پاک افغان تجارتی گزرگاہ طورخم 25 دن بعد کھول دی گئی

پاک افغان تجارتی گزرگاہ طور خم 25 دن بود کھول دی گئی۔ نجی نشریاتی ادارے جیو کے مطابق طورخم تجارتی گزرگاہ سے دوطرفہ تجارت شروع ہوگئی ہے اور تجارتی سامان لے کر کارگو گاڑیاں افغانستان میں داخل ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے بھی کارگو گاڑیاں پاکستان میں داخل ہونا شروع ہوچکی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم سرحدپیدل آمدورفت کے لیے دو روز بعد کھولی جائےگی۔ واضح رہےکہ پاکستان اور افغانستان کی تجارتی گزرگاہ طورخم آج 25 روز بعد کھولی گئی ہے۔
پیکا ایکٹ: سوشل میڈیا پر بم دھماکوں کی افواہیں پھیلانے والے 34 افراد پر مقدمہ درج

صوبہ سندھ کے شہر دادو میں بم دھماکوں کی افواہیں پھیلانے والے 34 افراد پر پولیس نے پیکا ایکٹ 2016 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ دادو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) امیر سعود مگسی کے مطابق ملزمان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ایکٹ 2016 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ دادو پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ نامعلوم شرپسند عناصر سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ معلومات شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کی جائے۔ ایس ایس پی امیر سعود مگسی نے بتایا کہ پولیس نے صرف 34 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، ان مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے آج رات 30 چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ یس ایس پی نے کہا کہ تصدیق کے بغیر جھوٹی خبریں شیئر کرنا بھی پیکا ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت جرم ہے، مزید کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام کو خط بھیج دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی میں پیکا ایکٹ کے تحت ٹک ٹاکر پر مقدمہ درج کیا گیا تھا،ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ حکومت اور عسکری اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز پوسٹ کرنے پر درج کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت درج کیا گیا جب کہ ملزم محمد ریان کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا۔
آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی پلیئرز رینکنگ جاری، بابراعظم کی ایک درجہ تنزلی

نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی T20 سیریز میں پاکستان کو نہ صرف مشکل حالات کا سامنا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹیم کے اہم کھلاڑی بابر اعظم کی آئی سی سیT20 بیٹنگ رینکنگ میں ایک درجہ نیچے گرنے کی خبر بھی پاکستان کرکٹ کی دنیا میں بحث کا باعث بن چکی ہے۔ نیوزی لینڈ کے کرکٹ ٹیم نے پانچ میچز کی سیریز میں پاکستان کے خلاف شاندار آغاز کیا ہے اور 2-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ ان دونوں میچز میں نیوزی لینڈ کے اوپنرز ٹم سیفرٹ اور فن ایلن نے پاکستان کے باؤلرز کے سامنے ایک تباہ کن آغاز فراہم کیا جس کے نتیجے میں ان دونوں کھلاڑیوں کی رینکنگ میں اہم تبدیلی آئی۔ ٹم سیفرٹ نے 44 اور 45 رنز کی اننگز کھیل کر بیٹنگ رینکنگ میں 20 پوائنٹس کی چھلانگ لگائی اور وہ اب مشترکہ طور پر 13ویں نمبر پر ہیں۔ دوسری طرف فن ایلن نے 29 اور 38 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر 8 درجہ ترقی حاصل کی اور وہ اب 18ویں نمبر پر ہیں۔ یہ سیریز پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی مشکل ہو گئی ہے کہ ان کے کپتان بابر اعظم کی رینکنگ میں ایک درجہ کمی آئی ہے۔ بابر اعظم جنہوں نے اپنی مسلسل عمدہ کارکردگی سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اب 8ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ ان کی یہ تنزلی اس وقت سامنے آئی جب انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف T20I سیریز کے لیے پاکستان کی اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کے باؤلنگ اٹیک نے بھی پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ جیکب ڈیفی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رینکنگ میں 23 درجے کی چھلانگ لگائی اور وہ اب 12ویں نمبر پر ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی شکست کا سامنا اس کے علاوہ پاکستان کے حارث راؤف نے بھی اپنی کارکردگی سے جیت کے امکانات بڑھائے اور وہ 4 درجے ترقی حاصل کر کے 26ویں نمبر پر پہنچ گئے۔ اس تمام تر پیشرفت کے دوران، ویسٹ انڈیز کے اسپنر ایکیل ہو سین تاحالT20 باؤلنگ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں جو کہ ان کی تسلسل کے ساتھ شاندار پرفارمنس کا غماز ہے۔ ایک اور اہم تبدیلی آئی سی سی کی او ڈی آئی رینکنگ میں ہوئی ہے جہاں نیدرلینڈ کے اسپنر ایریان ڈٹ نے اپنی کارکردگی کی بدولت 33ویں نمبر پر جگہ بنائی، جب کہ ان کے ساتھی کھلاڑی پال وان مییکیرین نے بھی شاندار پرفارمنس کے بعد چھ پوائنٹس کی ترقی حاصل کی اور 61ویں نمبر پر پہنچ گئے۔ پاکستان کے شاہین آفریدی 9ویں نمبر پر بدستور قائم ہیں۔ اب نیوزی لینڈ کو پاکستان کے خلاف باقی سیریز میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی ہے جبکہ پاکستان کو اپنی حکمت عملی کو بہتر کر کے اس سیریز میں واپسی کی امیدیں جتنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی کرکٹ میں تبدیلیاں اس بات کا غماز ہیں کہ ہر میچ ہر اننگز اور ہر کھلاڑی کی کارکردگی میں عالمی درجہ بندی کی دوڑ میں نہ صرف پاکستان بلکہ تمام ٹیموں کے لیے بڑھتے ہوئے چیلنجز ہیں۔ لہذا، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نیوزی لینڈ کی اس بہترین کارکردگی نے نہ صرف ان کے کھلاڑیوں کو کامیاب بنایا ہے بلکہ عالمی رینکنگ میں دلچسپی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر پاکستان کو اس سیریز میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنی ہے تو انہیں اپنے کھلاڑیوں کی بہتر کارکردگی اور حکمت عملی پر توجہ دینی ہوگی۔ مزید پڑھیں: سعودی عرب کی T20 لیگ کے خلاف انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا سخت موقف
چینی کی بڑھتی قیمتیں: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے تجاویز دے دیں

پاکستان میں چینی کی قیمت رمضان کے دوران 175 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 200 روپے تک بڑھ سکتی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ شوگر ملز کے مبینہ کارٹیل کو قرار دیا جا رہا ہے، جس پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے نظر رکھنی شروع کر دی ہے۔ حکومت نے پہلے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر غور نہیں کیا گیا۔ برآمدات کے بعد جب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہونے لگی، تو حکومت نے خام چینی درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس فیصلے سے مقامی ڈیلرز کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ عوام کو مہنگی چینی خریدنا پڑ سکتی ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافے، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ 2020 میں کی گئی ایک انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن قیمتوں کے تعین اور چینی کی سپلائی پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ اسی بنیاد پر 2021 میں کمیشن نے شوگر ملوں پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، تاہم ملرز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب تک جرمانہ وصول نہیں کیا جا سکا۔ کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کے کاروبار میں شفافیت لانے اور زیادہ مسابقت پیدا کرنے کے لیے مختلف تجاویز دی ہیں۔ ان میں چینی کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق طے کرنے دینا، گنے کی امدادی قیمت ختم کرنا اور شوگر ملوں کے قیام پر عائد پابندیاں ہٹانا شامل ہیں۔ اس وقت چینی کے مصنوعی بحران اور شوگر کارٹیل کے خلاف 127 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 24 مقدمات سپریم کورٹ، 25 لاہور ہائی کورٹ، 6 سندھ ہائی کورٹ اور 72 مسابقتی اپیلٹ ٹریبونل میں ہیں۔ حکومت نے ان مقدمات کے جلد حل کے لیے اپیلٹ ٹریبونل میں نئے چیئرمین اور ممبران تعینات کر دیے ہیں۔ اگر چینی کی قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا اور کارٹیل کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی، تو عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت اور مسابقتی کمیشن اس مسئلے پر توجہ دے رہے ہیں، لیکن اس کا حل سخت پالیسیوں پر عمل درآمد سے ممکن ہوگا۔
عیدالفطر کے موقع پر حکومت کی جانب سے تین روزہ تعطیلات کا اعلان

پاکستان میں عیدالفطر کی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے اور حکومتِ پاکستان نے بھی عید کے موقع پر تین روزہ تعطیلات کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔ وفاقی حکومت نے بدھ کے روز ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں عیدالفطر کی تعطیلات کا دورانیہ 31 مارچ سے 2 اپریل 2025 تک مقرر کیا گیا ہے۔ ان تعطیلات کا مقصد شہریوں کو عید کی خوشیوں کو بھرپور انداز میں منانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم نے ان دنوں کو عیدالفطر کی خوشی میں عوامی تعطیلات قرار دے دیا ہے جس سے شہریوں کو عید کے تین دن آرام سے گزارنے کا موقع ملے گا۔ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ عوام کی فلاح کے لیے کیا گیا ہے تاکہ لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔ دوسری جانب، مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے عید کے چاند کی رویت کے لیے 30 مارچ 2025 کو شام کے وقت اجلاس بلایا ہے۔ یہ اجلاس وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی میں منعقد ہوگا جہاں علمائے کرام، ماہرینِ موسمیات، اور دیگر متعلقہ افراد موجود ہوں گے۔ اس اجلاس میں رمضان کے 29ویں روز چاند کی رویت کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد عیدالفطر کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کی جانب سے فروری 2025 میں جاری کیے گئے آسمانی مطالعے کے مطابق 30 مارچ کو شوال کا چاند نظر آنے کا امکان ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عیدالفطر 31 مارچ 2025 کو ہوگی۔ یہ تمام اقدامات عید کے موقع پر عوامی خوشی کو یقینی بنانے اور شوال کے چاند کے اعلان کی تصدیق کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک بھر میں یکم شوال کی عید کی تاریخ کا صحیح طور پر تعین کیا جا سکے۔ یہ سب تفصیلات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ عید کی خوشیاں بہت جلد پاکستان میں سجی ہوں گی۔ مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا محنت کشوں کے لیے ای-مزدور کارڈ متعارف کروانے کا فیصلہ
خیبر پختونخوا حکومت کا محنت کشوں کے لیے ای-مزدور کارڈ متعارف کروانے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے ای-مزدور کارڈ کا تعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کارڈ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس وزیر محنت فضل شکور خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری محنت، ای ایس ایس آئی کے نائب کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران وزیر محنت کو ای-مزدور کارڈ کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے اس کارڈ میں محنت کشوں کی خدمت میں شامل ہونے کی تاریخ، شفٹنگ کی تفصیلات اور دیگر اہم معلومات درج ہوں گی۔ اس منصوبے کا مقصد محنت کشوں کی خدمات کو جدید طریقے سے ریکارڈ کرنا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ وزیر محنت فضل شکور خان نے متعلقہ حکام کو ای-مزدور کارڈ کی تیز رفتار لانچ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ میں اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محنت کے شعبے میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل تیز ہو رہا ہے اور یہ تبدیلی محکمے کی کارکردگی اور شفافیت میں بہتری لائے گی۔ وزیر محنت نے اس بات پر زور دیا کہ ای-مزدور کارڈ کی کامیاب لانچ نہ صرف محنت کشوں کی زندگی میں سہولتیں لائے گا، بلکہ اس سے محکمہ محنت کی کارروائیوں میں شفافیت بھی بڑھے گی۔ اس انقلابی اقدام سے خیبر پختونخوا کے محنت کشوں کے حقوق میں کے لیے ایک اہم قدم ہے جو ان کے لیے تحفظ اور سہولت کی نئی راہیں کھولے گا۔ ای-مزدور کارڈ کا یہ اقدام نہ صرف محنت کشوں کی فلاح کے لئے اہم ہے بلکہ اس سے حکومت کی طرف سے محنت کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ مزید پڑھیں: پرانے نوٹوں کی افواہ جھوٹی، اسٹیٹ بنک نے عید کے لیے نئے نوٹ جاری کر دیے
خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا ‘کیش لیس’ صوبہ بننے کو تیار

خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا کیش لیس صوبہ بننے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام صوبے میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ “کیش لیس خیبر پختونخوا انیشیٹو” کے تحت صوبے میں تمام مالی لین دین کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے ممکن بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر، اس نظام کو تمام کاروباری اداروں کے لیے لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ نقد لین دین میں کمی آئے اور مالیاتی امور کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت، موبائل والیٹ فراہم کرنے والوں کے ساتھ شراکت داری قائم کی جائے گی، اور ضلعی سطح پر ایک مضبوط نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ تمام کاروبار، بشمول دکانیں، پبلک ٹرانسپورٹ، کھوکھے، اور اسٹریٹ وینڈرز، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو اپنائیں۔ اس کے لیے کاروباروں کو کیو آر کوڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ صارفین آسانی سے ادائیگی کر سکیں۔ یہ اقدام مالی بدعنوانی اور دھوکہ دہی کو کم کرنے، ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانے، اور کاروباری ماحول کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے گا۔ اس سے عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھے گی اور ڈیجیٹل کاروبار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ مزید برآں، ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے گا جو ہنگامی حالات میں مخصوص طبقات کو مالی امداد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ محکمہ خزانہ اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کرے گا: موبائل والیٹ فراہم کرنے والوں کا انتخاب خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق کیا جائے گا یا مفاہمت کی یادداشت کے تحت معاہدے کیے جائیں گے۔ موبائل والیٹ سروس فراہم کرنے والے کاروباری اداروں کی رجسٹریشن کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم متعارف کروائیں گے، جس سے کاروباری افراد آسانی سے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کا حصہ بن سکیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ایک تعمیل مہم چلائی جائے گی، جس کے تحت تمام کاروباروں کو کیو آر کوڈ آویزاں کرنے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ لوگ نقد رقم کے بغیر ادائیگیاں کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مربوط کوششیں کریں، تاکہ خیبرپختونخوا پاکستان کا پہلا کیش لیس صوبہ بن کر ایک نئی مثال قائم کرے۔
مفت فائل کنورٹرز ڈیٹا چوری اور وائرس پھیلا سکتے ہیں’ ایف بی آئی’

آج کل، مفت آن لائن فائل کنورٹرز ایک عام سہولت بن چکے ہیں جن کا استعمال لوگ مختلف فائل فارمیٹس جیسے M4A سے MP3 تبدیل کرنے یا .doc کو .pdf میں تبدیل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ تاہم، اب ایف بی آئی نے ان مفید نظر آنے والے ٹولز کے بارے میں ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ کنورٹرز آپ کے کمپیوٹر کو وائرس اور مالویئر سے متاثر کر سکتے ہیں۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق مجرم ان کنورٹرز کا فائدہ اٹھا کر ان کے ذریعے کمپیوٹرز میں میلویئر منتقل کر رہے ہیں۔ ان ٹولز کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین فائل فارمیٹس میں تبدیلی کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مالویئر بھی آپ کے کمپیوٹر میں داخل ہوتا ہے۔ اس مالویئر کا مقصد حساس ذاتی معلومات چرانا ہے جیسے آپ کے نام، سوشل سیکیورٹی نمبر، بینکنگ کی تفصیلات، اور کرپٹو کرنسی کی معلومات شامل ہیں۔ یہ سب کچھ صارف کی اجازت کے بغیر ہوتا ہے جس سے وہ شناختی چوری اور مالی دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایف بی آئی کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ مفت فائل کنورٹرز آپ کے کمپیوٹر کو رینسم ویئر سے متاثر کر سکتے ہیں۔ رینسم ویئر ایک ایسا مالویئر ہوتا ہے جو آپ کی تمام ذاتی معلومات کو لاک کر دیتا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے تاوان طلب کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو نہ صرف اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اگرچہ ایف بی آئی نے ان مخصوص کنورٹرز کا نام نہیں لیا جو کمپیوٹرز کو متاثر کر رہے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ صرف معتبر اور قابل اعتماد ذرائع سے ہی فائل کنورٹ کرنے کے ٹولز استعمال کیے جائیں۔ اس کے علاوہ صارفین کو چاہیے کہ وہ مفت اور مشتبہ ٹولز سے گریز کریں اور اگر صارفین فائل کنورٹ کرنے کے عادی ہیں تو کسی تصدیق شدہ اور معروف کنورٹر میں سرمایہ کاری کرنا بہتر ہوگا۔ ایف بی آئی ڈینور کے اسپیشل ایجنٹ مارک مچالیک نے کہا کہ “ان مجرموں کو شکست دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ان کے جال میں نہ پھنسیں۔ اگر آپ یا آپ کے جاننے والے اس اسکیم کا شکار ہو چکے ہیں تو ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ رپورٹ درج کرائیں اور اپنے اثاثوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔” یہ خبر نہ صرف ایک انتباہ ہے بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ہونے والے فراڈ سے بچنے کے لیے ہم سب کو محتاط رہنا ضروری ہے۔ مزید پڑھیں: ڈیجیٹل کیش: انڈیا کی ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ بڑھتا سائبر فراڈ، معیشت کو کتنا بڑا خطرہ؟
کیا عید پر نئے نوٹ دستیاب ہوں گے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کی قلت ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ وہ عید الفطر کی تیاری کے لیے کمرشل بینکوں کو تازہ نوٹ فراہم کرنے کے معمول کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسٹیٹ بینک کے سرکاری بیان کے مطابق، ملک بھر میں 17,000 کمرشل بینکوں کی برانچوں کو 27 ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ عید سے پہلے اپنے قریبی بینکوں سے نئے نوٹ حاصل کر سکیں۔ مرکزی بینک نے واضح کیا کہ اس نظام کے تحت ہر شخص کو تازہ نوٹوں تک آسانی سے رسائی دی جا رہی ہے تاکہ وہ تہوار کی خوشیوں کو بہتر طریقے سے منا سکیں۔ اسٹیٹ بینک نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عید کے دوران اے ٹی ایمز میں اعلیٰ معیار کے کرنسی نوٹ موجود ہوں گے اور ان کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ کسی بھی وقت اے ٹی ایم سے رقم نکال کر نئے نوٹ حاصل کر سکیں گے، اور اس دوران کسی بھی رکاوٹ سے بچنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور آسان بنانے کے لیے کیش مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ یہ ٹیمیں مختلف بینکوں کی برانچوں کا دورہ کر کے اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ نئے کرنسی نوٹ مناسب طریقے سے عوام میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا مشکلات سے بچنا ہے تاکہ ہر فرد کو عید سے پہلے بآسانی نئے نوٹ مل سکیں۔ یہ اعلان ان افواہوں کے جواب میں دیا گیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ملک میں نئے نوٹوں کی قلت ہو گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عید کے موقع پر عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر یقین کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ خبر پر بھروسہ نہ کریں۔
سابق امریکی صدر کینیڈی کے قتل کے بارے 80،000 صفحات کے ‘خفیہ ریکارڈز’ شائع

منگل کے روز ٹرمپ انتظامیہ نے صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں خفیہ ریکارڈ جاری کیے، جو پہلے عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ کینیڈی کے قتل کے بارے میں پہلے بھی بہت سی فائلیں منظر عام پر آ چکی ہیں، خاص طور پر بائیڈن انتظامیہ کے دوران جب تیرہ ہزار سے زائد دستاویزات جاری کی گئیں۔ تاہم، اس بار جاری کی گئی فائلوں میں وہ ریکارڈ بھی شامل ہیں جن میں پہلے کچھ تبدیلیاں یا ترمیم کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ لوگ کئی دہائیوں سے ان ریکارڈز کا انتظار کر رہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد، انہوں نے ایک حکم جاری کیا تھا جس میں کینیڈی، ان کے بھائی رابرٹ ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق ہزاروں فائلوں کو عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ دستاویزات منگل کی شام نیشنل آرکائیوز کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات سے کوئی ایسا بڑا راز سامنے آنے کا امکان نہیں جو کینیڈی کے قتل کے بارے میں عام نظریے کو بدل سکے۔ ٹام سمولوک، جو 1990 کی دہائی میں ایک سرکاری تحقیقاتی بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھے، نے کہا کہ جو ریکارڈ انہوں نے دیکھے ہیں ان میں ایسا کچھ نہیں جو یہ ثابت کرے کہ قتل کے پیچھے کوئی خفیہ سازش تھی۔ ان کے مطابق، سرکاری تحقیقات کے نتائج آج بھی درست ہیں کہ لی ہاروی اوسوالڈ نامی ایک شخص اکیلے ہی اس قتل کا ذمہ دار تھا۔ نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کہا کہ تقریباً 80,000 صفحات پر مشتمل یہ ریکارڈ بغیر کسی رد و بدل کے شائع کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، کچھ دستاویزات اب بھی قانونی وجوہات کی بنا پر عام نہیں کی جا سکتیں۔ نیشنل آرکائیوز اور محکمہ انصاف ان باقی فائلوں کو جاری کرنے کے طریقے پر کام کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ورجینیا کے پروفیسر لیری سباتو، جو کینیڈی کے قتل پر تحقیق کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ لوگ ان فائلوں سے بہت کچھ جان سکیں گے، مگر جو افراد کسی بڑی سازش کے بے نقاب ہونے کی امید کر رہے ہیں، وہ مایوس ہو سکتے ہیں۔ کینیڈی کے قتل کے بارے میں ہمیشہ سے مختلف سازشی نظریات موجود رہے ہیں، جن میں سے کچھ نظریات ٹرمپ نے بھی دہرائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک تحقیقاتی بورڈ بنایا گیا تھا تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سی معلومات عوام کے لیے جاری کی جا سکتی ہیں۔ سمولوک نے کہا کہ وہ تمام ریکارڈز نہیں دیکھ سکے جو ممکنہ طور پر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، ایف بی آئی نے حال ہی میں ٹرمپ کے جاری کردہ حکم کے بعد نئی دستاویزات دریافت کی ہیں۔ کچھ دیگر ایجنسیوں کے پاس بھی ایسی معلومات ہو سکتی ہیں جو ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال نیشنل آرکائیوز نے اعلان کیا تھا کہ کینیڈی کے قتل سے متعلق 99 فیصد فائلیں اب عوام کے لیے دستیاب ہیں۔ بعد میں صدر بائیڈن نے تصدیق کی کہ جو بھی معلومات جاری کرنے کے قابل تھیں، وہ شائع کر دی گئی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں کئی صدور، بشمول ٹرمپ، ان تمام فائلوں کو جاری کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں، مگر اب بھی سی آئی اے، پینٹاگون اور محکمہ خارجہ کے پاس کچھ دستاویزات موجود ہیں جنہیں خفیہ رکھا گیا ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی معلومات کو چھپائے رکھنا چاہتے ہیں جو اب بھی زندہ افراد یا قومی سلامتی کے طریقوں سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران سیکیورٹی اداروں کی درخواست پر کچھ ریکارڈ جاری نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اب وہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کر رہے ہیں کہ وہ باقی تمام فائلوں کو منظر عام پر لے آئیں گے۔