’امن سے کھیلنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا‘ آرمی چیف کا جوانوں سے خطاب

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی ریاست کی سلامتی کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گی اور دہشتگردی کے خلاف ڈھال بنی رہے گی، پاکستان کے امن سے کھیلنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا جہاں انہیں حالیہ دہشتگرد حملے اور علاقے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے 4 مارچ کو بنوں کینٹ پر ہونے والے ناکام دہشتگرد حملے کے تناظر میں دورہ کیا۔ ان کی آمد پر کور کمانڈر پشاور نے استقبال کیا۔ آرمی چیف نے سی ایم ایچ بنوں میں زخمی جوانوں کی عیادت کی اور ان کی بہادری اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے حملے میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے اہلخانہ سے بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی ریاست کی سلامتی کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گی اور دہشتگردی کے خلاف ڈھال بنی رہے گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حملے کے مرتکب دہشتگردوں کو بہادر جوانوں نے فوری انجام تک پہنچا دیا جبکہ اس حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولتکاروں کو بھی جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مزید پڑھیں: ’ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے‘ رمضان ٹرانسمیشن رحمت یا زحمت؟ آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نشانہ بنانا خوارج کے گھناؤنے عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مقامی کمیونٹی کا کردار انتہائی اہم ہے اور قومی یکجہتی وقت کی ضرورت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف نے فوجی جوانوں سے بھی خطاب کیا اور ان کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ خوارج اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگرد گروہ بشمول فتنہ الخوارج، دشمن کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ آرمی چیف نے انکشاف کیا کہ حالیہ دہشتگرد حملوں میں غیرملکی ہتھیاروں اور سازوسامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امن و استحکام خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ یاد رہے کہ 4 مارچ کو دہشتگردوں نے بنوں کنٹونمنٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے حملہ کرنے والے تمام 16 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں 4 خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔ اس شدید جھڑپ میں 5 بہادر جوان شہید ہوئے جبکہ دہشتگردوں کے خودکش دھماکوں سے کنٹونمنٹ کی دیوار کا ایک حصہ گر گیا، جس کے نتیجے میں 13 معصوم شہری شہید اور 32 زخمی ہو گئے۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیا جائے گا اور پاکستان کا امن کسی بھی صورت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
لندن میں انڈین پرچم کی بے حرمتی: انڈیا کا برطانوی حکومت سے سخت ردعمل کا اظہار

لندن میں انڈیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر’سبھرا مینیم جے شنکر’ کے دورے کے دوران ایک احتجاجی نے سیکیورٹی کو توڑ کر ان کی گاڑی کے سامنے آ کر انڈین پرچم کو پھاڑ دیا جس پر انڈیا نے برطانیہ کی حکومت سے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ توقع کرتا ہے کہ برطانیہ اپنے “سفارتی فرائض” کو پورا کرے گا۔ یہ واقعہ بدھ کے روز لندن کے معروف تھنک ٹینک “چیتھم ہاؤس” میں پیش آیا، جہاں وزیر خارجہ جے شنکر خطاب کر رہے تھے۔ ویڈیوز جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ہیں ان میں ایک چھوٹے گروپ کو سکھ علیحدگی پسند تحریک “خالصتان” کے پرچم لہراتے ہوئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اسی دوران، ایک احتجاجی نے پولیس کے حصار کو توڑتے ہوئے جے شنکر کی گاڑی کے سامنے انڈین پرچم کو پھاڑ دیا۔ تاہم، پولیس فوراً حرکت میں آئی اور اس شخص کو گرفتار کر لیا۔ انڈیا کے وزارت خارجہ کے ترجمان ‘رندھیر جیسوال’ نے ایک بیان میں کہا کہ “ہم جمہوری آزادیوں کا غلط استعمال کرنے والے عناصر کی مذمت کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ میزبان حکومت ایسے حالات میں اپنے تمام سفارتی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر ادا کرے گی۔” یہ بھی پڑھیں: ’دہشت گرد شریف اللہ کی گرفتاری پاکستانی اور امریکی حکام کے تعاون سے ممکن ہوئی‘ امریکی وزیر دفاع یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب جے شنکر برطانیہ اور آئرلینڈ کے اپنے چھ روزہ دورے پر تھے۔ وزیر خارجہ کے اس دورے کو دونوں ممالک کے ساتھ انڈیا کے تعلقات میں اہمیت حاصل ہے۔ انڈیا میں ‘خالصتان’ تحریک جو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہے، یہ تحریک انڈیا کے لیے ایک بڑا سلامتی خطرہ ہے اور اس تحریک کو انڈیا دہشت گردی سے جوڑتا ہے۔ اس تحریک کے حامی برطانیہ اور کینیڈا میں بھی فعال ہیں جہاں اس کے حامی انڈین حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ اپریل 2023 میں انڈیا نے برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خالصتان تحریک کے برطانیہ میں موجود حمایتیوں پر نظر رکھے جب لندن میں انڈین سفارتخانے کی عمارت سے انڈین پرچم ہٹا دیا گیا تھا۔ انڈیا نے اس واقعے کے بعد ایک بار پھر برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود خالصتان حامیوں پر کڑی نگرانی رکھے اور اس نوعیت کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ اس سیکیورٹی کی خلاف ورزی نے انڈیا اور برطانیہ کے تعلقات کو ایک نئی پیچیدگی میں ڈال دیا ہے اور اس معاملے پر عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل آ سکتا ہے۔ مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی سیاست میں بے چینی: ناہید اسلام کا آئندہ انتخابات کے بارے میں خبردار
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی ویزا پالیسی، پاکستانیوں اور افغانوں کے لیے امریکا کے دروازے بند؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی سفری پابندیوں کے تحت پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کے لیے امریکا میں داخلہ آئندہ ہفتے سے مکمل طور پر بند ہونے کا امکان ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مختلف ممالک کے سیکیورٹی اور امیگریشن جانچ پڑتال کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل یا جزوی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق افغانستان کو پہلے ہی سفری پابندیوں کے لیے تجویز کردہ ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، جب کہ پاکستان پر بھی مکمل سفری پابندی کی سفارش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہوا تو ہزاروں افغان شہری متاثر ہوں گے، جنہیں پہلے ہی امریکا میں بسانے کے لیے کلیئرنس دی جا چکی ہے۔ خیال رہے کہ طالبان کے انتقامی کارروائیوں کے خدشے کے پیش نظر امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کو خصوصی ویزے اور پناہ گزین پروگرام کے تحت امریکا میں آباد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ اقدام اس پالیسی کی یاد دلاتا ہے جس کے تحت ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کی تھی۔ تاہم بعد میں ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن نے 2021 میں ان پابندیوں کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں ‘قومی ضمیر پر داغ’ قرار دیا تھا۔ نئی پابندیوں کے نفاذ کی صورت میں ہزاروں پاکستانی اور افغان شہریوں کے امریکا میں داخلے پر غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جب کہ امریکا میں موجود پاکستانی کمیونٹی بھی اس فیصلے پر گہری تشویش کا شکار ہے۔ ٹرمپ نے 20 جنوری کو ایک انتظامی حکم نامہ جاری کیا، جس میں قومی سلامتی کے خطرات کا پتہ لگانے کے لیے امریکہ میں داخلے کے خواہشمند کسی بھی غیر ملکی کی سیکیورٹی جانچ کی ضرورت ہے۔ اس حکم نے کابینہ کے متعدد ارکان کو 12 مارچ تک ان ممالک کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی جہاں سے سفر جزوی طور پر یا مکمل طور پر معطل کیا جانا چاہئے کیونکہ ان کی جانچ اور اسکریننگ کی معلومات بہت کم ہیں۔ اس اقدام کی نگرانی کرنے والے اسٹیٹ، جسٹس اینڈ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکموں اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر نے تبصرہ کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی سیاست میں بے چینی: ناہید اسلام کا آئندہ انتخابات کے بارے میں خبردار یاد رہے کہ تقریبا 2 لاکھ افغان ایسے ہیں، جن کی امریکہ میں آبادکاری کی منظوری دی گئی ہے یا جن کے پاس امریکی پناہ گزین اور خصوصی امیگرنٹ ویزا کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ وہ 20 جنوری سے افغانستان اور تقریباً 90 دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں تقریباً دو لاکھ پاکستانی بھی شامل ہیں۔
‘ناجائز منافع خوری برداشت نہیں ہوگی،’ سندھ حکومت کی ذخیرہ اندوزوں کو سخت وارننگ

سندھ حکومت نے عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں بچت بازار قائم کر دیے ہیں، جہاں شہریوں کو ضروری اشیاء سستے داموں فراہم کی جائیں گی۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ بچت بازاروں کے قیام کا مقصد عوام کو ریلیف دینا اور خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی اولین ترجیح عوام کو مہنگائی سے بچانا ہے اور اس حوالے سے تمام انتظامی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مزید پڑھیں: ’پاکستان میں دہشتگردوں کو بسانے پر باجوہ سے پوچھا جائے‘ خواجہ آصف کی میڈیا سے گفتگو شرجیل میمن نے خبردار کیا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور بدانتظامی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکنے کے لیے افسران کو خصوصی ڈیوٹیز سونپی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ عوام کو بنیادی اشیاء مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور بچت بازاروں میں شفافیت اور سخت نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بچت بازاروں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ افسران سے براہ راست رابطہ کریں۔
موجودہ حالات میں بنگلہ دیش میں انتخابات کا انعقاد چیلنج بن سکتا ہے، ناہید اسلام

بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات کو لے کر ملک کی سیاسی فضا میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے، ایک نئی پارٹی کے سربراہ جو نوجوانوں کی حمایت کے حامل ہیں، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں اس سال کے آخر تک انتخابات کا انعقاد مشکل نظر آ رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ سال کے دوران عوامی سطح پر سخت مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹنا پڑا۔ ان مظاہروں کی قیادت طلبا کی جانب سے کی گئی تھی جو حکومت کے خلاف اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اب جب کہ ملک میں بے چینی بڑھ رہی ہے ایک نئی سیاستی جماعت “جتیا ناگرک پارٹی” (NCP) ابھر کر سامنے آئی ہے جس کے سربراہ، ناہید اسلام ہیں انہوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو انتخابات کا انعقاد ایک چیلنج بن جائے گا۔ ناہید اسلام جو حالیہ دنوں میں عبوری حکومت کے مشیر بھی تھے، انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ بنگلہ دیش کی موجودہ انتظامیہ جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، عوامی تحفظ کی ضمانت دینے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق “پچھلے سات مہینوں میں ہمیں امید تھی کہ مختصر مدتی اصلاحات کے ذریعے پولیسنگ اور قانون کی حکمرانی میں بہتری آئے گی مگر یہ ہماری توقعات پر پورا نہیں اُتر سکا۔” یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری: کیا عالمی امن کے لئے ایک نیا مرحلہ آ رہا ہے؟ ناہید اسلام کے مطابق “موجودہ حالات میں اور پولیسنگ کے نظام کے ساتھ، میں سمجھتا ہوں کہ قومی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔” انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا جب وہ اپنے سرکاری رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ ناہید اسلام کی یہ بات نہ صرف ان کے سیاسی نقطہ نظر کو ظاہر کرتی ہے بلکہ بنگلہ دیش کی سیاست کے ایک نیا رخ بھی پیش کرتی ہے۔ ان کی جماعت کو سیاسی تجزیہ کار ایک نئی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو کہ طویل عرصے سے شیخ حسینہ کی “اوامی لیگ” اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی “بنگلہ دیش نیشنل پارٹی” کے درمیان تقسیم شدہ سیاست میں توازن پیدا کر سکتی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں جلد از جلد انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ جمہوری حکومت کی واپسی ہو سکے۔ تاہم، ناہید اسلام نے خبردار کیا کہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے ایک اہم آئینی دستاویز “پروکلیشن آف دی جولائی انقلاب” پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ لازمی پڑھیں: پاک افغان سرحد سے گرفتار دہشتگرد امریکی عدالت میں پیش، کس کس حملے میں ملوث رہا؟ یہ دستاویز بنگلہ دیش کے عوام کی آرزوؤں اور گزشتہ سال کی سیاسی ہلاکتوں کی یاد میں تیار کی جائے گی۔ اس دستاویز کے ذریعے عوامی توقعات کو سمجھا جائے گا اور ملک کے سیاسی نظام میں اہم اصلاحات کی جائیں گی۔ اسلام نے کہا کہ “اگر ہم ایک ماہ کے اندر اس پر اتفاق رائے حاصل کر لیتے ہیں تو انتخابات فوراً کرائے جا سکتے ہیں لیکن اگر اس میں مزید وقت لگا تو انتخابات کو مؤخر کرنا پڑے گا۔” ملک کے حالات اس وقت بے حد نازک ہیں۔ عوامی مظاہروں کے دوران حکومت کے اہم عہدیداروں اور شخصیات پر حملوں کے علاوہ اقلیتی فرقوں کے خلاف بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں ہندو برادری کے افراد شامل ہیں۔ حالانکہ عبوری حکومت ان رپورٹس کو مبالغہ آمیز قرار دیتی ہے۔ ناہید اسلام کا کہنا ہے کہ ملک میں امن قائم کرنے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی نئی پارٹی، جس کی بنیاد حال ہی میں رکھی گئی ہے، کو ملک کے مختلف امیر طبقوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی چندہ اکٹھا کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے تاکہ انتخابات کے لیے ضروری وسائل مہیا کیے جا سکیں۔ ان تمام بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے درمیان بنگلہ دیش کا عوامی طبقہ انتہائی بے چین ہے۔ کئی ماہ سے جاری سیاسی عدم استحکام اور احتجاجات نے عوام کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ انتخابات کے فوری انعقاد کے خواہاں ہیں۔ تاہم، ناہید اسلام کی جماعت اور عبوری حکومت دونوں کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایک پائیدار سیاسی مفاہمت ہو سکے گی جو کہ انتخابی عمل کو پرامن طریقے سے آگے بڑھا سکے؟ مزید پڑھیں: روس نے یوکرین کے لیے فوجی راز چرانے والے شخص کو 15 سال قید کی سزا سنا دی
بینکنگ بحران یا تکنیکی ناکامی؟ یورپ میں لاکھوں لوگوں کی ادائیگیاں رک گئیں

یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کے ادائیگی کے نظام میں گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی بڑی تکنیکی خرابی کے باعث ہزاروں افراد کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے سرکاری شعبے کے ملازمین، پنشنرز اور فلاحی ادائیگی وصول کرنے والے افراد کی تنخواہوں میں تاخیر ہوئی۔ عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا، جب یورپی مرکزی بینک کا ‘ٹارگٹ پیمنٹ سسٹم’ ناکام ہوگیا، جو روزانہ کھربوں یوروز کی ٹرانزیکشنز کو سنبھالتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس مسئلے کی وجہ ڈیٹا بیس کی خرابی کو قرار دیا گیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ ایک ہارڈویئر جزو کی ناکامی تھی۔ 10 گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس خرابی نے 15,000 سے زائد معمر اور کم آمدنی والے یونانی شہریوں کی فلاحی ادائیگیاں، آسٹریا میں متعدد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشنرز کی رقم اور کئی مالیاتی سودے معطل کر دیے۔ نظام کی خرابی دور کرنے کے لیے یورپی مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے اہلکاروں کو رات بھر کام کرنا پڑا۔ یورپی مرکزی بینک نے اپنے ہنگامی ادائیگیوں کے نظام کو فعال کیا، لیکن یہ لاکھوں ٹرانزیکشنز کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔ مزید یہ کہ جمعے کے روز بھی یونان اور آسٹریا میں کئی افراد کو اپنی تنخواہیں اور پنشن وقت پر نہ مل سکیں، جب کہ مالیاتی منڈیوں میں بھی شدید غصہ پایا گیا۔ یورپی پارلیمنٹ کے ایک رکن مارکس فیبر نے اس بحران پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے روئٹرز کو بتایا کہ ہارڈویئر کی خرابی قابلِ معافی ہے، لیکن ایک ایسا بیک اپ سسٹم نہ ہونا جو فوری طور پر فعال ہو سکے، ناقابل قبول ہے۔ ای سی بی کو اس کی مکمل وضاحت دینی ہوگی۔ لندن میں قائم قانونی فرم اوسبورن کلارک کے پارٹنر پال ہیرس نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی نجی بینک میں ایسی خرابی آتی ہے، تو ذمہ داری کا تعین فوراً کیا جاتا ہے، لیکن یہاں احتساب کا کوئی واضح نظام نظر نہیں آ رہا۔ بروکرز اور مالیاتی ادارے جو اس خرابی سے متاثر ہوئے، ECB سے معاوضے کے حصول کی تیاری کر رہے ہیں۔ ECB کے قوانین کے مطابق اگر بینک کے نظام کی ناکامی کے باعث مالی نقصان ہو، تو متاثرہ ادارے اور افراد معاوضے کے دعوے کر سکتے ہیں۔ یورپی مرکزی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2021، 2022 اور 2023 میں اس کا ٹارگٹ پیمنٹ سسٹم 100 فیصد فعال رہا تھا، جب کہ 2020 میں یہ شرح 99.46 فیصد رہی، جو کہ ہدف 99.7 فیصد سے کم تھی۔ مزید پڑھیں: ترکیہ کی یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری: کیا عالمی امن کے لئے ایک نیا مرحلہ آ رہا ہے؟ دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالیاتی ماہر آرون کلین نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے روئٹرز سے کہا کہ ایک ایسا بینکاری نظام جو کبھی ناکام نہ ہو، شاید ممکن ہی نہ ہو۔ لیکن اگر اسے بالکل محفوظ بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ اتنا مہنگا ہو سکتا ہے کہ چند گھنٹوں کی تاخیر کے نقصان سے زیادہ بڑا مسئلہ بن جائے۔ یورپی مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی خرابی سے بچا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس واقعے نے بینکاری نظام میں موجود کئی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، جس سے کئی سوالات نے بھی جنم لیا ہے؟
روس نے یوکرین کے لیے فوجی راز چرانے والے شخص کو 15 سال قید کی سزا سنا دی

روس کے فوجی عدالت نے ایک شخص کو روسی نیوی کے راز یوکرین کو فراہم کرنے کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق، ڈمیٹری لیون، جو روسی شہری ہے، کو “عظیم غداری” اور “دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہونے” کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق، لیون نے اپنے ہینڈلرز کے احکامات پر روسی نیوی کے جہازوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور ساتھ ہی وہ فوجی یونٹ اور ہوائی اڈے کے محل وقوع اور ان کی حفاظت کے طریقوں کے بارے میں بھی معلومات جمع کرتا رہا۔ یہ معلومات وہ یوکرائنی خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کو میسجنگ ایپ کے ذریعے بھیجتا تھا۔ نوووروسیسک، جو جنگ کے دوران یوکرینی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے، ایک اہم بحیرہ اسود کی بندرگاہ ہے جہاں روسی نیوی کا بیس، جہاز سازی کے کارخانے، گندم کے گودام اور ایک تیل کی ترسیلی سہولت موجود ہے۔ اسی دوران ایک الگ کیس میں پراسیکیوٹر نے اعلان کیا کہ ایک 56 سالہ خاتون ‘ناتالیا شولگا’ کو جنوبی یوکرین کے روسی زیر قبضہ شہر اینرہودار میں جون 2024 میں بجلی کی ترسیلی لائن کو اڑانے کی کوشش کرنے پر 15 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ یہ دونوں کیس روس کے لیے اہم خفیہ معلومات کے انکشاف اور یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کے امکانات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید پڑھیں: ترکیہ کی یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری: کیا عالمی امن کے لئے ایک نیا مرحلہ آ رہا ہے؟
ترکیہ کی یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری: کیا عالمی امن کے لئے ایک نیا مرحلہ آ رہا ہے؟

ترکی، جو نیٹو میں امریکا کے بعد سب سے بڑی فوجی طاقت رکھتا ہے، انہوں نے یوکرین کے تنازعہ میں اپنی ممکنہ فوجی شرکت کے بارے میں بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک ترک دفاعی وزارت کے ذریعے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، ترکی یوکرین میں قیام امن کے لئے کسی بھی ضروری فوجی مشن میں حصہ ڈالنے کو تیار ہے، تاہم اس بات کا فیصلہ مختلف فریقوں کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی امن معاہدہ طے پاتا ہے اور اگر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ترکی کا کردار خطے میں امن اور استحکام کی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے تو وہ اس پر غور کرے گا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات ابھی ابتدائی سطح پر ہے اور اس پر کسی قسم کی حتمی فیصلہ سازی نہیں ہوئی ہے۔ ترکی کے اس ممکنہ اقدام نے عالمی سطح پر تشویش اور دلچسپی کی لہر پیدا کر دی ہے کیونکہ یورپ کی بڑی فوجی طاقتیں، برطانیہ اور فرانس، پہلے ہی یوکرین میں ایک ممکنہ امن مشن کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے کی بات کر چکی ہیں، جبکہ امریکا نے اس طرح کی کسی بھی مشن میں شریک ہونے سے انکار کیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: دہشتگرد شریف اللہ کی گرفتاری پاکستانی اور امریکی حکام کے تعاون سے ممکن ہوئی یوکرین کی حکومت کی جانب سے بھی مسلسل کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے ایک مضبوط فوجی موجودگی ضروری ہوگی تاکہ فریقین کے درمیان کوئی اتفاق امن کی حالت میں قائم رہ سکےس۔ اس بات کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے، روس نے NATO کے کسی بھی فوجی دستے کی یوکرین میں تعیناتی کی مخالفت کی ہے۔ لیکن، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں روس یوکرین میں غیر ملکی فوجی مشن کے لئے رضامند ہو سکتا ہے۔ ترک ذرائع نے بتایا کہ اگر ترکی نے اس مشن میں شرکت کی تو اس کا آغاز غیر جنگی فورسز کی تعیناتی سے ہوگا تاکہ یوکرین اور روس کے درمیان کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ صدر طیب اردگان نے حال ہی میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں، جس میں ممکنہ فوجی مشن پر بات چیت کی گئی۔ یاد رہے کہ ترکی نے اس تنازعہ کے دوران ایک غیر جانبدار موقف اپنایا ہے اور روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ ترکی نے روس کے خلاف مغربی پابندیوں میں شرکت سے گریز کیا ہے اور اس نے یوکرین اور روس کے درمیان کئی اہم مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے جن میں بحیرہ اسود سے یوکرین کی گندم کی برآمدات کی اجازت دینے کے لیے ایک معاہدہ بھی شامل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکی کی اس ممکنہ فوجی مشن میں شرکت کے فیصلے سے یوکرین کے تنازعہ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوتی ہے یا عالمی سطح پر ایک نیا تناؤ جنم لیتا ہے۔ مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد سے گرفتار دہشتگرد امریکی عدالت میں پیش، کس کس حملے میں ملوث رہا؟
عاقب جاوید ایک جوکر ہے، سابق ہیڈ کوچ جیسن گلپسی کے سنگین الزامات

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلپسی نے موجودہ ہیڈ عاقب جاوید پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عاقب جاوید واضح طور پر گیری کرسٹن اور میری ساکھ کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ جیسن گلیسپی نے لکھا کہ عاقب جاوید تمام فارمیٹس میں کوچ بننے کے لیے ہمارے پیچھے کیمپین کر رہے تھے، عاقب جاوید ایک جوکر ہے۔ سابق ہیڈکوچ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈ پر عاقب جاوید کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اوپر لکھا کہ یہ مضحکہ خیز ہے، عاقب واضح طور پر گیری اور میں پردے کے پیچھے تمام فارمیٹس میں کوچ بننے کی مہم چلا رہے تھے۔ وہ ایک مسخرہ ہے۔ View on Threads واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق جنوبی افریقی بیٹر گیری کرسٹن کو وائٹ بال ٹیم جبکہ سابق آسٹریلین بولر جیسن گلیسپی کو ریڈ بال ٹیم کا ہیڈ کوچ لگایا تھا۔ پہلے گیری کرسٹن وائٹ بال ٹیم کی کوچنگ سے مستعفی ہوئے اور پھر جیسن گلیسپی ریڈ بال ٹیم کی کوچنگ سے الگ ہو گئے، جس کے بعد عاقب جاوید کو قومی وائٹ بال اور ریڈ بال ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ نامزد کر دیا گیا۔
’پاکستان میں دہشتگردوں کو بسانے پر باجوہ سے پوچھا جائے‘ خواجہ آصف کی میڈیا سے گفتگو

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید تو گرفتار ہیں، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو پاکستان میں کیوں بسایا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ ہے جس کو مل کر حل کرنا ہوگا، دہشتگردی روکنے میں ناکامی جانچنے کے لیے پہلے کے پی حکومت کی انکوائری ہونی چاہئے۔ عمران خان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھنے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا پہلے خطوط بازی پاکستان میں ہوتی تھی اب اسے بین الاقوامی درجہ دے دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے جو خطوط کا حشر ہوا تھا ان خطوط کا بھی وہی حشر ہوگا، میں کسی کو مشورہ نہیں دیتا، وہ مشورے سے بہت بالاتر ہیں، ان لوگوں کو جادو منتر کے مشورے ہو سکتے ہیں، کوئی اور بات نہیں ہو سکتی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مفاہمت کی سیاست وہاں ہوتی ہے جہاں دوسرا فریق حملہ آور نہ ہو، میں اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی یا ان کی طرف سے بات نہیں کر رہا، اگر مفاہمت نہیں ہو رہی تو پھر آپ کو مزاحمت کی سیاست کرنی چاہیے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا دہشت گردی کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت بھی تو اٹھائے، خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی کے اقتدار کی جنگ لڑ رہا ہے، کے پی حکومت دہشت گردی کے خلاف کچھ نہیں کر رہی۔ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا دہشت گردوں کو واپس بسانے میں جنرل باجوہ کا بھی کردار تھا، جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کو پاکستان میں واپس بسایا۔