ویرات کوہلی پر تنقید یا وجہ کچھ اور؟ عرفان پٹھان آئی پی ایل کے کمنٹری پینل سے باہر

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر اور کمنٹیٹر عرفان پٹھان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 کے سیزن میں کمنٹری پینل سے باہر کردیے گیے، جسے شائقین بارڈر-گواسکر ٹرافی میں ویرات کوہلی پر کی گئی تنقید سے جوڑ رہے ہیں۔ آئی پی ایل 2025 کا آغاز گزشتہ روز ایڈن گارڈن کولکتہ میں ہوا، جہاں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) اور رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے درمیان سیزن کا پہلا میچ کھیلا گیا، ٹورنامنٹ میں تمام ٹیموں اور اسٹارز نے شرکت کی مگر عرفان پٹھان کہیں نظر نہ آئے۔ ان کی عدم دستیابی نے سوال اٹھایا کہ آخر انہوں نے شرکت کیوں نہیں کی؟ مزید یہ کہ آئی پی ایل کے کمنٹری پینل میں بھی ان کا نام نہیں دیکھا گیا۔ انڈین میڈیا کے مطابق عرفان پٹھان کو آئی پی ایل کے کمنٹری پینل سے کئی انڈین کرکٹرز کی شکایت پر ہٹایا گیا ہے، چند ایک کھلاڑیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ جانب دارانہ کمنٹری کرتے ہیں۔ انڈین کھلاڑیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں نے خلاف ذاتی ایجنڈا چلاتے ہیں۔ مزید پڑھیں: آئی پی ایل 2025: ہاردک پانڈیا پر پابندی، اب ممبئی انڈینز کا کپتان کون ہوگا؟ کہا جارہا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران مخصوص کھلاڑیوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کو بی سی سی آئی کے عہدیدار اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ انڈین میڈیا کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران دیے گئے ایک بیان کی وجہ سے ایک کرکٹر نے عرفان پٹھان کا نمبر بھی بلاک کردیا، جس کی وجہ سے تنازع میں شدت آگئی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عرفان نے بارڈر-گواسکر ٹرافی 2024 کے دوران ویرات کوہلی کی فارم کے حوالے سے تنقید کی تھی، جس کی وجہ سے ایسا کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھارت کے مشہور کمنٹیٹر اور سابق بیٹر سنجے منجریکر کو بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں متنازع بیان پر پینل سے ہٹا دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی ماضی میں بھی طالبان کا دفتر کھولنا چاہتی تھی، گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے ایک کہ افغانستان میں امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ اب شدت پسندوں کے پاس ہے، پاکستان تحریک انصاف ماضی میں بھی طالبان کا دفتر کھولنا چاہتی تھی۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کا ہونا ضروری تھا۔ اجلاس میں افغانستان پر حملہ یا آپریشن کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان حکومت کو کئی بار یہ بات باور کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ مزید پڑھیں: آرمی چیف کا پاکستان کو ہارڈ اسٹیٹ بنانے کا مشورہ ، آخر یہ ہارڈ اسٹیٹ ہوتی کیا ہے؟ گورنر کے پی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ اب شدت پسندوں کے پاس ہے۔ مولانا فضل الرحمان افغانستان گئے تھے لیکن ان کا فالو اپ نہیں ہوا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی ماضی میں بھی طالبان کا دفتر کھولنا چاہتی تھی۔ مزید یہ کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق ڈیڈ لائن میں تبدیلی کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔
پی ایس ایل 10: ریپلیسمنٹ ڈرافٹنگ کل، کون آئے گا، کون جائے گا؟

پاکستان سپر لیگ سیزن 10 کی ریپلیسمنٹ ڈرافٹنگ کل ہوگی، مختلف فرنچائزز کے کئی اہم کھلاڑی ذاتی مصروفیات اور نیشنل ڈیوٹی کے باعث ابتدائی میچز میں دستیاب نہیں ہوں گے۔ نجی نشریاتی ادارے سماء نیوز کے مطابق کراچی کنگز کے اسٹار بلے باز کین ولیمسن ابتدائی 3 میچز، جب کہ بنگلہ دیشی وکٹ کیپر بلے باز لٹن داس پہلے 7 میچز کے لیے ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اسی طرح پشاور زلمی کے اہم کھلاڑی ناہید رانا بھی قومی ذمہ داریوں کے سبب ابتدائی میچز میں شرکت نہیں کر سکیں گے، جب کہ نیوزی لینڈ کے مارک چیپمین بچے کی پیدائش کے باعث لیگ کے آغاز میں دستیاب نہیں ہوں گے۔ پی ایس ایل مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ لیگ کو کامیاب بنانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مزید پڑھیں: سمرجیت سنگھ: حیدرآباد کے لیے کھیلنے والا دہلی کا ابھرتا ستارا نجی ادارے کے مطابق پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے پی ایس ایل کو الگ کمپنی بنانے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے فرنچائز مالکان سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے، جب کہ ایک میٹنگ میں کاربن بوش کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
’شمالی وزیرستان میں 16 عسکریت پسند ہلاک کردیے‘ آئی ایس پی آر کا دعویٰ

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی 22 اور23 مارچ کی درمیانی شب کی گئی۔ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب کی گئی۔ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں بتایا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلے میں 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے ایک گروہ کی مشکوک نقل و حرکت کا سراغ لگایا، جو پاکستان-افغانستان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کر رہا تھا۔ بیان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تمام 16 عسکریت پسندوں کو مار دیا۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلسل افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی جانب سرحدی نگرانی کو مؤثر بنائے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ مزید پڑھیں: ’ففتھ جنریشن وارفیئر ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے’ صدر پاکستان آئی ایس پی آر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔‘ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حملے کرنے والوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے صادق خان دو روزہ سرکاری دورے پر کابل میں موجود ہیں۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے ایک بیان میں بتایا کہ اس دورے میں وہ دوطرفہ تعلقات اور معاشی امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔
غلط پارکنگ پرگاڑی اٹھانے کی ویڈیو وائرل، عکسبندی کرنے والے پر مقدمہ کیوں بنا؟

راولپنڈی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے غلط پارکنگ پر کھڑی گاڑی اٹھانےکی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے صارف پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق مقدمہ ٹریفک وارڈن عمران سکندر کی مدعیت میں تھانہ کینٹ میں پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 21 کی سب سیکشن ون ڈی کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے غلط پارکنگ پر کھڑی گاڑی اٹھانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی، گاڑی کا قانون کے مطابق غلط پارکنگ پر چالان ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا، گاڑی دکان کے باہرکھڑی تھی، دکان مالک نے ویڈیو بنائی۔ مزید پڑھیں: صحافی فرحان ملک کو ایف آئی اے نے پیکا قانون کے تحت گرفتار کر لیا مقدمے میں کہا گیا ہے کہ دکان مالک نے ٹریفک پولیس کے خلاف عوام میں نفرت اور اشتعال انگیزی پیدا کرنے کے لیے ویڈیو وائرل کی، ملزم کا اقدام پیکا ایکٹ 2016 کے تحت قابل تعزیز جرم ہے۔
رمضان میں میٹھے سے ہاتھ کیوں نہیں رکتا؟

رمضان میں سحر و افطار کے وقت میٹھے کی مختلف ڈشیں روایتی دسترخوان کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہیں، جن کو دیکھ کر میٹھے سے پرہیز کرنے والے بھی ہاتھ روک نہیں پاتے۔ بہت سے روزہ داروں کی رمضان کے دوران میٹھے کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ صرف جسم کی ضرورت نہیں بلکہ ہمارے کھانے پینے کے معمولات بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ’مسئلہ ہمارے کھانے کے انداز میں ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی روزہ دار افطار کے آغاز میں زیادہ کھجور کھاتا ہے، جس میں شکر ہوتی ہے تو یہ خون میں انسولین کی سطح کو بڑھاتا ہے، جس سے مجموعی طور پر کھانے کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر میٹھے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔‘ ’زیادہ تر روزہ دار جو غلطی کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ افطار کا آغاز تین سے پانچ کھجوریں کھا کر کرتے ہیں، پھر جوس پیتے ہیں، خاص طور پر وہ تیار شدہ رمضان سپیشل جوس جن میں چینی کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے لبلبہ مسلسل انسولین خارج کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ سحری کا وقت آ جاتا ہے۔ اور زیادہ جوس پینے سے وزن بڑھنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔‘ ماہرِ غذائیت نے رمضان میں بعض لوگوں کے زیادہ میٹھا کھانے کی عادت کو روزے کے دوران ان کے جسم میں شوگر کی سطح کم ہونے کا ردِ عمل بھی قرار دیا، جس کی وجہ سے انھیں میٹھے کی زیادہ طلب محسوس ہوتی ہے۔ سائنسی جریدے سیل میٹابولزم میں ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین کی ایک سائنسی تحقیق شائع ہوئی ہے، جس نے میٹھا کھانے کی خواہش اور جگر کی صحت کے درمیان تعلق کو ظاہر کیا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ’جب کوئی شخص میٹھا کھاتا ہے، تو جگر ایک مخصوص ہارمون (FGF21) خارج کرتا ہے جو مسلسل میٹھا اور شکر کھانے کی طلب کا سبب بن سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اس ہارمون کے اخراج کی شرح ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے اور یہاں تک کہ طبی طریقوں سے بھی اسے مکمل طور پر قابو میں رکھنا مشکل ہے۔‘ مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد کے جگر میں اس مخصوص ہارمون کا اخراج زیادہ ہوتا ہے، انھیں مسلسل میٹھا کھانے کی طلب عام لوگوں کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ غذا پہلے معدے اور آنتوں سے گزرتی ہے اور اس کے بعد جگر کھانے کو پراسیس کرنا شروع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے کے بعد ہمیں کبھی محسوس ہوتا ہے کہ پیٹ بھر چکا ہے جبکہ بعض اوقات مزید کھانے کی ہماری خواہش برقرار رہتی ہے۔ روزہ داروں کو چاہیے کہ وہ افطار کے فوراً بعد میٹھا نہ کھائیں کیونکہ بھوک کی شدت کی وجہ سے زیادہ کھانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ افطار کے فوراً بعد میٹھا کھانے سے بدہضمی بھی ہو سکتی ہے۔ میٹھے کا سب سے مناسب وقت افطار کے دو سے تین گھنٹے بعد ہے اور وہ بھی محدود مقدار میں۔ جو مٹھائی آپ کھا رہےہیں، اس کی مقدار پر دھیان دیں یعنی میٹھا اعتدال میں کھائیں، ضرورت سے زیادہ نہیں۔ کوشش کریں کہ روزانہ میٹھی ڈش نہ کھائیں بلکہ وقفے وقفے سے کھائیں۔
سمرجیت سنگھ: حیدرآباد کے لیے کھیلنے والا دہلی کا ابھرتا ستارا

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا دوسرا میچ آج راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم حیدر آباد میں کھیلا گیا، جہاں راجستھان رائلز اور سن رائزرز حیدر آباد ایک دوسرے کے مدِمقابل آئے۔ ایس آر ایچ نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 286 رنز بنائے، میچ میں فتح حاصل کرنے کے لیے انہیں اچھی گیندبازی کی ضرورت تھی۔ ایس آر ایچ کے میڈیم فاسٹ گیندباز سمرجیت سنگھ نے 3 اوورز میں 46 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں، جن میں سے ایک انڈین سٹار بیٹریشوی جیسوال، جب کہ دوسری کپتان ریان پراگ کی تھی۔سمرجیت سنگھ نے ایک ہی اوور میں دونوں شاندار کھلاڑیوں کو چلتا کیا۔ 17 جنوری 1998 کو دہلی میں پیدا ہونے والے سمرجیت سنگھ نے اپنے کرکٹ سفر کا آغاز ڈومیسٹک کرکٹ سے کیا اور آج وہ انڈین پریمیئر لیگ کے ابھرتے ہوئے آل راؤنڈرز میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ 27 سالہ سمرجیت دائیں بازو کے میڈیم فاسٹ بولر ہیں، جو اپنی رفتار اور گیند کو حرکت دینے کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی محنت اور صلاحیت نے انہیں آئی پی ایل کے بڑے فرنچائزز کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بنا دیا ہے۔ سمرجیت نے 2018 میں وجے ہزارے ٹرافی میں لسٹ اے کرکٹ میں ڈیبیو کیا اور اسی سال رنجی ٹرافی میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا۔ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروانے کی ان کی صلاحیت نے انہیں جلد ہی دہلی کے بولنگ اٹیک کا ایک اہم رکن بنا دیا۔ ان کی شاندار کارکردگی نے آئی پی ایل فرنچائزز کی توجہ حاصل کی اور انہیں جلد ہی لیگ کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ ابتدا میں سمرجیت سنگھ کو ممبئی انڈینز نے ایک متبادل کھلاڑی کے طور پر اسکواڈ میں شامل کیا، مگر انہیں ڈیبیو کا موقع نہ مل سکا۔ 2022 میں چنئی سپر کنگز (CSK) نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ لیجنڈری کپتان ایم ایس دھونی کی قیادت میں کھیلتے ہوئے، سمرجیت نے دو سیزن میں 10 میچ کھیلے اور 9 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی درست لائن اور لینتھ کے ساتھ رفتار نے انہیں CSK کے لیے ایک قابلِ اعتماد بولر بنا دیا تھا، مگر 2025 کے سیزن سے قبل چنئی نے انہیں ریلیز کر دیا۔ 2025 کی آئی پی ایل نیلامی میں سمرجیت سنگھ پر سن رائزرز حیدرآباد (SRH) نے بھروسہ کرتے ہوئے انہیں 1.50 کروڑ روپے میں خرید لیا۔ SRH کی پالیسی ہمیشہ سے نوجوان اور باصلاحیت فاسٹ بولرز پر انحصار کرنے کی رہی ہے اور یہ فیصلہ ان کے حق میں گیا۔ 23 مارچ 2025 کو جب SRH نے راجستھان رائلز کے خلاف میدان میں قدم رکھا، تو سمرجیت نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ پہلے بلے سے 286 رنز بنانے کے بعد ایس آر ایچ کو ایک زبردست بولنگ آغاز کی ضرورت تھی اور سمرجیت نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائی۔ انہوں نے اپنے خطرناک باؤنسرز سے یشسوی جیسوال کو مشکل میں ڈالا اور آخرکار ان کی وکٹ حاصل کی۔ چند گیندوں بعدانہوں نے راجستھان کے کپتان ریان پراگ کو بھی ایک شارٹ بال پر قابو میں لے کر پویلین بھیج دیا۔ سمرجیت سنگھ کے لیے یہ آئی پی ایل سیزن نہ صرف خود کو ثابت کرنے کا موقع ہے بلکہ یہ بھی دکھانے کا کہ وہ فرنچائز کرکٹ میں ایک مستقل اور مؤثر بولر بن سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنی فارم کو برقرار رکھتے ہیں، تو ممکن ہے کہ جلد ہی انہیں بھارتی قومی ٹیم میں بھی موقع مل جائے۔
علی امین گنڈاپور ہدایات کے لیے اڈیالہ جیل کے دروازے پر بیٹھا رہے گا تو صوبہ کیسے چلے گا؟ امیر مقام

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور ان کے مشیر بیرسٹر سیف کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور مشیروں کو صوبے اور عوام کے بجائے اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر زیادہ ہے، علی امین گنڈاپور ہدایات کے لیے اڈیالہ جیل کے دروازے پر بیٹھا رہے گا تو صوبہ کیسے چلے گا؟ نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے مطابق امیر مقام نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور صوبے کو اللہ کے حوالے کر کے خود اسلام آباد میں آرام فرما رہے ہیں، وزیر اعلیٰ اور ان کے مشیروں کو بیانات، اعلانات اور تشہیر سے فرصت ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے پر مسلط حکمران جماعت میں انتشار ہے اسی لیے صوبے میں بھی انتشار ہے، وزیر اعلیٰ اور مشیروں کو صوبے اور عوام کے بجائے اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر زیادہ ہے، علی امین گنڈاپور ہدایات کے لیے اڈیالہ جیل کے دروازے پر بیٹھا رہے گا تو صوبہ کیسے چلے گا؟ امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مسلط حکومت سے نجات پہلی شرط ہے، کیونکہ دہشتگرد خود حکومت میں ہوں تو دہشتگردی کیسے ختم ہوگی؟ مزید پڑھیں: ففتھ جنریشن وارفیئر ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے’ صدر پاکستان’ واضح رہے کہ بیرسٹر سیف نے طلال چوہدری اور عرفان صدیقی کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے دہشتگردی کی آگ پر تیل چھڑک رہے ہیں، نواز شریف کی کٹھ پتلیاں کے پی حکومت کو طعنے دے کر اپنے ماضی کو چھپا نہیں سکتیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ سنجیدگی کا علم یہ ہے کہ تنظیم سازی میں پکڑے جانے والے کو وزیر مملکت داخلہ بنا دیا، عرفان صدیقی موقع کی مناسبت سے لبرل بن گئے ہیں، نواز شریف کو نکلوایا پھر منتیں کر کے واپس لانے کا کارنامہ عرفان صدیقی کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہدا کے خون کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلیے استعمال کرنا قابل مذمت اور شرمناک ہے۔
کینیا میں پولیس کیمپ پر حملے میں چھ اہلکار ہلاک، چار زخمی

کینیا کے مشرقی علاقے گارسا کاؤنٹی میں ایک دہشت گرد حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ چار اہلکار زخمی ہوکر اسپتال منتقل کردیئے گئے۔ یہ حملہ اتوار کی صبح ‘علی الصبح’ میں اُس وقت کیا گیا جب حملہ آوروں نے پولیس کے ایک کیمپ پر دھاوا بول دیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آور ممکنہ طور پر الصومالی دہشت گرد گروہ ‘الشباب’ کے ارکان تھے جو کہ القاعدہ سے وابستہ ہیں۔ الشباب کی طرف سے کیے جانے والے حملے میں حملہ آوروں نے متنوع ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پولیس کے اس کیمپ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق اس حملے میں چھ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ چار دیگر زخمی ہیں اور انہیں فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب کینیا میں دہشت گرد گروہ کی جانب سے سرحدی علاقوں میں حملوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ الشباب گروہ نے کئی برسوں سے صومالیہ کی مرکزی حکومت کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ اپنے مخصوص سخت اسلامی شریعت کے قانون کے نفاذ کے لیے سرگرم ہے۔ اس گروہ کے حملے کینیا کے سرحدی علاقوں میں عام ہیں جہاں وہ نہ صرف فوجی بلکہ شہری اہداف کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ منگل کے روز امریکی سفارت خانے نے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کینیا کے کچھ علاقوں، بشمول گارسا کاؤنٹی میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر امریکی شہریوں کو سفر نہ کرنے کی ہدایت دی۔ یہ حملہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیاں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی کارروائیوں سے نہ صرف کینیا بلکہ پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ مزید پڑھیں: نیو میکسیکو میں ‘گروہوں میں جھگڑے’ فائرنگ سے تین نوجوان ہلاک 15 زخمی ہوگئے
یوم پاکستان پر اہم شخصیات کو ایوارڈز سے نوازدیا گیا، کون کون اہل پائے؟

ایوانِ صدر میں یومِ پاکستان کے موقع پر اعلیٰ ترین سول اعزازات دینے کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملک کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ صدرِ پاکستان نے تقریب کی صدارت کی، جب کہ اعلیٰ عسکری و سول قیادت بھی موجود تھی۔ سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کے لیے شاندار خدمات کے اعتراف میں نشانِ پاکستان سے نوازا گیا، جو ان کی صاحبزادی صنم بھٹو نے وصول کیا۔ ایئر مارشل (ر) راجہ شاہد حامد مرحوم کو گراں قدر خدمات پر نشانِ امتیاز دیا گیا، جب کہ مالیاتی شعبے میں نمایاں خدمات پر سلطان علی اکبر الانا کو نشانِ خدمت عطا کیا گیا۔ ملک کی حفاظت اور عوام کی خدمت کے دوران غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کو ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا، جن میں ایس پی اعجاز محمد خان شہید، ڈی ایس پی علامہ اقبال شہید اور ڈی ایس پی سردار حسین شامن ہیں۔ ان کے علاوہ کانسٹیبل جہانزیب شہید، کانسٹیبل اعجاز علی، ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی شہید، سب انسپکٹر تیمور شہزاد، ایس پی محمد اعجاز خان، ایل ایچ سی محمد فاروق اور سپاہی محمد آصف شہید کو بھی ہلالِ شجاعت عطا کیا گیا۔ تعلیم کے شعبے میں شاندار خدمات پر اللہ رکھیو شہید کو ہلالِ شجاعت دیا گیا۔ سول سروس میں نمایاں کارکردگی پر ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کو ہلالِ امتیاز عطا کیا گیا، جنہوں نے مفادِ عامہ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کیپٹن (ر) محمد خرم آغا اور سید علی حیدر گیلانی کو خدماتِ عامہ میں شاندار کارکردگی پر ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ حسین داؤد کو مفادِ عامہ کے شعبے میں شاندار خدمات پر ہلالِ امتیاز عطا کیا گیا، جب کہ خواجہ انور مجید کو سماجی شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر ہلالِ امتیاز عطا کیا گیا۔ پروفیسر داکٹر شہریار اور ڈاکٹر زریاب کو طب کے شعبے میں نمایاں خدمات پر ہلالِ امتیاز عطا کیے گئے، جب کہ جاوید جبار کو ادب کے شعبے میں شاندار خدمات پر ہلالِ امتیاز عطا کیا گیا۔ تقریب کے دوران ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جب کہ ملک و قوم کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔