پاکستانی صحافیوں کا دورہ اسرائیل، دفتر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کر دی

پاکستان کے دفتر خارجہ نے پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ کے اسرائیل جانے کی خبروں کی تردید کی ہے،دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت یہ ممکن نہیں ہے۔ عالمی خبر ارساں ادارے عرب نیوز کے مطابق عبرانی زبان کے ایک اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ صحافیوں، دانشوروں اور اثرورسوخ کے 10 رکنی پاکستانی وفد نے ایک ہفتے کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ انگریزی زبان کے اسرائیلی اخبار دی یروشلم پوسٹ نے کہا کہ اس ہفتے ان پاکستانیوں نے ہولوکاسٹ اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بارے میں جاننے کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور مسلسل بین الاقوامی طور پر متفقہ پیرامیٹرز اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ حکومت پاکستان نے پاکستانی صحافیوں کے اسرائیل کا سفر کرنے کے حوالے سے رپورٹس کو نوٹ کیا ہے، اس حوالے سے واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ اسرائیل کے سفر کے لیے درست نہیں ہیں، لہذا موجودہ ضوابط کے تحت ایسا کوئی دورہ ممکن نہیں ہے۔ دفتر کارجہ کے ترجمان شفقت محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرتا ہے، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔ پاکستان نے مسلسل غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور گذشتہ منگل کو اس علاقے میں اسرائیلی حملوں کی بحالی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 17 ماہ پرانی جنگ کو مکمل طور پر بحال کر سکتے ہیں جس میں 48,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر گولہ باری شروع کرنے کے بعد سے اسلام آباد فلسطینی عوام کے لیے دو درجن سے زائد امدادی سامان بھی بھیج چکا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
ایدھی ایمبولینس: رمضان اور عید کے گمنام ہیروز

ایدھی ایمبولینس سروس ضرورت مندوں کے لیے ایک لائف لائن ہے، جو رمضان، عید اور اس کے بعد انتھک کام کرتی ہے۔ ان کے سرشار ملازمین اس بات کو یقینی بناتے ہوئے چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں کہ وقت یا موقع سے قطع نظر ہنگامی طبی امداد لوگوں تک پہنچ جائے۔ چاہے حادثات کا جواب دینا ہو، مریضوں کو منتقل کرنا ہو یا پھر انسانی امداد فراہم کرنا ہو، ان کی بے لوث خدمت ہمدردی کے حقیقی جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ تہوار کے اوقات میں انسانیت کے لیے ان کی وابستگی غیر متزلزل رہتی ہے،جو یہ ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کی خدمت احسان کا سب سے بڑا عمل ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے اپنے مشن کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔کوئی ایمرجنسی ہو یا پھر بم دھماکا ہو، سب سے پہلے جائے وقوعہ پر ایدھی ہی پہنچتی ہے۔ اس کے ملازمین کو انسانیت کی خدمت کرنے سے خوشی ملتی ہے اور وہ بے لوث ہوکر خدمت کرتے ہیں، اس بات سے بالاتر ہوکر کہ فلاں کون ہے اور فلاں کون ہے۔ ان کا مقصد ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔
گھریلو جھگڑا یا جرم؟ بیٹے کی فائرنگ سے ضعیف باپ اسپتال منتقل

لاہور باٹا پور کے علاقے میں گھریلو جھگڑے کے دوران بیٹے نے فائرنگ کرکے ضعیف باپ کو شدید زخمی کر دیا۔ پولیس کے مطابق محمد رفیق کو اس کے بیٹے نعیم نے سینے پر گولی ماری، جس کے بعد زخمی کو تشویشناک حالت میں سروسز اسپتال منتقل کر دیا گیا، جب کہ ملزم نعیم فرار ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ گھریلو ناچاقی کے باعث کی گئی۔ مزید پڑھیں: کراچی، پولیس نے اسلحہ کے زور پر 1300 سے زائد موٹر سائیکلیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار ایس پی کینٹ اویس شفیق کے مطابق ملزم نعیم کو پستول سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ اس کے والد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہفتے کے دوران 270 بچے جاں بحق ہو گئے

اسرائیل فلسطین میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایک بار پھر جنگ نے زور پکڑ لیا ہے،جس میں اسرائیلی حملوں سے ایک ہفتے کے دوران 270 فلسطینی بچے شہید ہو گے۔ عالمی نشریاتی ادارہ الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد ایک ہفتے کے دوران 270 سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جو جنگ کے آغاز سے اب تک بچوں کے لیے ‘سب سے ہلاکت خیز دنوں میں شامل ہیں۔ سیو دی چلڈرن کی انسانی امداد کی ڈائریکٹر راچل کمنگز نے کہا کہ بم گر رہے ہیں، اسپتال تباہ ہو رہے ہیں، بچے مارے جا رہے ہیں اور دنیا خاموش ہے۔ کوئی امداد نہیں، کوئی تحفظ نہیں، کوئی مستقبل نہیں۔ ادارے نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کی بحالی ‘غزہ کے بچوں کے لیے موت کا پروانہ ہے۔ غزہ کی گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق، اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک 17,900 سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سیو دی چلڈرن نے مزید کہا کہ بچوں کو ان کے خیموں میں نیند کے دوران قتل کیا جا رہا ہے، انہیں بھوکا رکھا جا رہا ہے اور حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بچوں اور خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا واحد راستہ مستقل اور مکمل جنگ بندی ہے۔ جنکہ غزہ میں دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بعد مزید افراد جاں بعق ہوئے ہیں،غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے پٹی پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کے بعد سے ایک ہفتے میں 792 افراد ہلاک اور 1,663 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ہلاکتوں کی کل تعداد 50,144 ہو گئی ہے، جب کہ 113,704 لوگ زخمی ہوئے ہیں
کیا عمران خان کو جیل میں جعلی اخبار دیا جاتا ہے؟

گزشتہ کچھ دنوں سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبر گردش کرتی نظر آئی کہ جیل میں عمران خان کو حکومت اپنی مرضی سے جعلی اخبار بنوا کر دیتی ہے اور بہت سے سیاست دانوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا، مگر اب اس کی تصدیق کرلی گئی ہے۔ بی بی سی نیوز کے صحافی اطہر کاظمی کا ایک ویڈیو کلپ میں کہنا تھا کہ ‘ایک انتہائی معتبر شخصیت میرے خیال میں اس سے معتبر شخصیت شاید کوئی اور ہو نے بتایا ہے کہ ہمیں پتہ چلا ہے عمران خان کو جیل میں جو اخبار دیا جاتا ہے مبینہ طور پر وہ اخبار بھی جعلی ہے، باہر کوئی اور اخبار چھپتا ہے اور اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دے دیا جاتا ہے۔ ایک انتہائی معتبر شخصیت میرے خیال میں اس سے معتبر شخصیت شاید کوئی اور ہو نے بتایا کہ ہمیں پتہ چلا ہے عمران خان کو جیل میں جو اخبار دیا جاتا ہے مبینہ طور پر وہ اخبار بھی جعلی ہے، باہر کوئی اور اخبار چھپتا ہے اور اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دے دیا جاتا ہے۔@2Kazmi pic.twitter.com/j3dHulNh49 — Zeeshan (@zeeshanimranpti) March 22, 2025 اطہر کاظمی کی اس ویڈیو کو عام صارفین کے ساتھ ساتھ کئی اہم سیاسی و صحافی شخصیات نے بھی شیئرکیا۔ امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی رہنما وقار خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پہ یہ ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کو جو اخبار دیا جا رہا ہے، وہ جعلی ہے یعنی ڈان نیوز کے اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دی جاتیں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ فارم 45 والے اخبار کو فارم 47 میں بدل کر دیا جا رہا ہے۔ عمران خان کو جو اخبار دیا جا رہا ہے وہ بھی جعلی ہے، یعنی ڈان نیوز کے اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دی جاتیں ہے فارم 45 والے اخبار کو فارم 47 میں بدل کر دیا جا رہا ہے pic.twitter.com/hT49stAGFm — Waqar khan (@Waqarkhan123) March 22, 2025 صحافی عمران افضل راجہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ عمران خان کو جیل میں جعلی اخبار دیا جاتا ہے؟ اس بات کی تصدیق اگر نہ بھی ہو تو عمران خان تک یہ بات پہنچانا ضروری ہے۔ “خان صاحب @ImranKhanPTI کو جیل میں اخبار بھی جعلی چھاپ کر دیا جاتا ہے” ؟؟ ۔۔ اس بات کی اگر تصدیق نا بھی ہو تو خان صاحب تک یہ بات پہنچنا ضروری ہے@Aleema_KhanPK pic.twitter.com/41gSmwq5Ao — Imran Afzal Raja (@ImranARaja1) March 22, 2025 سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا گیا، ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ سنا ہے کہ سنا ہے ایوب خان کو بھی جعلی اخبار دیا جاتا تھا، جس میں سب سکھ چین ہوتا تھا۔ سنا ایوب خان کو بھی جعلی اخبار دیا جاتا تھا جس میں سب سکھ چین ہوتا تھا 😅 — khan Je (@TanoliGKpk) March 22, 2025 ایک صارف نے مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ خان کو لوکل اخبار نہیں لینی چاہیے، واشنگٹن پوسٹ جیسی اخبارات لینی چاہیے، پاکستان کی ساری اخبارات صرف پکوڑے اور سموسے پیک کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ خان کو لوکل اخبار نہیں لینی چاہیے واشنگٹن پوسٹ اور ایسی اخبارات لینی چاہیں پاکستان کی ساری اخبارات صرف پکوڑے سموسے پیک کرنے کے لیے ہوتی ہیں — Shauket (@shaukethus) March 23, 2025 ایک اور صارف نے لکھا کہ اطہر کاظمی کو بھی اس انتہائی معتبر شخصیت نے یہ بتایا ہے کہ اسے بھی کسی سے پتہ چلا ہے اور اس معتبر شخص نے متعدد صحافیوں کے سامنے کاظمی صاحب سے یہ بات کی۔ بھائی جھوٹی خبریں اس طرح پھیلتی ہیں۔ ریچ کے چکرمیں ان صحافیوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے۔ کاظمی کو اس انتہائی معتبر شخصیت نے یہ بتایا ہے کہ اسے بھی “کسی سے پتہ چلا ہے”۔ اور اس معتبر شخص نے متعدد صحافیوں کے سامنے کاظمی صاحب یہ بات کی۔ بھائی جھوٹی خبریں اس طرح پھیلتی ہیں۔ ریچ کے چکر میں ان صحافیوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے۔ — Khalid Saifullah (@kshqazi) March 22, 2025 دوسری جانب 92 نیوز کے صحافی ثاقب بشیر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پہ لکھا ہے کہ کچھ دن پہلے کسی نے بات کی تھی کہ عمران خان کو جیل میں فیک اخبار دی جاتی ہے، یہ معلومات درست نہیں ۔ وہی اخبار جیل میں عمران خان کو دی جارہی ہے جو اصل میں ہوتی ہے اور آج جیل میں عمران خان سے اس بات کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ کچھ دن پہلے کسی نے بات کی تھی کہ عمران خان کو جیل میں فیک اخبار دی جاتی ہے یہ معلومات درست نہیں ۔۔۔ وہی اخبار جیل میں عمران خان کو دی جارہی ہے جو اصل میں ہوتی ہے ۔۔۔ آج جیل میں عمران خان سے تصدیق ہوئی ہے — Saqib Bashir (@saqibbashir156) March 25, 2025 صارفین کی جانب سے اس پر بھی ملے جلے تبصرے کیے گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ خبر کافی دلچسپ ہےاور اگر عمران خان نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اصلی اخبار ہی فراہم کی جارہی ہے، تو اس سے وہ افواہیں غلط ثابت ہوتی ہیں جو یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ انہیں جیل میں جعلی یا ایڈٹ شدہ اخبارات دیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف نے اطہر کاظمی کو مینشن کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ نام لو فیک نیوز پھیلانے والوں کا، جب کہ کچھ صارفین نے کہا کہ جو اخبار باہر بکتی ہیں وہ کونسا سچی ہوتی ہیں۔ نام لو فیک نیوز پھیلانے والو کا۔۔۔@2Kazmi — Aasaf (@macasif1234) March 25, 2025 اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود عمران خان کو دی جانے والی جعلی اخبار کی خبر کوئی حیثیت نہیں اور انہیں وہی اخبار دی جارہی ہے جو روز مرہ میں پڑھی جارہی ہے۔
پی آئی اے پر پابندی ختم نہ ہو سکی،پاکستان ایئر لائنزبرطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ میں برقرار رہے گی

برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) ایئر سیفٹی لسٹ میں برقرار رہے گی۔ ترجمان برطانوی وزرات ٹرانسپورٹ کا کہنا ہےکہ پاکستانی ائیر لائنز ائیر سیفٹی لسٹ میں رہیں گی اور ائیرلائنز سے پابندی ہٹانے کے لیے ٹھوس عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ یوکے ایئر سیفٹی لسٹ ایئر لائنز کی شائع شدہ فہرست ہے جو حفاظتی بنیادوں پر آپریٹنگ پابندی کے تابع ہیں اور اس وجہ سے برطانیہ سے یا اس کے اندر ہوائی جہاز نہیں اڑ سکتے۔ برطانیہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، پاکستان کی ریگولیٹری نگرانی کی ذمہ داری کے ساتھ حکام کی طرف سے تصدیق شدہ تمام ہوائی جہازوں پر، برطانیہ سے، اور اس کے اندر کمرشل فضائی خدمات چلانے پر پابندی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پابندی جولائی 2020 میں برطانیہ اور یورپی ایوی ایشن حکام نے جعلی پائلٹ لائسنس سکینڈل کے بعد لگائی تھی۔ تاہم پاکستانی حکام پر امید ہیں کہ پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔ 2020 میں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران، اس وقت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے دعویٰ کیا تھا کہ پائلٹ جعلی لائسنس کے ساتھ ہوائی جہاز چلا رہے تھے۔ یہ اس کا ردعمل تھا جب پی آئی اے کا ایئربس A-320 کراچی کی ایک گلی میں گرنے سے تقریباً 100 افراد ہلاک ہو گئے۔ جس کے بعد قرضوں میں ڈوبی پی آئی اے پر یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا کے لیے پروازوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس پابندی سے خسارے میں جانے والی ایئرلائن کو سالانہ 40 ارب روپے (144 ملین ڈالر) کا نقصان ہو رہا ہے۔ جنوری 2025 میں، ایک سال کے طویل وقفے کے بعد، پی آئی اے نے اسلام آباد سے پیرس کے لیے اپنی پہلی براہ راست پرواز چلائی، اور یورپ کے لیے اپنی طویل انتظار کی جانے والی پروازیں دوبارہ شروع کیں۔
انڈیا: بدھ مت کے پیروکاروں کا مہابودھی مندر پر ہندوؤں کے کنٹرول کے خلاف احتجاج کیوں؟

انڈیا میں بدھ مت کے پیروکاروں نے مہابودھی مندر پر ہندوؤں کے کنٹرول کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا، جس کا مقصد مندر کا مکمل اختیار بدھ کمیونٹی کا حاصل کرنا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مندر میں ادا کی جانے والی ہندو رسومات بدھ مت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ مندر کا مکمل اختیار بدھ کمیونٹی کو دیا جائے۔ مظاہرین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہندو اکثریت کی حکومت بدھ مت کے حقوق کو نظرانداز کر رہی ہے۔ پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے بدھ راہبوں کو زبردستی ہٹایا، جس کے بعد یہ احتجاج شدت اختیار کرگیا۔ مزید پڑھیں: اسرائیل کا شام کے دو فوجی اڈوں پر حملہ، ایرانی افواج اور حزب اللہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ واضح رہے کہ مہابودھی مندر کو 1949 کے بودھ گیا ٹیمپل ایکٹ کے تحت چلایا جاتا ہے، جس کے مطابق 8 رکنی کمیٹی میں ہندو اور بدھ نمائندوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔ بدھ رہنما اس قانون کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مندر کا مکمل انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سولہویں صدی میں ہندوؤں نے مندر پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا، ہندو خانقاہ بودھ گیا ماتھ تاریخی تحفظ کی کوششوں کو اپنی ذمہ داری قرار دیتی ہے۔ خیال رہے کہ انڈین حکام اور سپریم کورٹ میں معاملہ پہنچنے کے باوجود تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ ہندو راہبوں نے ان مظاہروں کو سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، تاہم بدھ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی یکجہتی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ انڈیا میں اقلیتی برادریوں کو درپیش مسائل میں بدھ مت کے پیروکار بھی شامل ہیں، جو ہندو اکثریت کے ظلم کا شکار ہیں۔
سندھ میں گیس وتیل کی نئی دریافت، کب کیا ہوا؟

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے کہا ہے کہ کیرتھر جوائنٹ وینچر نے ضلع دادو، صوبہ سندھ میں واقع کنویں رفعت-1 سے ہائیڈروکاربن دریافت کی جو مختلف اقسام کے ایندھن کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق مشترکہ منصوبہ میں پی او جی سی (70% ورکنگ انٹرسٹ) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (30% ورکنگ انٹرسٹ) شامل ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں پی پی ایل نے بتایا کہ تیل وگیس کی دریافت کی غرض سے کھودے گئے کنویں رفعت-1 پر تلاش کا کام 20 ستمبر 2024 کو شروع ہوا تھا۔ ابتدائی کام کا مقصد اس مقام پر ہائیڈروکاربن کی موجودگی کو پرکھنا تھا۔ 18 دسمبر 2024 تک کنویں کی گہرائی 2514 میٹر کر لی گئی تھی۔ پی پی ایل کے مطابق ابتدائی کاوشوں کے حوصلہ افزا نتائج کی بنیاد پر ڈرل اسٹیم ٹیسٹنگ (ڈی ٹی ایس) کی گئی۔ اس دوران کنویں کی سطح پر گیس کی مقدار معمولی رہی، چونکہ سطح زیادہ سخت تھی اس لیے رفعت-1 کنویں میں ہائیڈرولک آلات کی مدد سے مزید کھدائی کر کے ہائیڈروکاربن کی پیداوار بڑھائی گئی۔ مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا اضافی چارجز واپس لینے کا فیصلہ، بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 30 پیسے کمی متوقع اس مرحلہ پر کنویں پر مزید کام کر کے اسے کامیابی سے مکمل کیا گیا اور حتمی ٹیسٹ کیا گیا۔ تکنیکی طور پر ‘رگ لیس ٹیسٹنگ’ نامی عمل کے دوران رفعت-1 کنویں کو 1.10 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس کی شرح پر ٹیسٹ کیا گیا۔ پی پی ایل نے کہا کہ رفعت-1 کی یہ دریافت مشترکہ کاوش کے تحت قدرتی ایندھن کی مسلسل تلاش کے عزم کا اظہار ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال پی پی ایل نے سندھ کے لطیف بلاک میں کنویں موہر-1 اور جوگن-1 سے بھی ہائیڈرو کاربن دریافت کیا تھا۔
وفاقی حکومت کا اضافی چارجز واپس لینے کا فیصلہ، بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 30 پیسے کمی متوقع

وفاقی حکومت نے بجلی صارفین سے اضافی چارجز واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا، جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں 30 پیسے فی یونٹ کمی متوقع ہے۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے فروری کے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے لیے درخواست دے دی ہے، جس پر نیپرا کل سماعت کرے گا۔ فروری میں 6.495 ارب یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جب کہ بجلی کمپنیوں کو 6.666 ارب یونٹ فراہم کیے گئے۔ بجلی کی فی یونٹ لاگت 8 روپے 22 پیسے رہی، جب کہ ریفرنس لاگت 8 روپے 52 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ فروری میں 27.12 فیصد بجلی پانی سے، 15.02 فیصد مقامی کوئلے سے اور 1.56 فیصد درآمدی کوئلے سے حاصل کی گئی۔ اس کے علاوہ 10.32 فیصد گیس، 14.11 فیصد درآمدی ایل این جی اور 26.59 فیصد جوہری ایندھن سے پیدا کی گئی۔ اس حکومتی فیصلے سے بجلی صارفین کو کچھ ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم حتمی منظوری نیپرا کی سماعت کے بعد دی جائے گی۔ صارفین کو کتنی ریلیف ملے گی؟ اس کا فیصلہ کل نیپرا کرے گا۔
پاکستانی برآمدات میں 7.2 فیصد اور درآمدات میں 11.4 فیصد اضافہ

وفاقی حکومت نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق جولائی تا فروری ترسیلات زر میں 32.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور ترسیلات زر 23.96 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وفاقی حکومت نے مارچ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں معیشت کے مختلف شعبوں میں بہتری کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری ترسیلات زر میں 32.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کا حجم 23.96 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملکی برآمدات میں 7.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد برآمدات کا حجم 21.82 ارب ڈالر ہو گیا، جب کہ درآمدات میں 11.4 فیصد اضافے کے ساتھ ان کا حجم 38.32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 691 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 211 ملین ڈالر رہی۔ زر مبادلہ کے ذخائر 11.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں میں 25.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جولائی تا فروری 7344 ارب روپے رہی، جب کہ نان ٹیکس ریونیو میں 75.8 فیصد اضافے کے بعد اس کا حجم 3763 ارب روپے ہو گیا ہے۔ مزید پڑھیں: کیا نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستان کو متاثر کرے گی؟ رپورٹ کے مطابق صنعتی شعبے میں کچھ مشکلات سامنے آئیں، جہاں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ منفی 1.22 فیصد رہی۔ تاہم مہنگائی کی شرح میں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں فروری میں مہنگائی سالانہ بنیادوں پر1.5 فیصد کم ہوئی، جب کہ ماہانہ بنیادوں پر 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالیاتی خسارہ 1.7 فیصد کم ہوا، جب کہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.8 فیصد رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی نظم و نسق کے مستحکم ہونے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔