اپریل 4, 2025 7:28 صبح

English / Urdu

“روسی صدر امن چاہتا ہے” ٹرمپ کو پیوٹن پر اتنا یقین کیوں ہے؟

امریکی صدرنے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو کے خلاف پابندیوں کی دھمکی سے ، روسی صدر پوٹن چاہتے ہیں کہ یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کی جائے اور امن قائم کیا ہو سکے۔ جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر وسیع پیمانے پر بینکاری اور محصولات (ٹیرف) کی پابندیاں لگائی تھی، جب تک یوکرین کے ساتھ جنگ بندی اور حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ عالمی خبر ارساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ جب تک جنگ بندی اور حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا جاتا روس پر میں بڑے پیمانے پر بینکاری ، دیگر اقتصادی پابندیاں اور محصولات (ٹیرف) عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں، ، انہوں نے مزید کہا روس اور یوکرین، فوراً مذاکرات کی میز پر آ جاؤ، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ ٹرمپ کو یوکرین پر دباؤ ڈالنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر ان کے اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار کیو ہے، نہ کہ ماسکو۔ واضح رہے کہ روس پر پابندیاں اور محصولات عائد کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی اس رپورٹ کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس جنگ کے خاتمے اور ماسکو کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کے تحت، روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ روس، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، یوکرین پر فروری 2022 میں حملے کے بعد سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ہزاروں پابندیوں کی زد میں ہے۔ امریکی پابندیوں میں روس کی تیل اور گیس کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے اقدامات شامل ہیں، جن میں روسی تیل کی برآمدات پر 60 ڈالر فی بیرل کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔ عالمی خبر ارساں ادارہ رائٹرز کے مطابق امریکہ کے سخت ترین اقدامات میں، سابق صدر جو بائیڈن نے 10 جنوری کو روسی توانائی کمپنیوں اور ان جہازوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جو روسی تیل کی ترسیل میں شامل تھے۔ اس کے بعد، امریکہ نے 250 نئے اہداف پر پابندیاں لگائیں، جن میں کچھ چین میں قائم ادارے بھی شامل تھے، تاکہ روس کی امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ ان اقدامات میں تقریباً 100 اہم روسی اداروں پر نئی پابندیاں شامل تھیں، جن میں بینک اور توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیاں شامل تھیں، جو پہلے ہی امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہی تھیں۔

 ٹرمپ  سے اختلافات کے بعد یوکرین میں زیلنسکی کی مقبولیت میں 10 فیصد اضافہ

یوکرینی صدر زیلنسکی کی مقبولیت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے اختلافات منظر عام پر آئے۔ یوکرین کے معروف ادارے کیو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی ( کے آئی آئی ایس)کے تازہ ترین سروے کے مطابق، فروری میں زیلنسکی کی مقبولیت 57 فیصد تھی، جو مارچ میں بڑھ کر 67 فیصد ہو گئی۔ یہ سروے 14 فروری سے 4 مارچ کے درمیان کیا گیا، جو زیلنسکی کے لیے ایک مشکل وقت تھا، کیونکہ 28 فروری کو اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے بعد یوکرین اور اس کے سب سے بڑے فوجی حامی امریکہ کے تعلقات بحران کا شکار ہو گئے تھے۔ عالمی خبر ارسان ادارہ رائٹرز کے مطابق آئی آئی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، انتون ہروشیتسکی کا کہنا ہے کہ یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ یوکرینی عوام روس کی مکمل فوجی یلغار کے تین سال بعد بھی زیلنسکی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق یوکرینی عوام امریکہ کی نئی انتظامیہ کی سخت بیان بازی کو پورے یوکرین اور تمام یوکرینیوں پر حملہ سمجھ رہے ہیں۔ ہروشیتسکی نے کہا کہ یوکرینی عوام امن چاہتی ہے، لیکن وہ کسی بھی قیمت پر امن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق، یوکرینی عوام واقعی امن چاہتے ہیں، لیکن ہمارے نتائج مسلسل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکثریت کسی بھی قیمت پر امن کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ زیلنسکی، جو اس وقت 47 سال کے ہیں، 2019 میں یوکرین کے صدر منتخب ہوئے۔ فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد، وہ یوکرینی مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی ملاقات کے بعد، ٹرمپ نے زیلنسکی کو “آمر” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے یوکرین میں امن کے وژن میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد، امریکہ نے یوکرین کے لیے فوجی امداد اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو معطل کر دیا۔ زیلنسکی نے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اس ہفتے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار  ہیں اور جلد از جلد کام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن میں جو کچھ ہوا وہ قابل افسوس تھا۔ سروے میں 1,029 افراد سے فون پر انٹرویو کیے گئے، اور نتائج ملک بھر میں یکساں تھے۔ تاہم، مشرقی یوکرین میں زیلنسکی پر اعتماد کی شرح کم رہی، جو تقریباً 60 فیصد تھی۔ یوکرین کے مشرقی علاقے وہ ہیں جہاں سب سے شدید لڑائی ہو رہی ہے، روسی فوج شہر در شہر اور گاؤں در گاؤں تباہی مچا رہی ہے۔ سروے کے مطابق، مارچ کے آغاز میں 29 فیصد افراد زیلنسکی پر اعتماد نہیں کرتے تھے، جبکہ فروری میں یہ تعداد 37 فیصد تھی، جو کم ہو گئی ہے۔

پاکستان مخالف پروپیگنڈہ، پی ٹی آئی قیادت جے آئی ٹی کے سامنے پیش

سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مہم چلانے کے معاملے پر تحریک انصاف کی قیادت وفاقی حکومت کی قائم کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، رؤف حسن اور شاہ فرمان جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے، جس کی سربراہی آئی جی اسلام آباد نے کی۔ جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے سوشل میڈیا ہینڈلنگ اور ریاستی اداروں کے خلاف متنازع پوسٹس سے متعلق سخت سوالات کیے، جے آئی ٹی نے پاک فوج اور ریاستی اداروں سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس پر سخت سوالات پوچھے، پی ٹی آئی قیادت کو سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹس بھی دکھائی گئیں۔  جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی قیادت سے پارٹی فنانسنگ کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کی، جب کہ تحریک انصاف کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے دو افراد بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے۔ اس کے علاوہ عالیہ حمزہ اور کنول شوذب کی نمائندگی ان کے وکیل ڈاکٹر علی عمران نے کی۔ جے آئی ٹی نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ طلبی پر عالیہ حمزہ اور کنول شوذب خود پیش ہوں۔ مزید پڑھیں: پاکستان مخالف پروپیگنڈہ، تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم کے 10اہم عہدیدارجے آئی ٹی میں طلب، نوٹس جاری یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے تحریک انصاف کے 15 رہنماؤں کو طلب کیا تھا، جن میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجا، رؤف حسن، فردوس شمیم نقوی، خالد خورشید خان، میاں اسلم اقبال، حماد اظہر، عون عباس، عالیہ حمزہ، شہباز شبیر، وقاص اکرم، کنول شوذب، تیمور سلیم خان، اسد قیصر اور شاہ فرمان شامل تھے۔  آج کی پیشی میں صرف 3 رہنما، بیرسٹر گوہر علی خان، رؤف حسن اور شاہ فرمان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، جب کہ دیگر رہنماؤں کی عدم حاضری کے حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

برطانوی وزیر اعظم کا مریم نواز کے ساتھ ذکر کیوں ہورہا ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں 2011 کے برطانوی وزیر اعظم اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے رویے کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ویڈیو کے ایک حصے میں 2011 کا واقعہ دکھایا گیا ہے، جب برطانیہ کے ایک ہسپتال میں رش زیادہ ہونے کے باعث ایک ڈاکٹر نے اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم کو وارڈ سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسری جانب، ویڈیو میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو دکھایا گیا ہے، جہاں وہ میو ہسپتال، لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو سخت لہجے میں ڈانٹ رہی ہیں۔ ویڈیو میں مریم نواز ایم ایس سے کہتی ہیں، “آپ کو کس نے نوکری پر رکھا ہے؟ شکر کریں کہ آپ کو گرفتار نہیں کیا جا رہا!” اس کے بعد، وہ ایم ایس کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیتی ہیں۔ PM kicked out of the ward by a Doctor in the UK byu/hotmugglehealer inpakistan ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، سوشل میڈیا صارفین مریم نواز اور برطانوی وزیر اعظم کے رویے کا تقابلی جائزہ لے رہے ہیں اور پنجاب حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک صارف نے وزیر اعلی مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ستم ظریفی ہے کہ ایک ٹھگ ڈراپ آؤٹ، ایک سند یافتہ ڈاکٹر کو نکال رہی ہے۔ ایک صارف نے کہا یہ یو کے میں وارڈ مینیجر ہو سکتا ہے۔ پاکستان ابھی بھی 19ویں صدی کی حکمرانی میں ہے اور عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے ایک اور صارف نے لکھا کہ وہ شکایات پر ایم ڈی کو ڈانٹ رہی ہے اور بتا رہی ہے کہ تمہیں کس نے نوکری پر رکھا ہے؟ تم کون ہو؟ اس بندے کو نوکری سے نکال دینا چاہیے۔ خوش رہو کہ میں تمہیں گرفتار نہیں کر رہی ہوں۔ نوٹ کریں کہ ایم ایس نے استعفیٰ کی درخواست پہلے ہی دے دی تھی کیونکہ حکومت طویل عرصے سے ہسپتال کو فنڈز جاری نہیں کر رہی تھی۔ وہ صرف ایک سٹنٹ اسکور کرنے کے لیے وہاں گئی تھی۔

تارکین وطن کی کشتی جبوتی میں ڈوب گئی، ایک ہلاک، 180 لا پتہ، کون لوگ سوار تھے؟تارکین وطن کے دن بدن بڑھتے حادثات

جبوتی اور یمن کے ساحلوں کے قریب تارکین وطن سے بھری چار کشتیاں دوب گئی  جس سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ 180 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن  ( آئی او ایم) کے مطابق یہ حادثات جمعرات کی رات پیش آئے، اس راستے پر جو اب تیزی سے ایتھوپیا کے ان شہریوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے جو خلیجی ممالک میں روزگار کی تلاش میں ہیں یا اپنے ملک میں جاری تنازعات سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔ آئی او ایم کے جاری کردہ بیان کے مطابق ‘ چار کشتیوں کے ڈوبنے کے بعد 180 سے زائد مہاجرین لا پتہ ہیں۔’ اے پی  ایف کے ذرائع، آئی اوایم کے یمن میں چیف آف مشن عبدالستار ایسوئیف کے مطابق دو کشتیاں جن میں سے ایک میں کم از کم 30 افراد اور دوسری پر میں تقریبا 150 افراد سوار تھے، یمن کے ساحل کے قریب لا پتہ ہو گے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا ہم 186 افراد کی بات کر رہے ہیں جو بدقسمتی سے سمندر میں ڈوب چکے ہوں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کشتیوں میں سوار زیادہ تر افراد ایتھوپیائی مہاجرین تھے، جبکہ ان میں پانچ یمنی عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔ دونوں کشتیوں میں 57 خواتین بھی موجود تھیں۔   ایسوئیف نے کہا، “ہم حکام کے ساتھ مل کر بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں، لیکن مجھے خدشہ ہے کہ شاید ہمیں کوئی زندہ نہ ملے۔“ دیگر دو کشتیاں جبوتی کے ساحل کے قریب تیز ہواؤں کے باعث الٹی۔ انہوں نے مزید بتایا، “اطلاعات کے مطابق ایک یا دو مہاجرین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن باقی تمام کو بچا لیا گیا۔” تاہم، انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ جبوتی میں موجودآئی او ایم کے ساتھی بچ جانے والے افراد کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسوئیف نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ “ایتھوپیا اور جبوتی سے یمن پہنچنے والے افراد کی تعداد بدقسمتی سے کم نہیں ہو رہی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس خطرناک راستے کو اختیار کرنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائے سے ہے، جو 2020 سے 2022 تک جنگ سے تباہ حال رہا ہے۔

قابض اسرائیلی فوج کا مغربی کنارے میں تاریخی مساجد پر حملہ، مسجد النصر نذرِ آتش

مغربی کنارے میں نماز جمعہ کے بعد قابض اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے متعدد مساجد کو نشانہ بنایا، نابلس کی تاریخی مسجد النصر کو بھی آگ لگا دی گئی۔ فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق اسرائیلی فوج نے مساجد میں گھس کر مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر مسجد النصر کو نذر آتش کیا، جب کہ فائر بریگیڈ کو بھی آگ بجھانے سے روک دیا گیا۔ حماس نے مقبوضہ مغربی کنارے کی مساجد پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے خلاف اسرائیل کی جارحیت اس کی مذہبی جنگ، ہمارے لوگوں اور ہماری زمین پر کا حصہ ہے۔ حماس نے ٹیلی گرام پر کہا ہے کہ رمضان میں مغربی کنارے کی مساجد پر قبضے کی جارحیت مذہبی جنگ پر اصرار ہے اور ہمارے لوگ اپنے مقدسات کی بے حرمتی پر خاموش نہیں رہیں گے۔ دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے اور شمالی مغربی کنارے کے شہر نابلس میں آٹھ مساجد پر حملے کی مذمت کی ہے۔ وزارت اپنے لوگوں، ان کی زمین، جائیداد اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے حقیقی بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے۔ The Ministry condemns the storming of 8 #mosques in the city of Nablus by the occupation forces, their vandalism, and the destruction of parts of these mosques, as well as the burning of large sections of Al-Nasr Mosque in the city’s old town. The ministry calls for real… pic.twitter.com/yV3HZt18B0 — State of Palestine – MFA 🇵🇸🇵🇸 (@pmofa) March 7, 2025 واضح رہے کہ مسجد میں لگنے والی آگ کے باعث پیش امام کا رہائشی حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جب کہ مسجد کے دروازے، دیواریں اور قالین جل کر راکھ ہوگئے۔ مسجد النصر نابلس کے تاریخی ورثے کا حصہ ہے، جو ابتدائی طور پر رومن دور میں ایک چرچ کے طور پر تعمیر ہوئی تھی اور 1187 میں اسے مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کی غزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت میں 930 فلسطینی شہید اور 7 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

“ایک اور جوہری ہتھیار نہیں بننے دے سکتے،” امریکی صدر کا ایران کو خط

امریکا نےایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کرنے کے لیے قیادت کو ایک خط بھیجا کہ اب مزید کسی کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، امید ہے کہ اسلامی جمہوریہ، جو کہ دیرینہ امریکی اتحادی اسرائیل کا دشمن ہے، بات چیت پر راضی ہو جائے گا۔ عالمی خبر ارساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعہ کو نشر ہونے والے فاکس بزنس نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو خط بھیجا ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے کیونکہ یہ ایران کے لیے بہت بہتر ہو گا۔ “میرے خیال میں وہ خط حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرا متبادل یہ ہے کہ ہمیں کچھ کرنا ہوگا، کیونکہ ایک اور جوہری ہتھیار نہیں بننے دے سکتے۔” رائٹرز کی طرف سےٹرمپ کے ریمارکس پر تبصرہ کرنے کی درخواست پر ایران میں وزارت خارجہ کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ خط ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو لکھا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بارے میں کسی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ نے کہا، “ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، فوجی طور پر یا آپ کوئی معاہدہ کر لیں،میں ایک معاہدہ کرنے کو ترجیح دوں گا، کیونکہ میں ایران کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔ وہ عظیم لوگ ہیں۔ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی، جو کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تعمیر سے روکنے کے لیے ایک کثیر القومی معاہدہ ہے، جو اپنی پہلی وائٹ ہاؤس کی مدت کے ایک سال میں ہے۔ انہوں نے فروری میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جو اس ملک کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکےگا۔ روس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، بات چیت کے بارے میں بریفنگ ایک ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا ، جیسا کہ کریملن نے تہران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی کے پرامن حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے

صدر ٹرمپ فلسطینی قیدیوں سے بھی ملاقات کریں، حماس کا مطالبہ

حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی قیدیوں سے ملاقات کے بعد ان فلسطینی قیدیوں سے بھی ملیں، جو جنگ بندی کے تحت رہا کیے گئے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حماس کے سینیئر رہنما باسم نعیم نے صدر ٹرمپ کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جس طرح امریکی صدر نے اسرائیلی قیدیوں کے ’ناقابل برداشت مصائب‘ پر بات کی، انہیں اسی طرح فلسطینی قیدیوں کے لیے بھی احترام کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ان کی کہانیاں سننے کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ باسم نعیم نے کہا کہ  اس وقت 9500 سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ واضح رہے کہ جمعرات کے روز امریکی صدر نے اوول آفس میں آٹھ سابق اسرائیلی قیدیوں سے ملاقات کی تھی، جنہیں 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 1800 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا، جن میں آٹھ جاں بحق ہو چکے تھے۔ مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایلون مسک کی پالیسیوں پر کنٹرول، کابینہ اجلاس میں عملے کی کمی پر نئی حکمت عملی اس سے قبل نومبر 2023 کے آخر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران 240 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 105 اسرائیلی قیدیوں کو بھی رہا کیا گیا تھا۔ 15 فروری کو قیدیوں کے تبادلے کے چھٹے مرحلے میں حماس نے تین اسرائیلی قیدی رہا کیے، جب کہ اسرائیل نے تقریباً 369 فلسطینیوں کو آزاد کیا تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیلی حملوں کے دوران 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 251 اسرائیلی  یرغمال بنائے گئے، جن میں سے 58 اب بھی قید ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 48 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

برطانوی بادشاہ کیا سنتے ہیں؟

ایپل میوزک نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کنگ چارلس نے اپنی پسندیدہ موسیقی کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ صبح بیدار ہوتے ہی مختلف دھنوں کے ساتھ دن کا آغاز کرتے ہیں۔ ایپل میوزک کے ایک نئے نشریاتی شو اور پلے لسٹ کے مطابق، جسے چارلس نے خود ترتیب دیا ہے، ان کے انتخاب میں مختلف دہائیوں اور انواع کے گانے شامل ہیں۔ ان کی پلے لسٹ میں ریگی کے لیجنڈ باب مارلے سے لے کر حالیہ گریمی نامزد گلوکارہ اور نغمہ نگار رے تک کے گانے شامل ہیں۔ یہ نشریاتی بکنگھم پلیس میں ریکارڈ کی گئی ہےاور دولت مشترکہ کے دن کی مناسبت سے 10 مارچ کو نشر کی جائے گی،اس پروگرام کے آغاز میں برطانوی بادشاہ چارلس کہتے ہیں:”میری پوری زندگی میں، موسیقی نے میرے لیے بہت اہمیت رکھی ہے، میں جانتا ہوں کہ بہت سے دیگر افراد کے لیے بھی یہی معاملہ ہے۔” “لیکن شاید سب سے بڑھ کر، موسیقی ہماری روح کو بلند کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر جب یہ ہمیں جشن کے موقع پر اکٹھا کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ ہمیں خوشی فراہم کرتی ہے۔” بادشاہ کی ایپل پلے لسٹ میں دیگر معروف نام بھی شامل ہیں، جیسے کائلی منوگ، گریس جونز اور ڈیوڈو۔ میوزک کے علاوہ، بادشاہ اس پروگرام میں ان فنکاروں سے اپنی ملاقاتوں کے دلچسپ قصے بھی بیان کرتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ گانے ان کی زندگی کا ساؤنڈ ٹریک کیوں بنے۔ ایپل کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کنگ چارلس نے اپنی موسیقی سے محبت کا اظہار کیا۔ ویڈیو میں بکنگھم پیلس کے باہر ایک شاہی براس بینڈ کو باب مارلے اینڈ دی ویلرز کے مشہور گانے “کُڈ یو بی لووڈ” کی دھن بجاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

نئی شامی حکومت کا اسد کے وفاداروں کے خلاف آپریشن، 71 ہلاک

شام کے نئے حکام نے سابق صدر الابشار کے وفادار جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کے بعدجمعہ کے روز ایک وسیع پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن شروع کیا،یہ نئی حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے، جس میں کم از کم 71 افراد ہ جاں بحق ہو چکے ہیں۔ عالمی خبر ارساں ادرہ اے ایف پی کے مطابق یہ پرتشدد جھڑپیں گزشتہ دہائیوں میں سب سے شدید حملوں میں شمار کی جا رہی ہیں، جو دسمبر میں ایک اسلامی جنگجو گروپ کی تیز رفتار کارروائی کے نتیجے میں بشار الاسد کی برطرفی کے بعد رونما ہوئیں۔ سیکیورٹی کی بحالی اسد کے زوال کے بعد نئے حکام کے لیے سب سے مشکل چیلنجوں میں سے ایک رہی ہے۔ ان کی حکومت کا خاتمہ 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد ہوا، جو جمہوریت نواز احتجاج کے خلاف اسد حکومت کی سخت کارروائی کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ حکام نے ساحلی صوبے لطاکیہ میں کرفیو نافذ کر دیا، جو کہ اسد خاندان کا سابقہ گڑھ اور علوی برادری کا مرکز ہے۔ علوی برادری، جس سے سابق صدر بشار الاسد کا تعلق تھا، شام میں ایک مذہبی اقلیت ہے۔ سرکاری خبر ارساں ایجنسی ثنا  (SANA)کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے لطاکیہ اور اس سے متصل طرطوس میں ایک بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا، اس کارروائی میں مزید فوجی کمک کی آمد کے بعد شہروں، قصبوں اور پہاڑی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک سیکیورٹی اہلکار نے ثنا کو بتایا کہ یہ آپریشن اسد کی ملیشیا کے باقی ماندہ عناصر اور ان کے حامیوں کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے،انہوں نے شہریوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔ شامی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اس نے لطاکیہ اور طرطوس میں مزید فوج بھیجی ہے تاکہ صورتِ حال پر قابو پایا جا سکے۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق، گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں میں 35 سیکیورٹی اہلکار، 32 مسلح جنگجو اور 4 شہری شامل ہیں۔ آبزرویٹری نے مزید اطلاع دی کہ ان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے متعدد افراد کو قیدی بنا لیا ہے۔ حکام نے حمص اور طرطوس میں بھی کرفیو نافذ کر دیا ہے تاکہ مزید بدامنی کو روکا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے ابراہیم ہوویجہ نامی جنرل کو گرفتار کر لیا ہے۔ وہ اسد کے والد اور سابق صدر حافظ الاسد کے دور میں سرگرم تھے اور سینکڑوں قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔ جبیلہ میں مقیم ایک کسان علی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ شہری علاقوں میں جنگ کی صورت حال تھی، ہمیں سڑکوں پر مسلح جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساری رات فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں، ہر کوئی خوفزدہ ہے، ہم اپنے گھروں میں محصور ہیں اور باہر نہیں جا سکتے۔ ان جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسز نے ہیلی کاپٹر حملے بھی کیے، جب ان کا سامنا بشار الاسد دور کے خصوصی فورسز کے کمانڈر سہیل الحسن کے وفادار جنگجوؤں سے ہوا۔ یہ جھڑپیں لطاکیہ کے بیت انا گاؤں میں ہوئیں۔