اپریل 5, 2025 4:45 شام

English / Urdu

وزیراعظم کا بجلی قیمتوں میں کمی کا اعلان، ریلیف پیکج جلد متعارف کرایا جائے گا

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ عوام کو بجلی کے بل میں کمی کا بڑا ریلیف پیکج جلد متعارف کرایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ پیکج عوام کے لئے بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی لانے کا باعث بنے گا اور اس کے لیے بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے ثمرات کو عوام تک پہنچایا جائے گا۔ اسلام آباد میں پاور ڈویژن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام شروع کر دیا ہے کہ عوام کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں فوری ریلیف ملے۔ ان اصلاحات کی مدد سے حکومت بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہو گی۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی سولرائزیشن پالیسی کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں انہیں دور کرنے کے لئے حقائق پر مبنی معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ففتھ جنریشن وارفیئر ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے: صدر پاکستان اس کے علاوہ وزیراعظم نے پاور ڈویژن، واٹر ریسورسز ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کے مابین ہم آہنگی کو بڑھانے کی ہدایت دیتے ہوئے توانائی کے شعبے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کیا جائے تاکہ ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور بجلی کی پیداوار کمپنیوں کی قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 23 مارچ کو بجلی کی قیمتوں میں 8 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کی منظوری آئی ایم ایف سے مل چکی ہے۔ اس کے علاوہ وزارت خزانہ اور پاور ڈویژن نے اس کمی کو مزید 2 روپے فی یونٹ تک کم کرنے کے اضافی اقدامات پر غور کیا ہے جس کا حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔ یہ کمی یکم اپریل 2025 سے نافذ ہوگی جس کے اثرات مئی میں صارفین کے بلز میں نظر آئیں گے۔ اس 8 روپے فی یونٹ کمی میں سے 4.73 روپے فی یونٹ کو مستقل ایڈجسٹمنٹ کے طور پر مختص کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ اعلان عوام کے لئے ایک خوشخبری ہے جو کہ طویل عرصے سے مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ اس ریلیف پیکج سے نہ صرف بجلی کے بلز میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا سفر بھی تیز ہوگا جس سے ملک کی معیشت میں استحکام آئے گا۔ مزید پڑھیں: ’باہمی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کے لیے متحد ہونا ہوگا‘ وفاقی وزیرداخلہ

’باہمی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کے لیے متحد ہونا ہوگا‘ وفاقی وزیرداخلہ

محسن نقوی نے کہا ہے کہ ہمیں آپس کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر وطن عزیز کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے یکجا ہونا ضروری ہے۔ یوم پاکستان کے موقع پر محسن نقوی نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ کا دن ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف خوشی کا موقع ہے بلکہ ہمارے مستقبل کی ذمہ داریوں کا بھی پتہ دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ ہمیں اتحاد، قربانی اور عزم کی تجدید کا پیغام دیتا ہے۔ اس موقع پر تمام پاکستانیوں کو قومی یکجہتی اور بھائی چارے کا عہد کرنا چاہیے اور پاکستان کے مفاد میں یکجا ہو کر کام کرنا چاہیے اور ہمیں باہمی اختلافات کو چھوڑ کر ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف باتوں کی بجائے عملی طور پر اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر عمل کریں۔ پاکستان کی سرزمین ہمارے لیے ایک عظیم تحفہ ہے اور اس کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ ہم سب کو قومی یکجہتی اور پختہ عزم کے ساتھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور دہشت گردی و انتشار پھیلانے والوں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور ہم ان کے مکمل خاتمے تک اس عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ آئیں ہم سب مل کر روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے کام کرنے کا عہد کریں۔ مزید پڑھیں: پاکستان میں جنگلات کی حالت تشویش ناک: قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت

پاکستان میں کاروں کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان، کتنی سستی ہوں گی؟

پاکستان اور آئی ایم ایف نے آئندہ پانچ سالوں کے دوران ملک کے بھاری بھرکم  ٹیرف کو کم کر کے 6 فیصد تک لانے پر اتفاق کیا ہے، جو اس وقت 10.6 فیصد ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی معیشت کو عالمی مسابقت کے لیے کھولنے، تجارتی ماحول کو بہتر بنانے اور درآمدی لاگت کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد، پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے کم ٹیرف رکھنے والا ملک بن جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، کیونکہ آٹوموبائل سیکٹر پر لاگو درآمدی ڈیوٹیز اور دیگر متعلقہ اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ ٹیرف میں کمی کا عمل جولائی 2025 سے شروع ہوگا اور 2030 تک 6 فیصد کی سطح پر پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ عمل دو پالیسیوں کے تحت ہوگا۔ نیشنل ٹیرف پالیسی، جس کے تحت مجموعی اوسط ٹیرف 7.4 فیصد مقرر کیا جائے گا، جو پہلے سے طے شدہ 7.1 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی، جو آٹوموبائل سیکٹر میں ٹیرف میں مزید کمی لانے کے لیے کام کرے گی۔ ٹیرف میں متوقع تبدیلیوں کے مطابق اضافی کسٹم ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ ریگولیٹری ڈیوٹی میں 80 فیصد کمی کی جائے گی۔ کسٹم ایکٹ کے پانچویں شیڈول کے تحت دی گئی بعض مراعات کو واپس لے لیا جائے گا۔ مخصوص اشیا پر لاگو 7 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی اور صفر ٹیرف سلیب پر لاگو 2 فیصد ڈیوٹی بھی ختم کر دی جائے گی۔ آٹوموبائل سیکٹر میں 2030 تک تمام اضافی کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کر دی جائیں گی۔ درآمدی گاڑیوں پر زیادہ سے زیادہ ٹیرف 20 فیصد تک محدود کر دیا جائے گا۔ پہلے سال میں گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 55 سے 90 فیصد تک کم کی جائے گی، اور آنے والے برسوں میں اس میں مزید کمی ہوگی۔ ایک نیا 6 فیصد کسٹم ڈیوٹی سلیب متعارف کرایا جائے گا، جبکہ مختلف موجودہ سلیبس میں تدریجی کمی کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر، آئی ایم ایف نے ٹیرف کو 5 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن پاکستان نے اسے 6 فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ نئی ٹیرف پالیسی کو جون کے اختتام سے قبل وفاقی کابینہ سے منظور کروا لیا جائے اور اس کا مکمل نفاذ 2025-26 کے بجٹ میں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے متوقع نتائج میں درآمدی اشیا کی قیمتوں میں کمی، خاص طور پر گاڑیوں اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں کمی شامل ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درآمد شدہ اشیا کی لاگت کم ہونے سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ صارفین کو سستی مصنوعات ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ حکومت کو محصولات میں ممکنہ کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جسے دیگر مالیاتی اقدامات کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ فیصلہ پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے، کاروباری لاگت کو کم کرنے اور معیشت کو مزید آزاد بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔

پاکستان میں جنگلات کی حالت تشویش ناک: قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت

پاکستان میں جنگلات کی حالت انتہائی تشویش ناک حد تک پہنچ چکی ہے، عالمی قدرتی تحفظ ادارے (WWF) کے مطابق پاکستان میں جنگلات نہ صرف قدرتی ماحول کا حصہ ہیں بلکہ سیلاب اور خشک سالی جیسے قدرتی آفات کو قابو کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر حکومت، مقامی کمیونٹیز اور سول سوسائٹی کی بھرپور کوششوں کے باوجود ہر سال 11,000 ہیکٹر جنگلات کی زمین ضائع ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے جنگلات کے لیے سب سے بڑے خطرات میں غیر قانونی کٹائی، جنگل میں آگ، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی زمین کی توسیع شامل ہیں۔ ان تمام عوامل نے جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور بیشتر جنگلوں کی تو صحت دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ WWF کے مطابق پاکستان کا جنگلاتی رقبہ صرف 5 فیصد ہے اور بیشتر زمین خشک اور نیم خشک علاقوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے بارشوں کی کمی کے سبب جنگلات کی افزائش بھی مشکل ہے۔ پاکستان کے جنگلات کا تحفظ ایک مشترکہ اقدام کے تحت ممکن ہے جس میں حکومت قدرتی تحفظ کے ادارے اور مقامی کمیونٹیز کا فعال کردار ضروری ہے۔ WWF  نے کہا کہ اگر جنگلات کو بچانا ہے تو ایک جامع حکمت عملی درکار ہے تاکہ نہ صرف ان کے قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جا سکے بلکہ سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات سے بھی بچا جا سکے۔ اگر اس اہم مسئلے پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں اس کا اثر صرف جنگلات تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے ملک کی ماحولیاتی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ مزید پڑھیں: مرمت کا کام ختم: طورخم بارڈر مکمل بحال کر دیا گیا

نیو میکسیکو میں ‘گروہوں میں جھگڑے’ فائرنگ سے تین نوجوان ہلاک 15 زخمی ہوگئے

نیو میکسیکو کے شہر لاس کروس کے ینگ پارک میں جمعہ کی رات ایک غیر منظور شدہ کار شو کے دوران فائرنگ کے واقعے میں تین نوجوان ہلاک اور 15 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ رات 10 بجے کے قریب دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کے بعد شروع ہوئی۔ ہلاک ہونے والوں میں دو 19 سالہ اور ایک 16 سالہ نوجوان شامل ہیں، تاہم ان کے نام جاری نہیں کیے گئے۔ زخمیوں کی عمریں 16 سے 36 سال کے درمیان ہیں، سات افراد کو جدید طبی نگہداشت کے لیے ایل پاسو کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ جائے وقوعہ سے ہینڈگن کیلیبری کے خول برآمد ہوئے، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ لاس کروس کے میئر ایرک اینریکیز نے اس واقعے کو کمیونٹی کے لیے افسوسناک دن قرار دیا اور اتحاد کی اپیل کی۔ نیو میکسیکو کی گورنر مشیل لوجن گریشام نے اپنی وحشت اور دل شکستگی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے ریاستی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ لاس کروس میں پرتشدد جرائم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پولیس چیف جیریمی اسٹوری نے کہا کہ ینگ پارک میں جرائم کی تاریخ رہی ہے اور پولیس نے رات کو اسے بند رکھنے جیسے اقدامات کیے ہیں، لیکن اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ گن وائلنس آرکائیو کے مطابق یہ واقعہ امریکہ میں رواں سال اب تک ہونے والے بڑے پیمانے پر فائرنگ کے 53 ویں واقعے میں شمار ہوتا ہے۔ لاس کروس سٹی کونسلر جوہانا بینکومو نے اس شوٹنگ کو تشدد کا ایک گھناؤنا فعل قرار دیا جس سے شہر میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ لاس کروس امریکہ میکسیکو کی سرحد کے قریب واقع ہے اور ایل پاسو، ٹیکساس سے تقریباً 41 میل شمال میں ہے۔ حکام تحقیقات جاری رکھنے کے لیے کسی کو بھی معلومات کے ساتھ آگے آنے کی تاکید کر رہے ہیں۔

ایران نے متنازعہ خلیجی جزائر پر میزائل سسٹمز تعینات کر دیے

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے تین اہم خلیجی جزائر پر جدید ترین میزائل سسٹمز کی تعیناتی کا اعلان کردیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ چکی ہے۔ یہ میزائل سسٹمز جزائر گرٹر تنب، لسر تنب اور ابو موسیٰ پر نصب کیے گئے ہیں جو ہرمز کے آبنائے کے قریب واقع ہیں۔ یہ آبنایا عالمی سطح پر تیل کی نقل و حرکت کے لیے نہایت اہم ہے جس سے ان جزائر کی اسٹریٹجک اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کی نیول کمانڈر ‘ایلی رضا تنگسیری’ نے ایک بیان میں کہا کہ ان جزائر کو مکمل طور پر آپریٹیو اور مسلح کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم دشمن کے اڈوں، جہازوں اور دیگر اثاثوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں”۔ تنگسیری نے مزید وضاحت کی کہ یہ جدید میزائل سسٹمز 600 کلومیٹر (370 میل) تک کے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں جس سے ان کی ضرب کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔ یہ اقدام اس موقع پر سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو ایک خط بھیجا جس میں جوہری مذاکرات کے آغاز کی تجویز دیتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو اس کے سنگین عسکری نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے اس پیغام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی دھمکیاں “کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گی” اور کہا کہ اگر دشمن نے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو ایران ان کو ‘زور دار تمانچہ’ مارے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے پیغام کو دھمکی آمیز لیکن سفارتی لحاظ سے کچھ گنجائش دینے والا قرار دیا اور کہا کہ ایران جلد ہی اس کا باضابطہ جواب دے گا۔ دوسری جانب امریکی مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے ‘اسٹیو وٹکوف’ نے کہا کہ “یہ خط اعتماد کی فضا بنانے کے لیے تھا تاکہ کسی بھی فوجی تصادم سے بچا جا سکے، نہ کہ اسے بھڑکانے کے لیے۔” ایران 1971 سے ان تین جزائر پر قابض ہے حالانکہ متحدہ عرب امارات ان کی خودمختاری پر ہمیشہ سے دعویٰ کرتا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران نے ان جزائر پر اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم کیا ہے جس کا مقصد خلیج میں بڑھتے ہوئے علاقائی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ مزید پڑھیں: اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیاں: یورپین ممالک کی فوری جنگ بندی کے لیے اپیل

‘نسل پرستی اور دائیں بازو کی سیاست’ فرانس میں 91 ہزار لوگ سڑکوں پر

فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے نسل پرستی اور انتہائی دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف مظاہرے کیے۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب فرانسیسی حکومت امیگریشن پالیسیوں اور سرحدی کنٹرول کو سخت کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق، ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 91,000 افراد شریک ہوئے، جن میں سے 21,500 افراد پیرس میں جمع ہوئے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے۔ مارسیل میں 3,300 اور للی میں 2,600 افراد نے احتجاج کیا، جہاں کئی پلے کارڈز پر اسلامو فوبیا کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے فاشزم کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان صرف فرانس تک محدود نہیں بلکہ امریکا میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ ایل ایف آئی پارٹی کی قانون ساز اوریلی ٹرور نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت میرین لی پین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ اس کے خیالات حکومت میں بھی سرایت کر رہے ہیں۔ ایک طالبہ انز فری ہاوٹ نے وزیر داخلہ برونو ریٹیلیو کے اسلام اور الجزائر سے متعلق بیانات کو تشویشناک قرار دیا۔ یہ احتجاج نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن کے ایک روز بعد ہوا، جس میں ہیومن رائٹس لیگ نے نسل پرستانہ کارروائیوں میں خطرناک اضافے پر تشویش ظاہر کی۔ ایس او ایس راسیسمی کے سربراہ ڈومینیک سوپو نے بھی مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے خلاف امتیازی رویوں میں اضافے کی نشاندہی کی۔ ایل ایف آئی پارٹی نے مظاہروں کی حمایت میں فرانسیسی میڈیا شخصیت سیرل ہنونا کی تصویر شائع کی، جس پر شدید ردعمل آیا۔ ناقدین نے پارٹی پر سامی مخالف جذبات بھڑکانے کا الزام عائد کیا، جس کے بعد پارٹی نے تصویر کو “غلطی” تسلیم کرتے ہوئے واپس لے لیا۔

اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیاں: یورپی ممالک کی فوری جنگ بندی کے لیے اپیل

اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ میں کشیدگی آئے روز بھڑھتی ہی چلی جاری رہی ہے جس سے غزہ میں ہر طرف تباہی پھیل چکی ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ میں بربادی سے متاثرہ علاقے پر پھر سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں ایک نئی حملے کی لہر شروع کی تھی جس سے جنوری 19 کے بعد کی خاموشی کا خاتمہ ہوگیا اور علاقے میں دھماکوں کی آوازیں پھر سے گونجنے لگیں۔ اس آپریشن نے فلسطینیوں کی زندگیوں میں مزید تباہی اور بے بسی کی لہر دوڑا دی جس کے نتیجے میں متعدد معصوم فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی اس کارروائی کے دوران جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کی رات غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا کہ اس کی فوری ضرورت ہے تاکہ غزہ کے عوام کو مزید اذیت سے بچایا جا سکے۔ ان وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ “ہم شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “تمام فریقین کو مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کی ضرورت ہے تاکہ جنگ بندی کا مکمل نفاذ ہو سکے اور یہ مستقل طور پر قائم رہ سکے۔” یہ بھی پڑھیں: اٹلی کی وزارت تعلیم کا جینڈر نیوٹرل علامات پر پابندی کا فیصلہ ان وزرائے خارجہ نے خاص طور پر حماس پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے تمام رہائشیوں کو رہا کرے اور غزہ میں اپنی حکومت کو مزید خطرہ بننے سے روکے۔ ساتھ ہی اسرائیل سے یہ بھی کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل تعمیل کرے اور امدادی سامان کی ترسیل کو ممکن بنائے۔ اس دوران اسرائیلی وزیر دفاع ‘اسرائیل کٹز’ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کیا تو غزہ کے کچھ حصوں کو اسرائیل کے ساتھ ضم کر لیا جائے گا۔ یہ دھمکی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعلقات کی مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسری جانب لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فوج کی کارروائی نے مزید خونریزی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ہفتے کو اسرائیل نے لبنان کے جنوبی شہر تولین پر فضائی حملے کیے جس میں ایک بچی سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ لبنان کی سرحد سے اسرائیل کی طرف چھ راکٹ فائر ہونے کے بعد کیا گیا تھا جن میں سے تین راکٹ اسرائیلی فوج نے مار گرائے۔ لبنانی نیوز ایجنسی نے اس واقعے کی اطلاع دی اور کہا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دو افراد میں ایک بچی بھی شامل تھی۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان سے چھ راکٹ فائر ہونے کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا۔ تاہم، حزب اللہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اس راکٹ حملے میں ملوث نہیں ہیں”۔ حزب اللہ نے اس حملے کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ وہ لبنانی ریاست کے ساتھ مل کر اس صورتحال سے نمٹے گا۔ غزہ اور لبنان کی یہ کشیدہ صورتحال پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے اور عالمی رہنماؤں کو اس پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں مزید خون ریزی کو روکا جا سکے۔ مزید پڑھیں: یوکرین پر روسی ڈرون حملہ: شہر میں آگ بھڑک اٹھی، متعدد افراد ہلاک

اٹلی کی وزارت تعلیم کا جینڈر نیوٹرل علامات پر پابندی کا فیصلہ

اٹلی کی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ اسکولوں کو جینڈر نیوٹرل علامات کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ علامات واضح نہیں ہیں اور اٹالین گرامر کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے ثقافتی اختلافات کو مزید شدت دینا ہے اور خاص طور پر وہ جو حکومت کے دائیں بازو کے موقف اور ایل جی بی ٹی کیو اور خواتین کے حقوق کے علمبرداروں کے درمیان ہیں۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ “غیر مطابق گرافک علامات، جیسے کہ ایسٹرکِس (*) اور شوا (ə)، زبان کے اصولوں کے خلاف ہیں اور ادارہ جاتی ابلاغ کی وضاحت اور یکسانیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔” وزیر اعظم جورجیا میلونی نے 2022 میں اقتدار میں آنے کے بعد اس وقت یہ تنازعہ کھڑا کر دیا تھا جب انہوں نے وزیراعظم کے عہدے کو “presidente del consiglio” کے طور پر پہچانے جانے کی بجائے اسے مردانہ لفظ “il” سے خطاب کرنے کی حمایت کی۔ یہ بھی پڑھیں: یوکرین پر روسی ڈرون حملہ: شہر میں آگ بھڑک اٹھی، متعدد افراد ہلاک اٹلی کی زبان جو ‘لاطینی’ بنیادوں پر ہے، اس میں تمام اسماء اور صفات کا جینڈر (مردانہ یا زنانہ) ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب دونوں جنسوں والے جمع اسماء ہوں تو مردانہ شکل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد اسے مردانہ غلبے کی علامت سمجھتے ہیں اور جینڈر نیوٹرل علامات، جیسے ایسٹرکِس اور شوا کے ذریعے اس کو تبدیل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ اٹلی کی “اکیڈمیا ڈیلا کروسکا” جو اٹالین زبان کا سرپرست ادارہ ہے، اس ادارے نے بھی ماضی میں ان غیر روایتی علامات کے استعمال کی مخالفت کی ہے اور سرکاری دستاویزات میں ان کی عدم موجودگی کی تجویز دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور ثقافتی کشیدگی کا حصہ بن چکا ہے جہاں دائیں بازو کی حکومت اپنے روایتی اقدار کی محافظ بن کر سامنے آ رہی ہے جبکہ آزادی اور مساوات کے حامی اس قدم کو اقلیتوں کے حقوق پر حملہ سمجھتے ہیں۔ اب اس بات کا امکان ہے کہ یہ اقدام ایک نیا تنازعہ پیدا کرے گا جو مستقبل میں مزید سماجی بحث کا سبب بن سکتا ہے۔ مزید پڑھیں: اسرائیلی حملے میں ‘حماس کے رہنما’ اپنی اہلیہ سمیت شہید

مرمت کا کام ختم: طورخم بارڈر مکمل بحال کر دیا گیا

طورخم بارڈر امیگریشن سیکشن ہفتے کے روز مکمل طور پر بحال کر دیا گیا، جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پیدل چلنے والوں کی آمدورفت ممکن ہو گئی۔ امیگریشن حکام کے مطابق، صرف درست پاسپورٹ اور ویزا رکھنے والے مسافروں کو افغانستان میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ پیدل چلنے والوں کے لیے کراسنگ کو ابتدائی طور پر گزشتہ جمعہ کو دوبارہ کھولا جانا تھا، لیکن امیگریشن سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث تاخیر ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ 21 فروری کو پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان مسلح تصادم کے دوران امیگریشن سسٹم کو نقصان پہنچا تھا، جس کی وجہ سے سروسز معطل ہوگئیں۔ سرحدی گزرگاہ کو 25 دن بعد بدھ کے روز جزوی طور پر کھولا گیا، لیکن اس دوران صرف مال بردار گاڑیوں اور طبی ہنگامی صورتحال کے لیے آمدورفت کی اجازت دی گئی۔ مرمت کا کام مکمل ہونے کے بعد اب پیدل چلنے والوں کی باقاعدہ آمدورفت بھی بحال ہو گئی ہے۔ سرحد کی بحالی دونوں اطراف کے قبائلی عمائدین، مذہبی اسکالرز اور تاجروں کے مابین ہونے والے جرگوں کے بعد ممکن ہوئی۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق، افغان طالبان نے پاکستان کی متنازعہ چوکی پر کام روکنے کے مطالبے کو قبول کر لیا، جس کے بعد اہم تجارتی راستے کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان فلیگ میٹنگ بھی منعقد ہوئی۔ طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک کلیدی ٹرانزٹ پوائنٹ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 10,000 افراد سرحد عبور کرتے ہیں۔ پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت کی بحالی سے ان ہزاروں مسافروں کو سہولت ملے گی جو تجارت، طبی علاج اور خاندانی دوروں کے لیے اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ سرحدی کراسنگ 21 فروری کو اس وقت بند کر دی گئی تھی جب پاکستانی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث کشیدگی پیدا ہوگئی۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں چھ فوجیوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ بندش کی وجہ سے ہزاروں مسافر دونوں طرف پھنس گئے، جس کے نتیجے میں سرحد پر شدید بھیڑ دیکھنے میں آئی۔ افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں محکمہ اطلاعات کے سربراہ نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ بھیڑ سے بچنے کے لیے کم از کم دو دن انتظار کریں، اور یقین دہانی کرائی کہ اگلے دو سے تین دن میں رش میں کمی آ جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ہفتے کے روز افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق اور افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے درمیان ملاقات ہوئی۔