اپریل 5, 2025 12:50 صبح

English / Urdu

’دنیا بدل گئی شریف فیملی کے شاہانہ رویے نہ بدلے‘ نعیم الرحمان

امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ میو اسپتال میں مریم نواز کا رویہ افسوسناک رہا جس طرح مریم نواز نے  ایم ایس کو معطل کیا، یہی کام نوازشریف اور شہبازشریف کرتے تھے۔ دنیا بدل گئی شریف فیملی کے بادشاہانہ طرز عمل میں تبدیلی نہیں آئی۔ لاہور منصورہ میں بیٹ رپورٹر کے لیے تقریب افطار میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے امریکی آشیر آباد حاصل کرنے کے لیے نئی سہولت کاری کا آغاز کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شکریہ ادا کرنے پر شہباز شریف بغلیں بجا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ برس کسانوں کو گندم خریداری کے موقع پر دھوکا دیا، رواں برس گندم پروڈکشن ٹارگٹ حاصل نہ ہونے کا خطرہ ہے، ملک کا چھوٹا کسان پریشان حال ہے، حکومت جاگیرداروں پر ٹیکس نہیں لگاتی، جاگیرداروں پر ٹیکس کا معاملہ ہو یا حکمرانوں کی مراعات وہاں حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط کی پرواہ نہیں ہوتی۔ ملک اور خصوصی طور پر خیبر پختوانخواہ اور بلوچستان میں جاری بدامنی اور دہشت گردی کی جاری لہر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو بامعنی مذاکرات کرنا ہوں گے، دونوں ممالک میں لڑائی سے دشمنوں کا فائدہ ہوگا، افغان سرزمین کسی صورت ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ امیر جماعت نے کہا کہ پی ٹی آئی نے چھبیسویں ترمیم پر خاموشی اختیار کی، پی ٹی آئی الیکشن جیتی ہے اور اس پر ظلم ہوا ہے، جماعت اسلامی نے ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے، تاہم پی ٹی آئی کا اپنا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے، انہوں نے فارم 45 کے حوالے سے بھی موقف تبدیل کیا۔ دوسری جانب حافظ نعیم الرحمن نے جامع مسجد منصورہ لاہور میں نماز جمعہ کے شرکاء سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک گھنٹہ 39 منٹ کی تقریر میں پاکستان کا صرف ایک آدھا جملے میں ذکر کیا اور وہ بھی صرف اس بات پر شکریہ ادا کرنے کے لیے کہ پاکستان نے ان کے ایک مطلوب مجرم کو گرفتار کرنے میں مدد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے مجرموں کو گرفتار کرنا پاکستان کی ذمہ داری کب سے بن گیا؟ امریکہ کے فوجی یہاں کیوں آئے تھے؟ وہ افغانستان میں جنگ کے نام پر قبضہ اور قتل عام کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان کی پالیسیوں نے پورے خطے کو تباہ کر دیا اور بلیک واٹر جیسے گروہوں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ پاکستان میں ڈرون حملے کیے گئے، ہزاروں معصوم لوگ شہید ہوئے اور ملک میں دہشت گردی کی لہر پھیل گئی۔ امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں بدامنی، بم دھماکے اور انتشار کی بڑی وجہ یہی امریکی مداخلت رہی ہے۔ اس کے باوجود ہماری حکومتیں پچھلے 25 سال سے امریکی مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ہم نے امریکیوں کے دشمنوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کیا، قوم کی بیٹی (عافیہ صدیقی) کو ان کے سپرد کیا، نیٹو سپلائی کے لیے اپنی زمینیں فراہم کیں اور اپنے فوجی اڈے تک دے دیے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہماری فوج جو پوری امت مسلمہ کی طاقت بن سکتی تھی، اسے کرائے کی فوج بنا دیا گیا۔ یہ وہ جرائم ہیں جو ہمارے حکمران طبقے نے کیے ہیں اور آج بھی وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس غلامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں دہشت گردی بڑھتی رہی اور اس کے سب سے زیادہ نقصانات ہماری عوام اور فوج نے اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر انڈیا نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، جہاں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور اب وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے غیر کشمیریوں کو زمینیں خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ یہ وہی پالیسی ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں اپنائی تھی۔ اس صورتحال میں پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کرے، نہ کہ انڈیا سے پیاز اور ٹماٹر کی تجارت میں مصروف رہے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز کشمیر کی آزادی کو بنانا چاہیے، لیکن افسوس کہ ہماری حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات وقت کی ضرورت ہیں۔ اگر خدانخواستہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع کھڑا ہوتا ہے تو اس کے سنگین نتائج پورے خطے کو بھگتنا ہوں گے۔ دوسری طرف افغانستان کی حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مثبت طریقے سے آگے بڑھائے۔ ہمیں اپنی قومی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی تابعداری اور غلامی نے ہمیں صرف نقصان پہنچایا ہے۔ شرکاء سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ہم امریکہ کا ساتھ دیں گے، تاکہ ڈالر آئیں اور معیشت بہتر ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے 150 سے 200 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا، ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہوئے اور ہمارے بارڈر غیر محفوظ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے قبائلی علاقوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہاں فوج رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ لوگ خود ہماری حفاظت کریں گے۔ لیکن آج ہم نے ان علاقوں کو دہشت گردی اور جنگ کی نذر کر دیا ہے۔ یہ سب امریکی پالیسیوں کے تابع ہونے کا نتیجہ ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اسلامی نقطہ نظر سے ہمیں طاغوتی قوتوں کی بالادستی کو مسترد کرنا ہوگا۔ طاغوت وہ قوتیں ہیں جو اللہ کے احکامات کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں اور اپنی طاقت منوانا چاہتی ہیں۔ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کریں اور ظالم قوتوں کے سامنے نہ جھکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رمضان المبارک میں ہمیں اپنے

اپنے بیٹے کی تکنیکی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دیں، سابق کرکٹر کا بابر کے والد کو مشورہ

سابق کرکٹر باسط علی اور بابر اعظم کے والد کے مابین تنازعے نے جنم لے لیا، سابق کرکٹر نے کہا ہے کہ اگر بابر اعظم کے والد خود کو ان کا کوچ سمجھتے ہیں، تو انھیں اپنے بیٹے کی تکنیکی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کے والد اعظم صدیق کی ایک انسٹاگرام پوسٹ پر سابق کرکٹر باسط علی نے ان کی کرکٹ اسناد پر سوال اٹھاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر وہ واقعی خود کو بابر کا کوچ سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے بیٹے کی تکنیکی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اعظم صدیق نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے بابر اعظم کے اخراج پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کا دفاع کرتے ہوئے سابق کرکٹرز کو خبردار کیا کہ وہ تنقید کرتے وقت اپنے الفاظ کے چناؤ میں محتاط رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ انہیں زیادہ بولنے والا قرار دیتے ہیں انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بابر کے پہلے کوچ، سرپرست اور سب سے بڑھ کر اس کے باپ ہیں۔   View this post on Instagram   A post shared by Muhammad Azam (@azamsiddique59) اعظم صدیق کی اس پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے باسط علی نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ بابر اعظم کے کوچ ان کے والد ہیں۔ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے، پھر تو انہوں نے بہت کرکٹ کھیلی ہوگی۔ پتا نہیں انہوں نے کتنے ٹیسٹ میچز کھیلے، لیکن میری ان سے درخواست ہے کہ وہ بابر کی تکنیکی خامیوں کو دور کریں۔ اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں اعظم صدیق کا کہنا تھا کہ عظیم سابق کرکٹرز سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اپنے الفاظ کا خیال رکھیں۔ اگر کوئی جواب دینے کا فیصلہ کرتا ہے، تو شاید آپ اسے برداشت نہ کر سکیں۔ آپ ماضی کا حصہ ہیں اور واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ دوسری جانب سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر باپ کو اپنے بیٹے کی حمایت کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن کسی کھلاڑی کے اسکواڈ سے باہر ہونے کے بعد اس طرح کے بیانات دینا مناسب نہیں۔ کامران اکمل نے کہا کہ ہر باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے، کچھ کھل کر اس کا اظہار کرتے ہیں، جب کہ کچھ وقت اور قسمت پر چھوڑ دیتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ میں بابر کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن انہیں جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ تاہم، کسی کھلاڑی کے ڈراپ ہونے کے بعد بیانات دینا غیر ضروری ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے، بابر اعظم کے مداح اور ناقدین دونوں اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بابر یا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس معاملے پر کوئی ردعمل دیتے ہیں یا نہیں۔

کراچی میں موبائل اسنیچنگ کا انوکھا واقعہ، ڈلیوری بوائے سے موبائل چھین کر ڈکیت نے پل سے چھلانگ لگا دی

کراچی کے ناارتھ آباد سخی حسن میں موبائل اسنیچنگ کا انوکھا واقعہ پیش آیا، جہاں فوڈ پانڈا رائڈر سے موبائل چھین کر ڈکیت پُل پر چڑھ گیا۔ کراچی میں موبائل اسنیچنگ کا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے، ڈکیت نے فوڈپانڈا رائڈر سے موبائل چھینا، مگر فوڈ پانڈرا رائیڈر نے بائیک سے ڈکیت کو ہٹ کیا، پکڑے جانے کے ڈر سے ڈکیت پُل پر چڑھ گیا، پھر وہاں سے تاروں میں لٹک گیا اور پھر نیچے چھلانگ لگا دی۔ ڈکیت کو پکڑنے کے لیے عوام جمع ہوگئی، پولیس نے موقع پر پہنچ کر ڈکیت کو گرفتار کرلیا۔

’بنا کسی معاہدے کے بندہ پکڑ کر امریکا کے حوالے کیسے کردیا؟‘ عافیہ کیس میں عدالت نے سوال اٹھادیا

وفاقی حکومت نے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت یابی اور وطن واپس لانے کی درخواست فوری نمٹانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی، عدالت نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سوال کیا کہ امریکا کے ساتھ قیدیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا، تو پھر کل بغیر ایگریمنٹ کو بندہ کے حوالے کیوں کیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت یابی اور وطن واپس لانے کے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور امریکی وکیل سمتھ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئے۔ دوران سماعت امریکا کے حوالے کیے گئے داعش کمانڈر شریف اللہ کی حوالگی کا تذکرہ ہوا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں، کل آپ نے بغیر کسی ایگریمنٹ کے بندہ پکڑ کر امریکا کے حوالے کر دیا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی امریکا حوالگی سے متعلق آپ کو ان کیمرہ آگاہ کرنے کا موقع بھی دیا گیا، دو ڈیکلریشنز آئے حکومت کو جواب کا کہا گیا حکومت کی جانب سے غیر تسلی بخش جواب دیا گیا، اب حکومت عافیہ صدیقی کی درخواست کو نمٹانے کا کہہ رہی ہے۔ مزید پڑھیں: پاکستان مخالف پروپیگنڈہ، تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم کے 10اہم عہدیدارجے آئی ٹی میں طلب، نوٹس جاری عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سادہ الفاظ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس کیس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے خط لکھنا تھا لکھ دیا، ان کو ویزہ چاہیے تھا دے دیا، آپ نے جو کرنا تھا کر دیا، ایسا رویہ اپنانے سے پوری دنیا کو پتا لگ جائے گا کہ حکومت پاکستان نےکیا کیا، آپ نے کیا تیر مارے۔ جسٹس سردار اعجازاسحاق خان نے مزید کہا کہ پچھلی سماعت پر اٹارنی جنرل آفس کو کہا تھا کہ حکومت کو تجاویز دیں اور عدالت کو بھی آگاہ کریں لیکن آپ کہہ رہے ہیں کیس ختم کریں۔ بعدازاں عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت یابی اور وطن واپس لانے کی درخواست فوری نمٹانے کے لیے متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی۔

” حکومت نے گندم سستی کی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے:“کسان اتحاد

کسان اتحاد نے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گندم سستی کرنے کی کوشش کی گئی تو اسلام آباد کا رُخ کریں گے۔ اسلام آباد میں منعقدہ نیوز کانفرنس میں چیئرمین پی کے آئی خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب کی حکومت کا کسانوں سے گندم نہ خریدنا بدقسمتی ہے۔ پی کے آئی کے سربراہ نے کہا اس وقت گندم کی فصل تیار ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس کی پیداوار 25 سے 30 فیصد کم ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ کسان متاثر ہوا ہے لہٰذا اس سال 10 سے 15 ارب روپے کی گندم درآمد کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا حکومت نے کاشت کے اہداف پورے کرنے کے دعوے کیے تاہم گذشتہ برس گندم کی درآمد میں خصوصی طور پر مڈل مین نے اربوں روپے کی کرپشن کی ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کا پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 22.9 فیصد ہے جبکہ 37.4 فیصد ملازمتیں اس شعبے سے منسلک ہیں۔ پاکستان میں گندم کی مجموعی پیداوار میں صوبہ پنجاب اور سندھ کل حصہ 90 فیصد ہے جبکہ کل کھپت 3.2 کروڑ ٹن ہے، اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں گندم کا درآمدی بل بڑھ جائے گا۔ خالد حسین باٹھ نے کہا گندم کا ریٹ خود کسان خود طے کریں گے جو 4200 روپے فی من ہوگا۔چیئرمین پاکستان کسان اتحاد نے حکومت کی جانب سے سبسڈی دیے جانے کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا اگر حکومت نے غریبوں کو سستا آٹا دینا ہے تو کسانوں کو سبسڈی دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گندم نہ خریدی تو عید کے بعد احتجاج کے لیے نکلیں گے۔ملک میں مہنگی چینی پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کسان اتحاد نے کہا کہ گنا سستا خریدا گیا جس کی قیمت 350 روپے فی من تھی لیکن اب چینی مہنگی ہو گئی ہے۔ شوگر ملوں نے ابھی تک کسانوں کے پیسے نہیں دیے، شوگر ملز والے ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔ خالد حسین باٹھ نے کہا ساہیوال ڈویژن میں کسانوں کو چاول کاشت کرنے سے روک دیا گیا ہے،نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا کہ کسان کپاس کاشت کریں، اگر کپاس کاشت کرنی تھی تو کسانوں کو پہلے آگاہ کیا جاتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر چاول کاشت نہیں کریں گے تو زمینوں کا ٹھیکہ کہاں سے پورا کریں گے؟ خالد حسین باٹھ نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ کسانوں کے بجلی کے بقایاجات کا آڈٹ کیا جائے۔پنجاب حکومت نے کسانوں کو سولر دینے کا اعلان کیا اور حاجی سنز کے نام سے ایک کمپنی کو سولر کا ٹھیکہ دیا گیا۔ 10 لاکھ والا سولر مہنگے داموں دو گنا قیمت پر 20 لاکھ میں لگا کر دے رہے ہیں۔ پاکستان دنیا میں گندم کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں آٹھواں بڑا ملک ہے لیکن اگر بات کی جائے فی ہیکٹر پیداوار کی تو اس حوالے سے پاکستان کا دنیا میں 56 واں نمبر ہے۔ پاکستان نے پچھلے 30 سالوں میں گندم کی پیداوار میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ 1990 میں پاکستان میں گندم کی پیداوار 1.44کروڑ ٹن تھی، جو 2011 میں ڈھائی کروڑ ٹن ہو گئی۔ اس طرح صرف 20 سالوں میں پاکستان میں گندم کی پیداوار میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے بعد کے سالوں میں پیداوار میں اضافے کا یہ تناسب برقرار نہیں رہ سکا۔ 2021 تک گندم کی پیداوار 10 فیصد اضافے کے ساتھ پونے تین کروڑ ٹن رہی، جس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں بھی ہیں۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کا پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 22.9 فیصد ہے جبکہ 37.4 فیصد ملازمتیں اس شعبے کی مرہون منت ہیں۔ پاکستان میں گندم کی مجموعی پیداوار میں پنجاب اور سندھ کا حصہ 90 فیصد ہے۔ پاکستان میں گندم کی کل کھپت 3.2 کروڑ ٹن ہے جبکہ پیداوار ڈھائی کروڑ سے 2.8 کروڑ ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ باقی کمی گندم کی درآمد سے پوری کی جاتی ہے۔ اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں گندم کا درآمدی بل بڑھ جائے گا۔

وفاقی کابینہ کے نئے اراکین کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دیے گئے

کابینہ ڈویژن نے وزیرِ اعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو پارلیمانی امور اور حنیف عباسی کو ریلوے کا وزیر مقرر کر دیا گیا۔ شزہ فاطمہ خواجہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن جب کہ اورنگزیب خان کچھی کو قومی ثقافتی ورثے کا قلمدان دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق علی پرویز کو پیٹرولیم اور معین وٹو کو آبی وسائل کی وزارت مل گئی۔ خالد حسین  مگسی کو سائنس و ٹیکنالوجی جبکہ محمد جنید انور کو وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افئیرز مقرر کردیا گیا۔ سردار محمد یوسف کو وزارت مذہبی امور اور بین المسالک ہم آہنگی کی وزارت دی گئی۔ محمد معین وٹو کو وفاقی وزیر برائے واٹر ریسورس ، رضا حیات ہراج کو وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار اور رانا مبشر اقبال کو وفاقی وزیر برائے پبلک افئیرز یونٹ مقرر کردیا گیا۔ سید مصطفٰی کمال کو وفاقی وزیر برائے قومی ہیلتھ سروس ، ڈاکٹر مصدق ملک کو  وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور قیصر احمد شیخ اب وزارت سرمایہ کاری بورڈ کے وفاقی وزیر ہوں گے۔ ملک رشید احمد خان کو وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ، عبد الرحمان کانجو کو وزیر مملکت برائے توانائی بنا دیا گیا۔ عقیل ملک وزیر مملکت برائے قانون و انصاف، بلال اظہر کیانی وزیر مملکت برائے ریلویز ہوں گے۔ کیسو مل کھیہل داس وزیر مملکت برائے مذہبی امور، عون ثقلین وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانی ہوں گے۔ مختار احمد ملک وزیر مملکت برائے قومی صحت، طلال چوہدری وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات ہوں گے۔ وجیہا قمر کو وزیر مملکت برائے تعلیم کا قلمدان دے دیا گیا

سوڈان میں 19 ماہ قید کے بعد نو مصری شہریوں کی آزادی، وطن واپسی پر جشن

سوڈان کی پیرا ملٹری فورسز ‘رپڈ سپورٹ فورسز’ (RSF) کی قید سے ایک طویل اور دردناک دورانیے کے بعد نو مصری شہری آزادی حاصل کرنے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے۔  یہ افراد تقریبا 19 ماہ تک قید میں رہے اور ان کی آزادی کے ساتھ ہی ان کے اہل خانہ اور اہل دیہات کے درمیان خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ آزاد ہونے لوگوں میں سے ایک شخص جس کا نام احمد عزیز مصری تھا اس نے وطن واپس پہنچنے پر کہا کہ “اللہ کا شکر ہے، آج سے ہمارے لئے نیا دور شروع ہوتا ہے۔ ہماری زندگی آج سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔” جب وہ اپنے گاؤں ابو شناپ میں پہنچے۔ یہ گاؤں قاہرہ سے 110 کلومیٹر (70 میل) جنوب مغرب میں واقع ہے، اور ان نو افراد میں سے سات اسی گاؤں کے رہائشی ہیں۔ گاؤں کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے عزیزوں کی واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ سوڈان میں اپریل 2023 سے جاری جنگ کے دوران پیش آیا۔ سوڈانی فوج اور رپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور لاکھوں کو قحط کا سامنا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فورسز کی طرف سے گرفتاری، تشدد اور قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی پڑھیں: جابلہ میں خون ریز حملے نے شام میں حکومت کے خلاف تشویش اور کشیدگی بڑھا دی رپڈ سپورٹ فورسز نے ان مصری شہریوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان پر مصر کی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔ ان میں سے ایک قیدی، عماد معوض نے ریٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب جنگ کا آغاز ہوا، وہ واپس مصر جانے کے لیے ایئرلائن کا ٹکٹ لے چکے تھے لیکن سوڈان کا ہوائی اڈہ بند ہونے کی وجہ سے وہ وہاں پھنس گئے۔ احمد عزیز “پینسٹھ دن بعد، رپڈ سپورٹ فورسز نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور ہمیں 19 ماہ تک قید میں رکھا۔” احمد عزیز مصری نے بتایا کہ انہیں بار بار یہ کہا جاتا تھا کہ ان کی رہائی ہو رہی ہے، مگر پھر انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک دوسرے جیل میں منتقل کر دیا جاتا۔ پانچویں جیل میں ایک دن وارنڈ نے انہیں دفتر میں بلایا، جہاں ایک آواز نے انہیں بتایا کہ ان کی رہائی کی صورت حال حل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “چند ہفتے پہلے، ہمیں آخرکار رپڈ سپورٹ فورسز کے زیر کنٹرول علاقے سے لے جایا گیا، جہاں سے ہمیں سوڈانی فوج کے حوالے کر دیا گیا اور پھر ہمیں مصر کے سفارت خانے اور قاہرہ پہنچا دیا گیا۔” یہ واقعہ سوڈانی جنگ کے وسیع اثرات کو ظاہر کرتا ہے جس میں نہ صرف مقامی افراد بلکہ غیر ملکی شہری بھی اس جنگ کی زد میں آئے ہیں۔ اس جنگ میں مختلف عالمی طاقتیں بھی ملوث ہو چکی ہیں، اور رپڈ سپورٹ فورسز نے مصر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سوڈانی فوج کی مدد کر رہے ہیں، جب کہ سوڈانی فوج یو اے ای پر الزام لگاتی ہے کہ وہ رپڈ سپورٹ فورسز کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان نو افراد کے لیے خوشی کا پیغام ہے، بلکہ عالمی سطح پر سوڈانی جنگ کی تباہ کاریوں کا ایک اور سنگین پہلو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ان افراد کی واپسی سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی جذبہ اور عزم کبھی نہیں ٹوٹتا، چاہے حالات کتنے بھی سخت ہوں۔ مزید پڑھیں: ٹرمپ کی دھمکیاں، نیتن یاہو کو غزہ میں جرائم کی ترغیب مل رہی ہے: حماس

چیمپئنز ٹرافی فائنل سے قبل نیوزی لینڈ کو دھچکا، فاسٹ باولر میٹ ہنری زخمی ہوگئے

چیمپئنز ٹرافی کی فیصلہ کن معرکہ آرائی سے قبل کیویز کے اہم فاسٹ بائولر میٹ ہنری انجری کا شکار ہوگئے ہیں جس سے میچ میں ان کی شرکت مشکوک ہوگئی ہے۔ ایونٹ کا فائنل میچ انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان دبئی میں کھیلا جا رہا ہے، زخمی ہونے والے میٹ ہنری انڈیا کے خلاف میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ دبئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ گیری اسٹیڈ نے میٹ ہنری کی انجری کے بارے میں بتایا کہ کیوی پیسر کی فائنل میں شرکت کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں۔ میٹ ہنری چیمپئنز ٹرافی کے سب سے کامیاب باولر ہیں جنہوں نے 16.70 کی اوسط سے 10 وکٹیں حاصل کیں جبکہ انہوں نے 2 مارچ کو دبئی میں بھارت کے خلاف گروپ میچ میں 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ 33 سالہ میٹ ہنری لاہور میں جنوبی افریقا کے خلاف سیمی فائنل میں کیچ لیتے ہوئے انجری کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد میٹ ہنری تکلیف میں دکھائی دیے۔ گراؤنڈ سے باہر چلے گئے تھے مگر میٹ ہنری نے انجری کے ساتھ ہی جنوبی افریقا کی اننگز کے آخر میں 2 اوورز بھی کرائے تھے۔ نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ گیری اسٹیڈ نے کہا مثبت بات یہ ہے کہ وہ دوبارہ باولنگ کے لیے آئے، ان کے اسکین کروائے گئے ہیں اور ہم انہیں کھیلنے کا ہر موقع دینا چاہتے ہیں لیکن وہ کافی تکلیف میں ہیں، اُمید ہے کہ وہ فائنل تک ٹھیک ہو جائیں گے۔

پیرس میں مرکزی ریلوے اسٹیشن پر جنگ عظیم دوئم کا بم دریافت: ٹریفک درہم برہم

فرانس کی قومی ریلوے کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ پیرس کے مصروف ترین ٹرین اسٹیشن، گارے ڈو نورڈ کے قریب دوسری جنگ عظیم کے ایک نہ پھٹنے والے بم کی دریافت کے باعث جمعہ کی صبح ٹریفک میں شدید خلل پیدا ہوا۔ یہ خلل مقامی میٹرو لائنوں، مسافر ریلوں اور یوروسٹار سمیت قومی و عالمی ٹرین سروسز پر اثر انداز ہوا۔ ایچ لائن کے مطابق، بم گزشتہ رات کام کے دوران ٹرین کی پٹریوں کے درمیان 2.5 کلومیٹر دور دریافت ہوا۔ پیرس پولیس کی درخواست پر احتیاطی تدابیر کے تحت ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔ ڈی مائننگ آپریشن مکمل ہونے تک ٹرین سروس متاثر رہے گی۔ فرانسیسی پولیس نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ گارے ڈو نورڈ دنیا کے مصروف ترین ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے اور یہ فرانس، لندن، بیلجیئم اور نیدرلینڈز سمیت مختلف مقامات کے لیے ٹرین سروس فراہم کرتا ہے۔ یوروسٹار کی ویب سائٹ کے مطابق، جمعہ کی صبح گار ڈو نورڈ سے روانہ ہونے والی کم از کم چار ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، اور مسافروں کو اپنے سفر کے متبادل انتظامات کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ عالمی ٹرین کمپنی نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

چیمپئنز ٹرافی : فائنل کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا گیا

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے فائنل کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ فائنل مقابلے کے لیے پال ریفل اور رچرڈ النگورتھ امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے جبکہ جوئیل ولسن تھرڈ امپائر اور رنجن مدوگالے میچ ریفری ہوں گے۔ چیمپئنز ٹرافی کا فائنل انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان اتوار کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔ انڈیا نے باآسانی آسٹریلیا کو جبکہ نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو سیمی فائنلز میں شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ ایونٹ کی دفاعی چیمپئن اور میزبان ٹیم پاکستان اپنا ایک بھی میچ نہ جیت سکی تھی۔ واضح رہے کہ انڈین ٹیم کے تمام میچز دبئی میں رکھے جانے پر دنیا بھر میں شدید تنقید جاری ہے۔ انڈیا  نے  چیمپئنز ٹرافی 2025 کا اپنا پہلا میچ دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا تھا، جہاں اس سے توحید ہردوئی کی سینچری اور ذاکر علی کی نصف سینچری کی بدولت بنگال ٹائیگرز 228 رنز بنانے میں کامیاب رہے تھے تاہم انڈیا  نے مطلوبہ ہدف 46.3 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا تھا۔ انڈیا کا دوسرا میچ بھی 23 فروری کو روایتی حریف پاکستان کے خلاف دبئی میں ہی ہوا تھا، جہاں انڈیا  نے ویرات کوہلی کی شاندار سینچری کی بدولت پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی تھی۔ 2 مارچ میں انڈیا کا تیسرا میچ بھی دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف تھا، جہاں انڈیا  نے نیوزی لینڈ کو 44 رنز شکست دے کر گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہا تھا۔ گزشتہ روز پہلا سیمی فائنل بھی انڈیا  نے دبئی کے اُسی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا تھا، جہاں انڈیا  نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کرلی تھی۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل بھی دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں 9 مارچ (اتوار) کو ہوگا، جہاں انڈیا آج دوسرے فائنل نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ کی فاتح ٹیم سے کھیلے گا۔