں ملزمان نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے شہریوں سے غیر قانونی طور پر پاسپورٹ حاصل کیے تاہم بیرون ملک بھیجنے میں ناکام رہے اور بڑی رقم وصول کرنے کے بعد روپوش ہو گئے۔ انسانی اسمگلنگ ایک غیر قانونی عمل ہے جس میں افراد کو ان کی مرضی کے خلاف یا دھوکہ دہی سے غیر قانونی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ اسمگلنگ مختلف مقاصد کے لئے کی جاتی ہے جن میں ورک فورس، جنسی استحصال، جبری مشقت، یا دیگر بدترین حالات میں انسانوں کا استحصال شامل ہوتا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے کیسز میں اکثر افراد کو بہکایا جاتا ہے اور انہیں بیرون ملک کام کی جھوٹی امیدیں دے کر بڑی رقم وصول کی جاتی ہے لیکن جب یہ افراد وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں نہ صرف دھوکہ دہی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایف آئی اے کی ان کارروائیوں نے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ ملزمان اب قانون کے شکنجے میں آ چکے ہیں۔ شہریوں کو آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ ان کارروائیوں سے یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ ایسے دھوکہ دہی کے جال میں نہ پھنسیں اور اپنے حقوق کا دفاع کریں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ملک میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کی جا سکے۔ مزید پڑھیں: پشاور میں اسکول ٹیچر نے طلباء کے تنگ کرنے پر پولیس کو درخواست دے دی
پنجاب دھی رانی پروگرام: دوسرے مرحلے میں 1500 شادیوں کے لیے درخواستوں کا آغاز

”پنجاب دھی رانی پروگرام“ کے تحت دوسرے مرحلےکا آغاز ہوگیا۔ دوسرے مرحلے میں مزید 1500 شادیاں کرائی جائیں گی جس کے لیے درخواستیں گھر بیٹھے جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر جا کر شادی کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت نے “پنجاب دھی رانی پروگرام“ کے بارے میں معلومات کے لئے 1312ہیلپ لائن بھی قائم کی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ درخواستیں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کے ضلعی آفس میں بھی جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت لڑکیوں کو جہیز، شادی کا کھانا اور نئے شادی شدہ جوڑوں کو اے ٹی ایم کے ذریعے ایک لاکھ روپے سلامی بھی دی جائے گی۔ پروگرام کے تحت دُلہا دُلہن کو فرنیچر اور کپڑوں سمیت دیگر ضروری سازو سامان کے تحائف بھی پیش کئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ” پنجاب کی ہر بیٹی سے محبت ہے، گھر بسانے پر دلی خوشی ہوتی ہے ، معاشرے کے نادار اور محروم طبقات کا احساس حکومت کی ذمہ داری ہے، ہر ذمہ داری اچھی طرح نبھائیں گے، بیٹیوں کے سر پر دست شفقت رکھنا پنجاب کی ریت ہے”۔ یاد رہے کہ “پنجاب دھی رانی پروگرام“ کے مطابق اس سال کُل 3000 لڑکیوں کی شادیاں کرائی جائیں گی۔ جن میں سے 1500 شادیاں پہلے مرحلے میں ہو چکی ہیں اور 1500 شادیوں کے دوسرے مرحلے کے لیے درخواستیں دی جا رہی ہیں۔ پہلے مرحلے میں کی جانے والے شادیوں میں عیسائی اور اسپیشل جوڑے بھی شامل تھے۔ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ ایسے اقدامات عوام کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ حکومت اس کے ساتھ ہے۔
ریگولر بینچ آئینی تشریح نہیں کر سکتا، یہ اختیار صرف آئینی بینچ کو حاصل ہے : جسٹس محمد علی مظہر

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے ایک اہم 20 صفحات پر مشتمل نوٹ جاری کیا ہے جس میں آئینی تشریحات اور 26 ویں ترمیم کے بارے میں اپنی رائے دی۔ ان کے مطابق کسی بھی قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ صرف آئینی بینچ ہی لے سکتا ہے اور کسی بھی ریگولر بینچ کے پاس آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہوتا۔ جسٹس مظہر نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی بینچ نے درست طور پر دو رکنی بینچ کے حکمنامے کو واپس لیا ہے۔ ان کے مطابق ترمیم میں سب کچھ کھلی کتاب کی طرح واضح ہے، اور اس پر کسی قسم کی بحث یا ابہام کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ترمیم پر آنکھیں اور کان بند نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آئین کا حصہ ہے۔ مزید پڑھیں: پشاور میں اسکول ٹیچر نے طلباء کے تنگ کرنے پر پولیس کو درخواست دے دی اس نوٹ میں جسٹس مظہر نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کو کسی بھی صورت میں پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ختم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 26 ویں ترمیم آئین کا ایک حصہ ہے اور اس کے چیلنج کیے جانے کے باوجود اس کی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی۔ جسٹس مظہر نے یہ بھی کہا کہ 26 ویں ترمیم پر کی جانے والی درخواست کا فیصلہ فل کورٹ میں کیا جائے گا اور اس کیس کا میرٹ پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس کے علاوہ فریقین کو نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر مزید بحث کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی تمام تر تشریحات اور ترمیمات کا جائزہ صرف آئینی بینچ ہی لے سکتا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی ریگولر بینچ کو اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ اس نوٹ نے آئینی ترمیمات اور ان کے جائزے کے عمل کو مزید واضح اور مضبوط بنا دیا ہے جس سے آئین کی سلامتی اور اس کی تشریحات کے حوالے سے نئے اصول مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس نوٹ کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ یہ آئینی تشریحات کی درست سمت کو واضح کرتا ہے اور اس پر قانونی حلقوں میں اہم بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔ فاضل جج نے کہا آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی آئینی بینچ ہی کر سکتا ہے، کسی ریگولر بینچ کو وہ نہیں کرنا چاہیے جو اختیار موجودہ آئین اسے نہیں دیتا، دو رکنی بینچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکم نامے واپس ہو چکے، بنیادی حکم ناموں کے بعد کی ساری کارروائی بےوقعت ہے۔ یاد رہے کہ آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے واپس لیے تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے آئینی بینچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے نوٹ جاری کیا۔ یہ بھی پڑھیں: ملک میں مہنگائی کی کم ترین سطح، حکومتی پالیسیوں کا کامیاب نتیجہ ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب