“علی امین گنڈا پور نے قومی سلامتی کمیٹی میں بطور وزیر اعلیٰ صوبے کا نقطہ نظر پیش کیا “عمر ایوب

قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈا پور نے بطور وزیر اعلیٰ صوبے اور پارٹی کا نقطہ نظر پیش کیا تھا۔ عمر ایوب نے پشاور ہائی کورٹ میں پیشگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے کسی بھی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دی اور مسائل کا حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا برا حال ہوگیا ہے، حکومت اپوزیشن الائنس سے خوفزدہ ہے، جے یو آئی اور پی ٹی آئی کےدرمیان بڑی خلیج تھی، جمہوریت کی خاطر ہم اکھٹے بیٹھے ہیں، جے یو آئی کے ساتھ بات چیت میں بہت سفر طےکرلیا، مولانا فضل الرحمان کو منانے کی کوشش جاری ہے، امید ہے جلد مولانا بھی گرینڈ الائنس کاحصہ بن جائیں گئے۔ صحافی نے سوال کیا کہ تحریک سے پہلے حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی توکیا قبول کریں گے؟ اس پر عمر ایوب نے کہا کہ حکومت کے پاس کیا اختیار ہے، پچھلے مذاکرات میں حکومت کہتی تھی کہ بانی پی ٹی آئی سےملاقات نہیں کرواسکتے، ہم نے پہلے بھی مذاکرات کیے لیکن ان کے پاس ہےکیا۔
بچے اپنے والدین اور اساتذہ کرام کے نام پر درخت لگائیں، مریم نواز کا عالمی یوم جنگلا ت کے دن پر پیغام

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے اور آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا ماحولیاتی نظام دینے کے لیے پرعزم ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ درخت ضرور لگائیں، چاہے اس کے سائے میں بیٹھنے کی توقع ہو نہ ہو۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے جنگلات کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ بچے اپنے والدین اور اساتذہ کرام کے نام پر درخت لگائیں۔ جنگلات کا وجود ماحول، معیشت اور شہریوں کے لیے لائف لائن ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے شجرکاری ناگزیر ہیں، درخت لگائیں اور سموگ کے اندھیرے مٹائیں۔ مریم نوازشریف نے کہا کہ عالمی یوم جنگلا ت پر صوبے بھر میں 15 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ موسم بہار شجرکاری مہم کے دوران مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ پودے لگانے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ”پلانٹ فار پاکستان“ مہم کے تحت 44 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ ”گرین پاکستان“ پروگرام کے تحت 34 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے زرعی جنگلات میں 14 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔ ہیلتھ، ایجوکیشن اور دیگر اداروں کو شجرکاری کے لیے 55 لاکھ پودے فراہم کیے گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ بے آباد سرکاری اراضی پر بھی درخت لگائے جائیں گے۔ راجن پور، مظفرگڑھ اور سرگودھا میں دریائے سندھ سے متصل 3700 ایکڑ پر شجرکاری کی جائے گی۔ ان کے علاوہ غازی گھاٹ اور مظفر گڑھ میں 1500 ایکڑ رقبے پر شجرکاری ہوگی۔ شیخوپورہ اور لاہور راوی کنارے پر 444 ایکڑ رقبے پر درخت لگائے جائیں گے۔ گجرات میں دریائے چناب سے متصل علاقوں میں بھی شجرکاری ہوگی۔ گوجرانوالہ، چھانگا مانگا، چیچہ وطنی، اٹک، جھنگ اور ڈی جی خان میں خالی اراضی پر شجرکاری کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں 161 سال سے قائم محکمہ جنگلات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لیس کیا جارہا ہے۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ میں جی آئی ایس ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن میپنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی ہے۔ سیٹلائٹ اور ڈورن ٹیکنالوجی سے جنگلات میں وقوع پذیر تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔ مری اور جھانگا مانگا کے جنگلات کی ہائی ریزولوشن اورتھری ڈی میپنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ مریم نوازشریف نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی سے جنگلات میں تجاوزات کی مانیٹرنگ اور فارسٹ ہیلتھ مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔ جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے تھرمل سینسرکی مدد لی جائے گی۔ جنگلات کی حدود کے تعین کے لیے کمپارٹمنٹ لیول فارسٹ میپنگ کی جارہی ہے۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے فیلڈ سٹاف کی مانیٹرنگ اور انسپیکشن کے لیے موبائل ایپ لانچ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلا ت میں لگنے والی آگ کے بروقت سدباب اور ڈی ٹیکشن انٹیلی جنس سسٹم کوجلد فعال کر دیا جائے گا۔ جنگلات سے متعلق ہنگامی صورتحال کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1084 بھی قائم کر دی گئی ہے۔
بینکوں سے ونڈ فال ٹیکس وصولی، قومی خزانے میں 31 ارب روپے جمع

ونڈ فال ٹیکس کی مد میں بینکوں سے وصولیوں کا عمل تیزی سے جاری ہے، چار ہفتوں میں 31 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں آ گئے۔ ذرائع کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے بھی پنجاب میں تمام رجسٹرڈ بینکوں کی درخواستوں پر حکم امتناع ختم کر دیا، عدالتی فیصلے کے بعد پنجاب کے بینکوں نے آج مزید 8.4 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرا دیے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ونڈ فال ٹیکس کیسز کی بھرپور پیروی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔ اس سلسلے میں وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو مقدمات میں فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی تھی۔ مزید پڑھیں: کراچی میں ڈالا کلچر پر سختی کی ہے اور کریں گے، وزیرِ داخلہ سندھ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اس طرح کا اقدام کیا گیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے میں اربوں روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ تین ہفتے قبل سندھ ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے خاتمے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر بینکوں نے 23 ارب روپے ایف بی آر میں جمع کرائے تھے۔ واضح رہے کہ 2023 میں بینکوں پر انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 99 ڈی کے تحت ونڈ فال ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جو غیر معمولی اور اضافی منافع پر لاگو کیا گیا تھا۔
اسٹار لنک کو این او سی جاری، کمپنی پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرے گی

ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کو این او سی جاری کیے جانے کے بعد پاکستان سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کو تیار ہے۔ اسٹار لنک کے پاکستان میں آپریشنز کے حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پاکستان اسپیس ایکٹیوٹیز ریگولیٹری بورڈ نے اسٹار لنک کو این او سی جاری کردیا ہے۔ نجی نشریاتی ادارہ جیو نیوز کے مطابق اسٹار لنک نے اسپیس ریگولیٹری بورڈ کے تمام تقاضے پورے کرلیے ہیں، جس کے بعد وزارت داخلہ کی کلیئرنس کے بعد اسپیس ریگولیٹری بورڈ نے این او سی جاری کیا ہے اور اب پی ٹی اے آئندہ 4 ہفتوں میں اسٹار لنک کو لائسنس جاری کردے گا۔ واضح رہے کہ اسٹار لنک پہلے ہی پی ٹی اے میں لائسنس کے لیے درخواست دینے کے علاوہ پی ٹی اے میں ٹیکنیکل اور بزنس پلان بھی جمع کروا چکا ہے ۔ اسٹار لنک نے پاکستان میں رجسٹریشن کے حوالے سے 3 مراحل مکمل کرلیے ہیں۔ ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک نے ایس ای سی پی اور پاکستان سافٹوئیر ایکسپورٹ بورڈ سے رجسٹریشن حاصل کی ہے۔ علاوہ ازیں کمپنی نے پاکستان اسپیس ایکٹیوٹیز ریگولیٹری بورڈ سے بھی رجسٹریشن حاصل کرلی اور اب آخری مرحلہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رجسٹریشن حاصل کرنا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے لائسنس کے اجرا کے بعد کمپنی اپنی سروسز کا آغاز کرسکے گی ۔ پی ٹی اے اسٹار لنک کی جمع کروائی گئی دستاویزات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اسٹار لنک کی سروسز موجودہ نیٹ ورک میں کسی قسم کا خلل پیدا نہیں کریں گی۔ یاد رہے کہ پاکستان نے 2023ء میں نیشنل سیٹلائٹ پالیسی متعارف کروائی تھی اور 2024ء میں پاکستان اسپیس کمیونی کیشن کو مضبوط بنانے کے لیے اسپیس ایکٹیویٹیز رولز متعارف کرائے گئے تھے
کراچی میں ڈالا کلچر پر سختی کی ہے اور کریں گے، وزیرِ داخلہ سندھ

وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن کا کہنا ہے کہ کراچی میں ڈالا کلچر، جس میں گن مین بیٹھے ہوتے ہیں اس پر سختی کی ہے اور کریں گے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے ہمارے بچوں یا ہماری عوام کو خطرات لاحق ہوں۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائمز میں نمایاں کمی کے لیے تمام تر سنجیدہ کاوشیں جاری ہیں اور وہ یہ بات دعوے سے کہتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز میں 50 فیصد تک کمی سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو درپیش چیلنجز اور مسائل سے پاک کرنے کے لیے شہر کو اسلحہ سے پاک کرنا اشد ضروری ہے، یہاں لوگ پرائیوٹ گارڈز کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں، تاہم کوئی کتنا ہی بااثر یا طاقتور کیوں نہ ہو قانون کی پاسداری اسکے لیے بھی لازم ہے۔ وزیرِ داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی میں ڈالا کلچر، جس میں گن مین بیٹھے ہوتے ہیں اس پر سختی کی ہے اور کریں گے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے ہمارے بچوں یا ہماری عوام کو خطرات لاحق ہوں۔ وہ خود بھی رات کو ان علاقوں میں جاتے ہیں، جہاں فیملیز بیٹھی ہوتی ہیں اور ایسےعلاقوں کو اسلحہ سے پاک کریں گے، تو لوگوں کو بہتر ماحول مل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹریفک حادثات بھی ایک مسئلہ ہے اور حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر سنجیدہ کاوشوں کو یقینی بنائے۔ اس حوالے سے میں بذات خود ٹریفک حادثات کو مانیٹرکر رہا ہوں اور میں اس ضمن میں ٹریفک پولیس نے اچھے افسران تعینات کیے ہیں۔ ضیاء الحسن نے کہا کہ کراچی میں پارکنگ کے مسئلے کے حل کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں اور اس ضمن میں پارکنگ مافیا کے خاتمے پر فوکس ہے اور انھیں ختم کر کے چھوڑیں گے۔ مزید پڑھیں: منفرد اندازِ بیاں اور گہری سوچ رکھنے والی شاعری کی خالق وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں منشیات مافیا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور نیدر لینڈ کی سفیر نے ان سے پہلا سوال ہی منشیات مافیا کے حوالے سے کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے اور شاید یہیں سے منشیات ان کی طرف جا رہی ہے، جس پر انھیں بتایا گیا کہ یورپ سے ڈرگز ادھر آرہی ہیں اور اس ضمن میں انھیں ارمغان والے کیس میں ویسٹ سے ذریعہ کورئیر ویڈ کی منتقلی اور آن لائن ادائیگی کے بارے میں بھی آگاہی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نامی گرامی تعلیمی اداروں میں بچے منشیات استعمال کر رہے ہیں اور میرے خیال میں اسکولز انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر منشیات کا اندر آنا ممکن ہی نہیں ہے، والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو منشیات جیسی لعنت سے بچائیں۔ ضیاء الحسن کا کہنا تھا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت ابتک 1300 کیمرے نصب ہوچکے ہیں، جب کہ مجموعی طور 14000 ہزار کمیرے نصب کرنے ہیں، جب کہ نصب کردہ کیمروں کو بھی انٹیگریٹ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور کے پی کے میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں اور ان واقعات کے تناظر میں سندھ حکومت، پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ہمہ وقت مستعد و تیار ہیں، وطن اور صوبے پر کسی کو بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیرِ داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومتِ سندھ 09 بلین کی لاگت سے سندھ فارنزک لیب تعمیر کرنے جارہی ہے، جس میں ڈی این اے، فنگر پرنٹس، کیمیکل فارنزک وغیرہ جیسی سہولیات دستیاب ہوں گی اور اس لیب کے ڈی جی کے لیے بھی باقاعدہ اشتہار جاری کر چکے ہیں اور انشاءاللہ سال 2026 کے دسمبر تک اس کا افتتاح کردیا جائے گا، یہ لیب پاکستان کی ایک جدید اور سب سے بہتر لیب ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے میں درپیش مسائل میں کمی آئی ہے، جب انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالا تو اس وقت مغویان کی تعداد 35، جب کہ آج صرف تین ہے۔ اس وقت شکارپور میں کوئی مغوی نہیں ہے۔ پولیس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے چھ سو شہریوں کو ہنی ٹریپ سے بچایا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کا یوم پاکستان اور عید الفطر پر قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان ضیاء الحسن نے کہا کہ وفاق سے گزارش ہے کہ ہمیں جدید اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں فراہم کی جائیں اور حزب اختلاف کے رہنماؤں سے بھی گزارش ہے کہ وہ آگے آئیں اور جرائم کے خلاف ہماری پالیسیوں اور اقدامات کو مذید تقویت دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سی ٹی ڈی کمپلیکس تعمیر کرنے جارہے ہیں، جس کی تعمیر کی رقم 2.5 ملین رقم جاری ہوچکی ہے، ہم نے ہائی وے پیٹرول پولیس کے لئے بھی بجٹ مختص کرنے کی سفارشات حکومت سندھ کو ارسال کردی ہیں، جب کہ تھانہ جات کے لیے مختص کردہ بجٹ آئی جی سندھ نے پہلے ہی سے ایس ایچ اوز کے ڈسپوزل پر رکھ دیا ہے۔ اس وقت دو ہزار آئی اوز کو تربیت دینے کا سلسلہ جاری ہے، تفتیش اچھی اور بہتر ہونے سے جرائم میں کمی آئی ہے۔ ہم نے سندھ میں آئینی بینچز بنائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیوانی مقدمات کے سلسلے میں عوام کے لیے سہولتیں پیدا کی ہیں اور اس ضمن میں دو سو نئے پراسیکیوٹر کی بھرتی کی جا رہی ہے۔ انھیں قوی امید ہے کہ اگلا سال اس قوم، صوبے و ملک کے لیے بہتر ہوگا۔
’اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش ہوئی تومزاحمت کریں گے‘ حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر امریکی پشت پناہی سے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، سینکڑوں فلسطینیوں کی شہادت کے خلاف آج کراچی میں بھی شام 3بجے امریکی قونصلیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے نجی خبررساں ادارے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ بندی کے باوجود امریکی ایما پر اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ حملے شروع کر دیے جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اس کی دنیا بھر کے مسلمان مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت سمیت تمام مسلم ممالک کی حکومتوں کو متحد ہو کر اس حوالے سے آواز بلند کرنا ہوگی۔‘ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ کچھ پاکستانی صحافی اسرائیل گئے ہیں تو حکومت اس حوالے سے مؤقف ظاہر کرے۔ امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ’اگر کوئی بیک ڈور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش ہوئی تو شدید مزاحمت کی جائے گی۔ آرمی چیف کو حکومت اجازت دے وہ مسلم ممالک کے سربراہان کے ساتھ اسلام آباد میں مشاورت سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔‘ امیر جماعت اسلامی ضلع غربی مولانا مدثر انصاری نے مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے نوجوان امت مسلمہ کا فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے امریکی قونصلیٹ کی جانب مارچ کررہے ہیں۔ ایک غزہ و فلسطین کے مسلمان بیت المقدس سے صیہونیوں کا صفایا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے امریکہ و اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ امریکہ خود کو کیسے سپر پاور کہتا ہے، جو بیٹھ پیچھے معصوم بچوں پر بمباری کرتے ہو۔57 اسلامی ممالک اور 80 لاکھ سے زائد اسلامی فوج بھی موجود ہیں۔ امت مسلمہ کے حکمران کے اندر غیرت موجود نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی حافظ ابش صدیقی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمعیت کے کارکنان خراج تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے بھرپور شرکت کرکے ایک غزہ سے اظہار یکجہتی کیا۔ اہلیان کراچی ہمیشہ سے امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ایک بار جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور سحری کے وقت بمباری کی گئی۔ 414 فلسطینی شہید اور 500 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔ اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں کے جذبے بلند ہیں اور وہ استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسرائیل شکست کھا چکا ہے اور اب وہ صرف امریکہ کی پشت پناہی پر کررہا ہے۔ امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں بوٹ بیسن تا امریکی قونصلیٹ مارچ کیا جائے گا، کراچی کے شہری تمام اضلاع سے قافلوں اور جلوسوں کی صورت میں بوٹ بیسن پہنچیں گے۔ دوسری جانب مظاہرے میں شہری وقت سے قبل ہی پہنچنا شروع ہوگئے، مظاہرے کے شرکاء میں زبردست جوش و خروش پایا جارہا ہے۔ شرکاء اسرائیلی جارحیت اور امریکی سرپرستی کے خلاف زبردست نعرے لگا رہے ہیں۔ امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان امریکن قونصلیٹ کے باہر کلیدی خطاب کریں گے۔ پولیس نے مارچ کے شرکاء کو امریکن قونصلیٹ جانے سے روک دیا ہے۔ کارکنان اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، کارکنان امریکن قونصلیٹ جانے کے لیے پر عزم ہیں۔
پاکستان بھرمیں 1700 ’سستی دکانیں‘ بند کرنے کا فیصلہ، ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟

سستی اشیا پاکستانی شہریوں کے لیے خواب بننے لگیں، سستے سٹورز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان بھر میں نقصان میں چلنے والے 1700 یوٹیلیٹی اسٹورز کردیے جائیں گے۔ سینیٹرعون عباس کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا، جس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مستقبل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز حکومت کی نجکاری فہرست میں شامل ہیں، تاہم دو سالہ آڈٹ نہ ہونے کے باعث نجکاری کا عمل رک گیا ہے، آڈٹ اگست 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں 3200 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز موجود ہیں، جن میں سے 1700 نقصان میں چل رہے ہیں اور انہیں بند کیا جائے گا، نجکاری کے بعد صرف 1500 اسٹورز کے لیے عملہ درکار ہو گا، جبکہ باقی ملازمین کو سرپلس پول میں بھیج دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز کے 5000 ملازمین ریگولر، جبکہ 6000 کے قریب کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں، مستقل ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کیا جائے گا جبکہ کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو کوئی پیکج نہیں دیا جائے گا اور نجکاری کے بعد انہیں فارغ کر دیا جائے گا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا ماہانہ خرچ ایک ارب 2 کروڑ روپے تھا، تاہم نقصان میں چلنے والے اسٹورز بند کرنے سے یہ کم ہو کر 52 کروڑ روپے رہ گیا ہے، ایک ماہ میں نقصان 22 کروڑ روپے کم ہوا اور مجموعی نقصان 17 کروڑ روپے کم ہو کر 50 کروڑ روپے تک آ گیا ہے۔
فتح مکہ: وہ منظر جودنیا نے کبھی نہ دیکھا

غزوہ فتح مکہ نبی پاک ﷺ کے اہم ترین غزوات میں سے ایک تھا جس کے نتیجے میں 8 ہجری (10 جنوری 630 عیسوی) کو مکہ فتح ہوا۔ اس فتح کے بعد جزیرہ نما عرب کے بیشتر قبائل نے 10 ہجری تک اسلام قبول کر لیا اور یوں پورے عرب میں اسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی۔ حضرت محمد (ﷺ) نے اپنی حکمت عملی اور تدبیر سے جو کہ اچانک حملے کی جنگی حکمت عملی کے اصولوں کے مطابق تھی اور حیران کن بات تو یہ ہے اس جنگ میں بغیر کسی خونریزی کے مکہ کو فتح کیا۔ فتح مکہ کے دوران نبی اکرم (ﷺ) نے “آج کا دن عفو و درگزر کا دن ہے” کے الفاظ کے ساتھ عام معافی کا اعلان کیا۔ کچھ تاریخی روایات کے مطابق فتح مکہ کے بعد حضرت علیؑ نے پیغمبر اکرم (ﷺ) کے کہنے پر پیغمبر کے کندھوں پر سوار ہو کر بتوں کو گرایا اور انہیں باب بنی شیبہ (مسجد الحرام کا داخلی دروازہ) کے سامنے دفن کردیا۔
غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے، 91 فلسطینی شہید

غزہ کی پٹی میں ایک بار پھر جنگ کی گھن گرج سنائی دینے لگی ہے۔ اسرائیل نے دو ماہ سے جاری جنگ بندی کو ختم کرتے ہوئے غزہ کے شمالی اور جنوبی حصوں میں فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیے ہیں۔ جس کے نتیجے میں 91 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں، غزہ کی وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ حملے گزشتہ روز اسرائیل کی طرف سے دوبارہ حملوں کی شدت بڑھانے کے بعد ہوئے ہیں۔ غزہ میں دوبارہ خوف و ہراس پھیل چکا ہے اور ہزاروں افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے مختلف پناہ گزین کیمپوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے شمالی غزہ کے بیٹ لہیہ، بیٹ حانون اور خان یونس کے مشرقی علاقوں میں فضائی بمباری کی جبکہ غزہ سٹی کے شیجاعیہ علاقے میں بھی شدید حملے کیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں میں اس آپریشن کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں میں شدت سے بمباری کی اور اپنے ٹینکوں کو مرکزی غزہ میں داخل کیا۔ ان حملوں میں حماس کے کئی اہم رہنما بھی شہید ہوئے، جن میں غزہ کی حکومت کے سربراہ، وزیر داخلہ کے معاون، اور وزارت انصاف کے نائب سربراہ شامل ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: دس ہزار مربع میٹر تک آگ: روس کے تیل کے ڈپو پر یوکرین کا بڑا حملہ اس سبب کے باوجود حماس کی طرف سے اسرائیل پر جوابی حملے جاری ہیں جن میں راکٹ داغے گئے ہیں۔ اسرائیل کے وسطی حصوں میں بھی سائرن کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد مزید راکٹ حملوں کی اطلاعات ملی۔ اسرائیل کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں “نیٹزرِم کوریڈور” کے علاقے میں مزید زمینی آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی رہائشی آبادی کو خبردار کرنے کے لیے پروپیگنڈہ پمفلٹس بھی گرائے جن میں شمالی غزہ کے مختلف شہروں کے مکینوں کو علاقے سے نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام آپریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ وہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو مکمل طور پر جائز سمجھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا موقف واضح ہے کہ”حماس کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور اگر وہ قیدیوں کو نہیں چھوڑتے تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔” اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور نئی فوجی کارروائی نے غزہ میں بدترین انسانی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ حماس نے اس آپریشن کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان حملوں کے دوران غزہ میں ایک اور انسانی المیہ جنم لے رہا ہے جس سے نہ صرف فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ پورے خطے میں امن کی تلاش کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ مزید پڑھیں: سوڈانی فوج نےمسلح گروہ سے صدارتی محل کا کنٹرول حاصل کر لیا
صدر مملکت کا یوم پاکستان اور عید الفطر پر قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان ڈے اور عید الفطر کے موقع پر قیدیوں کی سزا میں 180 دن کی خصوصی کمی کا اعلان کیا ہے۔ پورے ملک میں عید کی آمد کے حوالے سے خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور پاکستان ڈے کی اہمیت کا چرچا ہے۔ صدر زرداری نے یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت کیا، جس کے تحت قیدیوں کو کچھ رعایت دی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ کمی ان افراد کے لیے نہیں ہوگی جو سنگین جرائم میں ملوث ہیں جیسے کہ قتل، جاسوسی، ریاستی خلاف سرگرمیاں، زیادتی، چوری، ڈکیتی، اغوا، دہشت گردی، مالی جرائم، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے جرائم یا غیر ملکیوں کے خلاف 1946 کے غیر ملکی ایکٹ اور 2022 کے کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ کے تحت مجرم ہیں۔ اس خصوصی کمی کا فائدہ زیادہ تر ان قیدیوں کو ہوگا جو 65 سال یا اس سے زائد عمر کے مرد قیدی ہیں اور جنہوں نے اپنی سزا کا کم از کم ایک تہائی حصہ مکمل کیا ہے۔ خواتین قیدیوں کے لیے یہ عمر 60 سال یا اس سے زیادہ ہوگی۔ علاوہ ازیں، وہ خواتین قیدی جو اپنے بچوں کے ساتھ قید ہیں اور وہ بھی ایک تہائی سزا مکمل کر چکی ہیں ان کو بھی یہ رعایت ملے گی۔ یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 10 دہشت گرد ہلاک، کیپٹن شہید اسی طرح نابالغ یعنی 18 سال سے کم عمر کے وہ قیدی جو ایک تہائی سزا مکمل کر چکے ہیں ان کی سزا بھی کم کی جائے گی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پاکستان میں عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے بدھ 31 مارچ سے 2 اپریل تک عیدالفطر کے حوالے سے تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تعطیلات عید کی خوشیوں کو بھرپور انداز میں منانے کے لیے دی گئی ہیں اور عوام کو عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے گا۔ عید الفطر کی تاریخ کے حوالے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ 30 مارچ 2025 کو چاند دیکھنے کے لیے اجلاس ہو گا۔ وزارت مذہبی امور میں ہونے والا یہ اجلاس ملک بھر سے چاند دیکھنے کی رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے عید الفطر کی صحیح تاریخ کا تعین کرے گا۔ یہ تمام اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کی خوشیوں کا بھرپور خیال رکھ رہی ہے اور ہر موقع پر ان کے لیے راحت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ مزید پڑھیں: لواحقین نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی لاشیں چھین لیں