نئی کینالز کے فیصلے پر سندھ کو شدید خدشات، متفقہ حکمت عملی اپنانا ضروری: بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نئی کینالز کے فیصلے سے سندھ میں شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں، اس لیے اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر متفقہ فیصلے کیے جانے چاہئیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان سے تاریخی خطاب کیا، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سویلین صدر نے آٹھویں بار پارلیمان سے خطاب کیا۔ صدر مملکت نے نفرت کے بجائے امید کا پیغام دیا، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کا رویہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مملکت وفاق کے منتخب آئینی عہدیدار ہیں، انہوں نے پوری قوم کے اہم مسائل پر بات کی، خاص طور پر پانی کے معاملے پر سندھ کو درپیش خدشات کا ذکر کیا۔ نئی کینالز کے فیصلے پر سندھ کے تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس مسئلے کا حل تمام صوبوں کے اتفاقِ رائے سے نکالنا ہوگا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ پانی کی تقسیم ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، اور ہر اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی اس معاملے کو اجاگر کر رہی ہے۔ یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی خاموش رہی، سراسر جھوٹ ہے۔ سندھ کے عوام کے لیے پانی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اور اگر ہم دریا کے آخری حصے میں بسنے والوں کو ان کا حق نہیں دیں گے تو پھر اپنا مقدمہ کس طرح لڑیں گے؟ گزشتہ روز افطار ڈنر میں ہونے والی ملاقات میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم نے چاروں صوبوں میں عوام کی امنگوں کو پورا کرنے اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر عام آدمی کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے فعال اور متحرک کردار ادا کرنے پر پیپلز پارٹی کی قیادت کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر مستقبل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ اجلاس کے شرکاء نے وزیراعظم کی قیادت کو تسلیم کیا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سراہا جن کی وجہ سے ملک میں حالیہ معاشی استحکام آیا ہے۔ انہوں نے ان نتائج کے حصول میں وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کی انتھک کوششوں کو بھی سراہا۔ پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ پارٹی قومی ترقی، معاشی استحکام اور عام شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی تمام کوششوں میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے اتحادی شراکت داروں سے مشاورت، ان کی رائے کا احترام کرنے اور اہم فیصلوں میں انہیں شامل کرنے پر وزیر اعظم شہباز کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے ملک کی معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے وزیر اعظم شہباز کی قیادت میں حکومت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ ایمسبری کے مستعفی ہونے سے ضمنی انتخاب کا اعلان

برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ ‘مائیک ایمس بیری’ نے اپنے حلقے کے ایک شہری کو مارنے کے الزام میں سزا کے بعد اپنی استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے جس سے ایک اہم ضمنی انتخابات کا آغاز ہو گا۔ یہ واقعہ 2023 کے اکتوبر میں پیش آیا جب ایمس بیری نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص کو مکے مارتے ہوئے دکھا، اور پھر اسے نیچے گرنے کے بعد مزید مارا۔ اس واقعے کے بعد 55 سالہ ایمس بیری نے ‘کامن اسالٹ’ کے جرم میں اپنی گناہ گاری قبول کی اور انہیں معطل قید کی سزا سنائی گئی۔ ایمس بیری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ‘جتنا جلدی ہو سکے’ استعفیٰ دے دیں گے اور اس واقعے پر گہرے پچھتاوے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر لمحہ اور ہر دن اس عمل پر افسوس کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اب ان کی پارلیمانی نشست کے لیے ایک ضمنی انتخاب کا اعلان کیا جائے گا تاہم ابھی اس کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ مائیک ایمس بیری جو 2017 سے پارلیمنٹ کے رکن تھے انہوں نے گزشتہ سال اپنی نشست 14,696 ووٹوں کی اکثریت سے جیتی تھی۔ تاہم، اب ان کی جگہ پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعت، ریفارم یوکے، جو نائجیل فریج کی قیادت میں ہے ان کی کامیابی کے لیے پرامید نظر آ رہی ہے۔ بکیز کے مطابق، ریفارم یوکے اس ضمنی انتخاب کے لیے فیورٹ جماعت بنی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال سیاسی حلقوں میں دلچسپی کی لہر دوڑا رہی ہے، اور دونوں بڑی جماعتیں اس نشست کو حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ مزید پڑھیں: ٹرمپ کا سفری پابندی کے لیے حکم نامہ کل جاری ہونے کا امکان، شامل ممالک کے نام سامنے آگئے
پاکستانی اسکواش کا درخشاں باب بند، آفتاب جاوید انتقال کر گئے

اسکواش کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے سابق کھلاڑی آفتاب جاوید 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں مقیم تھے۔ آفتاب جاوید کا شمار 60 کی دہائی میں پاکستان کے بہترین اسکواش کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے تین مرتبہ برٹش امیچر اسکواش چیمپئن شپ جیتی اور تین بار برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1963 میں پہلی مرتبہ برٹش امیچر چیمپئن شپ جیتنے کے بعد، اگلے دو برس تک لگاتار یہ ٹائٹل اپنے نام کر کے ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ 1966 کے برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے فائنل میں ان کا مقابلہ مصر کے ابو طالب سے ہوا تھا، جب کہ 1967 اور 1968 کے فائنلز میں وہ برطانیہ کے جونا برنگٹن کے مدمقابل تھے۔ واضح رہے کہ آفتاب جاوید اسکواش کے لیجنڈ قمر زمان کے چچا تھے۔ 1973 میں اپنے آخری بین الاقوامی ایونٹ اسکاٹش اسکواش چیمپئن شپ کے فائنل میں انہوں نے اپنے بھتیجے قمر زمان کے خلاف ہی میدان سنبھالا۔ آفتاب جاوید کی رحلت پر اسکواش کے عالمی لیجنڈز جہانگیر خان، قمر زمان، مقصود احمد اور گوگی علاؤ الدین سمیت دیگر شخصیات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔ وہ اپنے سوگواران میں ایک صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اسکواش کی دنیا میں ان کے ناقابلِ فراموش کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں کمی، مرکزی بینک کی شرح سود میں کمی کا امکان

انڈیا میں فروری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 4 فیصد سے کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جو کہ گزشتہ چھ ماہ میں پہلی بار ہوگا۔ ایک سروے کے مطابق اس میں کمی کی سب سے بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں آہستہ آہستہ اضافہ ہے جو مرکزی طور پر ملکی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے ایک خوش آئند اشارہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سروے کے مطابق فروری میں انڈیا کی سالانہ صارف قیمت انڈیکس (CPI) کی شرح 4.31 فیصد سے کم ہو کر 3.98 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ ایک اہم سنگ میل ہوگا کیونکہ مرکزی بینک، یعنی ریزرو بینک آف انڈیا (RBI)، کا درمیانی مدت کا ہدف 4 فیصد ہے۔ مزید پڑھیں: حکومت کا ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کروانے کا فیصلہ، لین دین موبائل ایپ سے ہوگا گزشتہ چند مہینوں میں سردیوں کی فصل کی آمد کے باعث غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے جو کہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی تھیں۔ یہ کمی نہ صرف صارفین کے لیے خوشی کی خبر ہے بلکہ اس سے مرکزی بینک کو شرح سود میں کمی کرنے کا بھی موقع مل سکتا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کو مزید بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ سال کی سپلائی چین کے بحران کے بعد آئی ہے جب غیر متوقع بارشوں اور شدید گرمی کی لہر نے کھانے کی قیمتوں میں دوہرے ہندسوں تک اضافے کو جنم دیا تھا۔ اس میں کمی سے نہ صرف صارفین کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مرکزی بینک کو شرح سود میں کمی کرنے کی مزید حمایت ملے گی۔ یہ بھی پڑھیں: چین نے پاکستانی قرض کی واپسی میں ایک سال کی توسیع کر دی عالمی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے سروے میں شامل 45 اقتصادی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ فروری میں مہنگائی کی شرح 3.98 فیصد تک کم ہو جائے گی جو کہ جنوری کی 4.31 فیصد سے کم ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریبا 70 فیصد ماہرین نے اس بات کی توقع ظاہر کی ہے کہ مہنگائی کی شرح ریزرو بینک کے ہدف 4 فیصد سے کم رہے گی۔ ان پیش گوئیوں کے مطابق، 12 مارچ کو جاری ہونے والے مہنگائی کے ڈیٹا میں مزید کمی کی توقع ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کا ایک اور بڑا اثر مرکزی بینک کی شرح سود پر پڑے گا۔ فروری میں ایک چوتھائی فیصد کی کمی کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ اپریل میں ریزرو بینک اپنی شرح سود میں مزید کمی کرے گا تاکہ سست روی کا شکار معیشت کو تحریک دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر بھی یہ فیصلہ ایک اہم اثر ڈالے گا کیونکہ انڈیا کی معیشت ایک بڑی عالمی معیشت ہے۔ لازمی پڑھیں: قرض کا مرض لادوا، کیا پاکستانی معیشت سنبھل پائے گی؟ اگرچہ فی الحال انڈیا کے لیے خوشخبری ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں کمی آئی ہے لیکن انڈیا کے محکمہ موسمیات کی طرف سے آنے والی پیش گوئیاں کہ موسم گرما میں گرمی کی لہر جلد شروع ہو سکتی ہے خدشات کو جنم دیتی ہیں کہ مہنگائی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔ اس پیش گوئی کے مطابق مارچ کے مہینے میں سبزیوں کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے۔ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2024 کے مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 4.8 فیصد تک پہنچ جائے گی لیکن 2025 کے آغاز میں اس میں کمی آ کر یہ 4.1 فیصد تک آ سکتی ہے۔ ان پیش گوئیوں کے مطابق قیمتوں میں کمی اور کمزور روپے کے اثرات کے بیچ انڈیا کی معیشت ایک بار پھر اپنی پٹری پر واپس آ سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے ایک خوش آئند خبر ہے تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو موسمی حالات اور بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مالی اور اقتصادی فیصلوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ کچھ مہینوں میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں دوبارہ اضافہ ہو جائے گا، لیکن اس وقت بھارت کی معیشت ایک نئی سمت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ضرور پڑھیں: کرپٹو سمٹ: ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ڈیجیٹل کرنسی کے رہنماؤں کو اکٹھا کر لیا
ٹرمپ کا سفری پابندی کے لیے حکم نامہ کل جاری ہونے کا امکان، شامل ممالک کے نام سامنے آگئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ روز ایک نیا سفری پابندی کا حکم نامہ جاری کرنے کا امکان ہے جس میں متعدد ممالک کو شامل کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حکم نامے میں پاکستان، افغانستان، عراق، لبنان، ایران، لیبیا، فلسطین، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن جیسے ممالک کا نام شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا، کیوبا، ہیٹی اور وینزویلا جیسے ممالک پر بھی سفری پابندیاں لگنے کا امکان ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ان ممالک میں موجود حفاظتی خطرات اور جانچ کے نظام کی خامیوں کو دور کرنا ہے۔ ان ممالک کے شہریوں کو امریکا سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس نئے حکم نامے کے تحت ممکنہ طور پر ممالک کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ “اورنج گروپ” کے ممالک کے شہریوں پر سخت پابندیاں لگیں گی جنہیں امریکا کا سفر محدود یا ممکنہ طور پر مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ جبکہ “یلو گروپ” کے ممالک کو اپنے جانچ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ یہ سفری پابندیاں امریکی سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر اس فیصلے کا گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔ مزید پڑھیں: سمندر میں آئل ٹینکر اور کارگو شپ میں خوفناک حادثہ، 32 افراد زخمی
پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے کچھ نہیں چاہتی تو ان کے دروازے کیوں کھٹکھٹاتی ہے، سینیٹر عرفان صدیقی

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو کوئی ڈیل یا رعایت نہیں چاہیے، تو وہ بار بار کس لیے اسٹیبلشمنٹ کے پاس جاتی ہے؟ نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی بات کی ہے، پتا نہیں کہ یہ رابطے کس لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل اور رعایت نہیں چاہئے، تو وہ کس لیے بار بار اسٹیبلشمنٹ کے پاس جاتی ہے، جب کہ تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے دوران ہماری بات ہی نہیں سنی۔ پارلیمنٹ میں کے سالانہ اجلاس میں ہوئے شور شرابے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شور شرابےکی روایت کئی برسوں سے چلی آرہی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مزید پڑھیں: ’دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے‘ صدر زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، جہاں صدر مملکت، وزیرِاعظم، وزیرِاعلیٰ پنجاب سمیت تمام اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کے نئے سال کے آغاز پر سب اراکین کو خوش آمدید کہوں گا۔ 8ویں بار پارلیمان سے خطاب کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کی قربان دی ہیں، ہم دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ صدر پاکستان کا کہنا تھا اپنی قوم اور بہادر مسلح افواج کے تعاون سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انٹیلی جنس پر مبنی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا، پوری قوم کو اپنی سیکورٹی فورسز پر فخر ہے۔
پاکستان نے پہلا ‘ڈی میٹریلائزڈ ڈیجیٹل شناختی کارڈ’ متعارف کرا دیا

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اپنی سلور جوبلی تقریب کے دوران پاکستان کے پہلے “ڈی میٹریلائزڈ ڈیجیٹل شناختی کارڈ” کے اجراء کا اعلان کیا۔ خبر ارساں ادارہ اے پی پی کے مطابق نادرا ہیڈ کوارٹرز میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی نادرا کے بانی چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ زاہد احسان تھے۔ دیگر شرکاء میں نادرا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف منیر، خصوصی سیکرٹری داخلہ، پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے چیف شماریات دان، امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل، سابق چیئرپرسنز، بورڈ ممبران اور سینئر حکام شامل تھے۔ اپنے تحریری پیغام میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے پاکستان کے پہلے ڈی میٹریلائزڈ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے اجراء کو ڈیجیٹل شناخت کی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس فیچر کو پاک آئی ڈی موبائل ایپ میں ضم کرنے کے بعد شہری اپنے شناختی کارڈ اپنے اسمارٹ فونز میں محفوظ کر سکیں گے۔ مزید برآں، عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے ڈیجیٹل اکانومی پروجیکٹ کے تحت مختلف خدمات کے لیے محفوظ اور فوری تصدیق کی سہولت فراہم کرتے ہوئے جلد ہی ایک ڈیجیٹل تصدیق کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس اقدام کا پائلٹ مرحلہ یوم آزادی 2025 سے شروع ہوگا۔ وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ نادرا ملک کے اندر دور دراز علاقوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں تک شناختی خدمات فراہم کرتا ہے، جبکہ قومی سلامتی کے معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی کرتا ہے۔ نادرا کی کامیابیوں پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی اور ایک یادگاری کتاب کی رونمائی کی گئی جسے حاضرین نے خوب سراہا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے احسان نے تنظیم کے قیام اور ابتدائی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نادرا اپنے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اپنی ترقی میں مسلسل نئے سنگ میل حاصل کر رہا ہے۔
لندن: ٹاور پر چڑھ کر فلسطینی حمایت میں احتجاج کرنے والا شخص عدالت میں پیش

لندن کے مشہور “بگ بین” یعنی ایلزبتھ ٹاور پر چڑھ کر فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرنے والا 29 سالہ شخص عدالت میں پیش ہو گیا ہے۔ ڈینیئل ڈے نے ہفتے کے روز صبح 7:20 بجے ٹاور کے 25 میٹر (82 فٹ) حصے تک چڑھ کر ایک طویل احتجاج کا آغاز کیا جو پورے 16 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران ڈینئل نے ہاتھ میں فلسطینی پرچم تھام رکھا تھا اور اس کی موجودگی نے نہ صرف لندن کے مرکزی علاقے میں سنگین خلل ڈالا، بلکہ اہم سڑکوں کی بندش اور بسوں کے روٹس کی تبدیلی کی وجہ سے بڑی پریشانی پیدا کی۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کی ٹورز منسوخ ہونے سے 25,000 پاؤنڈز (تقریباً 32,300 امریکی ڈالر) کا مالی نقصان بھی ہوا۔ پولیس نے ڈینئیل کے خلاف دو سنگین الزامات عائد کیے ہیں پہلے، “ٹاور پر چڑھنے اور اس پر رہنے سے عوامی تحفظ کو خطرہ لاحق ہونے کا جرم” اور دوسرا “محدود اور محفوظ علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا الزام”۔ عدالت میں پیشی کے دوران ڈینئیل کے وکیل نے پہلے الزام کی تردید کی اور کہا کہ اس کا مقصد صرف غزہ کی صورتحال اور برطانیہ کے ردعمل کے بارے میں آگاہی پھیلانا تھا۔ دوسری جانب ‘تجاوز’ کے الزامات پر فیصلہ کرنے کے لیے اٹارنی جنرل کی منظوری ضروری ہے جس کے باعث مقدمے کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس دوران ڈے کے حامیوں نے عدالت کے باہر ان کا استقبال کرتے ہوئے ‘ہیرو’ اور ‘فری فلسطین’ کے نعرے لگائے۔ دوسری جانب ‘ہاؤس آف کامنز’ کے اسپیکر ‘لنڈسے ہوئل’ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔ یہ واقعہ لندن میں پولیس اور عوامی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث اسے گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ مزید پڑھیں: برطانوی بادشاہ کیا سنتے ہیں؟
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلمان اکرم راجہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے ڈویژن بنچ نے پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے فریقین سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔ قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات سمیت کیس کی سماعت کی۔ سلمان اکرم راجہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر قائم مقام چیف جسٹس نے پی ٹی آئی رہنما پر الزامات کے بارے میں استفسار کیا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک تھانے پر حملہ ہوا ہے اور وہ اس کیس میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود وہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، اس کیس میں اسے پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ معمول کے مطابق عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، عدالت نے کہا کہ وہ کیس پر رجسٹرار آفس کا اعتراض دور کر کے اسے سماعت کے لیے مقرر کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ ایف آئی آر میں سو کے قریب افراد کے نام شامل ہیں لیکن ان کے ٹھکانے معلوم نہیں ہیں۔ عدالت نے سلمان اکرم راجہ کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔ عدالت نے اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔ واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کے خلاف ناقابل ضمانت فیصلہ جاری کیا تھا۔ یاد رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سلمان اکرم راجہ کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے معطل کر دیا ہے
سمندر میں آئل ٹینکر اور کارگو شپ میں خوفناک حادثہ، 32 افراد زخمی

شمالی سمندر میں ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جب ایک آئل ٹینکر اور ایک کارگو شپ آپس میں ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں ایک شدید آگ بھڑک اُٹھی اور 32 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیر کے روز پیش آیا جب دونوں جہازوں میں شدید تصادم کے بعد آگ نے دونوں جہازوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ زخمیوں کو تین مختلف بحری جہازوں کے ذریعے ساحل تک منتقل کیا گیا ہے اور پورٹ پر ایمبولینسیں قطار میں کھڑی تھیں تاکہ زخمیوں کو فورا علاج فراہم کیا جا سکے۔ اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی برطانیہ کے کوسٹ گارڈ نے فوری طور پر ایک وسیع و عریض بچاؤ آپریشن شروع کر دیا۔ یہ حادثہ مشرقی یارکشائر کے ساحل سے 16 کلومیٹر دور واقع ہوا تھا اور امدادی کارروائیاں ساحلی علاقے ہل کے قریب جاری تھیں۔ مزید پڑھیں: اسرائیل کے فلسطین پر مظالم میں اضافہ، غزہ کی بجلی بھی کاٹ دی، حماس کی مذمت برطانوی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے بتایا کہ ’’دونوں جہازوں میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہم فوری طور پر آگ بجھانے اور بچاؤ کے کاموں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں‘‘۔ یہ منظر انتہائی دل دہلا دینے والا تھا جب ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں کالی دھوئیں کے گہرے بادل اور بلند ہوتے ہوئے شعلے دکھائی دیے۔ اس واقعے کی اطلاع کے بعد برطانوی رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوٹ (RNLI) نے تصدیق کی کہ ’’دونوں جہازوں میں آگ لگی ہوئی ہے اور متعدد افراد نے جہازوں کو چھوڑ دیا ہے‘‘۔ اسی دوران کوسٹ گارڈ کی ٹیم نے مزید امدادی جہاز اور ہیلی کاپٹر موقع پر روانہ کیے۔ امدادی کارروائیوں میں ہیلی کاپٹر، طیارے، اور مختلف شہروں سے لائف بوٹس شامل ہوئیں۔ ان تمام کارروائیوں کو برطانوی کوسٹ گارڈ کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا تھا جس کا مقصد زخمیوں کو جلد از جلد محفوظ مقام پر منتقل کرنا اور جہازوں میں لگی آگ کو بجھانا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: یوکرین کے صدر کا سعودی عرب دورہ: امن معاہدے کے لیے نئی پیشرفت کی توقعات اس خوفناک حادثے کے بعد برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی ایلکسانڈر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’شمالی سمندر میں دو جہازوں کے تصادم کی اطلاع سن کر مجھے شدید تشویش ہے اور میں اس معاملے پر حکام اور کوسٹ گارڈ سے مسلسل رابطے میں ہوں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’تمام ایمرجنسی سروسز کی فوری کارروائیوں کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘‘۔ دوسری جانب سوئڈش کمپنی اسٹینا بلک کے زیر ملکیت آئل ٹینکر ’’اسٹینا امییکیولیٹ‘‘ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں جو یونان سے پٹرولیم مصنوعات لے کر برطانیہ کے قریب ساحلی شہر ایمنگھم پہنچنے والا تھا۔ اس حادثے میں شامل کارگو جہاز ’’سولونگ‘‘ تھا جو پرتگال کا پرچم لہرا رہا تھا اور جرمن کمپنی ریڈیری کوپنگ کا مالک تھا۔ اس حادثے کے بعد فوری طور پر ایک بڑی تعداد میں امدادی جہاز موقع پر روانہ کر دیے گئے تھے تاکہ دونوں جہازوں سے نکلنے والے آتش گیر مواد کو کنٹرول کیا جا سکے اور زخمیوں کی بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ لازمی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو گھر بھیجنے کے لیے ‘ایپ’ متعارف کروا دی یہ تصادم شمالی سمندر میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ یہاں ایسے حادثات نادر ہیں۔ اس سے قبل، اکتوبر 2023 میں دو کارگو جہازوں ’’ورٹی‘‘ اور ’’پولیشی‘‘ کے درمیان ٹکر ہوئی تھی، جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور دو دیگر افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ اکتوبر 2015 میں ’’فلنٹر اسٹار‘‘ نامی کارگو جہاز ایک آئل ٹینکر سے ٹکرا کر غرق ہو گیا تھا جس میں 125 ٹن ڈیزل اور 427 ٹن ایندھن بھی شامل تھا۔ شمالی سمندر میں اس تصادم کے بعد سے ماہرین ماحولیات بھی فکر مند ہیں کیونکہ اس علاقے میں آئل ٹینکر اور دیگر جہازوں کے درمیان ممکنہ طور پر تیل کی آلودگی پھیلنے کا خدشہ ہے، جس کا فوری تدارک کرنا ضروری ہے۔ برطانوی کوسٹ گارڈ نے تیل کی آلودگی کے اثرات کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے اپنی نگرانی میں تمام اقدامات کیے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف برطانوی ساحلی علاقے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ عالمی سمندری نقل و حمل کی تاریخ میں ایک دل دہلانے والا حادثہ بن چکا ہے جس نے جہازوں کے درمیان حفاظتی اقدامات اور فوراً ردعمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ضرور پڑھیں: یو ایس ایڈ کے 5200 پروگرامز میں 80 فیصد کی بندش: عالمی امداد پر گہرے اثرات مرتب