اپریل 6, 2025 4:43 صبح

English / Urdu

انسانی آنکھ کی حیرت انگیز ریزولوشن: کیا ہماری نظر جدید کیمروں سے زیادہ طاقتور ہے؟

ہم سب روزمرہ کی زندگی میں کیمروں کا استعمال کرتے ہیں چاہے وہ اسمارٹ فون کا کیمرہ ہو یا پروفیشنل کیمرا، ہمیشہ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمیں بہترین کوالٹی کی تصاویر ملیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ قدرت نے انسانوں میں جو ’کیمرہ‘ فٹ کیا ہے، اس کی ریزولوشن کتنی ہوگی؟ یقیناً، اس سوال کا جواب جان کر آپ حیران رہ جائیں گے! جدید سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی آنکھ کی ریزولوشن تقریباً 576 میگا پکسلز ہے۔ جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا! یہ وہ ریزولوشن ہے جو آج کے جدید ترین اسمارٹ فون کیمروں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ تاہم، اس حیرت انگیز حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ انسانی آنکھ اور ڈیجیٹل کیمرے میں بنیادی فرق کیا ہے۔ ڈیجیٹل کیمروں کی ریزولوشن ہر پکسل کی ایک فکسڈ سائز ہوتی ہے، جبکہ انسانی آنکھ کا نظام اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور قدرتی ہے۔ انسانی آنکھ میں موجود فوٹوریسپٹرز کی تعداد اس حد تک زیادہ ہوتی ہے کہ یہ دنیا کو انتہائی تفصیل سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ہم کس جگہ اور کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ انسانی آنکھ کا سب سے زیادہ تفصیلی حصہ ’فویا‘ (Fovea) کہلاتا ہے۔ فویا ایک مخصوص حصہ ہوتا ہے جو ہماری آنکھ کے مرکزی نقطے پر واقع ہوتا ہے اور یہاں پر فوٹو ریسیپٹرز کی تعداد انتہائی زیادہ ہوتی ہے۔ فویا میں تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار فوٹو ریسیپٹرز فی مربع ملی میٹر موجود ہوتے ہیں، جو اس نقطے کو انتہائی واضح اور تفصیلی طور پر دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم کسی چیز کو براہ راست فوکس کرتے ہیں تو فویا کی ریزولوشن اس حد تک زیادہ ہوتی ہے کہ وہ تصویر کی کیفیت کو انتہائی بڑھا دیتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس، جب ہم اپنی نظر کو کسی اور طرف موڑتے ہیں تو ہمارے آس پاس کی تصاویر کی ریزولوشن کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی آنکھ مسلسل حرکت میں رہتی ہے اور دماغ تمام بصری معلومات کو جوڑ کر ایک مکمل اور واضح تصویر بناتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خاندان کی منفرد صلاحیت سے واقف محقیقین کی دوا ایف ڈی اے نے منظور کر لی یہ کسی بھی ڈیجیٹل کیمرے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ انسانی آنکھ اتنی حیرت انگیز صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ روشنی اور اندھیرے کے فرق کو بہت بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم قدرتی ماحول کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ انسانی آنکھ تقریباً 10 ملین مختلف رنگوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو کسی بھی جدید کیمرے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کو رنگوں کی ایک وسیع تر اور متنوع رینج میں دیکھ سکتے ہیں، جو ایک کیمرے کے لیے ممکن نہیں۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے بے شمار طاقتور کیمرے تیار کر لیے ہیں لیکن یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ انسانی آنکھ کا نظام اب بھی ایک ناقابلِ یقین تخلیق ہے۔ مزید پڑھیں: آپ کی ایک گوگل سرچ بھی ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مگر کیسے؟ یہ نہ صرف دنیا کو ایک وسیع زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ روشنی، رنگ، حرکت، اور گہرائی کو بھی انتہائی تفصیل سے محسوس کرتی ہے۔ انسانی آنکھ کا یہ پیچیدہ اور حیرت انگیز نظام اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرت نے اس میں ایک ایسی طاقت رکھی ہے جو کسی بھی مصنوعی نظام سے کہیں زیادہ موثر اور حیران کن ہے۔ اس کی گہرائی اور پیچیدگی ابھی تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے اور وہ اس کی مکمل تفصیلات کو سمجھنے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انسانی آنکھ قدرت کا ایک شاہکار ہے، جو ہر لمحہ دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی ریزولوشن اور صلاحیتیں آج کے ڈیجیٹل کیمروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ کبھی بھی مکمل طور پر بدل نہیں سکتی۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے ہمیں شاندار کیمروں سے لیس کیا ہے لیکن انسانی آنکھ کا نظام ہمیشہ ہی سب سے بہترین اور حیرت انگیز رہے گا۔ ضرور پڑھیں: چوہوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی انسانوں کے لیے وبال جان بن گئی

امریکی امداد کی بندش: دنیا بھر میں ہیلتھ کرائسز بڑھنے لگے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو دیے گئے حکم کے بعد دنیا بھر میں انسانی امداد کی فراہمی روک دی ہے جس نے دنیا کے مختلف حصوں میں افرا تفری کی لہر دوڑادی ہے۔ اس فیصلے کے اثرات غریب اور متاثرہ ملکوں میں فوری طور پر نظر آنے لگے ہیں جہاں زندگیاں بچانے والے پروگراموں کی بندش سے لاکھوں افراد کی تقدیر داؤ پر لگ چکی ہے۔ گھانا اور کینیا میں ملیریا کے خلاف ہونے والی مہم رک گئی ہے کیونکہ کیڑے مار ادویات اور مچھر دانیاں گوداموں میں پڑی ہیں۔ ان ممالک میں، جہاں ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے اور ہر برس ہزاروں افراد اس کا شکار ہوتے ہیں، امداد کے بغیر لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ امریکی حکام نے ان مہمات کے دوبارہ آغاز کی اجازت دینے میں تاخیر کی ہے، جس سے ان کی افادیت ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ ہیٹی میں ایچ آئی وی کے مریضوں کو علاج فراہم کرنے والے گروہ بھی اس بندش کے شکار ہیں۔ لازمی پڑھیں:امریکی ریاست الاسکا سے لاپتہ طیارے کا ملبہ مل گیا، تمام مسافر ہلاک خاص طور پر وہ ادویات جو ماؤں کو اپنے بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی سے بچاتی ہیں، وہ گوداموں میں پھنس چکی ہیں۔ اس بحران کے باعث سینکڑوں افراد کا علاج رک چکا ہے۔ دوسری جانب میانمار میں صورتحال اور بھی سنگین ہے جہاں امداد کی فراہمی کا انحصار امریکا پر ہے۔ وہاں کے انسان دوست کارکنوں نے صورتحال کو ‘تباہی’ قرار دیا ہے۔ میانمار میں قحط اور خانہ جنگی کے درمیان لاکھوں افراد کی زندگیاں بچانے والے پروگراموں کی بندش سے لوگوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 20 جنوری کو ‘زندگی بچانے والی امداد’ کے لیے استثنیٰ کا اعلان کیا تھا جس میں طبی خدمات، خوراک، پناہ گزینی اور دیگر اہم امدادی سرگرمیاں شامل ہیں، مگر اس استثنیٰ کے باوجود امدادی کارکنوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ کون سی سرگرمیاں اس کی زد میں آئیں گی۔ یہ بھی پڑھیں: جنوبی میکسیکو میں بس حادثہ: 41 افراد جاں بحق، بس مکمل جل گئی اس افراتفری کا ایک اور سبب امریکی حکام سے رابطے کا فقدان ہے۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی طرف سے دی جانے والی معلومات بہت کم اور متضاد ہیں۔ کئی امدادی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ امدادی پروگراموں کے کون سے حصے جاری رہ سکتے ہیں اور جب تک انہیں درست معلومات نہیں ملیں گی، وہ دوبارہ کام شروع نہیں کر سکتے۔ یو ایس ایڈ، جو دنیا کے مختلف حصوں میں انسانیت کی خدمت کرنے والی سب سے بڑی امریکی ایجنسی ہے، اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ ایجنسی کے عملے کے اندر بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے سے ایجنسی کے ملازمین میں سے 611 افراد کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔ خصوصاً افریقہ میں، جہاں ملیریا اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے لاکھوں افراد کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں، اس بندش کا انتہائی سنگین اثر پڑا ہے۔ امریکا کی امدادی سرگرمیوں کے بغیر افریقی ممالک میں صحت کے پروگراموں میں شدید خلل آیا ہے۔ ضرور پڑھیں:ایلون مسک کے “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی” پر فیڈرل جج کا بڑا فیصلہ، امریکی ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کے حساس ریکارڈ تک رسائی روک دی گئی امریکا کی جانب سے فراہم کردہ امداد سے ملیریا کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں، مگر اب یہ خطرہ پیدا ہو چکا ہے کہ اس امداد کی بندش سے پوری دنیا میں بیماریوں کے پھیلنے کا امکان ہے۔ بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کی حالت انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں امریکی امداد کا 55 فیصد حصہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ان پناہ گزینوں میں سے اکثر روہنگیا ہیں جو میانمار میں بدترین تشدد کا شکار ہو کر بنگلہ دیش پناہ گزین ہوئے تھے۔ اس امداد کی بندش نے ان کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حکومت کی ‘امریکا فرسٹ’ پالیسی کے تحت، یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ غیر ملکی امداد امریکی مفادات کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہے۔ تاہم، امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور امریکی حکومت کو فوری طور پر امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنی چاہئیں۔ اس صورتحال میں ایک بات صاف ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا بھر میں نہ صرف صحت کی ہنگامی صورتحال مزید بگڑ جائے گی، بلکہ بے شمار افراد کی زندگیوں کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ انسانی ہمدردی کے کارکن اس بحران کو ایک سنگین آزمائش کے طور پر دیکھتے ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ اس وقت امریکا کے فیصلے نے عالمی امدادی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ مزید پڑھیں: “یوکرین میں جاری اس تباہ کن جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہوں” ٹرمپ کا پیوٹن سے رابطہ

ملک میں مہنگائی کی کم ترین سطح، حکومتی پالیسیوں کا کامیاب نتیجہ ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یومِ تعمیر و ترقی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی بدولت مہنگائی آج 9 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جو حکومت کی کامیاب اقتصادی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پالیسی ریٹ میں کمی اور زرِ مبادلہ ذخائر میں اضافہ حکومتی کارکردگی کی کامیابی کے اشارے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ اور نجکاری سمیت ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی جانب قدم بڑھا رہی ہے اور ٹیکس اصلاحات کے لیے ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے جو ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر مزید کہا کہ “ہم پائیدار ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہماری حکومتی پالیسیوں کا مقصد عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔” یہ بھی پڑھیں: صرف دو دنوں میں 100 سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ کر دیے گئے تقریب میں شریک وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاست کے مفاد میں فیصلہ کیا اور اس کے نتیجے میں ملک میں استحکام آیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا “ہم نے سیاست نہیں کرنی، ریاست کو فروغ دینا ہے۔” دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسلام آباد میں یومِ تعمیر و ترقی کی تقریب سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ملک اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا ہو چکا ہے، ہم نے مشکل فیصلے کیے ہیں، مگر آگے کا سفر بھی آسان نہیں ہے۔” شہباز شریف نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقے نے 300 ارب روپے قومی خزانے میں دیے اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کم ترین سطح پر آئی ہے۔ وزیر اعظم نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کی کامیابی اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کا ذکر بھی کیا، جسے انہوں نے حکومت کی اقتصادی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیا۔ حکومت کی یہ کوششیں اقتصادی بحران سے نکلنے اور معاشی استحکام کی جانب قدم بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مزید پڑھیں: مجھے نیند نہیں آتی! میرا بس چلے تو ابھی 15 فیصد ٹیکس اور شرح سود کم کردوں، وزیراعظم شہباز شریف

پشاور میں اسکول ٹیچر نے طلباء کے تنگ کرنے پر پولیس کو درخواست دے دی

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ایک ٹیچر نے طلباء کی جانب سے گالیاں دینے پر پولیس کو درخواست دے دی۔ “سکول کے طلباء مجھ پر آوازیں کستے ہیں۔ نازیبا الفاظ کا استعمال اور ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالنا معمول بن گیا ہے”۔گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول کاکشال کے ٹیچر نے پولیس کو درخواست دے دی۔ پشاور کے علاقے مریم زئی کے رہائشی فرحان اللہ نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ دوران ڈیوٹی طلباء مجھ پر آوازیں کستے ہیں۔مجھے نازیبا القابات سے پکارتے ہیں۔ پاکستان میٹرز نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا “میں مریم زئی کا رہائشی ہوں اور میری تقرری کاکشال میں ہوئی ہے۔ یہاں طلباء ہر وقت مجھے تنگ کرتے ہیں۔ مجھے گالیاں  دیتے ہیں۔ میرا یہاں رہنا اجیرن ہوچکا ہے۔ میرے گھر سے سب سے نزیک اسکول ناکبند میں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا تبادلہ اس اسکول میں کر دیا جائے تا کہ میرا مسئلہ حل ہو”۔ پاکستان میٹرز کی جانب سے یہ سوال پوچھا گیا کہ یہ سب شروع کیسے ہوا اور طلباء ایسا کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا “میں نے یہ سب کچھ پولیس کو بتا دیا ہے”۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان باسمتی چاول کی تاریخی کشمکش: ایک ورثہ، جو عالمی مانگ کے ساتھ بقاء کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے

پاکستان اور بھارت کے درمیان باسمتی چاول کے حوالے سے ایک نئی کشمکش ابھر کر سامنے آئی ہے۔ جہاں بھارت باسمتی چاول کو اپنے ملک کی منفرد پہچان بنانے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں پاکستان اس چاول کو اپنے مشترکہ ورثے کا حصہ مانتا ہے۔ لیکن اس بحث کے بیچ میں ایک اور بڑا مسئلہ چھپتا جا رہا ہے اور وہ ہے باسمتی چاول کی اصلیت کا خطرہ۔ باسمتی چاول کی تاریخ پاکستان اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں کئی ہزار سال پرانی ہے۔ اس چاول کا نام قدیم ‘انڈو-آریائی’ زبان کے لفظ “باسمت” سے آیا ہے، جس کا مطلب خوشبو دار اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ چاول کبھی رومانی سلطنت تک پہنچا تھا اور آج کل امریکا اور یورپ میں اس کی مانگ تیز ہو رہی ہے۔ پاکستان کے شہر لاہور کے کھیتوں میں چاول کاشت کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ چاول ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور ان کا عہدہ صرف کھیتوں تک محدود نہیں بلکہ دلوں میں بھی بسیرا کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان باسمتی چاول پر تنازعہ نئی بات نہیں۔ 1947 میں جب برطانوی ہندوستان تقسیم ہوا تو باسمتی چاول کی کھیتی دونوں ملکوں میں پھیل گئی۔ دونوں ملکوں کا دعویٰ ہے کہ باسمتی چاول کا اصل مرکز ان کے ملک میں ہے۔ بھارت نے بین الاقوامی سطح پر باسمتی چاول کو اپنے ملک کی منفر د مصنوعات کے طور پر تسلیم کروانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں جس پر پاکستان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مزید پڑھیں: مجھے نیند نہیں آتی! میرا بس چلے تو ابھی 15 فیصد ٹیکس اور شرح سود کم کردوں، وزیراعظم شہباز شریف حالیہ برسوں میں باسمتی چاول کی اصل نسل میں کمی آئی ہے۔ پاکستانی اور بھارتی کسانوں نے 1980 کی دہائی میں ایسے چاولوں کی نسلوں کو بڑھایا جن کی پیداوار تیز تر اور مقدار میں زیادہ تھی، لیکن ان میں باسمتی کے اصل ذائقے اور خوشبو کی کمی تھی۔ کسانوں نے جدید اقسام کے چاولوں کو اُگانے پر زور دیا ہے کیونکہ یہ سستا، زیادہ پیداوار دینے والا اور آسانی سے تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کی قیمت ہے یہ باسمتی چاول کا اصل ذائقہ اور خوشبو نہیں رکھتا۔ ایسے میں کئی کسان اور ماہرین خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں کہ اصل باسمتی چاول کم ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور کے ایک معروف ریستوران مالک، فقیہ حسین کا کہنا ہے کہ “آج کل کے نوجوانوں کو اصلی باسمتی چاول کا ذائقہ یاد نہیں، وہ صرف سستے چاولوں کا استعمال کرتے ہیں۔” ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں باسمتی چاول کا روایتی ذائقہ اور خوشبو ختم ہو جائے گا اور اگر یہ روایات اور طریقے بچانے کی کوشش نہ کی گئی تو باسمتی چاول کی بقاء بھی خطرے میں آ جائے گی۔ باسمتی چاول کی عالمی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے اور 2032 تک یہ 27 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب امریکا اور یورپ میں اس چاول کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چاول کی کاشت کی مقدار اور معیار دونوں میں کمی آ رہی ہے اور کسانوں کو جدید طریقوں اور زرعی کیمیکلز کی طرف مائل کر دیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں میں باسمتی چاول کی پیداوار میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ ضرور پڑھیں:ٹرمپ کے غزہ پر تبصرے: عرب امریکی اور مسلم رہنماؤں کی شدید مخالفت پاکستانی کسانوں کا کہنا ہے کہ اکثر باسمتی چاول کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ یہ عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئے ہیں۔ بھارت میں بھی نئے چاولوں کی نسلوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار نے باسمتی چاول کی قدر میں کمی کی ہے۔ یورپ اور امریکا میں اس چاول کی مقبولیت بڑھنے کے باوجود زیادہ تر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کیا وہ اصلی باسمتی کھا رہے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جلد کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو باسمتی چاول کی اصلیت ختم ہو سکتی ہے۔ کئی کسان اور ماہرین پر زور دے رہے ہیں کہ روایتی باسمتی چاول کی نسل کو بچانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں جیسے کہ زمین کی حفاظت، قدرتی کھاد کا استعمال، اور روایتی طریقوں کو اپنانا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان باسمتی چاول پر جاری کشمکش ایک طرف ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ باسمتی چاول کی قدیم نسل کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک اور عالمی سطح پر اس مسئلے پر سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو یہ چاول، جو کہ دونوں ملکوں کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہے، تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی روایات اور ثقافتوں کی حفاظت کریں تاکہ اس خوشبو دار چاول کو آنے والی نسلوں تک پہنچا سکیں۔ یہ بھی پڑھیں: صرف دو دنوں میں 100 سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ کر دیے گئے

“یوکرین میں جاری اس تباہ کن جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہوں” ٹرمپ کا پیوٹن سے رابطہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے فون پر رابطہ کیا ہے تا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے پر بات کی جا سکے۔ جمعہ کو ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے کتنی بات کی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ بہتر ہے اس پر بات نہ ہو۔ ٹرمپ نےخبر رساں ادارے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ ’’وہ (پیوٹن) لوگوں کو مرتے نہیں دیکھنا چاہتے”۔ جنوری کے آخر میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ” پیوٹن ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور ماسکو واشنگٹن سے اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ وہ بھی تیار ہے”۔ ٹرمپ نے جمعہ کوکہا کہ “وہ اگلے ہفتے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے تاکہ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی جا سکے”۔ روس کے یوکرین پر حملے کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ کو 24 فروری کو تین سال ہو جائیں گے۔ اس تنازعے کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت یوکرینی لوگوں کی ہے۔ ٹرمپ نے خبر رساں ادارے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ “ان کے پیوٹن کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں اور ان کے پاس جنگ کے خاتمے کا ٹھوس منصوبہ ہے”۔ لیکن انہوں نے مزید تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا۔ ٹرمپ نے کہا” ہر روز لوگ مر رہے ہیں۔ یوکرین میں یہ جنگ بہت خراب ہے۔ یوکرین میں جاری اس تباہ کن جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہوں”۔  

جنوبی میکسیکو میں بس حادثہ: 41 افراد جاں بحق، بس مکمل جل گئی

جنوبی میکسیکو میں بس کے ایک حادثے کے دوران 41 افراد جاں بحق ہو گئے۔ تابسکو ریاست کے ترجمان کے مطابق ہفتے کے روز یہ حادثہ پیش آیا جس میں 41 افراد جاں بحق ہوئے۔ مقامی حکام  نے بتایا کہ بس میں 48 افراد سوار تھے۔ بس ایک ٹرک سے ٹکرا گئی جس سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 38 مسافر اور دو ڈرائیور جاں بحق ہو گئے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ تصادم کے بعد شعلوں کی لپیٹ میں آنے کے بعد بس مکمل طور پر جل گئی۔ بس میں صرف لوہا بچ سکا ہے باقی سب کچھ جل گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابھی تک صرف 18 لوگوں کی پہچان ممکن ہوئی ہے جب کہ بہت  کچھ لاپتہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بازیابی کا کام ابھی جاری ہے۔ بس آپریٹر ٹورز اکوسٹا نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “جو ہوا اس پر بہت افسوس ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکام کے ساتھ مل کر یہ معلوم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے کہ کیا ہوا اور کیا بس رفتار کی حد میں سفر کر رہی تھی۔

صرف دو دنوں میں 100 سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ کر دیے گئے

دو دنوں میں مزید 100 سے زائد پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 2 دنوں میں امریکہ، جاپان، کوریا، سینیگال، تھائی لینڈ سمیت 16 مختلف ممالک سے مزید 118 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا جن میں سے کچھ کو پاکستانی ائیرپورٹس پر پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ محکمہ امیگریشن سعودی عرب سے پاسپورٹ گم ہونے، بلیک لسٹ، معاہدے کی خلاف ورزی اور غیر قانونی کام کرنے کے الزامات پر 61 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر عراق میں داخل ہونے اور طے شدہ مدت سے زیادہ قیام پر 15 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا جبکہ عمان سے 7 پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر داخل ہونے، آجر کی جانب سے ملازمت سے برطرف کرنے اور بلیک لسٹ ہونے پر واپس بھیجا گیا۔ یاد رہے کچھ دن پہلے بھی 139 پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق امریکہ میں ایک پاکستانی کو ناقابل قبول قرار دے کر واپس بھیجا گیا، کوریا میں بھی ایک پاکستانی کو انٹری نہیں دی گئی جبکہ تھائی لینڈ میں ہوٹل کی بکنگ نہ ہونے اور اخراجات کی رقم کم ہونے پر 2 پاکستانیوں کو انٹری نہیں دی گئی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ بحرین، یوگنڈا، کینیا، قبرص، مراکش، کوریا، سینیگال، بوسٹوانہ سے ایک ایک پاکستانی کو ڈی پورٹ کیا گیا جبکہ جاپان میں 2 پاکستانیوں کو وزٹ ویزا کے لیے مطمئن نہ کرسکنے اور ناقابل قبول قرار دے کر واپس بھیج دیا گیا۔

20 ہزار ایمپاورڈ خواتین

“مجھے خلع چاہیے” تصور کریں ایک خاتون حلق کے بل یہ تین الفاظ نکالتی ہے اور اس کے اثرات کہاں اور کیسے پہنچتے ہیں۔ سب سے پہلے تو شوہر نامدار وہ کچھ دیر کے لیے خاموش اور حیران ہو کر رہ جاتا ہے اور پھر زوردار ری ایکشن آتا ہے۔ پھر بچے پہلے تو سمجھ نہیں پاتے کہ ان کی ماما نے کیا کہا، لیکن جب سمجھ جاتے ہیں تو وہ واقعتاً بجھ سے جاتے ہیں اور بالکل خاموش ہو جاتے ہیں۔ پھر لڑکی کے والدین جو خود بھی شدید ڈپریشن والی کیفیت میں چلے جاتے ہیں الا یہ کہ وہ خود ہی شہہ دیتے رہے ہوں! اور یہ تو صرف آغاز ہوتا ہے ایک لمبی جدوجہد کا جو “مجھے خلع چاہیے” سے شروع ہوتی ہے۔ دونوں طرف کے خاندان ہل کر رہ جاتے ہیں اور پھر آغاز ہوتا ہے ایک لمبے، انتہائی مہنگے اور خواری سے بھرپور قانونی سفر کا۔ سندھ بھر کے کورٹ سے جمع شدہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 میں 20 ہزار خواتین نے خلع حاصل کی جبکہ 2023 میں یہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ خلع لینے والی خواتین کی تعداد 18 ہزار رہی تھی۔ یعنی 20 ہزار خاندان 2024 میں ہمیشہ کے لیے جدا ہوئے۔ ان سے جڑے دسیوں ہزاروں بچے کورٹ میں دھکے کھاتے پھریں گے کہ ان کی کسٹڈی ان کی ماما کی طرف جائے گی یا پاپا کی طرف۔ آنسو، چیخیں، دکھ، غصہ، نفرت اور انتقام کے رنگ تقریبا ہر خلع کی کہانی میں نظر آئیں گے۔ کچھ کیسز میں والد بچوں سے ملنے کے لیے ترستے رہ جائیں گے! آخر اتنی بڑی تعداد میں خواتین کیوں خلع کی طرف جارہی ہیں؟ ایک سینئیر کورٹ تجزیہ نگار کے مطابق ان میں سے زیادہ تر خواتین وہ ہوتی ہیں جن کی عمریں 20-30 برس کے درمیان ہوتی ہیں۔ بقول ان کے میں ہر روز ان خواتین کسی نہ کسی انداز میں عدالت میں دیکھتا ہوں اور باہر ان کے روئیے ذمہ دارانہ (mature) نہیں ہوتے۔ یعنی سوچ و فکر، احساسات اور روئیوں میں پختگی نہ ہونا ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر چند عجیب و غریب اور نہ سمجھ میں آنی والی وجوہات میں دیر تک سونے یا جاگنے پر مسائل، شوہر یا سسرال والوں پر دقیانوسی ہونے کے الزام، مطلوبہ مالی سہولیات کی عدم دستیابی، شوہر کی شخصیت پسند نہ ہونا، اور جسمانی ضروریات پوری نہ ہونے جیسی کافی مشکلات شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے بیشتر وجوہات عموما سطحی ہوتی ہیں۔ خلع کے پراسس کی ایک بہت بڑی مگر عدالت میں نظر انداز کی جانے والی وجہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ ہوتا ہے۔ تحقیقات بتاتی ہیں خواتین کی فیصلہ سازی (Decision Making) پر ایک بڑا اثر ان کے سوشل سرکل کا ہوتا ہے جہاں خواتین کے گروپس پر ہر خانگی مسئلے کا حل ٹاکسک اور نارسسٹ بندے سے جان چھڑا کر امپاورڈ (Empowered) خاتون بن جانا ہوتا ہے۔ لیکن اس خلع کے بعد ایک خاتون کیسے سفر شروع کرتی ہے؟ اس کی جذباتی، نفسیاتی، سماجی حالت کیا ہوتی ہے؟ اور بچوں سے اس کے معاملات کس نوعیت کے ہوتے ہیں؟ ان سوالات پر سوشل میڈیا پر بحث ندارد ہے۔ فی الحال تو امپاورمنٹ (Empowerment) خلع کی ایک بنیادی وجہ بنتی چلی جارہی ہے، جس پر روک ٹوک کسی طرف سے آتی نظر نہیں آرہی۔ اس کا نتیجہ ہم 2024 میں 20 ہزار امپاورڈ (Empowered) خواتین کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔

لاہور عالمی کتاب میلے میں کتابوں سے محبت کرنے والوں کا رش

ایکسپو سینٹر لاہور میں 38 واں پانچ روزہ لاہور عالمی کتاب میلہ سج گیا، اس کتاب میلے کا افتتاح چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کیا۔ ایکسپو سینٹر لاہور میں سجے کتاب میلے میں 240 سے زائد بک سٹالز لگائے گئے ہیں۔ 100 سے زائد قومی اور دو عالمی پبلشرز کی کتابیں کتاب میلے کی زینت بنی ہیں۔ کتاب میلے میں طلبا، طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے، اسلامی، تاریخی، ادبی سمیت مختلف موضوعات پر مشتمل کتابیں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ نے افتتاخی تقریب میں کہا کہ “کتب میلے پر آکر بہت خوشی ہوئی ،کتاب سے محبت کرنے والے انسان سے محبت ہے، المیہ ہے کہ ہماری توجہ کتابوں پر کم ہے”۔ “دنیا تعلیم کے ذریعے آگے آئی، ہم آگے اس وقت ہوں گے جب تعلیم میں آگے ہوں گے، جہاں بھی موقع ملتا ہے پبلشرز کے مسائل حکومت تک پہنچاتا ہوں”۔ چیئرمین پیمرا کا کہنا تھا کہ “حکومت سے درخواست ہے پبلشرز کو سپورٹ کیا جائے ،غیر ملکی کتابیں بہت مہنگی ہیں، پاکستانی پبلشرز مناسب قیمت میں کتابیں چھاپتے ہیں”۔