اپریل 4, 2025 7:31 صبح

English / Urdu

پیپلزپارٹی، ن لیگ مذاکرات۔ ‘گورنر پنجاب کی پرانی گاڑی تبدیل کرنے کا’ اہم مطالبہ مان لیا گیا

وفاق میں اتحادی اور سندھ و بلوچستان کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان مذاکرات سے متعلق ایک منفرد معاملہ سامنے آیا ہے۔ پاکستانی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں ن لیگ نے پیپلزپارٹی کا اہم مطالبہ مانتے ہوئے ان کے گورنر پنجاب کی پرانی گاڑی تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ پی پی نے پنجاب حکومت سے گورنر پنجاب سلیم حیدر کی پرانی گاڑیوں کا شکوہ کیا تھا ، جس پر ن لیگ نے گاڑیوں کی تبدیلی کی یقین دہائی کرائی ہے۔ ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو گورنر پنجاب کی دیگر شکایات بھی جلد دور کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ مزید پڑھیں: سیفٹی انڈیکس: پاکستان نے امریکا، برطانیہ اور انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا مزید براں مذاکرات میں گورنر کے آبائی حلقے میں سیاسی اور انتظامی مداخلت نہ کرنے  اور ضلع میں متعلقہ شکایات دور کرنے کی بھی یقین دہائی کرائی ہے۔ گورنر پنجاب کے بیشتر تحفظات جلد دور ہونا شروع ہو جائیں گے اور پنجاب حکومت اٹک میں ترقیاتی کاموں کیلیے خصوصی فنڈز جاری کرے گی۔

شب قدر: وہ رات جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، دین اسلام میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

رمضان المبارک 2025 کا اختتام قریب ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس مقدس مہینے کی سب سے عظیم رات ‘لیلۃ القدر’ کی تلاش میں ہیں۔ یہ وہ رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ‘ہزار مہینوں سے بہتر’ قرار دیا یعنی اس ایک رات کی عبادت کا اجر 83 سال سے زیادہ عبادت کے برابر ہے۔ یہ رات مومنین کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے، جہاں وہ عبادت، دعا اور استغفار کے ذریعے اللہ کی رحمت اور مغفرت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی وہ بابرکت رات ہے، جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ روایات کے مطابق پورا قرآن لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر اتارا گیا اور پھر 23 سال کے عرصے میں نبی اکرم ﷺ پر وحی کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ یہ رات قرآن کی عظمت، ہدایت اور انسانیت کے لیے اس کے پیغام کی تجدید کی علامت ہے۔ یہ رات صرف عبادت کے لیے نہیں، بلکہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور خصوصی دعائیں کرنے کا بھی بہترین موقع ہے۔ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لیلۃ القدر میں ایک مخصوص دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے) علماء کہتے ہیں کہ یہ وہ رات ہے، جب اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور بخشش کے دروازے ہر سچے مومن کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔” یہ رات سکون، رحمت اور نور سے بھری ہوتی ہے اور جو کوئی اس میں اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے، وہ اللہ کی مغفرت اور بے پناہ برکتیں حاصل کر سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق لیلۃ القدر کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، لیکن نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو رمضان کے آخری عشرے میں، خاص طور پر طاق راتوں (21، 23، 25، 27، 29) میں اسے تلاش کرنے کی تاکید فرمائی۔ علماء کی رائے میں 27ویں شب کو لیلۃ القدر ہونے کا امکان زیادہ ہے، لیکن حتمی وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان رمضان کے آخری ایام میں عبادت کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اس بابرکت رات کو ضائع نہ کریں۔ یہ رات محض ایک معمولی رات نہیں، بلکہ یہ زندگی بدل دینے کا لمحہ ہے۔ یہ موقع ہے اللہ سے بخشش مانگنے، دعا کرنے اور اپنی روحانی زندگی کو بہتر بنانے کا، جو شخص اخلاص اور سچے دل سے اس رات کو عبادت میں گزارے، وہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ تو کیا آپ تیار ہیں؟ لیلۃ القدر کا انتظار مت کریں، بلکہ اس کی تلاش میں اپنی عبادت کو بڑھائیں اور اللہ کی رحمت سمیٹیں۔

سیفٹی انڈیکس: پاکستان نے امریکا، برطانیہ اور انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا

پاکستان نے 2025 کی عالمی سیفٹی انڈیکس رپورٹ میں نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور بھارت جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ رپورٹ عالمی سطح پر سیکیورٹی اور جرائم کی شرح کا جائزہ لینے والے کراؤڈ سورسڈ پلیٹ فارم نمبو نے جاری کی ہے، جس میں مختلف ممالک کی سیکیورٹی صورتحال کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 65ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، اور اس کا سیفٹی اسکور 56.3 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس درجہ بندی میں بھارت 66ویں نمبر پر 55.7 اسکور کے ساتھ، برطانیہ 87ویں نمبر پر، امریکہ 89ویں نمبر پر، آسٹریلیا 82ویں نمبر پر اور نیوزی لینڈ 86ویں نمبر پر رہا۔ پاکستان کی اس درجہ بندی میں بہتری کو ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نمبو کے مطابق، دنیا کا سب سے محفوظ ملک اندورا قرار پایا ہے، جس کا سیفٹی اسکور 84.7 ہے۔ یہ یورپی ملک اپنی کم جرائم کی شرح اور پرسکون ماحول کے باعث سیاحوں کے لیے ایک محفوظ ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ دیگر محفوظ ممالک میں متحدہ عرب امارات (84.5)، قطر (84.2)، تائیوان (82.9)، عمان (81.7)، سعودی عرب (76.1) اور چین (76.0) شامل ہیں۔ مزید پڑھیں: ’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی درجہ بندی متاثر ہوئی ہے۔آسٹریلیا 82ویں نمبر پر 52.7 اسکور کے ساتھ، نیوزی لینڈ 86ویں نمبر پر 51.8 اسکور کے ساتھ، برطانیہ 87ویں نمبر پر اور امریکہ 89ویں نمبر پر 50.8 اسکور کے ساتھ رہا۔ فرانس 110ویں نمبر پر 44.6 اسکور کے ساتھ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں وینزویلا پہلے نمبر پر آیا ہے، جس کا سیفٹی اسکور 19.3 ہے۔ دیگر غیر محفوظ ممالک میں پاپوا نیو گنی (19.7)، ہیٹی (21.1)، افغانستان (24.9) اور جنوبی افریقہ (25.3) شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی وجوہات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اور شہروں میں جرائم کی شرح میں کمی شامل ہیں۔ نمبو کی سیفٹی انڈیکس رپورٹ مسافروں اور مقامی شہریوں کے سرویز اور تجربات پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں جرائم کی شرح، چوری، ڈکیتی، ہراسانی اور پرتشدد واقعات کے ڈیٹا کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ مسافروں کو مختلف ممالک کی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ تاہم، نمبو کی ٹیم کے مطابق، یہ انڈیکس عوامی آراء اور صارفین کے فراہم کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے، جو بعض اوقات سرکاری سطح پر جاری کردہ اعداد و شمار سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

فیصل آباد: ‘سفر کے دوران’ ڈاکوؤں کی خاتون سے اجتماعی زیادتی

مسلح ڈاکوؤں نے موٹر وے کے قریب چنن پل پر میاں بیوی کو روکا، ان سے نقدی اور قیمتی اشیاء چھین لیں اور پھر انہیں اسلحے کے زور پر قریبی کھیتوں میں لے گئے۔ ملزمان نے شوہر کو باندھ کر خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایااور  واردات کے بعد وہ ان کے موبائل فون اور نقدی لے کر فرار ہو گئے۔ بعد ازاں شوہر  نے پولیس کو اس المناک واقعے کی اطلاع دی اور تفصیلات فراہم کیں۔ جسے تھانہ ساندل بار میں پولیس نے متاثرہ شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق دو ڈاکوؤں نے موٹروے کے قریب میاں بیوی کو روک پر انہیں لوٹا اورپھر شوہر کو باندھ کر خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد ڈاکوفرار ہو گے،پولیس نے شق کی بنیاد پر چھ افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ مزید کارروائی جا رہی ہے۔

وحیدمراد کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کو نوٹس

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے صحافی وحید مراد کی جوڈیشل مجسٹریٹ کے جسمانی ریمانڈ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کیا۔ ایک روز قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے سینئر صحافی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔ سماعت کے آغاز پر وحید مرادکی وکیل ایمان مزاری نے عدالت سے استدعا کی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے اور ان کے موکل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں، ایمان مزاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسی مثال ہے کہ سیشن عدالت نے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ دریں اثنا عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس حوالے سے ایجنسی سے کل صبح تک جواب طلب کر لیا۔ گزشتہ سماعت کے دوران استغاثہ کا موقف تھا کہ مراد نے بلوچستان میں ایک کالعدم تنظیم سے متعلق پوسٹ شیئر کی تھی اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس کے موبائل فون کی بازیابی کی بھی درخواست کی۔ ایف آئی اے نے ان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس سے قبل مراد کی ساس نے لاپتہ صحافی کی بازیابی کے لیے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ذریعے درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع، اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اور کراچی کمپنی تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو مدعا علیہ نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: صحافی وحید مراد کے خلاف درج ایف آئی آر منظرعام پر، ’جرم‘ کیا ہے؟ لاپتہ صحافی وحید مراد 13 گھنٹے بعد عدالت پیش درخواست کے مطابق کالی وردی میں ملبوس افراد صبح 2 بجے سیکٹر جی آٹھ میں ان کے گھر پہنچے اور پولیس کی دو گاڑیاں بھی ان کے ساتھ جاتی دیکھی گئیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالی وردی میں ملبوس افراد مراد کو زبردستی لے گئے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گھر میں داخل ہونے والوں نے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کی۔ کراچی کمپنی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی گئی، لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ درخواست میں مراد کی بازیابی کے لیے فوری حکم اور ان کے غیر قانونی اغوا میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

پشاور: ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ اور شور مچانے والی بائیکس پر پابندی عائد

پشاور میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر دی۔ نجی نشریاتی ادارے ’جیو نیوز‘ کے مطابق پشاور انتظامیہ نے حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ اور شور مچانے والی بائیکس پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دریاؤں اور ڈیمز میں بغیر لائف جیکٹ تیرنے پر بھی سخت ممانعت ہوگی، جب کہ کشتیوں اور جھولوں پر مقررہ گنجائش سے زائد افراد بٹھانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ مزید پڑھیں: ’کمرشل کمپنیوں پرامریکی پابندیاں یکطرفہ اور بِلاجواز ہیں‘ پاکستان ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے

لبنان کی وزارت صحت عامہ نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں دو الگ الگ اسرائیلی حملوں میں کم از کم چار افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ  حملے جنوب لبنان میں جاری مہلک حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہیں، حالانکہ نومبر میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصے کی کشیدگی اور دو ماہ کی کھلی جنگ کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی این این اےکے مطابق وزارت صحت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یُحمر الشقیف میں ایک گاڑی پر اسرائیلی دشمن کے حملے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ این این اے نے مزید کہا ہے کہ دشمن کے ایک ڈرون نےقصبے کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے ساتھ ہی توپ خانے کی گولہ باری بھی کی گئی۔ دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان کے یُحمر علاقے میں کئی حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہتھیار منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا اور مزیداسرائیلی فوج نے کہا کہ فوج نے ان جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے۔ جمعرات کی صبح این این اے نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اسرائیلی ڈرون کے ذریعے ،قصبہ معروب میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کے واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ یہ بھی پڑھیں: جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ‘فضائی حملے’ مزید کشیدگی بڑھ سکتی ہے اسرائیل نے 27 نومبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی لبنان میں حملے جاری رکھے ہیں اور ان اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو اس کے مطابق حزب اللہ کے فوجی ٹھکانے ہیں اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ تاہم، زیادہ تر شہید عام شہریوں ہوئے ہیں۔ اس سے قبل، رواں ماہ کے آغاز میں وزارت صحت نے بتایا تھا کہ یُحمر کے علاقے میں ایک اسرائیلی حملے میں دو افراد جاں بحق، جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے دو حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

لیڈی پولیس بائیک سکواڈ، پہیوں پر جرائم کے خلاف جنگ

پنجاب حکومت نے عیدالفطر کے دوران بازاروں میں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے خواتین پر مشتمل بائیک اور سائیکل اسکواڈ تشکیل دے دیا ہے۔ اس اسکواڈ کا مقصد شہریوں، خصوصاً خواتین کو جرائم پیشہ عناصر سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکواڈ بازاروں اور عوامی مقامات پر تعینات ہوگا اور چوری، جیب تراشی، ہراسمنٹ اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے کارروائی کرے گا۔ پولیس کے مطابق، اسکواڈ کو فوری رسپانس، پیٹرولنگ اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ عید کے دنوں میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن پر دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے

’کمرشل کمپنیوں پرامریکی پابندیاں یکطرفہ اور بِلاجواز ہیں‘ پاکستان

پاکستان نے کمرشل کمپنیوں پر لگائی گئی امریکی پابندیوں پر سخت ردِ عمل دیتے ہُوئے انہیں یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیا، ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر لگائی گئی تمام پابندیاں یکطرفہ ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے عائد کی گئی ہیں۔ عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق امریکی محکمہ تجارت نے پاکستان، چین، متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس فہرست میں 19 پاکستانی، 42 چینی اور 4 متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ ایران، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کچھ کمپنیاں بھی اس پابندی کی زد میں آئی ہیں۔ امریکہ نے ان کمپنیوں کو اپنی “اینٹیٹی لسٹ” میں شامل کیا ہے، جو ایسے اداروں اور کمپنیوں پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں امریکی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں امریکہ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کر رہی ہیں۔ مزید پڑھیں: ’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا پاکستان نے ان پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے عائد کی گئی ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ امریکہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر پابندیاں عائد کی ہوں۔ اپریل 2024 میں بھی امریکہ نے چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام لگا کر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی اینٹیٹی لسٹ میں شامل پاکستانی کمپنیوں میں الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ، اریسٹن ٹریڈ لنکس، بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی، گلوبل ٹریڈرز، انڈنٹیک انٹرنیشنل، انٹرا لنک انکارپوریٹڈ، لنکرز آٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ اور این اے انٹرپرائزز شامل ہیں۔

ٹک ٹاک، انسٹاگرام کا مقابلہ کرنے کے لیے یوٹیوب نے نیا فیچر متعارف کرادیا

یوٹیوب نے مختصر ویڈیوز پوسٹ کرنے والے صارفین کے لیے  کا اعلان کر دیا، جس کے مطابق یوٹیوب کے شارٹس ویڈیوز کے ویوز کاؤنٹ سسٹم میں تبدیلی کی جائے گا۔ یوٹیوب کمپنی کے مطابق 31 مارچ سے صارفین کو اپنی مختصر ویڈیوز کی کارکردگی جانچنے کے لیے مزید واضح اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے۔ نئے سسٹم کے تحت یوٹیوب شارٹس ویڈیوز میں یہ دیکھا جا سکے گا کہ کسی ویڈیو کو کتنی بار پلے یا ری پلے کیا گیا، جب کہ اس سے قبل صرف ویڈیو دیکھنے کا مجموعی وقت شمار کیا جاتا تھا۔ مزید پڑھیں: اضافی بجلی کو کرپٹو مائننگ کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صارفین کی درخواست پر کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی ویڈیوز کی رسائی کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور اپنی مواد کی حکمت عملی میں بہتری لا سکیں۔ اس اپ ڈیٹ کے بعد یوٹیوب شارٹس کا ویوز سسٹم ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز جیسا ہو جائے گا، جہاں ویڈیوز کو دیکھے جانے یا ری پلے کے نمبروں کو واضح طور پر دکھایا جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس تبدیلی سے یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شمولیت کی اہلیت یا صارفین کی آمدنی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔  صارفین اب بھی شارٹس ویڈیوز دیکھے جانے کے دورانیے کو ایڈوانسڈ موڈ میں جا کر دیکھ سکیں گے، جسے اب ‘انگیجڈ ویوز’ کا نام دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ نئی اپ ڈیٹ 31 مارچ سے نافذ العمل ہوگی۔