پاکستان ریلوے کی پانچویں عید اسپیشل ٹرین کراچی سے لاہور روانہ

پاکستان ریلوے کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر مسافروں کی سہولت کے پیش نظر پانچویں خصوصی عید ٹرین کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔ یہ ٹرین کل لاہور پہنچے گی اور راستے میں مختلف اہم اسٹیشنوں پر توقف کرے گی۔ یہ اسپیشل ٹرین کراچی کینٹ سے روانہ ہو کر لانڈھی، حیدرآباد، نواب شاہ، روہڑی، صادق آباد، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان کینٹ، شورکوٹ کینٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ، فیصل آباد اور قلعہ شیخوپورہ سے ہوتی ہوئی اپنی منزل، لاہور، پر پہنچے گی۔ ٹرین میں مجموعی طور پر 1072 مسافر سوار ہیں، جبکہ اس سے پاکستان ریلوے کو 3333764 روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ ٹرین میں 2 اے سی بزنس، 2 اے سی اسٹینڈرڈ، 10 ایکونومی کلاس کوچز اور 1 بریک ون شامل ہے۔ ٹرین کی روانگی کے موقع پر ڈپٹی ڈی ایس آپریشن ناصر نذیر نے مسافروں کو الوداع کہا اور انتظامات کا معائنہ کیا۔ اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن آفیسر شاہجہان عالم اور دیگر اسسٹنٹ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی ڈی ایس ناصر نذیر نے اسپیشل ٹرین کے تمام انتظامات کا بغور جائزہ لیا اور مسافروں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کو چیک کیا۔ انہوں نے عملے کو ہدایت دی کہ دورانِ سفر مسافروں کی سہولت کا خاص خیال رکھا جائے اور ان کی رہنمائی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔ پاکستان ریلوے کی جانب سے چلائی جانے والی یہ خصوصی عید ٹرین مسافروں کے لیے سہولت کا باعث بن رہی ہے اور عید کے موقع پر سفر کرنے والوں کو آسانی فراہم کر رہی ہے۔
ڈیجیٹل دور کا نیا ‘ڈبل شاہ،’ ٹریثر این ایف ٹی کیا چیز ہے؟

پاکستان میں ایک نئی ڈیجیٹل اسکیم Treasure NFT تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جسے ماہرین ایک جدید پونزی اسکیم قرار دے رہے ہیں، اس اسکیم میں لوگ رقم جمع کرواتے ہیں اور مزید افراد کو شامل کرنے پر کمیشن حاصل کرتے ہیں۔ جوں جوں نیٹ ورک بڑھتا جاتا ہے، ابتدائی سرمایہ کاروں کو منافع ملتا رہتا ہے، ایپ مالک کو لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں روپے ملتے جائیں گے، وہ ان میں سے تھوڑا تھوڑا کمیشن دیتا جاتا ہے تاکہ مزید لالچی لوگ شامل ہوتے جائیں ، جب اس کا ہدف پورا ہو جائے گا تب وہ کھربوں روپے لے کر اڑن چھو ہو جائے گا اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ دینِ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ پیسہ اس طریقے سے کمائے جائیں؟ آج کل لوگ پیسہ کمانے کے لیے اندھا دھند دوڑ رہے ہیں، اس میں مفتی مولوی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ ایپ بنانے والا بھی ایک پڑھا لکھا ڈاکٹر اور بزنس مین ہے، اسی کو آپ اربوں کا فائدہ دے رہے ہیں لگے رہو مسلمانو لگے رہو۔ اصل افسوس اس بات کا ہے کہ اب پیسے کو ایمان بنا لیا گیا ہے، یعنی لوگوں کو پرواہ ہی نہیں کہ کمائی کا ذریعہ حلال ہے یا حرام؟ جن لوگوں کو وقتی فائدہ ہو رہا ہے، وہ خوش ہو رہے کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہی فلاح ہے؟ اسے کامیابی کہتے ہیں؟ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک عالم دین Treasure NFT کی کمائی کو “جائز” قرار دے رہے ہیں۔ اس بیان پر عوامی ردِعمل سامنے آیا اور کئی لوگوں نے اسے اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ اب تک حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس اسکیم پر کوئی واضح ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس معاملے پر بروقت کارروائی نہ کی گئی، تو ہزاروں افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ایسی اسکیمیں پاکستان میں مقبول ہوئی ہوں، ماضی میں ڈبل شاہ اسکینڈل سمیت کئی پونزی اسکیموں نے عوام کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا، لیکن اس کے باوجود لوگ بغیر تحقیق کے ایسی اسکیموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام ایک بار پھر لالچ کے جال میں پھنس رہی ہے؟ اور کیا حکومت اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، کوئی عملی قدم اٹھائے گی؟
پی ایس ایل 10: پی سی بی نے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کردیا، کب اور کیسے ہوگی؟

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کردیا، ٹکٹوں کی فروخت 3 اپریل سے شروع ہوگی۔ پی ایس ایل 2016 میں اپنے پہلے سیزن کے ساتھ شروع ہوا، پاکستان کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ بن چکی ہے، جس میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ اس لیگ نے نہ صرف ملکی کرکٹ کو فروغ دیا ہے بلکہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کو بھی پاکستان میں کھیلنے کی ترغیب دی ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق آن لائن ٹکٹوں کی فروخت سہ پہر 3 بجے PCB.tcs.com.pk پر شروع ہوگی، جب کہ فزیکل ٹکٹیں 7 اپریل سے ملک بھر میں TCS ایکسپریس سینٹرز پر دستیاب ہوں گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو شائقین آن لائن ٹکٹ خریدیں گے، وہ انہیں مقررہ TCS پک اپ مراکز سے حاصل کر سکتے ہیں یا TCS کے ذریعے ہوم ڈیلیوری کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ چاروں وینیوز کے جنرل ٹکٹوں کی قیمت 650 روپے رکھی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے درمیان افتتاحی میچ کے ٹکٹ 1000 روپے سے 8500 روپے تک دستیاب ہوں گے۔ پی سی بی کے مطابق شائقین کی دلچسپی بڑھانے کے لیے ہر میچ میں ٹکٹ ریفل کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں جیتنے والوں کو دلچسپ انعامات دیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل 10 کا آغاز جمعہ 11 اپریل کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور دو بار کی چیمپئن لاہور قلندرز کے درمیان میچ سے ہوگا۔ چھ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ 11 اپریل سے 18 مئی تک جاری رہے گا، جس میں 34 میچز کھیلے جائیں گے۔ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم 13 میچز کی میزبانی کرے گا، جن میں دو ایلیمینیٹرز اور فائنل شامل ہوگا۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 11 میچز کی میزبانی کرے گا، جس میں کوالیفائر ون بھی شامل ہے۔ کراچی کا نیشنل بینک اسٹیڈیم اور ملتان کرکٹ اسٹیڈیم پانچ، پانچ میچوں کے میزبان ہوں گے۔ پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن میں ایک نمائشی میچ بھی رکھا گیا ہے، جو 8 اپریل کو پشاور میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں تین ڈبل ہیڈرز ہوں گے، جن میں سے دو ہفتے کے روز، جب کہ ایک یوم مزدور (یکم مئی) کو ہوگا۔ یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ نے گزشتہ نو سیزنز میں بے شمار یادگار لمحات فراہم کیے ہیں۔ اب اس کا 10واں ایڈیشن ایک اور تاریخی سیزن بننے کے لیے تیار ہے، جس میں شائقین کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں پر سیاسی چال، حقیقت کیا ہے؟

عوام کو بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی امید دلائی گئی تھی اور 23مارچ کو قوم کو ایک بڑا اعلان سننے کی امید تھی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا،بجلی کے نرخوں میں آٹھ روپے فی یونٹ کمی کی خبریں آئیں، لیکن یومِ پاکستان پر اس حوالے سے کوئی اعلان نہ ہونے پر عوام میں بے چینی بڑھ گئی۔ حکومت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے ذریعے حاصل ہونے والے اضافی ریونیو کو بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان میں بجلی کی آئے روز بڑھتی ہوئی قیمت کی مذمت کی ہے اور کہا کہ حکومت کو بہت وقت دے دیا، عید کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے خلاف بڑی تحریک کا آغاز کریں گے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے توسیع فنڈ سہولت کے تحت پہلے دو سالہ جائزے کے مرحلے میں ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پی یز)کے معاہدوں پر نظرثانی کے ذریعے بجلی کے ٹیرف میں دو روپے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ لیکن آئی ایم ایف نے اس پیکیج کی افادیت پر سوالات اٹھا دیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی مالیاتی صورتحال ایسی نہیں کہ کسی بھی قسم کی سبسڈی یا ریلیف دیا جا سکے۔ حکومت کے دعووں کے برعکس نیپرا کا ایک الگ مؤقف ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کو سالانہ بیس ٹیرف پر نظرثانی کی درخواست دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاجر برادری اور عوام سراپا احتجاج ہیں۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کے نرخوں میں کمی نہ ہوئی تو وہ عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کریں گے۔ ماہرین کی رائے میں پاکستان میں بجلی دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی ترین ہے، جس کی وجہ غیر مؤثر معاہدے، مہنگی توانائی اور پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کھل کر تنقید کی اور کہا کہ جب خطے کے دیگر ممالک میں بجلی سستی ہے، تو پاکستان میں مہنگی کیوں؟ حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عندیہ دیا ہے۔ اگر یہ اقدامات کیے گئے تو کیا واقعی بجلی کے نرخوں میں کمی ہوگی؟ یا یہ ایک اور سیاسی وعدہ ہی رہے گا؟ عوام کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہےکیا حکومت اپنے وعدے پر عمل کر پائے گی یا یہ بھی محض ایک خواب ہی رہے گا؟ بجلی کے نرخوں میں کمی کا معاملہ صرف معاشی نہیں، بلکہ عوامی فلاح کا بھی سوال ہے۔
پیکا ایکٹ: عدالت نے صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت مسترد کردی

مقامی عدالت نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق کیس میں صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت خارج کردی، جوڈیشل مجسٹریٹ صحافی کی جانب سے دائر درخواست ضمانت کی سماعت کر رہے تھے، جسے ریاست مخالف مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فرحان ملک کے خلاف پیکا ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی جسے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 190 کے ساتھ پڑھا گیا تھا ۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فرحان ملک، جو ایک نجی نیوز چینل کے لیے ڈائریکٹر نیوز کے طور پر کام کرتے تھے اور اب ایک یوٹیوب چینل کے مالک ہیں، مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد پھیلانے میں ملوث تھے۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے صحافی کو 20 مارچ کو پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی اور ہتک عزت میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ انکوائری کے دوران، مبینہ یوٹیوب چینل کا ابتدائی تکنیکی تجزیہ موصول ہوا، جس سے پتہ چلا کہ مبینہ شخص جعلی خبروں اور عوامی اشتعال انگیزی کے ایجنڈے پر مشتمل ریاست مخالف پوسٹس اور ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ہیں۔ متنازعہ پیکا قانون میں حال ہی میں ترمیم کی گئی تھی اور ملک بھر کی صحافی تنظیمیں اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور اسے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے اور اخباری نمائندوں اور ان کے ذرائع ابلاغ کو دھمکانے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔
خرطوم کی جنگ: سوڈانی فوج کی فتح یا ایک نئی جنگ کا آغاز؟

سوڈانی فوج نے دارالحکومت خرطوم کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا، روس چین یو اے ای شکست کھا گئے۔ سوڈانی فوج کے سربراہ نےاعلان کیا ہے کہ اس نے دارالحکومت خرطوم پر مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو ایک ہفتے سے جاری شدید لڑائی کا اختتام ہوا ہے۔ فوج نے صدارتی محل، ائیر پورٹ اور دیگر اہم مقامات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے، جو ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ سوڈان کی صورتحال اس وقت ایک پراکسی وار بنی ہوئی ہے۔ میں اس کو پراکسی وار ہی کہوں گا کیونکہ یہاں کئی عالمی طاقتیں زور آزمائی کرر ہی ہیں۔ سوڈان میں ایسا کیا ہے، جس میں عالمی طاقتیں زور آزمائی کر رہی ہیں۔ اس کی صورتحال کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ سوڈانی فوج کی حمایت کا سب سے بڑا اتحادی مصر ہے، متحدہ عرب امارات پہلے سوڈانی افواج کی حمایت کرتی تھی لیکن بعد میں انٹرنسٹ کی بنیاد پر اس نے آر ایس ایف کی حمایت کی۔ تیسرے نمبر پر موجود سعودی عرب بھی سوڈانی افواج کے حق میں بہت زیادہ متحرک ہے، وہ اس کو مالی و سفارتی امداد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ و مغرب بھی سوڈانی افواج کی حمایت کرتے ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو روس کے واگنز گروپ کی جانب سے اسلحہ و امداد دی جارہی ہے، متحدہ عرب امارات پہلے ان کے حق میں نہیں تھا، بعد میں ہر قسمی تعاون فراہم کرنا شروع کردیا۔ چین سوفٹ ڈپلومیسی کی بنیاد پرغیر جانبدار ہے، لیکن ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)کے کنٹرول دارفور میں معدنیات کی کان کنی میں دلچسپی رکھتا ہے، اسی وجہ سے چین کا جھکاؤ RSF کی طرف ہے، چین ویسے اپنا مفاد دیکھتا ہے، اس کو اس چیز سے فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ و یورپ کس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ افغانستان کے طالبان کے ساتھ سب سے پہلے معاملات چین نے طے کرنا شروع کیے تھے۔ اپریل 2023 سے جاری جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 12 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 3.5 ملین سے زیادہ لوگ دارالحکومت سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کئی علاقے مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد جو خرطوم چھوڑنے سے قاصر یا انکار کر چکے ہیں، انہیں شدید بھوک، حقوق کی پامالی اور دونوں جانب سے اندھا دھند گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوڈان میں خانہ جنگی کا آغاز 15 اپریل 2023 کو ہوا، سوڈانی فوج (SAF) اور نیم ریپڈ سپورٹ فورسز(RSF) کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئیں، سوڈانی فوج کی قیادت جنرل عبدالفتاح البرہان کر رہے ہیں، جب کہ RSF کی قیادت محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کر رہا ہے، دونوں 18دسمبر 2018 کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہر میں ایک تھے۔ 11 اپریل 2019 کو عمر البشیر کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد اقتدار میں آئے، لیکن پھر آپس میں لڑنا شروع ہوگئے، پھر انھوں نے 2023 میں ایک معاہدہ کیا کہ RSF کو سوڈانی فوج میں شامل ہو جائے گی، لیکن آپسی اختلاف نے ان کو پھر ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا۔
پاکستان نے انڈیا کو پیچھے چھوڑدیا، آخر ایسا کیسے ممکن ہوا؟

پاکستان نے سیاحت کے لیے محفوظ ملکوں کی درجہ بندی میں انڈیا، برطانیہ، امریکہ، اسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ائرلینڈ، سویڈن اور ملائیشیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ درجہ بندی عالمی کراؤڈ سورسڈ پلیٹ فارم نمبو نے جاری کی ہے، جس میں پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ آخر ایسا کیسے ممکن ہوا؟ 2025 کی اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 65ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، جس کا سیفٹی اسکور 56.3 رہا۔ یہ وہی درجہ بندی ہے جس میں پاکستان نے بھارت، امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگر ہم سب سے محفوظ ممالک کی بات کریں تو اندورا اس فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، جس کا سیفٹی اسکور 84.7 ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات، قطر، تائیوان اور عمان جیسے ممالک شامل رہے۔ یہ درجہ بندی کچھ مغربی ممالک کے لیے حیران کن رہی، کیونکہ ان کی پوزیشن کافی نیچے چلی گئی ہے۔ امریکہ 89ویں اور برطانیہ 87ویں نمبر پر آ گئے، جب کہ فرانس مزید نیچے جا کر 110ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیفٹی درجہ بندی میں اتنی بہتری کیسے آئی؟ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کی ممکنہ وجوہات میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، امن و امان کی بہتری، اور سیکیورٹی فورسز کی بہتر حکمت عملی شامل ہیں۔ دوسری طرف، اگر سب سے غیر محفوظ ممالک کی بات کریں تو وینزویلا اس فہرست میں سب سے نیچے رہا، جب کہ ہیٹی، افغانستان، جنوبی افریقہ اور پاپوا نیو گنی بھی خطرناک ممالک میں شامل رہے۔ پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے، جو نہ صرف سیاحت بلکہ ملک کی عالمی ساکھ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو مستقبل میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
تھائی لینڈ میں بھی تباہی: زلزلے کیوں آتے ہیں؟

دنیا بھر میں زلزلے ایک قدرتی آفت کے طور پر بے شمار جانوں کے نقصان کا باعث بن چکے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق، زلزلے زمین کی اندرونی پرتوں میں ہونے والی حرکات کے نتیجے میں آتے ہیں، آج میانمارمیں زلزلے کے زور دار جھٹکےمحسوس کئے گئےہیں، ریکٹر اسکیل پر زلزلےکی شدت 7.7 ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق، زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں پر مشتمل ہے، جن میں یوریشین، انڈین اور اریبین پلیٹیں شامل ہیں۔ زیر زمین حرارت اور دباؤ کے بڑھنے سے یہ پلیٹس سرکتی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین میں لرزش پیدا ہوتی ہے، اور یہی لرزش زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں طرف پھیلتی ہیں، جس کی شدت زمین کی ساخت اور فالٹ لائنز کے قریب ہونے پر منحصر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ علاقے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں، وہ زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اگر کسی علاقے میں ایک مرتبہ شدید زلزلہ آ چکا ہو تو وہاں دوبارہ بڑے زلزلے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی ساخت کو دیکھا جائے تو ملک کا تقریباً دو تہائی حصہ فالٹ لائنز پر واقع ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت شدید زلزلے کا خطرہ رہتا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جو زلزلوں کے لحاظ سے انتہائی حساس ہیں، درجہ بندی کے مطابق، پاکستان زلزلے کے خطرے کے حوالے سے پانچواں حساس ترین ملک ہے۔ ملک کے اہم شہر اور علاقے، جن میں کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور، مکران، ایبٹ آباد، گلگت اور چترال شامل ہیں، زلزلوں کی زد میں آتے ہیں۔ ان میں سے کشمیر اور گلگت بلتستان کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا جاتا ہے، جہاں فالٹ لائنز زیادہ متحرک ہیں۔ پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے، جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، لاکھوں سال سے جاری اس جغرافیائی تبدیلی کے باعث انڈین پلیٹ مسلسل یوریشین پلیٹ کے نیچے دھنس رہی ہے، جس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے زیرِ زمین فالٹ لائنز متحرک ہیں اور یہاں معمولی یا درمیانے درجے کے زلزلے وقفے وقفے سے محسوس کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زلزلوں کی پیشگوئی ممکن نہیں، لیکن بہتر انفراسٹرکچر، مضبوط عمارتوں کی تعمیر اور عوامی آگاہی کے ذریعے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ زلزلے کے خطرے والے علاقوں میں مضبوط عمارتوں کی تعمیر کو یقینی بنائے اور عوام کو ایمرجنسی صورتحال میں عمل کرنے کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرے۔
سندھ حکومت کا نان فارمل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے 500 تعلیمی مراکز کے قیام کا فیصلہ

سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 500 نان فارمل ایجوکیشن مراکز قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے، جس کے تحت پسماندہ علاقوں کے 15 ہزار بچوں کو 30 ماہ میں پرائمری تعلیم مکمل کرنے میں مدد دی جائے گی۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر یہ تعلیمی مراکز ان اضلاع میں قائم کیے جائیں گے، جہاں خواندگی کی شرح کم ہے۔ پہلے مرحلے میں جیکب آباد، کشمور، میرپورخاص، تھرپارکر اور عمرکوٹ کے منتخب علاقوں میں یہ مراکز کھولے جائیں گے۔ کراچی میں منعقدہ تقریب میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، جب کہ دیگر اعلیٰ حکام اور شراکت دار تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ سیکریٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ سندھ ملک کا پہلا صوبہ ہے، جہاں نان فارمل ایجوکیشن کے لیے باقاعدہ نصاب تیار کیا گیا ہے۔ عبدالجبار مری، ڈائریکٹر لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن (LNFE) نے بتایا کہ Accelerated Learning Program کے تحت بچوں کو 30 ماہ میں پرائمری مکمل کروا کر چھٹی جماعت میں داخلے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر مفت ہوگا، جس میں لرننگ مٹیریل اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ این جی اوز اور کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز (CBOs) کے تعاون سے منصوبے کو شفافیت کے ساتھ چلایا جائے گا۔ تقریب میں 10 شراکت دار تنظیموں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جنہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سیکریٹری تعلیم نے شراکت دار تنظیموں پر زور دیا کہ لڑکیوں کی شمولیت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ تعلیم کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکے۔
جعفر ایکسپریس کا دوبارہ آغاز: 17 روز بعد کوئٹہ سے پشاور روانگی

شدت پسندوں کے حملے کے بعد معطل ہونے والی جعفر ایکسپریس 17 روز بعد دوبارہ چل پڑی، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کو روانہ کیا۔ ٹرین 10 بوگیوں کے ساتھ 430 مسافروں کو لے کر روانہ ہوئی، جب کہ پشاور سے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس آج شام کوئٹہ پہنچے گی۔ ڈی ایس ریلوے کوئٹہ ڈویژن عمران حیات کے مطابق ٹرینوں کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ٹرین کے اندر بھی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ 11 مارچ کو بلوچستان کے ضلع بولان میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد مارے گئے، جب کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ مزید پڑھیں: کیا جعفر ایکسپریس عید سے پہلے بحال ہوگی؟ ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل تھی۔ ٹرین منگل کی صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی، مسافر ٹرین کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی کہ اس دوران پہلے ٹریک پر دھماکا کیا گیا اور پھر ٹرین پر فائرنگ ہوئی، جس کے بعد ٹرین میں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حملہ بولان کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر کے اسے روک لیا۔ شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بنا کر پہاڑی علاقے کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کی وجہ سے کلیئرنس آپریشن میں مشکلات درپیش آئیں۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مسافر بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔ دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔