غیر قانونی افغانوں کو نکالنے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

حکومت نے غیر قانونی افغان شہریوں کے ملک چھوڑنے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے اورتارکین وطن کو نکالنے کے لیے سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل افغان حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ غیر قانونی تارکین وطن کو نکالنے کی پالیسی ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے درمیان سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کا الزام اسلام آباد نے ایک بار پھر افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپوں پر لگایا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ اب تک، غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم 878,972 افغان باشندے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان 21 لاکھ دستاویزی افغانوں کی میزبانی کررہا ہے اور کئی دہائیوں سے لاکھوں غیر دستاویزی افغان شہری بھی مقیم ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان قاصیر آفریدی نے کہا، “کل 21 لاکھ میں سے، 13لاکھ افغان مہاجرین وہ ہیں جنہوں نے رجسٹریشن کارڈز کا ثبوت حاصل کر رکھا ہے۔ ان میں سے 52 فیصد سے زیادہ کے پی میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 8 لاکھ افغان باشندے تھے، جنہوں نے اے سی سی کارڈ حاصل کیے تھے اور ان میں سے زیادہ تر کے پی میں مقیم تھے۔ پاکستان تقریبا پانچ دہائیوں سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان میں سے لاکھوں لوگ گزشتہ چند سالوں میں اپنے ملک واپس آئے لیکن اب بھی 21 لاکھ سے زیادہ کے پی اور دیگر صوبوں میں مقیم ہیں۔ پاکستانی حکام نے تمام غیر قانونی افغانوں کے ساتھ ساتھ اے سی سی کارڈ رکھنے والوں کے لیے اپنے ملک واپس جانے کی آخری تاریخ 31 مارچ مقرر کی ہے،ہزاروں افغان ہیں، جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور اپنی پوری زندگی میں مشکل سے اپنے وطن گئے۔ مقدس مہینے کے دوران ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آنے پر ان میں سے ایک بڑی تعداد ایک بار پھر پریشان ہے۔
’عید کے دوران پانی اور نکاسی آب کا مسئلہ نہیں ہوگا‘ پنجاب حکومت کی یقین دہانی

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر واسا لاہور نے عید الفطر کے دوران نکاسی آب اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کر لیے، تمام آپریشنل سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی، جب کہ واسا کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ سیوریج سسٹم، پانی کی سپلائی اور نکاسی آب کا نظام ہر صورت فعال رکھا جائے۔ ایم ڈی واسا غفران احمد کی زیر صدارت اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر آپریشنز اور انجینئرنگ ونگ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی طے کر لی گئی۔ شہر کے تمام ٹاؤنز کے ڈائریکٹرز کو خصوصی سروے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی جگہ کھلا مین ہول، پانی کا اوور فلو یا کوئی اور مسئلہ ہو تو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ ایم ڈی واسا غفران احمد نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عید الفطر کے موقع پر تمام فیلڈ دفاتر کو 24 گھنٹے متحرک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ ڈرینز کی صفائی شیڈول کے مطابق کی جائے گی۔ اسی طرح ترقیاتی اسکیموں کے اردگرد حفاظتی اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور کھلے گڑھوں کی فوری مرمت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ مزید پڑھیں : آخری حد تک کوشش کروں گا کہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلاؤں، شہباز شریف سیوریج کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ کسی بھی مشینری کی خرابی کی صورت میں فوری مرمت کروانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ عید الفطر کے دوران واسا کا آپریشنل عملہ تین شفٹوں میں 24 گھنٹے ڈیوٹی پر مامور رہے گا، جب کہ ٹیوب ویلز کی ٹائمنگ کے دوران بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ایم ڈی واسا نے لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرنے اور ان منصوبوں کے دوران حفاظتی اقدامات یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
پنجاب کابینہ اجلاس: بھکر اور بہاولنگر میں ایئرپورٹ بنانے کا اصولی فیصلہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 24واں اجلاس ہوا، جس میں عوامی فلاح و بہبود، سیکیورٹی، معیشت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اہم فیصلے کیے گئے، اجلاس میں ایوی ایشن کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے بھکر اور بہاولنگر میں ایئرپورٹس بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے ضلع بھکر میں ایئر ایمبولینس سروس کے لیے ایئر اسٹرپ کی تعمیر کے فنڈز بھی منظور کر لیے ، پنجاب میں ایئر لائن سروس کے آغاز کی تجویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، اس کے علاوہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ جنسی جرائم کی مؤثر تفتیش کے لیے خصوصی انویسٹی گیشن یونٹس کے قیام کی منظوری دی گئی، جبکہ ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔ ناجائز اسلحہ کے خاتمے کے لیے پنجاب آرمز آرڈیننس کے تحت سزائیں مزید سخت کر دی گئیں، جبکہ فسادات سے نمٹنے کے لیے 2000 اہلکاروں پر مشتمل رائٹ مینجمنٹ فورس کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے تحت کابینہ نے 40 ہزار خصوصی طلبہ کو وزیراعلیٰ کی جانب سے عید گفٹ دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ گریڈنگ سسٹم کے لیے ورلڈ بینک کے ساتھ معاہدے کی منظوری بھی دی گئی۔ صحت کے شعبے میں شیخ زاہد میڈیکل کالج، رحیم یار خان کے نئے کارڈیک سینٹر کے لیے بھرتیوں کی اجازت دی گئی، جبکہ پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ میں 3904 نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں نادار اور مستحق افراد کے لیے قانونی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب لیگل ایڈ رولز میں ترامیم کی گئیں، جبکہ عوامی سہولت کے پیش نظر پیدائش اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی فیس ایک سال کے لیے معاف کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ حکومت میں آتے ہی سفارشوں کی لائن لگ گئی، مگر کسی بھی سفارش پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاء آفیسرز کی 100 فیصد میرٹ پر تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی کو اس پر اعتراض نہ ہو۔ کابینہ اجلاس میں دیگر امور پر بھی غور کیا گیا، جن میں رمضان پیکج، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کنٹرول اور صوبے میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات شامل تھے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ عوامی فلاح کے منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی لائی جائے اور گورننس کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پاکستان میٹرز اسپیشل: ترکیہ میں احتجاج کیوں، قصوروار کون، اصل معاملہ کیا ہے؟

استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی ہفتہ بھر قبل گرفتاری کے بعد سے ترکیہ میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ کوئی ان مظاہروں کو بڑا تو کوئی بہت بڑا قرار دیتا ہے۔ اردوان مخالفین، اپوزیشن رہنما کے خلاف کارروائی کو سیاسی انتقام جب کہ حکومت اسے کرپشن کے خلاف عدلیہ کا اقدام کہتی ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں کے نتیجے میں جہاں تاریخی مسجد کی بےحرمتی کی گئی، تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے وہیں 1100 سے زائد افراد گرفتار ہیں۔ ترک اداروں نے احتجاج سے امریکی اور دیگر غیرملکی شہریوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج سے ربط رکھنے والے ایک امریکی شہری کو ترکیہ بدر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ترکیہ میں احتجاج کی اصل وجہ کیا، اپوزیشن رہنما کا قصور کتنا، ترک صدر اردوان کس مشکل میں ہیں اور دیگر موضوعات پر ’پاکستان میٹرز‘ کے خصوصی نشریہ میں سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ انقرہ سے ترک صحافی مہمت اوزترک، پاکستان سے ترک امور کے ماہر اور ترکیہ اردو کے ایڈیٹر حافظ محمد احسان، ایڈیٹرپاکستان میٹرز شاہد عباسی نے شرکت کی ۔ مہمت اوز ترک نے کہا کہ ترکیہ ایک جمہوری ملک ہے اور پر امن احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے، لیکن اس وقت ترکیہ میں جو بھی ہو رہا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ مہمت اوزترک کے مطابق استبول کے میئر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کے دعوی کے برعکس اصل معاملہ کچھ اور ہے، حقیقت میں اس معاملے کا آغاز صدر اردوان نے نہیں بلکہ خود اکرم امام اوغلو کی جماعت کے لوگوں کی شکایت پر ہوئی تفتیش سے ہوا ہے۔ ترکیہ میں احتجاج کے مختلف پہلو ‘پاکستان میٹرز’ کی حالیہ ایپیسوڈ میں دیکھیں اور اس موضوع پر اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں ہم سے شیئر کریں۔
کوئٹہ کے ڈبل روڈ پر پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 17 زخمی

کوئٹہ کے ڈبل روڈ پر پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے 17 افراد کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کے مطابق دھماکا پولیس کی گاڑی کے قریب ہوا تھا اس وجہ سے تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل سکواڈ دھماکے کی نوعیت کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ دھماکے کے بعد گاڑی اور موٹر سائیکل میں آگ لگ گئی تھی جس سے مزید نقصان ہوا۔ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لیے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ لواحقین کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔ اس پہلے آج صبح بلوچستان میں ایک اور واقعہ پیش آچکا ہے جس میں جس میں مسلح افراد نے کراچی جانے والی مسافر بس کے چار مسافروں کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق پنجاب سے تھا اور تین دیگر کو اغوا کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ آج تربت کے علاقے میں بھی ایک سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر بھی حملہ کیا گیا ہے جس میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تاہم ابھی تک اس واقعے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری ان علاقوں کی طرف روانہ ہو چکی ہے جہاں مسلح افراد نے سڑکیں بلاک کیں اور آپریشنز جاری ہیں تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ خونریز حملے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی تشویش کا نشان ہیں جہاں امن و امان کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ مزید پڑھیں: ‘آخری حد تک کوشش کروں گا کہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلاؤں’ شہباز شریف
ویمن کرکٹ ورلڈ کپ 2025: قومی ٹیم کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا

خواتین کی قومی سلیکشن کمیٹی نے 9 سے 19 اپریل تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور ایل سی سی اے گراؤنڈ میں ہونے والے آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق اسکواڈ کا انتخاب سلیکشن کمیٹی نے دوسرے مرحلے کے تیاری کے کیمپ میں کھلاڑیوں کی فٹنس اور فارم کا جائزہ لے کر کیا ہے، جس میں کھلاڑیوں نے وارم اپ میچز اور پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا تھا۔ اس ایونٹ میں پاکستان کی قیادت فاطمہ ثنا کریں گی جنہوں نے 6 ٹی 20 اور 2 ون ڈے میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کررکھی ہے۔ فاطمہ ثنا 50 اوورز کے اس ایونٹ میں بھی ٹیم کی کپتانی جاری رکھیں گی اور اس کے علاوہ شوال ذوالفقار جو کہ دسمبر 2023 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران کندھے کی انجری کا شکار ہو گئی تھیں وہ اب قومی ٹیم میں واپس آچکی ہیں۔ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں فاطمہ ثنا (کپتان)، منیبہ علی (نائب کپتان)، عالیہ ریاض، ڈیانا بیگ، گل فیروزہ، نجیہہ علوی (وکٹ کیپر)، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، عمیمہ سہیل، رامین شمیم، سعدیہ اقبال، شوال ذوالفقار، سدرہ امین، سدرہ نواز (وکٹ کیپر)، اور سیدہ عروب شاہ۔ ریزرو کھلاڑیوں میں غلام فاطمہ، وحیدہ اختر، اور ام ہانی شامل ہیں۔ آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر میں 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں میزبان پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، تھائی لینڈ اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔ یہ ایونٹ سنگل لیگ راؤنڈ ‘رابن فارمیٹ’پر مشتمل ہوگا جس میں قذافی اسٹیڈیم لاہور اور ایل سی سی اے گراؤنڈ اس کے میچز کی میزبانی کریں گے۔ اس ایونٹ کا افتتاحی میچ پاکستان اور آئرلینڈ کے درمیان 9 اپریل کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف ون ڈے ٹیم کا اعلان کر دیا، مچل سینٹنر کی جگہ ٹام لیتھم کپتان مقرر
شام میں ‘شعبہِ صحت کے منصوبوں’ کے لیے اٹلی نے 68 ملین یورو کا اعلان کر دیا

اٹلی نے شام میں انسانی ہمدردی کے منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے تقریباً 68 ملین یورو مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے جمعرات کو پارلیمانی سماعت کے دوران قانون سازوں کو بتایا کہ دمشق میں سیاسی منتقلی کی حمایت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق، یہ فنڈز صحت کے شعبے، ہسپتالوں، بنیادی ڈھانچے، اور غذائی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقدامات میں استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعاون کے نئے منصوبے آنے والے ہفتوں میں شروع کیے جائیں گے تاکہ شام میں استحکام اور بحالی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ یہ بھی پڑھیں: ‘اسرائیل نے غزہ میں طاقت استعمال کی تو قیدی تابوت میں واپس آئیں گے’ حماس کی وارننگ شام کی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب دسمبر میں باغی گروپ حیات تحریر الشام نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور سابق صدر بشار الاسد کی کئی دہائیوں پر محیط آمرانہ حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس تبدیلی کے بعد، عالمی برادری، خاص طور پر یورپی یونین، نے شام کے نئے حکام کی منتقلی کے چیلنجوں میں مدد کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں ایک یورپی یونین کی زیر قیادت کانفرنس میں عطیہ دہندگان نے شام کے لیے 5.8 بلین یورو فراہم کرنے کا وعدہ کیا، تاکہ ملک میں جاری منتقلی کے عمل کو مدد دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، یورپی یونین کے ممالک نے شام کے خلاف عائد کئی پابندیاں بھی معطل کر دی ہیں، جن میں توانائی، بینکنگ، ٹرانسپورٹ، اور تعمیر نو کے شعبے سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔ نئے حکام نے حال ہی میں ایک آئینی اعلامیہ جاری کیا ہے جو ملک میں اسلامی قانون کے مرکزی کردار کو برقرار رکھتا ہے۔ اس حوالے سے، وزیر خارجہ تاجانی نے اس اعلامیے کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ پابندیوں میں ترقی پسند اور محتاط نرمی سے ادارہ جاتی استحکام اور معاشی بحالی کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹلی اور دیگر یورپی ممالک شام میں امن، استحکام، اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ جنگ زدہ ملک میں ایک پائیدار اور مستحکم نظام قائم کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمت میں کمی پر اپ ڈیٹ دے دی

آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپیہ فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے 1.3 بلین ڈالر قرض کے بدلے حاصل ہوا ہے جس کے تحت پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط جاری کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے مشن نمائندے ‘مہیر بینیسی’ نے میڈیا گفتگو کے دوران بتایا کہ یہ ریلیف پاکستان کے تمام بجلی صارفین کے لیے ہوگا اور اس کی مالی معاونت گیس کی کھپت پر عائد لیوی سے حاصل کی جائے گی جو کہ کیپٹیو پاور پلانٹس سے وصول کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت ایک وسیع تر بجلی ریلیف پیکیج پر کام کر رہی ہے جس کا اعلان آئی ایم ایف کی باضابطہ منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے ملک کے عوام کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ حکومت صارفین کو ریلیف فراہم کرے گی اور اب آئی ایم ایف کی مشروط اجازت کے بعد یہ وعدہ حقیقت میں بدلنے جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت ہونے والی پہلی جائزہ رپورٹ کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو آئندہ 28 ماہ کے دوران 1.3 ارب ڈالر تک کی مالی امداد حاصل ہوگی جس میں سے 1 ارب ڈالر کی قسط پاکستان کے خزانے میں جلد ہی جمع ہو جائے گی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو استحکام کی سمت ملے گی۔ مزید پڑھیں: دفترِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا
نو دن سے لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کا معاملہ، اسلام آباد پولیس نے اب تک کیا کیا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسلام آباد سے نو دن سے لاپتہ دو بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد نے عدالت سے مزید دو ہفتوں کا وقت طلب کیا، جس پر لاپتہ بھائیوں کی والدہ روسٹرم پر آبدیدہ ہوگئیں۔ جسٹس انعام امین منہاس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ کو کتنا وقت چاہیے؟ آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ دو ہفتے ہمیں دے دیں۔ یہ سن کر لاپتہ بیٹوں کی والدہ زار و قطار روتے ہوئے بول پڑیں، “ایک سال لے لیں!” سماعت کے دوران لاپتہ افراد کی والدہ اور ہمشیرہ عدالت کے سامنے پیش ہوئیں، جبکہ درخواست گزار کی وکیل ایڈووکیٹ ایمان مزاری بھی موجود تھیں۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ میں نے اس معاملے کو سپروائز کیا ہے، ایک اسپیشل تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے، جس کی قیادت ایس ایس پی آپریشنز کر رہے ہیں۔ جیو فینسنگ کرائی جا چکی ہے اور کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ 27 تھانوں اور سی ٹی ڈی میں بھی چیک کیا ہے، مگر کسی کے پاس کوئی اطلاع نہیں۔ ہم نے ملک بھر کے آئی جی جیل خانہ جات سے بھی رابطہ کیا، لیکن کچھ معلوم نہیں ہوا۔ جسٹس انعام امین منہاس نے دریافت کیا کہ اس کا حل کیا ہے؟ بندے تو لاپتہ ہوئے ہیں! آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا، “ہمیں کچھ وقت دیا جائے، ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔” اس پر وکیل ایمان مزاری نے کہا، “یہ کہہ رہے ہیں کہ سارے ہسپتال چیک کر لیے، سب کچھ چیک کر لیا، مگر کیا ان کو بھی چیک کیا ہے جن پر شک ہے؟ ہم نے اپنی درخواست میں وزارت داخلہ کے ماتحت خفیہ اداروں پر الزام لگایا ہے۔” جسٹس انعام امین منہاس نے جواب دیا، “ان کو نوٹس دیا گیا ہے، ان کا جواب آ جائے تو دیکھ لیتے ہیں۔” ایمان مزاری نے مزید کہا، “جن مقامات پر کیمرے تھے، ان کی فوٹیج پولیس نے حاصل کر لی ہے، مگر اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔” جسٹس انعام امین منہاس نے ہدایت دی، “آپ اس حوالے سے پولیس کو بتائیں، وہ دیکھیں گے۔” جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا، “کیسے اسلام آباد سے نکلے؟ کہاں ہیں؟ یہ آپ نے دیکھنا ہے۔” اس پر ایمان مزاری نے کہا، “کیا انہوں نے سیف ہاؤسز میں بھی چیک کیا ہے؟ کل بھی ایک صحافی کو اٹھایا گیا تھا، پھر ایف آئی اے نے پیش کر دیا۔” جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے، “وزارت دفاع کا جواب آنا اب ضروری ہو چکا ہے۔” انہوں نے مزید حکم دیا کہ سیکرٹری دفاع آئندہ سماعت پر جواب جمع کرائیں۔ دوران سماعت لاپتہ بھائیوں کی والدہ نے کمرہ عدالت میں روتے ہوئے کہا، “اگر آپ اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتائیں، اگر آپ کے بچے ہوتے یا ان کے بچے ہوتے تو کیا کرتے؟ اس روز میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ میرے بیٹوں کو کچھ ہو گیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟” وکیل ایمان مزاری نے عدالت سے استدعا کی، “عدالت دونوں لاپتہ بھائیوں کو ریکور کر کے پیش کرنے کا حکم دے۔” اس پر والدہ نے کہا، “میں بہت زیادہ پریشان ہوں!” عدالت نے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔ سماعت ملتوی ہونے پر لاپتہ بھائیوں کی والدہ زارو قطار روتے ہوئے کمرہ عدالت سے باہر نکل آئیں۔
‘اسرائیل نے طاقت استعمال کی تو قیدی تابوت میں واپس آئیں گے’ حماس

حماس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں اپنے قیدیوں کی بازیابی کے لیے طاقت کا استعمال کیا تو تمام قیدیوں کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ حماس کے بیان کے مطابق وہ اسرائیلی قیدیوں کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہے لیکن اسرائیلی بمباری قیدیوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ایک بیان میں کہا کہ “اگر اسرائیل نے طاقت کے ذریعے اپنے قیدیوں کو بازیاب کرانے کی کوشش کی تو انہیں تابوت میں واپس بھیجا جائے گا”۔ حماس نے مزید کہا کہ وہ ان قیدیوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے تاہم اسرائیلی بمباری ان کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم ‘بینجمن نیتن یاہو’ نے بدھ کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر حماس نے قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو اسرائیل غزہ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لے گا۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی پارلیمنٹ کو بتایا کہ “حماس جتنا زیادہ ہمارے قیدیوں کی رہائی سے انکار کرے گا، اتنا ہی ہم ان پر دباؤ بڑھائیں گے، اور ان کے علاقوں پر قبضہ بھی گے”۔ یہ بھی پڑھیں: امریکی کمیشن نے انڈیا کو ‘علیحدگی پسند سکھوں’ کے قتل میں ملوث قرار دے دیا اسرائیلی وزیر دفاع ‘یواف کاٹز’ نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ “حماس جتنا زیادہ مزاحمت کرے گا، ہم اتنے زیادہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں اسرائیل میں ضم کرتے چلے جائیں گے”۔ جنوری میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر ہی غزہ پر حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ باقی قیدیوں کو رہا کرے۔ اسی دوران اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے دو میزائل داغے جانے کا بھی ذکر کیا جن میں سے ایک کو روک لیا گیا جبکہ دوسرا سرحد کے قریب گرا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ میں شدید فضائی حملے شروع کیے اور زمینی کارروائیاں شروع کیں جس سے جنگ بندی کے دوران قائم ہونے والے پرسکون ماحول کو ختم کردیا گیا۔ دوسری جانب حماس نے بھی ان حملوں کے جواب میں راکٹ حملے شروع کر دیے ہیں جس سے دونوں جانب کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان اس تنازعے میں دونوں طرف سے سخت بیانات اور فوجی کارروائیاں کی جاری ہیں اور مستقبل میں مزید کشیدگی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ مزید پڑھیں: یوکرینی صدر آج اپنے اتحادیوں سے ملاقات کریں گے، ‘مزید امداد’ کی یقین دہانی