مہنگائی نے عید کی خوشیاں چھین لیں

عید قریب آتے ہی ملک بھر کے بازاروں میں خریداری کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، تاہم اس بار مہنگائی اور آن لائن شاپنگ کے رجحان نے روایتی بازاروں کی رونق کو متاثر کیا ہے۔ لاہور کے اچھرہ بازار میں دکانداروں اور خریداروں نے مہنگائی کے اثرات اور بدلتے خریداری کے رجحانات پر ‘پاکستان میٹرز’ بتایا کہ آن لائن شاپنگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹوں میں وہ پہلے جیسا رش نظر نہیں آ رہا۔ ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ پہلے 70 فیصد خریدار مارکیٹ میں آتے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 60 فیصد رہ گئی ہے۔ ایک اور دکاندار نے بتایا کہ آن لائن خریداری میں سہولت زیادہ ہے، لوگ گھر بیٹھے چیزیں منگوا لیتے ہیں، لیکن بازار آ کر چیزوں کو خود دیکھنے اور پسند کرنے کا مزہ الگ ہی ہوتا ہے۔ دوسری جانب خریداروں کا کہنا تھا کہ اس سال عید کی خریداری پر مہنگائی کے سائے گہرے ہیں، کئی افراد محدود بجٹ میں خریداری کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک خاتون خریدار نے شکایت کی کہ ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے، پہلے جو شاپنگ آسانی سے ہو جاتی تھی، اب اسے مکمل کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ تاجر برادری بھی مہنگائی کے اثرات سے پریشان ہے اور آن لائن کاروبار کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ ہم انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پر اپنے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہک ہم تک پہنچ سکیں۔” اگرچہ آن لائن خریداری بڑھ رہی ہے، مگر بازاروں میں اب بھی ایسے افراد موجود ہیں جو چوڑیوں، جیولری، مالا، پونی، ہیئر بینڈ، بریڈل سیٹ اور دیگر عید کی اشیاء خریدنے کے لیے مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ پاکستان میٹرز کے مطابق بدلتے ہوئے رجحانات کے باوجود بازاروں میں عید کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔ آن لائن خریداری کے فوائد اپنی جگہ مگر بازاروں میں خریداری کی روایت اب بھی زندہ ہے۔
عید پر سفر: مشکلات کی منزل یا خوشیوں کا راستہ؟

عید مسلمانوں کے لیے خوشیوں، محبتوں اور خاندانی ملاپ کا تہوار ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کے لیے بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ عید کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفر کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بسوں، ٹرینوں اور دیگر سفری ذرائع پر بے پناہ رش، ٹکٹوں کی عدم دستیابی اور کرایوں میں بے تحاشا اضافہ عام شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس سال بھی عید پر یہی صورت حال دیکھنے میں آئی اور عوام کو سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ عید کے موقع پر ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہری سخت پریشان ہیں۔ مسافروں نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا کہ بس ٹکٹوں کے نرخوں میں 500 سے 1000 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے، جو عوام پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ ایک مسافر کا کہنا تھا کہ اگر سروس بہتر ہو تو ٹھیک ہے، لیکن اچانک کرایے بڑھا دینا عوام پر ظلم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کرے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مسافروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے بسوں اور ٹرینوں کی ٹکٹیں جلدی فروخت ہو گئیں۔ جو لوگ پہلے سے بکنگ کروا چکے تھے، انہیں تو ٹکٹ مل گئے، لیکن جو آخری دنوں میں آئے، انہیں بلیک میں مہنگی ٹکٹیں خریدنی پڑیں۔ کچھ شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار چکر لگائے، لیکن ٹکٹ نہیں ملی۔ آخرکار ایک جاننے والے نے اپنی پہلے سے خریدی گئی ٹکٹ مہنگے داموں ہمیں دے دی۔” عید کے سفر میں بدنظمی، مہنگائی اور رش نے عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے پہلے سے منصوبہ بندی کریں تو عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کا انضمام، xAI نے X خرید لیا

معروف بزنس ٹائیکون ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی xAI نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) کو خرید لیا ہے۔ نجی خبررساں ادارے دی نیشن کے مطابق یہ اعلان جمعہ کے روز خود ایلون مسک نے ایکس پر کیا کہ @xAI نے @X کو ایک آل اسٹاک معاہدے کے تحت حاصل کر لیا ہے، جس میں xAI کی مجموعی مالیت 80 ارب ڈالر، جب کہ X کی 33 ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ایلون مسک نے مارچ 2023 میں xAI کی بنیاد رکھی تھی، جو AI چیٹ بوٹ “گروک” کی تیاری کے لیے مشہور ہے۔ یہ چیٹ بوٹ اب X کے پلیٹ فارم پر ضم ہو چکا ہے۔ ایلون مسک کے مطابق X ایک ڈیجیٹل ٹاؤن اسکوائر ہے، جہاں 600 ملین سے زائد صارفین حقیقی وقت میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں X کو ایک مؤثر اور کامیاب کمپنی میں بدلا گیا ہے، جو مستقبل میں مزید ترقی کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ xAI اور X کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور یہ خریداری دونوں کمپنیوں کے انضمام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
لاہوری بوائے یا کیوی میچ ونر، محمد عباس کون ہیں؟

پاکستان اور کیویز کے دوران میچ میں جہاں قومی ٹیم کی کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا، وہیں ایک کیوی کھلاڑی نے وہ یادگار لمحہ دیا جس نے سب کے دل جیت لیے۔ لاہور میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے نیوزی لینڈ کی طرف سے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا، اور یہ لمحہ پاکستانیوں کے لیے بھی فخر کا باعث بن گیا۔ 2003 میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے آج نیپیئر کے میک لین گراؤنڈ میں اپنے ڈیبیو میچ میں نہ صرف تیز ترین نصف سنچری اسکور کر کے سب کو حیران کر دیا بلکہ بولنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ بائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ بولر ہیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 12 وکٹیں لے چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کپتان محمد رضوان کی قیمتی وکٹ حاصل کر کے نیوزی لینڈ کرکٹ میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ واضح رہے کہ محمد عباس کی فورڈ ٹرافی کے میچوں میں شاندار کارکردگی نے سلیکٹرز کو متاثر کیا، جب نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیلنے میں مصروف تھے، تو پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے کوچ گیری سٹیڈ نے انہیں ٹیم میں شامل کر لیا۔ محمد عباس نے نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جب مجھے گیری سٹیڈ کا فون آیا اور ٹیم میں شمولیت کی اطلاع ملی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ میرے لیے خواب کے پورا ہونے جیسا تھا۔ یہ لمحہ عباس کے والدین کے لیے بھی جذباتی تھا، جو اس تاریخی موقع پر اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ ان کے والد اظہر عباس کا کہنا تھا کہ “اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ میرے بیٹے کو آج محنت کا صلہ مل رہا ہے۔ یاد رہے کہ محمد عباس کے والد اظہر عباس ہراج کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال سے ہے۔ وہ خود بھی ایک باصلاحیت کرکٹر تھے اور پشاور، ریلویز اور زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ تاہم قومی ٹیم میں منتخب نہ ہونے کے باعث وہ انگلینڈ چلے گئے، جہاں سے انہیں نیوزی لینڈ منتقل ہونے کا موقع ملا۔
سرحدی علاقوں میں کشیدگی، طالبان حملے میں 7 فوجی شہید ہوگئے

افغان سرحد سے متصل علاقے میں دہشت گردوں کے حملے میں 7 فوجی شہید ہو گئے، جب کہ جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد مارے گئے اور 6 زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق مسلح طالبان ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے اور انہوں نے اچانک فوجی قافلے پر حملہ کر دیا۔ فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں جنگی ہیلی کاپٹرز کی مدد بھی حاصل رہی۔ عالمی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 2025 کے آغاز سے اب تک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں 190 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے مارچ کے وسط میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ‘اسپرنگ کمپین’ کے نام سے ایک نیا حملوں کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مزید پڑھیں: گرمی آتے ہی آبی ذخائر کی صورت حال بہتر، تربیلا اور چشمہ بیراج کی سطح بلند اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2024 پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ خونی سال رہا، جس میں 1,600 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تقریباً نصف سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں پیش آئے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر آ گیا، کل عیدالفطر ہوگی

شوال کا چاند نظر آ گیا ہے، سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں کل بروز اتوار عید الفطر ہوگی۔ سعودی عرب میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مکہ، مدینہ، تبوک اور دمام سمیت 10سے زائد مقامات پر رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے۔ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں چاند نظر آگیا ہے، جس کے بعد عید الفطر کل ہوگی۔ سعودی عرب کے تمیر رصدگاہ میں شوال کا چاند نظر آیا ہے۔ جرمنی میں بھی عیدالفطر کا چاند نظر آگیا اور وہاں کے عوام بھی کل مذہبی جوش و جذبے سے عید منائے گی۔ یونان، متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی عیدالفطر اتوار کو منائی جائے گی۔ دوسری جانب انڈونیشیا اور ملائیشیا میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، جس کے بعد وہاں عیدالفطر 31 مارچ بروز پیر کو منائے جائے گی۔ برونائی، آسٹریلیا، بنگلادیش سمیت کئی ممالک میں چاند نظر نہیں آیا۔ واضح رہے کہ سعودی سپریم کورٹ نے بھی عوام سے آج شوال کا چاند دیکھنے کی اپیل کی تھی۔ سعودی عرب میں چاند کے باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جارہا ہے اور سپریم کورٹ اعلان کرے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ہوگا، جس میں عیدالفطر سے متعلق اعلان کیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی عید الفطر 31 مارچ بروز پیر کو ہونے کا قوی امکان ہے۔
لاہور سے آبائی گھر واپسی: ’دن میں تارے نظر آگئے‘

عید پر لاہور سے آبائی گھروں کو جانے والے پردیسی ٹرانسپورٹرز کے ہاتھوں لوٹے جارہے ہیں، اچانک سے کئی گنا کرایہ بڑھا دیا گیا ہے۔ ایک مسافر نے بتایا کہ اچانک سے 500 روپے تک کرایہ بڑھادیاگیا جو ظلم ہے، قیمتوں میں اضافے کو تب روکا جاسکتا ہے جب حکومت اپنی ٹرانسپورٹ ہوگی۔ انڈیا ہم سے اس لیے بہتر ہے کہ ان کی اپنی کمپنیاں ہیں۔ لاہور سے میلسی جانے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ مجھے پورے پیسوں میں ٹکٹ ملا ہے، بہت دشواری ہوئی ہے، پہلے ٹکٹ ہوجاتی تو اچھا ہوتا۔ یہاں بلیک میں ٹکٹس مل رہے ہیں ۔ ایک اور مسافر نے بتایا کہ ٹکٹ لینا انتہائی مشکل مرحلہ تھا۔ دن میں تارے نظر آگئے ہیں ۔
گرمی آتے ہی آبی ذخائر کی صورت حال بہتر، تربیلا اور چشمہ بیراج کی سطح بلند

گرمی بڑھتے ہی پاکستان میں آبی ذخائر کی صورت حال میں بہتری آنے لگی، ایک ہفتے کے دوران تربیلا ڈیم اور چشمہ بیراج میں پانی ڈیڈ لیول دو دو فٹ اوپر آ گیا۔ نجی نشریاتی ادارے سماء نیوز کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1404 فٹ، چشمہ بیراج میں 640 فٹ، جب کہ منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح 4 فٹ اضافے کے بعد 1074 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ ملک کے بڑے ڈیمز میں قابل استعمال پانی کے ذخیرے میں 75 ہزار ایکڑ فٹ کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد مجموعی ذخیرہ ایک لاکھ 83 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ گیا ہے۔ مزید پڑھیں: کوٹ ادو میں سرنگ بنا کر پائپ سے تیل چوری کرنے کی کوشش میں دوافراد ہلاک ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 22,200 کیوسک اور اخراج 15,000 کیوسک ہے، منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 27,200 کیوسک اور اخراج 15,000 کیوسک ہے، جب کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 45,000 کیوسک اور اخراج 23,000 کیوسک ہے۔ واضح رہے کہ پانی کی سطح میں مزید بہتری کی توقع ہے، جو زرعی اور توانائی کے شعبوں کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
کوٹ ادو: سرنگ بنا کر پائپ سے تیل چوری کرنے کی کوشش میں دوافراد ہلاک

کوٹ ادو میں سرنگ بنا کر تیل چوری کی کوشش کرنے والے 2 افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ کوٹ ادو کے علاقے سنانواں میں دونوں افراد مٹی کے تودہ میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ مزید پڑھیں: میانمار میں زلزلہ: ہلاکتیں 1000 سے بڑھ گئیں، امریکا، روس اور چین کا مدد کا اعلان پولیس کے مطابق دونوں افرادپائپ لائن سے تیل چوری کی کوشش کررہے تھے، دونوں لاشیں نکال کر اسپتال متنقل کردی گئی ہیں۔ مرنے والے دونوں افراد گھوٹکی کے رہائشی تھی، تھانہ سنانواں کی طرف سے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
کراچی: کورنگی کریک میں لگنے والی آگ 16 گھنٹے بعد بھی بےقابو، وجہ کیا؟

کراچی کے علاقے کورنگی کریک میں ایک کمپنی میں بورنگ کے دوران رات گئے آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، کھدائی تقریباً 1200 فٹ تک جاری تھی۔ 16 گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ مکمل طور پر نہیں بجھائی جا سکی، تاہم فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے میں مصروف ہے۔ ترجمان سوئی گیس کے مطابق اس مقام پر کوئی گیس لائن موجود نہیں، جس کی وجہ سے گیس لائن میں آگ لگنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام بھی موقع پر موجود ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے ترجمان فیصل وٹو کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے فوم اور مٹی ڈالنے کے طریقے ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آگ کو قدرتی گیس کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا اور اس کی وجوہات کا تعین آگ بجھنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ عینی شاہدین کے مطابق رات کے وقت شعلے تقریباً 30 سے 40 فٹ کی بلندی تک پہنچ رہے تھے۔ ابتدا میں فائر بریگیڈ کے 10 فائر ٹینڈرز آگ بجھانے میں مصروف تھے، جب کہ بعد میں مزید نفری کو طلب کیا گیا۔ واضح رہے کہ کمشنر کراچی نے کہا ہے کہ اس کھدائی کی کوئی سرکاری اجازت نہیں دی گئی تھی اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔