اپریل 5, 2025 12:30 صبح

English / Urdu

فلسطینی کسی محفوظ مقام پر جاکر رہیں، ٹرمپ کی اردنی بادشاہ سے ملاقات

اردنی بادشاہ عبداللہ نے وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جہاں مذاکرات سے قبل اوول آفس میں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی، ٹرمپ نےکہا کہ انہیں 99 فیصد یقین ہے کہ وہ ‘مصر کے ساتھ بھی کچھ’ کرنے کے قابل ہوں گے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ کے غزہ کے فلسطینیوں کو دی جانے والی دھمکی کے بعد اردن کے بادشاہ عبداللہ وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں، جہاں انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ مذاکرات سے قبل اوول آفس میں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی، امریکی صدر ٹرمپ نےکہا کہ فلسطینی کسی اور مقام پر جا کر محفوظ رہیں، جو کہ غزہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ کو خریدنے نہیں جا رہے، بلکہ ہم اسے منظم طریقے سے چلائیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں 99 فیصد یقین ہے کہ وہ ‘مصر کے ساتھ بھی کچھ’ کرنے کے قابل ہوں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں اردن اور مصر میں زمین کے ٹکڑے ہوں گے، جہاں فلسطینی رہیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ حماس ہفتے تک غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر رہائی نہیں ہوتی ہے تو، “تمام شرط بند ہیں۔” دوسری جانب اردنی بادشاہ عبداللہ نے غزہ سے 2000 بیمار فلسطینی بچوں کو لے جانے کی پیشکش کی، اردنی بادشاہ نے مزید کہا کہ مصر ایک منصوبہ پیش کرے گا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ کیسے کام کیا جائے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر اردن اپنے ساتھ غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں کو نہیں لے جاتا، تو وہ اردن کو دی جانے والے امداد روکنے پر غور کرے گا، فلسطینیوں کو غزہ چھوڑ کر اردن سمیت ہمسایہ ممالک میں کوچ کر جانا چاہیے، جس کے بعد اردنی بادشاہ وائٹ ہاؤس دورہ پر پہنچے ہیں۔ یاد رہے کہ اردن پہلے بھی 20 لاکھ رجسٹرڈ فلسطینیوں کو رکھنے والا ملک ہے، جہاں 1948 میں اسرائیل کے بننے کے بعد جلاوطن ہونے والے فلسطینی پناہ گزین ہیں۔ اردن مقبوضہ مشرقی یروشلم میں عیسائی اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کا سرکاری محافظ ہے۔ ٹرمپ کے دوسرے عہد میں ملاقات کرنے والے اردنی بادشاہ عبداللہ پہلے عربی ہیں۔

“اگر پیکا ایکٹ نافذ ہو گیا تو صحافی صرف موسم کی رپورٹنگ کریں گے”، صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار

پیکا ایکٹ کے خلاف صحافیوں اور شہریوں نے متعدد درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں ، صحافیوں نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کو کالا قانون قرار دیا ہے کہ یہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی اور پریس کی آزادی کو محدود کرتا ہے اور اگر پیکا ایکٹ نافذ ہو گیا تو صحافی صرف موسم کی رپورٹنگ کریں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا ایکٹ سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد نے کہا کہ اگر پیکا ایکٹ نافذ ہو گیا تو صحافیوں کے پاس موسم کے علاوہ رپورٹنگ کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس قانون کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کی، جس میں صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی اور پریس کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔ کارروائی کے دوران وکیل عمران شفیق اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد نے قانون میں سنگین قانونی تضادات کی نشاندہی کی۔ عمران شفیق نے استدلال کیا کہ پیکا کو قانونی مسودے میں غلطیوں کے ساتھ (بشمول نقل شدہ اور متضاد حصے) جلد بازی میں پاس کیا گیا ہے۔ آزاد نے استدلال کیا کہ قانون نے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی کی ہے، جو آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کی ضمانت دیتے ہیں۔ سماعت کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا جعلی خبروں کو روکنا ترجیح ہونی چاہیے؟ جعلی خبریں واقعی ایک مسئلہ ہے۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے جواب دیا کہ صحافی غلط معلومات کی مخالفت کرتے ہیں، میڈیا ریگولیشن کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے،ہم ذمہ دارانہ صحافت کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ریگولیشن کے بھیس میں سنسر شپ ناقابل قبول ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے قانون کو معطل کرنے کی استدعا کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرے،عدالت نے کہا کہ سماعت کی نئی تاریخ رجسٹرار آفس مقرر کرے گی۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے گزشتہ ہفتے ایک پٹیشن دائر کی تھی، جس میں پیکا کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا تھا۔ اس نے دلیل دی کہ ترامیم تقریر پر حکومتی کنٹرول کو بڑھاتی ہیں اور بغیر کسی عمل کے جعلی خبروں کو مجرم بناتی ہیں۔ پٹیشن میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پیکا بین الاقوامی انسانی حقوق اور ڈیجیٹل آزادیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، عدالت سے اسے ختم کرنے کی اپیل کی گئی۔ خیال رہے کہ سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے پیکا ایکٹ کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔

نویں کثیر القومی مشق امن 2025 شمالی بحیرہ عرب میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے انعقاد کے ساتھ اختتام پذیر

پاک بحریہ کے زیر اہتمام کثیرالقومی مشق امن 2025 شمالی بحیرہ عرب میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے شاندار انعقاد کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی- فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  (آئی ایس پی آر) کے مطابق سات فروری سے شروع ہونے والی  نویں کثیر القومی امن مشق پانچ روز بعد  بین القوامی فلیٹ ریویو کے انعقاد کے بعد اختتام پذیر ہو گئی۔ اس سال تقریبا 60 ممالک نے اپنے بحری جنگی جہازوں، ایئر کرافٹ، میرینز، اسپیشل آپریشن فورسز اور بڑی تعداد میں مبصرین کے ساتھ حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق امن مشق کے اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر  مہمان خصوصی تھے- انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں پاک بحریہ اور غیر ملکی بحری جنگی جہازوں کی جانب سے امن فارمیشن کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ مشق “امن کے لیے متحد” موٹو کے تحت پاکستان کی امن اور باہمی تعاون پر مبنی سلامتی کے لیے غیر متزلزل حمایت کی عکاس  کرتی ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک بحریہ کے جہاز معاون آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا،اس موقع پر گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر برائے سمندری امور بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں، شریک ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنرز، غیر ملکی بحری افواج کے سربراہان، سینئر ملٹری آفیسرز، دفاعی اور نیول اتاشی بھی اس تقریب میں شریک تھی۔ فلیٹ ریویو میں پاکستان نیوی، پاکستان ایئر فورس اور شریک غیر ملکی طیاروں کا شاندار فلائی پاسٹ بھی پیش کیا گیا،فلائی پاسٹ کے بعد مشق میں حصہ لینے والے بحری جہازوں کی جانب سے مین اینڈ چیئر شپ کا مظاہرہ کیا گیا- مہمان خصوصی جنرل عاصم منیر  نے امن 2025 کی کامیاب میزبانی پر پاک بحریہ کو مبارکباد دی اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا،اور میری ٹائم سیکیورٹی میں تعاون کے عزم کا اظہار کرنے پر شریک علاقائی و عالمی بحری افواج کا شکریہ ادا کیا۔ مہمان خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ امن 2025 ایک ایسا فورم بن کر سامنے آیا ہے جس نے تمام عالمی جغرافیائی طاقتوں کو “محفوظ سمندر ،خوشحال مستقبل“ کے مشترکہ مقصد کے تحت جمع کیا ۔ جس کی عملی عکاس دنیا بھر سے بحری افواج کی اس مشق میں بھرپور شرکت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کے ساتھ منعقد ہونے والے پہلے امن ڈائیلاگ نے دنیا بھر سے آئی بحری قیادت کو بحری مسائل پر باہمی بات چیت کا موقع فراہم کیا۔ مشق کا اختتام روایتی امن فارمیشن کی تشکیل کے ساتھ ہوا جو بحری تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔

کراچی والے ڈمپرز کے نشانے پر: نااہل پی پی سرکار ٹریفک قوانین پر بھی عمل نہیں کروا سکتی: حافظ نعیم

Hafiz naeem ur rehman ji

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہری ڈمپرز کے نشانے پر ہیں اور نااہل پی پی سرکار ٹریفک قوانین پر عمل درآمد تک نہیں کروا سکتی۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے شہری ڈمپرزاور ٹینکرز کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ڈیڑھ ماہ میں 100 سے زائد جانیں چلی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 16 برس سے لگاتار حکومت کرنے والی پیپلزپارٹی جعلی مینڈیٹ کے ساتھ برسر اقتدار ہے۔ نااہلی ایسی کہ ٹریفک قوانین پربھی عمل نہیں کرواسکتے، کراچی میں نہ گورننس ہے نہ عوام کو کوئی ریلیف ہے۔ بلدیاتی اداروں پر عوامی رائے پر شب خون مار کر قبضہ کررکھا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کی تعلیمی نسل کشی کی جارہی ہے۔ دوہرے ڈومیسائل بناکر داخلوں تک سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اصل سوال ان سے ہے جنھوں نے مئیرشپ پر قبضہ کروایا اور عام انتخاب میں اس ‘سسٹم’ کو مسلط کیا۔ خیال رہے کہ کراچی کی سڑکوں پر دندناتے ڈمپرز سے عام شہریوں کے کچلے جانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ رواں برس ڈمپرز سے اموات کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکومتی پابندیاں بھی انہیں لگام ڈالنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ آج صبح بھی کراچی میں ایک اور شہری ڈمپر کے نیچے آنے کے باعث جاں بحق ہوا۔ کراچی پولیس نے موقع پر پہنچ کر ڈمپر کو تو تحویل میں لے لیا تاہم ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے 30 سالہ نوجوان کی شناخت صدیق ولد یعقوب سے ہوئی ہے۔ سڑکوں پر موت بانٹتے ان ڈمپرز کو قابو کرنے کے لیے حکومت نے دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کے شہر میں داخلے پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود حادثات میں کمی نہیں آسکی۔

26ویں آئینی ترمیم عدالتی نظام پر حملہ قرار: بانی پی ٹی آئی نے وکلاء تحریک کی حمایت کر دی

26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء کی طرف سے احتجاج جاری ہے اور اسے وکلاء حضرات نے غیر آئینی قرار دیا ہے ، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نےوکلاء کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے 26 ویں آئینی ترمیم کو عدالتی نظام پر حملہ قرار دے دیا۔ سابق وزیر اعظم اور قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان ججوں کی “غیر آئینی” تقرری کے خلاف وکلاء کی احتجاجی تحریک کے پیچھے اپنا وزن ڈال دیا اور 26ویں ترمیم کو عدالتی نظام پر “حملہ” قرار دیا۔ بانی پی ٹی آئی  کے ریمارکس راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر ان کے قانونی وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا کو بتائے۔ ان کے یہ ریمارکس پاکستان کے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے قانون سازوں اور سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں کے بائیکاٹ کے درمیان سپریم کورٹ میں چھ نئے ججوں کی تقرری کی منظوری کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں، اس سے قبل سندھ، بلوچستان اور لاہور کے تین ججوں کواسلام آباد ہائی کورٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جس پر قانونی برادری کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔ مزید برآں، وفاقی دارالحکومت کی تینوں نمائندہ بار کونسلز ، اسلام آباد بار کونسل،اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے 26ویں ترمیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ جیل میں بند سابق وزیراعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، ان کے وکیل چوہدری فیصل نے کہا “پی ٹی آئی کے بانی اپنی پارٹی قیادت کوججوں کی تقرری کے خلاف وکلاء کی تحریک کی حمایت کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔” انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ عمران کی طرف سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو لکھے گئے کھلے خطوط پر توجہ دیں۔ چوہدری فیصل نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کے حامیوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی پر کنٹرولڈ ماحول میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کھلی عدالت میں خان کے ٹرائل کی درخواست کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی ایم ایف کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے، قائد حزب اختلاف عمر ایوب انہیں ایک ڈوزیئر پیش کریں گے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ڈوزیئر میں گزشتہ ڈھائی سال کی تمام تفصیلات شامل ہیں، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سیاسی انتقام، تشدد اور شہادتیں شامل ہیں۔

افتتاحی تقریب، کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کیا ہو رہا ہے؟

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں تزئین و آرائش کے بعد رنگا رنگ افتتاحی تقریب جاری ہے، بڑی تعداد میں شائقینِ کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود ہیں، ملک کے نامور گلوکاروں کی جانب سے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اسٹیڈیم میں چاروں طرف پاکستان کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا افتتاح کر دیا گیا ہے، افتتاحی تقریب میں وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ہے، افتتاحیہ تقریب میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور میئر کراچی مرتضٰی وہاب بھی شریک ہیں۔ افتتاحیہ تقریب میں ملک کے نامور گلوکار علی ظفر نے اسٹیج پر اپنی شاندار گلوکاری سے شائقین کو محظوظ کیا ہے، علی طفر نے اسٹیڈیم میں ‘میدان سجے گا، اب سیٹی بجے گی’ گا کر تقریب کو چار چاند لگا دیے ہیں، علی طفر کا ساتھ دیگر چھوٹے اداکاروں نے بھی دیا ہے۔ پاکستان کے نامور گلوکار ساحر علی بگا کی جانب سے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جس میں ان کا ساتھ پاکستان کی معروف گلوکارہ افشاں فواد نے دیا، ان کے گانوں پہ ڈالے گئے بھنگڑے نے تقریب کی رونق کو چار چاند لگا دیے، شائقینِ کرکٹ نے اس لمحے سے بھر پور لطف اٹھایا ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ‘دل دل کی آواز، پاکستان زندہ باد’ کے نعرے گونجے ہیں، ساحر علی بگا نے اپنے ترانوں سے شائقین میں جوش و جذبہ اجاگر کیا ہے۔ ساحر علی بگا کے بعد دنیا بھر میں منفرد پہچان رکھنے والے معروف سنگر شفقت امانت علی اسٹیج پر تشریف لائے اور شائقین کو اپنے گانوں سے محظوظ کیا، انھوں نے اپنے منفرد گانوں سے تقریب میں سماں باندھ دیا۔ تقریب میں کھلاڑیوں نے اسٹیج پر آ کر ٹیم کی جرسی کی نمائش کی ہے، کپتان محمد رضوان، نائب کپتان سلمان علی آغا سمیت متعدد کھلاڑیوں نے شائقین کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پاکستان کے سٹار بلے باز بابراعظم نے کہا ہے کہ کراچی والوں سے درخواست ہے کہ وہ کل میچ دیکھنے آئیں، چیمپیئنز ٹرافی میں ٹیم کے سپورٹ کی ضرورت ہے۔ فاسٹ بولر نسیم شاہ نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے لیے پرامید ہیں۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں رنگ برنگی افتتاحیہ تقریب ہوئی, جس میں آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، ترانوں، گانوں اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کی آواز سے اسٹیڈیم گونج اٹھا ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم میں نشریاتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے 350 ایل ای ڈی لائٹس نصب کی گئی ہیں، دو ڈیجیٹل ری پلے نصب کیے گئے ہیں، جب کہ 5 ہزار کرسیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے جدید معیار کے روم اور ہاسپٹلٹی باکسز بنائے گئے ہیں۔ شائقین تزئین و آرائش کے بعد اسٹیڈیم میں ہونے والی اس پروقار تقریب سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، افشاں فواد، ساحر علی بگا کی آواز، ڈھول کی تھاپ، بھنگڑے اور ماحول نے شائقین میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ شائقین اپنے موبائل کی روشنیوں سے داد دے رہے ہیں۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے اطراف میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم رش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ سہ ملکی سیریز اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے نیشنل اسٹیڈیم مکمل طور پر تیار ہے۔ یاد رہے کہ کہا گیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری افتتاحیہ تقریب میں شرکت کریں گے، مگر ان کی جگہ اب وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب میں شرکت کرنی ہے۔

آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات: گورننس اور احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اصلاحات کی تعریف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( ایم آئی ایف ) کی طرف سے بھیجا گیا وفد اور جسٹس سپریم کورٹ کے سمیت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ممبران کے درمیان اجلاس ہوا،وفد نے گورننس اور احتساب کو مضبوط بنانے کیلئے جاری اصلاحات کیلئے اپنی تعریف کا اظہار کیا۔ آئی ایم ایف کے وفد اور رجسٹرار، سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل، سیکرٹری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اجلاس میں شرکت کی اور اس کے ساتھ اجلاس میں سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور ڈائریکٹر، فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ججوں کی تقرری کے عمل، عدالتی سالمیت اور اس کی آزادی کا جائزہ لیا گیا،آئی ایم ایف وفد نے قانونی اور ادارہ جاتی استحکام کو برقرار رکھنے میں عدلیہ کے کردار کو تسلیم کیا، وفد نے گورننس اور احتساب کو مضبوط بنانے کیلئے جاری اصلاحات کیلئے اپنی تعریف کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے اجلاس میں کہا ہےکہ وہ اپنے تبصروں اور خیالات پر پوری طرح محتاط رہیں گے۔  یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے اہم آئینی پیش رفت ، اصلاحات ، عدلیہ اور پارلیمانی کمیٹی کے انضمام کی خوبیوں پر  بھی روشنی ڈالی۔ چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن اور اصلاحات سے وفد کو آگاہ کیا اور عدلیہ کی سالمیت اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور منصفانہ احتسابی عمل کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے شافیت کیلئے جوڈیشل کمیشن اورپارلیمانی کمیٹی کو یکجا کرنے سے بھی آگاہ کیا ۔ واضح رہے کہ ملاقات کے دوران عدالتی احتساب اور ججوں کے خلاف شکایات کے ازالے کے طریقہ کار پر بھی بات چیت ہوئی۔ آئی ایم وفد نے قانونی اور ادارہ جاتی استحکام میں عدلیہ کے کردار کو سراہااور وفد نے اصلاحات اور احتساب کیلئے کی جانے والی کاوشوں کی تعریف کی۔ ملاقات کے اختتام پر چیف جسٹس نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر وفد کو سووینئر پیش کیا اوروفد نے معزز چیف جسٹس آف پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بھیجا گیا وفد پاکستان میں 14 فروری تک قیام کرے گا ،جس دوران آئی ایم ایف کی ٹیم 19 حکومتی وزارتوں، محکموں اور ریاستی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی۔

مزدوروں کی عظمت کو سلام، نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں منعقدہ تقریب میں ورکرز کا ریڈ کارپٹ استقبال

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ورکرز استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اسٹیڈیم کو 4 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا، منصوبے کی تیز تر تکمیل پر تمام ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں۔  چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی جانب سےنیشنل کرکٹ سٹیڈیم کی  تعمیر نو میں حصہ لینے والے مزدوروں کے اعزاز میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی، چیئرمین پی سی بی کی جانب سے 700 سے زائد ورکرز کے اعزاز میں خصوصی اہتمام کیا گیا۔  چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے دن رات محنت کر کے سٹیڈیم کا کام مکمل کرنے پر مزدوروں کو خراج تحسین پیش کیا، چیئرمین پی سی بی  محسن نقوی نے مزدوروں کے ساتھ فردا فردا ملاقات کی  اور ان سے بات چیت کی، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے مزدوروں کو کل پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ چیئرمین پی سی بی رضا نقوی نےنیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ورکرزاستقبالیےسے خطاب  کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسن نقوی نے میچ دیکھنا آپ کا حق ہے، آپ نے اپنی محنت سے دل جیت لئے ہیں۔ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔  محسن نقوی نے کہا ہے کہ ورکرز کی انتھک محنت کے باعث آج ہم سرخرو ہوئے ، ہر مزدور ہمارا ہیرو ہے جنہوں نے خواب کو حقیقت میں بدلا۔ نیشنل سٹیڈیم کراچی کی مین بلڈنگ کا ڈائزین بہت خوبصورت ہے۔ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسٹیڈیم کی تعمیر میں حصہ لینے والے ورکرز آج کی تقریب میں مہمانِ خصوصی ہیں۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا ویو، لاہور قذافی اسٹیڈیم سے زیادہ اچھا ہے۔ محسن نقوی نے تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کا شکر ہے تنقید کرنے والے آج پھر ہار گئے ہیں۔ اسٹیڈیم میں پارکنگ کے لیے علیحدہ جگہ مختص کی گئی ہے۔ چیئرمین پی سی بی نے کہا ہے کہ ٹیم پر مکمل اعتماد ہے اور کامیابی کے لیے پر امید ہیں۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، ہمیں اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب کپتان قومی کرکٹ ٹیم محمد رضوان نے ورکرز استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ثیمپیئنز ٹرافی میں کامیابی کے لیے سخت محنت کریں گے۔ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، ٹیم کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایڈوائزر عامر میر، چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر، پاکستان ٹیم کے کپتان محمد رضوان، ایف ڈبلیو او کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نیسپاک  سمیت  پی سی بی کے اعلی حکام بھی موجود تھے۔

ڈمپر ٹینکرز جلانے کے بڑھتے واقعات، وزیر داخلہ سندھ نے ایڈیشنل آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی

وزیرِ داخلہ قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈمپر ٹینکرز جلائے جانے کے واقعات کا سخت نوٹس  لے لیا، پولیس شرپسندوں پر نظر رکھے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔ دفتر وزیرِداخلہ سندھ کے مطابق وزیرِ داخلہ قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈمپر ٹینکرز جلائے جانے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیرِ داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار  نے کہا ہے کہ گاڑیاں نزر آتش کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جائے۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔  ضیاءالحسن لنجارنے کہا کہ شہریوں کی املاک کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے،حکومت ٹریفک حادثات پر قابو پانے کے لئے پھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے اعلی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہری ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لئے ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں، ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرکے، اچھا شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ وزیرِ داخلہ قانون و پارلیمانی امور  نے کہا ہے کہ قانون پر عمل سے ہمارا صوبہ خوشحال اور پُرسکون ہوگا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی عملداری سے انکی ترقی وابستہ ہے۔ پولیس شرپسندوں پر نظر رکھے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنائے۔

وزیرِاعظم کٹھ پتلی ہے، اس کی جرات نہیں کہ خط پر بات کر سکے، عمر ایوب

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، بیرسٹر گوہر و دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارلیمنٹ میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ سے گاڑیاں لینے والے زرداری سمیت تمام افراد کا احتساب لیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم کٹھ پتلی ہے اس کی اتنی جرات نہیں کہ وہ اس بارے بات کرسکیں۔ پارلیمنٹ میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  عمر ایوب نے کہا ہے کہ آج ہم نے قائمہ کمیٹی کے دوران اپنے گرفتار ایم این اے میاں غوث کے پروڈکشن آرڈر کی بات کی، اس کے بعد ہم نے قائمہ کمیٹی سے واک آؤٹ کردیا، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر بھی بات کی گئی۔ عمر ایوب نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر جب فلور پر کھڑا ہوتا، تو اس دوران مائیک آن کر دیا جاتا ہے، اس وقت احتساب زرداری سمیت دیگر پی پی کے لوگوں کا بھی کرنا چاہیے، جنہوں نے توشہ خانہ سے گاڑیاں لیں۔ پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے ذریعے زراعت پر کام کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کا 2 ہزار ارب کا بقایاجات رہتا ہے جو وفاق نے نہیں دیا۔ 20 لاکھ لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں، ملک میں اس وقت بے روزگاری اور غربت بڑھ رہی ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ سکندر سلطان راجہ کی مدت پوری ہوگئی ہے، اسے  برطرف کردینا چاہیے۔ ہم نے 26 جنوری کو وزیراعظم کو خط لکھا تھا کہ اس کی جگہ اور چیف الیکشن کمیشن بنایا جائے، وزیر اعظم کٹھ پتلی ہے اس کی اتنی جرات نہیں کہ وہ اس بارے بات کرسکیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ایک رولنگ دی ہے، اس کے جواب میں ہمیں بات کرنے نہیں دی گئی، پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی انتخابات ہوئے تاکہ جمہوریت ختم نہ ہو۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس ایوان نے جتنے دن کام کیا اس دوران متنازعہ  قانون سازی ہوئی، اس ایوان میں 300 سے کم سوالات کے جوابات ملے ہیں، انڈیا میں بھی اجلاس کے دوران دس ہزار سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں، اس ایوان میں حکومتی نمائندوں کی طرف سے بہت کم لوگ آئے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایوان کے ریکارڈ میں موجود ہے کہ کوئی بھی سیشن مکمل نہیں ہوا، ہمارا ملک رول آف لاء کے حوالے سے 130 نمبر پر ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مخصوص نشستیں ہمارا حق ہے اور ہمیں ملنی چاہئیں، مخصوص نشستوں کا ابھی تک نوٹفیکیشن نہیں ہوا، اس حوالے سے ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے، ہیومن رائٹس کمیٹی کا ایجنڈہ چیئرمین کمیٹی کا استحقاق ہے کہ وہ تبدیل کرے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جیل میں قید لوگ اس وقت بہت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، جیل ریفارمز ضروری ہیں ، جو ضمانت کے حق دار ہیں ان کو ضمانت مل جانی چاہیے۔ پی ٹی آئی رہنما صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اپنے ساتھ ساتھ اس ایوان کو بھی کمزور کردیا ہے، میری طرف سے اسپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط لکھا گیا اور اس کو میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ گزشتہ میٹنگ میں آئی جی اسلام آباد نے رپورٹ پیش کرنا تھا، مگر وہ میٹنگ میں پیش نہیں ہوئے اور اس چیز کو ایجنڈے سے نکال دیا گیا، میں نے اسپیکر کو خط لکھا جس کے جواب میں بتایا گیا کہ آپ جیل کا وزٹ نہیں کرسکتے،میں نے ان تمام خطوط کو پبلک نہیں کیا تھا، اب خط پبلک کروں گا پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آج اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہم نے ایجنڈے کو نہیں نکالا، مجھے پتا ہے اس وقت اسٹاف پر پریشر ہے، صوبائی حکومت کی وجہ سے ہم اگر اڈیالہ جیل کا وزٹ نہیں کرسکتے تو ریلوے کمیٹی کو یہ اختیار کیوں دیا گیا۔ ممبر قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے کہا کہ کرم ایجنسی  میں سڑکیں  ابھی تک بند ہیں، کرم میں ابھی تک خوراک کا مسئلہ چل رہا ہے، مریض گھروں میں مررہے ہیں ہسپتال نہیں جا سکتے۔ انجینئر حمید حسن کا کہنا تھا کہ گرینڈ جرگے نے حکومت سے کہا ہے کہ سڑکیں ہم نے بند نہیں کیں، تو پھر سڑکیں کس نے بند کی ہیں؟ حکومت کو یہ بتایا جائے، آرٹیکل 15 میں لکھا ہے عوام آزادانہ طور پر چل سکتے ہیں ،لوگ محصور ہیں ، اوور سیز پاکستانی باہر نہیں جا سکتے ویزے ایکسپائر ہوگئے ہیں۔