جے یو آئی کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد انتقال کر گئے

حافظ حسین احمد گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، ان کی تدفین کل کوئٹہ میں ہوگی۔ حافظ حسین احمد کا شمار مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ واضح رہے کہ دسمبر 2022 میں اختلافات ختم کر کے حافظ حسین احمد دوبارہ جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شامل ہو گئے تھے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینیئر سیاستدان حافظ حسین احمد کی وفات پر اظہار افسوس کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ حافظ حسین احمد کی وفات سے حسین یادوں کا ایک باب ختم ہوگیا، حافظ حسین احمد مرحوم زیرک ،حاضر جواب اور نظریاتی پارلیمانی رہنما تھے۔ حافظ حسین احمد 1988میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ 1991 میں سینیٹر بنے، پھر 2002 میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بنے اور قومی اسمبلی میں پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ حافظ حسین احمد طویل عرصے تک پارلیمنٹ میں جے یو آئی کی آواز بنے رہےہیں۔ وہ 1988 کے انتخابات کے بعد چار بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ حافظ حسین بہت عرصے تک پارٹی کے مرکزی ترجمان رہے، تا ہم انہیں دسمبر 2020 میں جے یو آئی سے نکال دیا گیا تھا، پارٹی کی طرف سے حافظ حسین احمد پر پارٹی فیصلوں، پالیسی، دستور اور منشور سے انحراف جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ وہ جے یو آئی کے سنہ 1973 میں رکن بنے جب اس پارٹی کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود کے ہاتھوں میں تھی، جبکہ مولانا فضل الرحمان کی پارٹی میں شمولیت 1980 میں ہوئی، اس وجہ سے حافظ حسین احمد پارٹی میں مولانا فضل الرحمان سے سینیئر شمار کیے جاتے تھے۔ حافظ حسین احمد کئی دفعہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف خطاب کر چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم کبھی بھی جے یو آئی میں موروثیت کی سیاست نہیں چلنے دیں گے۔
امریکی جج نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر، ٹرانس جینڈر کو روک دیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پاس کیا تھا کہ ٹرانس جینڈر میں خدمات سرانجام نہیں دے سکتے، اس پر عمل درآمد ہونے کے لیے ایک وفاقی جج نے عارضی طور پر روک دیا ۔ عالمی خبر ارساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک وفاقی جج نےامریکی فوج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد سے عارضی طور پر روک دیا، جو خواجہ سرا افراد کو فوج میں خدمات انجام دینے سے منع کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے 20 موجودہ اور ممکنہ فوجی اہلکاروں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے دوران آیا ہے، جو اس پابندی کو سامنا کر رہے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج آنا ریز نے پایا کہ ٹرمپ کا 27 جنوری کا حکم نامہ، جو ریپبلکن صدر کی جانب سے امریکی خواجہ سرا افراد کے قانونی حقوق کو محدود کرنے کے لیے جاری کیے گئے کئی احکامات میں سے ایک ہے، امریکی آئین میں دیے گئے صنفی امتیاز کی ممانعت کے اصول کی ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرتا ہے۔ جج ریز نے اپنے فیصلے میں کہا، یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہزاروں خواجہ سرا فوجیوں نے دوسروں کے مساوی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دیں، لیکن اب اسی برابری کے حق سے انہیں محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مدعیان کے وکیل جینیفر لیوی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کن اور تیزی سے قدم اٹھایا،یہ فیصلہ واضح طور پر اس پابندی کے نقصانات کو اجاگر کرتا ہے جو بہادر خواجہ سرا فوجیوں پر مسلط کی جا رہی ہے، جو محض عزت کے ساتھ اپنی قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے نمائندوں نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے حکم نامے کے جواب میں، فوج نے 11 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ اب مزید خواجہ سرا افراد کو بھرتی نہیں کرے گی اوراسی ماہ کے آخر میں فوج نے کہا کہ وہ خواجہ سرا اہلکاروں کو فوج سے نکالنے کا عمل شروع کرے گی۔ ٹرمپ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کسی فرد کی اصل جنس کے برخلاف صنفی شناخت اپنانا فوجیوں کی دیانت، سچائی اور نظم و ضبط پر مبنی زندگی کے اصولوں سے متصادم ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی میں ہی کیوں نہ ہو۔ جج ریز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ مدعیان بہترین فوجی ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ خواجہ سرا افراد میں بھی وہی جنگی جذبہ، جسمانی اور ذہنی مضبوطی، ایثار، عزت، دیانت اور نظم و ضبط ہوتا ہے جو فوجی معیار کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تو پھر انہیں اور دیگر نمایاں فوجیوں کو کیوں نکالا جا رہا ہے؟ دفاعی فریق کی طرف سے اس اہم سوال پر مکمل خاموشی چھا رہی۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے اس طرح کا حکم جاری کیا ہو۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی انہوں نے ایک ایسا ہی ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، تاہم اس میں پہلے سے خدمات انجام دینے والے خواجہ سرا فوجیوں کو فوج میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس مقدمے کے مدعیان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حکم غیر قانونی ہے اور انہوں نے 2020 میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ خواجہ سرا افراد کے خلاف ملازمت میں امتیازی سلوک غیر قانونی صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومتی وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فوج کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کچھ مخصوص طبی حالات کے حامل افراد کو فوجی خدمات کے لیے نااہل قرار دے، جیسا کہ بائی پولر ڈس آرڈر یا ایٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم، جج ریز نے بار بار ان سے اس مؤقف کے حق میں ثبوت فراہم کرنے کو کہا اور بعض اوقات ٹرمپ کے حکم نامے میں خواجہ سرا افراد کے کردار کو کم تر دکھانے والے الفاظ پر کھلے عام برہمی کا اظہار کیا۔ محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی فوج میں تقریباً 13 لاکھ فعال فوجی اہلکار موجود ہیں۔ خواجہ سرا حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فوج میں 15 ہزار تک خواجہ سرا اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اصل تعداد چند ہزار کے قریب ہے۔
ریاست برقرار رہے گی اور ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہوگی: آصف علی زرداری

صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کوئٹہ کا دورہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہر قیمت پر فیصلہ کن طور پر جیتنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ریاست برقرار رہے گی اور ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہوگی۔” یہ دورہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پس منظر میں ہوا۔ کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، صدر زرداری نے قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے دہشت گرد عناصر کے خطرے کو اجاگر کیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر صدر زرداری نے کہا کہ “صورتحال واضح ہے، ریاست مضبوط ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر رہیں گے۔” صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت انسداد دہشت گردی ونگ کو جدید ترین ہتھیاروں اور سہولیات سے لیس کرے گی۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی اور پائیدار امن کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ ان کے دل کے قریب ہے۔ مزید برآں، صدر زرداری نے حکومت کے اس ہدف پر روشنی ڈالی کہ بلوچستان کے ہر بچے کو اسکول میں داخلہ دلایا جائے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تعلیم وقت کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، قائم مقام گورنر بلوچستان کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے عسکریت پسندوں نے ایک ٹرین میں 440 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے بولان کی پہاڑیوں میں ایک روزہ آپریشن کے بعد تمام یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا۔ اسی طرح، اتوار کے روز ایک گاڑی میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم پانچ فوجی اہلکار شہید ہوگئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی، جو افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروپوں میں شامل ہے۔
پاکستان میں کہاں موسم کیسا ہو گا؟ محکمہ موسمیات نے تفصیل جاری کر دی

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسم کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک جبکہ بالائی علاقوں میں جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بالائی خیبرپختونخوا، خطۂ پوٹھوہار، کشمیر اور گلگت بلتستان کے چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ 20 مارچ بروز جمعرات بھی ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا، تاہم بالائی خیبرپختونخوا، خطۂ پوٹھوہار اور کشمیر میں بعض مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، 21 مارچ سے ملک کے میدانی علاقوں میں دن کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ اسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، جبکہ دیر، سوات، مانسہرہ، پشاور، کوہاٹ، کرم، مالاکنڈ اور وزیرستان سمیت بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ پنجاب کے بالائی اور وسطی اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ گجرات، گوجرانوالہ، راولپنڈی، چکوال، جہلم اور میانوالی میں بارش کا امکان ہے۔ مری اور گلیات میں صبح کے وقت ہلکی بارش اور بونداباندی ہو سکتی ہے،سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور زیریں علاقوں میں گرم رہے گا۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہے گا، جبکہ شمالی علاقوں میں جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔ کشمیر کے چند مقامات پر بارش جبکہ گلگت بلتستان میں موسم خشک اور مطلع جزوی ابر آلود رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، ملک کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم خشک جبکہ پہاڑی علاقوں میں سردی برقرار رہی۔ سب سے کم درجہ حرارت لہہ میں منفی 7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ استور میں منفی 2 اور زیارت میں صفر ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام آباد میں کم سے کم 11 اور زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ، لاہور میں 17 سے 31، کراچی میں 21 سے 34، پشاور میں 11 سے 30، کوئٹہ میں 5 سے 24، گلگت میں 7 سے 21، مظفر آباد میں 9 سے 27، مری میں 5 سے 18، فیصل آباد میں 18 سے 31 اور ملتان میں 18 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں درجہ حرارت 4 سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
کراچی میں روڈ نیٹ ورک کی جاری تمام اسکیموں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے، وزیرِ بلدیات سندھ

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور روڈ نیٹ ورک کی تمام جاری اسکیموں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ کے ڈی اے کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے تحت کراچی کے تمام اضلاع میں جاری 136 ترقیاتی اسکیموں کا میں خود جلد موقع پر جاکر معائنہ بھی کروں گا اور وہاں جاری کام کی رفتار کا بھی جائزہ لوں گا۔ کراچی میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور روڈ نیٹ ورک کی تمام جاری اسکیموں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے، تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے ڈی اے کے تحت جن اسکیموں میں کوئی قانون پیچیدگیاں ہیں، محکمہ قانون سے اس پر مشاورت کی جائے اور ٹریفک انجنئیرنگ بیورو کی مدد سے کئی ایسی اسکیموں کو بھی مکمل کیا جائے جس سے شہر اور اندرون شہر سے آنے جانے والی ٹریفک کی روانی کو بہتر کیا جاسکے۔ وزیرِ بلدیات سندھ کا کہنا تھا کہ کے ڈی اے کے تحت رواں مالی سال کی 136 ترقیاتی اسکیموں میں سے جو 77 اسکیمیں یا تو مکمل ہوگئی ہیں یا اسی مالی سال میں مکمل ہونا ہیں ان کو فنڈز کی فراہمی فوری کی جائے گی۔ سعید غنی نے ڈی جی کے ڈی اے کو ہدایات دی کہ وہ اس حوالے سے ایک رپورٹ آئندہ 7 روز میں مرتب کردیں، تاکہ ان تمام اسکیموں پر عیدالفطر کے فوری بعد معائنہ کیا جاسکے۔ انہوں نے تمام موجود کے ڈی اے کے افسران کو ہدایات دی کہ یہ تمام ترقیاتی منصوبے عوامی مفاد کے لیے بنائے جاتے ہیں، اس لیے ان میں کسی قسم کی تاخیر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے شہر میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لئے ٹریفک سنگنلز اور روڈ ورک کے کاموں میں ٹریفک انجنئیرنگ بیورو سندھ کی معاونت لینے کی بھی ہدایات دی۔ واضح رہے کہ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سید خالد حیدر شاہ، اسپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ ٹاون پلانگ بخش علی مہر، ڈی جی کے ڈی اے الطاف گوہر مہر، اسپیشل سیکرٹری ٹیکنیکل غنی شیخ و دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر صوبائی وزیر سعید غنی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی کے ساتوں اضلاع میں رواں مالی سال کی اے ڈی پی کے تحت 136 میں سے 77 ایسی اسکیمیں ہیں جو یا تو مکمل یا اسی سال 30 جون تک مکمل کردی جائیں گی، جب کہ 51 اسکیموں پر کام آئندہ مالی سال تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جب کہ 8 ایسی اسکیمیں ہیں، جن پر قانونی معاملات زیر التوا ہیں۔ مزید پڑھیں: اسرائیل کے جنگ بندی معاہدہ توڑتے ہوئے غزہ پر حملے، مزید 400 معصوم افراد شہید اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی کی 5 مرکزی اسکیموں کے علاوہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں 29، ڈسٹرکٹ ایسٹ میں 19، ڈسٹرکٹ کیماڑی میں 6، ڈسٹرکٹ کورنگی میں 9، ڈسٹرکٹ ملیر میں 50، جب کہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ اور ڈسٹرکٹ ویسٹ میں نو اسکیموں پر کام جاری ہے۔ اجلاس میں موجود شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ ان اسکیموں پر اب تک مجموعی طور پر 63 فیصد رقم جاری کردی گئی ہے، جو 7442.930 ملین روپے ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے ہر ایک اسکیم پر تفصیلی طور پر رپورٹ طلب کی اور اس پر متعلقہ افسران سے معلومات حاصل کی۔
خیبر میں مدرسے کی دیوار گرنے سے چار بچے جاں بحق، متعدد زخمی

خیبر پختونخوا کے علاقے ضلع خیبر میں مدرسے کی دیوار گرنے سے چار بچے جاں بحق، جب کہ 9 زخمی ہوگئے۔ نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقہ مداخیل میں مدرسےکی پرانی دیوار گرگئی، جس کے ملبے تلے دب کر مدرسے میں زیر تعلیم 4 بچے جاں بحق اور 9 بچے زخمی ہوگئے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔
حسن نواز پر 52 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد، برطانوی حکومت نے ٹیکس نا دہندہ قرار دے دیا

برطانوی حکومت کے ریونیو اینڈ کسٹمز (ایچ ایم آر سی) نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کو ٹیکس نادہندہ قرار دے کر 52 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ عائد کر دیا۔ نجی نشریاتی ادارہ جیو نیوز کے مطابق برطانیہ کی حکومت نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر نادہندگان کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا ہےجس میں حسن نواز کو ‘ٹیکس ڈیفالٹر’ قرار دیا کیونکہ وہ 5 اپریل 2015 سے 6 اپریل 2016 کے درمیان 94 لاکھ پاؤنڈ ٹیکس ادا کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ویب سائٹ کے مطابق برطانیہ کی ٹیکس اتھارٹی نے سابق وزیر اعظم کے بیٹے پر 52 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ ڈیفالٹ کی مدت 6 اپریل 2015 سے 5 اپریل 2016 تک ہے۔ حسن نوازکے قانونی ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا کہ انھوں نے اسی مدت کے لیے تمام بقول ٹیکس ادا کر دیے ہیں لیکن ایچ ایم آر سی نے کئی سال بعد ٹائم بار کی مدت کے بعد ان سے مزید ٹیکسوں کے لیے کہا اور انھوں نے اختلاف کیا اور مزید ٹیکس ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ حسن نواز کا دیوالیہ پن اگلے مہینے اپریل 2025 میں بھیج دیا جائے گا۔ یہ بات گزشتہ سال کے آخر میں سامنے آئی تھی کہ حسن نواز کو لندن ہائی کورٹ نے برطانیہ کی حکومت کے ٹیکس اور محصولات کے محکمے کے ٹیکس اور ذمہ داری کے مقدمے میں دیوالیہ قرار دیا ہے۔ سرکاری یو کے گزٹ، جو کہ عوامی ریکارڈ رکھتا ہے، نے دیوالیہ ہونے کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فلیٹ 17 ایون فیلڈ ہاؤس، 118 پارک لین کے رہائشی حسن اور کمپنی کے ڈائریکٹر کو کیس نمبر 694 آف 2023 میں ہائی کورٹ میں دیوالیہ قرار دیا گیا تھا۔ 25 اگست 2023 کو دائر کیا گیا۔ دیوالیہ پن کا حکم 29 اپریل 2024 کو قرض دہندگان کی جانب سے عدم ادائیگی پر لائے گئے کیس پر جاری کیا گیا۔ دیوانی مقدمہ نواز کے خلاف محکمہ ریونیو اینڈ کسٹمز نے شروع کیا تھا، جس کی نمائندگی کور میکسویل نے کی تھی۔ برطانیہ کے قوانین کے مطابق، دیوالیہ پن کا حکم ذاتی دیوالیہ پن کے عمل کا حصہ ہے۔ یہ عدالت سے کسی فرد کو جاری کیا جاتا ہے، جس سے وہ دیوالیہ ہو جاتا ہے۔ دیوالیہ پن کے احکامات صرف لندن گزٹ میں شائع کیے جاتے ہیں جب دیوالیہ سروس سے موصول ہوتے ہیں۔ دیوالیہ ہونے والا ایک ڈائریکٹر کے طور پر کام نہیں کر سکتا یا کمپنی کے انتظام میں کسی بھی طرح سے اس وقت تک شامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دیوالیہ پن سے فارغ نہ ہو جائے جب تک کہ اس نے ڈائریکٹر کے طور پر جاری رہنے کی عدالت سے اجازت حاصل نہ کر لی ہو۔ وہ اب بھی برطانیہ میں متعدد کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں۔ نواز شریف تبصرہ کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ ان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ان کی قانونی ٹیم اس کیس کو دیکھ رہی ہے اور جلد ہی اس کا جواب دے گی۔
آئی پی ایل بہتر کیوں؟ پروٹیز کھلاڑی نے پی ایس ایل چھوڑنے کی وجہ بتا دی

جنوبی افریقی آل راؤنڈر کوربن بوش نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے قانونی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے دستبرداری کے فیصلے کی وضاحت کر دی۔ نجی نشریاتی ادارے جیو سپر کے مطابق بوش نے مالیاتی تحفظ اور طویل مدتی کیریئر کی ترقی کو اپنے فیصلے کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد پی ایس ایل کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ ممبئی انڈینز میں شمولیت ایک اسٹریٹجک فیصلہ تھا، کیونکہ آئی پی ایل میں فرنچائز کا غلبہ اور مختلف لیگز کے ساتھ اس کے روابط ان کے کیریئر کے لیے بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ کوربن بوش ابتدائی طور پر پی ایس ایل 10 میں پشاور زلمی کا حصہ تھے، لیکن بعد میں انہوں نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز ممبئی انڈینز کو جوائن کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر پی سی بی نے برہمی کا اظہار کیا اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ پی سی بی نے معاہدے کی خلاف ورزی پر بوش کے ایجنٹ کو نوٹس جاری کیا، جس کے جواب میں کرکٹر نے پیر کے روز اپنا مؤقف جمع کرایا۔ دوسری جانب کوربن بوش کی دستبرداری کے بعد پشاور زلمی نے آسٹریلیا کے مڈل آرڈر بیٹر مچل اوون کو اسکواڈ میں شامل کر لیا ہے، 23 سالہ اوون نے حالیہ بگ بیش لیگ میں ہوبارٹ ہریکینز کی پہلی ٹائٹل فتح میں اہم کردار ادا کیا اور سڈنی تھنڈر کے خلاف فائنل میں تیز ترین سنچری بنا کر شہرت حاصل کی تھی۔ پشاور زلمی نے سوشل میڈیا پر ایک متحرک پوسٹر جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بوش سپلیمنٹری ڈرافٹ پک PSL 10 کے لیے زلمی اسکواڈ میں شامل ہو رہے ہیں۔ مزید پڑھیں: ‘کرکٹرز اگر حلوہ پوری اور حلیم کھائیں گے تو کیسے کھیل پائیں گے’ وزیر کھیل سندھ یاد رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کا آغاز 11 اپریل کو ہوگا، جس میں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کا مقابلہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں دو مرتبہ کی فاتح لاہور قلندرز سے ہوگا۔ 6 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں 34 میچز کھیلے جائیں گے، جو 11 اپریل سے 18 مئی تک جاری رہے گا۔ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم 13 میچز کی میزبانی کرے گا، جن میں دو ایلیمینیٹر اور گرینڈ فائنل شامل ہوں گے، جب کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 11 میچز کی میزبانی کرے گا، جس میں 13 مئی کو پہلا کوالیفائر بھی شامل ہے۔ کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم اور ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں 5، 5 میچز کھیلے جائیں گے۔ مزید یہ کہ 8 اپریل کو پشاور میں ایک نمائشی میچ بھی شیڈول ہے، جس کی ٹیموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں تین ڈبل ہیڈرز ہوں گے، جن میں سے دو ہفتے کو جب کہ ایک لیبر ڈے (یکم مئی) کو کھیلا جائے گا۔
پاکستان ریلوے کا عید کے موقع پر پانچ اسپیشل ٹرینیں چلانے کا اعلان

پاکستان ریلوے نے عید کے موقع پر مسافروں کی سہولت کے لیے عید اسپیشل ٹرینوں کا شیڈول جاری کر دیا، جس کے مطابق عید پر 5 اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ پہلی عید اسپیشل ٹرین کراچی کینٹ اسٹیشن سے لاہور کے لیے 26 مارچ کو چلائی جائے گی، پہلی عید اسپیشل ٹرین دوپہر ایک بجے مسافروں کو لے کر روانہ ہوگی۔، جب کہ دوسری ٹرین 26 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہوگی۔ تیسری عید اسپیشل ٹرین کراچی سٹی اسٹیشن سے راولپنڈی کے لیے 27 مارچ کو چلائی جائے گی، یہ اسپیشل ٹرین کراچی سٹی سے مسافروں کو لے کر رات ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہوگی۔ چوتھی ٹرین 27 مارچ کو کراچی سے راولپنڈی براستہ فیصل آباد سرگودھا چلے گی۔ پانچویں عید اسپیشل ٹرین کراچی سے لاہور براستہ فیصل آباد شیخوپورہ چلے گی۔ واضح رہے محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں سال رمضان المبارک 29 روز کا ہوگا۔ جس کے باعث 31 مارچ کو عید ہونے کا قوی امکان ہے، جب کہ 30 مارچ کو شوال کا چاند نظر آئے گا۔ مزید پڑھیں: پاک افغان تجارتی گزرگاہ طورخم 25 دن بعد کھول دی گئی یاد رہے کہ ماضی میں بھی عید کے موقع پر اسپیشل ٹرینیں چلائی گئی ہیں، جس کی وجہ عید کے موقع پر مسافروں کو اپنے آبائی گھروں کی طرف روانہ ہونا ہے۔
جدید دور حاضر کی اہم سروس کرپٹو گرافی ، کیسے ہماری معلومات کوخفیہ رکھتی ہے ؟

کرپٹوگرافی ایک ایسا سائنسی اور ریاضیاتی طریقہ ہے جس کے ذریعے معلومات کو خفیہ اور محفوظ بنایا جاتا ہے تاکہ غیر متعلقہ افراد ان معلومات تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔ یہ تکنیک قدیم زمانے سے استعمال ہو رہی ہے، لیکن آج کے دور میں ڈیجیٹل دنیا میں کرپٹوگرافی کا استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، خاص طور پر آن لائن سیکیورٹی، بینکنگ، پاس ورڈز، اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن میں۔ کرپٹو گرافی کا استعمال صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ قدیم زمانے میں بادشاہ اور فوجی اپنے پیغامات کو محفوظ بنانے کے لیے خفیہ کوڈز استعمال کرتے تھے۔ مثال کے طور پر، سیزر سائفِرایک قدیم تکنیک تھی جس میں حروف تہجی کو کچھ پوزیشنز آگے یا پیچھے کر کے پیغام کو خفیہ بنایا جاتا تھا۔ کرپٹوگرافی آج کے ڈیجیٹل دور کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو ہماری آن لائن سیکیورٹی، پرائیویسی، اور ڈیٹا پروٹیکشن کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے بغیر انٹرنیٹ پر محفوظ لین دین اور کمیونیکیشن ممکن نہیں۔