اپریل 4, 2025 7:30 صبح

English / Urdu

اردگرد رہنے والے یہ نہ سمجھیں کہ پاکستان میں لگی آگ ان تک نہیں پہنچے گی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو آگ پاکستان میں لگی ہے، اردگرد رہنے والے یہ مت سمجھیں کہ ان تک نہیں پہنچے گی۔ نجی نشریاتی ادارے جیو کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، افغانستان میں دہشتگردوں کا معاملہ بھرپورانداز میں سفارتی سطح پر اٹھانا ہو گا اور دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہو گا، اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانا ہو گا، بیرونی دنیا بھی یہ سب معاملات دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا خود کو اس خطے سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتی، دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کا بھی پتا لگانا ہوگا۔ مزید پڑھیں: ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں ہوتا، مولانا فضل الرحمان بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی مالی مدد کرنے والوں کا بھی سراغ لگانا ہوگا اور پاکستان سے انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پیپلز پارٹی ہر طرح کی مدد کو تیار ہے۔ انہوں نے غیرمشروط تعاون اور غیرمتزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی یکجہتی کی ضرورت ہے اور اس اہم مسئلے میں اگر مگر کی کوئی گنجائش نہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جو آگ پاکستان میں لگی ہے اردگرد رہنے والے یہ مت سمجھیں کہ ان تک نہیں پہنچے گی۔

ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں ہوتا، مولانا فضل الرحمان

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے دہشت گرد ہیں اور ان کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں ہوتا۔ قومی اسمبلی میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو اجلاس میں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی، اگر ان سے مشورہ کیا جاتا تو وہ ضرور اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 1988 سے اس ایوان کا حصہ رہے ہیں اور ہمیشہ آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ وہ استاد کو شہید کہیں گے، لیکن مارنے والے کو مجاہد نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے علما پہلے بھی فتویٰ دے چکے ہیں اور ان کا مؤقف واضح ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا دہشت گرد ہے۔ مزید پڑھیں: جعفر ایکسپریس کا سفر دوبارہ شروع، اب ٹرین کی نگرانی ڈرون سے ہوگی، وزیر ریلوے کا اعلان مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی قیادت اور قوم کو کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس ایشو پر اکٹھا ہونا ہوگا، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔

سیکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان کی جامعات غیر معینہ مدت کے لیے بند

یونیورسٹی آف بلوچستان کی انتظامیہ نے اعلان کیاہے کہ یونیورسٹی کو  سیکیورٹی خدشات کے باعث غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جا رہا ہے، تمام تعلیمی سرگرمیاں ورچوئل لرننگ پر منتقل کر دی گئیں۔ نجی نشریاتی ادارہ جیونیوز کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث یونیورسٹیاں بند کی گئی ہیں ، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی نے پہلے ہی طالبات کے لیے آن لائن کلاسز شروع کر دی ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (بی یو آئی ٹی) نے بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس بلایا ہے۔ ایک گمنام صوبائی حکومت کے اہلکار کے حوالے سے، اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ دو یونیورسٹیوں کو گزشتہ ہفتے ‘غیر معینہ مدت’ کے لیے بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا، ایک اورکو ورچوئل لرننگ کی طرف جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ علیحدگی پسندوں کے تشدد میں حالیہ اضافے کے بعد پورے شہر میں سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اضافی چوکیوں کے ساتھ صوبائی دارالحکومت میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ یہ پیشرفت گزشتہ ہفتے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے عسکریت پسندوں کے ہولناک حملے کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے ضلع بولان کے ایک دور افتادہ پہاڑی درے میں سیکیورٹی سروسز کے ساتھ ایک دن تک جاری رہنے والے تعطل میں ٹرین کی پٹریوں کو اڑا دیا اور 440 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ فوج نے ٹرین کو کلیئر کرنے اور یرغمالیوں کو بچانے کے بعد کہا کہ اس نے 33 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ آپریشن شروع ہونے سے قبل دہشت گردوں نے 26 مسافروں کو شہید کردیا تھا، آپریشن کے دوران 4 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے۔ شہید ہونے والے ٹرین کے مسافروں میں فوج اور ایف سی کے 18 سیکیورٹی اہلکار، پاکستان ریلوے اور دیگر محکموں کے تین اہلکار اور پانچ عام شہری شامل ہیں۔ اور اتوار کے روز گاڑی میں سوار خودکش حملے میں کم از کم پانچ نیم فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی، جو افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروپوں میں سے ایک ہے

’کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مسترد کردیا‘ حافظ نعیم الرحمان کا دعوت افطارسے خطاب

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر فارم 45 کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مسترد کردیا ہے، ان مافیا سے جان چھڑانے کے لیے ایک بڑی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نےلیاری میں’ حق دو عوام کو’جلسہ عام وعوامی دعوت افطارسے خطاب  کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں گزشتہ 17 سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے،پیپلز پارٹی دعویٰ کرتی ہے کہ لیاری پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے، لیاری کے عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد ہے کہ آج بھی عوام جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مافیا سے جان چھڑانے کے لیے ایک بڑی تحریک چلانے کی ضرورت ہے، جماعت اسلامی عوام کے ساتھ مل کر ڈرگ مافیا کے خلاف تحریک چلائیں گے،کرپشن کا سارا نظام بلاول ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤس تک جاتا ہے پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت ملک کی صورتحال انتہائی خراب ہے،خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کی صورتحال خراب تر ہوتی جارہی ہے،جماعت اسلامی لیاری کے جلسہ عام سے مطالبہ کررہی ہے کہ بلوچستان کے لاپتا افراد کو فوری بازیاب کرے،عوام چاہے کسی بھی صوبے کے ہوں ان سب کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ فلسطین اور غزہ میں بمباری کرکے اسرائیل نے بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو شہید کیا ہے،حکومت ہو یا اپوزیشن کوئی بھی امریکہ کے خلاف بات نہیں کرتا،جدوجہد مقامی سطح پر بھی ہوگی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کے لوگوں پر اعتماد کیا تھا،جعلی طریقے سے پیپلز پارٹی کا مئیر مسلط کردیا گیا،مسلط کردہ لوگ کبھی بھی شہریوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا ہے کہ بین الاقوامی طاغوت کے خلاف بڑی تحریک آپ کا انتظار کررہی ہے،عید کے بعد زبردست تحریک چلائیں گے۔

اپوزیشن قومی سلامتی کے معاملے پر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائے، اسپیکر پنجاب اسمبلی

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر حزب اختلاف کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بنانی چاہیے۔ ملک احمد خان نے لاہور میں ایک تقریب میں شرکت کے دوران کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر اپوزیشن کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بنانی چاہیے، اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے مسئلے میں پولیٹکل پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو قومی سلامتی کے اجلاس میں شامل ہونا چاہیے تھا، دو مواقع کا خود گواہ ہوں جب قومی سلامتی کا معاملہ آیا اور پی ٹی آئی اس میں شریک نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان وزیر اعظم تھے اور قومی سلامتی کونسل کے بلائے جانے والے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، آج پھر نیشنل سیکیورٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان کی پارٹی شامل نہیں ہوئی۔ مزید پڑھیں: ملکی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، کوئی تحریک یا کوئی شخصیت نہیں، عاصم منیر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر ملک کے لیے سوچنا چاہیے، ہم اپوزیشن میں تھے جب بھی قومی سلامتی کا اجلاس ہوا شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائے یہ موقع نہیں، جب ہمارے مخالف ملک کی بقا کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، نواز شریف موجودہ صورت حال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی زعما ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں۔

’ملکی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، کوئی شخصیت نہیں‘ آرمی چیف

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، کوئی تحریک یا کوئی شخصیت نہیں۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پائیدار استحکام کے لیے قومی طاقت کے تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا، یہ ہماری اور آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کب تک ہم ایک سافٹ اسٹیٹ کے طرز پر جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے، گورننس کی خلا کو کب تک افوج پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے، علما سے درخواست ہے کہ وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں۔ عاصم منیر نے کہا کہ اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی چیز نہیں، پاکستان کے تحفظ کے لیے یک زبان ہو کر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہوگا۔ مزید پڑھیں: اسلام آباد میں جناح میڈیکل سینٹر پاکستان کا دوسرا جان ہاپکنز بنے گا، شہباز شریف آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جو سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ان دہشتگردوں کے ذریعے کمزور کرسکتے ہیں، تو ان کو یہ پیغام ہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف ان کو بلکہ ان کے تمام سہولتکاروں کو بھی ناکام کریں گے۔ عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی ایجنڈا، تحریک اور شخصیت نہیں ہے، ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے، جو کچھ بھی ہو جائے انشا اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔

’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ خواجہ آصف کی پی ٹی آئی پر تنقید

وزیر دفاع  نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پیغام جاری کیا ہے ۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا نصب العین ’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ ہے جب کہ انہوں نے آج ثابت کردیا کہ ان کی اولین ترجیح ملکی سلامتی نہیں بلکہ بانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے آج ثابت کردیا کہ عمران خان ان کی اول اور آخر ترجیح ہیں، وطن کی سلامتی اور امن ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیردفاع نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا نصب العین ’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ ہے، وطن دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور پی ٹی آئی اپنے مفادات کی سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس جنگ میں پی ٹی آئی کس کے ساتھ کھڑی ہے، اس سے بڑھ کر وطن دشمنی اور کیا ہوسکتی ہے؟ خواجہ آصف نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی کیخلاف اتحاد اور فیصلہ کن اقدام ترتیب دیے جارہے ہیں، سویلین اور فوجی قیادت دشمن کے خلاف قوم کو ایک پیج لانے کی بات ہورہی ہے اور اس جنگ میں پاکستان کی فتح ہوگی۔ یاد رہے کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا ’ان کیمرہ‘ اجلاس ہوا جس میں قومی سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی۔

ظالموں نے مظلوموں کو مارا

صوبہ بلوچستان گذشتہ کچھ دہائیوں سے دہشتگردی کے لپیٹ میں ہے۔ پہلے یہ دہشت گرد بلوچستان میں عوامی مقامات کو نشانہ بناتے تھے جن میں بسوں کے اڈے، ریلوے اسٹیشنوں بازار وشاپنگ سینٹر ہدف ہوتے تھےلیکن بعد میں ان دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور زیادہ سے زیادہ بے قصور ملازم پیشہ افراد اور معصوم مزدورں کو بے خبری میں نشانہ بنانے لگے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک بلوچستان میں ہزاروں افراد دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوچکے ہیں۔ ایک دل دہلانے والا واقعہ جو کل پیش آیا یہ واقع سب سے پہلے سوشل میڈیا پہ منظر عام پہ آ یا، ٹارگیٹ کلنگ کرنے والوں نے بلوچستان کے ‏جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا ،یہ وہی جعفر ایکسپریس جس کی افتتاحی تقریب سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کی تھی جعفر خان جمالی قائد اعظم محمد علی جناح کے دوستوں میں ایک بہترین دوست تھے ۔ یہ درست ہے کہ اس خوفناک حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس طرح کا واقع چند سال پہلے تربت میں بھی پیش آیاتھا تربت شہر سے پندرہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جن کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ کچھ ایجنٹ حضرات غیر قانونی طریقے سے ان نوجوانوں کو ایران کے راستے ان کو یورپ تک بھجوانا چاہتے تھے یہ ایجنٹ ہمیشہ بلوچستان کے دشوار گزار راستوں  سے ہی غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کراتے ہیں پھر ترکی اور ایران بارڈر بھی بہت دشوار گزار علاقوں سے ہوتا ہے حتیٰ کہ یہ پورا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مختلف اداروں کی چیکنگ اور ویزاہ سسٹم سے بچنے کیلئے کیاجاتا ہے۔ بلیدہ تربت ایجنٹوں کا پسندیدہ راستہ ہے اور اس راستے پہ کم خرچہ میں نوجوانوں کو یورپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ شاید ان نوجوانوں کی منزل یورپ کے بجائے بلوچستان کی سر زمین پہ کچھ اور ہی لکھی ہوئی تھی۔ابھی اس واقعے کے زخم ٹھنڈے ہی نہیں ہوئے تھے کہ پھر میرا پیارا بلوچستان لہو لہان ہوگیا ہے ، پھر قربانیاں بلوچستان کے حصے میں آئی ہیں وہ بھی میرے پیارے مسلمان بھائیوں کی۔ بلوچستان میں محنت کشوں کے قتل پہ سب کو سخت مذمت کرنی چاہیے ،میڈیا اب تک بلوچستان کی درست تصویر پہنچنے ہی نہیں دیتا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا بلوچستان کے متعلق کم جانتی ہے کیونکہ بلوچستان کے دشوار گزار راستوں پہ کوئی میڈیا گروپ زیادہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچوں نے پنجابیوں کو نہیں مارا بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے، بلکہ ظالموں نے مظلوموں کو مارا ہے ان محنت کشوں کا قتل بالکل درست نہیں ہے۔ اس وقت پنجابیوں کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا قتل ہوا ہے بلوچستان میں جو اس سے قبل مرے وہ بھی بلوچی نہیں پاکستانی تھے۔ ہم سب ایک ہیں ، ہمارا دشمن بھی ایک ہے ۔ بلوچستان کی بنجر پہاڑیوں میں جہاں کوئی جاندار زندہ رہنے کا تصور نہیں کر سکتا وہاں جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود کیسے پہنچتا ہو گا یہ بات ہم سب کو سوچنی چاہیئے آخر ہمارا دشمن کون ہے؟ ‏ جعفر ایکسپریس میں مرنے والے سب مظلوم اور مارنے والے سب ظالم اور دہشت گرد تھے ان دہشت گردوں کا تعلق کسی مذہب ، زبان ،علاقے یا قبیلے سے نہیں ہوتا ہے پنجاب کےلوگ بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر آواز اٹھا رہے ہیں بلوچ قاتل ہے بلوچستان کے لوگ قاتل ہےجو قابل تحسین بات نہیں ہے۔ کاش بلوچوں کے قتل اور بم دھماکوں میں شہید ہونے پر بھی یونہی شور اٹھا کرے تاکہ ظلم بند ہو ۔ آج سارا پاکستان اس بہیمانہ قتل کی مذمت کررہا ہے اور بالکل درست کررہا ہے میرا سوال یہ ہے کہ حالات اس نہج تک کیوں پہنچے؟  ہم گذشتہ سات دہائیوں میں بحیثیتِ قوم ٹکڑیوں اور قومیتوں میں بکھرنے کے کافی اثرات دیکھ چکے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم لسانیت چھوڑ کر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں آپکا اصل دشمن آپکو سندھی, بلوچ, پنجابی یا پٹھان سمجھ کے نہیں مار رہا ہے وہ آپکو پاکستانی سمجھ کر مروا رہا ہے۔ ‏یہ حملہ صرف ایک دہشت گرد کارروائی نہیں لگتی بلکہ اس میں منظم منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔ اگر ٹرین میں واقعی 100 سے زائد سیکیورٹی اہلکار موجود تھے، تو اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردوں کو پہلے سے اطلاع تھی کہ جعفر ایکسپریس ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملے کا خطرہ موجود تھا تو حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ جعفر ایکسپریس حملہ صرف ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے سیکیورٹی اور اطلاعاتی نظام کی ایک بڑی آزمائش ہے۔ بلوچستان میں رہنے والے لوگ مقامی ہوں یا غیر مقامی ان کے بے بنیاد قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ہم اس ظلم کے شکار تمام افراد کے خاندانوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں صبرِ جمیل عطا کرے اور حکومتی اداروں سے اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کرتے ہیں یہ میری نہیں بلکہ بلوچستان کی آواز ہے

افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں: عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو نہ تو اخبار فراہم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں ٹی وی دیکھنے دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ حالیہ واقعات سے بے خبر ہیں۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے عمران خان کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا کہ اسی لیے ان کا اخبار اور ٹی وی بند کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا واضح مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی ان کی اجازت کے بغیر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت نہیں کر سکتی، یعنی پارٹی رہنما ان کی اجازت کے بعد ہی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے گراف کو دیکھا جائے تو 2021 تک اس میں کمی آئی تھی، لیکن 2022 سے دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اس کے ساتھ دشمنی پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے، ہم کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے تصادم کی راہ اختیار کریں؟ علیمہ خان نے مزید بتایا کہ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق بشریٰ بی بی اور عمران خان کو آدھا گھنٹہ فیملیز کے ساتھ اور پھر آپس میں ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، جس کا مجموعی وقت ڈیڑھ گھنٹہ بنتا ہے، لیکن انہیں صرف 30 منٹ ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ تاہم، احتجاجاً آج 45 منٹ کی ملاقات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی جا رہی اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج سے طبی معائنہ کروایا گیا، حالانکہ عدالت نے ڈاکٹر ثمینہ نیازی کو ان کے دانتوں کا طبی معائنہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہر ممکن طریقے سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں جب نواز شریف کو جیل میں ڈالا گیا تو کلثوم نواز کو قید نہیں کیا گیا تھا، لیکن عمران خان کے ساتھ ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں رکھا گیا تاکہ ان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ ان کے مطابق، عمران خان نے واضح کیا کہ وہ ملک میں آزادی، اتحاد، قانون کی حکمرانی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔ اگر انہیں ان اصولوں پر قائم رہنے کی وجہ سے جیل میں رکھا جاتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر مخالفین یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے ہتھکنڈوں سے وہ دباؤ میں آ جائیں گے، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت نے ان کے کیسز کو غیر ضروری تاخیر کا شکار کر دیا ہے، ملاقاتوں پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں، اور اس وقت ملک میں کوئی قانون کام نہیں کر رہا۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں کون فیصلے کر رہا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ پاکستان بدل چکا ہے، اور ہم مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ کبھی بھی اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، اور پاکستانیوں کو ملک کی سلامتی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

پارلیمانی کمیٹی اجلاس: سیاسی و فوجی قیادت کا خوارج اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنےکا فیصلہ

 پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قومی قیادت کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد کیا،اجلاس میں سیاسی و فوجی قیادت کا خوارج اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اہم اجلاس بلوچستان کے ضلع بولان میں جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں جنڈولہ کے مقام پر ایف سی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملوں جیسے واقعات کے تناظر  میں منعقد کیا گیا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان حالیہ دنوں میں شدت پسندی کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔ گلوبل ٹیررزم انڈیکس 2025 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں ہونے والے 96 فیصد سے زائد شدت پسند حملے اور اموات انہی دو صوبوں میں ہوئی ہیں۔ اجلاس میں علامیہ جاری کیا گیا جس میں  کہا گیاکہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ ممکن بنانے کے لیے مربوط اور منظم حکمت عملی اپنانا ہوگی، دہشت گردی کی حمایت کرنے والےکسی بھی گروہ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائےگی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا، اعلامیےکے مطابق کمیٹی نےکہا کہ پاکستانی اداروں کو قانون نافذ کرنے اور قومی سلامتی کے معاملات میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔کمیٹی نے اس بات پرزور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمےکے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی مزید بہتربنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ اعلامیے کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہےکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو کمزوری نہیں دکھانی چاہیے، ایک مضبوط اور مربوط حکمت عملی کے تحت قومی سلامتی کو یقینی بنایا جانا چاہیے،کمیٹی نے حزب اختلاف کے بعض ارکان کی عدم شرکت پر افسوس کااظہار کیا اور کہا کہ مشاورت کا عمل جاری رہےگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ملک کے لیے ناسور بن گئی ہے، ہم یہاں دہشت گردی کے مسئلے کا حل نکالیں گے، ہم آخری دہشت گرد کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرکے قلع قمع کریں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا  کہ ہم ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کریں گے، شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتے، انہوں نے ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔ شہباز شریف نے قومی نوعیت کے اہم اجلاس میں حزب اختلاف کی عدم شرکت کو افسوسناک اور غیر سنجیدہ طرز عمل قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حزب اختلاف کی اجلاس میں عدم شرکت قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے جو قوم کی مقدس امانت ہیں، دہشت گردی کے خلاف سب کو متحدہ ہو کر آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2014 میں سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد میرے قائد میاں محمد نواز شریف نے پوری قوم کو متحد کیا اور پوری قوم نے مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ  افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیکیورٹی ایجنسیز، سیاستدان، پاکستانی شہریوں نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی ،جبکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، قربانیوں کی بدولت پاکستان کا امن بحال ہوا، معیشت سنھبلی اور ملک کی رونقیں بحال ہوئیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو ملکی صورتحال پر 50 منٹ تک تفصیلی بریفنگ دی، آرمی چیف نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال سے آگاہ کیا، آرمی چیف کی بریفنگ کے بعد 15 منٹ کے لیے نماز کا وقفہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں سکیورٹی مسائل موجود ہیں، پولیس فورس اور دیگر سکیورٹی فورسز کا مورال بڑھا رہے ہیں، پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو مکمل وسائل فراہم نہیں کیےگئے، ہم بارہا وفاق سے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں، افواج پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، فوج نے خیبرپختونخوا میں امن کے لیے بہت کام کیا ہے، ہمیں آپس کی بداعتمادی کو ختم کرنا ہوگا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پیپلزپارٹی پاکستان سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہرطرح کی مدد کو تیار ہے، یہ اہم قومی مسئلہ ہے جس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، جو آگ پاکستان میں لگی ہے اردگرد رہنے والے یہ مت سمجھیں کہ ان تک نہیں پہنچےگی، دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کا بھی پتا لگانا ہوگا، افغانستان میں دہشت گردوں کا معاملہ بھرپورانداز میں سفارتی سطح پر اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ  دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہوگا،اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا، بیرونی دنیا بھی یہ سب معاملات دیکھے، دنیا خود کو اس خطے سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتی۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں قومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر پی ٹی آئی پر کڑی تنقیدکی،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج کے دن بھی اپوزیشن نے ریاست کے بجائے ایک شخص کو ترجیح دی، عوام کو ان کا اصل چہرہ دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سابق دور حکومت میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا، پی ٹی آئی کے دور میں پھر افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر یہاں بسایا گیا، ان دہشت گردوں کے سبب آج ایک بار پھر پورے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو یہاں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی، مجھ سے مشورہ کرتے تو ان کو اجلاس میں آنےکا ضرور کہتا،1988سے اس ایوان کا حصہ رہا ہوں، آئین سے وفاداری کا حلف اٹھاتا رہا ہوں۔ مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ میں استاد کو شہیدکہوں گا لیکن مارنے والےکو مجاہد نہیں کہہ