اپریل 5, 2025 12:30 صبح

English / Urdu

بلوچ یکجہتی کمیٹی احتجاج کراچی، سمی دین سمیت 15 افراد گرفتار

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سول سوسائٹی کی جانب سے کراچی میں صدر زینب مارکیٹ کے باہر مظاہرہ کیا گیا، پولیس نے سمی دین سمیت 15 افراد کو ہراست میں لے لیا۔ نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق کراچی میں صدر زینب مارکیٹ کے باہر بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سول سوسائٹی کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت سمی دین کر رہی تھیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے، جس پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے سمی الدین بلوچ سمیت 15 مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ مزید پڑھیں: استنبول میں احتجاج کی کوریج کرنے والے 10 صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا واضح رہے کہ احتجاج کی وجہ سے پولیس نے پریس کلب کے اطراف کی سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا تھا، جس کے باعث صدر، شارع فیصل اور آئی آئی چندریگر روڈ سمیت ملحقہ سڑکوں پر شدید ٹریفک جام رہا اور لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پریس کلب کے باہر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان میں مزدوروں کے قتل عام اور جعفر ایکسپریس واقعے کی مذمت کرے۔

ہری پور میں مبینہ مفت خوری سے منع کرنے پر ایف سی اہلکاروں کا ریڑھی بان پر تشدد

خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں مبینہ مفت خوری سے منع کرنے پر ایف سی اہلکاروں نے خوانچہ فروش کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں مبینہ طور پر ایف سی اہلکاروں نے مفت خوری سے منع کرنے پر ریڑھی بان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ پیر کو پیش آنے والے واقعہ کے بعد مقامی افراد نے ریڑھی بان کی حمایت اور سینٹرل جیل ہری پور میں تعینات ایف سی اہلکاروں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ایف سی اہلکاروں کے مبینہ تشدد کے مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں نے دعوی کیا کہ ‘ہری پور سنٹرل جیل کی سکیورٹی فورسز ایف سی اہلکار روزانہ اس غریب ریڑھی بان سے مفت فروٹ لیتے ہیں. آج نہ دینے پر بدمعاشی کرنے لگ گئے اور غریب ریڑھی والے پر چاروں نے مل کر تشدد کرکے زخمی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمے ان ایف سی اہلکاروں کو نشان عبرت بنائیں۔ مزید پڑھیں: کراچی میں دفعہ 144 نافذ کرکے جلسے جلوس پر پابندی، پیپلزپارٹی کا ریلی کا اعلان متاثرہ ریڑھی بان پر تشدد کی شکایت شیئر کرنے والوں کے مطابق مقامی پولیس اسٹیشن میں واقع کی شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سینٹرل جیل ہری پور کی جانب سے اس پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں آیا۔

“وینزویلا سے تیل خریدنے والے کسی بھی ملک کو 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہو گا “ٹرمپ کا اعلان

امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جو ملک بھی وینزویلا سے تیل خریدے گا ، اس پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ وینزویلا کے لیے بھی سخت آرڈر جاری کر دیے ہیں۔ عالمی خبر ارساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کا کہنا ہے کہ وینزویلا نے امریکہ اور ہماری آزادیوں کے خلاف معاندانہ رویہ اپنایا ہے۔ لہٰذا، جو بھی ملک وینزویلا سے تیل یا گیس خریدے گا، اسے امریکہ کے ساتھ کسی بھی تجارتی لین دین پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ وینزویلا نے جان بوجھ کر اور دھوکہ دہی سے مجرموں، بشمول پرتشدد افراد اور ٹرین ڈی اراگوا جیسے گینگ کے ارکان، کو امریکہ بھیجا ہے۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے ان ٹیرفس کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کا انہوں نے پہلے اعلان کیا تھا، جن میں دواسازی، گاڑیوں اور لکڑی کی درآمدات پر 25 فیصد چارج عائد کرنا شامل تھا۔ یہ ٹیرف 2 اپریل کو نافذ ہونے تھے۔ محکمہ تجارت کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، وینزویلا گزشتہ سال امریکہ کو تیل فراہم کرنے والے سرفہرست غیر ملکی سپلائرز میں شامل تھا۔ مجموعی طور پر، امریکہ نے 2024 میں وینزویلا سے ساڑھے 56 ارب سے زائد ڈالر کا تیل اور گیس خریدی۔ یہ اس وقت ہوا جب بائیڈن انتظامیہ نے 2023 میں مختصر مدت کے لیے وینزویلا کے تیل پر عائد پابندیاں ہٹا دی تھیں، تاہم، اپریل 2024 میں یہ پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئیں، جب بائیڈن انتظامیہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر آزاد اور منصفانہ انتخابات منعقد نہ کرانے کا الزام عائد کیا۔ اگرچہ اس مختصر مدت میں وینزویلا سے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن وینزویلا کی تیل اور گیس کی برآمدات امریکہ کے سب سے بڑے غیر ملکی تیل کے ذریعہ کینیڈا سے کہیں پیچھے تھی، کینیڈا نے گزشتہ سال امریکہ کو 106 بلین ڈالر کا تیل اور گیس برآمد کیا، جو کہ امریکہ کی کل درآمدات کا 60 فیصد تھا، جبکہ وینزویلا کی برآمدات صرف 3 فیصد تھیں۔ عالمی نشریاتی ادارہ سی این این کے مطابق تیل پر ٹیرف لگانے کے اعلان سے  قبل، ٹرمپ پہلے ہی وینزویلا کے تیل کی امریکہ تک رسائی محدود کرنے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے لیے انہوں نے شیورون کے مشترکہ منصوبے کے لائسنس کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جو وہاں تیل نکالنے کے لیے دیا گیا تھا۔ تاہم، گزشتہ ہفتے شیورون کے سی ای او مائیک ورتھ اور دیگر تیل کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کے بعد، ٹرمپ اب اس لائسنس کو توسیع دینے پر غور کر رہے ہیں۔

کراچی میں دفعہ 144 نافذ کرکے جلسے جلوس پر پابندی، پیپلزپارٹی کا ریلی کا اعلان

کمشنر کراچی نے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل پولیس کراچی رینج کی درخواست پر دفعہ 144 نافذ کردی۔ کراچی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے شہر میں احتجاج، مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی ہوگی، شہر میں 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، خلاف ورزی کرنے پر پولیس کو کارروائی کرکے مقدمہ درج کرنے کا اختیار ہوگا۔ دفعہ 144 پر پابندی کا اطلاق فوری نافذ العمل ہوگا۔ مزید پڑھیں: کراچی میں واٹر ٹینکر نے ایک اور گھر اجاڑ دیا، موٹرسائیکل سوار میاں بیوی، نوزائیدہ بچہ جاں بحق واضح رہے کہ سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی نے بلدیہ ٹاؤن میں ریلی کا اعلان کر رکھا ہے۔

حماس کو ‘دہشت گرد’ کہنے پر پاکستانی اینکر شاہ زیب خانزادہ کی ٹرولنگ

نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے معروف اینکر شاہ زیب خانزادہ ایک نئےتنازع کا شکار ہوگئے، حماس کو ‘دہشتگرد’ کہنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اینکر شاہزیب خانزادہ کو ٹرول کیا جارہا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اینکر نے اپنے پروگرام میں حماس کی 7 اکتوبر 2023 کی کارروائیوں کو ‘دہشتگرد حملہ’ قرار دیا۔ ان کے اس بیان پر مختلف سیاسی، مذہبی اور صحافتی حلقوں سے سخت ردعمل سامنے آیا اور سوشل میڈیا پر ان کی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ 22 مارچ 2025 کو نشر ہونے والے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام تر صورت حال پر ایک چیز واضح ہوتی نظر آ رہی ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گرد حملوں کے بعد جو خطے کا نیا منظر نامہ بن رہا ہے، اس میں ایران جو کچھ عرصہ پہلے تک خطے میں مضبوط پوزیشن رکھتا تھا، اب انتہائی کمزور نظر آ رہا ہے۔ In his show, @shazbkhanzdaGEO called Hamas’ resistance against Israel as “terrorist attacks”. What is he really trying to portray here? First, we hear about Pakistan’s secret delegation to Israel, and now this?! pic.twitter.com/5Gj78oSbsz — Ahmed (@ThisahmedR) March 22, 2025 انہوں نے مزید کہا کہ ایران کچھ ایسی تنظیموں کی حمایت کرتا رہا ہے،  جو خطے میں ایرانی مفادات کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی نشانہ بناتی رہی ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ کے اس بیان پر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سمیت مختلف صحافیوں نے  کڑی تنقید کرتے ہوئے  اس  مؤقف کو ‘جانبدارانہ’ اور ‘صحافتی بددیانتی’ قرار دیا۔ سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ جیو نیوزکے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹی وی پر حماس کو دہشتگرد کہنا قابل مذمت ہے۔ میں اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میر شکیل الرحمان جواب دیں۔ عوام خاموش نہیں رہیں گے۔جیو نیوز انتظامیہ کے خلاف احتجاج کریں گے۔ جیو نیوزکے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹی وی پر حماس کو دہشتگرد کہنا قابل مذمت ہے۔ میں اس اقدام کی… pic.twitter.com/tDN6gZ6mJA — Dr.Sabir Abu Maryam (@DrSabirplf) March 23, 2025 ممبر جمیعت علمائے اسلام ڈاکٹر احمد مصطفیٰ نے کہا کہ جیو نیوز کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹی وی پر حماس کو دہشتگرد کہنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ پاکستان 🇵🇰 جیو نیوز کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں tvپر حماس کو دہشتگرد کہنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے pic.twitter.com/0qeV8Szjek — Dr-Ahmad Mustafa (@DrAhmad_Mustafa) March 24, 2025 سچ نیوز کے صحافی ہرمیت سنگھ نے کہا کہ جیو ٹی وی اور اینکر شاہزیب خانزادہ کی جانب سے حماس کے عالمی طور پر تسلیم شدہ حق دفاع اور اپنی سرزمین کے لیے جائز جدوجہد و مقاومت کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے پر شدید مذمت کرتا ہوں۔ جیو نیوز اس پر پاکستانی اور فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے معافی مانگے۔ جیو ٹی وی اور اینکر شاہزیب خانزادہ کی جانب سے حماس کے عالمی طور پر تسلیم شدہ حق دفاع اور اپنی سرزمین کیلئے جائز جدوجہد و مقاومت کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے پر شدید مذمت کرتا ہوں۔ جیو نیوز اس پر پاکستانی اور فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے معافی مانگے۔@shazbkhanzdaGEO… pic.twitter.com/WWOrYHiZCF — Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk) March 23, 2025 مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایکس پر لکھا کہ میں جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے 7 اکتوبر کے آپریشن “طوفان الاقصیٰ” کو دہشتگردی قرار دینے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ مؤقف نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی کے خلاف کھلی جانبداری بھی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حماس اہلِ فلسطین کی سب سے مضبوط اور منظم تحریک ہے، جو اپنے مظلوم عوام، سرزمینِ فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ ان کی جدوجہد حق، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اور تاریخ میں ان قربانیوں کو ہمیشہ عزت سے یاد رکھا جائے گا۔ جیو نیوز کی انتظامیہ اس مؤقف پر قوم سے معافی مانگے اور حقائق کو درست انداز میں پیش کرے۔ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو دہشتگردی کہنا سراسر ظلم اور سچائی سے انحراف ہے۔ میں جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے 7 اکتوبر کے آپریشن “طوفان الاقصیٰ” کو دہشتگردی قرار دینے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ مؤقف نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی کے خلاف کھلی جانبداری بھی ہے۔ حماس اہلِ… — Senator Allama Raja Nasir (@AllamaRajaNasir) March 23, 2025 معروف نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ‘آسان سی بات ہے کہ شاہ زیب خان زادہ کو چاہیے کہ اپنی اس غلطی پر معذرت کرلے یا سوشل میڈیا پر وضاحت کردے کہ ایسا دانستہ نہیں بلکل سہواً ہوا ہے۔ ورنہ تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ وہ حماس کے بارے میں میں یہی خیالات رکھتا ہے اور جو بھی یہ خیالات رکھتا ہے تو اس کے متعلق ہمارے اندر غصے و نفرت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔’ واضح رہے کہ شاہ زیب خانزادہ اور جیو نیوز کی جانب سے تاحال اس تنقید پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اضافی بجلی کو کرپٹو مائننگ کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ

پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے پہلے اجلاس میں بٹ کوائن مائننگ کے لیے اضافی بجلی کے مؤثر استعمال کی تجویز پیش کر دی گئی۔ پاکستان کرپٹو کونسل کا باضابطہ قیام 15 مارچ کو عمل میں آیا، جس کا مقصد کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجیز کو مالیاتی نظام میں ضم کرنا اور اس شعبے کے لیے ایک مؤثر ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا ہے۔ اس تاریخی اقدام نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین، وفاقی آئی ٹی اور لاء سیکریٹریز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کرپٹو اسپیس میں پاکستان کی غیر استعمال شدہ صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔ کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے منفرد حالات کے مطابق ریگولیٹری ماڈلز اپنانے چاہییں، تاکہ کرپٹو انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اضافی بجلی جو کم طلب اور ناکافی انفراسٹرکچر کے باعث ضائع ہو رہی ہے، اسے بٹ کوائن مائننگ کے لیے استعمال کر کے ملک کے مالیاتی وسائل میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ مزید پڑھیں: پاکستان میں کرپٹو انقلاب، وفاقی حکومت نے ’پاکستان کرپٹو کونسل‘ قائم کر دی دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا پاکستان کرپٹو کونسل کے اس وژن کو سراہتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ ہماری معیشت کے لیے ایک نئے ڈیجیٹل باب کا آغاز ہے۔ ہم ایک شفاف اور جدید مالیاتی نظام بنانے کے لیے پرعزم ہیں، جو سرمایہ کاری کو راغب کرے، نوجوانوں کو بااختیار بنائے اور پاکستان کو ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں کرے۔ مزید یہ کہ اجلاس میں ریگولیٹری وضاحت، صارفین کے تحفظ، لائسنسنگ سسٹم اور قومی بلاک چین پالیسی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ عالمی معیار کی روشنی میں مقامی ضروریات کے مطابق ماڈلز تیار کیے جائیں، جب کہ ابتدائی پائلٹ پروجیکٹس اور بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔

ظلمت سے ضیاء تک، حبیب جالب ایک شاعر یا تحریک؟

“آج 24 مارچ ہے، وہ دن جب عوامی شاعر، انقلابی سپاہی اور بغاوت کا استعارہ حبیب جالب پیدا ہوا۔ وہ شاعر جس نے نہ صرف الفاظ سے انقلاب برپا کیا, بلکہ ہر آمر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا۔ آج بھی جب کوئی ناانصافی کے خلاف بولتا ہے، تو جالب کی آواز خود بخود گونجنے لگتی ہے کہ ‘تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا۔۔۔۔اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا!”۔ حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جب پاکستان بنا، تو وہ بھی لاکھوں مہاجروں کے ساتھ لاہور پہنچے۔ ایک چھاپہ خانے میں کام شروع کیا، مگر دل ہمیشہ لفظوں کی بغاوت میں دھڑکتا رہا۔ یہاں سے ایک عوامی شاعر کی پیدائش ہوئی، وہ شاعر جس نے اقتدار کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ ایوب خان کے مارشل لا کے دوران جب انہوں نے یہ نظم کہی، ‘ایسے دستور کو، صبح بے نور کو۔۔۔۔میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔’ تو ہر زبان پر یہی الفاظ تھے۔ حبیب جالب نے ہر آمر کے خلاف قلم اٹھایا۔ ایوب خان کے خلاف بولے، یحییٰ خان کو للکارا، بھٹو کے عدالتی قتل پر خاموش نہ رہے اور ضیاء الحق کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے، ظلمت کو ضیاء، صر صر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا۔’ ہر بار انہیں جیل میں ڈالا گیا، مگر ہر بار وہ پہلے سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ نکلے۔ ان کے لیے شاعری صرف لفظوں کا کھیل نہ تھا، بلکہ یہ ایک تحریک تھی، ایک جنگ تھی، جو آج بھی جاری ہے۔ حبیب جالب نے عوام کے لیے سب کچھ دیا، مگر ان کے اپنے آخری دن بیماری اور غربت میں گزرے۔ 12 مارچ 1993 کو وہ دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر کیا وہ واقعی چلے گئے؟ جب بھی کوئی حکمران عوام کے حق پر ڈاکا ڈالتا ہے، جب بھی کوئی جابر قانون بنتا ہے، تو جالب کی نظمیں زندہ ہو جاتی ہیں۔ وہ شاعر جو مرنے کے بعد بھی حکمرانوں کے لیے ایک خوف کی علامت ہے۔’یہ جو دس کروڑ ہیں۔۔۔جہل کا نچوڑ ہیں۔’

عید سے قبل بارش کا نیا سلسلہ متوقع: محکمہ موسمیات

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے عید الفطر سے پہلے کے دنوں میں کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر بارش، گرج چمک اور ممکنہ ژالہ باری کی پیش گوئی کی ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے کہا کہ 25 اور 27 مارچ کے درمیان گیلے موسم کی توقع ہے، جو بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرے گا، پہاڑی علاقوں میں برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ پی ایم ڈی کے مطابق 25 سے 27 مارچ تک بونیر، دیر، مالاکنڈ، صوابی، چارسدہ، ایبٹ آباد اور پشاور میں بارش کا امکان ہے۔ کرک، لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش، ژالہ باری اور بلندی پر برفباری ہوسکتی ہے۔ اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، مری اور گلیات میں بھی 25 سے 27 مارچ کے درمیان بارش اور ہلکی برف باری کی توقع ہے۔ سندھ میں 25 اور 26 مارچ کو گردو غبار کے طوفان کا امکان ہے، جب کہ کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، چمن اور مستونگ سمیت بلوچستان کے کچھ حصوں میں بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے گرج چمک اور ژالہ باری سے بھی خبردار کیا ہے، جس سے بجلی کی لائنوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جب کہ پہاڑی علاقوں میں ہلکی سے بھاری بارش کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ پی ایم ڈی نے بالائی پنجاب، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں شدید ژالہ باری کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے، جو کھڑی فصلوں بالخصوص گندم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تیز ہوائیں اور اولے بھی متاثرہ علاقوں میں ساختی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکام نے رہائشیوں اور کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ موسم کی متوقع خرابی سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

پاکستان میں سونے کی قیمت ایک مرتبہ پھر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

پاکستان میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کا فی تولہ چھ سو روپے مہنگا  ہو گیا،جبکہ اب سونے کی قیمت بڑھ کر تین لاکھ 18 ہزار 600 روپے ہو گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونا 515 روپے اضافے سے 2 لاکھ 73 ہزار 148 روپے کا ہوگیا۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں اضافے کا رجحان رہا، سونا پانچ  ڈالر اضافے سے 3027 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔ یاد رہے کہ سونا خریدنا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے جس کی قیمت افراط زر، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے۔ اسے صدیوں سے کرنسی اور دولت کی شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جب سرمایہ کار دوسرے اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں، تو وہ اکثر سونا خریدے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کردی گئی تھی، جس کے تحت سونے کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی گئی

کراچی میں واٹر ٹینکر نے ایک اور گھر اجاڑ دیا، موٹرسائیکل سوار میاں بیوی، نوزائیدہ بچہ جاں بحق

کراچی میں واٹر ٹینکر نے ایک اور گھر اجاڑ دیا، ٹکر سے موٹرسائیکل پر سوار میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر ہالٹ میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے موٹر سائیکل پر سوار میاں بیوی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون حاملہ تھیں اور حادثے کے باعث سڑک پر ہی بچے کو جنم دیا جو جانبر نہ ہو سکا۔ کوئی انسانوں کا ملک ہوتا تو یہ منظر دیکھ حاکم گھر چلے جاتے مگر کیا کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان جگ سے نرا ہے ایک شہری سڑک پہ پیدا ہوئے بچے کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے تصویر جانبحق باپ کی ہے بیوی بھی ٹینکر حادثے میں جانبحق ہوئی pic.twitter.com/GjecUKBHH4 — Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) March 24, 2025 کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی فیض اللہ خان نے واقعے کی تفصیل کے ساتھ ایسے مناظر بھی شیئر کیے ہیں جن میں ایک ہیلمٹ پہنے شخص ہاتھوں میں نوزائیدہ بچہ کو تھامے ہوئے ہے جب کہ دوسری تصویر میں جواں سال متوفی کو دکھایا گیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا ملیر ہالٹ میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے حاملہ خاتون اور اس کے شوہر کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس ٹینکرز و ڈمپرز کے ڈرائیوروں کو لگام دینے اور شہریوں کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم حقیقی کے چیئر مین آفاق احمد نے کہا کہ بار ہاں یاد دہانی کے باوجود سندھ حکومت کی سر پرستی میں ڈمپر اور ٹینکر ز مافیازکی غنڈہ گردی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔