یو اے ای میں خشکی کے مسئلے کا حل: مصنوعی ذہانت(AI) کے ذریعے بارش بڑھانے کی نئی تکنیک متعارف

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں برسوں سے جاری خشکی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک نیا اور انوکھا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر ماہرین کا ایک گروپ ابوظہبی میں اس بات پر غور کر رہا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت (AI) کو استعمال کر کے اس خشک ملک میں مزید بارش لائی جا سکتی ہے جہاں زمین کا بیشتر حصہ صحرا ہے اور بارش ایک نایاب نعمت ہے۔ یو اے ای، جو اپنی تیل کی دولت کے لیے جانا جاتا ہے، اس نے دہائیوں کی محنت اور لاکھوں ڈالر اس مسئلے پر خرچ کیے ہیں، لیکن پھر بھی یہاں بارش معمول کی بات نہیں۔ تاہم، حالیہ “انٹرنیشنل رین اینہانسمنٹ فورم” کے دوران، حکام نے ایک نیا اُمید کا پیغام دیا ہے انکا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے بادلوں سے زیادہ پانی نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس فورم میں اس جدید منصوبے پر بات چیت کی گئی جس میں مصنوعی ذہانت کو بادلوں کی سیڈنگ (cloud seeding) کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ عمل طیاروں کے ذریعے نمک یا دیگر کیمیائی مادے بادلوں میں پھینک کر بارش بڑھانے کی کوشش ہے۔ سکرپٹس انسٹی ٹیوٹ آف اوشینو گرافی کے “سن ڈیاگو یونیورسٹی” کے ڈپٹی ڈائریکٹر، لوکا ڈیلے موناکے نے بتایا، “ہم اس منصوبے کے آخری مراحل میں ہیں اور یہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔” لازمی پڑھیں:افغانستان میں ژالہ باری اور بارشوں کا تباہ کن اثر، 29 افراد جاں بحق اگرچہ ڈیلے موناکے نے مصنوعی ذہانت کو اس مسئلے کا آخری حل نہیں قرار دیا، مگر اس کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی یو اے ای جیسے ممالک کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔ سیڈنگ کا عمل صرف مخصوص بادلوں کے ساتھ موثر ہوتا ہے، اور غلط وقت پر کی جانے والی سیڈنگ بارش کو روک بھی سکتی ہے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے صحیح وقت اور جگہ کا تعین کیا جائے گا تاکہ اس عمل کی کامیابی کو بڑھایا جا سکے۔ اس منصوبے کو تین سال کی مدت میں 1.5 ملین ڈالر کی فنڈنگ سے تیار کیا گیا ہے جو یو اے ای کے “رین اینہانسمنٹ پروگرام” کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ اس میں سیٹلائٹ، ریڈار، اور موسمی ڈیٹا کو ایک الگورڈم میں شامل کیا جاتا ہے جو اگلے چھ گھنٹوں میں بارش کے لیے موزوں بادلوں کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یو اے ای میں بارش کی مقدار سالانہ صرف 100 ملی میٹر (3.9 انچ) ہے، جس کے باعث ملک کی 90 فیصد آبادی پانی کی کمی کا شکار ہے اور زیادہ تر پانی کو سمندر سے صاف کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: نیو یارک سٹی نے PIA کے روزویلٹ ہوٹل کے ساتھ 220 ملین ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا اس ملک کی آبادی کی اکثریت غیر ملکیوں پر مشتمل ہے اور یہ آبادی 1971 میں یو اے ای کے قیام کے بعد 30 گنا بڑھ چکی ہے۔ یو اے ای میں اگر بارش ہو جائے تو یہ ایک انتہائی نایاب منظر ہوتا ہے، اور اسکولوں کے بچے بارش ہوتے ہی کھڑکیوں کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں بارش کے ایکسپیرینس کو تفریح کا حصہ بنا لیا گیا ہے، جیسے دبئی کی “ریننگ اسٹریٹ” جہاں 300 درہم کے عوض لوگ مصنوعی بارش میں چلنے کا مزہ لیتے ہیں۔ یواے ای میں “رین اینہانسمنٹ فورم” 2017 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس میں سات ایڈیشن ہو چکے ہیں۔ اس پروگرام نے گزشتہ دہائی میں 22.5 ملین ڈالر کی گرانٹس تقسیم کی ہیں۔ اس فورم میں ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے مختلف استعمالات پر بھی گفتگو کی۔ ماروان تیمیمی، اسٹیونز انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر نے ایک ایسا سسٹم متعارف کرایا جو مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے طوفانوں کی حقیقت کو ٹریک کرتا ہے۔ تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی گئیں۔ Loïc Fauchon، صدر ورلڈ واٹر کونسل نے اس موقع پر خبردار کیا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اس نئے اقدام سے بارش کے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہ ہو، مگر اس کا استعمال ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جو خشک اور گرمی سے بھرے اس ملک کے لیے ایک نیا سمت دکھا سکتا ہے۔ مزید پڑھیں: جنگ کے بعد غزہ کی انتظامیہ مصر کے حوالے کی جائے، اسرائیلی رہنما
سندھ میں تعلیمی انقلاب کا آغاز: وزیراعلیٰ سندھ کا طلبا کو مفت لیپ ٹاپ دینے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک قدم اٹھاتے ہوئے صوبے کے ہونہار طلبا کے لیے مفت لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا ہے۔ سکھر کی یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ جلد ایک سکیم متعارف کرائے گی جس کے تحت ہونہار طلبا کو جدید لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا یہ اعلان تعلیم کے شعبے میں ایک نیا انقلاب لانے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور تعلیم کے میدان میں ان کی استعداد کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران ایک دلچسپ واقعہ شیئر کیا جب ایک طالب علم نے پلے کارڈ پر لیپ ٹاپ کا مطالبہ لکھ کر لایا، تو مراد علی شاہ نے فوری طور پر اس طالب علم کو لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا۔ دوسری جانب، سکھر لٹریچر فیسٹول کے موقع پر مراد علی شاہ نے سندھ میں پانی کے مسائل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں نہ صرف پانی کی کمی ہے بلکہ کینالز کی تعمیر کے لیے کوئی گنجائش بھی نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنائیں گے اور کسی ایسے پراجیکٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے صوبے کو نقصان پہنچے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پنجاب کے بعد اپنے صوبے میں بھی طلبا کو مفت لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا تھا۔ گنڈاپور نے اس حوالے سے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کو صحت کی مفت انشورنس فراہم کی جائے۔ یہ اعلان نہ صرف تعلیمی میدان میں ایک نئی روشنی ہے بلکہ طلبا کے لیے ایک نیا راستہ کھولنے کا باعث بھی بنے گا، جو انہیں ٹیکنالوجی کی دنیا میں کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ مزید پڑھیں: پنجاب میں جتنے فیصد طلبا کو لیپ ٹاپ دیے ہیں ہم بھی اتنے فیصد کو دیں گے، علی امین گنڈاپور
جنگ کے بعد غزہ کی انتظامیہ مصر کے حوالے کی جائے، اسرائیلی رہنما

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق یہ تبدیلیاں اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے لیے دو ریاستی حل کے حصول کا آخری موقع ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے خصوصی نمائندے ‘سیگرڈ کاغ’ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں امن سلامتی اور وقار کے ساتھ خطے کے عوام کے لیے ایک نیا مستقبل ممکن ہو سکتا ہے تاہم یہ موقع شاید ایک بار کا ہو۔ کاغ نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا، “مشرق وسطیٰ آج تیز رفتار تبدیلی سے گزر رہا ہے جس کے اثرات ابھی واضح نہیں ہیں مگر یہ تاریخی موقع بھی پیش آ رہا ہے۔ اس موقع کو ہم ضائع نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ دو ریاستی حل کے حصول کا شاید آخری موقع ہو۔” انہوں نے اسرائیل کے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے مطالبات کے خلاف بھی خبردار کیا، جس سے پورے خطے میں کشیدگی اور تشویش مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے اپوزیشن رہنما ‘یائر لاپڈ’ نے بھی ایک متنازعہ تجویز پیش کی ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی انتظامیہ مصر کے حوالے کی جائے۔ لاپڈ کا کہنا ہے کہ مصر کو کم از کم آٹھ سال کے لیے غزہ کا انتظام سنبھالنا چاہیے جس کے بدلے اسرائیل کو مصر کو مالی امداد فراہم کرنی چاہیے۔ اس تجویز پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، اور اس پر بحث جاری ہے۔ ایک اور سنگین مسئلہ جو اس وقت عالمی اداروں کی تشویش کا باعث بن چکا ہے وہ ہے مغربی کنارے میں صحت کی خدمات پر اسرائیلی حملے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں صحت کے شعبے پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رک پیپرکارن، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے ویڈیولنک کے ذریعے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سال 44 ایسے حملے ہوئے ہیں جن میں صحت کی سہولتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے دوران 4 مریضوں کی ایمبولینس تک نہ پہنچ پانے کے باعث موت واقع ہو گئی اور 8 طبی کارکنان زخمی ہو گئے۔ WHO نے یہ بھی بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے 14 فروری 2025 تک 25 صحت کارکنان اور مریض اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں، اور 121 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے میں صحت کے کارکنان کی نقل و حرکت پر شدید پابندیاں عائد ہیں جس سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال ایک سنگین چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک طرف امن کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف تنازعے کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے اس وقت اسرائیلی-فلسطینی تنازعے کے حل کے لیے اپنے آخری امکانات کو تلاش کر رہے ہیں، اور اس بحران کے حل کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ مزید پڑھیں: نیو یارک سٹی نے PIA کے روزویلٹ ہوٹل کے ساتھ 220 ملین ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا
“میرے منع کرنے کے باوجود شیر افضل مروت بیانات دینے سے نہیں رکا” عمران خان کی وکلاء اور میڈیا سے گفتگو

سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے ملاقات کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کیا اور ملک کی موجودہ صورتحال پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیے ہم آخر تک لڑیں گے”۔ ان کا یہ بیان نہ صرف ملکی سیاست پر ایک گہرا اثر چھوڑ رہا ہے بلکہ ان کی جیل میں موجودگی کی سیاسی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “جیل کے انچارج کی جگہ ایک کرنل نے سب کچھ قابو کر رکھا ہے جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جیل کے انتظامات چلا رہا ہے”۔ عمران خان نے اپنی اہلیہ بشری بی بی سے ملاقات کے دوران ہونے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ تیسری بار تھا جب انہیں اپنی بیوی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ “عدالت کے احکامات کے باوجود مجھے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی”۔ سابق وزیراعظم نے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ملک میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے، غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ہمیں اپنے آئینی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے”۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ “ہمیں جلسے کرنے کا حق آئین دیتا ہے، لیکن ہمیں ان حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے”۔ لازمی پڑھیں:محسن نقوی کی روسی سفیر سے ملاقات: دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق انہوں نے بتایا کہ ان کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق پٹیشنز لاہور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں لیکن ابھی تک ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عمران خان نے کرکٹ کے شعبے میں ہونے والی بدعنوانیوں پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے محسن نقوی کی کرکٹ انتظامات میں مداخلت کو ملک کے کھیلوں کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “محسن نقوی کے پاس کرکٹ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور اس نے کرکٹ کی تباہی کر دی ہے”۔ عمران خان نے مزید کہا کہ “جب میں وزیراعظم تھا تو میں نے رمیز راجہ کو چیئرمین بنایا تھا کیونکہ وہ کرکٹ کے کھلاڑی اور تجربہ کار تھے”۔ انہوں نے محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی، جس کے دوران ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کی ایک نئی لہر آئی۔ مزید پڑھیں: مریم نواز کے اشتہارات یا خبریں؟ صحافت کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان عمران خان نے محسن نقوی کی حکومت کے دوران ہونے والی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “محسن نقوی ہر شعبے میں ناکام ہو چکا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ “یہ شخص آصف زرداری کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے، وہی آصف زرداری جس کے مسٹر ٹین پرسنٹ کے قصے پوری دنیا میں مشہور ہیں”۔ عمران خان نے محسن نقوی کے وزیر داخلہ بننے کے بعد ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ عمران خان نے اپنی پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ “میرے مقرر کردہ پارٹی عہدیدار ہی پارٹی پالیسی دینے کے مجاز ہیں اور پارٹی ڈسپلن کی بہت اہمیت ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ باہر والوں کے خلاف ہوتی ہے اپنے لوگوں کے خلاف بات کر کے ہم اپنے اصل موضوعات سے توجہ ہٹا کر دوسری جماعتوں کا ایجنڈا پروان چڑھاتے ہیں”۔ انہوں نے شیر افضل مروت کی پارٹی سے نکالی جانے کی وجہ بھی بتائی۔ عمران خان نے کہا کہ “میرے بار بار منع کرنے کے باوجود شیر افضل مروت بیانات دینے سے نہیں رکا، اسی لیے اس کو پارٹی سے نکالا گیا”۔ عمران خان نے اپنی گفتگو کے آخر میں یہ پیغام دیا کہ “ہم آخر تک لڑیں گے، کیونکہ ہم اپنے آئینی حقوق اور ملک کی حقیقی آزادی کے لیے ہر قدم پر لڑنے کے لیے تیار ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد صرف اپنی ذاتی آزادی کے لیے نہیں، بلکہ پورے ملک کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں یہ گفتگو نہ صرف ان کی سیاسی جدوجہد کو ایک نیا موڑ دیتی ہے، بلکہ یہ عوامی سطح پر ایک اہم پیغام بھی ہے کہ وہ حالات کے سخت ترین مرحلے میں بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مزید پڑھیں: نیو یارک سٹی نے PIA کے روزویلٹ ہوٹل کے ساتھ 220 ملین ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا
نیو یارک سٹی نے PIA کے روزویلٹ ہوٹل کے ساتھ 220 ملین ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا

نیو یارک سٹی کے میئر ‘ایرک ایڈمز’ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ شہر نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کے زیر ملکیت روزویلٹ ہوٹل کے ساتھ 220 ملین ڈالر کے کرایہ کے معاہدے کو ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکا کے ٹیکس دہندگان کے پیسے کے استعمال پر شدید تنقید کی جا رہی تھی جس کا مقصد پناہ گزینوں کو اس ہوٹل میں ٹھہرانا تھا۔ یہ ہوٹل 2020 میں کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہونے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، 2023 میں اس ہوٹل کو دوبارہ پناہ گزینوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر کھولا گیا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ٹیکساس کے قدامت پسند گورنر کی جانب سے لبرل ریاستوں میں منتقل کیے گئے تھے۔ میئر ایڈمز کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نیو یارک سٹی کے ایمرجنسی ردعمل اور پالیسی فیصلوں کے کامیاب ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے شہر کو لاکھوں ڈالر کی بچت ہوگی، جو ٹیکس دہندگان کے پیسے کے بچاؤ کے لیے ضروری تھا۔ روزویلٹ ہوٹل نے 1,025 کمروں میں پناہ گزینوں کو ٹھہرا کر ان کی رہائش کا انتظام کیا تھا، جس کی ایک رات کی قیمت تقریباً 200 ڈالر تک تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس ہوٹل میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں نے قیام کیا جن میں سے بیشتر نے امریکا کے مختلف حصوں سے نیو یارک سٹی کا رخ کیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے اشتہارات یا خبریں؟ صحافت کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان 2023 کے اوائل میں شہر میں پناہ گزینوں کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں روزویلٹ ہوٹل کو ایک اہم پروسیسنگ سینٹر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس دوران نیو یارک سٹی نے حکومت کے ساتھ تین سالہ کرایہ داری معاہدہ کیا تھا جس کی مالیت 220 ملین ڈالر تھی۔ مگر 2024 کے شروع میں جب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اس ہوٹل کی نجکاری کے امکانات نے زور پکڑا، شہر کے حکام نے اس معاہدے کو دوبارہ جائزہ لیا۔ اس دوران پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) اور امریکی کنسورشیم کے درمیان ایک مشترکہ منصوبے کی بنیاد پر ہوٹل کی ترقی کی بات چیت بھی شروع ہو گئی۔ روزویلٹ ہوٹل، جو 1924 میں امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام پر کھولا گیا تھا، امریکی تاریخ کا ایک اہم نشان ہے۔ اس ہوٹل کی شان و شوکت میں امریکی متمول افراد اور مشہور شخصیات کی بڑی تعداد نے قیام کیا، مگر آج کل اس ہوٹل کی بیشتر رہائشی لاطینی امریکہ سے آئے ہوئے پناہ گزین ہیں۔ یہ ہوٹل 1979 میں امریکی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر پال مِل اسٹین نے PIA کو لیز پر دے دیا تھا، اور 2000 میں PIA اور سعودی شہزادہ فیصل بن خالد نے اس ہوٹل کو خرید لیا تھا، جس کے بعد PIA نے شہزادہ فیصل کا شیئر خرید لیا۔ اب اس ہوٹل کا مستقبل ایک نیا موڑ لے رہا ہے جہاں ایک جانب اس کی نجکاری کا عمل جاری ہے، تو دوسری طرف نیو یارک سٹی کے حکام پناہ گزینوں کی آبادکاری کے معاملے پر مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ایک پیچیدہ صورتحال کو جنم دے رہے ہیں، جہاں عالمی سطح پر پناہ گزینوں کے بحران اور اقتصادی بچت کی سیاست کے درمیان توازن قائم کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ مزید پڑھیں: یورپ جانے کی خواہش اور موت کے منہ میں چھلانگ، یہ ڈنکی آخر ہے کیا؟
برطانیہ کا دفاعی بجٹ بڑھانے اور امدادی فنڈز میں کمی کا فیصلہ

برطانوی وزیراعظم ‘کیئر اسٹارمر’ نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ 2027 تک اپنے دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کا 2.5 فیصد تک بڑھا دے گا۔ اس فیصلے کا مقصد یورپ کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنا اور یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات کو کم کرنا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات بھی متوقع ہے۔ کیئر اسٹارمر نے پارلیمنٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب وہ امریکا کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات صدر ٹرمپ سے ہوگی۔ اسٹارمر نے وضاحت کی کہ یہ اضافی دفاعی فنڈنگ یوکرین اور یورپ کی مدد کے لیے کی جا رہی ہے تاکہ روس کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکا کا ساتھ دیا جا سکے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے اسٹارمر نے یہ بھی بتایا کہ برطانیہ 2027 تک اپنے سالانہ دفاعی اخراجات میں 13.4 ارب پاؤنڈ (تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر) کا اضافہ کرے گا، جس سے برطانیہ کے دفاعی بجٹ کا کل حجم 53.9 ارب پاؤنڈ سے بڑھ کر 68.3 ارب پاؤنڈ تک پہنچ جائے گا۔ یہ اضافی فنڈز یوکرین کی حمایت اور یورپ کی سیکیورٹی کے لیے مخصوص کیے جائیں گے۔ اسٹارمر نے کہا کہ “ہمیں اس سے بھی زیادہ کرنا ہوگا۔ میں ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہوں کہ تمام یورپی اتحادیوں کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہیے۔” ان کے مطابق یہ فیصلے کا وقت تھا کیونکہ یورپ کے کئی ممالک دفاعی اخراجات میں امریکا کی پیروی نہیں کر رہے تھے اور یورپ کو اپنی سیکیورٹی کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت تھی۔ برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے ملک کی بین الاقوامی امدادی بجٹ میں 40 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے امدادی بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد سے کم ہو کر 0.3 فیصد تک رہ جائے گا۔ اسٹارمر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امدادی بجٹ میں یہ کمی ایک ناپسندیدہ فیصلہ تھا، لیکن انہوں نے کہا کہ یہ قدم یوکرین اور یورپ کی مدد کے لیے ضروری تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب برطانیہ نے اپنے امدادی بجٹ میں کمی کی ہو۔ 2020 میں کووڈ-19 کے دوران بھی امدادی بجٹ کو 0.7 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس بار برطانوی وزیراعظم نے یہ فیصلہ ایک نیا “عہد” دکھانے کے لیے کیا ہے جس کے مطابق برطانیہ یوکرین اور یورپ کے تحفظ میں امریکا کا ہمسایہ بن کر فعال کردار ادا کرے گا۔ مزید پڑھیں: جنوبی کوریا میں تعمیراتی سڑک پر عمارت گرنے سے چار افراد ہلاک، چھ زخمی اسٹارمر کی ٹرمپ سے ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ امریکی صدر نے بار بار یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں اور نیٹو کی مدد کے لیے زیادہ اخراجات کریں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک لے جانا چاہیے۔ اسی دوران، فرانسیسی صدر ‘ایمنوئل میکرون’ نے بھی امریکا کا دورہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یورپ دفاعی اور سیکیورٹی کے امور میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔ میکرون نے کہا کہ “یورپ کو اپنے دفاعی شعبے میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کی سیکیورٹی کے لیے ذمہ داری اٹھائے گا۔” یہ سب اقدامات اس وقت اٹھائے جا رہے ہیں جب روس کے ساتھ جنگ کے دوران یورپ کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔ یوکرین کی جنگ نے پورے یورپ کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے، اور اب برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک امریکا کے ساتھ مل کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے حوالے سے کہا کہ “یورپ کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے اور امریکا کا کردار کم ہونا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ “یورپ کو اپنی جنگی ذمہ داریوں کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا اور یہ بات وہی سمجھ رہے ہیں۔” یہ تمام فیصلے اور ملاقاتیں عالمی سیکیورٹی کے نئے دور کا اشارہ ہیں، جس میں یورپ اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون میں تیزی آئے گی اور اس کے ساتھ ہی یوکرین کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ مزید پڑھیں: غزہ میں سردی کی لہر: چھ بچوں کی ہلاکت نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
افغانستان میں ژالہ باری اور بارشوں کا تباہ کن اثر، 29 افراد جاں بحق

افغانستان میں حالیہ ژالہ باری اور شدید بارشوں کے باعث 29 افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ افغانستان کے دو صوبوں میں پیش آیا ہے۔ فرح صوبہ کے محکمہ آفات کے سربراہ محمد اسرائیل سیار نے بتایا کہ “21 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور 6 دیگر زخمی ہوئے ہیں”۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دو خاندان تفریحی مقصد کے تحت پکنک کے لیے گئے تھے اور شدید ژالہ باری کی زد میں آگئے۔ سیار نے مزید کہا کہ یہ واقعہ اتنا تباہ کن تھا کہ تمام متاثرہ افراد ایک ہی جگہ پر جمع تھے اور قدرتی آفات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھے۔ جنوبی قندھار کے مقامی آفات کے انتظامی حکام نے بھی ایک دل دہلا دینے والی رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ “بارشوں اور سیلابی ریلوں نے 8 افراد کی جان لے لی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں”۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ “آج صبح چار خواتین جو کپڑے دھو رہی تھیں، سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں، اور صرف ایک عورت بچی”۔ اس کے علاوہ، ایک بچہ بھی قندھار میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا، جب کہ ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک عورت اور تین بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ افغانستان جو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور جسے دہائیوں کی جنگوں نے متاثر کیا ہے آج کل موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے سبب افغانستان میں انتہائی موسمی حالات بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سیلاب، خشکی، اور زراعت میں کمی جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے کے نمائندے ‘اسٹیفن روڈریگس’ نے 2023 میں کہا تھا کہ افغانستان میں 80 فیصد لوگ زراعت پر انحصار کرتے ہیں اور قدرتی آفات ان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ عالمی برادری کو افغان عوام کی مدد کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرات سے بچا جا سکے۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے نے افغانستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس ملک کو قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ مزید پڑھیں: محسن نقوی کی روسی سفیر سے ملاقات: دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق
محسن نقوی کی روسی سفیر سے ملاقات: دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاکستان میں روس کے سفیر ‘البرٹ پی خوروف’ کے درمیان منگل کے روز اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ پاکستان اور روس کی مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج ہے اور اس کے تدارک کے لیے صرف مشترکہ اور کثیرالملی اقدامات ہی موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے روس سے تعاون بڑھانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع کے بارے میں بھی بات کی۔ روس کے سفیر البرٹ پی خوروف نے اس ملاقات کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام کو ماسکو اور سائبریا میں اینٹی نارکوٹکس ٹریننگ پروگرامز میں شرکت کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تبادلے کے پروگرامز کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے گا تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کو درپیش خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مشکلات ہیں جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی مفادات اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم ملاقاتیں اور تعاون کے مواقع سامنے آئے ہیں، جن میں روس کے وزیراعظم میخائل مشستین کا اسلام آباد کا دورہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے 23 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت شامل ہے۔ پاکستان اور روس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولا ہے جہاں تجارت، صنعت، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ فوجی مشق “دروژبا” (دوستی) VII بھی ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، اور دونوں ممالک کا مقصد عالمی سطح پر دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ مزید پڑھیں: مریم نواز کے اشتہارات یا خبریں؟ صحافت کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان
غزہ میں سردی کی لہر: چھ بچوں کی ہلاکت نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

غزہ کی سرزمین پر شدید سرد لہر نے فلسطینی عوام کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے اور اس لہر کے نتیجے میں کم سن بچوں کی ہلاکت نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ گذشتہ دنوں غزہ میں پیدا ہونے والے چھ بچوں کی موت نے نہ صرف غزہ کے اسپتالوں بلکہ پوری دنیا کو گہرے دکھ میں ڈبو دیا ہے۔ غزہ سٹی کے ‘فرینڈز آف دی پیشنٹ چیریٹیبل ہسپتال’ کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید صلاح نے اس دل دہلا دینے والی خبر کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر صلاح کے مطابق تین نوزائیدہ بچے جو محض ایک سے دو دن کے تھے، اسپتال پہنچتے ہی موت کے منہ میں چلے گئے۔ ان بچوں کی موت کی وجہ شدید سردی اور ضروری حرارت کی عدم موجودگی تھی۔ اس کے علاوہ دو مزید بچوں کی موت بھی منگل کی صبح رپورٹ ہوئی، اور ایک اور موت خان یونس میں ہوئی۔ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی کہ گزشتہ ہفتے کے دوران، چھ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت سرد لہر اور گرمی کی کمی کے باعث ہوئی ہے۔ اسپتالوں میں داخل ہونے والے دیگر بچوں میں بھی شدید ہائپوتھرمیا کی علامات نظر آئیں، اور ان بچوں کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔ ڈاکٹر صلاح نے بتایا کہ یہ بچے کسی بیماری میں مبتلا نہیں تھے بلکہ ان کے خاندانوں کے پاس انہیں گرم رکھنے کے وسائل نہیں تھے۔ اس بحران نے غزہ کی عوام کو شدید تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے پر غزہ میں حکومتی جماعت حماس نے اسرائیل کی ‘جرم’ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حماس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں ضروری انسانی امداد اور عارضی پناہ گزینی کی سہولتیں فوری طور پر فراہم کرے۔ حماس نے کہا کہ ان بچوں کی موت اسرائیل کی ناکامی اور ظالمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی غزہ میں گذشتہ مہینوں میں ہوئی دیگر ہلاکتوں کی بھی یاد دلائی گئی، جہاں دسمبر میں آٹھ نوزائیدہ بچے بھی ہائپوتھرمیا کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس دوران اقوام متحدہ نے یہ اطلاع دی تھی کہ سردیوں کے حالات میں کم از کم 74 بچے شدید حالات میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ غزہ میں پناہ گزینی کے وسائل کی فراہمی میں اسرائیل کی جانب سے روڑے اٹکائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں عارضی رہائش کے لیے موبائل ہومز کی آمد کو روک دیا ہے، باوجود اس کے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے دوران ان پناہ گزینی وسائل کی فراہمگی کی اجازت دی تھی۔ ان موبائل ہومز کی ایک بڑی تعداد رفح کراسنگ پر موجود ہے اور اسرائیل کی اجازت کا انتظار کر رہی ہے تاکہ ان پناہ گزینی وسائل کو غزہ کے عوام تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔ عالمی صحت تنظیم (WHO) نے ویسٹ بینک میں صحت کے اداروں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اکتوبر 2024 سے دسمبر 2024 تک ویسٹ بینک میں 694 صحت کے مراکز پر حملے ہو چکے ہیں جس میں شدید نوعیت کے فوجی آپریشنز کے دوران اسپتالوں اور کلینکوں کو نقصان پہنچا۔ ویسٹ بینک کے متعدد شہروں میں، خاص طور پر شمالی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں، اور تولوکرم کی مہاجر کیمپ میں 30 دن سے زائد عرصے سے محاصرہ جاری ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔ غزہ اور ویسٹ بینک میں انسانوں کے حقوق کی پامالیوں اور انسانیت سوز حالات کے باوجود، عالمی برادری کی خاموشی اور تنازعے کے حل کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ غزہ میں سردی کی لہر اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں اس سنگین انسانی بحران کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اب عالمی برادری کا امتحان یہ ہے کہ آیا وہ غزہ اور فلسطین کے عوام کے لیے حقیقی اور فوری امداد فراہم کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔ مزید پڑھیں: جنوبی کوریا میں تعمیراتی سڑک پر عمارت گرنے سے چار افراد ہلاک، چھ زخمی
پاکستان اور بنگلہ دیش میں 54 سال بعد سرکاری سطح پر براہ راست تجارت کا آغاز، 50 ہزار ٹن پاکستانی چاول درآمد

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست حکومت سے حکومت تک تجارتی تعلقات کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کا پہلا قدم بنگلہ دیش میں 50,000 ٹن چاول کی درآمد سے ہوا ہے۔ یہ اہم پیش رفت 2024 کے آخر میں ان دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے مگر 2024 کے اگست میں بنگلہ دیش کی طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ شیخ حسینہ کے انڈیا کے ساتھ مضبوط روابط اور ان کی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش نے تعلقات میں بہتری کی راہیں تلاش کیں۔ حسینہ کے انڈیا فرار ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک واضح سرد مہری کا آغاز ہوا جس سے پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کا موقع ملا۔ نومبر 2024 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست نجی تجارت کا آغاز ہوا جب کراچی سے ایک مال بردار جہاز براہ راست چٹاگانگ روانہ ہوا۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں بعد پہلا براہ راست تجارتی جہاز تھا، جس نے نیا تاریخ رقم کیا۔ اس کے بعد، حکومتوں کے درمیان چاول کی درآمد کے لیے ایک معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت 50,000 ٹن چاول بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان سے خریدا گیا۔ زیاالدین احمد بنگلہ دیش کے وزارت خوراک کے ایک سینئر افسر نے اس معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “یہ پاکستان سے چاول کی درآمد کا پہلا حکومت سے حکومت تک کا معاہدہ ہے اور یہ ہمارے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرتا ہے جو ہمیں نہ صرف سپلائی کے ذرائع کی متنوعیت فراہم کرتا ہے بلکہ قیمتوں کے حوالے سے بھی ایک مسابقتی فائدہ فراہم کرتا ہے۔” یہ بھی پڑھیں: ایران سے تیل خریدنے والے ممالک کے لیے امریکا کی دھمکی، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا یہ معاہدہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بنگلہ دیش ایک نچلے علاقے پر واقع ہے جو عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سب سے زیادہ شکار ہے۔ بنگلہ دیش جو کہ دنیا کے سب سے زیادہ سیلابی اور طوفانی علاقوں میں سے ایک ہے، یہ ملک اپنی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عالمی سطح پر مختلف ممالک سے چاول کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستانی چاول کی درآمد کا یہ عمل بنگلہ دیش کے لیے نیا نہیں ہے کیونکہ نجی شعبہ پہلے ہی کئی سالوں سے پاکستان سے چاول خرید رہا تھا، مگر اس تجارت کو پہلے دیگر ممالک جیسے سری لنکا، سنگاپور اور ملائیشیا میں منتقل کرنا پڑتا تھا۔ اب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری آ چکی ہے، اور یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک نیا اور مستحکم تجارتی راہ فراہم کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مستحکم ہوں گے بلکہ یہ اس بات کا غماز بھی ہے کہ عالمی سطح پر تجارتی تعلقات میں تبدیلیاں اور نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اس اہم پیش رفت کا آغاز ایک نئے تجارتی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ مزید پڑھیں: شہباز شریف آذربائیجان کے بعد ازبکستان کے دورے پر، مقاصد کیا ہیں؟