اپریل 5, 2025 12:30 صبح

English / Urdu

انڈیا میں اقلیت مخالف نفرت انگیز تقاریر میں 74 فیصد اضافہ : تحقیقی ریسرچ

مودی انتہاپسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی الیکشن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کر کے ہندوؤں کو اکسا کر ووٹ حاصل کرتی ہے،اس بنیاد پر 2024 میں اقلیتوں کے خلاف تقاریر کرنے پر انڈیا میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی خبر ارساں ادارہ رائٹرز کے مطابق واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقی گروپ نے پیر کے روز کہا کہ بھارت میں اقلیتوں جیسے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں 2024 کے قومی انتخابات کے دوران 74 فیصد اضافہ ہوا۔ انڈیا ہیٹ لیب نے 2024 میں نفرت انگیز تقریر کے 1,165 واقعات کو دستاویزی شکل دی، جو کہ ایک سال پہلے 668 کے مقابلے میں، اس نے سیاسی ریلیوں، مذہبی جلوسوں، احتجاجی مارچوں اور ثقافتی اجتماعات جیسے پروگراموں میں دیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ 2024 ہندوستان میں عام انتخابات کا سال تھا، جس میں 19 اپریل سے 1 جون کے درمیان سات مرحلوں میں پولنگ ہوئی، 2023 کے مقابلے نفرت انگیز تقریر کے واقعات کے نمونوں کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہندوستان کے ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات سے کچھ دن پہلے سامنے آئی ہے، جس کی حکومت کو انسانی حقوق کی تنظیمیں  ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ مودی کی حکومت اور پارٹی نے امتیازی ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی پالیسیاں، جیسے فوڈ سبسڈی اسکیمیں اور بجلی کی فراہمی، تمام ہندوستانیوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق گزشتہ سال نفرت انگیز تقاریر کے ایک تہائی واقعات 16 مارچ سے یکم جون تک انتخابی مہم کے عروج کے دوران پیش آئے، جس میں مئی قابل ذکر ہے۔ اس گروپ نے اپریل میں مودی کے ریمارکس کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مسلمانوں کو دراندازکہا تھا جن کے زیادہ بچے ہیں۔ مودی نے مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی اور تقسیم کو بھڑکانے سے انکار کیا۔ ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں پر انحصار کیا۔ انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق گزشتہ سال نفرت انگیز تقریر کے 80 فیصد واقعات بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت والی ریاستوں میں پیش آئے۔ یہ گروپ، جسے امریکہ میں مقیم کشمیری صحافی رقیب حمید نائیک نے قائم کیا، سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کا ایک پروجیکٹ ہے، جو واشنگٹن میں واقع ایک غیر منافع بخش تھنک ٹینک ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ہندوستان کی جانب دارانہ تصویر پیش کرتا ہے۔ انہوں نے املاک کی مسماری پر بھی روشنی ڈالی اور مسلمانوں کی ملکیت کے ایک نئے باب کا ذکر کیا، جسے حکام نے غیر قانونی تعمیر قرار دیا تھا۔ اسی طرح عورتوں کے حجاب پہننے پر بھی خواتین کو نشانہ بنایا جانے لگا، جو عام طور پر مسلمان لڑکیاں اور خواتین پہنتی ہیں۔ انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق  اس نے اپنی رپورٹ میں نفرت انگیز تقریر کی اقوام متحدہ کی تعریف کا استعمال کیا: مذہب، نسل، قومیت، نسل یا جنس سمیت صفات کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ کے لیے متعصبانہ یا امتیازی زبان

کراچی میں کرکٹ کا جنون، چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے دنوں کا ٹریفک پلان جاری

کراچی پولیس کی جانب سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سہ فریقی سیریز اور چیمپیئنز ٹرافی میچز کے موقع پر ٹریفک پلان جاری کر دیا گیا، میچز کے دنوں میں سر شاہ سلیمان روڈ کھلا رکھنے کا اعلان کر دیا۔ نجی نشریاتی ادارے جیوکے مطابق کراچی ٹریفک پولیس نے نیشنل اسٹیڈیم میں منعقدہ سہ ملکی سیریز اور چیمپیئنز ٹرافی کے میچوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ ٹریفک پلان کے مطابق ملینیم سے آنے والے نیشنل کوچنگ سینٹر، چائناگراؤنڈ میں گاڑیاں پارک کریں گے، جب کہ نیو ٹاؤن سے آنے والے بھی نیشنل کوچنگ سینٹر، چائناگراؤنڈ میں گاڑیاں پارک کرسکیں گے۔ ٹریفک پلان کے مطابق کارساز سے آنے والے نیشنل کوچنگ سینٹر اور چائنا گراؤنڈ میں پارک کرسکیں گے، واضح  رہے کہ کارساز سے آنے والے فلائی اوور کےنیچے سے ہوتے ہوئےکوچنگ سینٹر اور چائنا گراونڈ پہنچیں گے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ہیوی ٹریفک سہراب گوٹھ سے نیپا، لیاقت آباد نمبر10 سے حسن اسکوائر جاسکےگی، پی پی چورنگی سے آنے والی ہیوی ٹریفک یونیورسٹی روڈ جاسکےگی۔ ٹریفک پلان کے مطابق کارساز سے اسٹیڈیم، ملینیم تا نیوٹاؤن اور  اسٹیڈیم سگنل تا حسن اسکوائرسڑک ہیوی ٹریفک کے لیے بند ہوگی۔ ٹریفک پلان میں واضح کہا گیا ہے کہ گاڑیاں مختص پارکنگ مقامات پر ہی پارک کی جا سکیں گی۔ یاد رہے کہ چیمپیئنز ٹرافی 19 فروری سے پاکستان میں پاکستان میں کھیلی جائے، جس کے کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں میچز 19 سے 21 فروری اور یکم مارچ کوکھیلےجائیں گے، اس کے علاوہ جاری سہ ملکی سیریز کے میچز لاہور کے بعد 12 سے 14 فروری تک نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ ٹریفک پلان میں کہا گیا ہےکہ میچز کے دنوں میں سرشاہ سلیمان روڈ ٹریفک کے لیےکھلا رہےگا۔

کراچی کی 16 سالہ لڑکی نے سندھی زبان میں کیلکولیٹر تخلیق کر کے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا

پاکستان کے شہر کراچی کی ایک 16 سالہ طالبہ نے دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ مہروسے نام کی اس ذہین لڑکی نے صرف تین دنوں میں سندھ کی پہلی سندھی زبان میں کیلکولیٹر تیار کر کے ایسا کام کیا ہے جس نے ہر زبان کے حامل کاروباری افراد کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں سہولت فراہم کر دی۔ یہ کیلکولیٹر نہ صرف ایک ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے بلکہ سندھ کے لاکھوں سندھی بولنے والے افراد کے لیے ایک نیا انقلابی آلہ بن چکا ہے۔ مہروسے کا تعلق کراچی کے ریحان اللہ والا اے آئی اسکول سے ہے جہاں وہ جدید ترین تعلیمی طریقوں سے تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں روایتی تدریسی طریقوں کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ یہاں کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سمارٹ ڈیوائسز کی مدد سے پڑھایا جاتا ہے۔ مہروسے نے اپنے اس پروجیکٹ کے حوالے سے بتایا کہ اس کیلکولیٹر کا مقصد سندھ کے کاروباری افراد کی مدد کرنا ہے جو اپنے کام کاج میں سندھی زبان میں آسانی سے حساب کتاب کرنے کے لیے اس آلے کا استعمال کر سکیں۔ یہ بھی پڑھیں: رات کو جنک فوڈ کی شدید خواہش: ایک دلچسپ سائنسی حقیقت جو آپ کو حیران کر دے گی! مہروسے نے بتایا “اس کیلکولیٹر کو اے آئی کے ذریعے تخلیق کیا ہے تاکہ سندھی بولنے والے افراد کو یہ فائدہ ہو سکے۔ اگر حکومت اس پروجیکٹ میں دلچسپی لے تو یہ آلہ تجارتی سطح پر بھی دستیاب ہو سکتا ہے۔” اس 16 سالہ بچی کا کہنا ہے کہ “آج کے دور میں ڈگری کی بجائے ہنر سیکھنا زیادہ اہم ہے، میں نے اپنی مہارتوں کو بڑھایا اور آج میں ڈالرز میں کما رہی ہوں اور ایک نجی چینل بھی چلا رہی ہوں۔” مہروسے کی اس حیرت انگیز تخلیق کی تعریف اس کے استاد روبا فاطمہ نے بھی کی ہے جو ریحان اللہ والا اے آئی اسکول کی وائس پرنسپل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ “ہم اپنے طلباء کو سیکھتے ہوئے کمانے کی صلاحیت دیتے ہیں اور ہمارا نصاب اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ طالب علم تعلیم حاصل کرتے ہوئے کمائی بھی کر سکتے ہیں۔” مہروسے کی کامیابی خاص طور پر خواتین کے لیے ایک سبق ہے کیونکہ پاکستان میں خواتین کی تعداد سائنسی مضامین میں بڑھ رہی ہے لیکن عملی سائنس اور تحقیق کے شعبے میں خواتین کی کم پیشرفت ایک تشویش کا موضوع ہے۔ اس کامیابی نے خواتین اور لڑکیوں کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نہ صرف کامیاب ہو سکتی ہیں بلکہ اپنی محنت اور ذہانت سے دنیا کو حیران بھی کر سکتی ہیں۔ مہروسے کی یہ کامیابی ان سب کے لیے ایک پیغام ہے جو محنت اور ہنر کے ساتھ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں، اور یہ ایک نیا دور ہے جس میں نوجوانوں کی طاقت اور صلاحیتوں کو سراہا جا رہا ہے۔ مزید پڑھیں: پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 28 فیصد اضافے سے 1.86 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں

چین کی کمپنی ‘ڈیپ سیک’ کے AI چیٹ بوٹ پر متعدد ممالک نے پابندیاں عائد کر دیں

دنیا بھر میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے اور اس بار چین کی مصنوعی ذہانت (AI) کی کمپنی ‘ڈیپ سیک’ اس کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور تائیوان جیسے ممالک نے اپنے سرکاری اداروں میں ڈیپ سیک کے نئے AI چیٹ بوٹ پروگرام تک رسائی پر پابندی لگا دی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ مزید ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔ ‘ڈیپ سیک’ ایک چینی اسٹارٹ اپ ہے جس نے 2023 میں اپنا آغاز کیا۔ اس کمپنی کو چین کے شہر ہانگ زو میں ‘لیانگ فینگ’ نے قائم کیا تھا، جو پہلے ہی ایک کامیاب ہیج فنڈ گروپ ‘ہائی فلائر’ کے بانی ہیں۔ جنوری 2025 میں اس کمپنی نے اپنی جدید ترین مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ “ڈیپ سیک آر1” جاری کیا، جو ایک مفت AI چیٹ بوٹ ہے اور اس کا انداز ChatGPT سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔ ڈیپ سیک کے چیٹ بوٹ نے لاونچ ہوتے ہی عالمی سطح پر دھوم مچادی تھی خاص طور پر جب کمپنی نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کے ماڈل کی تیاری پر اپنے حریفوں کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت آئی۔ امریکی ٹیک کمپنیوں کے شیئرز پر اس کے اس دعوے نے گہرا اثر ڈالا تھا اور یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ صارفین نے مذاق کیا کہ “اب ChatGPT کی نوکری چلی گئی ہے” مزید پڑھیں: پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 28 فیصد اضافے سے 1.86 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں عالمی میڈیا الجزیرہ کے مطابق تاہم، یہ کامیابی کسی کے لیے خوشی کا باعث نہ بنی۔ سرکاری سطح پر ایک نیا خطرہ محسوس کیا گیا ہے اور اب متعدد ممالک نے اپنے حکومتی اداروں میں اس ایپلیکیشن تک رسائی کو روکنا شروع کردیا ہے۔ جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور تائیوان جیسے ممالک نے ڈیپ سیک کے چیٹ بوٹ کو حکومتی ملازمین کے موبائل آلات پر بلاک کر دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس چیٹ بوٹ کو استعمال کرنے سے ‘سیکیورٹی کے سنگین خطرات’ پیدا ہو سکتے ہیں۔ چین کی کمپنی کی جانب سے صارفین کی ذاتی معلومات کے حوالے سے عدم شفافیت اور عدم یقینیت نے حکومتی اداروں کو محتاط کر دیا ہے۔ امریکا کے حکام نے بھی اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے حکومت کے ملازمین کے موبائل آلات پر ڈیپ سیک کی رسائی پر پابندی لگا سکتے ہیں۔ ان تمام ممالک کا مرکزی اعتراض یہ ہے کہ چین کی کمپنی “ڈیپ سیک” صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے ناقابل فہم پالیسیوں کی حامل ہو سکتی ہے جس سے معلومات کی حفاظت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: رات کو جنک فوڈ کی شدید خواہش: ایک دلچسپ سائنسی حقیقت جو آپ کو حیران کر دے گی! اس وقت دنیا بھر میں جہاں ایک طرف اس نے اپنی کم لاگت کے دعوے سے عالمی ٹیک انڈسٹری کو ہلا دیا تھا وہیں دوسری طرف اس کی سیکیورٹی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ مزید ممالک بھی ڈیپ سیک پر پابندیاں عائد کر سکتے ہیں اور یہ پوری عالمی ٹیک انڈسٹری کو متاثر کر سکتا ہے۔ چین کی ڈیپ سیک کی کامیابی کے باوجود اس کے خطرات اور سیکیورٹی خدشات عالمی سطح پر سر اٹھا رہے ہیں۔ ڈیپپ سیک کی پھیلتی ہوئی پابندیاں اور عالمی ردعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں نئی ٹیکنالوجیز کی کامیابیاں دنیا کو متاثر کرتی ہیں وہیں ان کے خطرات بھی اتنے ہی سنگین ہو سکتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اگلے قدم میں اور کون سی حکومتیں اس عالمی AI بحران میں حصہ ڈالتی ہیں اور یہ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچتی ہے۔ لازمی پڑھیں: انسانی آنکھ کی حیرت انگیز ریزولوشن: کیا ہماری نظر جدید کیمروں سے زیادہ طاقتور ہے؟

”آئی ایم ایف پروگرام کے بعد ملک میں میکرو اکنامک استحکام آیا ہے” شہباز شریف کا دبئی میں تاجروں سے خطاب

وزیرِاعظم شہباز شریف نے دبئی میں کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے بعد ملک میں میکرو اکنامک استحکام آیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے دبئی میں تاجروں اور سرمایہ داروں سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکمل معاشی استحکام کے حصول کے لیے سفر جاری ہے۔معاشی استحکام کا سفر طویل مشکلاور چیلنجز سے بھر پور ہے۔معاشی ترقی کے لیے اشاریے بہتر ہوئے ہیں۔ شہباز شریف نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، شرح سود میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم پاکستان نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جنوری میں ترسیلاتِ زر 3 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، ملکی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ٹی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت میں تربیت کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت کا شعبہ ملکی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کان کنی اور معدنیات کے شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہو گا۔ حکومتی اخراجات پر ایک ہزار نوجوانوں کو زرعی تربیت کے لیے چین بھیجا جا رہا ہے۔ وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں میکرو اکنامک کے شعبے میں بہتری آئی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد ملک میں میکرو اکنامک استحکام آیا ہے۔

مردان میں پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پر منفی مواد پھیلانے پر پہلا مقدمہ درج کر لیا گیا

مردان میں پیکا ایکٹ کے تحت پہلا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ مردان پریس کلب اور ارکین کلب کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا کہ زاہد نامی شہری نے سوشل میڈیا پر ان اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پیکا ایکٹ (پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) ایک ایسا قانون ہے جو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائے جانے والے فحش، نفرت انگیز یا بے بنیاد مواد کے خلاف سخت کارروائی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت نہ صرف سوشل میڈیا پر ہتک آمیز اور جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کو سزا دی جا سکتی ہے بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ مردان پولیس کے مطابق زاہد کے خلاف مقدمہ اس وقت درج کیا گیا جب مردان پریس کلب اور ارکین کلب کے ارکان نے شکایت کی کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی اور توہین آمیز مواد شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی پی او مردان ظہور بابر آفریدی کو تحریری درخواست دی گئی تھی جس پر فوراً کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء کا احتجاج، سرینا چوک پر پولیس سے تصادم مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے بتایا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ مقدمہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں پیکا ایکٹ کے تحت اب سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے منفی مواد کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔ پاکستان میں پیکا ایکٹ کے نفاذ پر پہلے ہی بڑے پیمانے پر تنازعات اور احتجاجات دیکھنے کو ملے ہیں۔ گزشتہ دنوں وکلاء نے اس قانون کو آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون سوشل میڈیا پر حکومتی مخالف آوازوں کو دباتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس پر کئی بار ردعمل دیا اور بعض دفعات کو کالعدم قرار دینے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں اس ایکٹ کے تحت بعض اہم معاملات پر عدالتوں کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا جس کے بعد پیکا ایکٹ میں ترمیم کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس قانون کے استعمال کے دوران حکومتی اختیارات کا غلط استعمال ممکن ہے اور اس کے اثرات عوامی آزادیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ مردان میں زاہد کے خلاف درج ہونے والا مقدمہ اس بات کا عکاس ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی میں تیزی آ رہی ہے اور اس قانون کے اثرات پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ مزید پڑھیں: رمضان المبارک کا چاند کب نظر آئے گا؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی معطل کر دی

غزہ کی صورتحال میں ایک اور نیا موڑ آ گیا ہے حماس کے فوجی ترجمان نے اعلان کیا کہ غزہ میں قید افراد کی رہائی ‘غیر معینہ مدت تک’ ملتوی کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد کیا گیا ہے۔ حماس نے واضح طور پر کہا کہ جب تک اسرائیل معاہدے کی شرائط کی مکمل پاسداری نہیں کرتا تب تک قیدیوں کی رہائی کا عمل آگے نہیں بڑھے گا۔ اس اعلان نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ قیدیوں کی رہائی کے لئے طویل مذاکرات کے بعد ایک امن معاہدہ طے پایا تھا۔ دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ان کے زبردستی بے دخل کرنے کے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی میں واپسی کا کوئی حق نہیں ہوگا۔” یہ بیان اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے خاص طور پر جب حماس نے ٹرمپ کے غزہ کو خریدنے اور اس پر قابض ہونے کے منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی مسئلے کو ‘ریل اسٹیٹ ڈیلر’ کے انداز میں حل کرنے کی کوشش ناکامی کی راہ پر لے جائے گی۔ مزید پڑھیں: غزہ کو قبضے میں لے کر حماس کو وہاں سے ختم کریں گے اور وہاں صرف ہم موجود ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے جب اسرائیلی فورسز نے غزہ سٹی کے شجاعیہ علاقے میں ایک اور شخص کو قتل کر دیا۔ دوسری جانب فلسطینی اپنے تباہ شدہ گھروں کی جانب واپس آنا شروع ہو گئے ہیں خاص طور پر شمالی غزہ میں، جہاں اسرائیلی فوج نے نیٹزارم کوریڈور سے اپنی پسپائی اختیار کی تھی۔ فلسطینی اپنے اجڑے ہوئے گھروں کی باقیات میں کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسرائیل کے حملے اور فورسز کی موجودگی نے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جنگ نے اب تک 48,208 افراد کی جان لے لی ہے اور 111,655 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ تعداد صرف سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہے جبکہ غزہ کے حکومت میڈیا آفس نے مرنے والوں کی تعداد 61,709 تک پہنچا دی ہے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو ملبے تلے دب کر لاپتہ ہو گئے تھے۔ دوسری جانب، اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے جب کہ 200 سے زائد افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس خونریزی اور سیاسی تصادم میں یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا دنیا فلسطینیوں کی مشکلات کو دیکھ کر کچھ کرے گی یا یہ جنگ یوں ہی بڑھتی رہے گی۔ یہ بھی پڑھیں: آغا کریم خان مصر میں اپنے دادا سلطان محمد شاہ کی قبر کے قریب سپرد خاک

” آرمی چیف کے نام خط ملک کی بہتری کے لیے لکھا تھا” عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو

سابق وزیرِاعظم و بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر بشمول پنجاب، سندھ اور صوابی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پر عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آرمی چیف کے نام خط ملک کی بہتری کے لیے نیک نیتی سے لکھا تھا۔ اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ اس ننگی فسطائیت کے دور میں بھی عوام ہر مرتبہ میری کال پر خوف کے بت توڑ کر نکلتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قوم اب ہر حال میں حقیقی آزادی کی منتظر ہے۔ اردلی حکومت اندر سے ڈری ہوئی ہے۔ ملک بھر میں چھاپے مارے گئے اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔” بانی پی ٹی آئی کا کہنا  تھا کہ ” کرکٹ کا بہانہ بنا کر ہمیں مینار پاکستان جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کھوکھلی حکومت اندر سے کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔” عمران خان نے آرمی چیف کو لکھے گئے خط کی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے آرمی چیف کے نام خط ملک کی بہتری کے لیے نیک نیتی سے لکھا تھا۔ یہ میرا ملک ہے اور مجھے اس کی فکر ہے۔ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو کہنا چاہتا ہوں کہ فوج کی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔ آپ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کرتے مگر بچہ بچہ واقف ہے کہ ملک کا نظام آرمی چیف ہی چلا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک پر محسن نقوی جیسے ٹاوٹس مسلط کر دئیے گئے ہیں، جس نے کبھی کونسلر کا انتخاب نہیں لڑا، مگر اب وہ کرکٹ سے لے کر خارجی اور داخلی معاملات تک ہر چیز کا کرتا دھرتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ملک میں ہر جانب جبر و فسطائیت کا بازار گرم ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی خودمختاری کا جنازہ نکال دیا گیا۔ قاضی فائز عیسیٰ تاریخ کے جانبدار اور بے شرم ترین چیف جسٹس تھے، جن کا کردار جسٹس منیر سے بھی زیادہ گھناونا تھا۔ ان کے دور میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا، انسانی حقوق بری طرح پامال ہوئے، مگر انہوں نے بجائے کوئی ایکشن لینے کے، ہر غیر قانونی اقدام کی سہولت کاری کی۔ سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق دونوں بری طرح پامال ہیں۔ انتخابات کے نام پر ڈھونگ رچا کر عوام سے ان کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ چیف  الیکشن کمشنر اور قاضی فائز عیسیٰ اس سب میں اسٹیبلشمنٹ کے سہولت کار بنے رہے۔ ان دونوں چہروں نے اپنے عہدوں اور عوام سے غداری کی۔ اس سب کے نتیجے میں جعلی ایم این ایز، جعلی پارلیمان جعلی وزیراعظم اور جعلی صدر کا وجود عمل میں آیا ہے۔ موجودہ عدالتی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا کام اب آئینی بینچ سے لیا جا رہا ہے۔ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے۔ ججز کا یہ فرض ہوتا ہے کہ دو طرفہ مؤقف سنا جائے، مگر یہاں ایک ہی طرف کا مؤقف سن کر فیصلے سنا دئیے جاتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے جسٹس یحیٰ آفریدی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ یحیٰ آفریدی  کو خصوصی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جو ملک میں انسانی حقوق اور قانون کا حال ہے، آپ کو اس کے خلاف کھڑے ہو کر تاریخ میں سرخرو ہونا چاہیئے اور قاضی عیسیٰ جیسا شرمناک کردار ادا نہیں کرنا چاہیئے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پیکا کے کالے قانون کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ کا جو حال کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔معیشت کو 1.7 بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ملک میں برین ڈرین تیزی سے جاری ہے۔17 لاکھ افراد بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔معاشی تباہی اور بے روزگاری سے پوری قوم پریشان ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن کا مطالبہ اسی لیے کیا تھا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ مذاکرات صرف ایک ڈرامہ ہیں۔ آٹھ فروری پر کمیشن بنانا تو ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن بنا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرتے، کیونکہ یہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات تھے اور فوری طور پر ان پر ایکشن لیا جا سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ سابق وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کو اسٹیبلشمنٹ نے گولیاں چلوا کر نہتی عوام کا قتل کیا۔ملک کے سب سے بڑے منی لانڈررز کو قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ 30 سال سے خفیہ ایجنسیاں ہمیں بتا رہی تھیں کہ ملک کو ان دو خاندانوں نے کس طرح لوٹا۔ سرے محل اور مے فئیر فلیٹس کی فائلیں انہوں نے ہمیں خود دکھائیں۔ اس کے علاوہ  نیب نے 1100 ارب ریکور کرنے تھے۔ ہمارے دور میں 480 ارب ریکور کیے گئے کیونکہ ہم احتساب کو لے کر سنجیدہ تھے، جب کہ پچھلے 17 سال میں صرف 80 سے 90 ارب ہی اکٹھے ہو سکے۔ نیب ترامیم کر کے ان دو خاندانوں کے تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ مقصود چپڑاسی، مے فئیر، ون ہائیڈ پارک میں رشوت، اومنی گروپ سمیت تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ ہمیں خود ہی بتایا گیا کہ یہ لوگ کرپٹ ہیں اور اب دھاندلی کے ذریعے ان کو ہم پر مسلط کر دیا گیا، صرف اس لیے کیونکہ بوٹ پالشی ان کی مہارت ہے۔ پاکستان کی عوام جن چہروں کو مسترد کر چکی ہے ان کو حکومت دے کر فوج نے اپنی ساکھ تباہ کر لی ہے اور عوام میں نفرت پیدا کی ہے۔ اس جعلی نظام کی بقاء صرف تحریک انصاف کو کچلنے اور ہمارے لوگوں کو جیلوں میں رکھنے میں ہے، تاکہ

ایک طویل انتظار کے بعد واپس آئی سنچری: چیمپیئنز ٹرافی سے قبل روہت شرما کی فارم کا آغاز

انڈیا کے کرکٹ میدان میں ایک خوشگوار موڑ آیا ہے جب روہت شرما نے انگلینڈ کے خلاف اپنے شاندار سنچری کے ساتھ اپنی فارم میں واپسی کی۔ یہ اننگز ان کے لیے ایک نیک شگون سمجھی جا رہی ہے خاص طور پر چیمپیئنز ٹرافی کے لیے ایک ہفتہ قبل۔ روہت شرما کی یہ سنچری نہ صرف ان کی اپنی کارکردگی کا مظہر ہے بلکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیے بھی ایک طاقتور پیغام ہے کہ وہ عالمی سطح پر ٹورنامنٹ کے لیے تیار ہیں۔ روہت شرما نے اپنی سنچری کے ذریعے نہ صرف اپنی فارم کی واپسی کا اعلان کیا بلکہ بھارت کو انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ایک زبردست جیت دلوائی۔ گزشتہ ایک سال سے آوٹ آف فارم رہنے والے روہت نے اپنے مداحوں کی دعاؤں کو سچ ثابت کیا۔ انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان نے دوسرے ایک روزہ میچ میں 90 گیندوں پر 119 رنز اسکور کیے جس میں سات چھکے اور 12 چوکے شامل تھے۔ ان کی اس زبردست اننگز نے بھارت کو انگلینڈ کے 305 رنز کے ہدف کو پانچ اوورز قبل ہی حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔ دوسرے ایک روزہ میچ میں انڈیا کی اوپننگ جوڑی روہت شرما اور شبھمن گل نے انگلینڈ کے بولرز کو زبردست انداز میں کھیل کر میچ کا نقشہ بدل دیا۔ ان دونوں کے درمیان 136 رنز کی شراکت نے انڈیا کو ایک مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ ایک جانب سے شبھمن گل نے 52 گیندوں پر 60 رنز بنائے جبکہ دوسری جانب سے روہت شرما نے 90 گیندوں پر 119 رنز کے ساتھ انڈین اننگز کا آغاز کیا۔ مزید پڑھیں: کیویز کا جیت کا سلسلہ جاری، پروٹیز کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ گئی روہت کی اننگز میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے بہترین انداز میں کھیلتے ہوئے انگلینڈ کے تیز بولرز کو پوری طرح ڈومینیٹ کیا۔ ان کے چھکے اور چوکے بھارتی کرکٹ شائقین کے لیے خوشی کا باعث بنے۔ وہ 30 ویں اوور میں ایک فل ٹاس کو غلط کھیل گئے اور عادل رشید کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے مگر اس وقت تک انڈیا کو صرف 85 رنز کی ضرورت تھی جو کہ پانچ اوورز میں مکمل کر لیے گئے۔ یہ روہت شرما کی گیارہ ماہ کے بعد پہلی سنچری تھی اور اس سے انڈیا کی چیمپیئنز ٹرافی کی تیاریوں کو ایک نیا جوش ملا۔ سوشل میڈیا پر روہت کی تعریفیں کی جا رہی ہیں اور ان کی اننگز کو “کلاسک” اور “شاندار” قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی کرکٹر منوج تیواری نے روہت کی اننگز کو شاندار انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ “روہت شرما نے اپنے ناقدین کو جواب دیا ہے اور ٹیم کے لیے شاندار جیت حاصل کی ہے۔” اس کے علاوہ ایک اور صارف نے لکھا کہ “روہت شرما نے ثابت کر دیا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے۔” چیمپیئنز ٹرافی کے حوالے سے بھارتی اور آسٹریلیش کرکٹ ماہرین نے انڈیا اور آسٹریلیا کو ٹورنامنٹ کے فیورٹ قرار دیا ہے۔ روی شاستری اور رکی پونٹنگ نے حالیہ گفتگو میں کہا کہ دونوں ٹیموں کی موجودہ کارکردگی انہیں چیمپیئنز ٹرافی میں کامیابی کی جانب گامزن کر رہی ہے۔ انڈین ٹیم میں جسپریت بمراہ کی قیادت میں بہترین فاسٹ بولرز کی موجودگی اور بیٹنگ میں روہت شرما، وراٹ کوہلی، اور شبھمن گل جیسے کھلاڑی فارم میں نظر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ کے خلاف انڈیا کی حالیہ جیت اس بات کا غماز ہے کہ ان کی ٹیم چیمپیئنز ٹرافی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ دوسرے میچ میں بھی سریش اییر اور اکشر پٹیل کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے اس بات کو ثابت کیا کہ انڈیا کی بیٹنگ لائن بہت مضبوط ہے۔ انگلینڈ کے لیے یہ سیریز مشکل ثابت ہوئی ہے۔ ان کی کرکٹ ٹیم مسلسل شکستوں کا شکار رہی ہے اور چیمپیئنز ٹرافی سے قبل ان کے لیے یہ جیتنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انگلینڈ کی کارکردگی کا یہ تسلسل جو گزشتہ چند مہینوں میں ان کے لیے ایک پریشانی کا باعث بنا ہے اب ان کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ بھی پڑیھں: پاکستان فٹبال فیڈریشن کی بار بار معطلی، ایشین کپ کوالیفائرز سے دستبرداری کا اعلان پاکستان کرکٹ ٹیم بھی چیمپیئنز ٹرافی میں ایک چیلنج کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کو گھریلو پچز کا فائدہ ہوگا لیکن ان کے لیے پریشانی کا باعث یہ ہے کہ ان کی بیٹنگ اور بولنگ کا توازن کچھ کمزور نظر آ رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی پچھلی کارکردگی اس بات کا غماز ہے کہ ان کو اپنی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انڈین ٹیم چیمپیئنز ٹرافی کے لیے اب تک ایک مضبوط دعویدار نظر آ رہی ہے۔ روہت شرما کی سنچری اور ٹیم کی حالیہ کارکردگی نے انڈیا کو عالمی سطح پر ایک بڑے ٹورنامنٹ کے لیے تیار کر دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ انڈیا اپنی اس فارم کو چیمپیئنز ٹرافی میں کیسے برقرار رکھتا ہے اور کیا وہ اس میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ لازمی پڑھیں: آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے لیے مشکلات: کھلاڑیوں کی چوٹیں اور حیران کن تبدیلیاں کرکٹ ٹیموں کے لیے چیلنج بن گئیں

عالمی ایجنسی این آر سی نے امریکی امداد روکنے پر ‘تقریباً 20 ممالک’ میں کام روک دیا

امریکی صدر کے حلف اٹھانے کے بعد حکومت نے امداد سےچلنے والی ایجنسیوں کو امداد بند کرنے کا حکم دیا تھا جس سے ایجنسیوں کوجنگوں،آفات اور بے گھر ہونے والے متاثرہ افراد  تک امداد نہ پہنچانے کے لیے مجبور کیا گیا۔ دنیا کی سب سے بڑی امدادی ایجنسیوں میں سے ایک نارویجین ریفیوجی کونسل نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی امداد منجمد ہونے کی وجہ سے اسے تقریباً 20 ممالک میں اپنی انسانی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن ( این آر سی)(ایک آزاد انسانی تنظیم ہے جو نقل مکانی پر مجبور لوگوں کی مدد کرتی ہے)نے ایک بیان میں کہا کہ “ہماری تاریخ میں پہلی بارہمیں جنگوں، آفات اور بے گھر ہونے سے متاثرہ تقریباً 20 ممالک میں لاکھوں لوگوں کے لیے جاری اور فوری انسانی کام کو معطل کرنا پڑے گا”۔ “یہ ڈرامائی اقدامات روکنے، جزوی معطلی، یا ہماری عالمی انسانی کارروائیوں کے لیے ریاستہائے متحدہ کی فنڈنگ کی عدم ادائیگی کے جواب میں آئے ہیں۔” این آر سی کے مطابق اس نے 2024 میں “امریکہ کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں کے ذریعے 16 لاکھ لوگوں کی مدد کی”۔ اس ایجینسی کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے سال اس کی فنڈنگ کا صرف 20 فیصد یا 15 کروڑ ڈالر امریکہ سے آیا تھا،اسے پہلے ہی یوکرین میں “فرنٹ لائنز کے ساتھ کمیونٹیز میں 57 ہزار لوگوں کو ہنگامی امداد” کی طے شدہ ترسیل کو روکنا پڑا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسے “دنیا بھر میں امدادی کارکنوں کو نکالنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، بشمول افغانستان اور جلد ہی برکینا فاسو اور سوڈان کے دارفور کے علاقے میں امریکی مالی امداد سے چلنے والے انسانی امدادی پروگراموں کو روکنا پڑے گا۔ این آر سی کے مطابق امریکی حکومت کو لاکھوں ڈالر کی بقایا ادائیگی کی درخواستیں ہیں” اور یہ کہ اگر وہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے تو لاکھوں افراد امریکی انسانی ہمدردی کی مالی اعانت کی مدد سے پہلے کی اہم مدد کے بغیر رہ جائیں گے۔” واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد سے، ٹرمپ نے غیر ملکی امداد کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی( یو ایس اے آئی ڈی) کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو عالمی سطح پر امریکی انسانی امداد تقسیم کرتی ہے۔