اپریل 5, 2025 12:26 صبح

English / Urdu

‘ملک میں چینی وافر مقدار میں ہے، تمام افواہیں جھوٹی ہیں،’ ترجمان شوگر ملز ایسوسی ایشن

شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی اجلاس میں ملک میں چینی کی قلت کو مسترد کر دیا گیا۔ ترجمان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے، کریانہ مرچنٹس اور شوگر مافیا مصنوعی بحران پیدا کر کے قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت پر چینی دستیاب ہے، جب کہ عوام کو 274 سرکاری اسٹالز کے ذریعے 130 روپے فی کلو رعایتی نرخ پر فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید پڑھیں: کراچی انٹر بورڈ کے طلبہ کو اضافی نمبر دے کر پاس کرنے کا فیصلہ واضح رہے کہ چینی کی برآمدات کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کی قیمتوں کے تعین کے لیے دو درجے کا نظام متعارف کرایا جائے، کیونکہ 80 فیصد چینی صنعتی و کمرشل سیکٹر استعمال کرتا ہے، جب کہ صرف 20 فیصد چینی گھریلو صارفین کے لیے مختص ہے۔

کراچی انٹر بورڈ کے طلبہ کو اضافی نمبر دے کر پاس کرنے کا فیصلہ

سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے تعلیمی بورڈز کے فیل ہونے والے طلبہ کو اضافی نمبر دے کر پاس کرنے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے کے تحت انٹر سال اول کے طلبہ کو 15 سے  20 اضافی مارکس دیے جائیں گے تاکہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس فیصلے کا پس منظر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ ہے، جس کی سربراہی ڈاکٹر سروش لودھی نے کی۔ کمیٹی نے امتحانی نتائج میں نقائص کی تحقیقات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کراچی کے امتحانی نتائج میں مسلسل کمی آرہی تھی اور طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امتحانی نتائج کو لسانی بنیادوں پر متاثر کیے جانے کے الزامات سوشل میڈیا پر سامنے آئے، جبکہ سیاسی جماعتوں نے بھی امتحانی نتائج کو عوامی حمایت کے لیے اچھالا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق، پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، سائنس اور جنرل گروپ کے نتائج پر متعدد شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ نے اسکروٹنی کے لیے فارم جمع کرائے۔ اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ اسمبلی کمیٹی نے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی کو مینڈیٹ دیا۔ وزیر تعلیم سردار شاہ نے انکوائری رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی بورڈز میں موجود خامیوں کے باعث طلبہ کی حق تلفی ہوئی ہے، جسے دور کرنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی بورڈز کو ٹھیک کرنا ناگزیر ہوچکا ہے اور موجودہ انفراسٹرکچر اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انٹر سال اول کے تین مضامین، فزکس، میتھ اور کیمسٹری میں طلبہ کو 15 سے 20 فیصد اضافی نمبر دیے جائیں گے تاکہ ان کے تعلیمی نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بورڈ کی نااہلی کی وجہ سے بچوں کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے، لہٰذا متعلقہ تعلیمی بورڈز کے افسران کے خلاف کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

انڈین سفیر کا اقوام متحدہ میں پاکستان پر الزام: جھوٹا دعویٰ یا حقیقت؟

انڈیا نے ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر پاکستانی دعووں کو ‘غیر ضروری اور غیر قانونی’ قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب پروتھانینی ہریش نے پاکستانی مندوب کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے دیے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انڈین سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مندوب کا بار بار کشمیر کا حوالہ دینا نہ تو اس کے ‘غیر قانونی دعووں’ کو درست ثابت کرتا ہے اور نہ ہی ‘ریاستی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی’ کا کوئی جواز پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے اسلام آباد کو دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول پیدا کرنا ہوگا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات ممکن ہو سکیں۔ مزید پرھیں: بنگلہ دیش سے بڑھتے پاک-چین تعلقات سے انڈیا خوفزدہ دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اقوام متحدہ میں ‘بین الاقوامی امن اور سلامتی کی بحالی’ کے موضوع پر بحث کے دوران طارق فاطمی نے کہا کہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور حتمی حل کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ اس کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو یقینی بنائے اور جموں و کشمیر تنازعے کے منصفانہ اور دیرپا حل کو فروغ دے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کیا جائے۔

‘کراچی میں ٹینکرز اور ڈمپرز موت بانٹ رہے ہیں مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،’ منعم ظفر خان

کراچی کے علاقے ملیر ہالٹ میں ٹینکر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے عبدالقیوم، ان کی اہلیہ اور نومولود بچے کی ہلاکت پر جماعت اسلامی کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹینکرز اور ڈمپرز کراچی میں موت بانٹ رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ ڈمپر اور ٹینکرز کا مسئلہ انتظامی مسئلہ ہے، سیاسی نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نااہلی، غفلت اور کرپشن کی وجہ سے یہ ٹینکرز شہریوں کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کراچی میں 700 سے زائد شہری ان حادثات میں جان کی بازی ہار گئے، جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ ایس او سے  لے کر ڈی آئی جی تک، سب رشوت کے بازار کو فروغ دے رہے ہیں، یہاں تک کہ آئی جی سے وزیر اعلیٰ تک سب کو ان کا حصہ پہنچایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرانے والے خود موٹر سائیکل اور گاڑی والوں سے رشوت لیتے ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ حکومتی فیصلے کے مطابق ہیوی ٹریفک کو رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک شہر میں داخلے کی اجازت ہے، لیکن دن دہاڑے یہ ٹینکرز اور ڈمپرز کراچی کی سڑکوں پر دندناتے نظر آتے ہیں، جس کے باعث حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نااہل ہے، یہ لاپرواہی کا ہی نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے آج کراچی کے لوگ گزر رہے ہیں۔ ٹریفک کے حوالے سے حادثات سے بچنے اور ٹریفک قوانین کے حوالے سے کمپئین چلائی جائے گی۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کے حوالے سے کوئی کمپئین نہیں چلائی گئی۔ مزید پڑھیں: کراچی میں آدم خور ہیوی ٹریفک کا ایک اور المناک حادثہ ،شہری بے بس انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں اگر کوئی کیمپئن چلتی ہے تو وہ ایسے شاہراہ کے حوالے سے ہوتی ہے، جو ابھی بنی ہی نہیں ہے۔ آج معصوم تین شہریوں کا نماز جنازہ تھا، جس میں جماعت اسلامی کی پوری ٹیم شامل تھی۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی اور اس مسئلے کو ہر فورم پر اٹھایا جائے گا۔ منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی 5 اپریل کو آئی جی آفس کے باہر احتجاجی دھرنا دے گی اور اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر بھی احتجاج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سب ایک ہی ہیں، یہ جماعتیں عوام کو تقسیم کرتی ہیں، لیکن اندرونی طور پر آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر ‘وزیر اعلیٰ سندھ، عوام کو خونی ٹینکرز سے تحفظ دو’ اور ‘رشوت خور ٹریفک پولیس برطرف کرو’ جیسے نعرے درج تھے۔

کراچی کے ’آدم خور‘ ڈمپرز ڈراؤنا خواب بن گئے

سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ دو لاشیں، بکھرے ہوئے انسانی اعضاء اور شہری کے ہاتھ میں دم توڑتا نومولود، یہ مناظر کسی جنگ زدہ علاقے کے نہیں تھے، بلکہ عروس البلاد کراچی کی مصروف شاہراہ ملیر ہالٹ پر پیش آنے والے اندوہناک ٹریفک حادثے کے تھے ، جس میں عبدالقیوم اس کی اہلیہ اور نومولود کو آدم خور واٹر ٹینکر نے تیز رفتاری کے باعث کچل دیا تھا۔ موٹر سائیکل سوار شاہ فیصل کالونی کے علاقے ناتھا خان کا 26 سالہ رہائشی عبدالقیوم اپنی حاملہ اہلیہ کے ہمراہ ہسپتال سے واپس گھر جارہا تھا، جہاں ملیر ہالٹ بریج کے سامنے انہیں رانگ سائڈ سے آتے ہوئے تیز رفتار واٹر ٹینکر نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ 24 سالہ زینب نے زخمی حالت میں بچے کو جنم دیا، جس کے بعد شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نومولود کو قریبی ہسپتال میں فوری طبی امداد کے لیے بھیجا۔ زخمی والدین کو فوری طور پر جناح ہسپتال روانہ کیا گیا، مگر بدقسمتی کے ساتھ وہ دونوں دم توڑ گئے۔ پولیس نے موقع پر ہی ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کو ڈرائیور کے پاس سے لائسنس نہیں مل سکا، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ لوگوں کو ڈمپر اور ٹینکر کی تیز رفتاری کے باعث موت کے گھاٹ اتارنے والے ڈرائیوروں کے پاس گاڑی چلانے کا لائسنس بھی موجود نہیں ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے لواحقین کا کہنا ہے کہ ’ڈرائیور اور ٹینکر مالکان کو سخت سزا دی جائے، یہ ہماری خوشیوں کے قاتل ہیں، عید سے قبل گھر میں صف ماتم بچھ گئی ہے‘۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ویڈیو نے دل دہلا دیے ہیں، سوشل میڈیا پر ہیوی ٹریفک اور ڈمپر مافیا کے خلاف منظم مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پولیس اور صوبائی انتظامیہ کو ان حادثات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس دلخراش حادثے کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا تھا کہ ’ڈمپر موت بانٹ رہے ہیں اور حکومت سو رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اس حوالے سے سارے دروازے کھٹکھٹائے ہیں، ہم نے اس پر سفارشات بھی پیش کی ہیں، مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ناردرن بائی پاس پر ہیوی ٹریفک کیوں نہیں جاتی؟ حکومت بے حس ہے ان میں حس موجود نہیں ہے، حکومت زخمیوں کے علاج کے لیے کوئی میکینزم بنائے۔ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس ٹینکرز و ڈمپرز کے ڈرائیوروں کو لگام دینے اور شہریوں کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑے گی، منگل کی شام ملیر ہالٹ پر ڈمپر مافیا کے خلاف احتجاج کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی شارق جمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹریفک قوانین کے حوالے سے ترمیم بھی جمع کروائی ہے، مگر صوبائی حکومت صرف دلاسے دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  کراچی میں ڈمپر اور ٹینکر کی وجہ سے انسانی جانوں کی ہلاکت لسانی نہیں انسانی مسئلہ ہے، جسے کچھ لوگ تعصب کی ہوا دے رہے ہیں جو کہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ شارق جمال نے کہا ہے کہ اصل ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، وہ قانون پر عمل کروائے، شہر میں واٹر ٹینکر دن دیہاڑے دندناتے پھر رہے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ پولیس رشوت لے کر ہیوی ٹریفک کو سڑکوں پر چھوڑ دیتی ہے اور یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شارق جمال نے مزید کہا کہ عوام میں ان حادثات کو لے کر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جو کہ جائز بھی ہے۔ شہر میں ہونے والے ہر پر امن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں انتشار نہ ہو کیونکہ پولیس قانون توڑنے والوں کے خلاف توکارروائی نہیں کرتی مگر احتجاج کرنے والوں کو فوری گرفتار کرلیتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اس حوالے سے اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر راجہ اظہر نے اس المناک حادثے کا ذمہ دار ڈی آئی جی ٹریفک اور صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے ان قاتل ٹینکروں اور ڈمپروں کو بھاری بھتوں کے عوض کراچی جیسے ہیوی ٹریفک والے شہر میں دن دہاڑے آزاد گھومنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کے پاس اس ہیوی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی پلان نہیں، ٹریفک پولیس کا کام صرف رشوت لینا رہ گیا ہے۔ دن کے اوقات میں ڈمپرز، ٹینکرز اور بڑی گاڑیوں کا شہر میں داخلہ بند کیا جائے، ورنہ پھر عوام کو لے کر سڑکوں پر آئیں گے۔ سندھ حکومت نے عوام کو مرنے کے لیے چھوڑدیا ہے، ٹیکس کے پیسوں سے آپ عیاشیاں کرتے ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ ٹریفک قوانین اور بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر سزاؤں کے حوالے سے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹریفک قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کروانا ضروری ہے۔ ایڈووکیٹ عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے مختلف سیکشن کے تحت گاڑیوں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ اگر ڈرائیور کے پاس لائسنس موجود ہے اور کسی بداحتیاطی کے سبب کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو آرٹیکل 320 قتل خطا  کے تحت دس سال قید اور دیت کی سزا دی جائے گی، جب کہ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں 322 قتل بالسبب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا، جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے متعین کردہ دیت کی رقم دینا لازم ہوگی۔ رواں سال میں ہیوی ٹریفک کی وجہ ہلاک ہونے کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی ملینیم مال گلستان جوہر کے علاقے میں تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے میاں اور بیوی سمیت دو افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے تھے، جب کہ ملیر ہالٹ کے مقام پر تیز رفتار ڈمپر

کراچی: پولیس نے اسلحہ کے زور پر 1300 سے زائد موٹر سائیکلیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار

کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کے خلاف پولیس کی بڑی کارروائی کی گئی، شارع نور جہاں پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں 1300 سے زائد موٹر سائیکلیں چوری اور چھیننے والے گروہ کے تین ملزمان کو مقابلے کے بعد گرفتار کرلیا۔ ایس ایس پی سینٹرل ذیشان شفیق کے مطابق گرفتار ملزمان اسٹریٹ کرائم کی سینکڑوں وارداتوں اور اے ٹی ایم کے قریب شہریوں سے لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں۔ یہ گروہ ہر دوسرے دن شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل چوری یا چھیننے کی واردات کرتا تھا اور پھر چوری شدہ گاڑیاں فوری طور پر دوسرے ہی دن اپنے ساتھیوں کو کراچی میں فروخت کر دیتا تھا۔ مزید پڑھیں: بادامی باغ پولیس کی کاروائی ،ناٹ فار سیل سرکاری ادوایات سیل کرنے والے چار ملزمان گرفتار پولیس کے مطابق ملزمان نے اب تک 1200 سے زائد موٹر سائیکلیں چوری کی ہیں، جب کہ ڈیڑھ سو سے زائد چھینی ہیں۔ گرفتار ملزمان پر پولیس مقابلے، اسلحے کے زور پر موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔

بادامی باغ پولیس کی کاروائی ،ناٹ فار سیل سرکاری ادوایات سیل کرنے والے چار ملزمان گرفتار

لاہور میں بادامی باغ کی پولیس نے کارووائی کی ہے جس میں ناٹ فار سیل سرکاری ادویات اور میڈیکل آلات سیل کرنے کی صورت میں چار ملزمان کو دوران چیکنگ خفیہ اطلاع پر مال مسروقہ سمیت گرفتار کیا گیا  ہے۔ ملزمان کا سرغنہ خالد میو ہسپتال میں سرکاری ملازم اور فارمیسی ٹیکنیشن ہے،ملزمان ادوایات سے سرکاری لیبل اتار کر مارکیٹوں میں فروخت کرتے تھے۔ ملزمان منظم گروہ کی شکل میں سرکاری ہسپتالوں سے ادوایات چوری کر کے دیگر اضلاع میں فروخت کر تے رہے ہیں اور ان کے قبضہ سے لاکھوں مالیت کی مختلف میڈیسن اور آلات سے بھرے 16 کاٹن برآمد ہوئے ہیں۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے میو ہسپتال سے میڈیسن اور دیگر آلات چوری کرنے کا اعتراف کیا ہے،اس کاروائی کے تحت گرفتار ملزمان میں بابر، باقر، خالد اور عمران شامل ہیں جن پر  مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایس پی سٹی کیپٹن ریٹائرڈ قاضی علی رضا نے بروقت کاروائی پر ایس ایچ او بادامی باغ اور سب انسپکٹر حافظ عدنان سمیت ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ مستحق عوام الناس کے علاج معالجہ کے لیے آئی سرکاری میڈیسن پر شب خون مارنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا ‘گندم اگاؤ’ اسکیم کا افتتاح، کاشتکاروں کو ایک ہزار مفت ٹریکٹر دینے کا اعلان

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے “پنجاب ویٹ این سینٹیو پروگرام” کے تحت گندم کے کاشتکاروں کے لیے ایک ہزار مفت ٹریکٹروں کی قرعہ اندازی کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔  یہ سکیم کاشتکاروں کے لیے نہ صرف خوشی کا پیغام لے کر آئی ہے بلکہ اس سے زرعی شعبے میں بہتری کی نئی امید بھی جڑی ہوئی ہے۔ قرعہ اندازی کی تقریب میں وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ایک بٹن دبا کر اس کی رسمی طور پر ابتدا کی، جس کے بعد سب سے پہلا ٹریکٹر بہاولنگر کی خاتون کاشتکار ‘کوثر پروین’ کے نام نکلا۔ اس اہم موقع پر وزیراعلیٰ نے خود فون کرکے کامیاب کاشتکاروں کو مبارکباد دی۔ وزیراعلیٰ کا خود فون کرکے کاشتکاروں کو مبارکباد دینا ان کی کاشتکاروں کے لیے محبت اور حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے جھنگ کے محمد اقبال اور منڈی بہاؤالدین کے سلمان احمد سے بھی خود فون کرکے ان کو کامیابی کی خوشخبری دی۔ اس موقع پر کاشتکاروں نے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائیں کیں۔ وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے گرین ٹریکٹر، کسان کارڈ، سپر سیڈر اور دیگر کئی اہم منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ گندم کی فصل ان شاء اللہ بہترین ہوگی، اور میں اپنے کاشتکار بھائیوں کے ساتھ ہوں۔” یہ بھی پڑھیں:‘بیٹیوں کی گرفتاری اور ہماری ماؤں بہنوں کی بے حرمتی’ اختر مینگل کا بلوچستان میں لانگ مارچ کا اعلان ان کا کہنا تھا کہ یہ سکیم کاشتکاروں کی محنت کا اعتراف ہے اور اس سے ان کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ “گندم اگاؤ” مہم کے تحت مفت ٹریکٹر سکیم کے لیے 57733 سے زائد اراضی مالک کاشتکاروں نے درخواست دی تھی جن میں سے 21496 کاشتکار قرعہ اندازی کے لیے اہل قرار پائے۔ کامیاب کاشتکاروں کو 55 ہارس پاور کے جدید ٹریکٹر مفت فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق تین ماہ کے اندر ان ٹریکٹروں کی فراہمی کا عمل شروع ہو جائے گا جو کاشتکاروں کی محنت کو مزید جلا بخشے گا۔ پنجاب میں اس وقت 5 لاکھ 60 ہزار ایکٹر اراضی پر گندم کی فصل کاشت کی گئی ہے جو کہ اس مہم کی کامیابی اور اس کے زرعی شعبے پر اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف کاشتکاروں کے لیے بلکہ پورے صوبے کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس سے زراعت کے شعبے میں جدت اور بہتری آئے گی۔ جس سے ان کی زندگیوں میں آسانیاں آئیں گی اور زرعی ترقی میں نئی روشنی آئے گی۔ اس سکیم کے تحت کاشتکاروں کو ملنے والے ٹریکٹر ان کے کام کو تیز تر اور بہتر بنائیں گے جس سے گندم کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ مزید پڑھیں: ’شادی سے پہلے تھیلیسمیا ٹیسٹ لازم ہوگا‘ قومی اسمبلی میں بل پیش کردیا گیا

‘امریکی قومی سلامتی داؤ پر لگ گئی’ حوثیوں کے خلاف جنگی منصوبے غلطی سے شئیر ہوگئے

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک غلطی نے امریکی حکام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جب کچھ اعلیٰ ترین حکومتی افسران نے ایک ‘انکرپٹڈ چیٹ گروپ’ میں یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف جنگی منصوبے ایک صحافی کے ساتھ شیئر کردیے۔ یہ انکشاف “دی اٹلانٹک” کے صحافی کی طرف سے سامنے آیا جس پر امریکی قانون سازوں کی طرف سے فوری ردعمل آیا ہے اور انہوں نے اس مسئلے کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے دیا۔ “دی اٹلانٹک” کے ایڈیٹر ان چیف ‘جیفری گولڈ برگ’ نے پیر کو ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ انہیں 13 مارچ کو سگنل میسجنگ ایپ پر ایک “ہوثی پی سی اسمال گروپ” کے نام سے ایک چیٹ گروپ میں دعوت دی گئی تھی۔ اس گروپ میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر ‘مائیک والز’ اور ان کے نائب ‘ایلیکس وونگ’ یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ گولڈ برگ نے یہ بھی بتایا کہ اس گروپ میں کئی اعلیٰ امریکی حکام کے اکاؤنٹس شامل تھے جن میں نائب صدر جے ڈی ونس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر ‘جان رٹکلف’ بھی شامل تھے۔ گولڈ برگ کے مطابق امریکی وزیر دفاع ‘پیٹ ہیگسیٹھ’ نے گروپ میں جنگی منصوبے کی آپریشنل تفصیلات شیئر کیں جن میں اہداف، ہتھیار، اور حملوں کے ترتیب کا ذکر شامل تھا۔ ہیگسیٹھ نے بعد میں ان الزامات کی تردید کی تاہم گولڈ برگ نے اس بات کو “شوکنگلی ریکلیس” قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ قومی سلامتی کے لیے ایک دھچکا تھا۔ 15 مارچ کو امریکا نے یمن کے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے جو ریڈ سی شپنگ پر حملے کر رہے تھے۔ یہ بھی پڑھیں: کیا نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستان کو متاثر کرے گی؟ ان حملوں کی تیاری کے دوران گروپ میں یہ بحث ہوئی تھی کہ آیا یورپ کے اتحادیوں کو اس فوجی کارروائی میں شامل کیا جائے اور اس بارے میں تشویش ظاہر کی گئی تھی کہ امریکی اسٹریٹجک مفادات میں یورپی ممالک کا کردار زیادہ ہے۔ اس واقعے نے امریکی قانون سازوں کو بھی متحرک کر دیا ہے جو اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس قسم کی معلومات کی غلط طریقے سے شیئرنگ امریکی قومی سلامتی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکا کے قانون کے مطابق اگر کسی شخص نے خفیہ معلومات کو غلط طریقے سے استعمال کیا یا شیئر کیا تو وہ قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سگنل ایپ پر غائب ہونے والی معلومات نے وفاقی ریکارڈ رکھنے کے قوانین کے حوالے سے مزید سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس معاملے کی شدید مذمت کی ہے اور سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ یہ “غیر قانونی اور انتہائی خطرناک” عمل تھا اور سینیٹر کرس کوونز نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ اس معاملے میں شامل تمام حکام نے قانونی طور پر ایک بڑا جرم کیا ہے، چاہے وہ اس میں جان بوجھ کر ملوث نہ ہوں۔ وائٹ ہاؤس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس پر لاعلمی کا اظہار کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفصیل سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور وہ اس کے نتائج سے آگاہ ہیں۔ تاحال اس مسئلے کے نتیجے میں کسی افسر کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکی حکومتی اداروں کی سطح پر ایک بڑی غلطی ہے، بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی امریکی حکومتی رازوں کی حفاظت کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔ مزید پڑھیں: کینیڈا کے انتخابات میں چین اور انڈیا کی مداخلت کا خطرہ، سیکیورٹی ایجنسی نے خبردار کردیا

’شادی سے پہلے تھیلیسمیا ٹیسٹ لازم ہوگا‘ قومی اسمبلی میں بل پیش کردیا گیا

پاکستان میں تھیلاسیمیا کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ایک بل پر غور شروع کیا ہے جس کے تحت ہر دلہے کو شادی سے پہلے تھیلاسیمیا کی جانچ کروانا لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس بل کا مقصد بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا اور صحت کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا ہے۔ وزیرِ صحت ‘سید مصطفی کمال’ نے اس بات پر زور دیا کہ کہ یہ قانوں بہت ضروری ہے تاکہ تھیلاسیمیا کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون اسلام آباد کی وفاقی حکومت کی سطح پر لازمی ہونا چاہیے تاکہ ہم اپنے بچوں کو اس مہلک بیماری سے بچا سکیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن شرملا صاحبہ فاروقی حشام کی جانب سے پیش کردہ یہ بل “اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلاسیمیا اسکریننگ بل 2025” کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے۔ وزیرِ صحت مصطفی کمال نے بل کے حوالے سے کہا کہ ان کی وزارت اس بل کی مکمل حمایت کرے گی اور ان کی تجویز تھی کہ ہر دلہے کا تھیلاسیمیا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے اور اگر دلہا مثبت نکلے تو دلہن کا بھی ٹیسٹ ہونا چاہیے۔ کمیٹی کے چیئرمین مہیش کمار ملانی جو پی پی پی کے ہی رکن ہیں انہوں نے بل کے مسودے میں مزید ترامیم کرنے کی ہدایت دی تاکہ یہ بل قانون کی وزارت اور قائمہ کمیٹی میں جمع کرایا جا سکے۔ تھیلاسیمیا ایک جینیاتی بیماری ہے جو خون کے سرخ خلیات کی کمی کا سبب بنتی ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں، تھیلاسیمیا مائنر، تھیلاسیمیا میجر اور تھیلاسیمیا انٹرمیڈیا۔ تھیلاسیمیا میجر کے مریضوں کو ساری زندگی خون کی کمی کا سامنا رہتا ہے جبکہ انٹرمیڈیا کے مریضوں کو کسی بھی وقت میجر بننے کا خطرہ ہوتا ہے۔ تھیلاسیمیا مائنر کے مریض معمول کی زندگی گزارتے ہیں مگر یہ بیماری جینیاتی طور پر منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کے نتیجے میں مریض کو خون کی منتقلی کی ضرورت پڑتی ہے اور زندگی بھر علاج جاری رکھنا پڑتا ہے جو نہ صرف مہنگا ہوتا ہے بلکہ اس کے لیے خون کے عطیے کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور اس بیماری کا واحد علاج ‘بون میرو ٹرانسپلانٹ’ ہے جو انتہائی مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔ سید مصطفی کمال نے اس بات پر زور دیا کہ اس بل کا مقصد صرف تھیلاسیمیا کے پھیلاؤ کو روکنا نہیں بلکہ اس بیماری کے متاثرین کی زندگیوں کو بچانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی جانچ پڑتال سے ہم کئی زندگیوں کو بچا سکتے ہیں اور اس کا نفاذ اسلام آباد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے ملک میں اسے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں تھیلاسیمیا کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا یہ قدم نہ صرف ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح قوانین کی مدد سے ہم اپنی صحت کے نظام کو مضبوط کر سکتے ہیں اور اس طرح کی موزی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ مزید پڑھیں: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ انتقال کرگئیں