برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کا نواں انسداد دہشتگردی اجلاس

پاکستان اور یورپی یونین نے 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے فریم ورک میں سیکیورٹی کے معاملات پر اپنی وسیع تر مصروفیت کے حصے کے طور پر، انسداد دہشت گردی پر تعاون پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے برسلز میں اپنا نواں انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ منعقد کیا۔ متعلقہ وفود کی قیادت یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈائریکٹر برائے سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس پالیسی میکیج اسٹیڈیک اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے انسداد دہشت گردی عبدالحمید نے کی۔ نجی نشریاتی ادارہ جیو نیوز کے مطابق یوروپی یونین اور پاکستان نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی اور اس سے لڑنے کے لیے اپنے ثابت قدم عزم کی تصدیق کی۔ دونوں جماعتوں نے کثیرالجہتی فورمز میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعاون کی اہمیت کی تصدیق کی۔ اس میں اقوام متحدہ کے فریم ورک اور گلوبل کاؤنٹر ٹیررازم فورم میں کام شامل ہے، جس کی یورپی یونین 2022 سے سربراہی کر رہی ہے۔ یورپی یونین اور پاکستان نے بہترین طریقوں کے تبادلے اور ٹھوس تعاون کے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام اور انسداد، غیر ملکی جنگجوؤں کی بھرتی اور نقل و حرکت، آف لائن اور آن لائن بنیاد پرستی، دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جنوری میں، یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے انسانی حقوق کے سفیر اولوف اسکوگ نے پاکستان کا ایک ہفتہ طویل دورہ کیا جس میں انہوں نےتجارتی پالیسی کے تحت جاری جائزے کے دوران جنرل سکیم آف پریفرنسز پلس اسٹیٹس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان میں انسانی حقوق سمیت متعدد مسائل پر پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے دورے کے دوران، سفیر سکوگ نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے وزراء، عسکری قیادت، اعلیٰ حکام، اقوام متحدہ کے اداروں، انسانی حقوق کے محافظوں اور وکلاء، سول سوسائٹی کی تنظیموں، میڈیا کے نمائندوں اور کاروباری شعبے سے ملاقاتیں کیں۔ خصوصی نمائندے نے یورپی یونین کے انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا اور اس سلسلے میں ملک کی متحرک سول سوسائٹی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مستعد کوششوں اور بامعنی مشاورت کی حوصلہ افزائی کی
پشاور کے ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام عمران خان کے نام پر رکھنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت نے صوبائی دارالحکومت کے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی نشریاتی ادارہ ایکسپریس نیوز کے مطابق صوبائی محکمہ کھیل نے اسٹیڈیم کا نام بدل کر ’عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم‘ رکھنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے سمری تیار کر لی ہے۔ نام تبدیل کرنے کی تجویز کل کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی، جہاں اسے منظوری ملنے کی امید ہے۔ دریں اثنا، اسٹیڈیم کی تعمیراتی لاگت میں سالوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ علی امین گنڈاپور کو بھیجے گئے مراسلے میں محکمہ کھیل نے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم رکھنی کی تجویز دی تھی دوسری جانب ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کی لاگت دو ارب 31 کروڑ تک پہنچ گئی جبکہ 2018 میں ا سٹیڈیم کی لاگت ایک ارب 37 کروڑ روپے لگائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ 2021 میں لاگت ایک ارب 94 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی اور 2024 میں اسٹیڈیم کی لاگت دو ارب 31 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
میری والدہ نے مجھے یہ سکھایا کہ انتقام کی سیاست نہیں کرنی، جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے، بلاول بھٹو

آکسفورڈ یونیورسٹی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید بے نظیر بھٹو میموریل لیکچر پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے اپنی والدہ کی قربانیوں اور جرات کی داستان سنائی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر بھٹو ایک غیر معمولی خاتون تھیں، جنہوں نے پاکستان میں خواتین کو آگے آنے کا راستہ دکھایا اور سیاست میں خواتین کے کردار کو نئی روشنی عطا کی۔ بلاول بھٹو نے پروگرام میں بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے 16 سال کی عمر میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور 25 سال کی عمر میں پاکستان کی سیاست میں قدم رکھا۔ اس وقت کی سیاست میں مردوں کی اجارہ داری کے باوجود بے نظیر بھٹو نے نہ صرف اپنے آپ کو منوایا بلکہ ملک کی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ انہوں نے کہا کہ “میری والدہ نے ہمیشہ مجھے یہ سکھایا کہ انتقام کی سیاست میں نہیں پڑنا، جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔” بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف کئی بار حملے کیے گئے لیکن وہ کبھی بھی خوفزدہ ہو کر پیچھے نہیں ہٹیں۔ ان کی زندگی کا مقصد پاکستان کا بہتر کل بنانا تھا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی والدہ نے تمام تر مخالفت کے باوجود پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا اور جمہوریت کے فوائد لوگوں تک پہنچانے کے لیے کوشش کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آج پنجاب کی وزیر اعلیٰ بھی ایک خاتون ہیں اور یہ بے نظیر بھٹو کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر بھٹو نے سیاست میں حصہ لیتے ہوئے اپنے عزم کو ثابت کیا اور خواتین کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھولے۔ بلاول بھٹو نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان کا مستقبل آئین کی بالا دستی، آزاد عدلیہ اور صحافت سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بہتر مستقبل کا مطالبہ کرنے کے حق دار ہیں اور ملک اب کسی بھی مارشل لا کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کا پیغام یہ تھا کہ کبھی بھی مشکلات کے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہو اور جمہوریت کی جدو جہد جاری رکھو۔ بلاول بھٹو کا یہ خطاب نہ صرف ان کی والدہ کی قربانیوں کو خراج تحسین تھا بلکہ پاکستان کے عوام کے لیے ایک نیا عزم اور حوصلہ دینے کا پیغام بھی تھا۔ مزید پڑھیں: پنجاب میں جتنے فیصد طلبا کو لیپ ٹاپ دیے ہیں ہم بھی اتنے فیصد کو دیں گے، علی امین گنڈاپور
پاکستان کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کی حالت زار پر خاموشی، انسانیت پر سوالیہ نشان

پاکستان کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ حقیقت نہ صرف ہمارے معاشرتی نظام پر سوالات اٹھاتی ہے بلکہ حکومت کی ذمہ داریوں کو بھی واضح کرتی ہے۔ پاکستان میں خواتین قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان کی مشکلات کی نوعیت دن بہ دن پیچیدہ ہو رہی ہے۔ ایک طرف جیلوں کی حالت اور قوانین کا فقدان ہے، تو دوسری طرف ان خواتین کی زندگیوں میں بے شمار مشکلات اور چیلنجز ہیں۔ اس وقت پاکستان میں خواتین قیدیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ 2000 سے اب تک عالمی سطح پر جیلوں میں خواتین کی تعداد میں 60 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد کا 2.8 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان میں خواتین کی جیل آبادی عالمی اوسط سے کم یعنی 1.6 فیصد ہے مگر گذشتہ دہائی میں اس میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی نظر میں یہ اضافہ تشویش کا باعث ہے مگر کئی ماہرین اور انسانی حقوق کے ادارے اس بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں کہ خواتین قیدیوں کے لیے جیلوں کی حالت میں فوری بہتری کی ضرورت ہے۔ ان قیدیوں کو بہتر رہائش، غذائی سہولتیں، اور طبی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ یاسمین مغل، جو کوئٹہ ویمن پرزن سے وابستہ ہیں۔ ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ان جیلوں کی حالت اور وہاں کی سہولتوں کی کمی کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین قیدیوں کو انسانیت کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے لیے قوانین 1894 اور 1900 کے ہیں جو 1947 کے بعد چند ترامیم کے ساتھ آج بھی نافذ ہیں۔ یاسمین مغل کے مطابق ان قوانین میں اس قدر سادگی ہے کہ یہ خواتین قیدیوں کے حالات کے مطابق نہیں ہیں۔ جیلوں میں خواتین کے لیے علیحدہ جیلوں کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی حفاظت اور صحت کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ لازمی پڑھیں: جیل میں قید مسلمانوں کی دہلی انتخاب میں شرکت، معصومیت کا دعویٰ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق، اس وقت زیادہ تر جیلوں میں خواتین قیدیوں کو مرد قیدیوں کے ساتھ ایک ہی جگہ رکھا جاتا ہے جس سے ان کے لیے ایک محفوظ ماحول پیدا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہزارہ کے ضلعی پرزن آفیسر ڈی آئی جی ‘عمیر خان’ کا کہنا ہے کہ خواتین قیدیوں کے حوالے سے جیل کے قوانین سخت ہیں اور ان میں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ جیل میں خواتین قیدیوں کے لیے عملہ زنانہ ہوتا ہے اور ان کے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ تاہم، عمیر خان نے تسلیم کیا کہ جیلوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق ‘ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ (HRCP) کی رکن ‘فرح ضیا’ کے مطابق خواتین قیدیوں کے لیے علیحدہ جیلوں کی ضرورت ہے کیونکہ ایک ہی جیل میں ان کی حفاظت اور صحت کے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین قیدیوں کے لیے جیل کے اندر مناسب طبی سہولتیں، تعلیم، اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ جیل کے دوران ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر ہو سکیں۔ پاکستان کی کئی جیلوں میں خواتین قیدیوں کو حفظان صحت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: جاپان کی جیل بزرگ خواتین کی’پناہ گاہ‘بن گئی اس کے علاوہ کوئٹہ جیل میں خواتین قیدیوں کو سردی اور گرمی کے موسم میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کے لیے گرم پانی کی سہولت نہیں ہے، جس کے باعث قیدی خواتین اپنی جسمانی صفائی کا خیال نہیں رکھ پاتی ہیں۔ حال ہی میں قیدی خواتین ’ریبیز‘ کے شکار ہو چکی ہیں۔ اس پر انسانی حقوق کے اداروں نے آواز اٹھائی اور جیل حکام کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ خواتین قیدیوں کے لیے جیل میں بچوں کی رہائش کا انتظام بھی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ خواتین قیدیوں کے ساتھ چھوٹے بچے بھی جیل میں رہتے ہیں اور ان کی تعلیم، خوراک، اور حفاظت کے مسائل علیحدہ ہیں۔ ان بچوں کی عمر تین سال تک ہوتی ہے اور اس کے بعد ان کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ فرح ضیا نے اس بات پر زور دیا کہ تین سال کے بعد ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگا؟ اس سوال پر حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے جیل حکام نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ خواتین قیدیوں کے لیے بہتری کی گنجائش ہے۔ ضرور پڑھیں: غیر قانونی سمز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: 7,661 سمز ضبط، 11 افراد گرفتار کوئٹہ جیل کے ڈی آئی جی ضیا ترین کے مطابق جیلوں میں خواتین قیدیوں کی ’’ری ہیبیلیٹیشن‘‘ کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں تعلیم، ہنر مندی، اور صحت کے اصولوں کی تربیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ خواتین قیدیوں کے کام کی نمائش بھی کی جاتی ہے اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ان قیدیوں کو دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی مدد کر سکیں۔ اس کے علاوہ کراچی سینٹرل جیل کی ڈی آئی جی شیبا شاہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جیل حکام قیدی خواتین کے معاملات میں ہر طرح کا خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین قیدیوں کے لیے نہ صرف خوراک کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، بلکہ ان کی تعلیم اور ہنر مندی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ پرزن ایکٹ مرد و خواتین دونوں قیدیوں کی حمایت میں ہے اور اگر کسی قیدی کو نجی علاج کی ضرورت ہو تو وہ اس کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستانی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے مسائل پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ حکومت اور جیل حکام کو مل کر ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا تاکہ خواتین قیدیوں کو بہتر زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کے اندر اور باہر انتشار پھیلانے والوں کے عزائم بے نقاب کرنا ہوں گے، نوازشریف
ایف آئی اے کا انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن : 458 ایجنٹس گرفتار

گزشتہ دنوں مراکش اور لیبیا میں تارکین وطن کی کشتیاں الٹنے کی وجہ سے کئی پاکستانی اپنی جان کی بازی ہار گے،جس کے بعدپاکستان میں انسان دشمن اسمگلروں کے خلاف سخت کاروائی کی گئی اور کئی اسمگلروں کو حراست میں لیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر ایف آئی اے کا انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاون کیا گیا،جس میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران 458 انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں ریڈ بک کے 8 انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز بھی شامل، گزشتہ 2 ماہ کے دوران یونان کشتی حادثہ 2023 کے 19 اشتہاری انسانی سمگلروں کو بھی گرفتار کر لیا ہے اوریونان کشتی حادثہ 2024 میں ملوث 18 انسانی اسمگلروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ گزشتہ دنوں مراکش کشتی حادثے 2025 میں ملوث 10 ایجنٹس بھی گرفتار کیے گے ہیں۔ گزشتہ 2 ماہ کے دوران ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان کی 66 کروڑ روپے سے زائد مالیت ک ی جائیدادیں ضبط کی گئی اور انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے زیر استعمال ساڑھے 73 کروڑ روپے کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے گئے ہیں۔ انٹرپول کے ذریعے انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے مجموعی طور پر 26 ریڈ نوٹسز جاری کیے گئے ہیں،کشتی حادثے میں ملوث ایجنٹوں کی گرفتاری کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ ملک کے تمام ائرپورٹس پر تعینات افسران انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے گرفتاری کے لئے کڑی نگرانی کر رہے ہیں،معصوم جانوں سے کھیلنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے، جس کے لیےایف آئی اے کی ٹیمیں انسانی سمگلنگ کے متاثرین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گرفتار انسانی اسمگلروں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دلوائی جائیں گی،بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جائے گا دوسری جانب ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوششیں ناکام بنا دی اور 3 مسافر آف لوڈکر دیے۔ ملزمان کی شناخت محمد ابراہیم محمد شیراز اور حماد افراہیم کے نام سے ہوئی اور کا تعلق کرک، اپردیر اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے ہے
دیامر بھاشا ڈیم متاثرین کا پانچ روزہ دھرنا: عوام کا حکومتی وعدوں کی عدم تکمیل پر شدید ردعمل

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کا پانچ روز سے جاری دھرنا سوشل اور سیاسی حلقوں میں گہری تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ یہ مظاہرین دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے باعث متاثر ہونے والے افراد ہیں، جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کے لیے حکومت سے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا ہے۔ ان مظاہروں نے اس بات کو عیاں کر دیا ہے کہ جب حکومت اپنے وعدوں کو نظر انداز کرتی ہے تو عوامی ردعمل کی نوعیت کتنی شدید ہو سکتی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام جاری ہے جو دریائے سندھ پر چلاس میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی حدود میں بنایا جا رہا ہے۔ 2029 تک مکمل ہونے والے اس منصوبے کی متوقع طاقت 18,097 گیگا واٹس ہے، جو سالانہ بجلی کی پیداوار میں اہم اضافہ کرے گا۔ تاہم، اس منصوبے کے لیے زمینوں کا حصول مقامی افراد کے لیے مشکلات کا باعث بن چکا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہیں 2007 میں ہونے والے سروے کے بعد حکومت نے معاوضے کا وعدہ کیا تھا مگر اس وعدے کو آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ اس ڈیم کے لیے تقریبا 16,027 ایکڑ نجی زمین، 17,894 ایکڑ سرکاری زمین اور 464 ایکڑ زمین خیبر پختونخوا سے لی گئی ہے۔ ان تمام زمینوں کے مالکان کا مطالبہ ہے کہ انہیں مناسب معاوضے اور زمینیں دی جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے حکومت سے ایک “چارٹر آف ڈیمانڈ” پیش کیا ہے جس میں ان کے مطالبات واضح ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے انہیں ایک کنال زمین یا 47 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ابھی تک اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے ہر گھرانے کو چھ کنال زرعی زمین دینے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ بھی ابھی تک نہیں دی گئی۔ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے تاکہ ان کے گھروں کی تقدیر محفوظ ہو سکے۔ یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا تجارتی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن مظاہرین کو اس احتجاج میں نہ صرف مقامی عوامی تنظیموں بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت کئی سول سوسائٹی گروپ اس تحریک میں شامل ہیں۔ مظاہرین نے وزیر اعظم کی زیر نگرانی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے مطالبات کا حل نکالا جا سکے۔ دھرنے کے منتظمین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے یہ احتجاج جاری رہے گا۔ حکومت نے اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے گلگت بلتستان و کشمیر امور، امیر مقام کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان، چیئرمین واپڈا اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ “واپڈا کی غیر سنجیدگی اور فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے دیامر بھاشا ڈیم کے مظاہرین سڑکوں پر آ گئے ہیں۔” امیر مقام نے یقین دہانی کرائی کہ مظاہرین کے مطالبات کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی وفاقی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو گلگت بلتستان کا دورہ کرے گی اور وہاں موجود مسائل کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ “کمیٹی مظاہرین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے جائز مطالبات حل کرنے کے لیے جامع فیصلے کرے گی۔” دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پاکستان کے توانائی کے بحران کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی مگر اس کے ساتھ ہی مقامی افراد کی مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کتنی جلدی اپنے وعدوں کو پورا کرتی ہے تاکہ لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو سکیں۔ اگر حکومت فوری طور پر ان مسائل کو حل نہیں کرتی، تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے پاکستان میں ایک بڑی سیاسی و سماجی بحث کا باعث بنے گا۔ حکومت کے لیے یہ وقت ایک اہم امتحان ہے جہاں اسے نہ صرف دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے اقدامات کرنا ہیں بلکہ متاثرین کی ضروریات اور مطالبات کو بھی فوری طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں جتنی جلدی حکومتی اقدامات ہوں گے، اتنی ہی جلدی اس سنگین بحران کا حل نکل سکے گا۔ مزید پڑھیں: پنجاب میں جتنے فیصد طلبا کو لیپ ٹاپ دیے ہیں ہم بھی اتنے فیصد کو دیں گے، علی امین گنڈاپور
پنجاب میں جتنے فیصد طلبا کو لیپ ٹاپ دیے ہیں ہم بھی اتنے فیصد کو دیں گے، علی امین گنڈاپور

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پنجاب حکومت کے مفت لیپ ٹاپ اسکیم کے بعد اپنے صوبے میں بھی طلبا کے لیے مفت لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گنڈاپور نے کہا کہ اگر پنجاب نے طلبا کی ایک خاص تعداد کو لیپ ٹاپ دیے ہیں تو خیبر پختونخوا بھی اسی تناسب سے طلباء کو لیپ ٹاپ فراہم کرے گا۔ گنڈاپور نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کی طرز پر عوام کو صحت کی مفت انشورنس فراہم کرے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “ہم نے اپنی پوری آبادی کو صحت کارڈ پلس فراہم کیے ہیں اور اب زندگی کی انشورنس بھی دے رہے ہیں۔ پنجاب کی حکومت کو بھی اپنے عوام کے لیے ایسا ہی کچھ کرنا چاہیے۔” صوبے کی مالی کامیابیاں بھی گنڈاپور کے خطاب کا حصہ رہیں جنہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا نے مالی مشکلات کے باوجود اپنی آمدنی میں 55 فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ پنجاب کی آمدنی میں صرف 12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ سرپلس 176 ارب روپے ہے اور واحد صوبہ ہے جس نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے اہداف کو پورا کیا۔ اس کے برعکس پنجاب کا آئی ایم ایف کا ہدف 300 ارب روپے تھا لیکن پنجاب 146 ارب روپے کا خسارہ ریکارڈ کر سکا۔ گنڈاپور نے غربت میں زندگی گزارنے والی لڑکیوں کی شادی کے لیے بھی مالی معاونت کا اعلان کیا۔ کے پی کے حکومت 4,000 مستحق لڑکیوں کی شادی کے لیے ہر ایک کو 2 لاکھ روپے فراہم کرے گی۔ انہوں نے پنجاب کی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مباحثے کے لیے تیار ہیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ پنجاب کی کارکردگی خیبر پختونخوا کے 1 فیصد کے برابر بھی نہیں۔ گنڈاپور نے پنجاب حکومت کو نہ صرف خیبر پختونخوا کے اقدامات کی نقل کرنے کا چیلنج کیا بلکہ اپنے صوبے کی کامیاب حکومتی پالیسیوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا نے نہ صرف مالی طور پر خود کو مستحکم کیا بلکہ عوامی فلاح کے لیے متعدد اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اپنے عوام کی فلاح کے لیے مزید موثر اقدامات کرے۔ مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا تجارتی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن
سندھ حکومت کا تجارتی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن

سندھ حکومت نے تجارتی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کے حوالے سے بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جس کا مقصد سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی روک تھام اور عوامی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ سندھ کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ، شرجیل انعام میمن نے اس کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں غیر ملکی فٹنس سرٹیفکیٹس کے ساتھ چلنے والی کئی تجارتی گاڑیاں موجود ہیں جنہیں دیگر صوبوں میں فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے ان سرٹیفکیٹس کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ان سرٹیفکیٹس کے اجرا کے وقت کسی بھی چیکنگ سے نہیں گزری تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے میکانیکی طور پر غیر فٹ گاڑیاں سڑک پر حادثات کا سبب بنتی ہیں جس سے نہ صرف ڈرائیورز بلکہ پیدل چلنے والوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اور کہا کہ نئے منصوبے کے تحت سندھ میں تمام تجارتی گاڑیوں کو صوبے کے موٹر وہیکل انسپکشن سینٹرز سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ ان سرٹیفکیٹس میں جدید سیکیورٹی خصوصیات کے ساتھ QR کوڈز شامل ہوں گے جو ان کی اصلیت کو ثابت کریں گے۔ سندھ میں چلنے والی دیگر صوبوں کی تجارتی گاڑیوں کو بھی مقامی فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا تاکہ وہ روٹ پرمٹس یا کسی تبدیلی کے لیے درخواست دے سکیں۔ یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے دشمنوں کے ایجنڈے پر چل کر ملک کو نقصان پہنچایا، وزیر اطلاعات عطا تارڑ شرجیل میمن نے کہا کہ ہر تجارتی ڈرائیور کے لیے ایک درست ڈرائیونگ لائسنس کا ہونا بھی ضروری ہوگا۔ حکومت نے بھاری گاڑیوں کی لائسنسنگ اور انسپکشن کو بہتر بنانے کے لیے نئے موٹر وہیکل انسپکشن سینٹرز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ روڈ سیفٹی اور گاڑیوں کی باقاعدہ نگرانی کی جا سکے۔ اس کریک ڈاؤن کی ایک اور اہم خاصیت یہ ہے کہ سندھ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ پنجاب، بلوچستان یا خیبرپختونخواہ سے آنے والی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس سندھ میں قابل قبول نہیں ہوں گے، ان گاڑیوں کو بھی سندھ کے حکام سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ وزیر نے مزید کہا کہ شو رومز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ گاڑیاں خریداروں کے حوالے نہ کریں، اور ہر گاڑی کو فروخت کرنے سے پہلے رجسٹرڈ کرانا ضروری ہوگا۔ ان تمام اقدامات کا مقصد سڑکوں پر ہونے والے حادثات کو کم کرنا اور عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ 30 دن کی مہلت دی گئی ہے جس دوران تمام گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اس کریک ڈاؤن سے یہ پیغام ملتا ہے کہ سندھ حکومت سڑکوں پر حفاظت کو ترجیح دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس بات کا بھی عہد کر رہی ہے کہ غیر قانونی اور غیر فٹ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔ گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیورز کو اس کریک ڈاؤن کے دوران سرکاری ہدایات کی مکمل پیروی کرنا ہوگی تاکہ سندھ کی سڑکوں پر امن اور حفاظت قائم ہو سکے۔ مزید پڑھیں: کراچی میں ہیوی ٹریفک سے اموات میں اضافہ، حکومت خاموش – منعم ظفر
غیر قانونی سمز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: 7,661 سمز ضبط، 11 افراد گرفتار

پاکستان میں غیر قانونی بین الاقوامی سمز کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے مشترکہ چھاپے مارے، جس کے نتیجے میں 7,661 غیر قانونی سمز ضبط کی گئیں اور 11 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کارروائیاں ملتان، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور کراچی میں کی گئیں، جہاں غیر قانونی سمز کے ذریعے دھوکہ دہی، مجرمانہ سرگرمیوں اور غیر قانونی مواصلاتی نیٹ ورکس کے حوالے سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ملتان میں پانچ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں جہاں سے 7,064 غیر قانونی سمز برآمد ہوئیں۔ یہ سمز بین الاقوامی فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں جبکہ آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی طریقے سے یہ سمز فروخت کر رہے تھے۔ لاہور اور گوجرانوالہ میں مجموعی طور پر 252 غیر قانونی سمز برآمد ہوئیں۔ دونوں شہروں میں دکانوں کے مالکان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ افراد غیر قانونی سمز فروخت کرنے کے علاوہ انہیں مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے گروہوں کو سپلائی کر رہے تھے۔ راولپنڈی میں کئی غیر قانونی سمز ضبط کی گئیں ہیں جن میں 335 برطانوی سمز بھی شامل تھیں۔ یہ سمز حالیہ آپریشن کے دوران برآمد کی گئیں اور انہیں غیر قانونی کال سینٹرز اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ کراچی میں 10 غیر قانونی سمز برآمد کی گئیں اور دکان کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ سمز بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں۔ غیر قانونی بین الاقوامی سمز پاکستان میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہیں۔ یہ سمز اکثر غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک سے منگوائی جاتی ہیں اور بغیر کسی مستند تصدیق کے صارفین کو فروخت کی جاتی ہیں۔ ان سمز کو سائبر کرائم، مالی فراڈ، دہشت گردی، اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: میو ہسپتال لاہور میں لفٹ گرنے سے 11 نرسز متاثر یہ سمز عام طور پر غیر رجسٹرڈ یا جعلی شناختوں پر جاری کی جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ سمز بایومیٹرک تصدیق کے بغیر غیر قانونی طریقے سے ایکٹو کی جاتی ہیں یا کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ کر کے بیچی جاتی ہیں۔ زیادہ تر یہ سمز غیر قانونی کال سینٹرز، آن لائن فراڈ، اور دیگر جرائم میں استعمال ہوتی ہیں، جن میں ہیکنگ، بلیک میلنگ، اور جعلسازی شامل ہیں۔ پاکستان میں سموں کے اجرا کے لیے بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم (BVS) متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد ہر سم کو اس کے اصل صارف کے نام پر رجسٹرڈ کرنا ہے۔ تاہم کچھ عناصر اس نظام کو دھوکہ دے کر غیر قانونی طور پر سمز فروخت کرتے ہیں جس سے سائبر کرائم اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پی ٹی اے اور ایف آئی اے وقتاً فوقتاً غیر قانونی سم فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی متعدد بار ایسے گروہوں کے خلاف چھاپے مارے گئے ہیں لیکن اس غیر قانونی کاروبار کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی اور سخت قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پی ٹی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ ایسی کسی بھی مشکوک سرگرمی سے آگاہ ہوں تو فوری طور پر پی ٹی اے کی ویب سائٹ [www.pta.gov.pk](http://www.pta.gov.pk) پر شکایت درج کرائیں۔ اس سے ایک محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ کارروائیاں پاکستان میں غیر قانونی سمز کے خلاف جنگ کا ایک اہم قدم ہیں۔ تاہم اس مسئلے کے مکمل خاتمے کے لیے مزید سخت اقدامات اور عوامی بیداری کی ضرورت ہے۔ غیر قانونی سمز نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ حکومت اور عوام کے مشترکہ اقدامات سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے دشمنوں کے ایجنڈے پر چل کر ملک کو نقصان پہنچایا، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
امریکہ کا یوکرین کی حمایت میں اقوام متحدہ کی قرارداد کا شریک سپانسر بننے سے انکار

امریکہ یوکرین پر ماسکو کے حملے کے تین سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کی قرارداد کے مسودے کو شریک سپانسر کرنے سے انکار کر رہا ہے جس میں کیف کی علاقائی سالمیت کی حمایت کی گئی ہے اور روسی جارحیت کی مذمت کی گئی ہے، تین سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا، ایک طاقتور مغربی طاقت کے ذریعہ۔ یہ قدم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بڑھتے ہوئے دراڑ کی عکاسی کرتا ہے ، جو یوکرائن میں تیزی سے جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جن کی ٹیم نے کیف کی شمولیت کے بغیر روس کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ یہ صف یوکرین کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران ہے، جس نے روس کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے پچھلی امریکی انتظامیہ کے تحت متفقہ دسیوں ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد کا استعمال کیا اور سفارتی حمایت سے بھی فائدہ اٹھایا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے قرارداد کا مسودہ، روسی جارحیت کی مذمت کرتا ہے اور اس کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر یوکرین کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ عالمی خبر ارساں ادارہ رائٹرز کے مطابق قرارداد کو 50 سے زائد ممالک اسپانسر کر رہے ہیں، ان کی شناخت کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ پچھلے سالوں میں، امریکہ نے یوکرین میں منصفانہ امن کی حمایت میں اس طرح کی قراردادوں کو مسلسل تعاون کیا ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ میں امریکی سفارتی مشن کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ روس نے یوکرین کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ آہستہ آہستہ لیکن مستقل طور پر مشرقی حصے پر قبضہ کر رہا ہے۔ ماسکو نے کہا کہ اس کے ‘خصوصی فوجی آپریشن’نے کیف کی جانب سے نیٹو کی رکنیت کے حصول سے درپیش ایک وجودی خطرے کا جواب دیا۔ یوکرین اور مغرب روس کی کارروائی کو سامراجی زمین پر قبضہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپی سرزمین پر ہونے والے سب سے بڑے تنازعے کے دوران امریکہ روس کے خلاف یوکرین کی حمایت میں اقوام متحدہ کی تقریباً تمام قراردادوں کا شریک سپانسر رہا ہے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ قرارداد کے مسودے کی حمایت کرنے کی آخری تاریخ کب ختم ہوگی، اور واشنگٹن اب بھی اپنا خیال بدل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ووٹ کو، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنگ میں روس کی پوزیشن کی طرف تبدیلی کے پیش نظر یوکرین کے لیے عالمی حمایت کے ایک اہم گھنٹی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اب بھی امریکی حمایت کے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے، لیکن جنرل اسمبلی میں وسیع حمایت حاصل کرنے کا امکان کم ہے۔