اپریل 5, 2025 12:30 صبح

English / Urdu

ٹرمپ کا ٹیرف کیا ہے؟

ٹیرف ایک قسم کا درآمدی ٹیکس ہوتا ہے جو کسی ملک میں بیرون ملک سے آنے والی اشیاء پر لگایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مقامی صنعتوں کو تحفظ دینا، تجارتی خسارہ کم کرنا یا بعض ممالک پر اقتصادی دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی اس پالیسی کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ جب وہ 2016 میں صدر بنے تو انہوں نے چین، یورپی یونین، میکسیکو اور کینیڈا جیسے ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے۔ اس وقت بھی ان کا مؤقف یہی تھا کہ زیادہ ٹیرف لگانے سے امریکی معیشت کو فائدہ ہوگا کیونکہ لوگ مقامی مصنوعات خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ 2025 میں دوبارہ امریکی صدر بننے کے بعد  وہ پھر سے  اسی پالیسی پر زور دے رہے ہیں۔ اس کا ایک مقصدیہ بھی ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو کم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی معیشت کو فائدہ ہوگا اور ملازمتوں کو تحفظ ملے گا۔ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں انہوں نے تمام ممالک پراسٹیل اور ایلومینیم  درآمد کرنے پر 25 فیصد ٹیرف لگایا ہے۔ اس کے علاوہ میکسیکواور  کینیڈا پر سوائے توانائی کی مصنوعات کے تمام اشیا پر25 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔ امریکا نے  نے چین کی مصنوعات پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد چین سے آنے والی منشیات، خاص طور پر فینٹینائل، کی روک تھام تھا۔ امریکا کے اس اقدام کے بعد کچھ ممالک نے امریکا پر جوابی ٹیرف لگایا ہے۔ جس میں چین، میکسیکو، کینیڈا اور یورپین یونین شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ٹیرف بڑھانے سے درآمد شدہ اشیاء مہنگی ہو جائیں گی، جس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا۔ بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی تجارتی پالیسیاں عالمی معیشت پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں اور دیگر ممالک سخت جوابی اقدامات کر سکتے ہیں۔

بس فون اٹھائیں، کال ملائیں اور انصاف پائیں

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ‘اینٹی کرپشن ہاٹ لائن’ کا قیام کیا گیا ہے اپنے حق کے لیے اینٹی کرپشن کے( 03264442444) اس نمبر پر کال کریں اور اپنا انصاف حاصل کریں۔ یہ نمبر یاد رکھیں اور ہر لمحہ اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ سے کوئی بھی رشوت مانگے، کوئی بھی انصاف میں رکاوٹ ڈالے، یا پھر کوئی بھی آپ کا حق دبانے کی کوشش کرے تو فوراً فون اٹھائیں اور اس نمبر پر اطلاع دیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ “نظام عدل میں تیز ترین انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے”۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ پچھلے پانچ ماہ میں سات ہزار 633 نئے کیس دائر ہوئے لیکن حیرت انگیز طور پر 11 ہزار 779 کیسز کے فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ انصاف کی مشینری اب پہلے سے کہیں زیادہ برق رفتاری سے کام کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ نئے ججوں کی تقرری کے بعد یہ رفتار مزید تیز ہو جائے گی۔ یہ ہاٹ لائن صرف ایک نمبر نہیں، یہ انصاف کی آواز ہے۔ یہ عدلیہ میں احتساب کا نیا معیار ہے۔ یہ عوام کے حقوق کی جیت ہے۔

“حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی جڑیں افغان سرزمین سےجڑی ہوئی ہیں”وزیر دفاع

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مستحکم تعلقات چاہتا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی جڑیں افغان سرزمین میں موجود عناصر سے جڑی ہیں۔ نجی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں خواجہ آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباً پونے دو سال قبل کابل گئے تھے، جہاں مثبت ماحول میں بات چیت ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد سے حالات میں تنزلی آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف کارروائیوں میں متعدد دہشتگرد مارے گئے ہیں، جن میں زیادہ تعداد افغان شہریوں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو حالات بہتر بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے، کیونکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بڑی تعداد افغانستان میں موجود ہے۔ خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل صوبے کی روایتی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، دنیا میں مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوتے ہیں، اور یہی راستہ بلوچستان میں بھی اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاریاں قانون کے مطابق ہونی چاہئیں اور معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بلوچستان کے مسائل کئی دہائیوں پرانے ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ  سرفراز بگٹی کو مذاکراتی عمل کی قیادت کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے رائے دی کہ نواز شریف کو بھی بلوچستان کے معاملے پر متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم، ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے، اور وہ عید کے بعد اس معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی فلسطین سے وابستگی 1967 سے ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی فلسطین کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر فلسطینی عوام کے حقوق کی آواز بلند کی ہے۔ خواجہ آصف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملک کی سالمیت سے متعلق اہم معاملات پر گفتگو کی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کے طرزِ عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بانی کے بغیر کسی بھی چیز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، یہ ایک غیر جمہوری سوچ ہے، اور سیاست کو شخصیات سے نکال کر نظریات کی بنیاد پر استوار کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی سولر صارفین کو بجلی کی پرانی قیمت ملے گی یا کم شدہ نئی؟ حکومت تذبذب کا شکار

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی پر شدید بحث چھڑ گئی، جہاں وزیر توانائی اویس لغاری اور سینیٹر شبلی فراز آمنے سامنے آگئے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر محسن عزیز نے کی، جس میں شبلی فراز نے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ ماڈل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام سے 10 روپے میں بجلی خرید کر 50 روپے میں بیچنا سراسر ظلم ہے۔ حکومت عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے بجائے ان پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب شہریوں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے سولر پینلز لگوا لیے، تو پالیسی میں اچانک تبدیلی کرکے ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نیٹ میٹرنگ کے تحت خریدی گئی بجلی کو سستے داموں نہیں بیچ سکتی کیونکہ اس میں کیپیسیٹی چارجز بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی کابینہ نے تاحال نئی سولر پالیسی کی توثیق نہیں کی اور وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کے بعد پالیسی کو دوبارہ پیش کیا جائے۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ عوام کو بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں میں ریلیف کیوں نہیں دیا جا رہا اور آئی پی پیز (نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں) سے مذاکرات میں کیا پیش رفت ہوئی؟ اس پر اویس لغاری نے کہا کہ حکومت آئی پی پیز سے مذاکرات کر رہی ہے، لیکن کچھ کمپنیوں کی جانب سے عالمی سطح پر رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو حکومت عالمی ثالثی کا راستہ اختیار کرے گی اور فارنزک آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔ سینیٹر محسن عزیز نے سوال اٹھایا کہ جب عوام نے اپنے گھروں پر سولر سسٹم لگا لیے، تو حکومت اب پالیسی میں تبدیلی کیوں کر رہی ہے؟ وزیر توانائی نے جواب دیا کہ سولر نیٹ میٹرنگ پر حتمی فیصلہ لینے سے پہلے مزید مشاورت کی جائے گی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا۔

حافظ نعیم کا 20 اپریل کو پشاور میں امن مارچ کا اعلان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے عید کے بعد 20 اپریل کو پشاور میں امن مارچ کا اعلان کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘حق دو عوام کو، بچاؤ پاکستان کو’تحریک کے ذریعے پرامن سیاسی مزاحمت جاری رہے گی، جماعت اسلامی 20اپریل کو پشاور میں امن مارچ کا انعقاد کرے گی اوربجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے عید کے بعد تحریک چلائی جائے گی۔  اسلام آباد میں حافظ نعیم کی پریس کانفرنس سے قبل خیبرپختونخوا کی قیادت نے امیر جماعت اسلامی سے خصوصی ملاقات کی، ملاقات میں مارچ کے معاملے پر مشاورت کی گئی۔ ۔انہوں  نے کہا ہے کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے کے پی میں دہشت گردی واپس آچکی ہے، آج کے پی کے عالمی ایجنسیوں کی پراکسی بن گیا ہے انہوں نے  مزید کہا کہ پختونوں، بلوچوں کو اعتماد میں لیے بغیر، کے پی اور بلوچستان میں امن قائم نہیں ہوگا، خطے میں امن کی کنجی پاک افغان تعلقات کی بحالی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ عوام کی مرضی کے خلاف حکمران مسلط کیے جائیں گے تو اعتماد کا بحران پیدا ہوگا، اسٹیبلشمنٹ لوگوں کو مسلط کرنے کے عمل سے دور ہوجائے اور حکمرانوں کی امریکا نوازی نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا ہے۔ مزید پڑھیں:اربوں روپے کا تعلیمی بجٹ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے، حافظ نعیم الرحمان

’جرم کے بغیر صحافیوں کو اٹھائے جانے کی حمایت نہیں کرسکتے‘ صحافی تنظیمیں

کراچی پریس کلب اور پی ایف یو جے نے صحافی وحید مراد کی پیکاایکٹ کے تحت گرفتاری اور فرحان ملک کو مقدمے میں ملوث کرنے کی شدید مذمت کی ہے، صحافی برادری کا کہنا ہے کہ ملک میں صحافت کو جرم بنا دیا گیا ہے،حکومت صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کرے۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ،سیکرٹری سہیل افضل خان اور مجلس عاملہ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ملک میں صحافت کو جرم بنادیا گیا ہے۔ تواتر کے ساتھ صحافیوں کی گرفتاریاں پیکاایکٹ کا شاخسانہ ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ دنیا بھرمیں حکومت اور ریاست کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ حکومت صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کرے ۔ صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی یوجے ایف) کے صدر افضل بٹ اور سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پی ایف یو جے وحید مراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور اغوا کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ مزید پڑھیں: صحافی وحید مراد کے خلاف درج ایف آئی آر منظرعام پر، ’جرم‘ کیا ہے؟ پی ایف یوجے نے پیکا ایکٹ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس(ورکرز) کے صدر فرخ شہبازوڑائچ نے کہا ہے بغیر کسی نوٹس کے گرفتاریاں ناقابل قبول ہیں، ادارے اغوا کار نہ بنیں، آئین اور قانون کے دائرے میں کام کریں۔ اے پی این ایس کے عہدیدار نوید چوہدری نے کہا ہے کہ حلال روزی کمانے والے صحافی فیک نیوز کے سب سے بڑے مخالف ہیں، فیک نیوز صحافت کا قتل ہے، دوسرا بیرون ملک بیٹھے کسی شخص کے ذریعے کوئی چیزریاستی اداروں اور قومی مفادات کے خلاف چلائی جائے شرانگیزی ہے۔ ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ ہے۔  پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں جن کے خلاف کارروائی ہورہی ہے یہ ’مشکوک رابطے‘ تھے۔ خبر کی وجہ سے گرفتاری ہے تو یہ غلط ہے، خبر کے نام پر ٹرولنگ بھی غلط ہے۔ غلط خبر کے نام ’ٹرولنگ‘ کی جارہی ہے تو یہ صحافت نہیں ہے۔ لاہور پریس کلب کے ممبر گورننگ باڈی مدثرشیخ نے کہا ہے جرم کے بغیر صحافیوں کو اٹھائے جانے کی حمایت نہیں کرسکتے۔ ریاستی اداروں کے خلاف کوئی بات کی جاتی ہے تو اس کی روک تھام قانون کے دائرے میں ہونی چاہئے۔ خبر سامنے لائی جائے مگر ملک دشمنی پر نہیں اترنا چاہئے۔ بلوچستان کے معاملے پر ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔  پاکستان میٹرز سے گفتگو میں گرفتار اور لاپتہ صحافیوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے غیرقانونی طورپرلاپتہ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ (پی ایف یو سی) کے صدر ساجد خان نے کہا ہے کہ صحافیوں کو جبری طور اٹھانا ایک قابل مذمت ہے، ریاستی ادارے قانون کا غلط استعمال کررہے ہیں جو نہیں ہونا چاہئے۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف اور جنرل سیکرٹری قمرزمان بھٹی نے بھی صحافیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی گرفتاری بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

حکومت افغان سیٹیزن کارڈ رکھنے والوں کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق کارروائی کرے: اسلام آباد ہائی کورٹ

پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو 31 مارچ تک وطن واپسی کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، جبکہ اس فیصلے کو روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، جس میں ہائی کورٹ نے حکومت کو افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے پناہ گزینوں کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدائیت کی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے افغان پناہ گزینوں سے متعلق فرحت اللہ بابر اور دیگر کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران افغان پناہ گزینوں کے وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے خاندان تقسیم ہو جائے گے، وکیل نے کہا کہ درخواست گزار رابعہ کی پیدائش پاکستان کی ہے، ان کے پاس نادرا سے پروف  آف رجسٹریشن کارڈ ہے، جبکہ ان کے شوہر کے پاس اے سی سی افغان سیٹیزن کارڈ ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں 31 مارچ تک رہنےکی پہلت دی گئی ہے، تو مہلت کے بعد آدھی فیملی واپس افغانستان چلی جائے گی اور باقی پاکستان میں رہے جائے گے۔اس طرح خاندان تقسیم ہونے سے بکھر جائیں گے،وکیل نے اپنا مؤقف پیش کرنے کے بعد کہا کہ حکومت کو ہدائیت کریں کہ اے سی سی کارڈ والوں کو پی او آر کے ساتھ رکھا جائے۔ فرحت اللہ بابر کے وکیل نے سماعت میں اپنے ریمارکس دیے کہ بلا تفریق سب کو ملک بد کرنے کی پالیسی درست نہیں کچھ خاندان دہائیوں سے پاکستان میں آباد ہیں اور کاروبار کر رہے ہیں، تو حکومت پاکستان کو اس فیصلہ پر رضاکارانہ کام کرنا چاہیے نہ کہ زبردستی ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ آل پارٹی کانفرنس بلائے اور وہاں پر اس معاملے پر بحث کر کے فیصلہ کریں۔ جسٹس انعام امین نے کہا کہ حکومت کو ہم ہدایت دیتے ہیں کہ افغان مہاجرین کے معاملے میں قانون و آئین کو مدنظر رکھا جائے ان کا انخلا قانونی طریقہ کار کے مطابق ہو۔

صحافی وحید مراد کے خلاف درج ایف آئی آر منظرعام پر، ’جرم‘ کیا ہے؟

ایف آئی اے کی جانب سے مبینہ اغوا کے اگلے روز درج کیے گئے مقدمہ میں وحید مراد کو گرفتاری کا باعث دو سوشل میڈیا پوسٹس کو قرار دیا گیا ہے۔ ریاست کی مدعیت میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق صحافی نے بلوچستان اورایک غیرملکی ویب سائٹ کی آرمی چیف سے متعلق خبر کو شیئر کیا ہے جو خلاف قانون ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق جن دو پوسٹس کو شیئر کرنے کا ‘جرم’ سرزد کیا گیا ہے ان میں سے ایک سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اورموجودہ حکومت کےاتحادی اختر مینگل کی ٹویٹ ہے۔ اس سے قبل 13 گھنٹے سے لاپتہ صحافی وحید مراد کو اسلام آباد کچہری جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا، ان کواسلام آباد سے نامعلوم افراد نے ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ وحید مراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری ساس کینسر کی مریضہ ہیں، کینیڈا سے علاج کرانے آئیں، جو گھر اٹھانے آئے میں نے انہیں کہا اپنی شناخت کروائیں۔ بیس منٹ پہلے مجھے ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ہے، میری آنکھوں پر پٹی تھی، صحافی وحید مراد کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ وحید مراد کی ساس عابدہ نواز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’کراچی کمپنی تھانے میں درخواست دی لیکن اس کے باوجود مقدمہ درج نہیں ہوا، مغوی کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے۔‘ وکیل ایمان مزاری کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں سیکرٹری داخلہ و دفاع، آئی جی اور ایس ایچ او کراچی کمپنی کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق ’رات دو بجے سیاہ لباس میں ملبوس افراد جی ایٹ میں واقع گھر آئے، دو پولیس کی گاڑیاں بھی ان کے ساتھ نظر آ رہی تھیں۔ سیاہ میں ملبوس افراد وحید مراد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔‘ درخواست میں ’وحید مراد کو فوری بازیاب کرانے اور ’غیر قانونی طور پر اٹھانے والوں‘ کے خلاف کارروائی کا حکم دیے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستانی صحافی  وحید مراد کے اغوا کی اطلاع پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آئی جب ان کے ساتھی صحافی نے واقعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کی’۔ فرحان خان کے مطابق ‘وحید مراد کو ان کی رہائش گاہ جی ایٹ سے نامعلوم افراد نے اغوا’ کیا۔’ پاکستان میٹرز سے گفتگو میں فرحان خان نے تصدیق کی کہ وحید مراد کو رات گئے ‘ڈالوں میں سوار نامعلوم افراد اس وقت ہمراہ لے گئے جب گھر پر ان کی ضعیف ساس اکیلے موجود تھیں۔’ اے وحید مراد کے گھر کے باہر موجود فرحان خان کے مطابق ‘وحید نے انہیں فون پر اطلاع دی کہ کچھ افراد مشکوک انداز میں ان کے گھر کے باہر موجود ہیں۔ ہم کچھ دیر قبل وہاں اکٹھے موجود تھے۔ جتنی دیر میں وہاں پہنچا تو ڈالوں میں سوار نامعلوم افراد وحید کی رہائش گاہ کے باہر سے واپس ہو رہے تھے۔’ انہوں نے تصدیق کی کہ واقعہ کے وقت اے وحید مراد کی ساس گھر پر اکیلی موجود تھیں۔ وحید مراد سعودی عرب کے ڈیجیٹل میڈیا ہاؤس، اردو نیوز کے ساتھ ملٹی میڈیا جرنلسٹ کے طور پر وابستہ ہیں۔ وحید اے مراد کے اغوا کے وقت موقع پر پہنچ جانے والے ایک اور صحافی ثوبان افتخار راجہ کے مطابق انہوں نے اغواکاروں کی ویڈیو بنائی جس پر انہوں نے میرا پیچھا کیا اور مجھے غلیظ گالیاں بکتے ہوئے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی کے مطابق نامعلوم افراد نے میرے موبائل چھین لیے اور دھمکیاں دیں کہ ‘تم مجھے جانتے نہیں ہو’۔ اغوا کاروں نے گن تان کر مجھ سے زبردستی موبائل کا پاس ورڈ معلوم کیا اور مجھے چلتی گاڑی سے پھینک کر فرار ہو گئے۔ مزید پڑھیں: لاپتہ صحافی وحید مراد 13 گھنٹے بعد عدالت پیش، کہاں غائب تھا؟ صحافی اسرار احمد نے ساتھی صحافی ثوبان پر تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وحید مراد کے اغوا کے بعد ان کے گھر پہنچنے والے کولیگ نوجوان صحافی ثوبان افتخار کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کو گن کے بٹ سے مارا گیا۔ کنپٹی پر لوڈڈ گن رکھ کر ان کے موبائل کے پاسورڈ حاصل کرنے کے بعد بیگ، موبائل، تمام گیجٹس اور سامان اغوا کار ساتھ لے گئے۔ ہم ثوبان کا میڈیکل کرانے پمز جارہے ہیں۔ اے وحید مراد کو نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا کیے جانے کے بعد اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے عالمی اور مقامی میڈیا ہاؤسز سے وابستہ کئی صحافی واقعہ کی ایف آئی آر درج کرانے کراچی کمپنی پولیس اسٹیشن بھی پہنچے تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔   اے وحید مراد کی اہلیہ صحافی شنزہ نواز کے مطابق ان کے خاوند کو ‘رات دو بجے نقاب پوش افراد اٹھا کر لے گئے ہیں۔ وہ بار بار یہ پوچھ رہے تھے کہ اس کی بیوی کہاں ہے۔ میری والدہ بھی گھر تھیں۔ ان کے ساتھ بھی بدتمیزی کی ہے، دھکا دیا ہے۔ والدہ دل کی مریضہ ہیں، میری والدہ کا فون، وحید کے دونوں فون اور کچھ پیپرز لے گئے ہیں۔’

عالمی تجارتی اصلاحات کی ضرورت: وزیر خزانہ  کا ترقی پذیر ممالک کے لیے مضبوط پالیسیوں پر زور

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی تجارتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو زیادہ محصولات، تجارتی پابندیوں اور مالیاتی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جو ان کی اقتصادی ترقی اور عالمی معیشت میں انضمام میں رکاوٹ ہیں۔ بواؤ فورم برائے ایشیا 2025 میں خطاب کرتے ہوئے، وزیر خزانہ نے نشاندہی کی کہ غیر منصفانہ عالمی تجارتی طریقوں سے ترقی یافتہ ممالک کو غیر متناسب فائدہ پہنچتا ہے، جب کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں قرضوں کے بوجھ، تجارتی عدم توازن اور محدود مالیاتی رسائی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان عدم مساوات کا ازالہ نہ کیا گیا تو امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھے گا۔ انہوں نے عالمی معیشت میں جامعیت کو ایک ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی نظام غیر مساوی ہے، جہاں کچھ معیشتیں ترقی کر رہی ہیں، جب کہ دیگر خاص طور پر عالمی جنوب میں موجود رکاوٹوں کی وجہ سے پیچھے رہ گئی ہیں۔ اورنگزیب نے ٹیکنالوجی کو تجارتی برابری کے حصول کا ذریعہ قرار دیا اور عالمی سطح پر اے آئی اور فِن ٹیک فنڈز کے قیام کی تجویز دی تاکہ ترقی پذیر ممالک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے جی 20 اور آئی ایم ایف پر زور دیا کہ وہ خودمختار قرضوں کی تنظیم نو کریں تاکہ مشکلات کا شکار معیشتوں کو مالی استحکام فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قرضوں کا نظام ترقی پذیر ممالک کو معاشی بحران میں مبتلا رکھتا ہے اور ان کی طویل مدتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مزید برآں، وزیر خزانہ نے موسمیاتی مالیات میں اصلاحات پر زور دیا اور بتایا کہ پاکستان عالمی کاربن کے اخراج میں 1ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے موسمیاتی مالیات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے مزید بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور جیسے منصوبوں کو پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے تجارتی صلاحیت میں اضافہ کیا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تعاون خاص طور پر اے آئی، فِن ٹیک اور ڈیجیٹل کامرس کے شعبوں میں ضروری ہے، جو پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے نئے اقتصادی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ عملی اقدامات کریں اور ایک منصفانہ، پائیدار اور مالیاتی طور پر مساوی عالمی معیشت کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا، “تقاریر کا وقت ختم ہو گیا ہے، اب عمل کا وقت ہے۔“  

جنرل ہسپتال کے باہر ڈاکٹرز اور طبی عملے کا احتجاج جاری، حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی

پنجاب میں صحت کے شعبے کی نجکاری کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ آج لاہور کے جنرل ہسپتال کے باہر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سخت نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ نجکاری کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ احتجاج میں شریک ڈاکٹروں نے حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں ایتھوپیا والی سہولیات دی جا رہی ہیں لیکن نتائج اسپین اور اٹلی جیسے مانگے جا رہے ہیں۔” انکا کہنا تھا کہ “حکومت اگر ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتی تو کم از کم ہماری نوکریاں نہ چھینے۔” احتجاج میں شریک تنظیموں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت بنیادی مراکز صحت (BHU) اور رورل ہیلتھ سنٹرز (RHC) کی نجکاری کر کے ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کرنے جا رہی ہے۔ مظاہرین کی جانب سے پرائم منسٹر ہیلتھ انیشیٹو (PMHI) پروگرام کے ملازمین جو تین ماہ سے تنخواہوں اور روزگار سے محروم ہیں ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طبی عملے نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسپنسرز، آیا، سینٹری ورکرز اور معاون طبی عملے کو بھی ریگولر کیا جائے تاکہ ان کی سالوں کی محنت ضائع نہ ہو۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نجکاری کا مطلب صحت کی سہولیات کو مہنگا اور ناقص بنانا ہے جو عوام کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ یہ احتجاج پنجاب میں صحت کے شعبے میں نجکاری کے خلاف جاری تحریک کا تسلسل ہیں۔ اس احتجاج میں تقریباً 23 تنظیموں نے گنگا رام ہسپتال سے محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن تک لانگ مارچ کیا تھا جس میں ہزاروں ملازمین نے شرکت کی تھی۔ احتجاج میں نمایاں تنظیمیں جیسے کہ ‘ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن’ (YDA)، ینگ نرسز ایسوسی ایشن، (YNA)پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن، لیڈی ہیلتھ وزیٹر ایسوسی ایشن اور پنجاب ڈسپنسرز ایسوسی ایشن شامل ہیں۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا اور آئندہ پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ تاحال پنجاب حکومت نے اس احتجاج پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا لیکن محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹروں اور طبی عملے نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ بڑھا کر پورے پنجاب میں اسپتالوں کو بند کرنے کی کال دی جائے گی۔ مزید پڑھیں: ‘پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے’ وزیر اعظم شہباز شریف