اپریل 4, 2025 7:30 صبح

English / Urdu

مسک کو چین سے متعلق امریکی جنگی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی، امریکی میڈیا کا دعویٰ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر ایلون مسک نے  پینٹاگون کا دورہ کیا، جہاں انہیں دی جانے والی بریفنگز پر شدید بحث چھڑ گئی ، متعدد امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ انہیں چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکہ کے منصوبوں کا جائزہ دیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین کا ذکر تک نہیں ہوگا، نہ ہی اس پر کوئی بات چیت کی جائے گی۔ خود ایلون مسک نے ان اطلاعات کو بدنیتی پر مبنی جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے ان اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، جنہوں نے مبینہ طور پر یہ معلومات نیویارک ٹائمز کو فراہم کی تھیں۔ تاہم، یہ دورہ غیرمعمولی رسائی کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او مسک کی کمپنیاں امریکی دفاعی اداروں کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے رکھتی ہیں۔ ایلون مسک  جب امریکی وزیر دفاع کے دفتر سے روانہ ہو رہے تھے، تو صحافیوں نے ان سے ملاقات کے بارے میں دریافت کیا تو مسک نے جواب دیا کہ یہ ہمیشہ ایک شاندار ملاقات ہوتی ہے، میں پہلے بھی یہاں آ چکا ہوں۔ اس ملاقات پر عوامی سطح پر ہونے والی بحث کا آغاز نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ سے ہوا، جس میں کہا گیا کہ مسک کو اس دورے کے دوران چین سے متعلق امریکی جنگی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔ تاہم، این بی سی نیوز اور پولیٹیکو نے بعد میں رپورٹ کیا کہ یہ ملاقات صرف غیر خفیہ معلومات پر مشتمل ہوگی۔ ایک نامعلوم امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ بریفنگ میں کئی موضوعات پر گفتگو شامل تھی، جن میں چین بھی شامل تھا۔ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی خبر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک ٹائمز نے غلط رپورٹنگ کی کہ ،ایلون مسک کل پینٹاگون جا رہے ہیں تاکہ چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے منصوبے پر بریفنگ لیں۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے؟ چین کا ذکر تک نہیں ہوگا۔ یہ بدنام میڈیا جھوٹ گھڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے بھی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کی تردید کی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ کسی خفیہ چین جنگی منصوبے کے بارے میں ملاقات نہیں ہے۔ یہ ایک غیر رسمی ملاقات ہے جس میں جدت، استعداد کار اور بہتر پیداوار کے حوالے سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ جب صحافیوں نے ٹرمپ سے ملاقات کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ ممکنہ جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر ایسا ہوا تو ہم اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ البتہ، میں یہ منصوبہ کسی کو دکھانا نہیں چاہوں گا۔ انہوں نے ایلون مسک کے دورے پر خدشات کا اظہار بھی کیا، جس سے ممکنہ مفادات کے تصادم پر سوالات اٹھنے لگے، ٹرمپ نے کہا کہ آپ کسی کاروباری شخص کو یہ منصوبہ نہیں دکھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایلون کے چین میں کاروباری مفادات ہیں، اور وہ شاید اس حوالے سے دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

رمضان المبارک کےبا برکت ایام  میں اعتکاف : سینکڑوں متعکفین نے اللہ کے گھر میں ڈیرے ڈال لیے

رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں اعتکاف کا روح پرور سلسلہ جاری ہے، ہر سال سینکڑوں معتکفین دنیاوی مصروفیات سے کٹ کر عبادت و ریاضت میں مشغول ہوتے ہیں، اور سکون قلب کے متلاشی اللہ کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں۔ منصورہ  مرکزی مسجد میں اعتکاف پر بیٹھنے والے ایک نوجوان نے پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ اعتکاف پر بیٹھنا سنت ہے ، ہمارے لیے خوش نصیبی  کی بات ہےکہ ہمیں اس سال موقع ملا۔ ہم اس اعتکاف پر اللہ کی بارگاہ میں عبادت کریں گے۔ انتظامیہ نے پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال 150 سے 200  معتفکین مسجد میں بیٹھے گے اور ہماری طرف  سےسحری اورافطاری کا مکمل بندوبست کیا جاتا ہے، ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔

نئی نہریں، پرانا تنازع: گرین پاکستان انیشیٹو کی حقیقت کیا ہے؟

‘گرین پاکستان انیشیٹو’ جس کا مقصد ملک میں جدید زرعی فارمنگ کو فروغ دینا اور بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانا ہے، آج ایک بڑے تنازعے کا شکار ہو چکا ہے۔ حالیہ کچھ مہینوں سے گرین پاکستان انیشیٹو اور سندھ سے نکالی جانے والی متنازعہ نہروں کا مسئلہ شدت اختیار کرچکا ہے، سندھی عوام اور حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے دریائے سندھ سے نکالی جا نے والی نہروں پر شدید مخالفت کی جارہی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ وہ پیپلز پارٹی جو کبھی اس منصوبے کے حق میں تھی اب مخالف کیوں؟ آخر یہ گرین پاکستان منصوبہ ہے کیا؟ یہ بات ہے جون 2023 کی جب حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) قائم کی۔ جس میں متعلقہ حکومتی اداروں کے علاوہ فوج کے سربراہان کو بھی شامل کیا گیا۔ اس کے تحت ‘گرین پاکستان انیشیٹو’ کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد جدید زراعت کو فروغ دینا اور ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا تھا۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت چولستان، تھل اور دیگر بنجر علاقوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ، جن میں 211 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی چولستان کنال بھی شامل ہے۔ یہ 176 کلومیٹر طویل نہر سلیمانکی ہیڈورکس سے فورٹ عباس تک تعمیر کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ دریائے ستلج سے پانی لے گی، نہ کہ دریائے سندھ سے، اس لیے سندھ کے پانی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مگر دریائے ستلج تو خود پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے ، کیسے ممکن ہے کہ وہ چولستان کی صحرائی زمین کے لیے پانی مہیا کرے؟ سندھی عوام کی جانب سے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بنجر زمین کو آباد کرنے کے اس منصوبے سے ہماری سرسبز زمینیں بنجر ہو جائیں گی، یہ کون سی عقل مندی ہے۔ پہلے ہی پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث اہم فصلوں کی پیداوار میں غیر معمولی کمی ہو رہی ہے۔” یہ کہنا ہے ایوانِ زراعت سندھ کے جنرل سیکریٹری زاہد بھرگڑی کا جن کی فصل کا دارومدار نہری پانی پر ہے جو اُن کے بقول ہر گزرتے سال کے ساتھ کم ہو رہا ہے۔ گرین پاکستان انیشٹو تو زراعت کو جدید اور کم خرچے میں زیادہ پیداوار کا منصوبہ ہے، پھر جنرل سیکرٹری ایوانِ زراعت سندھ نے ایسا کیوں کہا کہ اس منصوبے سے زمینیں بنجر ہو جائیں گی؟ پاکستان پیپلز پارٹی، جو کبھی اس منصوبے کی حامی تھی، اب اس کی سخت مخالف بن چکی ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دسمبر 2024 میں دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے حکومتی فیصلے کو یکطرفہ اور متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے کہ وہ ایسے فیصلے کریں جو متنازع ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ کالا باغ ڈیم کی طرح یہ فیصلہ بھی یکطرفہ ہے۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے بھی دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے فیصلے کو ارسا ایکٹ اور 1991ء کے پانی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایسے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے سی سی آئی کا اجلاس طلب نہ کرنا آئینی خلاف ورزی ہے۔ مگر صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اس پر واضح طور پر کوئی بیان نہیں دیا گیا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پردریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کی یکطرفہ تجویز کی بطور صدر میں حمایت نہیں کر سکتا۔ حکومت اس موجودہ تجویز کو ترک کرے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل اور پائیدار حل نکالا جاسکے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 1950 کی دہائی میں 5000 کیوبک میٹر تھی، جو 2018 تک 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر مزید پانی چولستان کی طرف موڑا گیا، تو سندھ کی زراعت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد جدید کارپوریٹ فارمنگ کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کی مدد کرنا ہے، جو پاکستان کے زرعی شعبے کا 95 فیصد ہیں۔ اب تک 0.9 ملین ایکڑ اراضی الاٹ کی جا چکی ہے، جس میں پنجاب میں 811,619 ایکڑ، سندھ میں 52,713 ایکڑ، بلوچستان میں 47,606 اور خیبرپختونخوا میں 74,140 ایکڑ اراضی شامل ہے۔ چولستان میں کارپوریٹ فارمنگ شروع ہو چکی ہے اور اب تک دو لاکھ ایکڑ اراضی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ منصوبہ چھوٹے کاشتکاروں کے مفاد کے لیے بنایا گیا ہے؟ پیپلز پارٹی کے اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ عوامی فکر ہے یا پھر کوئی سیاسی چال اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

پاکستان ریلوے کا عیدالفطر کے موقع پر کرایوں میں کمی کا اعلان، کرایا کتنا ہوگا؟

پاکستان ریلوے نے عیدالفطر پر مسافروں کی سہولت کے لیے کرایوں میں رعایت دینے کا اعلان کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نجی نشریاتی ادارے ہم نیوز کے مطابق پاکستان ریلوے نے عیدلفطر کے موقع پر کرایوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق اس بار عیدالفطر پر کرایوں میں 20 فیصد رعایت دی جائے گی۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ تمام میل، ایکسپریس اور انٹر سٹی ٹرینوں پر خصوصی رعایت ہوگی، کرایوں پر خصوصی رعایت صرف عیدالفطر کے تینوں روز تک ہی ہوگی۔ اس کے علاوہ 20 فیصد کرایوں میں کمی کا اطلاق ایڈوانس بکنگ پر بھی ہوگا، تاہم عید اسپیشل ٹرینوں پر نہیں ہوگا، پاکستان ریلوے نے کرایوں میں کمی کے لیے تمام بکنگ دفاتر کو ہدایت کر دی ہے۔ مزید پڑھیں: پاکستان ریلوے کا عید کے موقع پر پانچ اسپیشل ٹرینیں چلانے کا اعلان واضح رہے کہ پاکستان ریلوے نے عید کے موقع پر مسافروں کی سہولت کے لیے عید اسپیشل ٹرینوں کا شیڈول جاری کیا ہے، جس کے مطابق عید پر 5 اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ پہلی عید اسپیشل ٹرین کراچی کینٹ اسٹیشن سے لاہور کے لیے 26 مارچ کو چلائی جائے گی، پہلی عید اسپیشل ٹرین دوپہر ایک بجے مسافروں کو لے کر روانہ ہوگی۔، جب کہ دوسری ٹرین 26 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہوگی۔ تیسری عید اسپیشل ٹرین کراچی سٹی اسٹیشن سے راولپنڈی کے لیے 27 مارچ کو چلائی جائے گی، یہ اسپیشل ٹرین کراچی سٹی سے مسافروں کو لے کر رات ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہوگی۔ چوتھی ٹرین 27 مارچ کو کراچی سے راولپنڈی براستہ فیصل آباد سرگودھا جائے گی، جب کہ پانچویں عید اسپیشل ٹرین کراچی سے لاہور براستہ فیصل آباد شیخوپورہ چلائی جائے گی۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کا تحفظ : حکومت پنجاب کا سرسبز مستقبل کی جانب سفر

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے تحت محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے عالمی یوم جنگلات ہرسال 21مارچ کو منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 21 دسمبر 2012 کو ایک قرارداد منظور ہوئی۔جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہرسال 21 مارچ کو انٹرنیشنل فاریسٹ ڈے منایا جائے گا۔ قرارداد کے ذریعے تمام رکن ممالک کو پابند کیا گیا کہ وہ جنگلات اور خالی میدانوں میں پودے لگانے کی منظم مہم چلائیں ۔ اس دن کو منانے کا مقصد جنگلات کی اہمیت اجاگر کرنا اور ان کی حفاظت کے لیے عالمی سطح عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے ۔ رواں سال یہ دن خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے جنگلات کے اہم کردار کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 5ارب سے زائد افراد خوراک، ادویات اور روزگار کے لیے جنگلات اوراس کی مصنوعات استعمال کررہےہیں۔۔لیکن ہر سال 70 ملین ہیکٹر جنگلات جل کر راکھ جبکہ 10 ملین ہیکٹر جنگلات کو غیر قانونی کٹاو کا سامنا ہے۔ محکمہ جنگلات پنجاب کی شجر کاری مہم کو اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (UNFAO) نے باضابطہ تسلیم کر لیا،  پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ UNFAO نے جنگلات کے عالمی دن کی مہم میں محکمہ جنگلات پنجاب کو آفیشل لوگو اور بینرز استعمال کرنے کی اجازت دی، جبکہ اپنی ویب سائٹ پر 14 مقامات پر جاری شجر کاری مہم کی تفصیلات بھی شائع کر دی ہیں۔ محکمہ جنگلات پنجاب، پاکستان کے قدرتی وسائل کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور عوام سے اپیل کی کہ جنگلات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی بقا کے لیے اپنی آواز بلند کریں محکمہ جنگلات پنجاب 1.6 ملین ایکڑ پر پھیلے جنگلات کی نگرانی کرتاآ رہا ہے ۔1864سے محکمہ روایتی طریقوں سے سرگرمیاں سرانجام دے رہا تھا جس میں کئی سالوں تک کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ تاہم محکمے نے جی آئی ایس پر مبنی ٹیکنالوجی یعنی ریموٹ سینسنگ ، لائیڈار اورہائی ریزولوشن میپنگ کی مددسے عملی اقدامات اٹھائے۔ جن کی مدد سے جنگلات کی حفاظت کیلئے شب و روز کام ہورہا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے تحت محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جو انقلاب کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ سیٹلائیٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی سے فاریسٹ چینج ڈیٹیکشن یعنی فاریسٹ کور میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ٹیکنالوجی  کو بروئے کارلاتے ہوئےبطور پائلٹ اسٹڈی  مری کے پچاس ہزار ایکڑ جنگلات کی سات سینٹی میٹر ریزولوشن پرڈرون میپنگ اور تھری ڈی ماڈلنگ سمیت دنیا کے سب سے بڑے انسانی ہاتھ سےلگائے گئے جنگل چھانگا مانگا کی ہائی ریزولوشن تھری ڈی میپنگ مکمل کرلی گئی ہے۔ جس سے چھانگا مانگا کی ریگولر مانیٹرنگ کامیابی سے جاری ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی ناجائزتجاوزات کی نشاندہی اور نیچرل ریسورس مینجمنٹ کیلئے بھی استعمال ہورہی ہے۔ پائلٹ اسٹدی کی کامیابی کے بعد ؂ اسکا دائرہ کار پنجاب بھرکے جنگلات تک پھیلایا جا رہا ہے تاکہ  قومی قیمتی ورثے کی حفاظت اور درختوں کی ہیلتھ مانیٹرنگ پرنظر رکھی جاسکے ۔ جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کیلئے ملٹی سپیکٹرل ، ہائیپر سپیکٹرل اور تھرمل سینسرکی مدد سےدور دراز علاقوں سے ایسی اہم معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں جنہیں عام انسانی آنکھ سے دیکھنا مشکل ہے۔ محکمہ جنگلات نے ایک صدی پرانے ریکارڈ کی ڈیجیٹل فاریسٹ انوینٹری بنانے کی جانب بھی قدم بڑھایا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے ہائی ریزولوشن امیجز کے ذریعے کمپارٹمنٹ لیول فاریسٹ میپنگ کی جارہی ہے۔ جس سے جنگلات کی حدود کا تعین کیاجارہا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کی مددسے ڈینسٹی میئرمنٹ کی جارہی ہے اور درختوں کی اسپیشز کا ڈیجیٹل ریکارڈ اکٹھا کیا جارہاہے انسپیکشن ریجیم سسٹم کےتحت ایک موبائل ایپلیکیشن لانچ کی گئی ہےجس سے روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ میں ڈیوٹی پر موجود سٹاف کی انسپیکشن ہورہی ہے۔اس اپلیکشین کو ہرآفیسر کی پرفارمنس ایویلوئیشن رپورٹ کے ساتھ لنک کردیا گیا ہے ۔ محکمہ جنگلات جلد ہی ایک ڈیجیٹل سینٹرلائزڈ سسٹم لانچ کرنے جارہا ہے ۔ جس کے ذریعے ڈویلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ بجٹ کی یوٹیلائزیشن اور مانیٹرنگ ہوگی دنیا بھر میں کاربن کریڈٹ اور کاربن مارکیٹنگ پرانویسٹمنٹ جاری ہےجس کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لائیڈار ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کے ذریعےدرختوں کا تنا کاٹے بغیربائیو ماس ایسٹی میشن  کی جا رہی ہے ۔اس سلسلے میں محکمہ جنگلات نے چھانگا مانگا جنگل کی پائلٹ اسٹڈی مکمل کرلی ہے جس کےنتائج اطمینان بخش ہیں ہرسال پنجاب کے جنگلات میں لگنے والی آگ، جنگلات میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی ، جنگلات کی زمین پر غیر قانونی قبضہ جنگلات اور جنگلی حیات کے مسکن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ راولپنڈی اور مری میں جنگلات کی آگ تباہی کا سبب ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ایک ارلی وارننگ اینڈ ڈی ٹیکشن سسٹم پر کام جاری ہے اور جلد ہی اس کو لانچ کیا جائے گا ۔اس وارننگ سسٹم سےجنگلات کی آگ کی بروقت نشاندہی ہوسکے گی ۔ وائلڈ فائر ٹریک کرنے، آگ پر بروقت قابو پانے اور اس کا پھیلاؤروکنے میں مدد ملے گی ۔ سینٹلائزڈ کنٹرول روم وائلڈ فائر کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ اور ارلی ڈیٹیکشن وارننگ الرٹ جاری کرے گا ۔جس سے جنگلات میں لگنے والی آگ کی شرح میں کمی لائی جائے گی۔ جنگلات سے متعلقہ  کسی بھی ہنگامی اور ناگہانی صورتحال سے بروقت نمٹنے کیلئے محکمہ جنگلات پنجاب نے ہیلپ لائن نمبر 1084 کا آغاز کردیا ہے ۔ ہیلپ لائن  پر غیرقانونی تجاوزات ،قبضےاور درختوں کی کٹائی کی نشاندہی یا کسی بھی شکایت کی صورت میں بروقت اطلاع دی جاسکتی ہے ۔ایمرجنسی کالزموصول ہونے پر محکمہ جنگلات شکایت پر فوری کارروائی کرے گا حکومت پنجاب کا یقین ہے کہ  جنگلات سموگ کے خلاف حفاظتی حصارہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازصاحبہ کے مشن کےتحت اورسینئر وزیرمریم اورنگزیب کی سرپرستی میں محکمہ جنگلات صوبہ بھر میں منظم شجرکاری کیلئے سرگرم ہے۔ شجرکاری کے میگاپراجیکٹس  کے ذریعے سموگ اور ماحولیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے

طالبان سے مذاکرات واحد حل ہے، ٹیبل پر میں لاؤں گا‘ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ’

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا طالبان میں اثرورسوخ ختم ہوچکا ہے، طالبان سے مذاکرات کا ٹاسک مجھے دیں میں انہیں ٹیبل پر لاؤں گا۔ نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ الیکشن کے دن ہم تو پہاڑوں میں چھپے ہوئے تھے، ہمارا کوئی جلسہ نہیں ہوا، یونین کونسلوں کے 95 چیئرمینوں میں سے صرف تین تھے، باقی کا کوئی پتا نہ تھا۔ وزیرِاعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ اڑھائی ماہ ہوچکے ہیں، طالبان سے مذاکرات کا پلان دے رکھا ہے، عمل درآمد نہیں ہوا، مجھے ٹاسک دیں میں طالبان سے مذاکرات کرلیتا ہوں، طالبان کو ٹیبل پر بٹھائیں، مذاکرات کریں یہی واحد حل ہے۔ تمام ایجنسیوں کے قبائلی مشران سے مذاکرات کا پلان بنا کر دفتر خارجہ اور وزارت داخلہ کو بھیجا وزارت داخلہ، خارجہ یا دفاع سے کوئی جواب نہیں آیا، قبائلی مشران کو طالبان انکار نہیں کر سکتے۔ مزید پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 10 دہشت گرد ہلاک، کیپٹن شہید علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مجھے ٹاسک دیں تو میں کل اخونزادہ کے ساتھ بیٹھا نظر آؤں گا، طالبان کے ساتھ فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا، مجھے بھجوائیں پھر بات بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تو طالبان کی نچلی سطح کی قیادت کا رابطہ ہواتھا، دوسال پہلے میں پہاڑوں پر پھر رہاتھا، آج وزیراعلیٰ ہوں، کل کوئی ویلیو نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیے بغیر کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوسکتے، عوام کے بغیر کوئی لڑائی نہیں جیتی جاسکتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوامی اعتماد ضروری ہے، عوامی رائے کے ساتھ چلنا پڑے گا۔ دوسری جانب افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت ختم ہونے سے پہلے صوبے کے حالات نارمل تھے، اب دہشت گردی اور بدامنی بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک سو انسٹھ ارب روپے سرپلس میں ہے، جب کہ پنجاب ایک سو اڑتالیس ارب روپے خسارے میں ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے مذاکرات کیے جائیں، افغانستان سے ہزاروں کلومیٹر کی سرحد ہے بات چیت کی بات کرتا ہوں تو مخالفت کی جاتی ہے، پی ڈی ایم حکومت میں بھی طالبان سے بات کرنے کا فیصلہ ہوا، ملک میں بہتری کے لیے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیے بغیر کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوسکتے، عوام کے بغیر کوئی لڑائی نہیں جیتی جاسکتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوامی اعتماد ضروری ہے، عوامی رائے کے ساتھ چلنا پڑے گا۔

ملٹری کورٹ سزائیں، پشاور ہائیکورٹ نے دائر تمام درخواستیں مسترد کر دیں

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزمان کی رہائی کے لیے دائر 29 درخواستوں کو خارج کر دیا۔ ملٹری کورٹ کی سزاؤں کے خلاف دائر 29 رٹ درخواستوں پر جسٹس نعیم انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزاروں کے وکلاء، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ اور عدالتی معاون شمائل احمد بٹ پیش ہوئے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکلان اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں، مگر انہیں رہا نہیں کیا جا رہا، جب کہ قانون کے تحت دورانِ حراست گزارا گیا، وقت بھی سزا میں شامل ہوتا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلے خصوصی قوانین کے تحت ہوتے ہیں، جن میں عام قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ 382 بی کا فائدہ ان سزا یافتہ ملزمان کو نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ انہیں دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ کے لارجر بینچ اور پشاور ہائیکورٹ کے ایک بینچ نے بھی قرار دیا ہے کہ اسپیشل قوانین کے تحت دی گئی سزاؤں میں 382 بی کا فائدہ نہیں مل سکتا۔ سزائیں اسی وقت شمار ہوں گی جس وقت ان ملزمان کی سزاؤں پر دستخط ہوگا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے دی گئی سزائیں خصوصی قانون کے دائرہ میں آتی ہیں۔ ملٹری کورٹ کے قوانین میں ہائیکورٹ صرف یہ دیکھتی ہے کہ جو سزا دی گئیں ہیں، وہ ان سیکشن کے تحت دی گئی ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست گزاروں کو دی گئی سزا آرمی ایکٹ کے تحت دی گئی ہے، یہ دستخط کے دن سے ہی شمار ہوگی۔ خصوصی قانون کے تحت سزا یافتہ ملزمان 382 بی کا فائدہ حاصل کرنے کے حقدار نہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنا دیا۔

وزرا کی تنخواہوں میں 188 فیصد اضافہ لیکن عوام کے لیے ریلیف نہیں

وفاقی کابینہ نے وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔ منظوری کے بعد وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور مشیروں کی ماہانہ تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار روپے ہو جائے گی۔ وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے الاؤنس اور تنخواہوں کے ایکٹ 1975ء میں ترمیم منظور کی گئی ہے۔تنخواہوں میں اضافہ ان آفس ہولڈرز کے لیے 188 فیصد تک اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے پہلے وفاقی وزیر کی تنخواہ 2 لاکھ اور وزیر مملکت کی ایک لاکھ 80 ہزار روپے تھی۔ وفاقی وزیر کی تنخواہ میں 159 فیصد جبکہ وزیر مملکت اور مشیران کی تنخواہوں میں 188 فیصد تک اضافہ منظور کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ (ایم پیز) اور سینیٹرز کی تنخواہوں اور مراعات کو وفاقی سیکرٹریز کے مطابق لانے کی تجویز کی منظوری کے دو ماہ بعد سامنے آئی ہے،یہ فیصلہ سپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے متفقہ طور پر کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت نے کفایت شعاری کے دعووں کے باوجود وفاقی کابینہ کے وزراء، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت خود ٹیکس کے بوجھ کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کو درپیش مالی مشکلات کا اعتراف کر چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس اضافے کی شرح حیران کن طور پر 188 فیصد ہے، جو عام شہریوں پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ کے برعکس ہے۔ یہ پیشرفت قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کی جانب سے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری کے دو ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد ان کی تنخواہیں وفاقی سیکرٹریز کے برابر ہو گئی ہیں۔ اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اس اضافے کی متفقہ منظوری دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں وفاقی کابینہ کا حجم دوگنا کرتے ہوئے ارکان کی تعداد 21 سے بڑھا کر 43 کر دی، جن میں 30 وفاقی وزراء، 9 وزرائے مملکت اور 4 مشیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم نے چار معاونین خصوصی بھی مقرر کیے، جس کے بعد ان کی ٹیم کے کل ارکان کی تعداد 51 ہو گئی ہے۔ آئین کے مطابق، وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کا ایک چوتھائی سے زیادہ سینیٹ سے نہیں ہونا چاہیے، جبکہ کابینہ کی کل تعداد پارلیمنٹ کے کل اراکین کے 11 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس وقت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مجموعی طور پر 432 ارکان ہیں۔ ماضی میں بھی ہر حکومت نے کابینہ کے حجم کو محدود رکھنے کے وعدے کیے، لیکن بعد میں اسے بڑھا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے زیادہ بوجھ کا اعتراف کر چکے ہیں، لیکن ملکی معاشی صورتحال کے باعث فوری ریلیف ممکن نہیں۔ انہوں نے کسی ٹائم فریم کا ذکر کیے بغیر امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ریلیف دیا جا سکے گا۔

حق آگیا، باطل مٹ گیا:بدر سے مکہ تک، اسلام کی کامیابی کا پیغام

بد ر کے مقام پر 17 رمضان کو  حق آگیا باطل مٹ گیا یقینا باطل تو مٹنے والا ہی ہےاور 20 رمضان المبارک کو حضور اکرمؐ کے نگرانی میں  فتح مکہ ،فتح مبین   مسلمانوں کے نام ہوئی۔ سورہ فتح میں اللہ تعالیٰ  فرماتے ہیں بے شک اللہ آپ کی زبردست مدد فرمائیں گے،  اللہ تعالیٰ نے وعدہ پورہ  کیا اور 313 صحابہ کی صورت میں 1 ہزار کفار کے مقابلے میں فتح دلائی، فتح مکہ، جب دنیا پر اسلام کی سچائی آشکار ہو رہی ہے۔ فتح مکہ، جب سرزمین عرب سے باطل کا اندھیرا چھٹ رہا ہے۔ فتح مکہ، جب رحمت اللعالمینؐ اپنے مبارک ہاتھوں سے کعبۃ اللہ کو شرک کی آلائشوں سے پاک کر رہے ہیں۔ فتح مکہ، جب 360 بت یکے بعد دیگرے گرائے جا رہے ہیں اور حق کی روشنی ہر سمت پھیل رہی ہے۔ فتح مکہ، جب مسلمان شوق و عقیدت کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو رہے ہیں اور اللہ کے گھر کا طواف کر رہے ہیں۔ فتح مکہ، جب حضرت بلالؓ کعبے کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دے رہے ہیں اور اللہ کی وحدانیت کی صدا آسمانوں تک گونج رہی ہے۔ یہ وہی مکہ ہے جہاں ایک وقت تھا کہ اسلام کا نام لینا جرم تھا، جہاں حضرت بلالؓ کو دہکتے انگاروں پر لٹا دیا جاتا، جہاں حضرت یاسرؓ اور حضرت سمیہؓ کو شہید کر دیا جاتا، جہاں رسول اللہؐ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے، جہاں شعب ابی طالب میں محصور رہنا پڑا، جہاں کعبے کے در و دیوار شرک کی نجاست میں ڈوبے ہوئے تھے۔ آج وہی کفار مکہ ہتھیار ڈالیں ،اپنی قسمت کے منتظر ہیں ،رحمت اللعالمین ہونے کا منظر دنیا دیکھ رہی ہے اور تاریخ میں لکھا جا رہا ہے، آپ پر کنکری مارنے والے گندگی پھینکنے والے برا بھلا کہنے والے کانپ رہے ہیں ۔چاروں طرف دوڑ رہے ہیں، امان مانگ رہے ہیں ،آج زمین پر ان کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ موجود نہیں، خوف میں سارا عالم ڈوبا ہوا ہے۔ لیکن قربان جائیے آقا کریم کی ذات اقدس پر جن کی رحمت کے سائے میں سب نے امان پائے، مسلمانوں کے لشکر میں قبیلہ بنو خرچ کی کمان حضرت سعود بن عبادہ کے ہاتھ میں ہے، وہ ابو سفیان کو دور سے دیکھ کر ہی پہچان لیتے ہیں اور زور سے اعلان کرتے ہیں آج خون کی ندیاں بہانے کا دن ہے آج کعبے کو پاک کر دیا جائے ،ابو سفیان یہ منظر دیکھ رہا ہے ،پریشانی میں محمد مصطفی احمد مجتبی کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے منظر بیان کرتا ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ آج کا دن رحمت کا دن ہے آج کا دن وہ دن ہے جس میں کعبے کی تعظیم کی جائے گی پھر رحمت اللعالمین اعلان کروا رہے ہیں کہ جس کو امان چاہیے بیت اللہ میں آجائے جس کو امان چاہیے وہ ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے جس کو امان چاہیے وہ اپنے گھر کے دروازوں کو بند کر لیں تاریخ انسانی کا جو واقعہ ہے کہ جہاں فاتحین سروں کو جھکائے رب کے حضور پیش ہو رہا ہے ۔ دشمن ایسی شکست پر مشکور ہے ایسا منظر نہ پہلے کبھی دیکھا اور نہ اس کے بعد پتہ ہے مکہ کی خوشیاں صرف زمین پر نہیں ہیں اسمان پر بھی منائی ہے یہ صرف مکہ کو فتح کرنے کا دن نہیں ہے بلکہ یہ ہزاروں دلوں کو فتح کرنے کا  دن ہے

جہاں سے میں آیا ہوں وہاں لوگ کرکٹر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھتے، حسن نواز

قومی ٹیم کے کرکٹر حسن نواز نے کہا ہے کہ جس علاقے سے میں آیا ہوں، وہاں کوئی کرکٹر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھتا۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے حسن نواز نے کہا کہ 100 سے 150روپے پاکٹ منی ملتی تھی، اپنی پاکٹ منی سے گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ ٹیپ بال کھیلتا تھا، لیہ کے کرکٹ کلب میں ہارڈ بال کرکٹ سے پریکٹس شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ لیہ کے کلب میں صرف سردیوں میں چار پانچ مہینے کرکٹ ہوتی تھی، لیہ سے اسلام آباد آکر کلب سے کھیلنا شروع کیا، ایک سال انڈر 19 کرکٹ کھیلی، پھر ناردرن اور پی ایس ایل ٹیم کی نمائندگی کی، خیبرپختونخوا کے خلاف ڈبیو میچ میں 45 رنز کی اننگ کھیلی، کے پی ایل میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل اسٹارز کے ساتھ کھیل کر بہت اچھا لگا تھا۔ حسن نواز کا کہنا تھا کہ میرا تعلق لیہ سے ہے اور جہاں سے میں آیا ہوں، وہاں کوئی کرکٹر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھتا۔ میری فیملی میں کرکٹ کوئی نہیں دیکھتا تھا، جب میرے میچز ٹی وی پر آنا شروع ہوئے توسب نے دیکھنا شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شاداب خان نے میری کافی مدد کی اور حوصلہ بڑھایا، شعیب ملک کو فالو کرتا تھا، ان کی فٹنس اور کرکٹ بہت اچھی لگتی تھی۔ محمد عامر میرے ہمیشہ سے فیورٹ بالر رہے ہیں، ان کے خلاف کھیلنے کا تجربہ حاصل ہوا۔ بقول حسن نواز ٹیم میں شاہین آفریدی، حارث رؤف اور محمد علی کافی اچھے بالر ہیں، میرا بھائی مجھے کہا کرتا تھا کہ پڑھائی کے لیے جا نا ہے، کرکٹ کھیلنا شروع کی تو پڑھائی بیچ میں رہ گئی۔ دوسری جانب حسن نواز کے والدین نے بیٹے کی شاندار پرفارمنس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسن نواز کی محنت رنگ لے آئی۔ حسن نواز کے والد کا کہنا تھا کہ کم وسائل کے باوجود حسن نواز نے اپنے سفر میں ہمت نہیں ہاری، انہوں نے لیہ کے پسماندہ علاقے کوٹلہ حاجی شاہ سے اپنا سفر شروع کیا، بیٹے کی عمدہ کارکردگی پربہت خوش اور اپنے رب کے شکرگذار ہیں۔ حسن نواز کی والدہ نے کہا کہ اس ڈر سے میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو ان کی ہی نظر نہ لگ جائے۔ واضح رہے آکلینڈ میں قومی ٹیم اور کیویز کے درمیان سیریز کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا گیا، جہاں قومی ٹیم کے اوپنر حسن نواز نے 44 گیندوں پر 105 رنز کی ناقابلِ شکست اننگ کھیلی۔ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پانے کے بعد حسن نواز نے کہا کہ وہ اپنی سنچری اپنے والد کے نام کرتے ہیں۔