اپریل 6, 2025 4:45 صبح

English / Urdu

چوتھا ٹی ٹوئنٹی: نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 115 رنز سے شکست دے دی

سیریز کے چوتھے ٹی 20 میچ میں نیوزی لینڈ کے بولرز  نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے بنائے گئے 221 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 16.2 اوورز میں 105 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کا ہدف کے تعاقب میں آغاز نہایت مایوس کن رہا، اوپنر محمد حارث صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ حسن نواز، کپتان سلمان علی آغا، شاداب خان اور عباس آفریدی ایک، ایک رن بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ اس کے علاوہ خوشدل شاہ، شاہین آفریدی اور حارث روف بھی 6، 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ عرفان خان نیازی نے 24 رنز بنائے جب کہ عبدالصمد 44 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور ابرار احمد ایک رن کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے جیکب ڈفی نے 4 وکٹیں حاصل کیں، زکری فولکس نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ول او رورک، جیمز نیشم اور اش سوڈھی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف چوتھے ٹی ٹونٹی میں ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ یہ میچ ماؤنٹ مونگانوئی میں کھیلا جا رہا ہے،ان پانچ میچیز کی سیریز میں نیوزی لینڈ کو1-2 کی برتری حاصل ہے۔ میزبان ٹیم نے پہلے دو میچوں میں بالترتیب 9 اور 5 وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے سیریز میں برتری حاصل کی تھی، تاہم تیسرے میچ میں پاکستان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے 9 وکٹوں سے فتح حاصل کر کے فرق کم کیا۔ پاکستان کی قیادت سلمان آغا کر رہے ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی قیادت مائیکل بریسویل کر رہے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پانچواں اور آخری میچ 26 مارچ کو ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا۔ چوتھا ٹی ٹونٹی پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11:15 بجے شروع ہوگا۔

یوکرین پر روسی ڈرون حملہ: شہر میں آگ بھڑک اٹھی، متعدد افراد ہلاک

آج صبح روس نے یوکرین پر ڈرون حملہ کر دیا جس کہ نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہوئے۔ یہ حملہ اتنی شدت کا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی اور بلند عمارتوں میں تباہی مچ گئی۔ کیف میں اس حملے کہ بعد وہاں کہ میئر ‘وٹالی کلیچکو’ نے اپنے ٹیلی گرام پیغام میں اس بات کی تصدیق کی کہ “یہ دشمن کا بڑا ڈرون حملہ تھا”۔ ابتدائی طور پر اس حملے کی شدت اور اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں لیکن عالمی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کے عینی شاہدین نے شہر میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں جو ممکنہ طور پر فضائی دفاعی نظام کی کارروائی تھی۔ دوسری جانب یوکرین کی ایمرجنسی سروسز نے رات کے وقت جاری تصاویر میں دکھایا کہ فائر فائٹرز بلند عمارتوں میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ‘دنیپرووسکی’  ضلع میں ایک خاتون کی موت اس وقت ہوئی جب ڈرون کا ملبہ ایک بلند عمارت میں گر کر آگ بھڑکنے کا باعث بنا۔ اس واقعے میں کم از کم 27 افراد کو عمارت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا۔ یہ بھی پڑھیں: امریکا کے کئی شہروں میں ایلون مسک کے خلاف احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟ اس کے علاوہ ایک اور فرد کی ہلاکت کیف کے ایک ضلع میں ہوئی، ایمرجنسی سروسز کے مطابق اس حملے کے دوران سات افراد زخمی ہو گئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ کیف کے مختلف علاقوں میں متعدد مکانات کو نقصان پہنچا، اور متعدد علاقے آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ اس حملے نے کیف اور اس کے اطراف کے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلایا دیا ہے جبکہ یوکرین کی فضائی افواج نے بتایا کہ کیف اس کے نواحی علاقے اور مشرقی یوکرین کے مختلف حصوں میں پانچ گھنٹوں سے زائد عرصہ تک ایئر ریڈ الرٹس جاری رہے۔ یاد رہے کہ اس وقت دونوں طرف کی افواج کی طرف سے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی حکومت یوکرین اور روس کے درمیان جزوی جنگ بندی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں کمی کے لیے بات چیت کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ تاہم دونوں فریقین نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ روسی حکام کی طرف سے ابھی تک اس حملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے روسی افواج کی طرف سے جاری جارحیت کا حصہ ہی جو تین سال سے جاری جنگ میں شدت اختیار کر چکے ہیں۔ یوکرین کے حکام نے اس حملے کے بعد شہر بھر میں ایمرجنسی سروسز کو متحرک کر دیا ہے اور عوامی مراکز کو ہنگامی طور پر کھول دیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو فوری علاج فراہم کیا جا سکے۔ مزید پڑھیں: اسرائیلی حملے میں ‘حماس کے رہنما’ اپنی اہلیہ سمیت شہید

’ففتھ جنریشن وارفیئر ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے’ صدر پاکستان

اسلام آباد میں یوم پاکستان کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ملک کو اس وقت بڑے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور بہادر مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع میں عظیم قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہیں گے، اور ہر پاکستانی کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ یوم پاکستان پریڈ کی مرکزی تقریب سے خطاب میں صدر مملکت نے ایک ترقی یافتہ اور مضبوط پاکستان کی ضرورت پر زور دیا اور شاندار پریڈ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے فتنہ الخوارج اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیابی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ صدر زرداری نے ففتھ جنریشن وارفیئر کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم باہمت ہے اور ہر مشکل پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بھارت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمارا سفر آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں، اور تمام پاکستانیوں کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر ملکی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا، افراط زر میں مسلسل کمی آئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معاشی بہتری کو تسلیم کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ درست پالیسیوں، نیک نیتی اور قومی اتحاد کے ذریعے ہی معاشی خوشحالی حاصل کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے مادرِ وطن کے تحفظ میں جانیں قربان کرنے والے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ یوم پاکستان پر اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی قوم کو یوم پاکستان کی مبارک باد پیش کی اور اس دن کو غربت کے خاتمے، مساوات اور کمزور طبقات کے تحفظ کے عہد کے طور پر منانے پر زور دیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کا دن اس عزم کا متقاضی ہے کہ ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا اور پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ مربوط پالیسی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو ایک مضبوط معیشت بنایا جائے گا اور ملک میں خوشحالی کے نئے دور کا جلد آغاز ہوگا۔

کیا جعفر ایکسپریس عید سے پہلے بحال ہوگی؟

جعفر ایکسپریس پر حملے کے دس روز بعد بھی ٹرین سروس تا حال بحال نہیں ہوسکی۔ ریلوے حکام کے مطابق سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد ہی ٹرین سروس بحال کی جائے گی۔ حملے کے بعد کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے داخلی راستوں پر تالے لگا دیے گئے ہیں۔ 11 مارچ کو بلوچستان کے ضلع بولان میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد مارے گئے جبکہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس  9 بوگیوں پر مشتمل تھی ۔ ٹرین منگل کی صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی، مسافر ٹرین کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی کہ اس دوران پہلے ٹریک پر دھماکا کیا گیا اور پھر ٹرین پر فائرنگ ہوئی جس کے بعد ٹرین میں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ بولان کے علاقےمیں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر کے اسے روک لیا۔ شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بنا کر پہاڑی علاقے کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کی وجہ سے کلیئرنس آپریشن میں مشکلات درپیش آئیں۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مسافر بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔ کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد سیٹلائٹ فونز کے ذریعے اپنے سہولت کاروں  سے رابطے میں تھے اور مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ریلوے حکام نے تصدیق کی تھی  کہ حملے کے بعد پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس اور کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل  کو روک دیا گیا ہے، تاکہ مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

اسرائیلی حملے میں ‘حماس کے رہنما’ اپنی اہلیہ سمیت شہید

جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں اتوار کے روز حماس کے سیاسی رہنما صلاح البرداویل اپنی اہلیہ سمیت ہلاک ہو گئے، حماس کے حکام نے تصدیق کی۔ برداویل حماس کے سیاسی دفتر کے رکن تھے اور ان کی ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل نے غزہ میں اپنی فضائی اور زمینی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ حماس کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے فیس بک پر برداویل کی موت پر اظہارِ افسوس کیا، جبکہ حماس کے بیان میں کہا گیا کہ “برداویل اور ان کی اہلیہ کا خون آزادی کی جنگ کو مزید تقویت دے گا۔” دو ماہ کی نسبتی خاموشی کے بعد، اسرائیل نے جنگ بندی کو ترک کرتے ہوئے منگل کو ایک نئی مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں پورے شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ میں شدید بمباری ہوئی۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، صرف منگل کے روز کم از کم 400 افراد ہلاک ہوئے، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔ حماس کے مطابق، اسرائیل نے اپنے حملوں میں حماس کے مزید اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنایا، جن میں ڈی فیکٹو حکومتی سربراہ عصام عدلیس اور داخلی سلامتی کے سربراہ محمود ابو وتفہ شامل ہیں۔ رفح میں بھی ایک مکان پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ عرب اور یورپی ممالک نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ میں انسانی امداد کی رسائی بحال کرے۔ تاہم، اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ حماس امداد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کی حماس نے تردید کی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر اپنی تباہ کن کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جس میں اب تک فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 49,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

امریکا کے کئی شہروں میں ایلون مسک کے خلاف احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

ہفتے کے روز واشنگٹن میں ایک ٹیسلا ڈیلرشپ کے باہر تقریباً 100 افراد نے احتجاج کیا، جنہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور رقص کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی کے سی ای او ایلون مسک پر برہمی کا اظہار کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسک وفاقی ملازمین میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مظاہرے کے قریب سے گزرنے والی کاروں کے ہارن بجانے سے احتجاج کو مزید توجہ ملی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی تصاویر تھیں، جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکومتی کارکردگی کی نگرانی کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس ٹاسک فورس نے اب تک وفاقی سویلین افرادی قوت میں ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتوں میں کٹوتی کی ہے اور غیر ملکی امداد کو بھی منجمد کرنے کی تجویز دی ہے۔ احتجاج میں شریک میلیسا نٹسن نے کہا، “ہم یہاں خوشی کے ساتھ آئے ہیں تاکہ دوسروں کو دکھا سکیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔” یہ مظاہرے صرف واشنگٹن تک محدود نہیں رہے بلکہ لاس اینجلس سمیت دیگر امریکی شہروں اور ٹورنٹو جیسے بین الاقوامی مقامات پر بھی لوگوں نے شرکت کی۔ کینیڈا میں بعض افراد نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کینیڈین اشیاء پر محصولات عائد کرنے کے بعد امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا عزم ظاہر کیا۔ ایڈمنڈز کے اعداد و شمار کے مطابق، احتجاج کے آغاز کے بعد ٹیسلا کی گاڑیوں کی فروخت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ جنوری میں عروج پر پہنچنے کے بعد، کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ نومبر میں ٹرمپ کے انتخاب کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ ٹیسلا کو نئی حکومت کے تحت روبوٹکس کے فروغ میں مدد ملے گی، لیکن حالات اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ہفتے دعویٰ کیا کہ آتش زنی کرنے والوں نے کئی ٹیسلا ڈیلرشپ اور چارجنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، ہفتے کے روز واشنگٹن میں ہونے والے احتجاج کے دوران کسی قسم کے تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔

یومِ پاکستان: کیا ہم مملکت کے قیام کا اصل مقصد حاصل کرچکے ہیں؟

پاکستان بھر میں ہر سال  23 مارچ کو یومِ پاکستان منایا جاتا ہے اور اس سال بھی یہ ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد قوم کو قیامِ پاکستان کی یاد دلانا، تحریکِ پاکستان کے مقاصد کو یاد دلانا اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کی ملک بھر میں خصوصی تقریبات، فوجی پریڈز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں، جب کہ تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلے اور ملی نغموں کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ سیاسی رہنما جلسے جلوسوں میں ملکی سلامتی اور ترقی کے بھاشن دیتے نظر آتے ہیں۔ صدرِ مملکت، وزیرِاعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے قوم کو پیغام دیا جاتا ہے۔ فوجی پریڈز منعقد کی جاتی ہیں، جہاں عسکری حکام سمیت سیاسی رہنما شرکت کرتے ہیں۔ یومِ پاکستان 23 مارچ 1940 کی یاد دلاتا ہے، جب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی تھی۔ اس قرارداد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو بعد میں قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔ اسی دن کو یادگار بنانے کے لیے ہر سال پورے ملک میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس قرارداد کو شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کیا تھا، مگر بدقسمتی سے ان کا مشرقی پاکستان آج پاکستان کا حصہ نہیں اور یہ وطنِ عزیز پر ایک ایسی چوٹ ہے جو مٹائے نہیں مٹنی۔ نصیر ترابی نے کہا تھا کہ ‘عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر۔۔۔ بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی۔’ اس وطنِ عزیز کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دیں، شدھی اور سنگٹھن جیسی تحریکوں کا سامنا کیا، نسلی پرستی کو چھوڑ کر ایک ہوئے اور ایک علیحدہ ملک حاصل کیا۔ اگر پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ دہشتگردی اور نسل کشی عروج پر پہنچ چکی ہے، غریب پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔   تو کیا اسی لیے اس ملک کے قیام کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں؟ کیا آج کا پاکستان واقعی قرار دادِ مقصد کی تکمیل کرچکا ہے؟ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر اشرف سہیل نے کہا ہے کہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کو جن عظیم مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا، ہم بحثیت قوم ان سے ابھی تک بہت دور ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل ہندؤں کی تنگ نظری انتہا پر تھی، انگریز مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے، مسلمان کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ سرسید احمد خان نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور کہا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں، یہ اپنی روایات، رسم و رواج اور عقائد میں اس قدر مختلف ہیں کہ صدیوں  اکٹھے رہنے کے باوجود ایک دوسرے میں  گھل مل نہ سکیں۔ علامہ محمد اقبال نے ایک علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا، جسے قائدِاعظم محمد علی جناح نے شرمندہ تعبیر کیا۔ 8 مارچ 1944 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائدِاعظم نے کہا کہ: پاکستان تو اسی دن وجود میں آگیا تھا، جب ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا، مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے، وطن اور نسل نہیں۔ اشرف سہیل نے کہا ہے کہ قیامِ پاکستان دراصل ہندو اکثریت کی تنگ نظری کا ردِعمل تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ تنگ نظری مسلمان اکثریت پر مسلط کرنے کی سازش کی گئی جس کے بہت سے نقصانات ہوئے نظریہ پاکستان کے نام پر آج بھی ایسے تصورات کو مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن کا پاکستان کی تحریک کے حقیقی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں۔ نوجوان  نسل اس دن کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ منا رہی ہے، لاہور کی سڑکوں پر لوگوں کے کپڑوں پر قومی جھنڈا لگا ہوا دیکھا جاسکتاہے، مگر کیا یہ کافی ہے؟ کیا اس دن کو منانے کا اصل مقصد یہی ملی نغمے گانہ، تقاریریں کرنا اور کپڑوں پر جھنڈا لگانا ہے؟ وہ قائدِاعظم ملّت کا پاسباں، مدبر، اصول پرست، صاحب بصیرت، اس نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ وہ پاکستان کہاں ہے؟ قائد اعظم جس معاشرے کو تحمل برداشت، یگانگت والی سوسائٹی بنانا چاہتے تھے۔ وہ کہاں ہے؟ روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر نے کہا ہے کہ آج کی نسل کو اسلام ، پاکستان اور اقابرین پاکستان کی تعلیمات سے متعارف اور ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ تنگ نظری ، شدت پسندی اور تعصب کے ناسور سے جان چھڑائی جا سکے ۔ پاکستان اس وقت بہت سے بنیادی مسائل کا شکار ہے، ملک بھر میں انتشار پروان چڑھ رہا ہے، نوجوان نسل  کو ملک دشمن عناصر اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ نسل کشی کے نام پر آئے روز قتل ہورہے ہیں، وہ لوگ جو کبھی ایک قوم تھے مسلم قوم آج سندھی، پنجابی، پٹھان اور بلوچ بن کے رہ گئے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا کہ ‘قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں۔۔۔۔ جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں۔’ اشرف سہیل کے مطابق پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں  سب سے بڑا چیلنج قانون کی بالادستی ، نظام عدل کا استحکام اور نظام تعلیم کا فرسودہ ہونا ہے ۔ دوسری جانب یومِ پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، حساس مقامات پر اضافی پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔ بڑے شہروں میں ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ گھروں اور دفاتر میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں نے  قومی لباس زیب تن کیا ہوا ہے، جب کہ بازاروں اور سڑکوں پر ملی نغمے بجائے جارہے ہیں۔ مختلف مقامات پر آتش بازی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اشرف سہیل نے کہا ہے کہ ملک میں قوم یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ،سماجی انصاف ، تعلیمی نظام کی درستگی اور اسلام کے نام پر تعصب کی سوچ کے خاتمہ ضروری ہے ۔ یومِ پاکستان کے موقع پر وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے

اربوں روپے کا تعلیمی بجٹ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے، حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعتِ اسلامی ھافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے جان بوجھ کر قوم کو تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے، اربوں روپے کا تعلیمی بجٹ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔ یو ایم ٹی میں افطار ڈنر میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں تبدیلی برپا کرنے کی جدوجہد سب سے عظیم کام ہے، نوجوان قوم کی امیدوں کا مرکز ہیں، نوجوان آگے بڑھیں اور انقلاب کی نوید بنیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی بنوقابل کے ذریعے آئی ٹی کے شعبہ میں انقلاب برپا کررہی ہے، طلبا وطالبات تربیت لے کر رضاکارانہ طور پر پروگرام کا حصہ بنیں، حکمرانوں نے جان بوجھ کر قوم کو تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اربوں کا تعلیمی بجٹ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے، جماعت اسلامی فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ واضح رہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے آج یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) میں افظار ڈنر کا اہتمام کیا گیا، جس میں تقریباً 7000 سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ 6000 بچے، بیوہ اور کواتین اس افطار کے مہمانِ خصوصی تھے اور ان تمام کو عیدی اور تحائف دے گئے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بچوں کے ساتھ کیک کاٹا، تحائف تقسیم کیے، شرکا نے امیر جماعت اسلامی کے ساتھ تصویریں بھی بنائیں، افطارڈنر میں میڈیا شخصیات، سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ الخدمت فاونڈیشن تین دہائیوں سے پاکستان میں فلاحی کاموں میں مصروف ہے، جس میں یتیم بچوں کی پرورش، بیوہ خواتین کی مالی مدد، بزرگ شہریوں کے لیے اولڈ ہوم، صاف پانی، طبی سہولیات، ریلیف ورک، قرضہ حسنہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ شامل ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ الخدمت فاونڈیشن بیرون ملک بھی کام کررہی ہے اور سالانہ 26 ارب روپے سے زائد رقم ریلیف کے کاموں پر خرچ کرتی ہے، یہ ساری رقم مختلف ڈونرز کی جانب سے اس فاونڈیشن پر اعتماد کا مظہر ہے۔ فاونڈیشن اس وقت 32 ہزار سے زائد یتیم بچوں کی پرورش کا ذمہ اٹھا رہی ہے۔

نوشکی میں پولیس موبائل پر فائرنگ، 4 اہلکار شہید

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس موبائل کے 4 اہلکار شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ نوشکی کے علاقے غریب آباد کے قریب پیش آیا، جب ایک پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی۔ فائرنگ کے نتیجے میں چار اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جن کی میت اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نے پولیس موبائل پر حملے اور مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم جانوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ملوث عناصر کو بلوچستان میں کہیں چھپنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ قبل ازیں، بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگچر میں بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ بھی پڑھیں:نسل کشی یا کچھ اور؟ قلات میں فائرنگ سے چار مزدور جاں بحق