اپریل 5, 2025 12:29 صبح

English / Urdu

ٹرمپ انتظامیہ کا محکمہ تعلیم میں ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ

امریکا میں حکومت کا سب سے اہم ادارہ محکمہ تعلیم، ایک تاریخ ساز اور متنازعہ فیصلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دسمبر 2024 میں دی گئی ہدایات کے مطابق محکمہ تعلیم کے تقریبا نصف عملے کو فارغ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ فیصلہ محکمے کے مستقبل کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے کیونکہ ٹرمپ نے اپنے عہدے کے دوران محکمہ تعلیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں 4,133 سے کم ہو کر صرف 2,183 اہلکار باقی رہ جائیں گے۔ یہ برطرفیاں ٹرمپ کے اس وعدے کا حصہ ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امریکی حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انہیں کم کریں گے۔ یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بجلی کی بندش کے درمیان فلسطینی ‘تباہ کن’ حالات کا شکار محکمہ تعلیم کے بارے میں یہ اعلان نہ صرف ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ امریکی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ محکمہ تعلیم کے دفاتر واشنگٹن میں منگل کی شام سے بدھ تک بند کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ داخلی دستاویزات کے مطابق یہ بندشیں اس بات کا عندیہ ہیں کہ محکمہ کی تحلیل کی تیاری کی جا رہی ہے۔ قبل ازیں، اسی طرح کی بندشیں امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) اور صارفین کی مالیاتی تحفظ کے ادارے (CFPB) کے دفاتر کی بندش سے جڑی ہوئی تھیں۔ امریکی وزیر تعلیم ‘لنڈا میک میہن’ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ “ہاں، یہ برطرفیاں محکمہ تعلیم کے خاتمے کا پیش خیمہ ہیں، اور یہ صدر کا حکم ہے۔” اس فیصلے کے ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے لاگت میں کمی کی مہم کو تیز تر کرتے ہوئے مختلف حکومتی اداروں میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی مہم شروع کر دی ہے۔ لازمی پڑھیں: آسٹریا نے پناہ گزینوں کے لیے فیملی ری یونفیکیشن پر پابندی عائد کر دی مذکورہ برطرفیوں کے ساتھ محکمہ تعلیم میں اب صرف 2,183 ملازمین رہ جائیں گے اور انہیں 21 مارچ سے انتظامی رخصت پر بھیج دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد محکمہ تعلیم کے تقریبا تمام ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے جس سے معاشی اثرات میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس فیصلے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے بے شمار محکموں میں ’’ابتدائی ریٹائرمنٹ‘‘ کی پیشکش کی جا رہی ہے، جس میں بعض اہلکاروں کو 25,000 ڈالر تک کی رقم پیش کی جا رہی ہے۔ ضرور پڑھیں: چین میں ایران کے جوہری پروگرام پر اہم ملاقات، ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہوں گے یہ پیشکش محکمہ صحت، سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن، اور دیگر حکومتی اداروں میں کی جا رہی ہے، تاکہ برطرفیوں کی رفتار تیز کی جا سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ حکومت میں بڑے پیمانے پر ‘غلط ادائیگیاں’ اور ‘فضول خرچی’ ہو رہی ہے جس کے لیے مختلف ادارے خود کو مزید چھوٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی حکومت کے لیے یہ فیصلہ ایک سنگین موڑ ہے، جس کے اثرات نہ صرف وفاقی ملازمین بلکہ پوری امریکی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ٹرمپ کی یہ مہم کامیاب ہو گی یا اس کے خلاف عدالتوں میں قانونی جنگ شروع ہو گی۔ تاہم، یہ بات واضح ہے کہ امریکی حکومت کی ساخت میں یہ تبدیلی امریکا کے مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید پڑھیں: ایران کے سپریم لیڈر خامنائی نےامریکا سے جوہری مذاکرات کو مسترد کردیا

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سرفراز احمد کو ٹیم ڈائریکٹر مقرر کردیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سابق چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے چیمپئنز ٹرافی کے فاتح کپتان سرفراز احمد کو ٹیم کا ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔ اسپانسرشپ سائننگ تقریب کے دوران کوئٹہ گلیڈیٹرز کے مالک ندیم عمر نے اعلان کیا کہ وہ سرفراز احمد کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ٹیم ڈائریکٹر بنانے جا رہے ہیں، سرفراز احمد نے بطور کپتان ٹیم کی شاندار قیادت کی اور انھیں یقین ہے کہ بطور ڈائریکٹر بھی وہ بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔ معین خان اور سرفراز کا امتزاج ٹیم کے لیے حیرت انگیز ثابت ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق پہلے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ سرفراز ہیڈ کوچ شین واٹسن کی جگہ لیں گے، کیونکہ آسٹریلوی کرکٹر نے دوسرے پروفیشنل معاہدوں کے باعث پی ایس ایل 10 سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن فرنچائز نے سرفراز کو بطور ٹیم ڈائریکٹر شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے سابق کپتان سرفراز احمد کو فرنچائز نے ریلیز کر دیا تھا اور پلیئرز ڈرافٹ میں بھی کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا تھا، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں انتظامی کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔ سرفراز احمد 2016 میں پی ایس ایل کے آغاز سے ہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ جُڑے رہے اور 2019 میں ٹیم کو پہلی بار چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے 86 میچوں میں سرفراز احمد نے 1525 رنز اسکور کیے، جس میں سات نصف سنچریاں شامل تھیں۔ 2023 کے سیزن میں ان سے قیادت لے کر جنوبی افریقی کرکٹر ریلی روسو کو ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا، جس سے سرفراز کے طویل قائدانہ سفر کا اختتام ہوا۔

برازیل کا امریکا کی اسٹیل ٹیرف پر فوری ردعمل نہ دینے کا اعلان، مذاکرات کا عندیہ دے دیا

برازیل کے وزیر خزانہ ‘فرنینڈو ہیڈاڈ’ نے بدھ کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک امریکا کی جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم درآمدات پر عائد کیے گئے نئے ٹیرف کے خلاف فوری طور پر جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے برازیل اپنی حکومت کے اقتصادی حکام کو امریکی انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے تیار کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد کردہ ٹیرف بدھ کے روز نافذ ہو گئے جس نے عالمی تجارت میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا۔ اس اقدام سے نہ صرف کینیڈا اور یورپ نے فوری ردعمل ظاہر کیا بلکہ برازیل، جو امریکا کا ایک اہم اسٹیل فراہم کنندہ ہے، اس صورت حال پر تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ یہ بھی پڑھیں: ایران کے سپریم لیڈر خامنائی نےامریکا سے جوہری مذاکرات کو مسترد کردیا برازیل کے صدر لولا نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ان کی حکومت عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں امریکا کے خلاف شکایت درج کر سکتی ہے یا امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز دے سکتی ہے۔ تاہم، وزیر خزانہ ہیڈاڈ نے اعلان کیا کہ برازیل کے اقتصادی حکام نے اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور صدر لولا کے حکم پر مذاکرات کا راستہ اپنانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ “صدر لولا نے ہمیں یہ مشورہ دیا ہے کہ ہم پرسکون رہیں گے کیونکہ ماضی میں بھی ہم نے ایسے حالات میں بات چیت کی تھی جو اس وقت سے بھی زیادہ غیر سازگار تھے۔” وزیر خزانہ کے مطابق برازیل کے نائب صدر جیراڈو ایلکمن نے امریکی حکام کے ساتھ ایک مثبت ٹیلیفونک بات چیت کی تھی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ لازمی پڑھیں: امریکا میں پالتو کتے کا حیران کن عمل: سوئے ہوئے شخص پر گولی چلا دی اس سب دوران برازیل کے صدر کے چیف آف اسٹاف روئی کوسٹا نے بھی بدھ کو اعلان کیا کہ جمعہ کے روز دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ملاقات طے ہو چکی ہے تاکہ ٹیرف کے حوالے سے ایک مشترکہ سمجھوتے تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سفارتکاری میں “جوابی اقدام” ایک معمول کی بات ہے مگر اس پر فیصلہ صرف جمعہ کی ملاقات کے بعد ہی کیا جائے گا۔ امریکی اور برازیلی حکام کے درمیان یہ مذاکرات عالمی تجارتی تعلقات میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے پر ایک واضح موقف اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ برازیل کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش نہ صرف اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں نرمی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے بلکہ یہ بھی کہ عالمی اقتصادی سیاست میں اس کی حکمتِ عملی بھی جمود کا شکار نہیں ہے۔ مزید پڑٰھیں: غزہ میں بجلی کی بندش کے درمیان فلسطینی ‘تباہ کن’ حالات کا شکار

معجزہ یا پھر کچھ اور؟ جعفر ایکسپریس کا ڈرائیور زندہ بچ گیا

بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور کی بخیریت ویڈیو سامنے آگئی۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈرائیور کسی سے بات کر رہے ہیں اور اپنی خیریت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کرم کیا ہے۔ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور حملے میں زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے، تاہم اب ان کی خیریت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دہشت گردی کا شکار جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور صحت مند و حیات ہیں انکے ہمراہ رہائی پانے والے دیگر مسافروں کی خوشی دیدنی ہے https://t.co/iiH2bcYui1 pic.twitter.com/NoavHPkOC5 — 🦉🦉 (@Info_Balochistn) March 12, 2025 واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بھی مکمل کرلیا ہے اور تمام 33 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران تمام یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا گیا، تاہم افسوسناک طور پر آپریشن سے قبل 21 مسافر شہید ہوگئے۔ عالمی خبررساں ادارے اردو نیوز کے مطابق جعفر ایکسپریس چلانے والے امجد یاسین کا آبائی تعلق پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں سے ہے۔ تاہم وہ 1974 میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی طور پر عسکریت پسندوں کی جانب سے انہیں قتل کرنے کی خبر موصول ہوئی تھی، مگر اب تصدیق ہوگئی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ امجد کے والدین پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں چھانگا مانگا چک 17 سے تعلق رکھتے تھے، ان کا پورا خاندان اسی علاقے میں مقیم ہے۔ امجد یاسین کے دو بھائی عامر یاسین اور ارشد یاسین بھی کوئٹہ میں رہتے ہیں، جب کہ ان کی دو بہنیں بھی ہیں۔ ارشد یاسین بھی ریلوے میں ملازمت کرتے ہیں، ابھی چند سال قبل تک وہ کوئٹہ میں ملازمت کرتے تھے، جس کے بعد ان کا تبادلہ پنجاب ہوگیا۔ خیال رہے کہ منگل کو چونیاں میں امجد یاسین کے پھوپھو کو دفنائے تین گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ خاندان والوں کو جعفر ایکسپریس پر حملے کی خبر موصول ہوئی، یہ خبر خاندان والوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، مگر اب اللہ کا شکر ہے کہ وہ صحیح سلامت ہیں۔

جعفر ایکسپریس گھناؤنے حملے میں کی گئی سیاست کی شدید مذمت کرتے ہیں، وفاقی وزیرِاطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ انڈین میڈیا، بلوچ لبریشن  آرمی اور پی ٹی آئی ایک زبان بول رہے تھے، انہیں مستند معلومات کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے تھی، گھناؤنے حملے میں کی گئی سیاست کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آپریشن سے قبل 21 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں پاک فوج کے 4 جوان بھی شہید ہوئے، سیکیورٹی فورسز نے بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹرین میں 440 مسافر سوار تھے، جنہیں پاک فوج، ایف سی، ایس ایس جی اور ایئر فورس کی مشترکہ کارروائی کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا، اللہ کا شکر ہے کہ بڑا نقصان ہونے سے بچا لیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے اس واقعے پر افسوسناک پروپیگنڈا کیا گیا، جب کہ کچھ سیاسی عناصر نے بھی اس سانحے کو سیاست چمکانے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی، انڈین میڈیا اور بی ایل اے ایک ہی زبان بول رہے تھے، جب کہ انہیں مستند معلومات کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے تھی۔ عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد دی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری حد تک لڑی جائے گی، پاکستان میں کسی کو بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست اپنی رٹ قائم رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا تعاقب جاری رہے گا، جب کہ افواج پاکستان، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور رینجرز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحرک ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی رابطہ کیا ہے اور کل بلوچستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے خود کو بے نقاب کر دیا اور ان کی سازش ناکام ہو گئی، دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ریاست پاکستان انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔

ایران کے سپریم لیڈر خامنائی نےامریکا سے جوہری مذاکرات کو مسترد کردیا

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے بدھ کے روز امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ ردعمل اُس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر کو ایک خط بھیجا جس میں جوہری مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنے خط میں خامنائی سے مذاکرات کی درخواست کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دو ہی راستے ہیں ایک تو فوجی طاقت کا استعمال یا پھر ایک معاہدہ جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔ یہ خط امارات کے صدر کے مشیر انورگرگاش نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بدھ کے روز حوالے کیا جب دونوں کے درمیان ملاقات ہو رہی تھی۔ تاہم، آیت اللہ خامنائی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ٹرمپ کا مذاکرات کی پیشکش محض “عوام کو بہکانے” کی کوشش ہے۔ مزید پڑھیں: غزہ میں بجلی کی بندش کے درمیان فلسطینی ‘تباہ کن’ حالات کا شکار انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ امریکا اپنے وعدوں کو نہیں نبھائے گا تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ؟ خامنائی نے اس بات کو واضح کیا کہ “مذاکرات کی پیشکش صرف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔” ایران کے سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ اگر ایران نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کیے تو اس سے “دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا” اور ایران کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ان کے مطابق امریکی حکومت کی زیادتیوں کے سامنے جھکنا ایران کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ یہ تمام صورتحال اُس وقت سامنے آئی جب 2018 میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے شدہ 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکا کو دستبردار کر لیا تھا جس کے بعد امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور ایران نے ایک سال بعد معاہدے کی شرائط کو توڑنا شروع کر دیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: چین میں ایران کے جوہری پروگرام پر اہم ملاقات، ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہوں گے ایران کے لیے سپریم لیڈر کا موقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ ایرانی ریاست کے تمام فیصلوں میں حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ خامنائی نے یہ واضح کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں نہیں جائے گا جب تک کہ امریکہ اپنے غیر معقول مطالبات سے باز نہ آجائے۔ اسی دوران، متحدہ عرب امارات جو کہ واشنگٹن کا اہم اتحادی ہے اور ایران کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات بھی ہیں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب یو اے ای نے کبھی بھی ایران کے ساتھ تعلقات میں تلخیوں کے باوجود تجارتی روابط کو برقرار رکھا ہے اور دبئی ایرانی کاروبار کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس دوران “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کو برقرار رکھا ہے جس کے ذریعے ایران کو عالمی معیشت سے الگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ ایران کے تیل کے برآمدات میں کمی آئے اور وہ جوہری پروگرام کو ترک کرنے پر مجبور ہو۔ اس تمام صورت حال میں ایران اور امریکا کے تعلقات ایک نیا موڑ اختیار کر چکے ہیں اور اس بات کی پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ دونوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز اور اس کا مستقبل ابھی تک غیر واضح ہے۔ لازمی پڑھیں: آسٹریا نے پناہ گزینوں کے لیے فیملی ری یونفیکیشن پر پابندی عائد کر دی

’گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ‘ سے آگاہی نصاب کا حصہ بنانے کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب نے مراسلہ لکھ دیا

محکمہ داخلہ پنجاب نے ’گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ‘ سے آگاہی کیلئے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مراسلہ لکھ دیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کو ’گڈ ٹچ‘ اور ’بیڈ ٹچ‘ سے آگاہ کرنے کے لیے نصاب میں باقاعدہ شامل کیا جائے، کیونکہ بچوں کی ذاتی حفاظت کے بارے میں تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی کلاسز کے نصاب میں ’گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ‘ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے، تاکہ بچے درست معلومات حاصل کر کے نامناسب رویوں کو پہچان سکیں اور متعلقہ اداروں کو رپورٹ کر سکیں۔ مزید برآں، مراسلے میں والدین اور اساتذہ کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ بچوں کو سکھائیں کہ گھر یا باہر کسی بھی نامناسب رویے کو کس طرح رپورٹ کیا جائے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے نشاندہی کی کہ جنسی استحصال کا شکار بچے زندگی بھر ذہنی دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں، لہٰذا انہیں محفوظ بنانا اور استحصال کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ کسی بھی قسم کے جنسی استحصال کی کوشش کرنے والوں سے خوفزدہ نہ ہوں، بلکہ انہیں بے نقاب کریں۔ اس مقصد کے لیے ماہرین کی مدد سے نصاب میں ’گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ‘ ماڈیول شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ اس حساس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے اور آئندہ نسلوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، محکمہ داخلہ پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تعاون سے ’گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ‘ سے متعلق آگاہی مہم بھی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ریاست کا کردار ماں کی طرح ہونا چاہیے اور قیدیوں کے بچوں کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، وزیرِ تعلیم سندھ

وزیر تعلیم سردار علی شاہ کا کہنا ہے کہ اونر شپ ریاست سے شروع ہوتی ہے، ریاست کا کردار ماں کی طرح ہونا چاہیے اور قیدیوں کے بچوں کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت نے سزا یافتہ قیدیوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے پاکستان کے پہلے خصوصی تعلیمی منصوبے کا آغاز کر دیا، کراچی سینٹرل جیل میں منعقدہ تقریب میں وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ اور وزیر جیل خانہ جات حسن علی زرداری نے شرکت کی۔ اس پروگرام کو محکمہ تعلیم سندھ، محکمہ جیل خانہ جات اور پیغام پاکستان کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت سندھ کی جیلوں میں قید 4684 سزا یافتہ قیدیوں کے بچوں کو پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے میں مدد دی جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ ریاست کا کردار ماں کی طرح ہونا چاہیے اور قیدیوں کے بچوں کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بچوں کا کوئی قصور نہیں، اگر انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا تو یہ ان کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ نے اس معاملے میں پہل کی ہے اور قیدیوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے یہ دنیا کا پہلا ماڈل ہوگا۔ واضح رہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے پہلے مرحلے میں 100 بچوں کو اسکول میں داخلے کے لیٹرز جاری کر دیے گئے ہیں، جب کہ 2638 بچوں کا ڈیٹا بھی جمع کر لیا گیا ہے، جنہیں خاندان کی مشاورت سے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے گا۔ قیدیوں کے بچے سرکاری یا نجی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کا انتخاب اپنی مرضی سے کر سکیں گے اور حکومت ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ وزیر جیل خانہ جات حسن علی زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیدی کے گھر والے بھی کفیل نہ ہونے کے باعث قیدی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہمیں سندھ میں جیلوں کا تاثر اصلاح گھر کے طور پر منوانا ہے اور قیدیوں کے بچوں کی تعلیم میں مدد کرنے سے ان کے پورے خاندان کو اصلاح کے عمل میں شامل کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے مرد و خواتین قیدیوں کے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کی جیل میں قید کم عمر قیدیوں کی تعلیم اور ہنر سیکھنے میں بھی مدد کی جائے گی۔ تقریب میں پیغام پاکستان کے آرگنائزر پروفیسر محمد معراج صدیقی نے کہا کہ قیدیوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تین بڑے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں، جن کے تحت پرائمری سے یونیورسٹی تک تعلیم اور ہنری تربیت دی جائے گی، قیدیوں کے بچوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے 5 لاکھ روپے تک کی مالی مدد دی جائے گی اور سزا یافتہ قیدیوں کے خاندان کو ماہانہ 12 ہزار روپے تک کی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ جرائم پیشہ افراد ان بچوں کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ واضح رہے کہ اس وقت سندھ کی جیلوں میں 24 ہزار قیدی موجود ہیں، جن میں سے 4102 سزا یافتہ اور 582 سزائے موت کے قیدی ہیں۔ تقریب میں موجود قیدیوں نے اس اقدام کو سراہا۔ مزید پڑھیں: معاشی استحکام پہلا زینہ، ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے، وزیرِاعظم شہباز شریف ایک قیدی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اس کے لیے خوشی اور اطمینان کا دن ہے، کیونکہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے بچے اسکول جا سکیں گے اور تعلیم حاصل کر کے برائیوں سے بچ سکیں گے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ جب سزا مکمل کر کے اپنے گھر واپس جائے گا، تو وہ پڑھے لکھے بچوں کا والد کہلائے گا۔ سندھ حکومت کے اس تاریخی اقدام کو ایک نئی روایت اور معاشرتی اصلاح کے لیے بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

معاشی استحکام پہلا زینہ، ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے، وزیرِاعظم شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف سے پاکستان کے مختلف چیمبرز آف کامرس کے صدور نے ملاقات کی، جس میں ملکی معیشت کی بہتری، کاروباری برادری کو درپیش مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کاروباری شخصیات نے معاشی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کا حصول پہلا زینہ ہے، ملکی ترقی کا سفر اب شروع ہوا ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ حکومت کاروباری برادری کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔ وزیرِاعظم نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائیزیشن اور دیگر اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری برادری کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ فیس لیس کلیئرنس سسٹم کی بدولت بندرگاہوں پر کنٹینرز کی کلیئرنس کے وقت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، جو تجارت کے فروغ میں اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس ریونیو میں اضافے کے لیے سسٹم میں اصلاحات پر اپنی تجاویز دیں، تاکہ کاروباری برادری اور حکومت مل کر ملک کی معیشت کو مزید مستحکم بنا سکیں۔ اجلاس میں شریک کاروباری شخصیات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پہلی مرتبہ حکومتی سطح پر کاروباری برادری کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، شرکاء کا کہنا تھا کہ انھیں حکومتی پالیسیوں میں شامل کرنا خوش آئند ہے، خاص طور پر بجٹ کے مشاورتی عمل میں شامل کرنے پر وزیرِاعظم کے مشکور ہیں۔ وزیرِاعظم نے متعلقہ وزارتوں اور سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کے بعد ان کی تجاویز کی روشنی میں پالیسی اقدامات کا لائحہ عمل تیار کریں، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، حنیف عباسی، سردار اویس خان لغاری، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِمملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

امریکا میں پالتو کتے کا حیران کن عمل: سوئے ہوئے شخص پر گولی چلا دی

ایک امریکی شہری کو اپنے پالتو کتے کی شرارت نے زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ اتوار کی رات کو پیش آیا جب 36 سالہ شخص اپنے بیڈ پر سو رہا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی۔ رات کے تین بجے اس شخص کی زندگی ایک غیر متوقع حادثے کی زد میں آئی جب اُس کا پالتو کتا، جو ایک سالہ پیٹ بل ‘اوکرو’ تھا اس کے بیڈ پر چھلانگ لگا کر اس کے نزدیک رکھی ہوئی بندوق کی ٹریگر گارڈ میں اپنا پاؤں پھنسا بیٹھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق کتے کا پاؤں بندوق کے ٹریگر پر آ گیا جس کی وجہ سے وہ حادثاتی طور پر فائر ہو گئی۔ اس شخص کو بائیں ران میں گولی لگ گی جس کے بعد اسے فورا اسپتال منتقل کردیا گیا۔ خوش قسمتی سے وہ شدید زخمی نہیں ہوا اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ مذکورہ حادثہ ایک نیا سبق دے گیا ہے خصوصا اس کے شریک حیات کی جانب سے کی گئی وضاحتوں کے مطابق ‘اوکرو’ ایک بہت ہی چنچل کتا تھا جو اکثر بستر پر چھلانگ لگا کر کھیلنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس شخص کی بیوی نے بتایا کہ وہ سو رہی تھی جب گولی کی آواز سنائی دی۔ اس نے فوری طور پر اس حادثے کو ‘کھلونے سے کم نہیں’ قرار دیا اور کہا کہ “یہ ایک بھاری سبق ہے۔ اگلی بار ہمیں بندوق کی سیفٹی ضرور چیک کرنی ہوگی یا ٹریگر لاک کا استعمال کرنا ہو گا۔” یہ واقعہ اس بات کی گواہی ہے کہ امریکا میں بندوقوں کے استعمال میں بے احتیاطی کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے چاہے وہ انسانوں کی غلطی ہو یا جانوروں کی شرارت۔ پچھلے چند برسوں میں بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں جانوروں نے بندوق کے ٹریگر پر پاؤں رکھ کر حادثات کا سبب بنے مگر یہ واقعہ اپنی نوعیت کا نیا اور حیرت انگیز ہے۔ اس حادثے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ بندوق کا استعمال چاہے وہ حفاظت کے لیے ہو یا شکار کے لیے، ہمیشہ انتہائی احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے تاکہ اس کے ساتھ جڑی کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بچا جا سکے۔ مزید پڑھیں: درختوں کی موت، ماحول کی تباہی، چند سال بعد سانس لینا مشکل ہوجائے گا